Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم شہبازشریف کو تاشقند میں گارڈ آف آنر پیش

    وزیراعظم شہبازشریف کو تاشقند میں گارڈ آف آنر پیش

    تاشقند: پاکستان کے وزیراعظم محمد شہبازشریف ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچے، جہاں ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے ان کا بھرپور اور پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی آمد کے موقع پر کانگرس سینٹر میں ایک خصوصی استقبال کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقات اور خیرسگالی کے جذبات کا تبادلہ ہوا۔

    کانگرس سینٹر میں وزیراعظم شہبازشریف اور صدر شوکت مرزایوف کے درمیان گرم جوشی سے مصافحہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ بات چیت کی اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔

    اس کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کے اعزاز میں ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم شہبازشریف کو سلامی دی اور ان کی آمد کو ایک باوقار تقریب میں تبدیل کیا۔

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اپنی کابینہ کا تعارف کرایا، جس کے بعد ازبکستان کی کابینہ نے بھی اپنے ارکان کا تعارف کرایا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مزید اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مختلف اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔

    وزیراعظم کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے، اور یہ ملاقات ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جس میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط میں مزید بہتری آئے گی۔

  • ملک بھر میں طوفانی بارشیں، مختلف حادثات میں 9 جاں بحق، متعدد زخمی

    ملک بھر میں طوفانی بارشیں، مختلف حادثات میں 9 جاں بحق، متعدد زخمی

    باغی ٹی وی:ملک بھر میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث پیش آنے والے بارش کے باعث مختلف حادثات میں 2 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جبکہ خاتون اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شدید موسم کے باعث کئی علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، رابطہ سڑکیں بند اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں موسلا دھار بارش کے باعث ایک کچے مکان کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں دو کمسن بہن بھائی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کی والدہ اور دو دیگر بچے زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    آزاد کشمیر کے علاقے وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے سے تین افراد دب کر جاں بحق ہوگئے۔ شدید برفباری کے باعث علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مزید برفانی تودے گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    اٹک میں مسلسل بارشوں کے بعد سڑک پر پھسلن پیدا ہو گئی، جس کے باعث ایک مسافر بس بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ نو مسافر زخمی ہو گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا۔

    پشاور کے علاقے کوہاٹ روڈ پر شدید بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں چار بچے زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    گلیات میں ہونے والی برفباری کے بعد سڑکوں پر شدید پھسلن پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی شدید بارشیں اور آندھی کا سلسلہ جاری رہا۔ چمن میں تیز آندھی کے باعث گھروں کی دیواریں اور بجلی کے کئی کھمبےگر گئے، جس سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    پنجاب کے مختلف شہروں شیخوپورہ، فاروق آباد، رینالہ خورد، کلورکوٹ، شرقپور شریف اور دیگر علاقوں میں شدید بارش کے باعث جل تھل ایک ہوگیا۔ نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

    ملک بھر میں وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • پاکستان کو ایف 16‘ پروگرام کیلئے 39 کروڑ ڈالر امریکی فنڈز جاری

    پاکستان کو ایف 16‘ پروگرام کیلئے 39 کروڑ ڈالر امریکی فنڈز جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان میں امریکی حمایت یافتہ پروگرام کے لیےجاری کر دیے.

    امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کے ایک معاون نے بتایا کہ امریکی ساختہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کے استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جائیں نہ کہ حریف بھارت کے خلاف۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ اقدام منجمد غیر ملکی امداد میں 5.3 ارب ڈالر کی ریلیز کا حصہ تھے، جو زیادہ تر سیکیورٹی اور انسداد منشیات کے پروگراموں کے لیے ہیں۔

    فنڈز سے ٹیکنیکل سیکیورٹی ٹیم (ٹی ایس ٹی) کو سپورٹ ملے گی، یہ ملک میں موجود کنٹریکٹرز کا ایک دستہ ہے، جس کا کام سخت مانیٹرنگ اصولوں کے مطابق ’ایف-16‘ کے استعمال کی نگرانی کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان ایئر فورس کو ایف-16 اور خاص طور پر نئے F-16C/DB-52 صرف انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔اس نے نوٹ کیا کہ یہ نگرانی ’نئی نہیں ہے‘ مزید کہا کہ ٹی ایس ٹی پاکستان میں 2019 میں بھی موجود ہے، جب امریکا نے پاکستان ایئر فورس ایف-16 بیڑے کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے امدادی پیکج کے ساتھ اس کی موجودہ تعیناتی کی منظوری دی۔

