Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کی اہم بیٹھک، سیاسی حکمت عملی پر مشاورت

    اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کی اہم بیٹھک، سیاسی حکمت عملی پر مشاورت

    اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی رہائشگاہ پر حزب اختلاف کی قیادت کی ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں مختلف اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔ یہ بیٹھک ایک عشائیے کی صورت میں ہوئی، جس میں اپوزیشن کے اہم رہنماؤں اور کوآرڈینیشن کمیٹی کے ارکان کو مدعو کیا گیا۔

    عشائیے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، شبلی فراز، اسد قیصر، راجا ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر اہم رہنما شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں جنید اکبر اور شہرام تراکئی بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران اپوزیشن اتحاد کے لیے مجوزہ مسودے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،اپوزیشن اتحاد کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پر بھی بات چیت کی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی حکمت عملی، عام انتخابات کے حوالے سے مشترکہ پالیسی، اور الیکشن کمیشن کے ساتھ رابطہ اور حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    اس اجلاس میں تمام رہنماؤں نے یکجہتی اور متفقہ حکمت عملی کے تحت اگلے انتخابات کے لیے تیاریوں کو مزید تیز کرنے پر زور دیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے اندرونی تعلقات اور تنظیمی سطح پر مضبوط روابط کے ذریعے عوامی مسائل اور حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔

    اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کیا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے ملک میں جاری بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی مزمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کو فوری طور پر رہا کیا جائے،اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی پہلی میٹنگ کے بعد کہے گئے مطالبہ کو دوہرایا کہ ملک میں فوری طور پر شفاف اور آزادانہ انتخابات کراے جائیں، الیکشن کمیشن فوری طور مستعفی ہو اور ایک آزادانہ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔اپوزیشن رہنماؤں نے خیبر پختونخواہ ، بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت لوگوں کے جان و مال کو محفوظ بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ ملک کی بقا کا ہے ۔ ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کے ملکی سالمیت کو ترجیح دینا ہو گی،اپوزیشن رہنماؤں نے آئی ایم ایف مشن کے وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات پر کہا کہ اس سے قبل اسکی مثال نہیں ملتی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی اور عدل کا نظام نہ ہو وہاں معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔ ہمیں مشکلات سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا۔

  • وزیراعظم پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے صدر کا دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے صدر کا دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے استقبال کیا۔ ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی شریک تھے وزیر اعظم ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025 میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ سربراہی اجلاس آج سے دبئی میں شروع ہے جس کا موضوع ‘شیپنگ فیوچر گورنمنٹس’ ہے۔

    ابوظہبی میں قصر الشاطی میں ملاقات کے دوران، وزیر اعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی مفادات کی تکمیل کے لائحہ عمل و تعلقات کی مضبوطی پر گفتگو کی۔ ملاقات میں اقتصادی، تجارتی اور ترقی و دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین موجود اشتراک و تعاون پر گفتگو کی گئی جو پائیدار اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے ویژن سے ہم آہنگ ہیں۔

    ملاقات میں گورننس میں عالمی رجحانات کی نشاندہی اور عالمی تبدیلیوں کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریوں کی قابل عمل حکمت عملی پر ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں ترقیکی رفتار میں اضافے اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے ان تبدیلیوں سے استفادہ حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    مزید برآں، دونوں فریقین نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے علاقائی سلامتی، استحکام اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے دو ریاستی حل پر مبنی جامع اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے

    صحافیوں سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف وفد کی ملاقات پر بریفنگ کروں گا، بانی پی ٹی آئی کے خط پر بات کروں گا، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی پر بھی بات کروں گا، میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، میں نے وفد کو بتایا یہ ہمارا کام نہیں ہے آپکو ساری تفصیل بتائیں، میں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، میں نے وفد کو بتایا ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں،وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق بارے ہم جاننا چاہتے ہیں،میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں،عمران خان کے خط میں اہم ایشوز ہیں میں نے خط پڑھا ہے، عمران خان کے خط کو کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،

    نیشنل جوڈیشل پالیسی کے لئے میں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو دعوت دی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے لئے میں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کودعوت دی ہے،مجھے وزیراعظم کا خط بھی آیا،وزیراعظم کو اٹارنی جنرل کے ذریعے سلام کا جواب بھجوایا، وزیراعظم کو پیغام دیا کہ انکے خط کا جواب نہیں دوں گا،اپوزیشن لیڈر سے بھی رابطہ کیا ہے،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو سپریم کورٹ مدعو کیا ہے ہم نےحکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کیلئے ایجنڈا مانگا ہے،پاکستان ہم سب کا ملک ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کابھی خط آیا ہے،عمران خان ہم سے جو چاہتے ہیں، وہ آرٹیکل 184 کی شق تین سے متعلق ہیں،میں نے کمیٹی سے کہا اس خط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں،تحریک انصاف کے بانی کا خط ججز آئینی کمیٹی کوبھجوایا ہے، وہ طے کریں گے، یہ معاملہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت آتا ہے، اسے آئینی بنچ نے ہی دیکھنا ہے۔

    خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں،انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا،چیف جسٹس
    صحافی نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خط کو ججز آئینی کمیٹی کو بھیجنے کیلئے کن وجوہات یا اصولوں کو مدنظر رکھا گیا؟عدلیہ میں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کریں گے؟چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں،انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا،پرانی چیزیں ہیں آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔میں نے ججز سے کہا سسٹم کو چلنے دیں، سسٹم کو نہ روکیں،میں نے کہا مجھے ججز لانے دیں،میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ لانے کا حامی ہوں۔

    قبل ازیں ذرائع کا کہناتھا کہ چیف جسٹس پاکستان سے آئی ایم ایف وفد نے ملاقات کی۔ چیف جسٹس سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی، چیف جسٹس نے عدالتی نظام، اصلاحات سے متعلق وفد کو آگاہ کیا، ملاقات میں ججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی بات چیت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد آئی ایم ایف کا وفد سپریم کورٹ سے روانہ ہو گیا۔

    اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام بھی آئی ایم ایف وفد کے ہمراہ تھے۔

  • کرم:  امن معاہدے پر عملدرآمد، مزید 25 بنکرز گرا دیے گئے

    کرم: امن معاہدے پر عملدرآمد، مزید 25 بنکرز گرا دیے گئے

    ضلع کرم میں امن معاہدے کے تحت ضلعی انتظامیہ نے مزید 25 بنکرز کو گرا دیا ہے، جس کے بعد ان بنکرز کی مجموعی تعداد 80 ہو گئی ہے۔

    یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے ایک حصے کے طور پر اٹھائے گئے ہیں، جس کا مقصد علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے۔ بنکرز کا گرا دیا جانا ایک اہم قدم ہے جس سے دہشت گردوں کے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

    لوئر کرم کے 14 شہداء کے ورثا میں 10 لاکھ روپے فی کس کے امدادی چیک بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ امدادی چیک ان خاندانوں کے لئے دیے گئے ہیں جن کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو گئے تھے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے اہل خانہ کی مالی مدد کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہے۔ اب تک دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں 6 کروڑ روپے سے زائد کی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جس سے ان خاندانوں کی زندگیوں میں قدرے سکون آیا ہے۔

    یہ اقدامات کرم میں امن و خوشحالی کے قیام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مزید اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ علاقے میں امن کو مستحکم کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔

  • پیکا پر عمل ہوگیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے،وکیل کا عدالت میں بیان

    پیکا پر عمل ہوگیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے،وکیل کا عدالت میں بیان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ایکٹ کی سماعت کے دوران جسٹس امین منہاس نے کہا کہ فیک نیوز مسئلہ تو ہے، کیا فیک نیوز کی کی پبلیکیشن رکنی چاہیے یا نہیں؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس امین منہاس نے پیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے اور اینکرز کی درخواست پر سماعت کی جس دوران صحافتی تنظیموں کے عہدیدار اور وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیکا کا قانون اتنی جلد بازی میں بنایا گیاکہ شقوں کے نمبر بھی درست درج نہیں، قانون میں اتنی غلطیاں ہیں کہ درخواست دہندہ کی 2 تعریفیں کردی گئیں جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں،پیکاکےتحت بنائی گئی کمپلیننٹ اتھارٹی وہی ہے جوپہلے سے پیمرا قانون میں موجود ہے۔

    صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد نے کہا کہ یہ قانون آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی میں بنایا گیا،جسٹس انعام منہاس نے سوال کیا، آپ کیا کہتے ہیں فیک نیوز کی پبلیکیشن رکنی چاہیے یا نہیں؟ فیک نیوز کا مسئلہ تو ہے۔ ریاست علی آزاد نے جواب دیا صحافی کو لوگ فائل دکھاتے ہیں کہ یہ دیکھ لیں کرپشن ہورہی ہےاور خبر دے دیں، صحافی اپنی خبر کا سورس کبھی نہیں بتاتا، پیکا پر عمل ہوگیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے۔ صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا ایسا نہیں کہ ہم فیک نیوز کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، ہم مادرپدر آزادی کے خلاف ہیں اور ہم رولز اینڈریگولیشن کے بھی خلاف نہیں ہیں مگر رولز اینڈریگولیشن آئینی اورانسانی حقوق سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

