Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزارت دفاعی پیداوار کے زیر اہتمام دفاعی برآمدات کے موضوع پر سیمینار

    وزارت دفاعی پیداوار کے زیر اہتمام دفاعی برآمدات کے موضوع پر سیمینار

    ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں وزارت دفاعی پیداوار کے زیر اہتمام دفاعی برآمدات کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار میں دفاعی صنعتی شراکت داروں، برآمد کنندگان، اور دیگر متعلقہ شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

    سیمینار کے مہمانِ خصوصی سیکرٹری وزارت دفاعی پیداوار، لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد چراغ حیدر تھے، جبکہ ڈی جی ایم پی، ریئر ایڈمرل میاں ذاکر اللہ جان نے دفاعی صنعت کی صلاحیتوں اور عالمی مارکیٹ میں اس کی پوزیشن پر تفصیلی بریفنگ دی۔اس سیمینار میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندگان، ماہرینِ تعلیم، اور دفاعی صنعت کے دیگر اہم شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دفاعی برآمدات کے چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے پالیسی اقدامات اور سہولتوں کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔

    سیکرٹری وزارت دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد چراغ حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی دفاعی صنعت کا قیام خود انحصاری کے حصول کے مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی صنعت نہ صرف قومی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ خود انحصاری کی بدولت پاکستان کو زرمبادلہ بھی حاصل ہو رہا ہے۔نہوں نے کہا کہ پاکستانی دفاعی صنعت مکمل طور پر مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اب بیرونی خریداروں کی ضروریات کو بھی پورا کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ وزارت دفاعی پیداوار دفاعی صنعت کو خود انحصار اور خود کفیل بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) چراغ حیدر نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی برآمدات میں اضافے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ درآمدات میں کمی آئے گی اور زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ حکومت پبلک اور پرائیویٹ دفاعی صنعتی شعبے کی مکمل معاونت کرے گی۔

    سیمینار کے شرکاء نے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور دفاعی صنعت کے فروغ میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے ساتھ ہی شرکاء نے حکومت سے پالیسی اقدامات اور مزید سہولتوں کی فراہمی کے لیے مطالبہ کیا تاکہ دفاعی صنعت کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستانی دفاعی صنعت عالمی مارکیٹ میں مزید مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وزارت دفاعی پیداوار اس کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔

    اس سیمینار میں تمام شرکاء نے مشترکہ کوششوں سے دفاعی صنعت کے فروغ کے لیے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ دفاعی صنعت اپنے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں اور سہولتوں کے ذریعے پاکستانی دفاعی صنعت عالمی سطح پر مزید کامیاب ہو سکتی ہے۔

  • سپریم کورٹ،نومئی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلیے درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،نومئی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلیے درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ نے نو مئی پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے پی ٹی آئی کی درخواست غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    ایڈووکیٹ حامد خان نے دلائل دیئے اور کہا کہ 9 مئی کے واقعہ کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔9 مئی کے ملزمان کو کس انداز سے پراسیکیوٹ کیا جا رہا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنائے۔آپ نے درخواست میں لکھا ہے 9 مئی کو درجنوں لوگ مارے گئے۔کسی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ درخواست کیساتھ نہیں لگایا گیا۔حامد خان نے کہا کہ انکوائری جوڈیشل کمیشن کرے گا تو اموات کا پتہ چلے گا۔جسٹس حسن اظہر رضوری نے کہا کہ ایک سرٹیفکیٹ یا ایف آئی آر کا کاپی تو لگا سکتے تھے۔

    سپریم کورٹ، نومئی ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    سپریم کورٹ ،نو اور دس مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عالیہ حمزہ اور شہریار آفریدی و دیگر کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی،پنجاب حکومت نے رپورٹ جمع کروانے کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا،عدالت نے کیس سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی

    8 فروری انتخابات دھاندلی کیس، درخواستوں کو نمبر لگانے کی استدعا مسترد
    علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور شیر افضل مروت کی 8 فروری انتخابات دھاندلی کیس درخواستوں کو نمبر لگانے کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے کیس کے میرٹ پر وکلاء کو بھی تیاری کرنے کی مہلت دیدی،وکیل حامد خان اور ریاض حنیف راہی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے درخواست کو نمبر لگا دیں۔ہماری آج صرف چمبر اپیل سماعت کیلئے مقرر ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ کیس پر میرٹ پر دلائل دیں سن لیتے ہیں۔ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کیس کو نمبر لگائیں اور میرٹ پر تیاری کا وقت دیدیں۔عدالت نے اعتراضات ختم کرکے نمبر لگانے کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

  • اسرائیلی فوج نےحماس کے حملے میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کر لیا

    اسرائیلی فوج نےحماس کے حملے میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کر لیا

    اسرائیلی فوج نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے پر اپنی تحقیقات کی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق فوج اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اسرائیلی فوج کا غزہ ڈویژن پسپا ہوگیا تھا،حماس نے 3 مرحلوں میں حملہ کیا،فلسطینی جنگجوؤں نے علاقے کی آبادیوں اور سڑکوں کا کنٹرول حاصل کرلیاتھا۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 5ہزار افراد حملے کے دوران غزہ سے اسرائیلی سرحد کے اندر داخل ہوئے۔دوسری جانب موساد چیف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ایجنٹس نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 والے حملے سے پہلے لبنان میں پیجر اسمگل کیے۔

    موساد چیف کے مطابق ایجنٹس نے حزب اللہ کو نقصان پہنچانے کے لیے 500 پیجرز کی پہلی کھیپ 7 اکتوبر سے پہلے لبنان پہنچائی تھی، گزشتہ سال 17 ستمبر کو لبنان بھر میں ہزاروں پیجر ڈیوائسز ایک ساتھ پھٹیں۔پیجر دھماکے کا نشانہ حزب اللہ کے جنگجو اور اراکین تھے،یہ واقعات ایک وسیع اسرائیلی انٹیلیجنس آپریشن کا حصہ تھے،پیجر حملہ کامیاب رہا جس میں ہزاروں پیجرز اور واکی ٹاکی پھٹے۔یاد رہے گزشتہ سال لبنان میں پیجر دھماکے میں 51 افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

    آرٹیفشل انٹیلی جنس ، تصوراتی گرل فرینڈ نے لاکھوں کا چونا لگا دیا

    ایک اور امریکی اداکارہ کی لاش گھر سے برآمد

    ایک اور امریکی اداکارہ کی لاش گھر سے برآمد

    انڈونیشیا : ہم جنس پرستی پر 2 افراد کو سر عام کوڑے مارے گئے

    امریکی کمپنی نے اڑنے والی کار کی کامیاب آزمائش کر لی

    مسلم لیگ ن نے سیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

  • صدر مملکت سے ابوظہبی کے ولی عہد کی  ملاقات، نشان پاکستان کا اعزاز

    صدر مملکت سے ابوظہبی کے ولی عہد کی ملاقات، نشان پاکستان کا اعزاز

    صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد زید النہیان کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے نواز دیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف، وفاقی وزرا، اعلٰی حکام شریک تھے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالدبن محمد زیدالنہیان کو ایوان صدر میں نشان پاکستان دینے کی تقریب منعقد ہوئی، صدرِ آصف زرداری نے شیخ خالد بن محمد زید النہیان کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے نواز دیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف ، وفاقی وزرا سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔شیخ خالد بن محمدزید النہیان کو نشان پاکستان دینے کی تقریب میں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے علاوہ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پی پی بلاول بھٹوبھی موجود تھے۔

    اس سے قبل ابوظہبی کے ولی عہد پرنس شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان اسلام آباد پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال کیا۔ شہباز شریف نے مہمان کی چھتری اپنے ہاتھ میں تھام لی۔ وزیراعظم ہاؤس میں معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔وزرا، اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل وفد ولی عہد کے ہمراہ تھے۔ معززمہمان کو گلدستے بھی پیش کیے گئے۔نورخان ایئربیس پرابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کا والہانہ استقبال کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی معزز مہمان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

    ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالدبن ولید بن محمد بن زیدالنہیان کی وزیراعظم ہاؤس آمد پروزیراعظم نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستان اور یواے کی درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم اورابوظبی کے ولی عہد شریک تھے۔

    یوکرین جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے کوئی ثبوت نہیں ملے، روس

    بھارت میں امیر مزید امیر غریبوں کی حالت خراب ہوگئی، رپورٹ

    دو دن میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی

    چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر.تحریر:ملک محمد سلمان

  • نواز شریف سیاسی میدان میں دوبارہ سرگرم،عید کے بعد جلسوں کا فیصلہ

    نواز شریف سیاسی میدان میں دوبارہ سرگرم،عید کے بعد جلسوں کا فیصلہ

    مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے سیاسی میدان میں اپنی دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور پارٹی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پارٹی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل اور صوبائی سطح پر مسلم لیگ ن کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔

    میاں نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی، جن میں سیکریٹری جنرل احسن اقبال، انجئینئر امیر مقام، انوشہ رحمٰن اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر شامل تھے۔ اس ملاقات میں مسلم لیگ ن کے داخلی امور، آئندہ انتخابات کی حکمت عملی اور عوامی رابطہ مہم پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نے نارووال میں حالیہ کامیاب جلسے کی تعریف کی اور پارٹی کو مزید فعال کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران احسن اقبال نے میاں نواز شریف کو پارٹی کے اہم امور پر بریفنگ دی اور عید کے بعد مختلف شہروں میں مزید جلسوں کے انعقاد پر مشاورت کی گئی۔

    ملاقاتوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما پارٹی کو عوام تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کریں اور پارٹی کی ساکھ کو مزید مستحکم کریں۔ عید کے بعد مختلف شہروں میں جلسوں کے انعقاد کی تجویز پر بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی تاکہ پارٹی کا پیغام زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچایا جا سکے اور آئندہ سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔میاں نواز شریف کی اس سیاسی سرگرمی نے نہ صرف مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو ایک نئی امید دی ہے بلکہ پارٹی کے حامیوں کے درمیان بھی جوش و جذبہ پیدا کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ ن کی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ اپنے آپ کو ملک کی سیاست میں مزید مستحکم کرے اور عوامی حمایت حاصل کرے۔

    تصاویر،ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالدبن محمد بن زیدالنہیان کا دورہ پاکستان

    ایک ماہ میں امریکی فوج سے ٹرانسجینڈر فارغ کرنیکا حکم

    6 ملکوں سے مزید 67 پاکستانی ڈی پورٹ، 5 گرفتار

  • وفاقی کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت، حلف برداری کی تقریب

    وفاقی کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت، حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ میں نئے وزراء کو شامل کرلیا گیا ہے جنہوں نے ایوان صدر میں منعقد ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔

    حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے نئے وزراء سے حلف لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔نئے وزراء نے بطور وفاقی وزیر اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا، جن میں حنیف عباسی، معین وٹو، مصطفیٰ کمال، اور سردار یوسف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اورنگزیب کچھی، رانا مبشر، رضا حیات ہراج، اور طارق فضل چوہدری نے بھی بطور وفاقی وزیر حلف اٹھایا۔علی پرویز ملک، شزا فاطمہ، جنید انور، خالد مگسی اور پیر عمران شاہ نے بھی وفاقی وزراء کے طور پر حلف لیا۔

    اس کے ساتھ ہی طلال چوہدری، بیرسٹر عقیل ملک، ملک رشید، ارمغان سبحانی، کھیئل داس کوہستانی، عبدالرحمان کانجو، بلال اظہر کیانی اور مختار بھرت نے بطور وزیر مملکت حلف اٹھایا۔ مزید برآں، شزرا منصب، عون چوہدری اور وجیہہ قمر نے بھی بطور وزیر مملکت حلف اٹھایا۔

    تیرہ نئے وفاقی وزیر، گیارہ وزرائے مملکت اور تین نئے مشیروں نے حلف لیا،محمد علی، سید توقیر شاہ اور پرویز خٹک کو ایڈوائزر بنایا گیا ہے

  • ابو ظبی کے ولی عہدپاکستان پہنچ گئے

    ابو ظبی کے ولی عہدپاکستان پہنچ گئے

    ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد زاید النہیان کا پاکستان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل رہا، جس دوران متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے۔ اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی راہیں ہموار کی ہیں۔

    شیخ خالد بن محمد زاید النہیان کی اسلام آباد آمد پر صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، آصفہ بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچنے پر ابوظبی کے ولی عہد کو باقاعدہ طور پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کی دوستانہ تعلقات کی گہرائی کا اظہار ہوا۔اس تاریخی دورے کے دوران کئی اہم معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پائیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کان کنی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کو اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ اسی طرح، ریلوے کے شعبے میں دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل کی سہولتیں مزید بہتر ہوں گی۔پاکستان اور یو اے ای کے درمیان انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے لئے دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا، جس سے پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مدد ملے گی۔

    ابوظبی کے ولی عہد کی آمد کے دوران ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں صدر آصف زرداری نے ولی عہد کو پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز "نشانِ پاکستان” پیش کیا۔ یہ اعزاز ولی عہد کی پاکستان کے لیے خدمات اور دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کا اعتراف تھا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی تقریب میں شریک تھے، جو پاکستان کے دفاعی اور اقتصادی تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ولی عہد شیخ خالد بن محمد زاید النہیان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی، اقتصادی، اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یو اے ای پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی بنیاد کو مستحکم کرنے کا باعث بنا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ روابط کو بھی فروغ دے گا۔

  • حساس ڈیٹا لیک،بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سُچندرا کمار کیخلاف تحقیقات