    تاہم، فارن پالیسی میگزین کی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے ساتھ فائٹ میں ایف 16 کا استعمال اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا جس پر پاکستان نے امریکا سے طیارہ وصول کرتے وقت دستخط کیے تھے۔ممتاز امریکی میگزین نے 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان فائٹ کے دوران پاکستان کے ایف 16 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بھارتی دعوے کی بھی تردید کی تھی۔فارن پالیسی نے 2 امریکی دفاعی اہلکاروں سے انٹرویو کیا تھا، جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں تمام ’ایف 16‘ طیارے موجود تھے۔

    عہدیداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے 27 فروری 2019 کو فائٹ کے دوران ایک ایف 16 لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا، تو پاکستان نے امریکا کو طیارے گننے کی دعوت دی تھی۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امداد کو منجمد کرنے کا حکم دیا تھا، رائٹرز نے 13 فروری تک منظور شدہ مزید 243 مستثنیات کی فہرست حاصل کی، جس کی کل مالیت 5 ارب 30 کروڑ ڈالر تھی۔جاری کردہ فنڈز کی اکثریت (4.1 ارب ڈالرز) امریکی محکمہ خارجہ کے سیاسی، فوجی امور کے بیورو کے زیر انتظام پروگراموں کے لیے ہے، جو دوسرے ممالک اور گروپوں کو ہتھیاروں کی فروخت اور فوجی امداد کی نگرانی کرتا ہے، دیگر فنڈز کا اجرا ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن اور امریکا میں غیر قانونی منشیات کے بہاؤ کو روکنے کی کوششوں سے متعلق ہے۔

    بدترین کارکردگی،قومی ٹیم کی برانڈ ویلیو کو بھی بڑا نقصان پہنچنے کا خدشہ

    انڈیا کے ایک ہی وینیو پر کھیلنے سے فرق نہیں پڑتا، جوز بٹلر

    پانی و بجلی کی بندش کیخلاف کراچی شہر میں احتجاجی مظاہرے، بدترین ٹریفک جام

    پانی و بجلی کی بندش کیخلاف کراچی شہر میں احتجاجی مظاہرے، بدترین ٹریفک جام

    50 روز گر گئے، پولیس ننھے صارم کے ملزم کا سراغ لگانے میں ناکام

  • آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 سال مکمل ہونے پر  نغمہ "دشمناسُن” ریلیز

    آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 سال مکمل ہونے پر نغمہ "دشمناسُن” ریلیز

    پاکستان کے قومی دفاع میں 27 فروری 2019 کا دن ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کو یادگار بنانے کے لئے آئی ایس پی آر نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے چھ سال مکمل ہونے پر ایک نیا نغمہ "دشمناسُن” ریلیز کیا ہے۔ اس نغمے میں وطن کے جانباز سپوتوں کی جانب سے ملکی دفاع کیلئے عہد و پیمان کا اظہار کیا گیا ہے۔

    27 فروری 2019 کو پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ پاک فضائیہ نے اس دن سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے دو لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ اس کارروائی کے دوران ایک بھارتی پائلٹ، ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا جس نے پاکستان کے بہادری اور عزم کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیا گیا نغمہ "دشمناسُن” پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔ یہ نغمہ ملکی خودمختاری کے دفاع میں پاکستان کے عزم کی تجدید کا ایک مظہر ہے، جس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ نغمے میں وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سپاہیوں کے عزم و حوصلے کی تصویر کشی کی گئی ہے، جو اپنے ملک کی سالمیت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔

    "دشمناسُن” نغمے کی شاعری احمد عظیم نے تحریر کی ہے جبکہ اس نغمے کو کامران اللہ خان نے نہ صرف گایا بلکہ کمپوز بھی کیا ہے۔ اس نغمے کی تخلیق میں ہر لفظ میں حب الوطنی کی گونج اور دشمن کے خلاف پاکستان کی طاقت کا اظہار کیا گیا ہے۔یہ نغمہ نہ صرف پاک فضائیہ کی کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پاکستانی عوام کو بھی یہ یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے ہر پاکستانی کا عزم و ہمت بلند ہے اور ملکی دفاع میں سب کا کردار اہم ہے۔

    27 فروری کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے، اور "دشمناسُن” نغمہ اس دن کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

  • ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟جسٹس مسرت ہلالی

    ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی.