    دوران سماعت درخواست گزار نے پیکا ایکٹ کو معطل کرنے کی استدعا کی جب کہ درخواست گزار وکلا نے عدالت سے ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کی بار بار استدعا کی اس پر عدالت نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بتائیں ہم یہیں بیٹھے ہیں، آپ ضرورت محسوس کریں تو متفرق درخواست دائر کر سکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سماعت کی آئندہ تاریخ رجسٹرار آفس جاری کرے گا۔

  • جبری فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان

    جبری فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قبائلی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور آئین کے وفادار ہیں، لیکن جبری فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔

    پشاور میں ایک قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشران نے جرگہ بلایا ہے، جو ان کے لیے ایک احسان ہے، اور وہ ہمیشہ جرگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلسل قبائلی جرگوں میں شریک ہو رہے ہیں، اور فاٹا کے انضمام کے وقت بھی وہ جرگوں میں شریک تھے۔ تاہم، ان کا موقف یہ تھا کہ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ قبائلی عوام کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انضمام سے پہلے ایک جرگہ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قبائلی عوام کی رضامندی کے بغیر انضمام کا عمل نہیں ہونا چاہیے۔ قبائلی عوام ایف سی آر کے نظام کو چاہتے ہیں، وہ ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں یا صوبے میں انضمام کی حمایت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے جرگہ نے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا تاکہ قبائل کی رائے کو مدنظر رکھا جا سکے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ قبائل سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ امن کا تھا۔ ان کے مطابق، امن کے قیام کے ساتھ ہی ہر شخص کی عزت و آبرو محفوظ ہو گی، انسانی حقوق کا تحفظ ہوگا، بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں امن کی کمی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ اسلام کا پیغام امن ہے، اور وہ ہمیشہ امن کی بات کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں اسلامی نظام کا قیام ایک سخت مطالبہ ہے اور آئین کے مطابق اسلامی نظام کے قیام کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسلامی قانون کے مطابق ہی فیصلے ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق، آئین کہتا ہے کہ نظام اسلامی ہوگا اور اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔

    مولانا نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران امریکہ کے وفادار نظر آتے ہیں، اور انہوں نے افغانستان میں جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تھا۔ حکمران مسلمانوں کے بجائے امریکہ کے اتحادی بن گئے ہیں۔

    انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب میں اسرائیلیوں کو بسانے کی بات کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ آج امریکا پھر افغانستان میں جنگ کا سوچ رہا ہے، اور اگر جرگہ نے حکم دیا تو وہ اس پر عمل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مشران پر بھی جرگہ بلایا جائے گا اور یہ کہ جو صوبہ جس کا حق ہے، وہاں کے عوام کو وہ حق دیا جائے۔

    آخر میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ان جرگوں کے ذریعے قبائلی مسائل کا حل نہیں نکلتا، تو وہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر دینی مدارس کے لیے اسلام آباد مارچ کیا جا سکتا ہے تو قبائل کے مسائل کے حل کے لیے بھی اسلام آباد مارچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی پاکستان اور آئین کے وفادار ہے، لیکن جبری فیصلے ہرگز قبول نہیں کیے جائیں گے۔

  • افغان حکومت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث،بڑا ثبوت سامنے آ گیا

    افغان حکومت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث،بڑا ثبوت سامنے آ گیا

    افغان حکومت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث،بڑا ثبوت سامنے آ گیا

    افغان حکومت نے پاک فوج کے ہاتھوں 6 فروری 2025ء کودوران آپریشن ہلاک ہونے والے افغان دہشتگرد کی لاش بھی قبول کرلی، ہلاک ہونے والے دہشتگردکی شناخت لقمان خان ولد کمال خان کے نام سے ہوئی تھی جو ضلع خوست کا رہائشی تھا،اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں ہلاک کئے جانے والے دہشتگرداحمد الیاس عرف بدر الدین کی لاش کوبھی افغان طالبان نے وصول کیا تھا،احمد الیاس صوبہ باغدیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کا بیٹا تھا جس کی ہلاکت پر افغان عبوری حکومت نے نام نہاد شہادت کا جشن منایا،سیکورٹی فورسز کی جانب سے مختلف آپریشنز میں ابتک بڑی تعداد میں افغان دہشتگرد ہلاک کئے جانے چکے ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاک افغان دہشتگردوں کی لاشوں کی وصولی افغان عبوری حکومت کی فتنہ الخوراج کیساتھ ملی بھگت کا واضح اقرار ہے،لاشیں وصول کرنا حکومت پاکستان کے افغان حکومت پر موثر دباؤ کا نتیجہ ہے،ایک جانب افغان عبوری حکومت فتنہ الخوراج کی کسی بھی طرح کی مدد سے انکاری ہے دوسری جانب لاشوں کی وصولی نے ان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی،یہ دوہرا معیار واضح کرتا ہے کہ افغان عبوری حکومت ایک ملیشیا کی طرز پر کام کرتی ہے،یہ ثابت ہو چکاکہ افغان عبوری حکومت پاکستان میں براہ راست دہشتگردی میں ملوث ہے،ایسے میں افغان عوام کو سمجھنا ہوگا کہ وہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے ہوشیار رہیں،یہ دہشتگرد گروہ افغان شہریوں کو مختلف قسم کا لالچ دیکرمیں پاکستان میں دہشتگردی پر مجبور کرتے ہیں،فتنہ الخوارج اور افغان عبوری حکومت کے گٹھ جوڑ سے افغان عوام کو سمجھنا ہوگا کہ وہ ان کیلئے نہیں بلکہ اپنے مذموم مقاصد پر کام کررہے ہیں،وہ افغان دہشتگرد جو بچ کر واپس آئے ہیں انہوں نے افغان عبوری حکومت اور فتنہ الخوارج کے منفی رویے کو آشکار کردیا،

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت سپریم کورٹ میں 6 ججز کی تعیناتی کی منظوری

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت سپریم کورٹ میں 6 ججز کی تعیناتی کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا،جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں 6 ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی،جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کو سپریم کورٹ جج بنانے کی منظوری دے دی،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس محمد شفیع صدیقی کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی گئی،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دی گئی،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سپریم کورٹ جج بنانے کی منظوری دی گئی،کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ جج جسٹس صلاح الدین پنور کو سپریم کورٹ کا جج کی منظوری دی کمیشن نے جسٹس شکیل احمد کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی.جوڈیشل کمیشن نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا ایکٹنگ جج مقرر کرنے کی منظوری دی

    قبل ازیں جوڈیشل کمیشن اجلاس میں 8 نئے ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سپریم کورٹ میں 8 ججز کی تقرری کے لیے 25 ناموں پر غور کیاگیا. جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے 6 ججز کے ناموں کی منظوری دے دی۔جوڈیشل کمیشن نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے نام کی منظوری دی

    جسٹس میاں گل حسن اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس ہوں گے،عامرفاروق سپریم کورٹ کے جج تعینات کر دیئے گئے

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، دو ججز کا بائیکاٹ
    سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز جسٹس منصور شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا،شاہراہ دستور پر وکلاء کا احتجاج بھی جاری ہے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر نے بھی جوڈیشل کمیشن کا بائیکاٹ کر دیا،بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس میں 8 ججز کی تعیناتی ہونی تھی،ہمارا موقف تھا 26 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ نہیں ہوتا تو اجلاس ملتوی کیا جائے،جوڈیشل کمیشن کے ممبران جسٹس منصور اور جسٹس منیب کی جانب سے خط لکھا گیا تھا کہ اجلاس ملتوی کیا جائے

  • لیبیا ، ایک اور کشتی حادثے کا شکار

    لیبیا ، ایک اور کشتی حادثے کا شکار

    لیبیا میں ایک اور کشتی الٹنے کا حادثہ، پاکستانی شہری بھی سوار تھے

    لیبیا کے ساحل کے قریب ایک اور کشتی الٹنے کا افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں 65 افراد سوار تھے۔ حادثے میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جو غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔لیبیا میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق 65 مسافروں کو لے جانے والی کشتی مرسا ڈیلا کی بندرگاہ کے قریب الٹی،طرابلس میں پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم زاویہ اسپتال روانہ کر دی گئی ہے، پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم مقامی حکام کی معاونت کرے گی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکام متاثرین کی تمام ضروری مدد فراہم کر رہے ہیں اس کے علاوہ، پاکستانی سفارتخانہ متاثرین کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے تاکہ ان کی معلومات فراہم کی جا سکیں۔

    حادثے کے بعد، لیبیا میں غیر قانونی طور پر سمندری راستوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افراد کی حفاظت اور ان کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس طرح کے حادثات میں انسانی زندگیوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے، اور اس حوالے سے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔پاکستانی حکام نے اس حادثے میں متاثر ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔

    کشتی حادثات میں پاکستانیوں کی اموات کا ذمہ دار کون ، یہ حکومت و مافیا کی ملی بھگت تو نہیں. چودھری سرور
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چودھری سرور نے لیبیا کشتی حادثے پر کہا ہے کہ بیرون ملک کشتی حادثات کا سلسلہ نہ رکا تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا. ان سانحات کا ذمہ دار حکومت، مافیا ہے جن کی ملی بھگت کی وجہ سے آئے روز درجنوں پاکستانیوں کی کشتی حادثات میں اموات ہو رہی رہیں.چند ماہ میں ہونے والے متعدد کشتی حادثات کے حوالے سے پنجاب حکومت کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

    چودھری سرور نے لیبیا کشتی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں جو کشتی حادثہ ہوا، اس میں 65 پاکستانی سوار تھے ،یہ پہلا حادثہ نہیں ہے، بلکہ غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے والے پاکستانی افراد کی ہلاکتیں ایک تسلسل بن چکی ہیں۔ہر حادثے کے بعد حکومت تحقیقات اور کاروائی کا اعلان کرتی ہے لیکن عملا کوئی اقدام نہیں اٹھائے جاتے جس کی وجہ سے آئے روز ان سانحات میں اضافہ ہو رہا ہے، یوں لگ رہا ہے کہ مافیا کی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے ہی انسانی سمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے، ایسے حادثات کو روکنے کے لیے حکومت کو انتہائی سخت اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے.ان واقعات کی روک تھام کے لئے پنجاب حکومت کیوں ناکام ہو چکی ہے، اگر ذمہ داران کو سزائیں ملتی اور کاروائی ہوتی تو پے درپے پاکستانیوں‌ کی لاشیں نہ ملتیں.سوال یہ ہے کہ حکومت غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کے راستوں پر بندشیں کیوں نہیں ڈال رہی؟ یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ انسانوں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

    چودھری سرور کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی عدم توجہی اور غفلت کے باعث اس قسم کے سانحات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ قومی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے اور انسانی سمگلنگ جیسے گھناؤنے دھندے کو بند کروایا جائے.اگر یہی سلسلہ جاری رہا اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کی لاشیں گرتی رہیں تو پاکستانی عوام سڑکوں پر ہو گی اور حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائے گا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف متحدہ عرب امارات روانہ

    کراچی ، خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والے ملزم کی گرفتاری

  • اللہ تعالیٰ نے تیزی سے گڑھے میں گرتے ملک اور قوم کو بچا لیا، نواز شریف

    اللہ تعالیٰ نے تیزی سے گڑھے میں گرتے ملک اور قوم کو بچا لیا، نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف سے لاہور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی ملاقات ہوئی ہے.

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ لاہور اور پنجاب میں بہت عرصے بعد عوام میں خوشی اور اطمینان نظر آ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے محنت سے عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھنا ہے ، اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی ہے اور بھی ڈالے گا، انشاءاللہ، اللہ تعالیٰ نے تیزی سے گڑھے میں گرتے ملک اور قوم کو بچا لیا، مسلم لیگ (ن) آتی ہے تو ملک میں ترقی آتی ہے،1990 کا سفر جاری رہتا تو پاکستان ترقی کے سفر میں آج کہیں آگے کھڑا ہوتا،

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اللّٰہ کرےہم ایک بار پھر ٹیک آف کرسکیں، شہباز شریف بہت محنت کر رہے ہیں، لاہور اور پنجاب میں بہت عرصے بعد عوام میں خوشی اور اطمینان نظر آرہا ہے، اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے محنت سے عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھنا ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے تیزی سے گڑھے میں گرتے ملک اور قوم کو بچا لیا،مسلم لیگ ن آتی ہے تو ملک میں ترقی آتی ہے، ڈی ریل نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کہیں آگے ہوتا، 1990ء کا سفر جاری رہتا تو پاکستان ترقی کے سفر میں آج کہیں آگے کھڑا ہوتا، مہنگائی میں کمی سے عوام کو سکھ کا کچھ سانس آیا ہے، پالیسی ریٹ 22 سے کم ہو کر 12فیصد پر آنا معاشی بہتری کی علامت ہے۔

    اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ملکی ترقی کی ایک نئی روشن مثال قائم کی ہے، مسلم لیگ ن کے دور میں ہی ہمیشہ ثقافت کو ترقی ملتی ہے، آپ جب آتے ہیں ملک کو ترقی اور خوشیاں ملتی ہیں، مریم نواز نے نظام کی جو اصلاح کی اس کی مثال نہیں ملتی، آپ کی اور شہباز شریف کی روایات شاندار طریقے سے چل رہی ہیں۔