Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکہ پھر پاکستان کے قریب، بڑی پیش رفت,آرمی چیف کا دورہ برطانیہ، بڑی سفارتی فتح!

    امریکہ پھر پاکستان کے قریب، بڑی پیش رفت,آرمی چیف کا دورہ برطانیہ، بڑی سفارتی فتح!

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں، جہاں عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت مزید اجاگر ہو رہی ہے۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار عبداللہ حمید گل کا اپنے وی لاگ میں کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی قربتیں امریکہ کے لیے باعثِ تشویش بن چکی ہیں، جبکہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد واشنگٹن، پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو دوبارہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس تناظر میں پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں، جس میں برطانیہ بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    عالمی اور مقامی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا پاکستان ایک بڑے سیاسی اور سفارتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے؟ کیا موجودہ نظام میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے؟ اور کیا امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے؟

    مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی ایسے اسٹریٹجک مفادات ہیں جن کا تحفظ امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایک طرف ایران کھڑا ہے، جو ایک عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف رکھتا آیا ہے۔ حزب اللہ کی مکمل حمایت، حماس کی پشت پناہی، اور شام و عراق میں مختلف مسلح گروہوں کی مدد جیسے اقدامات نے خطے میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔

    اسی دوران، سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی سفارتی کوششوں سے پیدا ہونے والی قربتیں بھی امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کی، جس پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیا۔ اس بیان پر سعودی عرب نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا۔

    ان عوامل نے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کو مزید مستحکم کر دیا، جسے امریکہ کسی صورت قبول نہیں کر سکتا۔ اسی لیے، امریکہ نے سعودی عرب کو روس-یوکرین مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ مقام کے طور پر چنا ہے۔اس پس منظر میں، پاکستان کی اہمیت مزید اجاگر ہو رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی پر چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان اور ہتھیار اب طالبان اور دیگر گروہوں کے زیر استعمال ہیں۔ اس صورتحال نے امریکہ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسرِ نو استوار کرے۔

    پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دورۂ برطانیہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں وہ برطانیہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ تاریخی طور پر، برطانیہ اکثر امریکہ کے لیے ایک سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اور اس بار بھی وہ پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔یہ دورہ پاکستان کے لیے سفارتی لحاظ سے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید بڑی خبریں متوقع ہیں۔ عالمی سیاست میں ایک نئی حکمت عملی تشکیل پا رہی ہے، اور پاکستان اس میں ایک کلیدی کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے۔

    اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی بیٹوں سے بات کرادی

    معروف مذہبی و سماجی رہنما محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کی وفات،نماز جنازہ ادا

  • وزیراعظم کا راجن پور میں یونیورسٹی اور ڈی خان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان

    وزیراعظم کا راجن پور میں یونیورسٹی اور ڈی خان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال اور راجن پور میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ترقیاتی منصوبوں کا وسیع نیٹ ورک پھیلا کر جنوبی پنجاب سمیت ملک کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے ڈیرہ غازی خان کے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے اور زراعت، صنعت اور برآمدی شعبے کی ترقی کے لیے دن رات محنت کریں گے۔ جلسہ گاہ پہنچنے پر جنوبی پنجاب کے عوام نے وزیراعظم کا بھرپور استقبال کیا، جس پر انہوں نے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وہ عوام کی محبت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کے وژن کے مطابق جنوبی پنجاب کو ہمیشہ زیادہ ترقیاتی منصوبے دیے گئے، جو کسی پر احسان نہیں بلکہ عوام کا حق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز پنجاب بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھا رہی ہیں، مفت ادویات کی فراہمی جاری ہے، جبکہ لیپ ٹاپ اور کسان کارڈ بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرگودھا میں امراض قلب کا ایک بڑا ہسپتال اور لاہور میں نواز شریف کینسر ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی درخواست پر ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے سیاست پر ملک کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد پر آ گئی ہے اور بینک قرضوں کی شرح سود 22 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور ترقی پاکستان کا مقدر بن چکی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جنوبی پنجاب کی ترقی مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوئی اور اب مریم نواز روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو مہنگائی عروج پر تھی، لیکن نواز شریف نے سیاست قربان کر کے ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان قرضوں کے سہارے ترقی نہیں کر سکتا، اس کے لیے زراعت، صنعت اور برآمدی شعبے کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ملک کو احتجاجی سیاست اور انتشار سے نکالنا ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے لیہ پل کی تکمیل کی ہدایت بھی جاری کی اور کہا کہ اب ڈیرہ غازی خان کی ترقی کا جائزہ لینے خود آئیں گے۔ جلسے میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اویس لغاری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

    وفاقی وزیر اویس لغاری نے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان کو 131 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ترقی کر رہا ہے، اور وزیراعظم نے اپنی سیاست قربان کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

    جلسہ گاہ میں شرکاء نے وزیراعظم کا پرجوش استقبال کیا اور خیرمقدمی نعرے لگائے۔ سردار جمال لغاری نے بھی خطاب میں وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ قبل ازیں، وزیراعظم نے فاروق احمد خان لغاری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن منصوبے کی نقاب کشائی کی اور 331 کلومیٹر طویل انڈس ہائی وے کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

    انڈس ہائی وے منصوبے کی تکمیل سے خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب کے درمیان مواصلاتی رابطے بہتر ہوں گے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

    2/2

  • چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی، کھرا سچ میں لائیو کالر کرکٹ ٹیم پر برس پڑے

    چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی، کھرا سچ میں لائیو کالر کرکٹ ٹیم پر برس پڑے

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر شائقین اور ماہرین کرکٹ کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ 365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں کالرز کی گفتگو میں ٹیم کی سلیکشن، کارکردگی اور مستقبل پر گہرے سوالات اٹھائے گئے۔

    ٹیم کی ناقص سلیکشن پر اعتراضات

    شو میں گوجرانوالہ سے کالر افراز بھائی نے ٹیم کی ناقص سلیکشن پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے 22 کروڑ کی آبادی والے ملک سے صرف 15 کھلاڑی چننا اور وہ بھی غیر معیاری، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیم میں کوئی مناسب اسپنر موجود نہیں جبکہ دنیا کی دیگر ٹیمیں، خصوصاً بھارت، اپنے اسکواڈ میں کم از کم 3 سے 4 اسپنرز رکھتے ہیں۔

    جاوید میانداد کو کرکٹ معاملات میں شامل کرنے کی تجویز

    خوشاب سے ایک اور کالر، محمد نعیم نے تجویز دی کہ کرکٹ معاملات میں سابق کرکٹر جاوید میانداد کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر اینکر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جاوید میانداد نہ صرف کرکٹ کے بہترین دماغوں میں سے ایک ہیں بلکہ ان میں آج بھی وہی جوش اور غصہ موجود ہے جو انہیں ایک کامیاب کھلاڑی بناتا تھا۔

    کیا پاکستانی کرکٹرز پر محض قسمت کا اثر ہے؟

    تجزیہ کار محسن حسن خان نے ٹیم کی ناقص کارکردگی کو بدقسمتی قرار دیا جبکہ معروف صحافی مبشر لقمان نے اپنے شوکھرا سچ مبشر لقمان کے ساتھ میں اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارکردگی کی کمی کا ذمہ دار قسمت نہیں بلکہ غیر معیاری سلیکشن اور ناقص حکمت عملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بابر اعظم کو ‘بادشاہ’ بنا دیا گیا ہے تو پھر اسے رنز بھی کرنے ہوں گے، ورنہ تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    لوکل ٹیلنٹ اور قومی ٹیم کا موازنہ

    فیصل آباد سے ایک کالر، ملک کامران نے دعویٰ کیا کہ ان کے علاقے میں قومی ٹیم سے بہتر کھلاڑی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں لیکن بدقسمتی سے میرٹ پر سلیکشن نہیں کی جاتی۔ ایک اور کالر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر عام لوگوں کو سلیکشن کا موقع دیا جائے تو وہ 20 لاکھ میں سے بہترین 12 کھلاڑی چن سکتے ہیں۔

