Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔   متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔ متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    سندھ کے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے نجی ٹی وی چینل 365 نیوز کے پروگرام "کھرا سچ” میں سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہے اور اس کے حل کے لیے حکومت پانی کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور کینال کے پانی پر پنجاب کا بھی حق ہے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ پہلے ڈیم بھر جاتے تھے اور پھر نہروں سے فصلوں کو پانی دیا جاتا تھا، مگر اب اس میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ جب سندھ میں سیلاب آیا تو ہمارا ایریگیشن نظام کامیابی سے کام کرتا رہا، سندھ کے دیہی علاقوں کو فصلوں کے لیے پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی پنجاب نے نہریں نکالنے کی مخالفت کی تھی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاق کے سامنے کھل کر اپنا موقف پیش کیا اور وزیراعظم سے بھی اس بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو سندھ اور ملک کے لیے نقصان دہ ہو، اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

    کالا باغ ڈیم پر بات کرتے ہوئے وزیر سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کے لیے کالا باغ ڈیم پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے اور یہ اعتراض برقرار رہے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پیسے موجود ہیں تو دوسرے ڈیم کیوں نہیں بنائے جا رہے؟ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم 16 روہے میں بننا تھا کیا کہ دوسرے ڈیم فنڈز کی کمی کا بہانہ کر کے نہیں بنائے جا رہے۔ پاکستان میں اس وقت ایس آئی ایف سی اچھے کام کر رہی ہے جن کی وجہ سے انویسٹمنٹ آئی اور معاہدے ہوئے، ہم اس کے کام کو سراہتے ہیں زیادہ فصلیں اگانے کے لیے اگر سندھ کی زمین درکار ہے تو ہم دینے کو تیار ہیں

    سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ سندھ میں پانی بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں فصلوں کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اگر دریائے سندھ پر کوئی نئی کینال بنائی جاتی ہے، تو اس پر ان کا اعتراض رہے گا کیونکہ اس سے سندھ کے بچوں کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

    وزیر سندھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سندھ میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی مدد ضروری ہے، تاکہ تمام صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم میں توازن قائم ہو سکے اور کوئی بھی منصوبہ سندھ کی معیشت یا ماحولیات کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

    سید ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کھالوں کو پکا کرنے کا سب سے زیادہ کام سندھ میں ہوا بھارت نے ہمارے پانیوں پر قبضہ کیا بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ پانی کی کمی کچھ سالوں میں ہو جائے گی بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہو گی۔ بھارت کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا یو گا ۔ غلط کام کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے ہماری زمینیں بہت زیادہ غیر آباد ہیں کالا باغ ڈیم کے حوالہ سے جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں دو بڑے سیلاب 2010 اور 2022 میں آئے ۔ ہم چاہتے ہیں انتشار نہ ہو ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کا جو کردار ہے اسکو سپورٹ کرتے ہیں لیکن اگر ایک آدھ منصوبے سے اس طرح کا ماحول بنتا یے تو اسے دوسری طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے میں نے کہا کہ ہماری زمینیں حاضر ہیں۔ چولستان بھی آباد ہونا چاہیے۔ ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ زمین آباد کرنی یے اور دارومدار پانی پر ہے تو پھر وہ علاقہ جہاں زمین ہو جیسے ہمارے پاس تھر ہے ہم دینے کو تیار ہیں اگر اس پر بات نہیں کی گئی تو کی جائے گی ۔ جب ہم مل کر بیٹھتے ہیں تو مسائل ہو سکتے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کو ہم سپورٹ کرتے ہیں متنازعہ منصوبوں کو ریویو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی حل نکلے ۔ انڈس سے پانی نکلنے پر ہمیں اعتراض ہو گا ۔ کیونکہ پانی کم ہو گا پینے کے پانی کا بھی اسی پر انحصار ہوتا ہے ۔ حقائق پر مبنی ایشو ہیں ہم پاکستان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں

  • پیکا ایکٹ،ملک بھر میں صحافی سراپا احتجاج،پریس کلبوں پر سیاہ پرچم

    پیکا ایکٹ،ملک بھر میں صحافی سراپا احتجاج،پریس کلبوں پر سیاہ پرچم

    متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ کی منظوری کےخلاف یوم سیاہ پر صحافیوں نےملک بھر میں احتجاج کیا

    پی ایف یو جے کی کال پر صحافتی تنظیموں نے ملک بھر میں یوم سیاہ منایا، نماز جمعہ کے بعد کراچی، لاہور اسلام آباد، کوئٹہ، سکھر، کندھکوٹ، جیکب آباد سمیت دیگر شہروں میں صحافتی تنظیموں کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر آر آئی یو جے، پریس کلب اور دیگر صحافتی تنظیموں کے نمائندگان پیکا ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے خلاف نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج میں شریک ہوئے ،نیشنل پریس کلب پر یوم سیاہ کے سلسلے میں سیاہ پرچم لہرا دیا گیا۔صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی، صدر آر آئی یو جے طارق ورک، آصف بشیر چوہدری شریک تھے،

    اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے بھی صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا، شرکاء نے پیکا ایکٹ کی منظوری کے خلاف شدید نعرے بازی کی، شرکاء نے ہاتھوں میں پیکا ایکٹ مخالف نعروں پر مشتمل پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے، ، مقررین نے اس موقع پر کہا کہ آج ملک بھر میں پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ منایا جارہا ہے، کوئی فرد ایسا نہیں جو سوشل میڈیا کی ریگولیشن نہ چاہتا ہو، ہم چاہتے تھے ایسا قانون بنایا جائے جو کسی بھی وقت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال نہ ہو، ہمارا مطالبہ تھا کہ فیک نیوز کی تعریف سامنے لائی جائے تاکے قانون کا غلط استعمال نہ ہو،اس قانون میں متاثرہ فریق کے پورے پاکستان سے کوئی بھی آپ کے خلاف مقدمہ درج کرسکتا ہے اظہار رائے کو قابل دست اندازی جرم صرف دنیا کے تین ممالک میں بنایا گیا ہے

    علی رضا علوی نے خطاب میں کہا کہ میں داد دیتا ہوں اس کو جس نے یہ قانون لکھا اور انکو بھی داد دیتے ہیں جنھوں نے اس پر دستخط کیے ۔آزادی صرف ان لوگوں کو ہے جنھوں نے چوری کرنی ہے ، ڈکیتی کرنی ہے بدمعاشی کرنی ہے ۔ حقوق کو غصب کرنا ہے ۔ ظلم کرنا ہے، ان سب کو کھلی چھٹی ہے، لیکن آزادی صحافیوں کو نہیں ہے،قلم والوں کو کیمرے والوں کاکیا جرم ہے، تین سال قید، بیس لاکھ جرمانہ صحافی تو شاید ساری زندگی بیس لاکھ نہ کما سکیں،

    اینکر محمد مالک نے کہا کہ یہ کوئی صحافیوں کی جنگ نہیں ہے یہ عام آدمی کی جنگ ہے ۔اس لئےواضح ہونا چاہئے کہ کسی ایسے قانون کی ضرورت نہیں، قوانین موجود ہے، حکومت صرف عملدرآمد کروائے،اس قانون میں بدمعاشی دیکھیں اپیل آئینی بینچ میں جائے گی جو ان کے ہاتھ کی باندی ہے، ہم بددیانت سوچ کے خلاف ہیں،

    نسیم زہرا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ اس زعم میں ہوتے ہیں کہ ہر حال میں ان کی مرضی چلے گی، پاکستان کی تاریخ شاہد ہے یہ نہیں ہو سکتا، قانون جو ابھی آیا ہے اس پر کسی سے بات نہیں کی گئی، نیت کا فقدان،بدنیتی پر مبنی ہے، سٹیک ہولڈر سے بات نہیں ہوئی،

    آزادی صحافیوں کی ریڈ لائن ہے ،غریدہ فاروقی
    سینئر صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ آزادی صحافیوں کی ریڈ لائن ہے ،اس آزادی کو کوئی چھین نہیں سکتا، یہ آئینی قانونی آزادی ہے اور بنیادی انسانی حق ہے، اس کو کسی صورت پامال نہیں ہونے دیا جائے گا، صحافیوں کے پاس آواز اور آزادی ہے وہ کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے، صحافت ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہئے، اس کا اہم پہلو شخصی ذمہ داری ہے، قوانین پہلے بھی موجود ہیں ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،جہاں ہو رہا وہاں پوری دنیا میں قانون کا مذاق بنا دیا گیا، اس قانون کو ہم نہیں مانتے، پورا یقین ہے کہ افضل بٹ سمیت دیگر قائدین کی قیادت میں ہم آگے بڑھیں گے، حکومت کا شکر ہے کہ صحافی برادری جو اختلافات کا شکار تھی حکومت نے اس کو متحد کر دیا.

    آصف بشیر چوہدری جنرل سیکریٹری آر آئی یو جے کا کہنا تھا کہ آج ملک بھر میں پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ منایا جارہا ہےکوئی فرد ایسا نہیں جو سوشل میڈیا کی ریگولیشن نہ چاہتا ہو،ہم چاہتے تھے ایسا قانون بنایا جائے جو کسی بھی وقت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال نہ ہو ۔

