Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کی مظفر آباد میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات

    وزیراعظم کی مظفر آباد میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک روزہ دورے پر آزاد پہنچے جہاں انہوں نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر حریت رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ کشمیر کے عوام کا حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقدامات اٹھائے۔وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے اور یہ ہمیشہ رہے گا۔ پاکستان کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم نے وفاقی وزیر انجینیئر امیر مقام کو آزاد جموں و کشمیر میں مہاجرین کے مسائل اور خدشات حل کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے وزیراعظم اور حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کی غیر متزلزل حمایت پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے پر وزیراعظم کو سراہا۔ اس ملاقات میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق، وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، انجینیئر امیر مقام، عطا اللہ تارڑ، کشمیری رہنما غلام نبی صفی، ایڈوکیٹ پرویز، اعجاز رحمانی، سید گلشن، محمد اشرف ڈار، شاہین اقبال، مشتاق احمد، خورشید احمد خان اور راجہ خادم حسین شاہین نے بھی شرکت کی

    وزیراعظم سے شاہ غلام قادر کی قیادت میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے وفد کی ملاقات
    دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف سے شاہ غلام قادر کی قیادت میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،وزیراعظم نے کشمیری عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات میں حکومت پاکستان کی جانب سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا.وزیراعظم نے وفد کے ارکان کو کشمیری عوام کے مسائل کے حل کے لیے متحرک کرداد ادا کرنے کی تلقین کی،وزیراعظم نے وفد کو آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات لینے کی ہدایت کی،وفد نے حکومت پاکستان کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کی عوام کی فلاح و بہبود کے اقدامات پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا ،ملاقات میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق، سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر اور وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، انجینیئر امیر مقام، رانا تنویر حسین اور عطا اللہ تارڑ بھی شریک تھے۔

  • کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    کشمیریوں کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے،آئی ایس پی آر

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری خصوصی پیغام میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس ،سروسز چیفس اور مسلح افواج نے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابل تسخیر جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں برداشت کررہے ہیں، ظلم کے مقابلے میں ان کا غیرمتزلزل عزم پوری قوم کیلئے عزم و حوصلے کی علامت ہے، مسلح افواج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی ہے، کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں ،جبری حراست کا سامنا ہے،کشمیریوں پر بھارت ظلم عالمی قانون، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت ہے، عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے،سلامتی کونسل کی قراردادوں پر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں، پاکستان کی مسلح افواج کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں، مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کےتحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری بھائیوں کی آزادی، وقار کے حصول میں کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہیں۔ پاکستان زندہ باد، کشمیر زندہ باد

    دوسری جانب یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آئی ایس پی آر کی جانب سے نیا نغمہ ’’کشمیر بنےگا پاکستان‘‘ جاری کردیا گیا ہے،’کشمیر بنے گا پاکستان‘ نغمے کو پاکستان کے معروف گلوکار احمد جہانزیب نے گایا ہے، نغمے کی دھن عرفان سلیم اور کامران اللہ خان نے ترتیب دی ہے جبکہ اس کے بول عمران رضا نے لکھے ہیں،5 فروری یوم یکجہتی کشمیرکی مناسبت سے تیار کیا جانے والا یہ نغمہ ایک عزم ہے، یہ نغمہ اظہار یکجہتی کرتا ہے کہ پورا پاکستان مقبوضہ وادی کے غیور کشمیروں کیساتھ کھڑا ہے،