    ٹیم کی مستقبل کی کارکردگی پر خدشات

    کرکٹ کے کئی ماہرین، جن میں آسٹرولوجر کنعان چوہدری بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر سلیکشن کا یہی حال رہا تو پاکستان کرکٹ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ مبشر لقمان نے اپنے شوکھرا سچ مبشر لقمان کے ساتھ کہا کہ بابر اعظم اور دیگر کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ آنے والے بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی حاصل کر پائیں گے۔پاکستانی عوام اور ماہرین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے سخت نالاں ہیں اور ٹیم مینجمنٹ سے شفافیت اور میرٹ پر مبنی فیصلے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر حالات نہ بدلے تو پاکستان کرکٹ مزید زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔

    آسٹریلوی کپتان نے پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف کر دی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    پی ٹی آئی احتجاج کے نام پرانتشار پھیلا رہی ہے،بیرسٹرعقیل ملک

    کراچی: خونی ڈمپر و ٹینکر مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

  • سیکیورٹی فورسز کا ضلع کرک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 خارجی جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز کا ضلع کرک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 خارجی جہنم واصل

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6 خارجیوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ آپریشن خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں خارجیوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 6 خارجی ہلاک ہو گئے۔ اس وقت آپریشن جاری ہے اور اس کا مقصد علاقے میں باقی ماندہ خارجیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اپنے عزم میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیں گے۔

    وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع کرک میں کامیاب آپریشن اور 6 خارجیوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ "انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔” وزیراعظم نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اس میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی جائے گی۔

    اس کامیاب آپریشن نے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی عزم اور صلاحیت کو ثابت کیا ہے اور ملک میں امن کے قیام کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔

  • اپوزیشن رہنماؤں کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات

    اپوزیشن رہنماؤں کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات

    اسلام آباد: اپوزیشن رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے میڈیا سے بھی گفتگو کی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر عمر ایوب خان نے اس ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی اور اس دوران مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ملاقات میں انہوں نے گزشتہ جیل ٹرائل کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس وقت پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لئے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی۔عمر ایوب خان نے اس موقع پر بتایا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کیسز کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات عدالت کے حکم کے باوجود ان کیسز کی تاریخیں تبدیل ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مسائل بڑھتے ہیں۔

    عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر اہم افراد کے وکلا کو ان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ اس قسم کے فیصلے سے انصاف کا عمل متاثر ہو رہا ہے ،

    بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے چیف جسٹس سے کہا کہ عمران خان کو ایکسرسائز مشین نہیں دی جارہی، کتابیں فراہم نہیں کی جارہی، بانی چیئرمین سے فیملی ممبران کی ملاقاتیں نہ کرانے کا بھی چیف جسٹس کو کہا،ہم نے چیف جسٹس کو کہا کہ ہمارے رہنماؤں پر بیک وقت 100 سو سے زائد کیسز ہے،ہمارے رہنما بیک وقت سارے کیسز میں پیش نہیں ہوسکتے،

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے چیف جسٹس کے ساتھ آئین اور قانون کی عملداری پر بات چیت کی، آئین میں دیے گئے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے اگاہ کیا گیا،اگر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ان مسائل کو نہیں دیکھتی تو پھر لوگ مایوس ہونگے،پورے نظام عدل کو آلہ جرم بنا دیا گیا،عدالت دیکھے اور پوچھے کہ ایک شخص کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہےان حالات میں عدلیہ کو مداخلت کرنی چاہئےہم جو سمجھتے تھے وہ ریلیف ہمیں عدلیہ سے نہیں ملی اگر انصاف نہیں ملتا تو ملک جس طرف جائے گا اس کا عمر ایوب نے کہہ دیا ہمیں 26 ویں آئینی ترمیم پر اعتراضات ہیں،