    دورانِ سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے سوال کیا کہ 1962ء کے آئین کے وقت ایوب خان کا دور تھا، کیا ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟عمران خان کے وکیل عذیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ اس وقت بھی بنیادی حقوق دستیاب نہیں تھے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، ان کی سیکیورٹی کسی آرمی پرسنل کے کنٹرول میں ہو گی، جہاں ملٹری کی شمولیت ہو وہاں ملٹری کورٹ شامل ہو گی،وکیل عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ 103 افراد ایسے ہیں جن کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو رہا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے کہا کہ میڈیا پر ہم نے فوٹیجز دیکھی ہیں۔

    وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کیس میں عدالت نے طے کرنا ہے کہ قانون کو کس حد تک وسعت دی جا سکتی ہے؟ 21 ویں آئینی ترمیم کے باوجود عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص حالات کے سبب ترمیم لائی گئی، آرمی ایکٹ کا سویلین پر اطلاق کرنے کے لیے آئینی تحفظ دینا پڑے گا۔

  • ضلع خیبر کے علاقے باغ میں 10 خوارج جہنم واصل

    ضلع خیبر کے علاقے باغ میں 10 خوارج جہنم واصل

    خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باغ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 10 خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ آپریشن 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے خوارج کے ٹھکانے کی نشاندہی کی اور ان کے خلاف کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 10 دہشت گرد مارے گئے۔ اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ طریقے سے اپنے اہداف کو حاصل کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، علاقے میں موجود باقی خوارج کے خلاف کلیئرنس آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اپنے مشن میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام کی حفاظت اور امن و امان قائم رکھنا ہے۔

  • پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی تقریب کا انعقاد باکو میں ہوا۔ اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے شرکت کی۔

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان ایل این جی کی خرید و فروخت کے فریم ورک معاہدے میں ترمیمی معاہدہ ہوا۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ آئل کمپنی آذربائیجان اور ایف ڈبلیو او کے درمیان مچلکے ٹھلیاں وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ آئل کمپنی آذربائیجان اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

    آذربائیجان کے شہر نض چیوان اور پاکستان کے شہر لاہور کے درمیان ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی کامیابیوں پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے بہت سے مواقع موجود ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں اور پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات نئے عروج پر ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے ایک ماہ میں حتمی شکل اختیار کر لیں گے اور اپریل میں 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر اسلام آباد میں دستخط ہوں گے۔

    آذربائیجان کے صدارتی محل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وفاقی وزراء اسحاق ڈار، عطاء اللہ تارڑ، جام کمال، عبدالعلیم خان، چوہدری سالک حسین اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

  • ایسا کوئی بہادر وزیراعظم نہیں آیا جس نے 5 سال مکمل کیے ہوں،جسٹس مسرت ہلالی

    ایسا کوئی بہادر وزیراعظم نہیں آیا جس نے 5 سال مکمل کیے ہوں،جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کیس میں آئینی بینچ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ بنانے کامقصد کیا تھا یہ سمجھ آجائے تو آدھا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی جس دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے۔وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کالعدم ہوگیا تو بھی انسداد دہشتگردی کا قانون موجود ہے، ایک سے زائد فورمز موجود ہوں تو دیکھنا ہوگا کہ ملزم کے بنیادی حقوق کاتحفظ کہاں یقینی ہوگا، آئین کا آرٹیکل 245 فوج کو عدالتی اختیارات نہیں دیتا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا، کیا کورٹ مارشل عدالتی کارروائی نہیں ہوتا ؟ عزیر بھنڈاری نے جواب دیاکورٹ مارشل عدالتی اختیار ہوتا ہے لیکن صرف فوجی اہلکاروں کے لیے سویلینز کے لیے نہیں۔

