Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف  کا ایس آئی ایف سی کے گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کا دورہ

    آرمی چیف کا ایس آئی ایف سی کے گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کا دورہ

    آرمی چیف اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران نے ایس آئی ایف سی کے گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کا دور ہ کیا ہے.

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ،وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ دیگر وفاقی اور صوبائی وزراء اور زرعی شعبے سے متعلق افسران نے گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی ) کا دورہ کیا ہے،وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے "سمارٹ ایگری فارم”، "گرین ایگری مالز” اور "ایگری ریسرچ سہولت سنٹر” کا باقاعدہ افتتاح کیا.دورے کے دوران شرکاء کو زرعی شعبے کی ترقی کے لیے استعمال ہونے والی جدید زرعی مشینری کا معائنہ بھی کرایا گیا .

    کسانوں کو مہنگی مشینری خریدنے کی بجائے آسان کرائے پر مشینری حاصل کر نے کے مواقع میسرہوں گے .جدید آبپاشی کے نظام کے قیام کے لیے پنجاب بھر میں 25 "گرین ایگری مال” تیار کر لیا گیا. سال کے اختتام تک ملک بھر میں 250 "گرین ایگری مال” کی تکمیل متوقع ہے،عام کسانوں کی تربیت کے لئے "سمارٹ ایگری فارم” کا قیام ، ملک کی 95 فیصد زراعت کی ترقی کا ضامن ہے،آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے جی پی آئی کی کاکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا.

    اس طرح کے اقدامات پاکستان کی زرعی ترقی میں ایک نیا انقلاب لائیں گے، جس سے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی اور ملک کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

  • سپریم کورٹ میں 6 نئے ججز نے حلف اٹھا لیا

    سپریم کورٹ میں 6 نئے ججز نے حلف اٹھا لیا

    سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے 6 نئے ججز نے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی نے ان نئے ججز سے عہدے کا حلف لیا۔ ان ججز میں جسٹس عامر فاروق، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس شکیل احمد، جسٹس شفیع صدیقی، اور جسٹس صلاح الدین پنہور شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بھی ایکٹنگ جج کے طور پر سپریم کورٹ میں حلف اٹھایا۔ چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی نے ان سے بھی حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محسن اختر کیانی، اٹارنی جنرل، وکلا، لاء افسران اور عدالتی اسٹاف نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں 6 ججز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔ اس اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے اجلاس کی کارروائی نہ روکنے پر بائیکاٹ کیا، جب کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

    جوڈیشل کمیشن نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے ناموں کی منظوری دی تھی۔ اس کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور اور پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد کو بھی سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دی تھی۔

  • پاکستان اور ترکیہ کی دوستی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،وزیراعظم

    پاکستان اور ترکیہ کی دوستی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے پاک ترکیہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ترکیہ 5 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کے ہدف کے لیے پرعزم ہیں، ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کے لیے سہولیات دی جائیں گی-

    باغی ٹی وی :اسلام آباد میں پاکستان ترکیہ بزنس فورم کا انعقاد ہوا، جس میں وزیراعظم شہبازشریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو خوش آمدید کہتا ہوں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بردرانہ تعلقات قائم ہیں، آج کا دن بہت اہم ہے، پاک ترک تعلقات سے متعلق متعدد میٹنگز کیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، رجب طیب اردوان مسلم امہ کی آواز ہیں، ترک صدر نے ہمیشہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھائی،دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب ڈالر کے تجارتی حجم کے ہدف کے لیے پرعزم ہیں-

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکیے اور پاکستان نے آج مختلف شعبوں میں معاہدے کیے، آج کا ترکیے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تبدیل ہوچکا ہے، ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کے لیے سہولیات دی جائیں گی پاکستان اور ترکیہ کی دوستی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے، ترکیے کی معیشت جدید تقاضوں پر استوار ہے، پاکستان ترک صدر رجب طیب اردوان کا دوسرا گھر ہے۔

