Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم نےبلاول کو افطار ڈنر پر مدعو کر لیا

    وزیراعظم نےبلاول کو افطار ڈنر پر مدعو کر لیا

    وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو آج وفد سمیت افطار ڈنر پر مدعو کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، یہ افطار ڈنر وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہو گا، جس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان حکومت سازی کے دوران کیے گئے معاہدوں پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ اس ملاقات میں پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان مستقبل کے سیاسی اور حکومتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو شہباز شریف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے اور حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کریں گے۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر خیبر پختونخوا، اور پیپلز پارٹی کے دیگر اہم رہنما بھی شریک ہوں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت بھی اس اہم ملاقات میں شریک ہوگی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلاول بھٹو زرداری کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات مؤخر ہو گئی تھی، جس کی وجہ بلاول بھٹو کی مصروفیات بتائی گئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد آج کے افطار ڈنر پر ہونے والی ملاقات کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان حکومت سازی اور دیگر سیاسی امور پر بات چیت کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • سپریم کورٹ، نو مئی کے تمام مقرر مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ، نو مئی کے تمام مقرر مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ نے سانحہ 9 اور 10 مئی کے رواں اور آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر تمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیے۔

    سپریم کورٹ میں 9 مئی کے واقعات کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مقدمات کی سماعت کی۔عدالت نے پنجاب حکومت کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ تمام مقدمات کی سماعت اب عید کے بعد ہو گی۔ذوالفقار نقوی نے دوران سماعت کہا پنجاب حکومت نے مجھے 9 مئی کے مقدمات میں وکیل مقرر کیا ہے، سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ تیاری کے لیے وقت دیا جائے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کے مقدمات تو کل اور پرسوں بھی مقرر ہیں، گزشتہ سماعتوں پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر پیش ہو کر وقت مانگتے رہے ہیں، آج آپ وقت مانگ رہے ہیں،

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا، یہ کوئی ایک کیس نہیں 50 کے قریب اپیلیں ہیں۔پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ رواں ہفتے کے مقدمات ملتوی کر دیں آئندہ ہفتے والوں کی تیاری کر کے آؤں گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کچھ اپیلیں کیس منتقلی سے متعلق بھی ہیں، مگر کیس منتقلی کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اس پر حکومت سے ہدایات لے لیں۔ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ جج کا تبادلہ ہو چکا ہے صرف جرمانے اور کچھ آبزرویشنز کی حد تک اپیل کی پیروی کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 9 مئی کے ملزمان کی ضمانتیں منظور کی تھیں۔پنجاب حکومت نے ضمانتیں منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

  • حکومت کا 15 مارچ کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ منانے کا فیصلہ

    حکومت کا 15 مارچ کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ منانے کا فیصلہ

    حکومت نے 15مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنےکے عالمی دن کو بطور یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ منانےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت مذہبی امور نے 15 مارچ کو یوم تحفظِ ناموس رسالت ﷺ کے طور پر منانے کا مراسلہ جاری کردیا ہے۔مراسلے میں صوبوں کو توہین مذہب کا مواد روکنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلانےکی سفارشات جاری کی گئی ہیں۔اس سلسلے میں پنجاب، سندھ، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیکرٹریز مذہبی امور کو سفارشات جاری کی گئی ہیں۔مولانا حنیف جالندھری، علامہ محمد افضل حیدری، مفتی منیب الرحمان، پروفیسر ڈاکٹر ساجد میر اور مولانا عبدالمالک سے بھی لائحہ عمل بنا کر عوام میں آگاہی مہم چلانےکی اپیل کی گئی ہے۔

    میو اسپتال میں انجیکشن کا ری ایکشن ،18 مریض متاثر، ایک کی موت

    میو اسپتال میں انجیکشن کا ری ایکشن ،18 مریض متاثر، ایک کی موت

    کراچی،جرائم کا سلسلہ نہ تھم سکا، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

    وفاقی حکومت کونقصان ہو گا تو پیپلز پارٹی کو بھی ہو گا، کھیئل داس کوہستانی

    فیس بک پر مریم نواز کے خلاف تنقید ، ڈاکٹر پر مقدمہ درج

  • مرکزی مسلم لیگ کا قیام امن کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کا قیام امن کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

    پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں، نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دیں گے، مزمل اقبال ہاشمی
    نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے عید کے بعد آئی ٹی پروگرام لا رہے ہیں. تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے وطن عزیزپاکستان میں قیام امن کے لئے،قوم کو متحد و بیدار کرنے کے لئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قائداعظم کے پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے. رمضان میں پاکستان وجود میں آیا. عید کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ملک تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں. پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ ملکر دہشت گردی کے خلاف مضبوط لائحہ عمل دیں گے.مرکزی مسلم لیگ امید کے ساتھ، مایوسیوں کا خاتمہ کرے گی.نوجوانوں کو آئی ٹی کے کورس کروائیں گے.

    ان خیالات کا اظہار خالد مسعود سندھو نے مقامی ہوٹل میں سینئر صحافیوں، ایڈیٹرز، اینکر پرسن کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے بھی خطاب کیا.خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی لہر نے سب کو متاثر کیا ہے،کوئی محفوظ نہیں. مرکزی مسلم لیگ سب کو اکٹھا کرے گی .مولانا حامد الحق حقانی بم دھماکے میں شہید ہوئے . بنوں میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا . عید کے بعد ملک گیر امن مارچ، جلسے جلسوس، ہوں گے.دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر ،بلا تفریق آپریشن کرنے کی ضرورت ہے. دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والا پاکستان کاہمدرد نہیں ہو سکتا. انتشار کی سیاست کی مخالفت کرتے ہیں.سیاسی جماعتیں بلدیاتی نظام کی کوشش کریں جس میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ ہو، مرکزی مسلم لیگ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے. حکومتی سطح پر مذاکرات کو بحال کیا جائے.

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان بہت سارےمسائل سے دو چار ہے ان میں سے ایک مایوسی ہے.لوگ ریاست پاکستان سے مایوس ہو چکے ہیں.پورا ملک اس وقت بدامنی کی لپیٹ ہے. دہشت گردی ہے، بلوچستان بڑی شدت کے ساتھ سلگ رہا ہے. کے پی کے میں کئی بار حالات ہاتھوں سے نکلتے نظر آ رہے. آنے والا منظر نامہ دنیا کا بڑی تیزی سے بدل رہا ہے. ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کی سیاست کو مفاہمتی سیاست کی طرف لے کر آئیں. میڈیا قوم کو متحد و بیدار کرنے کے لئے کردار ادا کرے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اس بات کا تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم اپنی سیاست کو اخلاق، کردار کے دائرے میں رکھیں گے ،کسی صور ت الزام تراشی کی سیاست نہیں کریں گے، نوجوانوں کو مثبت انداز میں کام کے لئے تیار کریں گے.

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں بظاہر نئی سیاسی جماعت ہے لیکن ان کے کام ، انکی خدمت، پاکستان سے وفا سے سب واقف ہیں، ملکی حالات میں لوگوں کی تربیت ،اصلاح کے کردار میں بہت بڑا ہے. روزگار پروگرام، خدمت پروجیکٹ، سحر و افطار دسترخوان مرکزی مسلم لیگ کے ملک بھر میں منصوبہ جات چل رہے.آئی ٹی کے حوالہ سے عید کے بعد بہت بڑا پروگرام لانچ کر رہے ہیں فری لانسنگ کے کورسز گلی محلوں، پارکوں ،گلیوں میں غرض ہر جگہ کروائیں گے تا کہ نوجوان سیکھیں اور خود کمائیں، اپنی معیشت بہتر کریں.اگر ہماری عوت محفوظ، ہنر مند،تعلیم یافتہ ہو گی تو ہماری قوم مضبوط ہو گی.