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ سویلینز کی ایک کیٹیگری بھی آرمی ایکٹ کے زمرے میں آتی ہے، یہ تفریق کیسےہوگی کہ کونسا سویلین آرمی ایکٹ میں آتا ہے اور کون نہیں؟جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے آئین میں فوج کو دو طرح کے اختیارات دیے گئے ہیں، ایک اختیار دفاع کا ہے اور دوسرا سول حکومت کی مدد کرنے کا۔جسٹس امین الدین نے کہا آرٹیکل 245 والی دلیل مان لیں تو فوج اپنے اداروں کا دفاع کیسے کرے گی ؟ جی ایچ کیو پر حملہ ہو تو کیا آرٹیکل245 کےنوٹیفیکیشن کا انتظار کیا جائے گا ؟عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کوئی گولیاں چلا رہا ہو تو دفاع کے لیے کسی کی اجازت نہیں لینا پڑتی، جب حملہ ہو تو پولیس اور فوج سمیت تمام ادارے حرکت میں آتے ہیں، سپریم کورٹ ماضی میں لیاقت حسین کیس میں یہ نکتہ طے کرچکی ہے، عدالت قرار دے چکی فوج اگرکسی حملہ آورکوگرفتار کرےگی تو سول حکام کےحوالے کیاجائے گا، فوج پکڑے گئے بندے کے حوالے سے سول حکام کی معاونت ضرور کرسکتی ہے۔

    جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا اگر فوجی اورسویلین مل کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کریں توٹرائل کہاں ہوگا؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت میں ہی ہوگا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ بنانے کا مقصد کیا تھا یہ سمجھ آجائے تو آدھا مسئلہ حل ہوجائے گا، آئین میں اس کو واضح لکھا ہے کہ آرمڈ فورسز سے متعلقہ قانون، ہے، سویلین آفیسر کے خلاف تادیبی کارروائی میں سزا کا اختیار نہیں دیا گیا، ملٹری کورٹ میں سزا کا اختیار دیا گیا ہے، آرمی آفیسر چھٹی پر جرم سرزد کرے تو ٹرائل کہاں ہوگا؟ کیا ملٹری کورٹ کا اختیار بہت وسیع ہے یا محدود ہے؟ کراچی میں رینجرز اہلکاروں کاٹرائل سول کورٹ میں ہوا۔
    جسٹس مندوخیل ریمارکس دیے کہ آئین پارلیمنٹ بناتی ہے،قانون سازی آئین کے مطابق ہی ہو سکتی ہے، کوئی قانون جو آئین سے مطابقت نہ رکھے نہیں بنایا جاسکتا، ہمارا المیہ یہی ہےکہ قانون کو سیاست کی نذر کردیا جاتاہے۔

    جسٹس مندوخیل نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے بھارت میں کورٹ مارشل کے لیے الگ فورم کی بات کی تھی، اس پر جسٹس علی مظہر نے کہا کہ میری نظرمیں سلمان اکرم راجہ کا موقف مختلف تھا، جسٹس مندوخیل نے کہا عدالت دلائل کی پابند نہیں، آئین کے مطابق خود بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کیا پارلیمنٹ پر حملہ ہوتو پارلیمنٹ ٹرائل کے لیے الگ عدالت بنائے گی؟ ایگزیکٹو اور عدلیہ کو آئین میں الگ الگ رکھا گیا ہے، ملٹری ٹرائل میں شکایت کنندہ خود ایگزیکٹو ہوتی ہے، کیا شکایت کنندہ اپنے معاملے کا جج ہو سکتا ہے۔ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگر آرمی ایکٹ میں سویلین کےملٹری ٹرائل کی اجازت دی گئی توکل مزید جرائم آرمی ایکٹ میں شامل ہوجائیں گے، جسٹس امین الدین نے کہا آپ آرٹیکل 245 کی دلیل دے رہے ہیں، وہ معاملہ ہی الگ ہے، جسٹس علی مظہر نے کہا آرٹیکل 245کےتحت فوج بلانے کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ عدالتیں چلانےکا اختیار بھی دے دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کیا پرائم منسٹرکے آرڈر کو ہم کالعدم قرار دے سکتے ہیں؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا عدالت ایسا کرسکتی ہے۔جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے ویسے آج تک کسی وزیراعظم نے 5 سال مکمل نہیں کیے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا ایسا کوئی بہادر وزیراعظم نہیں آیا جس نے 5 سال مکمل کیے ہوں، جسٹس مندوخیل نے کہا ہم نے فوجی آمروں کو توثیق بھی دی۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سیویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت تاحال جاری ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کی ڈیرہ اسمعٰیل خان میں کارروائیاں، 7 خارجی دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی ڈیرہ اسمعٰیل خان میں کارروائیاں، 7 خارجی دہشتگرد ہلاک