    خطے میں امن اور ترقی کے لیے مل کر کردار ادا کرنا ہوگا،ترک صدر

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیے کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا، اسلام آباد، تہران، استنبول کے درمیان تجارت کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے اقتصادی راہداری منصوبہ تجارت کے فروغ کے لیے اہم ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، مستقبل میں بہترین حکمت عملی سے آگے بڑھا جاسکتا ہے، پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے، اسرائیل نے غزہ میں مظالم کی انتہا کردی ہے، فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، اسرائیلی بمباری سے ہزاروں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں فلسطینی عوام کو مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتافلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے خطے میں امن اور ترقی کے لیے مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، قوم کو بہتر مستقبل کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی، تاجر برادری کو بہترمواقع کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔

    خطاب کے اختتام پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر پاکستانی بہن بھائیوں کے مشکور ہیں۔

  • لائن آف کنٹرول پر بھارتی تخریبی کاروائیاں بے نقاب

    لائن آف کنٹرول پر بھارتی تخریبی کاروائیاں بے نقاب

    بھارتی فوج اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پرامن علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر نہتے شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ اور تخریبی سرگرمیوں کی تاریخ پرانی ہے، بھارت کی جانب سے ایل او سی پر آئی ای ڈیز(دھماکہ خیز مواد) کی نقل و حمل اور استعمال کے ذریعے تخریب کاری کی کوشش کی جا رہی ہے،شواہد کے مطابق 2016 ء کے بعد سے ایل او سی پر بھارت کی طرف سے آئی ای ڈیز لگانے کے 54 واقعات سامنے آئے، چکوٹھی، نیزا پیر، چیریکوٹ، رکھ چکری، دیوا، بٹل، کوٹ کوٹیرہ اور دیگر علاقوں میں بھارتی آئی ای ڈیز ملنے اور پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا،ان بھارتی آئی ای ڈیز دھماکوں کے نتیجے میں اب تک متعدد معصوم شہری زخمی اور شہید ہو چکے ہیں، طویل عرصے سے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بھارت کی ان تخریبی سرگرمیوں میں بھارتی آئی ای ڈیز،ہتھیار اورمنشیات کی نقل و حمل باغ، بٹل، دیوا اور دیگر علاقوں میں کی جا رہی ہے،

    4 تا 6 فروری 2025ء کے دوران بٹل سیکٹر اور راولاکوٹ کے علاقے میں 4 بھارتی آئی ای ڈیز برآمد ہوئیں جبکہ دھماکے سے ایک شہری شہید ہوا، 12 فروری 2025 کو بھارتی فوج نے دیوا اور باگسر سیکٹر میں فائر بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں دو جوان زخمی ہوئے، پاکستان کی جانب سے پونچھ، باغ، کوٹلی، میرپور اور راولاکوٹ میں بدامنی پھیلانے اور بھارتی آئی ای ڈیز کی نقل و حمل پر بھارت سے احتجاج بھی کیاگیا،پاکستان نے ان علاقوں میں موجود اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ ان بھارتی تخریبی سرگرمیوں کے شواہد کا تبادلہ بھی کیا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی فوج پر دراندازی کے جھوٹے الزامات کیلئے فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی مقابلے کئے جاتے رہے ہیں بھارتی فوج نے متعدد افسران جن میں 3راجپوت، 12 جاٹ اور دیگریونٹس کو منشیات اور ہتھیاروں کی سمگلنگ کیلئے فوجی ذرائع استعمال کرنے پر سزائیں بھی دیں، ڈبل ایجنٹوں کے ذریعے اسلحے کی کھیپ کوبھارتی سرحدی یونٹس کیساتھ مل کر سمگل کیا جاتا ہے تاکہ ان کو پاکستانی ہتھیار ثابت کیا جائے، بھارتی فوج بعدمیں ان ڈبل ایجنٹوں کو پاکستانی ظاہر کرکے مالی انعامات کیلئے مار دیتی ہے، نومبر 2022ء میں ایک ویڈیو میں شہری نے بھارتی فوجی کو گولی مار کر ہلاک کردیا جو اسلحہ کا ذخیرہ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، بھارتی فوج میں بددلی کی وجہ سے ہر سال خود کشی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، خود کشی کے واقعات کو بھارتی فوجی تحقیقات سے بچنے کیلئے دو طرفہ فائرنگ تبادلے کا نام دے دیتی ہے،