  • غیر قانونی  مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ان غیر قانونی افراد اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 31 مارچ 2025ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ مقررہ تاریخ کے بعد ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان دہشت گردوں کی سرگرمیاں پاکستان میں بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بنی ہیں، جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، 4 مارچ 2025ء کو بنوں کنٹونمنٹ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے خودکش حملوں میں 16 دہشت گرد مارے گئے تھے، جن میں افغان دہشت گرد بھی شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی گئی تھی۔پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے مزید کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی ملک بدری کا عمل یکم اپریل 2025ء سے شروع کر دیا جائے گا۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ایسے اقدامات اٹھانا ضروری ہیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات سے بچا جا سکے اور غیر قانونی مقیم افراد کی تعداد کم کی جا سکے۔

    اس فیصلے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے یہ ایک آخری موقع ہوگا کہ وہ اپنی رضامندی سے ملک چھوڑ دیں، ورنہ انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    بلوچ خواتین نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا فخر ہیں کیونکہ انہوں نے ہر میدان میں خود کو منوایا ہے۔ ان خواتین نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی خواتین کو مردوں کی طرح قابل بنانے کا ماحول فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ بلوچ خواتین نے اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

    اے ایس پی پری گل ترین: ایک مثالی رہنما
    پشین سے تعلق رکھنے والی اے ایس پی پری گل ترین ایک سی ایس پی آفیسر ہیں جنہوں نے 2020 میں اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ اس وقت وہ کوئٹہ میں خواتین اور نوجوانوں کے سہولت کاری مرکز کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی محنت اور عزم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ خواتین کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں۔

    جسٹس طاہرہ صفدر: بلوچستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس
    جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تھیں، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی کامیابی نے بلوچستان اور پاکستان بھر میں خواتین کے حقوق اور ان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

    بتول اسدی: بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر
    بتول اسدی بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر (AC) کوئٹہ تھیں۔ انہوں نے سرکاری انتظامیہ میں اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی، جو بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    سائرہ بتول: بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ
    بلوچ خواتین مسلح افواج میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سائرہ بتول بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ ہیں، جنہوں نے پاک فضائیہ میں اپنی محنت اور لگن کے ساتھ نئی تاریخ رقم کی ہے۔

    ذکیہ جمالی: پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر
    ذکیہ جمالی نے پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے بحریہ میں اپنے کام کے ذریعے خواتین کی مضبوط موجودگی کو ثابت کیا۔

    شازیہ سرور: بلوچستان کی بہادر خاتون پولیس افسر
    پی ایس پی افسر شازیہ سرور جو لیہ پنجاب میں ڈی پی او رہ چکی ہیں، ایک مضبوط بلوچ خاتون ہیں جن کا تعلق بولان سے ہے۔ شازیہ سرور نے اپنی بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا، اور مچھ حملے میں بی ایل اے کا نشانہ بنی تھیں۔

    دوسری طرف، بلوچ خواتین کا استحصال کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں۔ ان گروپوں میں شری بلوچ، سمیہ قلندرانی، محل بلوچ، گنجتون اور دہشت گردوں کے ہمدرد جیسے نائلہ قادری اور ماہ رنگ بلوچ شامل ہیں۔ یہ گروہ بلوچ خواتین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں اور انہیں آسان ہدف بناتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر، مہروش بلوچ (خودکش بمبار شری بلوچ کی بیٹی) BLA کی تحویل میں ہے۔بلوچ خواتین دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ فروری 2023 میں، محل بلوچ کو خودکش جیکٹ لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ لیفورسمنٹ ایجنسیز کے شبہات سے بچا جا سکے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود، بلوچ خواتین ترقی، تعلیم اور خود مختاری کی راہ پر گامزن ہیں۔ منفی عناصر انہیں گمراہ نہیں کر سکتے، اور یہ خواتین اپنی کامیابی کے سفر میں ثابت قدم ہیں۔

    بلوچ خواتین نے ہر میدان میں اپنی محنت، عزم اور ہمت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان کا سفر ایک روشن مثال ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

  • حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صنفی مساوات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع تک یکساں رسائی فراہم کر کے ہی انہیں بااختیار بنایا جا سکتا ہے،خواتین کے حقوق کو یقینی بنانا ہمارا مشن اور غیر متزلزل عزم ہے۔ 

    انہوں نے یہ بات ہفتہ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر یہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین بشمول کابینہ اراکین ، قانون سازوں، عہدیداروں، کاروباری شخصیات اور کارکنان نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام وزارت انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے کیا تھا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں اور اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کی تیار کردہ دارالحکومت کیلئے صنفی مساوات کے حوالہ سے پہلی رپورٹ بھی لانچ کی جو تعلیم، صحت، گورننس، سیاسی نمائندگی اور انصاف جیسے اہم شعبوں میں چیلنجوں کی نشاندہی اور ان کے حل کی سفارش کرتی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت قومی معیشت میں کردار ادا کرنے والے پروگراموں میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی اقدام کے لیے صوبوں کے ساتھ اشتراک کار کرے گی۔انہوں نے ورکنگ ویمنز انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ کام کرنے والی خواتین کی مدد کی جا سکے اور انہیں عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کو ملازمت کے شعبوں میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے اور مردوں کے مساوی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں مواقع کی فراہمی سے ہماری پچاس فیصد خواتین کی آبادی کو ایک مفید افرادی قوت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے ملازمت کرنے والی خواتین کی سہولت کے لیے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسلام آباد میں سرکاری اور نجی محکموں میں ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں سہولیات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

    وزیر اعظم نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کام اور خاندانوں میں توازن پیدا کرنے کی جدوجہد میں پیشہ ورانہ کیریئر چھوڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہنر مند انسانی وسائل کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین کے اس طبقہ کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی مہارت کے حامل اسپتالوں، بینکوں اور دیگر پیشوں میں شامل ہوں تاکہ قومی معیشت میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی ان ممتاز خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے منظر نامے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر تحریک پاکستان کی سرکردہ خواتین محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان، پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیربھٹو،آمریت کے خلاف مزاحمت کرنے والی مثالی شخصیات بیگم نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نواز ، سماجی کارکنان بلقیس ایدھی اور ڈاکٹر روتھ فائو ، قانون دان عاصمہ جہانگیر ، ملک کی کم عمر ترین آئی ٹی ماہر ارفع کریم، سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز، لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ بیٹیاں خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک قابل ذکر علامت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں اپنی شناخت بنائی۔شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے ابتدائی دور حکومت میں خواتین کی خودمختاری لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ذکر کیا جن میں خواتین کے لیے پنجاب کے پہلے انسداد تشدد مراکز کا قیام، سرکاری محکموں کے بورڈز میں خواتین کے کوٹہ میں اضافہ، طالبات کے لیے وظیفے میں اضافہ اور 90 ہزار بچیوں کو سکولوں میں داخل کر کے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق وزارتوں اور محکموں کو خواتین کی شمولیت کی حامل پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ سال ٹاسک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کامیابی کے ساتھ محکمانہ بورڈز میں خواتین کی نمائندگی کے زیادہ تناسب کا باعث بنا۔

    اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ اقوام متحدہ صنفی ایکشن پلان سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف 2030 کے حصول کے لیے پاکستان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کو خواتین کے مخصوص حوالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی صنفی برابری کی رپورٹ کا اجراء ان چیلنجوں کی نشاندہی کرنے میں اہم ہے جن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    صنفی مین اسٹریمنگ کی خصوصی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں اور محکموں میں خواتین کی نمائندگی 33 فیصد کے ہدف سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نمائندگی موثر حکمرانی اور بہتر پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔

    چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے پاکستان کی صنفی مساوات کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین متعدد شعبوں میں رکاوٹیں عبور کر رہی ہیں۔انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کے طور پر خصوصی طور پر خواتین مسافروں کے لیے پنک بسوں کے اجراء اور ’ویمن آن وہیلز‘ پروجیکٹ پر روشنی ڈالی جس نے خواتین کو آسان اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے سہولت فراہم کی۔

    اس موقع پر چیئرمین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) عاکف سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کے تحت ایس ای سی پی کو ان پرائیویٹ کمپنیوں کو نامزد کرنے کا کام سونپا گیا جنہوں نے اپنے کام کی جگہ پر فیملی فرینڈلی پالیسیاں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں کام کرنے کے محفوظ ماحول کو فروغ دینے میں رول ماڈل کے طور پر کام کریں گی۔

    وزیراعظم نے 10 بہترین نجی کمپنیوں کو فیملی فرینڈلی ایوارڈز دیئے جن میں الفا بیٹا کور سلوشنز، ارفع کریم ٹیکنالوجی انکیوبیٹر، ایوی ایشن ایم آر او، بلنک کیپٹل، فنورکس گلوبل، گفٹ ایجوکیشنل، کِسٹ پے، لائبہ انٹرپرائزز، لیڈیز فنڈ انرجی، اور لی اینڈ فنگ پاکستان شامل تھیں۔یہ ایوارڈز ایک آن لائن سروے اور اسکورنگ میٹرکس پر مبنی تھے جو ایس ای سی پی نے یو این ویمن اور پاکستان بزنس کونسل کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ 2024 میں شروع کیے گئے سروے میں 230 سے ​​زائد کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے 10 کو شفاف عمل کے ذریعے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

  • اسلام آباد میں نئی دہلی کی طرز پر جمہوری حکومت کے قیام کی سفارش

    اسلام آباد میں نئی دہلی کی طرز پر جمہوری حکومت کے قیام کی سفارش

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئی دہلی کی طرز پر اسمبلی اور منتخب جمہوری حکومت بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت اسمبلی اپنا لیڈر منتخب کرے گی جو میئر کہلائے گا۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامی اصلاحات کے لیے قائم سب کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ اسلام آباد میں نمائندہ حکومت اور جمہوری کنٹرول قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت سے اسلام آباد حکومت کو اختیارات منتقل کیے جائیں اور مختلف بکھرے ہوئے محکموں کی بجائے مربوط انداز میں ادارے بنائے جائیں۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے انتظامی امور کے لیے ایک موزوں ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو گلگت بلتستان کی طرز پر صوبائی حکومت کی طرز پر ہو۔ سب کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ اسلام آباد میں نئی دہلی کے ماڈل پر اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری حکومت تشکیل دی جائے، جس کے تحت ایک منتخب اسمبلی ہوگی۔ اس اسمبلی کے نمائندے براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے۔ تاہم، مجوزہ صوبائی اسمبلی کے پاس ہوم، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے امور نہیں ہوں گے۔اسمبلی اپنا لیڈر منتخب کرے گی جو میئر کہلائے گا اور اسمبلی کو جوابدہ ہوگا۔ اس کے تحت آئی سی ٹی کے تمام محکمے صوبائی محکموں کی طرز پر تشکیل دیے جائیں گے۔ ان محکموں کی تعداد محدود ہوگی اور انہیں چار بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جائے گا:سوشل،اکنامک،ڈویلپمنٹ،جنرل.داخلہ، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے وفاقی حکومت کے ماتحت رہیں گے جبکہ باقی تمام محکمے میئر کے ماتحت ہوں گے۔ داخلہ، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے محکموں کے انچارج وفاقی وزراء ہوں گے۔

    سب کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) سمیت تمام ادارے اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری (ICT) حکومت کے ماتحت کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، چیف کمشنر کی جگہ چیف سیکرٹری ہوگا اور آئی جی پولیس کا عہدہ بھی متعارف کرایا جائے گا۔رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ آئی سی ٹی حکومت کو گلگت بلتستان کی طرز پر مکمل انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری ایکٹ 2025 منظور کیا جائے گا۔ عبوری طور پر، وفاقی حکومت کی ایڈوائس پر صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 258 کے تحت ایک حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں، جیسا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت کیا گیا تھا۔سب کمیٹی نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ آئی سی ٹی حکومت کے قیام کے لیے کسی نئے مالی انتظام کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ زیادہ تر موجودہ اداروں کو ہی ری اسٹرکچر کیا جائے گا۔ اس حکومت کے دو شیڈول ہوں گے.شیڈول اے: داخلہ، پولیس اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے جو وفاقی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔شیڈول بی: 26 محکمے جو آئی سی ٹی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق، یہ عبوری رپورٹ بیرسٹر ظفر اللہ کی سربراہی میں قائم سب کمیٹی نے تیار کی ہے، جس کے دیگر ارکان میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، ایم این اے خرم شہزاد، انجم عقیل ایم این اے، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور سی ڈی اے کے نمائندے شامل ہیں۔سب کمیٹی کا اگلا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا جس میں سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ بعد ازاں، یہ سفارشات وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کی سربراہی میں قائم وزارتی کمیٹی کو پیش کی جائیں گی، جو حتمی منظوری دے گی۔

  • ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا امیدوار پکڑا گیا

    ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا امیدوار پکڑا گیا

    میرپورخاص : پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف کی جگہ ایم اے فائنل کا امتحان دینے والا مبینہ وقار نامی امیدوار پکڑا گیا

    گورنمنٹ ماڈل ڈگری کالج سے ذکاء اشرف کا ایم اے ایکنامکس کا فارم بھرا گیا،امتحانی سنٹر کے ذرائع کے مطابق ایم اے پریویس کا امتحان بھی کسی اور امیدوار سے دلایا گیا،ایم اے فاٸنل کے دوسرے پیپر میں ممتحن نے شک ہونے پر امتحانی سلپ اور کارڈ چیک کرنے پر امیدوار کو پکڑا.امتحانی سلپ پر سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محمد ذکاء اشرف کا نام درج تھا۔ ممتحن کی جانب سے مزید تفتیش پر امیدوار نے مبینہ طور پر کہا کہ "امتحانی سلپ اور شناختی کارڈ نمبر دیکھ لیں، آپ کچھ نہیں کر سکتے۔”ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ معاملہ کھلا، مبینہ طور پر ایک اعلیٰ شخصیت کی فون کال موصول ہوئی، جس میں حکم دیا گیا کہ "فوراً امیدوار کو پرچہ مکمل کرنے دیا جائے اور کسی قسم کی نقل یا کیس نہ بنایا جائے۔” ممتحن نے مبینہ دباؤ میں آکر حکم پر عمل کیا اور امیدوار کو امتحان مکمل کرنے دیا۔

    ذرائع کے مطابق، محمد ذکاء اشرف کی تمام فیسیں حکیم سجاد کے بیٹے سید سیرم کے اکاؤنٹ سے آن لائن ادا کی گئیں۔ مزید یہ کہ آن لائن فارم میں دیا گیا ای میل ایڈریس وائس چانسلر سکرنڈ ویٹرنری یونیورسٹی اور چیئرمین تعلیمی بورڈ نوابشاہ ڈاکٹر محمد فاروق حسن کا تھا۔

    مصدقہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی کالج سے ماضی میں سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کو بھی بی اے کی ڈگری غیر قانونی طور پر دلوائی جا چکی ہے۔ یہ گروہ مبینہ طور پر اشرافیہ کو غیر قانونی طریقے سے گریجویشن اور ماسٹرز کی ڈگریاں دلوانے میں ملوث ہے اور ان تعلقات کی بنیاد پر غیر قانونی عہدے بھی حاصل کر چکا ہے۔

    طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عام طلبہ کی محنت رائیگاں جائے گی اور میرٹ کا جنازہ نکل جائے گا۔ طلبہ اور سول سوسائٹی نے حکومت اور اعلیٰ تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • بلاول سے امریکی ناظم الامور،فرانسیسی سفیر،برطانوی ہائی کمشنرکی ملاقات

    بلاول سے امریکی ناظم الامور،فرانسیسی سفیر،برطانوی ہائی کمشنرکی ملاقات

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے امریکی ناظم الامور،فرانس کے سفیر، برطانیہ کی ہائی کمشنر نے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں قیام امن کے حوالے سے بھی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔بلاول بھٹو زرداری اور نٹالی بیکر نے پاک امریکا تجارتی و معاشی تعلقات بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات کی نوعیت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔

    بلاول بھٹو زرداری سے فرانس کے سفیر نکولس گالے کی ملاقات
    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان میں فرانس کے سفیر نکولس گالے نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور فرانس کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کی مضبوطی کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کیا۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی زرداری ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے، بلاول بھٹو زرداری اور برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو کی گئی، بلاول بھٹو زرداری اور برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں اضافے پر اتفاق کیا گیا،بلاول بھٹو زرداری اور برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور سمیت مختلف دیگر معاملات پر بھی بات چیت کی گئی. بلاول بھٹو زرداری اور برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ملاقات کے موقع پر پی پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری بھی موجود تھے

    چینی وفد کا کراچی کے ٹیکسٹائل اینڈ لیدر ڈویژن کا دورہ

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،پی ٹی آئی کے 25 افراد دوبارہ طلب

    سائلین سے رشوت،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحقیقات کا حکم