  • استعمال شدہ اشیاء کی آڑ میں اسمگلنگ ،وزیراعظم کا روکنے کا حکم

    استعمال شدہ اشیاء کی آڑ میں اسمگلنگ ،وزیراعظم کا روکنے کا حکم

    اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے چیئرمین زیاد بشیر کی قیادت میں ریٹیلرز کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیرِاعظم نے ریٹیلرز کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور ریٹیل سیکٹر کے مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ریٹیلرز جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان پر ٹیکس کا مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ تاہم، ایسے ریٹیلرز جو ٹیکس ادا نہیں کرتے، انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیرِاعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ استعمال شدہ اشیاء کی اسمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات تیز کیے جائیں گے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی اپنانا چاہئے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں اور اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔مزید براں، وزیرِاعظم نے ایف بی آر کی دیگر اصلاحات کے ساتھ ساتھ معیشت کو کیش لیس بنانے کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں شریک شرکاء نے وزیرِاعظم کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مہنگائی اور شرح سود میں کمی کی بدولت مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پیدوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات سے مہنگائی میں مزید کمی آئے گی اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    وفد کے شرکاء نے حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور رس مثبت اثرات معیشت پر مرتب ہوں گے۔ ریٹیلرز کے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے سے ملک کے محصولات میں اضافہ ہوگا، اور جو ریٹیلرز پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان کے مسائل کے حل کیلئے حکومت کے اقدامات کو بھی سراہا گیا۔

    اجلاس میں چیئرمین پاکستان ریٹیل بزنس کونسل زیاد بشیر، سی ای او سروس سیلز کارپوریشن شاہد حسین، سی ای او بیچ ٹری شہریار بخش، وفاقی وزراء احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک اور دیگر متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

  • عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی  تجویز قابل عمل نہیں ،حکومت

    عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں ،حکومت

    اسلام آباد ہائی کورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں ، عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو سمتھ نے اس حوالے سے تجویز دی تھی .ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جوباییڈن نے درخواست مسترد کردی لیکن خط کا جواب نہیں دیا .، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے خط کا جواب ہی نہیں دیا بلکہ acknowledge بھی نہیں کیا ،ڈپلومیٹک نارمز کیا ہیں اگر کوئی ملک دوسرے کو خط لکھتا ہے تو کیا ہوتا ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے ہدایات لے کے بتائیں امریکہ کو عدالت میں دائر عافیہ صدیقی کی پٹیشن پر کیا اعتراض ہے ،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات لے کر اگلے جمعے تک جواب طلب کرلیا،کیس کی سماعت اگلے جمعے تک ملتوی کر دی گئی

  • آرمی چیف کا برطانیہ میں مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ

    آرمی چیف کا برطانیہ میں مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ کیا۔ ان کا یہ دورہ برطانیہ کے جنرل رولینڈ واکر کی دعوت پر ہوا۔

    دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وار منسٹر اور لارک ہل گیریژنز کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں برطانوی فوج کی جدید ٹیکنالوجیز اور اسٹرائیک بریگیڈ کی ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ خاص طور پر برطانوی فوج کے ڈیپ ریکی اسٹرائیک بریگیڈ اور ان کے جدید حربی طریقوں کے حوالے سے تھی۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ تصاویر اور بیان کے مطابق، اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو برطانوی فوج کے جدید حربی آلات اور سسٹمز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ اس میں مصنوعی ذہانت (AI) اور بغیر پائلٹ فضائی سسٹمز (Unmanned Aerial Systems) جیسے جدید ٹیکنالوجیز شامل تھیں، جو موجودہ دور کی جنگی حکمت عملیوں میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

    اس دورے سے قبل وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات، عطا تارڑ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف کا یہ دورہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے، جہاں انہیں برطانیہ میں بھرپور پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اور پوری دنیا پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا معترف ہے۔

    یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور برطانیہ کے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان جدید جنگی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

  • قومی سلامتی اور ترقی کیلئے نئے صوبے بنائے جائیں،گول میز کانفرنس

    قومی سلامتی اور ترقی کیلئے نئے صوبے بنائے جائیں،گول میز کانفرنس

    اسلام آباد(باغی ٹی وی )گول میز کانفرنس،قومی سلامتی اور گورننس کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر قرار

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IPRI) میں ایک اہم گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک میں گورننس اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نشست میں سیاستدانوں، ماہرینِ پالیسی، اسکالرز اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    نشست سے خطاب کرنے والوں میں سابق گورنر خیبرپختونخوا اور بلوچستان اویس احمد غنی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر SOPREST شکیل درانی، سابق وفاقی سیکرٹری اشتیاق احمد خان، سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز، مینجنگ ڈائریکٹر دنیا ٹی وی نوید کاشف، سابق سفیر محمد حسن، سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، افغانستان کے لیے سابق خصوصی نمائندہ آصف درانی، معروف قانون دان ڈاکٹر شعیب سڈل اور سابق نگران وزیر مرتضیٰ سولنگی شامل تھے۔

    شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ انتظامی و گورننس مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔ نشست میں اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ پنجاب کا رقبہ 196 ممالک سے بڑا ہے، جس کی وجہ سے بہتر انتظامی تقسیم اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہو چکی ہے۔

    نشست میں تجویز دی گئی کہ موجودہ انتظامی یونٹس کو نئے صوبوں میں تبدیل کیا جائے یا پھر متعدد اضلاع کو ملا کر نئے صوبے تشکیل دیے جائیں۔ شرکاء نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ علاقائی سیاسی اشرافیہ اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ وہ اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے باعث نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتی ہے۔ مزید برآں علاقائی اور قومی سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے پر یکساں موقف نہیں رکھتیں، جس کی وجہ سے مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔

    نئے صوبوں کے قیام کے لیے عملی تجاویزکانفرنس میں تجویز پیش کی گئی کہ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں قیادت کرے اور ایک پارلیمانی کمیٹی یا کمیشن تشکیل دے جس میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، بشمول میڈیا اور دانشوروں کو شامل کیا جائے۔

    کانفرنس کی نگرانی آئی پی آر آئی کے صدر، سفیر ڈاکٹر رضا محمد نے مکالمے کا آغاز کیا جبکہ بحث کی نگرانی ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے کی۔ انہوں نے انتظامی، اقتصادی اور سیاسی عوامل پر روشنی ڈالی جو نئے صوبوں کی تشکیل کو ضروری بناتے ہیں۔

    شرکاء کا موقف تھا کہ اگر موجودہ انتظامی ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے تو قانون و انتظام، شہری سہولتوں اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے قیام سے اختیارات کی منتقلی اور عوام کو براہ راست بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔

    کانفرنس میں کہا گیا کہ اگر افغانستان، انڈونیشیا اور ترکی میں بالترتیب 34، 38 اور 81 صوبے ہو سکتے ہیں تو پاکستان میں بھی نئے صوبے بنا کر خدمات کی بہتر فراہمی ممکن ہے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں گورننس کا بنیادی مسئلہ مؤثر مقامی حکومت کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی مداخلت اور اختیارات کی غیر واضح تقسیم انتظامی مشکلات کو جنم دے رہی ہے۔

    گول میز کانفرنس میں اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام ملکی گورننس میں بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمانی سطح پر عملی اقدامات کرنے اور ایک منظم حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سیاسی و انتظامی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل

    کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نےسماعت کی،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ عام ترامیم بنیادی حقوق متاثر نہیں کرسکتیں،دیکھنا یہ ہے آئین کس چیز کی اجازت دیتا ہے،ملزم کے اعتراف کیلئے سبجیکٹ کا ہونا ضروری ہے،ایف بی علی نے واضح کیا ٹوون ڈی والے 83اے میں نہیں آتے، آرمی ایکٹ کا تعلق صرف ڈسپلن سے ہے ،جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ شق سی کے مطابق جو ملازمین آتے ہیں وہ حلف نہیں لیتے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ شق سی والوں کا کورٹ مارشل نہیں کر سکتے،کورٹ مارشل آفیسرز کا ہوتا ہے،

    جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ جرم کی نوعیت آرمڈ فورسز ممبرز بتائیں گے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ جرم کی نوعیت سے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے،آئین بننے سے پہلے کے قوانین کا بھی عدالت جائزہ لے سکتی ہے،سویلینز کا ٹرائل صرف 175کے تحت ہی ہو سکتا ہے،فوجی عدالتیں 175سے باہر ہیں،فوج245کے دائرہ سے باہر نہیں جا سکتی،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیا (3)8کے مقصدرکیلئے بنائی گئی عدالتیں ٹرائل کر سکتی ہیں؟آئین کے تحت آرمڈ فورسز ایگزیکٹو کے ماتحت ہیں،کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟کیا عدالتوں کو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں؟وکیل عزیز بھنڈاری نے کہا کہ وقفہ کے بعد عدالتی سوالات کے جواب دوں گا۔