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس دن کا مقصد کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی حمایت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اُن کی منصفانہ جدوجہد کو اجاگر کرنا ہے۔یوم یکجہتی کشمیر کا یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے خلاف عالمی برادری کی توجہ دلانے کے لیے منایا جاتا ہے۔ پاکستانی قوم اس دن کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ اپنے عزم اور حمایت کا اعادہ کرتی ہے، تاکہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کا مسئلہ اجاگر ہو سکے۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پاکستان بھر میں یکجہتی واک کا اہتمام کیا جائے گا، جن میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ اسلام آباد میں شاہراہ دستور سے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی جو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔صبح دس بجے سائرن بجائے جائیں گے، جس کے بعد شہدائے کشمیر کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ملک کے اہم راستوں، ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف میں کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لیے پوسٹرز اور بل بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر بھارتی مظالم کی تفصیلات درج ہوں گی۔ مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے اس اجلاس میں خطاب کی توقع ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا عہد کیا جائے گا۔پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے مختلف پلوں جیسے منگلا، کوہالہ، برار کوٹ، آزاد پتن اور ہولاڑ میں انسانی زنجیریں بنائی جائیں گی۔ ان زنجیریں کے ذریعے پاکستانی اور کشمیری عوام ایک دوسرے کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کریں گے۔منگلا پل پر صبح ساڑھے نو بجے ایک اہم تقریب منعقد ہوگی، جس میں پاکستانی اور کشمیری عوام اپنے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ اسی طرح کوٹلی اور بھمبر کے اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات ہوں گی،جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں بھی یکجہتی کشمیر جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گی،

    یوم یکجہتی کشمیر کا دن ایک تاریخی اور اہم موقع ہے جس کے ذریعے پاکستان دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور ان کے حقوق کے لیے پاکستان ہمیشہ اُن کے ساتھ ہے۔

    پیپلز پارٹی ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گی،بلاول

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

  • حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد،مولانا فضل الرحمان کا پھر انتخابات کا مطالبہ

    پاکستان کی سیاست میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جب عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ، شاہد خاقان عباسی، نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس ملاقات میں جے یو آئی کے رہنما مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے۔

    اسی دوران، گرینڈ اپوزیشن الائنس کا اجلاس سابق اسپیکر اسد قیصر کی رہائشگاہ پر شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور شاہد خاقان عباسی کے علاوہ مصطفیٰ نواز کھوکر، عمر ایوب، شبلی فراز اور اسد قیصر بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس اور تحریک انصاف کے دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔
    اپوزیشن جماعتوں نے اس اجلاس میں ملک کی موجودہ حکومت کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے نیا انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام پر زبردستی مسلط کی گئی ہے اور اس کا عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ نئے انتخابات ہی ملکی مسائل کا واحد حل ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے اور موجودہ حکومت کو مستعفی ہو کر از سر نو انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے چیف الیکشن کمشنر کے گھر جانے کا بھی مطالبہ کر دیا،کہا الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت بھی پوری ہو چکی ہے لہذا اب اسے فی الفور گھر جانا ہوگا ،نئی تعیناتی کے لیے مشاورت ہونی چاہیئے، اگر الیکشن کمیشن واقعی آزاد اور خود مختار ہے تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیئے،عوامی مینڈیٹ نہ رکھنے والوں کو اقتدار پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں، مقاصد کے حصول کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائےگا۔نئے الیکشن کیلئے غیرجانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا اس پر آج کے اجلاس میں تمام جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، ہم چاہتے ہیں ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہو اور اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر بات ہوئی، موجودہ حکومت زبردستی عوام پر مسلط کی گئی ہے، نئے الیکشن ہی ملک کو دہشت گردی اور دیگر بحران سے نکالنے کا حل ہے، اپوزیشن نے سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی معاملات پر گفتگو کی، سب جماعتوں کا یہ مؤقف تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، پیکا جیسے کالے قانون کا خاتمہ ہونا چاہیئے، آنے والے وقت میں بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

    اس اجلاس میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو عوامی اعتماد حاصل نہیں ہے اور نئے انتخابات ضروری ہیں تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو سکے۔

  • کسی بھی مہم جوئی کا  پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، آرمی چیف

    کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر صدارت 267ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا

    شرکاء نے مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لئے شہدائے افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا، فورم نے درپیش خطرات کا مفصل جائزہ لیتے ہوئے علاقائی اور داخلی سلامتی کے منظر نامے پر روشنی ڈالی، شرکاء کانفرنس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ،فورم نے یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری 2025) کے موقع پر کشمیر کے پُرعزم لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی، فورم نے بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور انہیں خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا،شرکاء کانفرنس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ان کی جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، شرکاء نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا،فورم نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ عاقبت نا اندیش اور اشتعال انگیز بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا اور انہیں غیر ذمہ دارانہ اور علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا

    فورم سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا؛”پاکستان آرمی ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے“ بھارتی فوج کے یہ کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں، اس قسم کے بیانات،اپنے عوام اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی اندرونی خلفشار اور اُسکی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں، کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، انشاء اللہ،

    فورم نے فتنتہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، فورم نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کے عبوری افغان حکومت فتنہ الخوارج کی موجودگی سے انکار کی بجائے اسکے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کرے ،فورم نے واضح کیا کہ افغانستان اور فتنہ الخوارج کے ضمن میں جاری شدہ تمام ضروری اقدامات اور حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا جو پاکستان اور اُسکے عوام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں ،فورم نے بلوچستان میں عوام پر مرکوز سماجی و اقتصادی ترقی کے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ احساس ِ محرومی کے من گھڑت بیانیے کی نفی کی جا سکے

    فورم نے اس بات کا اعادہ کیاکہ؛”کسی کو بھی بلوچستان میں امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“ غیر ملکی پشت پناہی کرنے والی پراکسیز کی بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انتہا پسندی پر مائل کرنے کے مذموم عزائم کو بلوچستان کے عوام کی غیر متزلزل حمایت سے ناکام بنایا جائے گا، انشاء اللہ،

    تمام فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کی تعریف کرتے ہوئے آرمی چیف نے مشن پر مبنی تربیت، بہتر فوجی تعاون، روایتی اور انسداد دہشت گردی کی مد میں مشترکہ مشقوں کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا،کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ؛ ”عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے“ “عسکری قیادت پاکستان کی قابلِ فخر عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے”،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے معاملے پر نیا تنازعہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے معاملے پر نیا تنازعہ

    پانچ ججز نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی کے معاملے پر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

    پانچ ججز نے سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھیجوا دی، ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو بھی ججز ریپریزنٹیشن کی کاپی بھیجوا دی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سے گزشتہ روز ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کی گئی تھی،

    جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری ،سٹس بابر ستار،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی ریپریزنٹیشن بھیجنے والوں میں شامل ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر کی جانب سے الگ سے ریپریزنٹیشن فائل کیے جانے کا امکان ہے،ججز نے کہا کہ جج جس ہائیکورٹ میں تعینات ہوتا ہے اُسی ہائیکورٹ کیلئے حلف لیتا ہے،آئین کی منشاء کے مطابق دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے پر جج کو نیا حلف لینا پڑتا ہے،دوسری ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے جج کی سینیارٹی نئے حلف کے مطابق طے ہو گی،عدالتی ذرائع کے مطابق ججز کی جانب سے دائر ریپریزنٹیشن سینیارٹی سے متعلق ہے، ججز کے تبادلے سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے، سینیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن اجلاس ملتوی کریں،

  • عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا، جواب آ گیا، سیکیورٹی ذرائع

    عمران خان کا کوئی خط نہیں ملا، جواب آ گیا، سیکیورٹی ذرائع

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو کوئی خط بھیجا ہے، تاہم اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایسے کسی بھی خط میں کوئی دلچسپی نہیں ہے،سزا یافتہ مجرم کی جانب سے کوئی خط نہیں ملا ،پی ٹی آئی نے خط کے نام پر ایک اور ناکام ڈرامہ کرنے کی کوشش کی اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اسٹیبلشمنٹ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ، اگر پی ٹی آئی کو کسی بھی معاملے پر بات کرنی ہے تو سیاستدانوں سے کرے،

    اس سے قبل، آج پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خط کا جواب آتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود بتایا تھا کہ انہوں نے آرمی چیف کو ایک خط لکھا ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک اس خط کو پڑھا یا دیکھا نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز، بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان نے سابق وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے ان سے درخواست کی تھی کہ فوجی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ اس بات کی تصدیق بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے بھی کی تھی۔

    خلیل الرحمان قمر کیس،گواہان کے بیان ریکارڈ نہ ہو سکے

    امریکا کا نیا اور طاقتور لیزر ہتھیار جو ڈرونز اور میزائلوں کو پگھلا کر اُنہیں تباہ کر سکتا ہے

  • صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ شروع

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ شروع

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران ان کے ہمراہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن، اور ناصر شاہ بھی موجود ہیں۔ چین پہنچنے پر بیجنگ ایئرپورٹ پر پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے صدر اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔

    دورۂ چین کے دوران صدر زرداری اور ان کے ہمراہ وفد کے اراکین چین کی مختلف تجارتی و صنعتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں چین کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔چین کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے حکام مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری دورہ چین کیلئے اسلام آباد سے روانہ ہو ئے،صدر مملکت 4 سے 8 فروری تک دورہ چین کیلئے وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے روانہ ہوئے ،نائب وزیر اعظم، وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھے ،صدر مملکت بیجنگ میں چین کی اعلیٰ سطح کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے،صدر مملکت چینی صدر شی جن پنگ اور اسٹیٹ کونسل کے پریمیئر لی چیانگ سے ملیں گے ،صدر مملکت کا دورہ چین دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے،صدر مملکت کا دورہ چین دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعاون مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا،ملاقاتوں کے دوران پاک -چین اقتصادی راہداری، علاقائی روابط، سیکورٹی تعاون سمیت اہم دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا

  • پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    پاکستان میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا متنازع پیکا (پرؤیکشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) قانون فعال ہو چکا ہے اور اس کے تحت فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

    پیر کے روز اوکاڑہ پولیس نے واٹس ایپ پر جھوٹی ڈکیتی کی خبر پھیلانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اُس نے ایک واٹس ایپ گروپ پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ "10 سے 11 ملزمان ایک ہوٹل سے تین لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے ہیں، جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں”۔ تاہم تفتیش کے دوران پولیس نے اس دعوے کی تردید کی اور ہوٹل کے مالک نے بھی اس خبر کو جھوٹا قرار دیا۔

    دوسری جانب اتوار کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ نے مظفر گڑھ میں ایک شخص کو گرفتار کیا جس پر الزام تھا کہ اُس نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر توہین مذہب کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا کہ ایک شخص نے "بھرے بازار میں گستاخی کی ہے”، جس سے معاشرتی بدامنی پیدا ہوئی۔ اس الزام پر ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

    پیکا ایکٹ (ترمیمی) 2025 کیا ہے؟
    پاکستان میں فیک نیوز اور جعلی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیکا ایکٹ کی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت آن لائن جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ترمیمی بل 2025 کے مطابق، جو شخص جان بوجھ کر فیک نیوز پھیلائے گا یا کسی دوسرے کو ارسال کرے گا، جس سے معاشرتی خوف یا بدامنی پیدا ہو، اُس کے خلاف تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

    پیکا ایکٹ کا مقصد:
    پیکا ایکٹ کا مقصد آن لائن فیک نیوز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات کا سدباب کرنا ہے تاکہ معاشرتی امن قائم رہے اور عوام کو جھوٹی خبروں سے بچایا جا سکے۔ اس ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ پر جھوٹے اور توہین آمیز مواد پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں تاکہ یہ مسائل کنٹرول کیے جا سکیں۔

    مذکورہ مقدمات میں پولیس اور ایف آئی اے کی کارروائی نے پیکا ایکٹ کے تحت ان اقدامات کی اہمیت کو واضح کیا ہے، جہاں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کو سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • ایف بی علی خود بھی ایک سیویلین تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟جسٹس محمد علی مظہر

    ایف بی علی خود بھی ایک سیویلین تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟جسٹس محمد علی مظہر