    پیکا ایکٹ،یوم سیاہ،لاہور پریس کلب پر سیاہ پرچم، پیکا کالا قانون ہے،ارشد انصاری
    پاکستان بھر میں پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر لاہور پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرا دیا ، متنازعہ کالے قانون پیکا کے خلاف لاہور پریس کلب میں بھی یوم سیاہ منایا گیا جس کی قیادت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کی۔یوم سیاہ میں احتجاجی مظاہرے میں سی پی این ای، ایمنڈ، پی بی اے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، اے پی این ایس،پی یوجے، لاہورپریس کلب ،پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی ، میڈیا ورکرآرگنائزیشن، ایپنک، ایسوسی ایشن فوٹوجرنلسٹس آف لاہور، کیمرہ مین ایسوسی ایشن سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا کالا قانون ہے جو حکومتی اوچھا ہتھکنڈا ہے،جب صدر پاکستان نے اس قانون پر دستخط کئے ہوں گے اس دن بھٹو اور بی بی شہید کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی، پیپلزپارٹی تو شہداءکی پارٹی ہے لیکن اب یہ صرف زرداری کا حصہ ہے، سب سیاسی جماعتیں کالے قانون کے حق میں تھیں اور پاس کردیا،پرویز مشرف و ضیا الحق آئے اور چلے گئے اب آپ کے گھر جانے کا وقت ٹھہر گیا،کالے قانون کو لاگو کریں گی تو حکومتیں چلی جائیں گی، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا سی پی این ای، پی بی اے سمیت تمام پریس کلبز پیکا کے خلاف ہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ ہے جب تک کالا قانون ختم نہیں ہوگا نہ خود چین سے بیٹھیں گے نہ بیٹھنے دیں گے،اب اسمبلیوں میں بائیکاٹ ہوں گے بڑا مارچ اسلام آباد سے سینیٹ و قومی اسمبلی تک جائے گا۔یہ مت سمجھیں یوم سیاہ پر احتجاج ختم ہوگیا اپنا حق لیں گے پیکا ایکٹ کو ختم کرایں گے، ہم پیکا ایکٹ پر عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے ، اب آئندہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کا رخ کریںگے، پیکا ایکٹ کو دفن کردیں گے، ستائیس پریس کلب ہمیں فالو کرتے ہیں تو ملک بھر میں صحافی سراپا احتجاج ہیں۔سیکرٹری پریس کلب زاہد عابد نے کہا کہ ایک بار پھر لاہور پریس کلب میں احتجاج کرنے کی نوبت آ کئی ہے،حکومتی ناعاقبت کی وجہ سے پیکا ایکٹ منظور کیاگیا،حکومت اس بات پر اڑی ہوئی ہے لگتا ہے انہیں گھر جانے کی جلدی ہے، اچھی خاصی چیزوں کو ڈی ٹریک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے صحافی کسی کی پگڑی اچھالنے یا فیک نیوز کے حق میں نہیں لیکن کسی کی ،پسند کی خبریں بھی صحافی نہیں دے گا حکومت کو جو اقدام کرنے ہیں کر لے۔ پیپلزپارٹی مگر مچھ کے آنسو روتی ہے، پیپلزپارٹی کہتی اگر دستخط نہ کرتے تو بھی پیکا ایکٹ آئین کا حصہ بن جاتا، حکومت ہوش کے ناخن لے پیکا ایکٹ پر تحفظات کو دور کیاجائے کیونکہ اب کچے کے ڈاکو زیادہ محفوظ ہیں،لیکن صحافی کا جرم ناقابل ضمانت ہوگا ۔

    lpc

    نوازشریف اور ن لیگ کے حق میں بات کی،سزائیں بھی بھگتیں لیکن یہ قربانیاں فراموش کرچکے ہیں،ارشاد عارف
    سی پی این ای کے صدر ارشاد عارف نے کہا کہ جنرل ضیاءالحق سے جنرل باجوہ تک جمہوریت سیاست کی ہم نے لڑائی لڑی ہے، ہم بھول جاتے ہیں یہ کسی کے نہیں مفاد کے ہیں،ہر سیاسی جماعت صحافیوں کو استعمال کرتی ہے دیکھیں کس کس نے ہمیں ڈسا ہے، سب سے زیادہ پابندیاں نوازشریف نے بھگتی ہیں انکا نام تک ٹی وی پر نہیں چل سکتا تھا، ہم نے مشکل دورمیں نوازشریف اور ن لیگ کے حق میں بات کی اور سزائیں بھی بھگتیں لیکن یہ قربانیاں فراموش کرچکے ہیں، پابندیاں میڈیا پر نہیں ہر شہری پر ہے جوبولتا اور حق کی بات کرتاہے، پیکا جیسی پابندیاں انسانی حقوق اوراسلامی حق سے محروم کرنا چاہتا ہے ہر رکاوٹ کو دور کرنے کےلئے ڈٹ جائیں گے۔

    حکومت کے گماشتہ خود فیک نیوز پھیلاتے ہیں،کاظم خان
    سی پی این ای کے سابق صدر کاظم خان نے کہا کہ جبر و ظلم کا قانون ہے اس کےخلاف اس وقت لڑتے رہیں گے جب تک اس بل کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا پاتے۔ خواجہ نصیر صدرپنجاب اسمبلی پریس گیلری نے کہا حکومت کے گماشتہ خود فیک نیوز پھیلاتے ہیں پھر لاکھوں لوگوں کی زبان بند کرنا چاہتے ہیں، اصل مسئلہ لاکھوں عوام ہے جو ٹوئٹر ایکس و سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں جسے بند کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جس میں اپوزیشن و حکومت شامل ہیں۔

    سی پی این ای اور پی بی اے کے رہنما ایاز خان نے کہا کہ دوست کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور صدر زرداری نے اس پر اپنا کردار ادا کیوں نہیں کیا ،ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صدر زرداری تو کئی بار کہ چکے ہیں کہ وعدوں کی کیا حیثیت ہے،وہ سیاسی فائدے حاصل کرتے ہیں۔

    پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ پریس کلبز میں بھی پیکا کے کالے قانون کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا ، بہاولنگر میں پریس کلب کے صدر محمد احمد چوہدری کی قیادت میں یوم سیاہ منایا گیا، اوکاڑہ میں صدر پریس کلب شہباز شاہین کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا، ننکانہ میں صدر پریس کلب آصف اقبال شیخ کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا، سرگودھا میں صدر آصف حنیف کی قیادت میں یوم سیاہ منایا گیا، خانیوال میں صدر پریس کلب حماد شاہ کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا، خوشاب میں صدر پریس کلب چوہدری عزیز الرحمان کی قیادت میں یوم سیاہ منایا گیا، شیخوپورہ میں صدر پریس کلب شہباز خان کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا، جھنگ میں صدر پریس کلب لیاقت علی انجم کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا، قصور میں صدر پریس کلب عطا محمد قصوری کی قیادت میں یوم سیاہ منایا گیا، وہاڑی میں پریس کلب کے صدر شاہد نیاز چوہدری کی زیر صدارت پیکا ایکٹ کے خلاف مذمتی اجلاس منعقد ہوا اور پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی اور بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا،مظفر گڑھ میں صدر اے بی مجاہد کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، چینیوٹ میں صدر پریس کلب عامر عمر چوہان نے مظاہرے کی قیادت کی اور پیکا ایکٹ کی واپسی تک سیاہ پٹیاں باندھ کر کوریج کرنے کا اعلان کیا۔ میانوالی میں صدر پریس کلب اختر مجاز کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا، سیالکوٹ میں صدر پریس کلب انور باجوہ نے مظاہرے کی قیادت کی ، لیہ میں صدر ارشد حفیظ کی قیادت میں یوم سیاہ منایا گیا،ڈیرہ غازی خان میں صدر پریس کلب مظہر لاشاری نے مظاہرین سے خطاب کیا۔

    قبل ازیں پارلیمنٹیری رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا اہم اجلاس ہوا جس میں متنازعہ قانون پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف تحریک اور رابطوں کا جائزہ لیا گیا،ممبران نے اجلاس میں احتجاجا بازوں پر کالی پٹیاں باندھ کر شرکت کی،اراکین نے دونوں ایوانوں سے احتجاجا واک آوٹ کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،پارلیمنٹیری رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے "29 جنوری یوم سیاہ” ہر سال منانے کا اعلان کر دیا.

    واضح رہے کہ پیکا ایکٹ نافذ ہو چکا ہے،پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم کا مقصد جھوٹی خبروں اور بڑھتے ہوۓ پروپیگنڈے کو روکنا ہے،اس کے تحت سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں کو قانونی طور پر کنٹرول کیا جائے گا ، اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کرے گی اور غیر قانونی مواد کو ہٹائے گی،کمپلینٹ کونسل بھی بنائی گئی ہے تاکہ جھوٹے مواد کے خلاف شکایات کو حل کیا جا سکے،اس ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا ٹریبونل اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) بھی قائم کی گئی ہے، جو سائبر جرائم کی تحقیقات کرے گی اور مجرموں کے خلاف کارروائی کرے گی،یہ ترامیم شہریوں کو انصاف دلانے کا حق بھی فراہم کرتی ہیں، جس سے غلط فیصلوں کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے،دنیا بھر میں ریگولیٹری ادارے جیسے برطانیہ کا آف کام اور امریکہ کا ایف سی سی بھی اسی طرح کے اقدامات کرتے ہیں،پیکا ایکٹ کی ترامیم کا مقصد آزادی اظہار کو دبانا نہیں، بلکہ جھوٹے پروپیگنڈے کو روک کر معاشرے میں سچائی کو فروغ دینا ہے ، یہ اقدامات ملک کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں

    پیکاایکٹ، کیا آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    متنازعہ پیکا ایکٹ کی منظوری: پی ایف یو جے کا ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان

    پیکا ایکٹ کالا قانون ہے جوکسی صورت قبول نہیں ،بیرسٹر گوہر

    پیکا ایکٹ،صحافیوں کی درخواست پر مولانا کا صدر مملکت سے رابطہ،صدر کی یقین دہانی

    پیکا ایکٹ کی منظوری آزادی صحافت پر کاری ضرب ہے،تابش قیوم

    پیکا ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

    صحافتی تنظیموں کوپیکا ایکٹ کی حمایت کرنی چاہئے،عطا تارڑ
    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کئے، پیکا ایکٹ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے،ملک میں سوشل میڈیا کے ذریعے فیک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر جعلی خبریں، ہراسانی، بچوں سے بدسلوکی جیسی نامناسب خبریں پھیلائی جاتی ہیں،سوشل میڈیا پر ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، پیکا ایکٹ کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچائے جانے والے نقصانات کا تدارک کرنا ہے،سوشل میڈیا پر ملک میں افراتفری پھیلائی جاتی ہے، معیشت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،سوشل میڈیا پر لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، ان پر جھوٹے فتوے لگا دیئے جاتے ہیں، توہین کا الزام لگا کر واجب القتل قرار دے دیا جاتا ہے،سوشل میڈیا پر خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے جس سے نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، پارلیمنٹ نے ضروری سمجھتے ہوئے پیکا ایکٹ کی منظوری دی، پیکا ایکٹ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور خطرات کے تدارک کے لئے لایا گیا، سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اس اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا، ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے، اپیل کے حوالے سے بہت کلیریٹی ہے، ٹربیونل پر لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اسپیکنگ آرڈر پاس کرے، اس آرڈر کو رٹ پٹیشن کے ذریعے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا، رٹ پٹیشن اور ٹربیونل میں پرائیویٹ ممبرز کا حق موجود ہے اور صحافی بھی موجود ہیں، سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی موجود ہے،ابھی اس کے رولز بننے ہیں، اس میں مشاورت کی گنجائش موجود ہے، مشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،سوشل میڈیا کے خطرات کو روکنے کے لئے یہ ایک اچھا اقدام ہے، سوشل میڈیا کے خطرات سے پیدا ہونے والی بدامنی کو روکنے کے لئے یہ قانون کارآمد ثابت ہوگا،پیکا ایکٹ میں دنیا کے بہترین طریقوں کو اپنایا گیا ہے، صحافتی تنظیموں کو اس قانون کی حمایت کرنی چاہئے، رولز کی تیاری اور مشاورت پر ہمیں آگے بڑھنا چاہئے،