    0سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمعٰیل خان میں 2 کارروائیاں کرتے ہوئے 7 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ڈیرہ اسمعٰیل خان میں 2 آپریشن کیے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے درابن کے علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا، فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دوسری کارروائی مدی کے علاقے میں کی، جہاں مؤثر آپریشن میں تین خارجی دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔واضح رہے کہ 21 فروری کو سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں کارروائی کرتے ہوئے 6 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 21 فروری کو کرک میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا تھا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 6 خارجی دہشت گرد مارے گئے تھے۔

    لبنان:شہیدحسن نصر اللہ کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

    چیمپئنز ٹرافی: 242 رنز کے تعاقب میں بھارت کی پوزیشن مستحکم

    چیمپئنز ٹرافی: ون ڈے کرکٹ کے کئی ریکارڈز ویرات کوہلی کے نام

    سری لنکا میں خوفناک حادثہ ،ٹرین کی ٹکر سے 6 ہاتھی ہلاک

  • اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کے موقع پر ایک مختصر تقریب کا انعقاد باغی ٹی وی کے آفس میں کیا گیا جس میں بانی اپووا ایم ایم علی کو ان کی ادبی خدمات پر خصوصی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔

    تقریب میں سنئیر صحافی و تجزیہ نگار اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان اور سنئیر تجزیہ نگار پی جے میر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور اپووا کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔مبشر لقمان نے اس موقع پر اپووا کو ایک بہترین ادبی تنظیم قرار دیا اور کہا کہ "جس جانفشانی سے آپ لوگ فروغ ادب کے لیے کام کر رہے ہیں وہ قابل تحسین ہے”۔ انہوں نے اپووا کے سیالکوٹ میں منعقدہ شاندار کانفرنس کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ اس کامیاب ایونٹ پر اپووا کے وفد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مبشر لقمان نے سوال کیا کہ "اب آگے کا کیا پلان ہے؟ آپ لوگ اگلی کانفرنس کہاں منعقد کریں گے؟” جس پر بانی اپووا ایم ایم علی نے جواب دیا کہ "ہمارا ارادہ ہے کہ اگلی کانفرنس پشاور میں ہو۔”

    مبشر لقمان کے ساتھ اس طویل نشست میں مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی، جس میں انہوں نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے ہائی ٹی کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں اپووا کے مختلف عہدیداران نے شرکت کی، جن میں اپووا کی لیگل ایڈوئزر سعدیہ ہما شیخ، جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول، کنونیر ساجدہ اصغر، پریس سیکرٹری نبیلہ اکبر، کینیڈا سے آئی ہوئی اپووا کی ممبر مبشرہ، اور اپووا کے دیگر عہدیداران شامل تھے جن میں اظہر حسین بھٹی، حافظ محمد معاویہ، اویس چوہدری، نادر فہمی، سجاد علی بھنڈر، احمد خان، طلال صدیقی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

    اس محفل میں ادبی خدمات کو سراہا گیا اور آئندہ کے منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ اس تقریب کا مقصد اپووا کے عہدیداروں کی محنت اور ادب کے فروغ میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنا تھا۔

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    ننکانہ صاحب: باغی ٹی وی کے نمائندے کو بابا گورو نانک یونیورسٹی کی جانب سے ایوارڈ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، نمایاں صحافتی خدمات پر سرٹیفکیٹ تقسیم

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب