Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مصنوعی ذہانت کس طرح سفری صنعت میں  انقلاب لا رہی ہے، رپورٹ

    مصنوعی ذہانت کس طرح سفری صنعت میں انقلاب لا رہی ہے، رپورٹ

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) سیاحت اور سفری صنعت کو نئی جہت دے رہی ہے، جہاں یہ سفر کی منصوبہ بندی، بکنگ، اور تجربات کو بدل کر رکھ رہی ہے وہیں ذاتی تجربات کی فراہمی سے لے کر ڈائنامک پرائسنگ اور ورچوئل اسسٹنٹس تک، اے آئی ٹیکنالوجی کا انضمام سفری صنعت میں ایک نئے دور کی شروعات کر رہا ہے۔

    ذاتی تجربات: انفرادی ضروریات کے مطابق سفر کی تشکیل

    مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا کارنامہ سفری صنعت میں ذاتی تجربات فراہم کرنا ہے۔ جدید الگورتھمز صارفین کی براؤزنگ ہسٹری، بکنگ پیٹرنز، اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ ان کے لیے منفرد اور ذاتی نوعیت کی تجاویز دی جا سکیں۔
    مثال کے طور پر، KAYAK نے چیٹ جی پی ٹی کو اپنے سسٹم میں شامل کیا ہے تاکہ صارفین کو بہتر اور زیادہ قدرتی انداز میں تلاش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    KAYAK کے چیف سائنٹسٹ میتھیاس کیلر کے مطابق، “یہ فیچر صارفین کو ہماری سرچ انجن کے ساتھ زیادہ قدرتی اور گفتگو پر مبنی انداز میں رابطہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔” صارفین اب ایسے سوالات کر سکتے ہیں جیسے، “لندن سے اپریل میں £300 سے کم میں کہاں کا سفر کیا جا سکتا ہے؟” اور فوری طور پر ڈیٹا پر مبنی جوابات حاصل کر سکتے ہیں۔

    ڈائنامک پرائسنگ: بچت اور آمدنی میں اضافہ

    مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈائنامک پرائسنگ سفر کی بکنگ کے انداز کو بدل رہی ہے۔ یہ الگورتھمز حقیقی وقت میں طلب، موسمی حالات، اور صارفین کی ترجیحات جیسے عوامل کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ قیمتوں کی حکمت عملی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف صارفین کو مناسب قیمتوں پر خدمات ملتی ہیں بلکہ کمپنیوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔KAYAK جیسے ٹولز کے ذریعے صارفین قیمتوں کا موازنہ کر سکتے ہیں اور سفر کے لیے بہترین وقت کی پیش گوئی کر سکتے ہیں، جس سے فیصلہ سازی آسان ہو جاتی ہے۔

    چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس: کسٹمر سروس کا مستقبل

    اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس سفری صنعت میں کسٹمر سروس کو بہتر بنا رہے ہیں۔ یہ نظام نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) کے ذریعے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے، ریزرویشن کرنے، اور متعدد زبانوں میں تجاویز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    Expedia کا اے آئی اسسٹنٹ “رومی” ایک ٹریول ایجنٹ، کنسیئر، اور ذاتی اسسٹنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں سفر کے شیڈول کی معلومات دیتا ہے اور موسم جیسی رکاوٹوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔KAYAK کے کیلر کے مطابق، “صارفین کو اب معلومات تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، انہیں درست جوابات فوری طور پر مل جائیں گے۔”

    اے آئی اور عالمی سفری صنعت

    مصنوعی ذہانت کے مسلسل ارتقا کے ساتھ، اس کی ایپلیکیشنز عالمی سفری صنعت کو بدل رہی ہیں۔ ذاتی تجربات، ڈائنامک پرائسنگ، اور اسمارٹ اسسٹنٹس کے انضمام سےاے آئی نہ صرف کارکردگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ صارفین کے اطمینان میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔

    چیلنجز اور مستقبل کا راستہ

    اگرچہ مصنوعی ذہانت کے مواقع بے پناہ ہیں، لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا AI انسانی سفری ایجنٹس کے ذاتی لمس کی جگہ لے سکتا ہے؟ یا یہ ان کے تجربے کو مکمل کرے گا؟ امکان یہی ہے کہ ایک ہائبرڈ ماڈل اپنایا جائے گا، جہاں اے آئی معمول کے کام سنبھالے گا اور انسانی ایجنٹس پیچیدہ اور زیادہ اہم معاملات پر توجہ دیں گے۔

    اختتام

    مصنوعی ذہانت محض ایک رجحان نہیں بلکہ سفری صنعت میں ایک انقلاب ہے۔ ذاتی تجربات کو بہتر بنا کر، قیمتوں کو بہتر بنا کر، اور کسٹمر سروس کو آسان بنا کر اے آئی سفر کے تجربات کے نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اس کا سفری صنعت میں انضمام سفر کی منصوبہ بندی اور تجربے کو زیادہ بدیہی، موثر، اور دلچسپ بنائے گا۔

    پاک افغان شاہراہ پر حادثہ، 25 افراد زخمی، سیکورٹی فورسز کی بروقت امداد

    پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے،وفاقی وزیر خزانہ

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کو بڑا جھٹکا،درخواست خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کو بڑا جھٹکا،درخواست خارج

    انسداد دہشتگردی کی عدالت راولپنڈی نے 9 مئی کو ہونے والے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی درخواست بریت خارج کر دی۔

    عدالت کے جج امجد علی شاہ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں بانی پی ٹی آئی نے آرٹیکل 265 کے تحت اپنے آپ کو بری کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم، پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف استغاثہ کے پاس کافی شواہد موجود ہیں، اور اس مقدمے میں ٹرائل جاری ہے۔ظہیر شاہ نے مزید کہا کہ اس کیس میں 12 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں، اس لیے اس وقت بریت کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹرائل کے دوران ملزم کو بری کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

    اس پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست بریت کو مسترد کر دیا اور کیس کی مزید کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالت راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے دو دیگر رہنماؤں اجمل صابر اور سہیل عرفان عباسی کی بھی بریت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس: دو ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد ثبوت عدالت میں پیش

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    جی ایچ کیو حملہ کیس، دو ملزمان اشتہاری قرار

  • کسی بھی غیرجمہوری رویے کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم

    کسی بھی غیرجمہوری رویے کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں عرفان صدیقی نے وزیراعظم کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات جمہوریت کی اصل روح ہیں اور یہ ملک کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے رابطے اور بات چیت سے مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں مدد ملتی ہے، جو کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ مذاکرات سے گریز غیرجمہوری رویہ ہے اور اس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے، جس کا ملک اور قوم کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے دروازے کھولنے چاہیے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو محاذ آرائی اور تصادم سے نہیں، بلکہ مفاہمت اور ہم آہنگی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے وقار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور وہ کسی بھی قسم کے غیرجمہوری رویوں کو برداشت نہیں کریں گے جو ملک کی تعمیر و ترقی میں رکاوٹ ڈالیں۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورتحال میں پاکستان کے استحکام اور ترقی کے خلاف کسی بھی غیرجمہوری رویے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کا ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان

    پاکستان بنگلا دیش کے درمیان ہونے والی پیشرفت پر بھارت پریشان

  • عمران ،بشریٰ  کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    عمران ،بشریٰ کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے۔

    خالد یوسف ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب (قومی احتساب بیورو) نے بدنیتی سے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے معاہدے کا مکمل متن حاصل نہ کرنا نیب کی ہچکچاہٹ اور بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی اے کے حکام کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔مزید برآں، اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کیا جائے۔

    یہ مقدمہ ایک اہم قانونی اور سیاسی محاذ پر جاری ہے، جس کے اثرات نہ صرف عمران خان اور ان کی اہلیہ کی زندگی پر پڑیں گے بلکہ پاکستان کی سیاست پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس اپیل کی سماعت کے حوالے سے مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ، تحریک انصاف کی جانب سے اس فیصلے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا گیا ہے ،حکومت کی جانب سے اس مقدمہ کو عمران، بشریٰ کی کرپشن کہا گیا ہے،

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

  • آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    نذر عباس نے انٹراکورٹ اپیل واپس لینے کی استدعا کردی،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنا دعوی واپس لے سکتے ہیں درخواست نہیں، درخواست اب ہمارے سامنے لگ چکی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنی اپیل کیوں واپس لینا چاہتے ہیں؟ نذر عباس نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسا تھا تو آپ پہلے بتا دیتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا توہین عدالت کارروائی ختم ہونے کا آرڈر آچکا ہے؟ نذر عباس کے وکیل نے کہا کہ جی آرڈر آچکا ہے، نذر عباس کے وکیل نے جسٹس منصور کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنا کلیم واپس لے سکتے ہیں لیکن اپیل واپس نہیں لی جاسکتی، جسٹس جمال خان مندوخیل نے نذر عباس کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کمرہ عدالت سے باہر جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے موکل کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے،

    جو فل کورٹ بنے گا کیا اس میں مبینہ توہین کرنے والے چار ججز بھی شامل ہونگے،جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جب توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی گئی تو آرڈر کیسے دیا گیا، اس فیصلے میں تو مبینہ طور پر توہین کرنے والوں میں چیف جسٹس پاکستان کو بھی شامل کیا گیا، کیا مبینہ طور پر توہین کرنے والے فل کورٹ تشکیل دیں گے، مرکزی کیس آئینی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ توہین عدالت قانون میں پورا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے، دونوں کمیٹیوں کو توہین کرنے والے کے طور پر ہولڈ کیا گیا،طریقہ کار تو یہ ہوتا ہے پہلے نوٹس دیا جاتا ہے،ساری دنیا کیلئے آرٹیکل 10اے کے تحت شفاف ٹرائل کا حق ہے،کیا ججز کیلئے آرٹیکل 10 اے دستیاب نہیں، جو فل کورٹ بنے گا کیا اس میں مبینہ توہین کرنے والے چار ججز بھی شامل ہونگے،ہمیں نوٹس دے دیتے ہم چار ججز انکی عدالت میں پیش ہو جاتے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا انٹراکورٹ اپیل میں وہ معاملہ جو عدالت کے سامنے ہی نہیں کیا اسے دیکھ سکتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تو کیا ہم بھی فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کریں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، مناسب ہوگا ججز کراس ٹاک نہ کریں،

    عدالت میں موجود کوئی وکیل ہمیں بتائے کہ ہمارا کیا مفاد ہے ؟جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا یہ مقدمہ آئینی بنیچ کو بھیجا جا سکتا تاکہ دائرہ اختیار کا تعین ہوسکے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل آئینی بینچ کو نہیں جا سکتی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہمارے سامنے جو اپیل تھی وہ غیرموثر ہوچکی ہے، عدالت کے سامنے کوئی کیس ہی نہیں تو کارروئی کس پر چل رہی؟ جو کچھ ہو رہا ہے یہ عدلیہ کے اس ادارے کی بدقسمتی ہے، چھ ججز کے خط پر اگر سپریم کورٹ ڈٹ جاتی تو آج یہ حالات نہ ہوتے، کیا اب ہم فیصلہ سنانے والے ججز کو نوٹس جاری کریں گے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نوٹس جاری کر سکتے ہیں لیکن کریں گے نہیں، کمیٹی کے ایک ممبر نے خط بھی لکھا جس میں ہمارے مفادات کے ٹکرائو کا ذکر ہے، کیا ہم پر اعتراض کرنے والے مقدمہ میں فریق تھے؟ اعتراض کرنے والے کو پہلے میرا مفاد اور پھر ٹکراؤ ثابت کرنا ہوگا، میرا کہیں ذاتی مفاد ہو تو کیس نہیں سنوں گا، عدالت میں موجود کوئی وکیل ہمیں بتائے کہ ہمارا کیا مفاد ہے ؟ہمارا انٹرسٹ آئین کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہمارے سیاستدان ہوں یا عوام ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے،

    ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل کی درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید نے بغیر کسی وجوہات کے کیس نمٹا دیا،عدالت نے کہا کہ بینچ کی اکثریت انٹرا کورٹ اپیل نمٹانے کی وجوہات دے گی،جسٹس جمال مندوخیل اورجسٹس محمد علی مظہروجوہات بتائیں گے،جسٹس مسرت ہلالی اورجسٹس عرفان سعادت بھی وجوہات بتائیں گے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ اٹارنی جنرل کسی میٹنگ میں گئے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ کا معاملے پرموقف کیا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک مسئلہ ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے سامنے چیلنج نہیں ہوا ، ہم تب ہی فیصلے کا جائزہ لے سکتے ہیں جب چیلنج ہوا ہو، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر فیصلے پرسوموٹو لینا ہے تو اس کا اختیار آئینی بینچ کے پاس ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ خدانخواستہ اس وقت ہم سب بھی توہین عدالت تو نہیں کر رہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اب یہ فیصلہ عدالتی پراپرٹی ہے، ایک بار اس کو دیکھ لیتےہیں،روز کا جو تماشہ لگا ہوا ہے یہ تو ختم ہو،دیکھ لیتے ہیں یہ کارروائی شروع کیسے ہوئی؟ کیا کمیٹیوں کے فیصلے اس بینچ کے سامنے چیلنج ہوئے تھے؟یہ ہمارے مفادات کا معاملہ ہے اس لیے ہم نہ بیٹھیں ؟ یہ مفادات والے معاملے پر مجھے بول لینے دیں،آئینی بینچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی ہیں؟ ہم دو دو بینچ روزانہ چلا رہے ہیں یہ مفادات ہیں؟ اگر آئینی بینچ میں بیٹھنا مفاد ہے تو پھر جو نہیں شامل وہ متاثرین میں آئیں گے، مفادات والے اور متاثرین دونوں یہ کیس نہیں سن سکتے،ایسی صورت میں پھر کسی ہمسایہ ملک کے ججز لانا پڑیں گے،کیا ہم خود شوق سے آئینی بینچ میں بیٹھے ہیں؟ مجھے توہین عدالت کا مرتکب قرار دیاگیا میں کمیٹی اجلاس میں نہیں جاؤں گا،توہین عدالت کے نوٹس کا سلسلہ رکے اس لیے چاہتے ہیں ایسے حکم جاری نہ ہوں، آنے والے ساتھی ججز کو توہین عدالت سے بچانا چاہتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا کہ آج ایک سینئر سیاستدان کا بیان چھپا ہے کہ جمہوریت نہیں ہے،6ججزکا عدلیہ میں مداخلت کا خط آیا تو سب نے نظریں ہی پھیر لیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ تیسری مرتبہ یہ بات کر رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم صرف اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں، جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں وہاں روایات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ روایات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ نے دو رکنی بینچ میں فل کورٹ کی استدعا کی تھی؟وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ اس بینچ میں بھی استدعا کر رہا ہوں کہ فل کورٹ ہی اس مسئلے کو حل کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم آرڈر کریں اور فل کورٹ نہ بنے تو ایک اور توہین عدالت شروع ہوجائے گی،

    جعلی عامل کا تشدد، 30 سالہ خاتون کی موت

    مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر،اہم ملزم گرفتار

  • امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

    امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

    ضلع ہنگو کے علاقے ٹل سے 100 گاڑیوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ ضلع کرم روانہ ہوگیا ہے، جس میں ضروری اشیاء کی ترسیل کی جارہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو، گوہر زمان نے بتایا کہ اس قافلے کا آغاز ٹل سے 60 گاڑیوں کے ساتھ کیا گیا، جس کے بعد مزید 40 گاڑیاں روانہ ہو چکی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ اس امدادی قافلے میں آٹا، گھی، چینی، ادویات اور روزمرہ کی دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں تاکہ کرم کے علاقے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ قافلے کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

    واضح رہے کہ کرم میں اس سے قبل سامان لے جانے والے قافلوں پر دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے کرم میں شرپسندوں کے خلاف خصوصی آپریشن شروع کر رکھا ہے تاکہ وہاں کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔یہ قافلہ کرم میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا، اور اس اقدام سے علاقے میں عوامی سطح پر اطمینان اور سکون کی فضا قائم کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔

    قومی بنکرز کی مسماری کے سلسلے کو آج پھر سے شروع کیا جانے کا امکان ہے ، سرکاری ذرائع کے مطابق بگن بازار کی ٹوٹی ہوئی اور نقصان شدہ عمارتوں کی تزئین و آرائش کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ،کرم متاثرین کو امدادی رقوم دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے آج کے قافلے میں پیٹرول کی مصنوعات بھی شامل ہیں ، آج کے قافلے میں آٹا، چینی، پھل، سبزیاں، ادویات اور دیگر سامان شامل ہے – لوئر کرم کے مشران کوہاٹ میں 25 جنوری کو ہونے والے حکومتی جرگے میں شرکت کر چکے ہیں جبکہ اپر کرم اور پارا چنار کے مشران نے جرگے میں شمولیت سے انکار کیا تھا ۔اپر کرم اور پارا چنار کے مشران کے ساتھ حکومتی جرگہ جلد متوقع ہے ، قافلے کی حفاظت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز بھی معاونت کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں- کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داران سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا –

    بل گیٹس نے طلاق کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دے دیا

    سیف علی خان کے علاج کیلئے25 لاکھ ، میڈیکل کلیم کی منظوری پر سوالات اٹھ گئے

  • ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم کر دی۔

    دورانِ سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا،عدالت نے کمیٹیوں کے اختیار پر فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے فائل چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھیج دی،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، نذر عباس نے جان بوجھ کر توہین عدالت نہیں کی، چیف جسٹس پاکستان اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیں،

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، عدالت نے کمیٹیوں کے اختیار پر فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھیج دی، چیف جسٹس پاکستان اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اور ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، عدالتی وقار کے پیش نظر توہین عدالت کا نوٹس کمیٹیوں کو نہیں کر رہے، یہ اہم معاملہ ہے، چیف جسٹس ہمیشہ کے لیے اسے طے کرنے کے لیے فل کورٹ تشکیل دیں۔،ایڈیشنل رجسٹرار نذرعباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا حکمنامہ جسٹس منصورعلی شاہ نے تحریر کیا، حکم نامہ 20 صحفات پر مشتمل ہے،سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذرت عباس کے خلاف شوکازنوٹس کی کارروائی ختم کر دی۔

  • وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

    وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع لکی مروت، ضلع کرک اور ضلع خیبر میں فتنتہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ان آپریشنز میں ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 30 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 3 علیحدہ علیحدہ کارروائیوں میں 30 خوارج کو ہلاک کردیا تھا، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 24 اور 25 جنوری کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں تین الگ الگ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 30 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پی ٹی آئی نے پورے مذاکراتی عمل کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے،عرفان صدیقی

    ضلع لکی مروت میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر ایک آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے 18 خوارج کو ہلاک جبکہ 6 کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا، ضلع کرک میں ایک کارووائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 8 خوارج ہلاک ہوئے،خیبر ضلع کے عمومی علاقے باغ میں سیکیور ٹی فورسز نے 4 خوارج کو ہلاک کر دیا،جن میں خارجی رہنما عزیز الرحمن عرف قاری اسماعیل اور خارجی مخلص بھی شامل تھے، جبکہ 2 خوارج زخمی ہوئے۔

    لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ بجھنے کی امید

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جبکہ مارے جانے والے دہشت گرد معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھےعلاقے میں کسی بھی باقی ماندہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیرنس آپریشن جاری ہیں، پاک فوج دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری

  • نائیک آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر ہمت و عزم کی زندہ مثال

    نائیک آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر ہمت و عزم کی زندہ مثال