  • اپرکرم میں گولیاں چل گئیں، اسسٹنٹ کمشنر زخمی

    اپرکرم میں گولیاں چل گئیں، اسسٹنٹ کمشنر زخمی

    ضلع کرم کے علاقے اپر کرم میں بوشہرہ کے مقام پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر سعید منان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر سعید منان اپنے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ بوشہرہ میں موجود تھے کہ اچانک حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔فوری طور پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمی اسسٹنٹ کمشنر کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ،پولیس نے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جاسکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ جلد ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ عرصہ قبل ہی لوئر کرم میں بھی فائرنگ کے ایک اور واقعے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی بھی اہم معلومات کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو آگاہ کریں۔

    اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوعیت کے حملوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    اللہ تعالیٰ کاپاکستا ن پرخاص کرم ہے.گورنر سندھ کا نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب

    کراچی کے نوجوان سے شادی کی دعویدار امریکی خاتون بارے بیٹے کا انکشاف

  • صدر مملکت  کا  نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ

    صدر مملکت کا نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ

    راولپنڈی: صدر مملکت آصف علی زرداری نے آج پاک فضائیہ کے زیر اہتمام نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ کیا، جہاں انہیں اس منصوبے کی تفصیلات اور اس کی اہمیت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی موجود تھے۔

    دورے کے دوران صدر مملکت کو پارک کی اہمیت اور اس کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک پاک فضائیہ کے ترقی کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کو جدید ٹیکنالوجیز پر مبنی بنیاد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ یہ پارک نہ صرف خلائی، سائبر، آئی ٹی اور ایرو اسپیس میں جدید تحقیق اور ترقی کے امکانات فراہم کرے گا بلکہ نجی اور پبلک سیکٹر کے اداروں کو آپس میں جوڑنے کا بھی ایک ذریعہ بنے گا۔ یہ منصوبہ دنیا کے بہترین ایرو اسپیس، سائبر اور آئی ٹی کلسٹرز میں سے ایک بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

    پارک کے قیام کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، تحقیق و تیاری اور اختراعی مراکز کے ذریعے ملک کے قومی منظرنامے کو بدلنا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کو سماجی، اقتصادی اور سائنسی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ اس کے دفاعی اور سیکورٹی نظام میں بھی اہم بہتری آئے گی۔

    صدر مملکت نے پاک فضائیہ اور اس کے ہنر مند اہلکاروں کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اس جدید ترین تکنیکی ماحولیاتی نظام سے بے حد متاثر ہیں۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی قیادت کے وژن اور فعالیت کی بھی تعریف کی، خاص طور پر اس منصوبے کو بے مثال مدت میں مکمل کرنے کے حوالے سے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس کے ذریعے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک جدید ٹیکنالوجی کی طاقت کے طور پر پہچانا جائے گا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا ملتان میں معمر شہری پر پولیس افسر کے تشدد کے واقعہ کا نوٹس

    پاکستان کے نامور ادیبوں، شاعروں،کالم نگاروں کی یادگار تصویر وائرل

  • فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی مسلسل ہلاکتیں،نورولی کا نیاحکم نامہ آ گیا

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی مسلسل ہلاکتیں،نورولی کا نیاحکم نامہ آ گیا

    فتنہ الخوارج کے سرغنہ نور ولی محسود کی خفیہ گفتگو منظر عام پر آگئی،نور ولی کی جانب سے تمام دہشت گردوں کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔

    خارجی دہشت گردوں کی پے در پے ہلاکتوں کی وجہ سے فتنۃ الخوارج کی قیادت موبائل فون کے استعمال سے خائف ہو گئی، اس سلسلے میں فتنۃ الخوارج کے سرغنہ نور ولی محسود کی خفیہ گفتگو منظر عام پر آگئی۔ذرائع کے مطابق کالعدم فتنہ الخوارج کے سرغنہ خارجی نور ولی محسود کی جانب سے تمام دہشت گردوں کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کردی گئی، خفیہ گفتگو میں خارجی نور ولی محسود دہشت گردوں کو موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی کی ہدایات دے رہا ہے۔خارجی نور ولی محسود نے کہا کہ سارے مجاہدین کو یہ پیغام پہنچا دو کہ موبائل سادہ ہو یا انٹرنیٹ والا ہو، مستقبل میں کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، جب ضرورت ہو تو موبائل استعمال کریں اور پھر فوراً بند کر دیں۔خارجی نور ولی محسود نے اپنی خفیہ گفتگو میں مزید کہا کہ ہماری چھان بین ہو رہی ہے اور ہم پر نظر رکھی جا رہی ہے، سب مجاہدین کو کہہ دو کہ بلاضرورت موبائل کے استعمال کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔صرف ضرورت کے تحت موبائل استعمال کرنا ہے اور پھر فوراً بند کر کے اس سے دُورہو جانا ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی ہے جب فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشتگردوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے فتنہ الخوارج کی قیادت سکیورٹی تدابیر میں سختی لانے پر مجبور ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق اس سے قبل بھی دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے فتنہ الخوارج نے مختلف اقدامات کیے، یہ پابندی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ فتنہ الخوراج کو پے درپے ہلاکتوں کا سامنا ہے، موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی نظر سے بچنا ہے۔دفاعی ماہرین نے بتایا کہ موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا مقصد خارجیوں کے مواصلاتی نظام کو بھی خفیہ رکھنا ہے، موبائل فون استعمال پر پابندی سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کیخلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں موثرطریقے سے جاری ہیں۔

    اسکیٹنگ کمیونٹی کے 14 ارکان فضائی حادثے میں ہلاک

    فیصل واوڈا کو دھمکیاں، ایف بی آر آفیسرز ایسوسی ایشن کی تردید

  • کیا ائیر بیسز  پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟جسٹس حسن اظہر

    کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟جسٹس حسن اظہر

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی ،جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد نے دلائل دیے۔ وکیل خواجہ احمد نے کہا کہ شہری ملٹری ٹرائل میں نہیں آتے، میں مکمل آرمی ایکٹ کو بالکل چیلنج نہیں کر رہا، جسٹس منیب نے بھی اپنے فیصلے میں اسی دلیل کا حوالہ دیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں تنازع ہوا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ویسا بھی ہو سکتا ہے، آج کل ایسی بھی سوچ ہےکہ کوئی سیاسی جماعت ایسی حرکت کرے تو کیا ہونا چاہیے، گزشتہ روز میں نے مہران بیس اور دیگر چندواقعات کا ذکر کیا تھا،
    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ گزشتہ روز ہمیں قائل کیا گیا کہ فوجی ٹرائل فئیر ٹرائل ہوتا ہے، 9 مئی اور 16 دسمبر والے شہریوں میں کیا فرق ہے،وکیل خواجہ احمد نے کہا کہ 16 دسمبر والے افراد دہشتگردانہ واقعات میں ملوث تھے، ان کے ٹرائل کے لیے ترمیم کرنا پڑی تھی جس کے بعد ملزمان کے ٹرائل ہوئے تھے،افواجِ پاکستان کے سول ملازمین پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد نے 9 مئی پر افواج پاکستان کے اعلامیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آرنے 9 مئی واقعے پر 15 مئی کو اعلامیہ جاری کیا، ہمیں اعلامیے پر کوئی اعتراض نہیں، اعلامیے میں کہا گیا کہ 9 مئی پر ادارے میں دکھ اور درد پایا جاتا ہے، کہا گیا 9 مئی کے نا قابل تردید شواہد موجود ہیں، اعلامیے کے بعد ملٹری ٹرائل میں فیئر ٹرائل کیسے مل سکتا ہے؟

    عدالت کے سامنے جب شواہد نہیں ہوں گے تو فیصلے کیسے دیں گے؟جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایف بی علی کیس کے فیصلہ کی کئی عدالتوں میں توثیق کی گئی،21ویں ترمیم کا فیصلہ17ججز نے دیا، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ روز سنتے ہیں کہ جوان شہید ہو گئے ، حملہ آور شہری ہوتے ہیں؟آپ کے مطابق شہری کا ٹرائل فوجی عدالت میں نہیں، انسداد دہشتگردی عدالت میں ہونا چاہئے،موجودہ صورتحال میں ملک کے ڈھائی صوبے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں،ملک میں مکتی باہنی کی تحریک نہیں، حملہ آور سویلینز ہی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کے سامنے جب شواہد نہیں ہوں گے تو فیصلے کیسے دیں گے؟دہشتگردی روکنا ایڈمنسٹریشن کاکام ہے، شواہد اکٹھے کرنا ان کی ذمے داری ہے،پھر کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ 130نمبر پر ہے،جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ انسداد دہشتگردی عدالت ہو یا کوئی بھی، بہتری کیلئے اصلاحات ضروری ہیں،فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت3فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    پاکستانی لڑکے سے شادی کیلیے کراچی آئی امریکی خاتون کی واپسی کے لئے شرط

    امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس برآمد

  • القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    وفاقی وزارت داخلہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملوث اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

    وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر چار اہم ملزمان کے پاسپورٹس منسوخ کر دیے ہیں۔ ان ملزمان میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض، ان کے بیٹے علی ریاض، سابق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور فرح شہزادی ،فرح گوگی شامل ہیں۔ڈان نیوز کے مطابق، وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی درخواست پر 28 جنوری کو ان ملزمان کے پاسپورٹس منسوخ کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ کو خط لکھا گیا تھا۔ وزارتِ داخلہ نے فوری طور پر ان اشتہاری ملزمان کے پاسپورٹس کو منسوخ کر دیا ہے، جن کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں تحقیقات جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان واپس لانے کے لیے کارروائی شروع کر دی تھی۔ نیب حکام نے متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملک ریاض اور ان کے بیٹے کی حوالگی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان دونوں افراد کو بین الاقوامی انسداد منی لانڈرنگ قوانین اور ویانا کنونشن کے تحت متحدہ عرب امارات سے ملک بدر کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

    نیب کے ذرائع نے پی ٹی آئی کے اس موقف کو رد کیا ہے کہ برطانوی حکام نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض پر 190 ملین پاؤنڈ کے اسکینڈل میں کرپشن کا الزام نہیں لگایا تھا۔ نیب کے مطابق، نومبر 2021 میں برطانیہ کی رائل کورٹ آف جسٹس کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے بحریہ ٹاؤن کے معاملات میں کرپشن اور مالی بدانتظامی میں ملوث رہے ہیں۔