    بھارتی فوج کے منظم ہتھکنڈے بنیادی طور پر مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں،دفاعی ماہرین
    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے دیگر ممالک میں دراندازی اور تخریبی سرگرمیاں کے ناقابل تردید شواہدکی تاریخ موجود ہے، بھارت کی جانب سے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی، آئی ڈی ایز اورہتھیاروں کی نقل و حمل خطے میں امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے، بھارتی فوج کے منظم ہتھکنڈے بنیادی طور پر مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں،بھارت مقبوضہ کشمیر میں اختلاف رائے رکھنے والوں کو قید جبکہ مقامی لوگوں کی املاک پر قبضہ کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے ،بھارت اس طرح کی حرکات کرکے دراصل مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا، اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے،بھارت کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں بدامنی پیدا کرکے عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے، بھارت کی جانب سے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں پاکستان کو اشتعال دلانے اور کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی کوشش ہے، بھارتی فوج جعلی مقابلوں سے پاکستان پر دراندازی کے بے بنیاد الزامات کے ذریعے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے،مودی کے دورہ امریکا سے قبل بھارت سازشیں کررہا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر دہشتگردی کی حمایت کرنے والا ثابت کرسکے، بھارت کے کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور آسڑیلیا میں بھی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے تخریبی سرگرمیوں کے شواہد ملے ہیں،بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کینیڈا میں ہردیب سنگھ نجر کا قتل اور امریکا میں گروپتونت سنگھ پنن کے قتل کی سازش اس سلسلے کی کڑی ہے، بھارت کو ادراک ہونا چاہیے کہ ایسی سرگرمیاں بحران کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے علاقائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، بھارت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پاکستان بھی اسی انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • ترک صدر کی وزیراعظم ہاؤس میں آمد،گارڈ آف آنر پیش

    ترک صدر کی وزیراعظم ہاؤس میں آمد،گارڈ آف آنر پیش

    پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ خاتون اول کا وزیراعظم ہاؤس میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر اور خاتون اول کا دل سے استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی پیش کیے گئے تاکہ دو طرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کو وفاقی کابینہ کے اراکین سے فرداً فرداً ملاقات کرائی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مزید مضبوط روابط قائم کیے جا سکیں۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی ترک صدر سے مصافحہ کیا۔

    ترک صدر اور ان کی اہلیہ رات گئے نور خان ائیر بیس پر پہنچے تھے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں خوش آمدید کہا۔ترک صدر کو نور خان ائیر بیس پر 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جس سے پاکستان کی طرف سے ترکیہ کے ساتھ دوستی اور تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کی اسلام آباد میں ترکیہ کی خاتون اول ایمنہ اردوان سے ملاقات
    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی اسلام آباد میں ترکیہ کی خاتون اول ایمنہ اردوان سے ملاقات ہوئی ہے،وزیراعلی مریم نواز شریف نے ترکیہ کی خاتون اول کا پرتپاک استقبال کیا،وزیراعلی مریم نواز شریف نے خاتون اول ایمنہ اردوان کا پاکستان آمد پر شکریہ ادا کیا.وزیراعلی مریم نواز شریف نے پاکستان ترکیہ پارٹنر شپ برائے سسٹین ایبلٹی کے تحت سرکلر اکانومی کی تقریب میں شرکت کی،