    حساس ڈیٹا لیک،بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سُچندرا کمار کیخلاف تحقیقات

    بھارتی فوج کی شمالی کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سُچندرا کمار کے خلاف اعلیٰ سطح تحقیقات شروع

    بھارتی فوج کی شمالی کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سُچندرا کمار کے خلاف انتہائی حساس معلومات کے لیک ہونے کے الزام میں اعلیٰ سطح کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف (اسٹریٹجی) کے طور پر اپنی خدمات کے دوران بھارتی فوج کے اہم رازوں اور حساس ڈیٹا کا افشا کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارتی فوج کے سربراہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے 6 ہفتوں کی مدت مقرر کی ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ آیا ایسی معلومات کا لیک ہونا حقیقت ہے یا نہیں۔ ان تحقیقات کا مقصد فوج کے اندر سیکیورٹی اور معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر ایسی معلومات جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔

    لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سُچندرا کمار نے فروری 2024 میں لیفٹیننٹ جنرل اوپیندرا دیودی کی آرمی ہیڈ کوارٹرز میں نائب آرمی چیف کے طور پر تعیناتی کے بعد شمالی کمانڈ کی کمان سنبھالی تھی۔ اس سے قبل، وہ بھارتی فوج کے وائٹ نائٹ کور کے کمانڈر اور ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف (اسٹریٹجی) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل سُچندرا کمار نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کھڑکواڑلا کے فارغ التحصیل ہیں اور انہیں آتی وشیشت سیوا میڈل، یودھ سیوا میڈل اور وشیشت سیوا میڈل جیسے اعلیٰ فوجی اعزازات مل چکے ہیں۔

    بھارتی فوج کی اس تحقیقاتی کارروائی کا مقصد سیکیورٹی کے سخت ترین نظام کو برقرار رکھنا ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ حساس معلومات کا کسی بھی طرح سے افشا نہ ہو، جو نہ صرف فوج کے اندر بلکہ ملک کی قومی سلامتی کے لیے بھی خطرے کا سبب بن سکتی ہو۔

  • آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 برس، وزیراعظم کا افواج پاکستان  کو خراج تحسین

    آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 برس، وزیراعظم کا افواج پاکستان کو خراج تحسین

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 برس مکمل ہونے کے موقع پر افواج پاکستان کی جرات و بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانی کے جذبے کو خراج تحسین کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ آج سے 6 برس قبل 27 فروری 2019 کو پاکستان ائیر فورس کی جانب سے دشمن کو ایک واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی خطے میں جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ہماری افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے ہمارے جوان ہر دم تیار ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاکستان ائیر فورس نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور وطن سے حفاظت کے غیر متزلزل عزم سے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ افواج پاکستان ملکی سلامتی کے لیے کسی بھی طرح کی جارحیت کے مقابلے کی بھرپور صلاحیت و قابلیت رکھتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان وطن عزیز کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے، افواج پاکستان کی ملک کی حفاظت کی خاطر عظیم قربانیاں ہیں جسے پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے لیکن جب کبھی پاکستان کی قومی سلامتی اور استحکام پر ضرب لگانے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہوگئی۔

    پاکستان میں جاری چیمپئنز ٹرافی میں سنچریوں کا نیا ریکارڈ قائم

    واٹس ایپ پر وائس نوٹ کو تحریر میں تبدیل کرنے کا طریقہ جانیے

    رمضان میں ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے 300بڑے ڈیفالٹرز کی فہرستیں طلب کرلیں

    وزارت داخلہ کو ملی ضمنی گرانٹ منظوری کے بغیر دی گئی

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔سپریم کورٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے خلاف 5 رکنی بینچ کا ایک نہیں 3 فیصلے ہیں، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلے لکھے، تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا، فیصلے یکساں اور وجوہات مختلف ہوں تو تمام وجوہات فیصلہ کا حصہ تصور ہوتی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تمام 5 ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عذیر بھنڈاری نے انٹرا کورٹ اپیل کا دائرہ اختیار محدود ہونے کا مؤقف اپنایا، ان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا، عذیر بھنڈاری کا انحصار پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور کے نوٹ پر تھا۔جسٹس محمد علی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اپیل کا دائرہ محدود کر دیا تو ہماری کئی اپیلیں بھی خارج ہو جائیں گی۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ فیصلہ دینے والا بینچ ہی نظرِ ثانی اپیل سنتا ہے جبکہ انٹرا کورٹ اپیل لارجر بینچ سنتا ہے، لارجر بینچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا ہے اس لیے پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