Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کیا آپ ملٹری کورٹ کو عدلیہ تسلیم کرتے ہیں؟جسٹس محمد علی مظہر

    کیا آپ ملٹری کورٹ کو عدلیہ تسلیم کرتے ہیں؟جسٹس محمد علی مظہر

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بنچ کا حصہ ہیں،سپریم کورٹ بار کے سابقہ عہدیداران کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا ذکر کیا تھا۔ اٹارنی جنرل کی تحریری یقین دہانیوں کا ذکر 5 رکنی بینچ کے فیصلے میں موجود ہے۔ تحریری یقین دہانیاں جن متفرق درخواستوں کے ذریعے کرائی گئیں، ان کے نمبر بھی فیصلے کا حصہ ہیں۔عابد زبیری نے کہا کہ جنرل ضیا الحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا۔ جنرل ضیاالحق نے 1978ء میں ایف بی علی کو چھوڑ دیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہا تھا وہ ضیاالحق نے کیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔ پروسیجر میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ آرمی ایکٹ میں فراہم پروسیجر پر عمل نہ ہونا الگ بات ہے۔ پروسیجر پر عمل نہ ہو تو پھر اس کی دستیابی کوئی فائدہ نہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ملٹری کورٹ پر 2 اعتراض ہیں۔ ایک اعتراض ملٹری ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتا، دوسرا اعتراض ٹرائل کرنے والوں پر قانونی تجربہ نہ ہونے کا لگایا گیا۔وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ملٹری کورٹ ایگزیکٹو کا حصہ ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آرمی کا کیا کام ہوتا ہے۔ آرمی کے کام میں ایگزیکٹو کہاں سے آگیا۔عابد زبیری نے جواب دیا کہ آرمی کا کام سرحد پر لڑنا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ ملٹری کورٹ کو عدلیہ تسلیم کرتے ہیں؟۔اگر عدلیہ تسلیم کرتے ہیں تو اس کے نتائج کچھ اور ہوں گے۔ اگر ملٹری کورٹ جوڈیشری ہے تو پھر وہ عدلیہ ہے۔ جسٹس منیب نے ملٹری کورٹ کو عدلیہ نہیں لکھا۔

  • امن کے قیام کیلئے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم

    امن کے قیام کیلئے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان میں انسداد دہشتگردی کے لئے پاکستان کی کوششوں کے اعتراف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے میں فعال کردار نبھایا ہے، جنہیں دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان دہشتگردی کی ہر قسم کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اپنے عزم کو مضبوطی سے قائم رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے بہادر شہریوں اور سپاہیوں سمیت 80 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اور ان قربانیوں کے باوجود اس لعنت کے خاتمے کے لئے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عالمی امن اور استحکام کے قیام کے لئے امریکہ کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید مستحکم اور قریبی بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششیں عالمی سطح پر سراہا جانے والی ہیں اور پاکستان اپنے عزم کو مزید مستحکم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

  • قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    بلوچستان کے ضلع قلات میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں ملوث لڑکی کی شناخت گنجاتون عرف بارمش کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ گوادر کے رہائشی میران بخش کی بیٹی تھی اور چھ بھائیوں اور تین بہنوں کے ساتھ ایک بڑے اور معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا والد مزدور تھا، لیکن نشے کا عادی ہونے کے بعد اس نے اپنے گھر اور بچوں پر توجہ دینا چھوڑ دی، جس کی وجہ سے خاندان شدید غربت کا شکار ہو گیا۔

    گنجاتون کی کہانی شہری بلوچ، ماہل بلوچ اور عدیلہ بلوچ سے مختلف نہیں ہے۔مشکل حالات کے باوجود، گنجاتون نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور کالج میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد اس نے گوادر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں اس کی ملاقات کامران ولد حسن سے ہوئی، جو کہ تعلیم کے شعبے کا طالب علم تھا اور مبینہ طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) سے بھی وابستہ تھا۔یونیورسٹی میں دونوں کے درمیان دوستی بڑھی، اور وہ اکثر کلاسز سے غیر حاضر رہنے لگے۔ نتیجتاً، گنجاتون نے پہلے ہی سمسٹر میں تعلیمی مسائل کا سامنا کیا اور آخرکار یونیورسٹی چھوڑ دی، جبکہ کامران نے بھی تیسرے سمسٹر میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔

    کامران نے گنجاتون کی کئی ذاتی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کیں اور بعد میں اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں، گنجاتون کو مجبور کیا گیا کہ وہ بلوچ یکجہتی کونسل (BYC) کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو۔ وہ جلد ہی بلوچ یکجہتی تحریک کا حصہ بن گئی اور مبینہ طور پر اس کے نظریاتی اثر میں آ گئی۔ذرائع کے مطابق، کامران کی بلیک میلنگ کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بعد میں اس نے گنجاتون کو BLA کے ایک کمانڈر کے حوالے کر دیا، جس نے مبینہ طور پر اس کا جنسی استحصال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کامران کو اس "سہولت کاری” کے عوض 1 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔بار بار بلیک میلنگ اور استحصال کے باعث گنجاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اس ذہنی کیفیت میں، اسے شدت پسند تنظیم کی طرف سے خودکش حملہ آور بننے کی ترغیب دی گئی۔ مبینہ طور پر، اسے یقین دلایا گیا کہ یہ راستہ اس کی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایک "قومی مقصد” کے لیے قربان کر کے عزت حاصل کر سکتی ہے۔

    آخرکار، گنجاتون نے شدت پسند تنظیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے قلات میں خودکش حملہ کیا، جس میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی، شدت پسندی اور نوجوانوں کے استحصال کے ایک اور تاریک پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

    قلات خود کُش بمبار کا نام گنجاتون ولد میراں بخش ہے۔ گوادر کی رہنے والی ہے۔ باپ نشے کا عادی، فیملی بڑی اور ایک قومیت پسند لڑکے سے "دوستی”۔ پھر وہی سٹوری: نا زیبا ویڈیوز، جنسی بلیک میل، بلوچ یکجہتی کے راجی مچی میں ذہن سازی اور پھر کمانڈر کے ہاتھوں جنسی استحصال۔ آخر میں وطن پر قربانی میں نجات کی بہانہ!

    balochistan

  • بنوں کینٹ پر  فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام

    بنوں کینٹ پر فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام

    بنوں کینٹ پر فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

    آج افطار کے بعد دہشتگردوں نے نے بنوں کینٹ میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خارجیوں کے بنوں کینٹ میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی، سیکیورٹی فورسز کی بر وقت کاروائی سے بنوں کینٹ کے باہر گھبراہٹ میں دہشت گردوں نے دو بارود سے لدی ہوئی گاڑیاں بنوں کینٹ کی دیوار سے ٹکرا دی، چھ خوارج کومختلف انٹری پوائنٹس پر موجود چوکس سکیورٹی عملہ نے جہنم واصل کر دیا اور باقی ماندا دہشت گردوں کو محصور کر لیا گیا ہے ، دہشت گردوں کی بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے سے قریبی مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور قریب گھر کی چھت منہمد ہونے سے معصوم لوگوں کے زخمی اور شہادتوں کی بھی اطلاعات ہیں، سیکیورٹی فورسز کا تمام خارجیوں کے صفایا تک کلیرنیس آپریشن جاری رہے گا،

  • ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، سب مل کر کام کریں، وزیراعظم

    ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، سب مل کر کام کریں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 2029ء تک ملکی برآمدات 60 ارب ڈالر تک بڑھانے، 2035ء کے وژن کے تحت ملک کو ایک ٹریلین کی معیشت بنانے اور قرضوں سے جان چھڑانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم 9 مئی والے نہیں 28 مئی والے ہیں، ملک سے ضد، نفرت، گالم گلوچ اور احتجاج کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہو گا، موجودہ حکومت کی ایک سالہ مدت میں برآمدات، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی کی شرح 28 فیصد سے 1.6 فیصد پر آ گئی ہے، حکومت کے خلاف کرپشن کا ایک بھی کیس بھی سامنے نہیں آیا، مثبت معاشی اشاریوں کا عالمی ادارے بھی اعتراف کر رہے ہیں، رمضان پیکیج کے تحت 40 لاکھ خاندانوں میں پانچ، پانچ ہزار روپے تقسیم کئے جائیں گے، غزہ میں جنگ بندی کے باوجود امداد اور خوراک کو بند کرنے سے بڑا کوئی ظلم ہو نہیں سکتا، دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری نہیں رہ سکتا، پاکستان کو اقوام عالم میں کھویا ہوا مقام دلائیں گے اور اپنے قائد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ کابینہ کے خصوصی اجلاس کی کارروائی نشر اور کابینہ کی ایک سال کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ وزراء نے اپنی اپنی وزارت اور دیگر شعبوں کی ایک سالہ کارکردگی پر رپورٹ پیش کی۔ خصوصی اجلاس میں زندگی کے مختلف شعبوں بشمول کاروباری حضرات، چیمبرز کے نمائندگان، صحافیوں، خواتین، طالب علموں اور دیگر شعبوں سے شہریوں کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ اجلاس کا خود مشاہدہ کریں اور پچھلے ایک سال میں حکومتی اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ ہوں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا یہ خصوصی اجلاس ہے، تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہیں، موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آئے ایک سال ہو گیا ہے، 4 مارچ 2024ء کو ہم نے حکومت سنبھالی تھی، امید ہے کہ نئے وزراء کی شمولیت سے مجھے، حکومت اور پاکستان کے عوام کو ان کی محنت، لگن اور جذبے سے فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی برکات سے ہم فیض یاب ہو رہے ہیں، یہ مہینہ ہمیں اپنے آپ کو انسانیت کی خدمت اور مفلوک الحال لوگوں کیلئے وقف کرنے کا درس دیتا ہے، اسی جذبہ کے تحت گذشتہ سال رمضان المبارک میں سات ارب روپے کا پیکیج دیا گیا تھا جسے بڑھا کر رواں سال 20 ارب روپے کر دیا گیا ہے، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 40 لاکھ خاندانوں میں ڈیجیٹل والٹ سے پانچ، پانچ ہزار روپے شفاف طریقہ سے تقسیم کئے جائیں گے، اس ڈیجیٹل نظام کی وجہ سے نہ تو لائنیں لگیں گی اور نہ یوٹیلٹی سٹورز کے بارے میں غلط خبریں آئیں گی، نہ خوردبرد اور اشیاء کے معیار کے بارے میں خبریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ ماہ مقدس اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا جائے، غزہ میں 50 ہزار سے زائد افراد شہید کئے جا چکے ہیں، کشمیر کی وادی کشمیریوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے، آج غزہ میں جنگ بندی کے باوجود رمضان المبارک میں امداد اور خوراک کو بند کرنے سے بڑا کوئی ظلم ہو نہیں سکتا، اس پر بھرپور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، انشاء اﷲ رمضان المبارک کی برکات سے کشمیری اور فلسطینی عوام کو ان کا حق جلد ملے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال پہلے ہماری معیشت ہچکولے کھا رہی تھی اور ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکی تھی، ہم نے بروقت اقدامات سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، جب آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو آئی ایم ایف کو خطوط لکھے جا رہے تھے کہ پاکستان کیلئے پروگرام منظور نہ کیا جائے، اس سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں ہو سکتی، آج ہم نہ صرف ڈیفالٹ سے نکل آئے ہیں بلکہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور تمام عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے میکرو اقتصادی اشاریے استحکام کی سمت میں گامزن ہیں اور اب معیشت کی ترقی کا سفر جاری ہے، ہم نے یکسوئی کے ساتھ محنت کرنی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک و قوم کیلئے بہتری کیلئے کوشاں ہے، اپنے قائد میاں محمد نواز شریف اور پی ڈی ایم کے دور کے اپنے اتحادیوں کے بھی شکرگزار ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ اتحادیوں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری سالک حسین، ایم کیو ایم، باب پارٹی، ڈاکٹر عبدالمالک کی جماعت اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان کی ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہے، ان کے تعاون سے ہم نے مشکل ترین مراحل عبور کئے ہیں، ہر مشکل میں ساتھ دینے پر اتحادیوں کے مشکور ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اور یہ وفاقی وزرا ، وزراء مملکت، معاونین خصوصی اور سیکرٹریز کی دن رات کاوش کا نتیجہ ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل یکسوئی کے ساتھ کسی ذاتی ایجنڈا سے بالاتر ہو کر تمام ادارے متحد ہو کر ملکی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے وفاقی وزراء اور سرکاری افسران نے دن رات محنت کی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پانچ ارب ڈالر کے انتظام کیلئے دوست ممالک نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھی معاشی بہتری کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ہم نے اس سلسلہ میں دوست ممالک کے دورے بھی کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کچھ دن پہلے ہی سعودی عرب نے ہماری 1.2 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت میں توسیع کی ہے، یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہیان نے بھی 2 ارب ڈالر رول اوور کر دیئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018ء میں اسحاق ڈار جب وزیر خزانہ تھے تو اس وقت افراط زر کی شرح 3.1 فیصد تھی، اب وہ نائب وزیراعظم ہیں اور افراط زر کی شرح 1.6 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرپور محنت اور ٹیم ورک ہی وہ فارمولا ہے جس سے ہم ملک کو ترقی کے راستے پر ڈال سکتے ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جو ایک سال پہلے چار ارب ڈالر تھے اب 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ایک سال پہلے مہنگائی کی شرح 28 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 1.6 فیصد پر آ گئی ہے، اسی طرح پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آ گیا ہے، اس میں مزید کمی کی گنجائش ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی کم ہو رہی ہے، آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال میں اپوزیشن کوئی جھوٹا سکینڈل بھی حکومت کے خلاف سامنے نہیں لا سکی، اس سے بڑی ہماری اور کامیابی کیا ہو سکتی ہے، ایک سال میں حکومت کے خلاف کرپشن کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا، اس پر اﷲ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کام ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اب مزید تیزی آئے گی، تبھی اڑان پاکستان بنے گا جب ملک سے خوارج کا مکمل خاتمہ ہو گا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان قیام امن کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دے رہے ہیں، ہمارے جوان اور افسران ہر روز جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کا خاتمہ ختم ہو گیا تھا، سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی نے دوبارہ کیسے سر اٹھایا، کس نے دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دی، وہ کون تھا جو دہشت گردوں کو واپس لے کر آیا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کا صفایا کر رہے ہیں، وہ اپنے بچوں کو تو یتیم کر جاتے ہیں لیکن لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیتے ہیں، یہ قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری نہیں رہ سکتا، دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک میں سرمایہ کاری آئے گی، پاکستان اقوام عالم میں کھویا ہوا مقام حاصل کرکے رہے گا، یہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، ہمیں دن رات محنت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آمدنی بڑھانا ہو گی، سرمایہ کاری ملک میں لانا ہو گی اور قرضوں سے جان چھڑانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی پاکستان کی ترقی، عزت اور وقار کو آگے لے کر جائے گی، دہشت گردی کے ساتھ گالم گلوچ کا جو کلچر پیدا کر دیا گیا ہے اس زہر کو بھی ختم کرنا انتہائی ضروری ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے جس طرح 2018 ء میں پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت بنا دیا تھا انہی کی قیادت میں پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا، پورے نظام کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، ای گورننس کو فروغ دیا جا رہا ہے، ایف بی آر کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کے لئے دن رات کام ہو رہا ہے، کرپشن میں کمی لانے کے لئے ہم بھرپور کام کر رہے ہیں، صنعتکاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے بھی کاوشیں جاری ہیں، اگر ملک کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے تو بہانے اور جادو ٹونے نہیں چلیں گے، صرف اور صرف کام کرنا ہو گا، اسی طرح آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں، 9 مئی کے حملوں کے حصے دار ہم نہیں، ہم 28 مئی والے ہیں، جب قائد نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا تھا، چین کی شراکت داری سے پہلا خلاء باز خلاء میں جائے گا، یہ لمبا اور کٹھن سفر ہے لیکن گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں محصولات کے چار ہزار ارب روپے کے کیسز زیر التواء ہیں، انہیں نمٹانے کے لئے تیزی کے ساتھ کام جاری ہے، سندھ ہائی کورٹ نے ایک حکم امتناعی خارج کیا ہے، اسی دن 23 ارب روپے خزانے میں جمع ہو گئے، اسی طرح سرکاری ملکیتی اداروں میں سالانہ 850 ارب روپے ڈوب رہے ہیں، اس سوراخ کو بھی بند کرنا ہوگا، بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنے کی ضرورت ہے، خسارے کے شکار اداروں کا خسارہ ختم کئے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2029 ء میں جب موجودہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری ہو گی تو پاکستان اپنے پائوں پر بڑی مضبوطی سے کھڑا ہو چکا ہو گا، ہم نے 2029 ء تک ملکی برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے اور 2035ء کے وژن کے تحت پاکستان کو ایک ٹریلین اکانومی کا حامل ملک بنانا ہے، آئی ٹی کو برآمدات میں سرفہرست لانا ہو گا اور سب سے بڑھ کر ضد، نفرت اور احتجاج کو دفن کرنا ہو گا اور مفاہمت، پیار اور محبت کو فروغ دینا ہو گا، اسی میں ہماری بقاء ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اقوام عالم میں پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام دوبارہ دلائیں گے، پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا اور اپنے قائد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو کئی چیلنجز درپیش تھے، اپریل 2022ء میں ملکی معیشت عالمی درجہ بندی میں 47 ویں پوزیشن پر آ گئی تھی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے کامیابیاں حاصل کیں ، ایس سی او کا کامیاب انعقاد پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، بچیوں کی تعلیم سے متعلق اسلام آباد میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہا ہے جبکہ ملک معدنیات سےمالامال، استفادہ کے لئے خصوصی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ضرب عضب کی طرح عزم استحکام پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ کے مظلوم بہن بھائیوں کو انسانی ہمدردی امداد فراہم کر رہا ہے جو جاری رہے گی۔

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ ملکی معیشت مستحکم ہوچکی ہے،استحکام کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعملدرآمد ہورہاہے، رائٹ سائزنگ کے حوالہ سے 43وزارتوں اور 400منسلکہ اداروں میں اقدامات کاسلسلہ جاری ہے، 10وزارتوں پرتجاویز آچکی ہیں جن کی کابینہ نے توثیق بھی کرلی ہے، مالی سال کے اختتام تک تمام وزارتوں اورمنسلکہ اداروں سے متعلق فیصلے کئے جائیں گے، دسمبرکے اختتام تک جی ڈی پی کے تناسب سے محصولات کی شرح کے حوالہ سے آئی ایم ایف کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہدف حاصل کرلیں گے ، اگلے چاربرسوں میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کو13.5فیصدکی سطح پرلے جائیں گے۔

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، حکومتی اقدامات سے تمام اداروں میں ترقی کا عمل جاری ہے، مثبت تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں انتشار پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان منصوبے پر پوری دلچسپی سے کام کیا جا رہا ہے، سی پیک منصوبہ کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئی، سی پیک کے دوسرا مرحلے پر کام شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2018 میں سی پیک کے منصوبے کو شدید نقصان پہنچایا گیا، 2018 میں اگر ہمیں نہ روکا جاتا تو آج ہم بڑی معیشتوں میں شامل ہوتے۔

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ترجیح ہے، توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، درآمدی کوئلہ کی بجائے ملکی کوئلہ سے بجلی پیدا کی جائے گی ، بجلی چوری کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصان میں کمی لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اور زرعی شعبہ کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، ملک میں آئی ٹی کی برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا، انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بہتر بنانے کیلئے تین سب میرین کیبلز بچھائی گئی ہیں، ہمارا مستقبل آئی ٹی سے وابستہ ہے۔

  • جرم کیا تو سزا ہونی،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا،سپریم کورٹ

    جرم کیا تو سزا ہونی،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بنچ کا حصہ ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ سے کتنے لوگ رہا ہوئے؟،سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ 105 کل ملزمان تھے جس میں سے 20 ملزمان رہا ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 20 پہلے ہوئے تھے پھر 19 رہا ہوئے اس وقت جیلوں میں 66 ملزمان ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ امریکا میں رواج ہے کہ دلائل کے اختتام پر دونوں پارٹیز کو پروپوز ججمنٹ کا حق دیا جاتا ہے، اگر یہ کہتے ہیں کہ کورٹ مارشل کرنا ہے اس کا بھی متبادل ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق پڑتا ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ ٹرائل میں زمین آسمان کا فرق ہے، ایک ٹرائل آزاد ہے اور دوسرا ملٹری میں ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سارے فورم موجود ہیں اور سارے فورمز قابل احترام ہیں۔فیصل صدیقی نے کہا کہ 8 تھری اے میں ایف بی علی نے کہا تھا آپ قانون کو چیلنج نہیں کر سکتے، جہاں دفاع پاکستان کو خطرہ ہو وہاں سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے، 9 مئی واقعات میں کیسز توڑ پھوڑ کے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کیے تو سابق سپریم کورٹ بار عہدیداران اور درخواستگزار بشریٰ قمر کے وکیل عابد زبیر ی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی تھی، شفاف کا حق ملے گا۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔درخواست گزار بشری قمر کے وکیل عابد زبیری دلائل جاری رکھیں گے۔

  • 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری

    7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری

    پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر مذاکرات کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات تقریباً مکمل ہوگئے ہیں، جس کے بعد اب پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا سیشن وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ جبکہ دوسرا سیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔ اس دوران دونوں فریقین نے مالیاتی پالیسوں اور بجٹ کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔اب پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے، جن کی قیادت پاکستان کی وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کے ناتھن پورٹر کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بھی شریک ہیں۔

    یہ مذاکرات پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض کے پروگرام پر ہو رہے ہیں، جو تقریباً دو ہفتے تک جاری رہیں گے۔ اس دوران پاکستان نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرض کے پروگرام کی شرائط میں نرمی کرے، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے۔ان مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف جائزہ مشن اپنی سفارشات ایگزیکٹو بورڈ کو بھیجے گا، جو اس ماہ کے آخر یا اپریل کے ابتدائی دنوں میں فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کی جائے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ آیا بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے یا نہیں۔

    پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس لئے اہم ہیں کہ ان کے کامیاب ہونے سے نہ صرف قرض کی اگلی قسط جاری ہوگی بلکہ ملک کی معیشت کو استحکام حاصل کرنے کی بھی امید ہے۔

  • افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ تواتر سے جاری

    افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ تواتر سے جاری

    اسلام آباد: پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں افغان دہشتگردوں کے ملوث ہونے میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغانستان کی سرزمین دہشتگردوں کے لیے محفوظ جنت بن چکی ہے جہاں سے یہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    28 فروری 2025 کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے غلام خان کلے میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران 14 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان میں افغان دہشتگرد بھی شامل تھے۔ ان ہلاک دہشتگردوں میں ایک افغان دہشتگرد کی شناخت منظر عام پر آئی ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ہلاک افغان دہشتگرد کی شناخت مجیب الرحمان عرف منصور ولد مرزا خان کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ افغانستان کے ضلع چک، صوبہ میدان وردک کا رہائشی تھا۔ مزید برآں، وہ افغانستان کی حضرت معاذ بن جبل نیشنل ملٹری اکیڈمی کی تیسری بٹالین کا کمانڈر تھا۔

    اس سے قبل بھی افغان دہشتگرد مارے جا چکے ہیں،30 جنوری 2025 کو بھی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ایک اور افغان دہشتگرد بدرالدین ولد مولوی غلام محمد کو ڈی آئی خان میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، بدرالدین افغان فوج میں لیفٹیننٹ تھا اور وہ صوبہ باغدیس کے ڈپٹی گورنر کا بیٹا تھا۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں علاج یا تعلیم کے نام پر آتی ہے، لیکن وہ فتنہ الخوارج کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کئی افغان دہشتگرد اپنی مرضی سے بھی اس تنظیم میں شامل ہو رہے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان عبوری حکومت کے کئی اہلکار بشمول تحریک طالبان افغانستان کے سابق کمانڈرز، دہشتگرد تنظیموں بشمول فتنہ الخوارج سے گہرے روابط رکھتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان مضبوط گٹھ جوڑ ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق، افغانستان ہر قسم کے دہشتگردوں کی افزائش گاہ بن چکا ہے۔ افغان عبوری حکومت کے اہلکار پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کے لیے فتنہ الخوارج کی مکمل سہولت کاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے بجائے افغان عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے، خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبے میں، کیونکہ افغان عوام گزشتہ تین سالوں سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق، فتنہ الخوارج کے ساتھ پاکستان میں گھسنے والے زیادہ تر افغان شہری یا تو مارے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ افغان عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو فتنہ الخوارج کی دہشتگردانہ سرگرمیوں سے دور رکھیں تاکہ وہ ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ سکیں.

  • سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ 105 ملزمان کو ملٹری ٹرائل کے لیے منتخب کیسے کیا، معاملہ یہ ہے کیا قانون ملٹری ٹرائل کی اجازت دیتا ہے؟جسٹس امین الدین نے وکیل سے کہا کہ ملزمان کی حوالگی رکارڈ کامعاملہ ہے، کیا آپ نے آرمی ایکٹ کے سیکشن 94 کو چیلنج کیا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کے وقت جرم کا تعین نہیں ہوا تھا، سیکشن 94 کی لامحدود صوابدیدی اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے، ملزمان کی ملٹری حوالگی کا فیصلہ کرنے والے افسر کے اختیارات لامحدود ہیں، پاکستان میں وزیرِ اعظم کا اختیار لامحدود نہیں، ملزمان کی حوالگی کے اختیارات کا اسٹرکچر ہونا چاہیے۔

    جسٹس حسن اظہر نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا پولیس کی تفتیش آہستہ اور ملٹری کی تیز تھی؟ کیا ملزمان کی حوالگی کے وقت مواد موجود تھا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مواد کا ریکارڈ پر ہونا نہ ہونا مسئلہ نہیں، ساری جڑ ملزمان کی حوالگی کا لامحدود اختیار ہے، کمانڈنگ افسر سیکشن 94 کے تحت حوالگی کی درخواست دیتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا انسداد دہشت گردی کی عدالت حوالگی کی درخواست مسترد کر سکتی ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کو ملزمان کی حوالگی کی درخواست مسترد کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ دفاع تو ملزمان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت یا اپیل میں اپنایا جا سکتا تھا۔جسٹس محمد علی نے سوال کیا کہ کیا عدالت نے ملزمان کو نوٹس کیے بغیر کمانڈنگ افسر کی درخواست پر فیصلہ کر دیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ سیکشن 94 کا اطلاق ان ملزمان پر ہو گا جو آرمی ایکٹ کے تابع ہیں، اے ٹی سی فیصلے کے بعد ملزمان آرمی ایکٹ کے تابع ہو گئے، اے ٹی سی کمانڈنگ افسر کی درخواست کو مسترد بھی کر سکتی تھی۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ ملزمان کی حوالگی سے قبل ہونا تھا، اگر کورٹ مارشل کا فیصلہ نہیں ہوا تو ملزمان کی حوالگی کیسے ہو سکتی ہے؟جسٹس حسن اظہر نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا کمانڈنگ افسر کی درخواست میں حوالگی کی وجوہات بتائی گئیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمانڈنگ افسر کی درخواست میں کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کی درخواست میں وجوہات بتائی گئیں، درخواست میں بتایا گیا کہ ملزمان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے جرائم ہیں۔

  • کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل

    کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل

    بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں ’حسین مبارک پٹیل‘ کے نام سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو چلانے کا الزام ہے۔ یہ گرفتاری دو ہزار سولہ میں پاکستان کی ایجنسیوں نے کی تھی، جب کلبھوشن کو بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے حراست میں لیا گیا تھا۔

    کلبھوشن یادیو، جو بھارتی نیوی کا کمانڈر رینک کا حاضر سروس آفیسر تھا، نے اپنی گرفتاری کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کا مقصد پاکستان کے اہم منصوبوں، خاص طور پرسی پیک اور گوادر بندرگاہ کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کے علاوہ، اس نے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کو تقویت دینے اور وہاں کی علاقائی سلامتی کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔

    پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔ اس کے اعترافات کے بعد بھارت کے ساتھ کلبھوشن کے معاملے پر عالمی سطح پر تنازعہ بڑھ گیا، جس میں بھارت نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کلبھوشن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالتِ انصاف تک پہنچا تھا، جہاں بھارت نے پاکستان کے خلاف کلبھوشن کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ تاہم، پاکستان نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن کو مضبوطی سے پیش کیا، اور عالمی عدالت نے بھی کلبھوشن یادیو کے کیس کی قانونی تشریح کی۔

    یہ واقعہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایک اور ثبوت ہے، جس کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد فراہم ہوئے ہیں۔