    نائیک محمد آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کی شہادت کو اپنی طاقت، حوصلہ اور جینے کا مقصد بنا لیا ہے۔ ان کی کہانی ایک ایسی مثال ہے جس میں صبر، عزم، اور حب الوطنی کی بے مثال قربانیوں کا رنگ نمایاں ہے۔

    نائیک محمد آصف نواز شہید، جو پنجاب رجمنٹ کے دلیر سپاہی تھے، نے 22 نومبر 2017 کو سیاچن کے محاذ پر دفاع وطن میں اپنی جان دی۔ سیاچن جانے سے قبل وہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز میں حصہ لے چکے تھے، جن میں انہوں نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ ان کی بہادری اور قربانی وطن کے دفاع کے لیے ایک لازوال مثال ہیں۔

    شہید نائیک آصف نواز کی بیوی ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد ایک نیا عزم اور حوصلہ پیدا کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد اپنی قوم کی خدمت اور وطن کی حفاظت کو بنایا۔ ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) کو جوائن کیا اور اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیا کہ وہ وطن کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالیں۔

    ثمرین کوثر کا کہنا تھا: "میرے شوہر کی شہادت نے مجھے مزید مضبوط اور پرعزم بنایا ہے۔ میں نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی قربانی کو ہمیشہ زندہ رکھ سکوں۔ وردی پہن کر اپنے وطن کی خدمت کرنا میرا فرض ہے اور یہی میرا عزم ہے۔” ثمرین کوثر کا مزید کہنا تھا کہ شوہر کی شہادت کے بعد میرا جذبہ بلند ہوا، ملک کی حفاظت ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا، جس دن ڈیوٹی پر مامور ہوں گی اس دن خاوند کا جذبہ میرے سامنے ہو گا، میرے جذبے کو دیکھتے ہوئے پاک فوج نے میرا بہت ساتھ دیا، تہہ دل سے پاک فوج کی شکر گزار ہوں پریڈ کی تیاری اس جذبے کے ساتھ کرنا چاہتی ہوں کہ ملک کے لئے کچھ خاص کرنا چاہتی ہوں، میرے بچے بھی والد کی قربانی اور والدہ کے عزم کو دیکھتے ہوئے وطن کے لئے حاضر ہوں گے، مجھے اس بات پر فخر ہے کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں دونوں بچے، والدین شامل ہوں گے.

    پاک فوج نے ثمرین کوثر کے جذبے کو سراہا اور انہیں اے ایس ایف میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا۔ آج وہ اے ایس ایف اکیڈمی کراچی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں اور ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب قریب ہے۔ ان کی محنت اور عزم نہ صرف ان کے شوہر کی قربانی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لیے ایک مشعل راہ بن چکے ہیں۔

    ثمرین کوثر کی ہمت اور قربانی کی کہانی ہر پاکستانی کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔ ان کا جذبہ یہ ثابت کرتا ہے کہ شہداء کا خون ہمیشہ وطن کے لیے لازوال محبت کی علامت رہتا ہے۔ نائیک آصف نواز شہید اور ان کی اہلیہ ثمرین کوثر جیسے عظیم لوگ ہمیشہ قوم کا فخر رہیں گے اور ان کی جدوجہد نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔

    2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    معاہدے کی خلاف ورزی،اسرائیل کاجنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی برقرار رکھنے کا اعلان

  • تحریک انصاف کا  26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    یہ درخواست پی ٹی آئی کے وکیل سمیر کھوسہ کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی۔پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے اور اس پر فیصلے تک جوڈیشل کمیشن کو ججز کی تعیناتی سے روکنے کی درخواست بھی کی ہے۔درخواست میں پی ٹی آئی نے موقف اختیار کیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والے تمام اقدامات کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی خدوخال کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور عدلیہ کی آزادی آئین کا ایک بنیادی جزو ہے جسے کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں کی جا سکتی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔

    یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس پر عدالت کا فیصلہ آئندہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ججز کی تعیناتی کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں میں تحفظات پائے جا رہے ہیں۔

    تصاویر:برطانیہ اور آئرلینڈ میں طوفان ایووین کی تباہی، نظام زندگی درہم برہم