    بحریہ ٹاؤن، جو ملک ریاض اور ان کے خاندان کی زیر ملکیت اور زیر انتظام ہے، ایشیا کی سب سے بڑی پراپرٹی ڈویلپر کمپنی سمجھی جاتی ہے۔اس اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں اور نیب کی جانب سے مزید کارروائیاں متوقع ہیں، تاکہ اس معاملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو ایک بارپھر مذاکرات کی پیشکش

    وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو ایک بارپھر مذاکرات کی پیشکش

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی پیش کش کر دی ہے۔

    اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات سے گریز کر رہی ہے، اگر پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہو تو ہم ہاؤس کمیٹی بنانے کو بھی تیار ہیں۔حکومت نے ہمیشہ نیک نیتی سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیے اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہماری کمیٹی نے پی ٹی آئی سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے تحریری مطالبات پیش کریں، تاکہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ وہ پوری دلجمعی کے ساتھ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھنے کے لیے تیار ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اس عمل سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ایک فیصد کمی کے اعلان کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امیج خراب کرنے کے لیے کالے دھندے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حکومت اس کے خلاف مزید اقدامات کر رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کسی قسم کے فساد اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ملک کے مفاد میں بات چیت کرنی چاہیے۔

    انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے بھی وزیرِ اعظم نے گفتگو کی اور کہا کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور حکومت ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    شہباز شریف نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ پاکستان کی افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دے رہی ہیں اور فتنہ الخوارج کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں۔ پوری قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کی توقیر اور تعظیم کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ہی پاکستان کا ترقی اور خوشحالی کا خواب مکمل طور پر حقیقت بن سکے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کا عزم ہے کہ پاکستان کو ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنایا جائے گا.

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    واشنگٹن ڈی سی میں فضائی تصادم،تباہ ہونے والےطیاروں کی تفصیلات

    سابق وفاقی وزیر ہوابازی کاغیر ذمہ دارانہ بیان،محرکات کا پتہ چلانے کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی منظوری
    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر آف دی گرڈ لیوی کیپٹو پاور پلانٹس آرڈینینس 2025 کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ کو وزارت قانون انصاف کی جانب سے 2020 میں پارلیمنٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائین کے پائلٹس کے حوالے سے دئے گئے بیان پر بریفنگ دی گئی- اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک سابق وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائینز کے پائلٹس کے حوالے سے دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ اور مبالغہ آرائی پر مبنی تھا جس سے نہ صرف ملک اور قومی ائیر لائین کا تشخص شدید متاثر ہوا بلکہ قومی خزانے کو بھی شدید نقصان ہوا۔ کابینہ نے مذکورہ بیان کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی جو کہ مذکورہ مبالغہ آرائی پر مبنی بیان کے محرکات کا پتہ چلائے گی اور اس بیان کے نتیجے میں قومی ائیر لائن اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی تخمینہ لگائے گی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سفارش پر مڈل ایسٹ گرین انیشیئیٹو کے چارٹر کی توثیق کر دی- اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان مذکورہ چارٹر کے بانی اراکین میں سے ہے ۔ اس انیشئیٹو کے تحت 200 ملین ہیکٹرز زمینی رقبے کی بحالی کی جائے گی اور 50 بلین درخت اگائے جائیں گے۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر حکومت پاکستان اور یورپین یونین کے مابین ٹیرف ریٹس کوٹہ کی تقسیم کے حوالے سے معاہدے کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے معزز اسلام آباد ہائی کورٹ کی سفارش اور وزارت قانون و انصاف کی تجویز پر اکاؤنٹیبیلیٹی کورٹ III, اسلام آباد کی ری آرگنائزیشن کرنے اور اسے اسپیشل کورٹ (سی این ایس۔III), اسلام آباد میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت بحری امور کی سفارش پر جنرل مینجر انجینئرنگ ، کراچی پورٹ ٹرسٹ رئیر ایڈمرل حبیب الرحمٰن کو زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لیے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کا اضافی چارج دینے کی منظوری دے دی- وزیراعظم نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے باقاعدہ چیئرمین کی تعیناتی کا عمل فی الفور مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت قومی صحت کی سفارش پر وفاقی حکومت کے زیر انتظام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں صوبائی کوٹہ میں 25 فیصد کمی کرنے کی منظوری دی۔یہ اقدام اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کا ڈومیسائل رکھنے والے طلباء کے لئے صوبائی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں انتہائی کم کوٹہ ہونے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاکہ اسلام آباد کا ڈومیسائل رکھنے والے طلباء کو وفاق کے زیر انتظام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں تعلیم کے حوالے سے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں-

    وفاقی کابینہ نے وفاقی حکومت کی رائیٹ سائیزنگ کمیٹی کی سفارش پر وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور وزارت سرحدی امور کے انضمام کے حوالے سے رولز آف بزنس, 1973 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی ادارہ جات کے 17 جنوری 2025 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی-وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 17 دسمبر 2024 کے اجلاس میں سٹیزن شپ ایکٹ، 1952 میں ترامیم کے حوالے سے لئے گئے فیصلے کی توثیق کردی