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں آئینی بینچ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی ، سزا یافتہ ملزم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نےدلائل دیئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں 1962 کے آئین کے مطابق فیصلہ ہوا، ایف بی علی کیس میں کہا گیا سیویلنزکا ٹرائل بنیادی حقوق پورے کرنے پر ہی ممکن ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایف بی علی خود بھی ایک سیویلین ہی تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟ فوج سے باہر کا شخص صرف جرم کی بنیاد پرفوجی عدالت کے زمرے میں آسکتا ہے؟سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی علی کیس میں آرمی ایکٹ کی شق ٹو ڈی ون پر بات ہوئی، ایف بی علی کیس میں کہا گیا صدارتی آرڈیننس سےلایا گیا آرمی ایکٹ درست ہے، یہ بھی کہا گیا بنیادی حقوق کے تحت ری ویو کیا جاسکتا ہے،جسٹس مندوخیل نے سوال کیا ایف بی علی کیس میں نیکسز کی کیا تعریف کی گئی؟ سلمان اکرم راجا نے کہا آرمڈ فورسزکوا کسانا اور جرم کا تعلق ڈیفنس آف پاکستان سے متعلق ہونے کو نیکسز کہا گیا، یہاں ایف بی علی کیس ایسے پڑھا گیا کہ الگ عدالت بنانے کی اجازت کا تاثر بنا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت جسٹس عائشہ کا آرٹیکل 10 اے کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو ہماری جیت ہے، اگریہ کہا جاتا ہےآرٹیکل 175کی شق 3 سے باہر عدالت قائم نہیں ہوسکتی تب بھی ہماری جیت ہے، عجیب بات ہے بریگیڈیئر (ر) ایف بی علی کو ضیاالحق نے ملٹری عدالت سے سزادی، پھر وہی ضیاالحق جب آرمی چیف بنے تو ایف بی علی کی سزا ختم کردی، ایف بی علی بعد میں کینیڈا شفٹ ہوئے جہاں وہ کینیڈین آرمی کے ممبربن گئے،جسٹس مندوخیل نے کہا ہوسکتا ہے ضیاالحق نے بعد سوچا ہو پہلے جو ہوا وہ غلط تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں ضیاالحق نے بعد میں ایف بی علی سے معافی مانگی ہو؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا 1962 کا آئین درست تھا؟سلمان اکرم راجا نے جواب دیا 1962 کا آئین تو شروع ہی یہاں سے ہوتا ہےکہ میں فیلڈ مارشل ایوب خان خود کو اختیارات سونپ رہا ہوں، اُس دورمیں آرٹیکل چھپوائے گئے،فتوے دیے گئے کہ اسلام میں بنیادی حقوق نہیں ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سِولینزکے مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔

  • ججزتبادلےاچھا قدم،وقت لگے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چیف جسٹس

    ججزتبادلےاچھا قدم،وقت لگے گا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ججز کی ٹرانسفر کو آئین کے مطابق ایک اچھا قدم قرار دیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری کے دوران خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اسلام آباد وفاق کی علامت ہے اور یہاں آنے والے ججز کو جینٹل مین کی طرح برتاؤ کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ججز کی ٹرانسفر آئین کے مطابق کی گئی ہے۔ ایک بلوچی بولنے والا جج اور ایک سندھی بولنے والا جج اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئے ہیں۔ وفاق پورے ملک کا ہے اور آرٹیکل 200 کے تحت اس اقدام کو مثبت سمجھا گیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کی اس شق کے تحت دیگر صوبوں سے بھی ججز کی تقرری کی جانی چاہیے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ججز کے درمیان موجود تحفظات کو دور کرنے کے لیے وہ کوشش کر رہے ہیں اور مزید بھی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہائیکورٹ کے ججز سے بات کریں گے اور اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔انہوں نے ٹرانسفر اور سنیارٹی کے معاملات کو الگ الگ دیکھنے کی بات کی اور کہا کہ ٹرانسفر کی تجویز سے وہ متفق ہیں کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ تمام وفاقی اکائیوں کی نمائندگی کا حامل ہے۔ یہ جگہ محض ایک سفید عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی یگانگت کا مرکز ہے۔چیف جسٹس نے اپنے جنوبی افریقہ کے مطالعاتی دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے کے لیے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد کی تجویز دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالاکنڈ کے 40 وکلا کی درخواست پر فوری طور پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ٹریننگ کا انتظام کیا گیا۔

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ججز کی ٹرانسفر کو آئین کے مطابق ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز اور وکلا کی طرف سے اس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام وفاقی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور انہوں نے اس حوالے سے ججز کی حوصلہ افزائی کی ہے۔