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امید ہے رجب طیب اردوان کا دورۂ پاکستان بہت مفید ثابت ہو گا۔ترکیہ پاکستان کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 24 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو ئے،وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے،پاک ترکیہ اسٹریٹجک تعلقات مزید مستحکم کرنے کے اعلامیے پر جبکہ سماجی و ثقافتی بنیادوں پر ملٹری اور سول پرسنیلز کے تبادلے کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔دونوں ممالک کے درمیان ایئر فورس الیکٹرانک وار فیئر اور انرجی ٹرانزیشن کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، کان کنی کے شعبے میں تعاون، ہائیڈرو کاربنز کے شعبے میں پاک ترک تعاون کے معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔صنعتی پراپرٹی میں تعاون کے علاوہ ترکیہ سیکرٹریٹ آف ڈیفنس انڈسٹریز اور وزارت دفاعی پیداوار میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ترکیہ ایرو اسپیس انڈسٹریز اور نیول ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ اور پاکستان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ایکسپورٹ کریڈٹ بینک ترکیہ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک پاکستان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جبکہ سامان کی تجارت بڑھانے کے حوالے سے مشترکہ وزارتی اسٹیٹمنٹ پر بھی دستخط کیے گئے۔حلال ایکریڈیٹیشن اتھارٹی آف ترکیہ اور پاکستان حلال اتھارٹی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جبکہ لیگل میٹرولوجی انفرا اسٹرکچر کے قیام کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔پاکستان اور ترکیہ کے درمیان میڈیا اور کمیونیکیشنز کے شعبوں میں تعاون، مذہبی خدمات اور مذہبی تعلیم کے شعبوں میں تعاون، سائینٹفک اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل ترکیہ اور این ٹی یو فیصل آباد کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں تکنیکی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔

  • پیکا ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج،بھوک ہڑتالی کیمپ

    پیکا ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج،بھوک ہڑتالی کیمپ

    پاکستان میں متنازع پیکا ترمیمی بل کے خلاف صحافیوں کا احتجاج جاری ہے۔ مختلف شہروں میں صحافیوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور بھوک ہڑتال کیمپ بھی قائم کیے ہیں۔

    اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر پی ایف یو جے (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس) اور آر آئی یو جے (راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس) نے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ پی ایف یو جے کے صدر، افضل بٹ نے اس موقع پر کہا کہ "ہم فیک نیوز اور ریگولیشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر حکومت کی نیت درست تھی تو پھر اس نے مشاورت کیوں نہیں کی؟” ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے صحافیوں کو نظرانداز کیا ہے اور ان کی آواز دبا دی ہے۔

    لاہور پریس کلب میں بھی صحافیوں نے پیکا ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کیا اور بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھا۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے اعلان کیا کہ 14 فروری کو ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں آکر اس مسئلے کو چیمپئن بناتی ہیں، لیکن جب حکومت میں آتی ہیں تو یہی قوانین نافذ کر دیتی ہیں۔”

    کراچی پریس کلب میں بھی بھوک ہڑتال کا کیمپ قائم کیا گیا، جہاں مظاہرین نے پیکا کے نفاذ کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔ پشاور پریس کلب کے باہر صحافیوں نے اپنے احتجاج میں کہا کہ "پیکا جیسا کالا قانون کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔”

    کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا اور صوبہ بھر میں اس بل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ اسی طرح حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹہ، نواب شاہ، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھل مگسی، اوستہ محمد، صحبت پور، سبی اور اسکردو سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدرافضل بٹ نے کہا ہے کہ فیک نیوز کی آڑ میں آزادی اظہار کو روکنے کی کوشش ہو رہی ہے ،حکومت کی بدنیتی نہیں تھی تو پھر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت میں کیا حرج تھی جبکہ آر آئی یو جے کے صدر طارق علی ورک نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی آمروں کا مقابلہ کیا ہے آج بھی ہم اس کالے قانون کے خلاف میدان میں ہیں ،پیکا ایکٹ بل کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    اسلام آباد راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا گیا،پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر سابق سیکرٹری جزل پی ایف یو جے ناصر زیدی صدر آر آئی یو جے طارق علی ورک سیکرٹری آصف بشیرچوہدری سیکرٹری فنانس سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی ندیم چوہدری سینئر ناہب صدر راجہ بشیر عثمانی سابق صدر آراءیوجے عامر سجاد سید اقبال خٹک عامر بٹ اظہار خان نیازی مجاہد نقوی توصیف عباسی رانا فرحان اسلم غفران چشتی اسد شیر جہانگیر منہاس شیراز گردیزی شفیق بٹ جہانگیر بلوچ صابر نقوی آفتاب عالم گل قیصر نے شرکت کی ۔

    صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ آزادی صحافت کی تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے پر آج ملک بھر کے صحافیوں کا مشکور ہوں، ہم آئین و قانون کے پابند ہیں ،ہم فیک نیوز کے مخالف ہیں ہم خود فیک نیوز سے متاثر ہورہے ہیں ،فیک نیوز کی آڑ میں آزادی اظہار کو روکنے کی کوشش ہورہی ہے اگر حکومت کی بدنیتی نہیں تھی تو پھر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے میں کیا حرج تھی،آئین و قانون بھی ہمیں کہتا ہے کہ کسی قانون کو لانے سے پہلے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاے ہم مادر پدر آزادی کے مخالف ہیں، ہم بے لگام سوشل میڈیا کے خلاف ہیں ہم حکومت کو کہتے رہے کہ ہم سے مشاورت کرکے قانون لایا جاے لیکن حکومت نے ہماری باتوں پر توجہ نہیں دی پی ایف یو جے کی تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے پریس فریڈم کی تحریک شروع ہوچکی ہے ۔ پی ایف یو جے نے آزادی اظہارکیلئے کوڑے کھانے خود گرفتاریاں پیش کی ہیں آج بھی پورے عزم کے ساتھ ہم میدان میں ہیں دہشت اور خوف پھیلانے کیلئے کوڑے لگائے گے تاکہ صحافی ڈر جاہیں اور کسی تحریک کا حصہ نہ بنیں ہماری تاریخ قربانیوں کی تاریخ ہے ہم نے مشرف کے دور میں بہتر روز تک احتجاجی کیمپ لگایا ہے ہم اپنی جنگ عدالت کے اندر بھی لڑ رہے ہیں اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو پھر ہم پارلیمنٹ کے سامنے جانے پر مجبور ہوں گے پریس فریڈم موومنٹ آزادی اظہار راے کی تحریک ہے جب پاکستان کے عام شہری سے اس سے جاننے کا حق چھینا جاتا ہے پاکستان کے عام شہری کو گونگا رکھنا ہے یہ پالیسی اب نہیں چلے گی۔

    صدر آر آئی یوجے طارق علی ورک نے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزادی اظہار کو دبانے کی ہردور میں کوشش ہوتی رہی ہے لیکن ہم نے ہر دور میں حکومتوں کے اوچھے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا ، کالے قوانین کے ذریعے صحافیوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے ،حکومت نے بہت جلد بازی میں یہ بل منظور کروایا ہے، ہم نے پہلے بھی آمروں کا مقابلہ کیا ہے آج بھی ہم اس کالے قانون کے خلاف میدان میں ہیں ہماری جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی بل کی واپسی تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

    سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ناصر زیدی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے اظہار راے کی آزادی ہم سے چھین لی گی ہے اس قانون کے نفاذ سے پوری دنیا میں ہمارا امیج بری طرح خراب ہوا ہے پاکستان ہر صحافی باشعور ہوچکا ہے اسے اپنی آزادی کا پتہ ہے اپنے حقوق کا پتہ ہے ہماری آوازوں کو کوءقید نہیں کرسکتا ورکرز کے حقوق کا تحفظ پریس کی آزادی کا تحفظ پی ایف یو جے کے دو مقاصد تھے پی ایف یو جے نے ہر دور میں پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے حکمران لالے قانون کو لاکر یہ سمجھتے ہیں کہ پریس کی آزادی کو دبا دیں گے یہ حکمرانوں کی غلط فہمی ہے ہم نے ہر امر کے غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ہم آج بھی ازدی اظہار راے کےلیے کھڑے ہیں آج کا صحافی جدوجہد کرنے والا صحافی ہے حکمران اپنا قبلہ درست کریں خلق خدا کی آواز کو سمجھیں ۔

    سیکرٹری آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ حکمران اپنی شکل کے خدو خال درست کریں نہ کہ اس کا غصہ آہینہ توڑ کر کریں پیکا جیسے کالے قانون کی منظوری ایک جمہوریت پر بدنما داغ ہے اس کالے قانون کو بہت عجلت میں منظور کروایا گیا ہے،پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے لوگوں نے اس کالے قانون کو اس طرح منظور کرکے جمہوریت کے منہ پر دھبہ لگایا ہے.

    صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک ظالمانہ جابرانہ ایکٹ ہے جسے ہم نہیں مانتے ایک جمہوری ملک میں ایسے کالے قانون کی منظوری قابل مذمت ہے آج پھر ایک مرتبہ ملکی حالات خراب کیے جارہے ہیں آزادی اظہار راے ریاست کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے صدر پی ایف یو جے حکم کریں پورے ملک سے صحافی برادری نکلے گی اور ایوانوں کا گھیراو کریں گے عامر سجاد سید نے کہا کہ پی ایف یو جے کی تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے پی ایف یو جے کی کال پر ملک بھر میں بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہیں.

    راجہ بشیر عثمانی نے کہا کہ ہم پیکا جیسے کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں اس قانون کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی جہانگیر منہاس نے کہا کہ پیکا کالا قانون ہے جسے ہم کسی طور قبول نہیں کرتے ہماری جدوجہد جارہی رہے گی تحریک ہم نے شروع کی ہے یہ تحریک منزل کے حصول تک جاری رہے گی مجاہد نقوی نے کہا کہ ہم نے اس کالے قانون کے خلاف جدوجہد کا آغاز کردیا ہے اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے چوہدری خادم نے کہا کہ ہم آزادی اظہار راے پر عاہد قدغنوں کی مذمت کرتے ہیں شیراز گردیزی نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی آزادی اظہار راے پر پابندیاں لگائی گی ہیں تو پی ایف یو جے نے اس پر بھرپور آواز اٹھاءہے ہماری جدوجہد کے نتیجے میں یہ کالا قانون ضرور ختم ہوگا محمد شکیل نے کہا کہ جمہوریت اور صحافت آپس میں جڑے ہوے ہیں پیکا کالا قانون ہے ہم اسے کسی طور قبول نہیں کریں گے یہ صرف صحافیوں کا مسلہ نہیں پورے ملک کے عوام کا مسلہ ہے جہانگیر بلوچ نے کہا کہ آزادی اظہار راے کےلیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے حکمرانوں کے یہ اقدامات قبول نہیں کریں گے اقبال خٹک نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ یہ کالا قانون نہ صرف صحافیوں کے خلاف ہے بلکہ پورے ملک کے عوام کے خلاف ہے بانی پاکستان قاہد اعظم نے نظریے کے خلاف ہے ان کالے قانون کے خلاف متحدہ فرنٹ بنانے کی ضرورت ہے جسے پی ایف یو جے لیڈ کرے عدنان شمسی نے کہا کہ ار آءیوجے کو اس کالے قانون کے خلاف آواز اٹھانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ہر دور میں صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گی ہے صابر نقوی نے کہا کہ ہم ار آءیوجے کی جدوجہد کے ساتھ ہیں

    آفتاب عالم نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ارادہ کی طرف سے ہم آج کے بھول ہڑتالی کیمپ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ہم اس کالے قانون کو نہیں مانتے یہ قانون ہمیں 1960 میں دوبارہ لےگیا ہے آزادی اظہار کو ہم سے چھین لیا گیا ہے پیکا کے قانون میں عدلیہ سے اختیار لے کر انتظامیہ کو دے دیا گیا ہے مبہم تعریفوں میں الجھا دیا گیا ہے اس کی تعریف بھی انتظامیہ کرے گی اپیل کا حق چھین لیا گیا ہے یہ قانون کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اس کالے قانون کو مکمل طور پر ہٹانے کی ضرورت ہے اگر کسی قانون کی ضرورت ہے تو پھر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قانون لایا جاے سلطان احمد نے کہا کہ حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے حکومت کو اپنا قبلہ درست کرے

    افشاں قریشی نے کہا کہ ار آئی یوجے کے اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک تمام شرکا کے مشکور ہیں سہیل مہدی نے کہا کہ طاقتور ہمیشہ آزادی کی آواز کو دباتے ہیں صحافیوں پر پابندی طلباءیونین پر پابندی لگاءگی تھی یہ عام آدمی کی آزادی کی لڑاءہے سحریش قریشی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ یہ فسطائی حکومت کالے قانون کے ذریعے آزادی اظہار کا راستہ روکنے کی سازش ہے. جی بی کے سپیکر محمد کاظم سابق صدر ٓار آئی یو جے مبارک زیب اعجاز عباسی بشیر راجہ جعفر بلتی شاہ محمد نزیر چرن سدھیر کیانی ممبران ایگزیکٹو باڈی آر آئی یو جے علی اختر نوابزادہ شاہ علی صوبیہ مشرف شاہد اجمل ملک راشد خرم ملک طاہر شاہ خواجہ کاشف میر مدثر چوہدری منصور ظفر راجہ شوکت کمال ملک سہیل خالد گردیزی سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

  • ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے دو روزہ دورے پر پہنچ گئے

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر کا نور خان ایئر بیس پر شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر ترکی کے صدر کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو ایک روایتی فوجی اعزاز ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول کے بچوں نے روایتی لباس میں ملبوس ہو کر ترک صدر کا خیرمقدم کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

    ترکی کے صدر کا استقبال کرنے کے لیے ملٹری بینڈ بھی موجود تھا جس نے روایتی انداز میں موسیقی پیش کی۔ اسی دوران، پاکستان کی فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ترک صدر کے جہاز کا فضائی استقبال کیا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے ترک صدر کے طیارے کو اپنی حصار میں لے کر اسلام آباد پہنچایا، جس سے ان کے استقبال کو مزید منفرد اور باوقار بنا دیا۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران مختلف معاہدوں پر دستخط کی توقع ہے، جو پاکستان اور ترکی کے درمیان مزید تعاون کی راہیں کھولیں گے۔اردوان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، اور اس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

  • ہمارے نوجوان پاکستان کے مستقبل کے رہنما ہیں،آرمی چیف

    ہمارے نوجوان پاکستان کے مستقبل کے رہنما ہیں،آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے نوجوانوں کو ‘پاکستانیت’ کے جذبے کو اپنانے کی تلقین کی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کی قربانیوں کو سراہا۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیرنے پاکستان بھر سے آئے ہوئے نوجوان یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ سے خطاب کیاآرمی چیف نے طلبہ کو علمی میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے اورایسی مہارتیں حاصل کرنے کی تلقین کی جو انہیں ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاکستان پر بیرونی ماحول کے اثرات خصوصاً سرحد پار دہشت گردی کے خطرے پر بھی روشنی ڈالی، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے نوجوانوں کی توانائی، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت پسندی کی صلاحیت کو سراہا اور کہا کہ ہمارے نوجوان پاکستان کے مستقبل کے رہنما ہیں۔

    دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے،فضل الرحمان

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ میں پاک فوج کے کردار کو اجاگر کیاآرمی چیف نے ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلانے میں قوم کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ عوام کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔

    اس موقع پر جنرل عاصم منیر نے نوجوانوں کو ‘پاکستانیت’ کے جذبے کو اپنانے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ عناصر نوجوانوں کی فکری نشوونما میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

    گزشتہ ایک ماہ میں خیبر پختونخوا میں 60 دہشت گرد حملے ہوئے،رپورٹ

  • کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ اگر بنیادی حقوق دستیاب نہ ہوں اور کسی ایکٹ کے ساتھ ملا لیں تو کیا حقوق متاثر ہوں گے؟ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزا پر اپیل کنندہ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ ایک بلیک ہول ہے، کوئی بھی ترمیم ہوئی تو بنیادی حقوق ختم ہوجائیں گے، قانون کے مطابق جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہونا ضروری ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ آرمڈ فورسز کا کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پنجاب میں پتنگ اڑانا منع ہے، پنجاب میں کوئی پتنگ اڑائے تو وہ ملٹری کورٹ نہیں جائے گا، اس پر شہری قانون لگے گا، کیس میں 2 مسائل ہیں، ایک آرٹیکل 175 کا بھی مسئلہ ہے، جہاں تک بات بنیادی حقوق کی ہے تو دروازے بند نہیں ہوں گے۔

    جسٹس نعیم اختر کا سلمان راجہ سے سماعت کے دوران دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس نعیم اختر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا ہوں، بُرا نہ مانیے گا، آپ کی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ آج کل سیاسی وابستگی بھی ہے، آپ کی سیاسی جماعت کے دور میں آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی تھی، آپ کی سیاسی جماعت نے پارلیمنٹ نے بڑی گرمجوشی سے آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اس وقت تحریک انصاف کا حصہ نہیں تھا، میں ہمیشہ اپوزیشن میں رہا ہوں، 1975ء میں ایف بی علی کیس میں پہلی دفعہ ٹو ون ڈی ون کا ذکر ہوا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کسی فوجی جوان کا گھریلو مسئلہ ہے، اگر پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کر لی جائے، تو کیا دوسری شادی والے کو ملٹری کورٹ بھیجا جائے گا؟جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ آرٹیکل ٹو ون ڈی کو ہر مرتبہ سپریم کورٹ کیوں دیکھے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لیگل فریم ورک تبدیل ہو جائے تو جوڈیشل ریویو کیا جاسکتا ہے، آرٹیکل آٹھ 3 کا استثنیٰ ٹو ون ڈی کے لیے دستیاب نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ٹو ون ڈی کے لیے 1967ء میں آرڈیننس لایا گیا جس کی ایک معیاد ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں آرڈیننس معیاد ختم ہونے پر متروک ہوگیا ہو؟ 1967ء میں آرڈیننس کے ذریعے آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی ٹو آیا، 1973ء کے آئین میں تو آرڈیننس کی معیاد 120 دن ہے، جسے 120 دن مزید توسیع ملتی ہے، چیک کریں اس وقت کے آئین میں آرڈیننس کی معیاد کیا تھی، اس وقت کے حالات بھی مدنظر رکھیں، اس وقت ایک جنگ ہوئی جس کے بعد سیاستدانوں نے تحریک شروع کی، کہیں ایسا تو نہیں اس وقت اپنی رجیم برقرار رکھنے کے لیے آرڈیننس لایا گیا ہو، اگر میں غلط ہوں تو اس کی تصحیح کریں، آپ اس نکتے کی طرف کیوں نہیں آ رہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اس وقت ون مین شو تھا،جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل سے کہا کہ آپ سوالات نوٹ کر لیں، وقفے کے بعد جواب دے دیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالتی وقفہ کے دوران چیک کر لیتا ہوں۔

  • وزیراعظم کی دبئی میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات

    وزیراعظم کی دبئی میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی گزشتہ روز ورلڈ گورنمنٹس سمٹ (WGS) 2025 کے موقع پر دبئی میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام اور حکومتی اصلاحات کے ذریعے حاصل ہونے والے میکرو اکنامک استحکام پر گفتگو کی گئی۔

    بات چیت میں ادارہ جاتی اصلاحات کے نفاذ اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا گیا، جو کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی بحالی اور ملک میں پائیدار ترقی و مستقبل کیلئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت (EEF) کے تحت ہونے والی پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم اور اسے طویل مدتی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اصلاحات کی رفتار بالخصوص ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتر کارکردگی اور نجی شعبے کی ترقی جیسے اہم شعبوں میں پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کو پاکستان کے معاشی استحکام کے لائحہ عمل، مؤثر کارکردگی اور منصوبہ بندی کی پائیداری کیلئے حکومت کے عزم کا یقین دلایا جو پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے حصول کیلئے اہم اجزاء ہیں۔

    مینجنگ ڈائیریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں حکومتِ پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت استحکام کے بعد ترقی کی سمت میں گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں افراط زر میں کمی کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان معاشی بحالی کے حصول کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہے. آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے ملک کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت اور ذاتی عزم کی بھی تعریف کی، جنہوں نے پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل مالیاتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی اصلاحات اور موثر گورننس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے آئی ایم ایف کے عزم کا اعادہ کیا۔