  • شمالی وزیرستان،6 خوارج جہنم واصل، میجر سمیت2 جوان شہید

    شمالی وزیرستان،6 خوارج جہنم واصل، میجر سمیت2 جوان شہید

    شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ آپریشن 29 اور 30 جنوری کی شب خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر کیا گیا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کا پتہ لگایا اور کامیابی سے چھ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس بہادری کے دوران میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نسیم نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔میجر حمزہ اسرار اس آپریشن کی قیادت کر رہے تھے اور ان کی قربانی اور قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا۔ سپاہی محمد نسیم بھی اس آپریشن میں شامل تھے اور انہوں نے دشمن کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔

    آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھیں گے۔

    29سالہ میجر حمزہ اسرار کا تعلق راولپنڈی سے ہے.میجر حمزہ اسرار اپنے دستوں کی قیادت کر رہے تھے. 26سالہ سپاہی محمد نعیم کا تعلق نصیر آباد ہے.دھرتی کے سپوتوں نے بہادری سے لڑے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا. میجر حمزہ اسرار شہید نے 9 سال تک دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیا.میجر حمزہ اسرار شہید کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی.میجر حمزہ اسرار شہید نے سوگواران میں اہلیہ، والدین اور بہن بھائی چھوڑے.26سالہ سپاہی محمد نعیم شہیدضلع نصیر آباد کے رہائشی ہیں.سپاہی محمد نعیم شہید نے6 سال پاک فوج میں رہتے ہوئے وطن کادفاع کیا.سپاہی محمد نعیم شہید نے سوگواران میں والدین چھوڑے .

    صدر مملکت، وزیراعظم کا شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی پر اظہارِ تحسین
    شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں 6 دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا، جس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف اس کارروائی میں شہادت پانے والے میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اس غمگین موقع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔” وزیراعظم نے مزید کہا کہ "ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔” انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔

    اسی طرح، صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اس کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ "فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بہادری قابلِ ستائش ہے۔” انہوں نے شہداء میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔” صدر مملکت نے دونوں شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا اور انہیں صبر کی دعا دی۔صدر نے یہ بھی کہا کہ "دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی، اور ہمارا عزم غیر متزلزل ہے کہ ہم اپنے وطن کو ان دہشت گردوں سے پاک کریں گے۔”اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے انتہائی بہادری اور عزم کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیا، اور یہ کامیابی ملک کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور اس میں سیکیورٹی فورسز کا کردار کلیدی حیثیت رکھے گا۔

    سیاچن کی بلند ترین چوٹیوں پر پاک فوج کا عزم و حوصلہ

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،لواحقین ایئر پورٹ پہنچ گئے،دل دہلا دینے والی تفصیلات

  • کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟جسٹس حسن اظہر

    کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟جسٹس حسن اظہر

    سپریم کورٹ، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے،سماعت کے آغاز میں جسٹس جمال مندوخیل نے کل دیے جانے والے ریمارکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کل خبر چلی میں نے کہا 8 ججز کےفیصلے کو 2 ججز غلط کہہ دیتے ہیں، خبر پر بہت سے ریٹائرڈ ججز نے مجھ سے رابطہ کیا، میڈیا کی پرواہ نہیں لیکن درستگی ضروری ہے، بات عام تاثرمیں کی تھی اور کہا تھا کہ 8ججز کےفیصلےکو 2 لوگ کھڑے ہوکرکہتے ہیں غلط ہے۔ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا آرٹیکل 175 کے تحت عدالتی نظام میں ذکر نہیں، فوجی عدالتیں الگ قانون کے تحت بنتی ہیں جو تسلیم شدہ ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت بننے والی عدالتوں کے اختیارات وسیع ہوتے ہیں، مخصوص قانون کے تحت بننےوالی عدالت کادائرہ اختیار محدود ہوتا ہے، 21 ویں آئینی ترمیم میں لکھا ہےفوجی عدالتیں جنگی صورتحال میں بنائی گئی تھیں، شہریوں کے ٹرائل کےلیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی تھی، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ٹرائل کے لیے ترمیم کی ضرورت نہیں تھی، ترمیم کے ذریعے آرمی ایکٹ میں مزید جرائم کو شامل کیا گیا تھا۔

    جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں مہران اور کامرہ بیسز کا بھی ذکر ہے، جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کہاں ہوا تھا؟ کامرہ بیس پر حملہ آور ملزمان کا ٹرائل کہاں ہوا تھا ؟ پاکستان کے اربوں روپے مالیت کے 2 کورین طیارے تباہ ہوئے تھے، کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟ وکیل وزارت دفاع نے کہا مہران بیس حملے کے تمام دہشتگرد مارے گئے تھے، جسٹس حسن سوال کیا کیا مارے جانے کے بعد کوئی تفتیش نہیں ہوئی کون تھے؟ کہاں سے اور کیسے آئے؟ کیا دہشتگردوں کے مارے جانے سے مہران بیس حملے کی فائل بند ہو گئی؟ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ تحقیقات ضرور ہوئی ہونگی،جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوا تھا اور ٹرائل 21 ویں آئینی ترمیم سے پہلے ہوا تھا، اس پر جسٹس حسن اظہر نے کہا تمام حملوں کی بنیاد پر آئینی ترمیم کی گئی تھی تاکہ ٹرائل میں مشکلات نہ ہوں۔

    عدالت نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا اور مزید سماعت وقفے کے بعد ہوگی۔

    انڈپینڈنٹ لیونگ سینٹر سکردو میں فری لانسنگ ہب کا قیام

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس