Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی رہائی کی ٹویٹ کرنیوالے رچرڈ گرینل نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیں

    عمران خان کی رہائی کی ٹویٹ کرنیوالے رچرڈ گرینل نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے رچرڈ گرینل حالیہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں سرخیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔

    انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے حق میں بیانات دیے جس پر پاکستانی سیاست دانوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان ان کے سوشل میڈیا بیانات پر تبصرے کرتے نظر آئے ہیں اور ان بیانات کے ممکنہ اثرات پر گفتگو کی جارہی ہے۔رچرڈ گرینل کے بیانات کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی ری ٹوئٹ کیا، جس سے ایک نیا سیاسی ماحول پیدا ہوا۔ گرینل نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا، جس پر پاکستانی سیاست میں گرماگرمی دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی رہائی پاکستان کی سیاست کے لیے ضروری ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔

    علاوہ ازیں، رچرڈ گرینل نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پاکستان کے میزائل پروگرام پر پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ٹرمپ اور عمران خان کے دور میں زیادہ مضبوط تھے اور دونوں ممالک میں اس وقت زیادہ تعاون تھا۔

    تاہم حال ہی میں، رچرڈ گرینل نے 11 دسمبر 2024 سے پہلے کی اپنی تمام ٹوئٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں، سوائے ایک ٹوئٹ کے جو انہوں نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کیا تھا۔ اس اقدام پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل اہم شخصیات کے نیا عہدہ سنبھالنے پر ایک عام رواج ہے تاکہ ماضی کے تنازعات اور بیانات سے بچا جا سکے۔رچرڈ گرینل کی جانب سے اس قسم کے بیانات اور سوشل میڈیا پر سرگرمی نے پاکستانی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس سے پاکستانی سیاست میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی سرمایہ کاروں کے وفد کے سربراہ، اور ٹرمپ خاندان کے قریبی بزنس پارٹنر جینٹری بیچ نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ رچرڈ گرینل، جو پاکستان کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی لائے ہیں، کو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے گمراہ کیا گیا تھا۔جینٹری بیچ نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ رچرڈ گرینل کو ڈیپ فیک اے آئی والی پرزینٹیشنز دکھائی گئیں، جس نے ان کی پاکستان کے بارے میں غلط سمجھ پیدا کی۔ جینٹری بیچ نے مزید کہا کہ رچرڈ گرینل نے خود انہیں بتایا تھا کہ ان کو یہ غلط معلومات دی گئی تھیں، جو ان کی پچھلی سوچ اور موقف میں تبدیلی کا باعث بنی۔انہوں نے کہا کہ رچرڈ گرینل کی اب پاکستان کے بارے میں پہلے سے بہتر اور حقیقت پسندانہ سمجھ موجود ہے، اور وہ اب اس حوالے سے زیادہ مستند اور حقیقت پر مبنی معلومات رکھتے ہیں۔

    دفع ہو جاؤ،عمران کی رہائی کے مطالبے پر رچرڈ گرینیل کا پی ٹی آئی صارف کو جواب

    ایلچی رچرڈ گرینل کے بیان پر خواجہ سعد کا ردعمل

    کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • پیکا ایکٹ، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    پیکا ایکٹ، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام (ترمیمی) بل 2025 (پیکا) کی توثیق کردی

    صدر مملکت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2025 کی بھی منظوری دے دی،صدر مملکت نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ( ترمیمی) بل 2025 کی بھی توثیق کر دی،ان دستخطوں کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔یہ بل قومی اسمبلی میں 23 جنوری 2025 کو منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ بل سینیٹ سے بھی منظور ہو چکا تھا اور اب صدر مملکت کے دستخط کے بعد اس کا نفاذ ہوگا۔ پیکا ایکٹ کے ترمیمی بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں سائبر کرائمز سے متعلق قوانین کو مزید سخت اور جامع بنایا گیا ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے حکومت کو آن لائن سرگرمیوں پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا، تاہم یہ بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ بل آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ترمیمی بل کے تحت سوشل میڈیا پر مروج ہونے والی نفرت انگیز تقاریر، فحش مواد، اور تشہیری مواد کو روکنے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔

    پیکا ایکٹ کے ترمیمی بل پر حکومت کی حمایت کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے مخالفت بھی سامنے آئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قوانین میں مبہم زبان کا استعمال آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔

    حکومت کا موقف ہے کہ یہ ترمیمی بل سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے کے لیے ضروری ہے اور اس سے عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔اس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اب سوشل میڈیا پر مختلف سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت ہو گی اور سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو روکنے کے لیے نئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر  اعتراض

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر اعتراض

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کر دیا ہے، جس کے باعث اپیلیں واپس کر دی گئی ہیں۔

    ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اعتراضات دور کر کے اپیلیں دوبارہ دائر کریں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے گئے اعتراضات میں ایک اہم اعتراض یہ تھا کہ اپیلوں کے ساتھ سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا گیا، جس میں یہ وضاحت ضروری تھی کہ یہ کیس کسی دوسری عدالت میں زیر سماعت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، بعض صفحات پر دستخط نہ ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ احتساب عدالت نے عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھی، جب کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو معاونت کرنے پر 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ عدالت نے عمران خان پر 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ یہ سزائیں سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کے خلاف عدلیہ کے فیصلے میں انصاف کا فقدان ہے۔اب ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اپیلوں کی واپسی اور اعتراضات کے بعد یہ معاملہ ایک نیا موڑ اختیار کر چکا ہے، اور قانونی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اعتراضات دور کر کے اپیلیں دوبارہ دائر کریں۔

    فخر ہے کہ بیٹا وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا،والدہ حوالدار شوکت شہید

    چین کی کامیابی کی کہانی ہمیں تحریک اور محنت کی ترغیب دیتی ہے۔وزیراعظم

  • ون چائنہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے،صدر مملکت

    ون چائنہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے،صدر مملکت

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ون چائنہ پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا،ون چائنہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے-

    باغی ٹی‌وی: صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے صدر شی جن پنگ کو خط لکھا ہے جس میں صدر آصف علی زرداری نے چینی سال نو اور موسم بہار کے تہوار کے موقع پر چینی ہم منصب کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    آصف زرداری نے خط میں پاکستان اور چین کے مابین "آہنی دوستی” مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے اور دوستی کے بندھن کو آگے بڑھانے کیلئے بیجنگ میں چینی صدر سے تبادلہ خیال کا منتظر ہوں۔

    ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے؟جسٹس جمال مندوخیل کا خواجہ حارث سے استفسار

    انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان ون چائنہ پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا، ون چائنہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے، دونوں ممالک کے درمیان سدا بہار تزویراتی تعاون کی شراکت داری ہے، دونوں ممالک کی قیادت کی پے در پے نسلوں کی انتھک کوششوں نے بین الریاستی تعلقات کے اس منفرد اور مثالی بندھن کو پروان چڑھایا اور مضبوط کیا۔

    صدر مملکت نے خط میں پاک چین تعلقات اور پاک چین اقتصادی راہداری کو آگے بڑھانے میں چینی صدر کی بصیرت انگیز قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چین نے سال 2024 میں مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی۔

    امریکا کے جدید ترین فائٹر جیٹ ایف 35 کو خوفناک حادثہ،پائلٹ محفوظ+

    آصف زرداری نے خط میں پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار اور مسلسل بڑھتی ہوئی دوستی کو سراہا اور صدر شی جن پنگ کی صحت، چینی عوام کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

  • کرم  میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

    کرم اور پارا چنار میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، جس کے باعث مقامی شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے خوراک کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، اور اب تک 313 ٹرک کھانے پینے کی اشیاء لے کر کرم پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، یہ مقدار خوراک کی کمی کو پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہے، اور عوام کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکی۔اس دوران ٹل سے کھانے پینے کی اشیاء لے کر 120 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ کرم پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ضلع کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم 500 اضافی ٹرک بھجوائے جائیں تاکہ خوراک کی کمی پوری کی جا سکے۔

    دوسری جانب لوئر کرم میں بنکرز گرانے کا عمل بھی ایک بار پھر شروع کردیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امن معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک فریقین کے 10 بنکرز کو گرا دیا گیا ہے تاکہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ امن کی فضا قائم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں میں استحکام آ سکے اور خوراک کی فراہمی کے حوالے سے حالات بہتر ہوں۔

    گھوٹکی: پولیس کا کریک ڈاؤن، فائرنگ کا تبادلہ، ملزمان فرار، چوری شدہ دو ٹریکٹر برآمد

    کراچی،لڑکی کی نازیبا تصاویر، ملزم کو 6 سال قید کی سزا

  • سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سیف علی خان میں بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں، بھارتی میڈیا اب یہ کہنا شروع ہو گیا کہ چھری جو ماری گئی وہ چھری نہیں ہے،اس دوران مبشر لقمان نے بھارتی میڈیا کے کلپ بھی چلائے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سچائی ماری گئی ہے، سچائی قتل ہوئی، سیف علی خان نے جھوٹ بولے، کرینہ نے جھوٹ بولے، گھر والے، نوکر، ہسپتال کے ڈاکٹرجھوٹ بول رہے ہیں، سب سے بڑھ کر ممبئی پولیس جھوٹ بول رہی ہے، سچ جوبول رہے ہیں وہ لوگ ہیں جن کو بے گناہ پکڑا گیا، سیف الاسلام جس کو ممبئی پولیس نے پکڑا ہوا ہے، اس پر کافی بات ہو چکی ہے، ویڈیو میں آنے والی شکل مختلف ہے، عمر کا بھی فرق ہے،ممبئی پولیس نے ایک دوسرے کو سرٹفکیٹ بھی دے دیئے، شاباش بھی دے دی ،یہ سب کچھ ہو گیا ہے،تو دوباتیں ذہن میں آتی ہیں کہ یہ کیا کس نے ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بینفشری مجھے سیف لگتا ہے، یا تو وہ جھوٹ بول رہے یا کور اپ کر رہے، یا ان کی آپس میں لڑائی ہوئی، ڈرگز کا اثر ہو سکتا ہے لیکن ممبئی میں دوست مجھے کچھ اور بات رہے ہیں،مجھے کم از کم تین لوگ یہ بات بتا چکے جو بتانے لگا ہوں ،جب تین لوگ ایک ہی بات کریں تو کچھ نہ کچھ تو ہے وہ کہتے ہیں بندہ آیا تھا اور ان کا جانا پہچانا تھا، وہ انکا ڈیلر تھا اور اس کو پیسے دینے تھے انہوں نے، اس پر لڑائی جھگڑا ہوا، بات یہ ہے کہ اس نے کیا اٹھایا، میڈ نے کہا کہ اس نے ایک کروڑ مانگا، کرینہ کہتی کہ اسکی جیولری کو ہاتھ تک نہ لگایا، نہ پینٹنگ کو، نہ کسی اور چیز کو، لے کر کیا گیا،میچنگ جوتے، اپنے کپڑوں سے میچنگ جوتے، اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک کیمرہ جوتے چوری دکھا رہا ہے،یہ چل رہا ہے، اس کے علاوہ اس اپارٹمنٹ کے جتنے کیمرے ہیں انکی کوئی فوٹیج نہیں، چار، پانچ فلور کے کیمرے نہیں چل رہے، فلور نمبر پانچ اور چھ کے دو کیمرے چل رہے جو سیڑھیاں چڑھتے، اترتے دکھائی دے رہا، دو ایسے لوگ ہیں جن کی ٹاپ سیکورٹی ہے، ان کی سیکورٹی والوں کو نہیں پتہ، ڈیڑھ گھنٹے کے وقفے سے سیف رکشہ پر ہسپتال پہنچتے ہیں،تیمور انکو لے کر جا رہا تھا لیکن رپورٹ میں افسر زیدی کا نام آ گیا، افسر زیدی تو دبئی میں ہے، اس نے بیان دیا کہ میں تو تھا ہی نہیں میرا نام آ گیا، وہ بھی جھوٹ ہو گیا، سب سے بڑھ کر یہ ڈاکٹر نے جو کلیم کئے کہ کمر میں چھری، چاقو ٹوٹا ہوا ہے،ڈھائی انچ سٹیل اندر ہو تو کئی ماہ تک ہل نہیں سکتے، چیخیں نکلیں گی، یہ تو ایسے ہسپتال سے نکلا جیسے چھلاوا، ڈاکٹر پر یہ بھی الزام لگ گیا،کہ انہوں نے پہلے ہی دن انشورنش کلیم فائل کر دی، 35 لاکھ کی پاکستان کروڑ کے قریب بنتا ہے،آدھے گھنٹے میں انشورنس کے پیسے بھی مل گئے، بڑی جلدی انشورنس کلیم ہو گئی، ادائیگی ہو گئی، کوئی سوال نہیں پوچھا گیا،کمال کی سروس ہے،

    سیف علی ٰخان حملہ کیس،پولیس نے "خاتون” کو بھی کیا گرفتار

    سیف علی خان نکلے سخت سیکوٹی میں گھر سے باہر

    سیف علی خان کے علاج کیلئے25 لاکھ ، میڈیکل کلیم کی منظوری پر سوالات اٹھ گئے

    سیف علی خان کیس : ممبئی پولیس کی تحقیقات ایک نئے موڑ میں داخل

    سیف علی خان حملہ،پولیس نے ملزم اور سیف کے خون آلود کپڑے تحویل میں لےلئے

  • محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے گزشتہ دنوں اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری پر خیبر پختونخوا میں کسی قسم کے احتجاج نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈا پور پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    پیر کے روز اڈیالہ جیل میں عمران خان اور علی امین گنڈا پور کے درمیان ملاقات ہوئی، جس دوران عمران خان نے وزیر اعلیٰ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ "بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بعد خیبر پختونخوا میں کیوں کوئی احتجاج نہیں کیا گیا؟” انہوں نے علی امین گنڈا پور سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی اور ان پر یہ بھی واضح کیا کہ ایسی خاموشی پارٹی اور صوبے کے مفاد میں نہیں ہے۔ملاقات میں عمران خان نے خیبر پختونخوا میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف بھی توجہ دلائی اور وزیر اعلیٰ کو صوبے میں کرپشن کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ عمران خان نے کہا کہ "صوبے میں کرپشن کی کئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، اور آئندہ ایسی شکایات برداشت نہیں کی جائیں گی۔”

    علی امین گنڈا پور کو عمران خان نے ہدایت دی کہ وہ حکومت کے معاملات میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں جیسے عاطف خان سے مشاورت کریں اور صوبے میں گڈ گورننس کے لیے کام کریں۔ وزیر اعلیٰ پر زور دیا گیا کہ وہ صوبے میں انتظامی معاملات اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو محسن نقوی کے ساتھ تصاویر بنانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں یہ ہدایت دی کہ وہ محسن نقوی کے بجائے حکومتی گورننس پر توجہ مرکوز کریں۔

    واضح رہے کہ 17 جنوری کو احتساب عدالت نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے تحویل میں لے لیا گیا تھا،بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اپنی سزا کاٹ رہے ہیں

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، امریکہ نے پاکستان کے لیے امداد بند ہونے کی تصدیق کردی ہے اور کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ دنوں امریکہ نے عالمی سطح پر تقریباً تمام غیر ملکی امدادی پروگراموں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان معطل شدہ پروگراموں میں یوکرین، تائیوان اور اردن کی امداد شامل تھی، اور ابتدائی طور پر یہ معطلی 90 دنوں کے لیے کی گئی ہے۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے تمام سفارتی اور قونصلر مشنز کو ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ فوراً اپنے امدادی پروگراموں کو معطل کریں اور اس سلسلے میں تمام سرگرمیاں روک دی جائیں۔ اس حکم کے بعد، امریکی قونصل خانے کے اہلکار نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد بھی فی الحال معطل کردی گئی ہے۔

    امریکہ کے فیصلے کے تحت مختلف شعبوں میں چلنے والے متعدد اہم منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس میں ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی پریزرویشن کے تحت جاری منصوبے بھی عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں پانچ منصوبے بند ہو گئے ہیں، اقتصادی ترقی کے سلسلے میں چار پروگراموں پر اثر پڑا ہے، اور زراعت کے شعبے میں پانچ منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت، انسانی حقوق، اور گورننس کے حوالے سے بھی فنڈز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔تعلیمی شعبے میں چار پروگرام اور صحت کے شعبے میں بھی چار منصوبے اس امریکی فیصلے کے تحت متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ معطلی پاکستان میں ترقیاتی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امدادی پروگراموں کی معطلی ایک عارضی فیصلہ ہے اور ان پروگراموں کے دوبارہ شروع ہونے کا فیصلہ ازسرنو جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم، اس بات کا ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ آیا یہ پروگرام دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں، خاص طور پر ان پروگراموں کا جن پر لاکھوں ڈالر کی رقم خرچ کی جاتی ہے۔

    یہ معطلی امریکی حکام کی جانب سے مختلف امدادی پروگراموں کی کارکردگی اور اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی ہے، جس کے بعد مستقبل میں ان پروگراموں کے جاری رہنے یا ختم ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا پاکستان کے اقتصادی اور سماجی شعبوں پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • اسٹار لنک پاکستان تک رسائی مسک کی معذرت پر منحصر

    اسٹار لنک پاکستان تک رسائی مسک کی معذرت پر منحصر

    پاکستانی قانون سازوں نے ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس، اسٹار لنک، کے لیے اجازت کو ان کے حالیہ متنازعہ بیانات پر معذرت سے مشروط کر دیا ہے، جنہوں نے جنوبی ایشیائی ملک میں عوامی غصہ بھڑکا دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستانی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں اعلان کیا کہ اسٹار لنک کو پاکستان میں رجسٹر کیا گیا ہے، جبکہ مسک نے بھی تصدیق کی کہ ان کی کمپنی اس سروس کے آغاز کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔تاہم، گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے مسک کے ان بیانات پر تشویش کا اظہار کیا جنہوں نے پاکستان کو برطانیہ کے "گرومنگ گینگ” اسکینڈل سے جوڑ دیا تھا۔

    قانون سازوں کا مطالبہ

    کمیٹی کے اجلاس میں قانون سازوں نے واضح کیا کہ اسٹار لنک کو پاکستان میں کام شروع کرنے کے لیے ضروری اجازت اور لائسنس درکار ہوں گے۔ ساتھ ہی، انہوں نے مسک سے ان کے ان بیانات پر معذرت کا مطالبہ کیا جن میں انہوں نے پاکستانیوں پر الزام عائد کیا تھا۔سینیٹر پلوشہ خان نے مسک کے بیانات کو پاکستان مخالف قرار دیا اور الزام لگایا کہ وہ بھارت کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
    “ایسا لگتا ہے کہ ایلون مسک نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف غلط الزامات لگانے کی مہم شروع کی ہے،” انہوں نے کہا۔یہ بیان اس وقت آیا جب مسک نے بھارتی رہنما پریانکا چترویدی کے ایک بیان کی حمایت کی جس میں انہوں نے برطانیہ کے گرومنگ گینگ اسکینڈل کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ مسک نے اس بیان کو سوشل میڈیا پر "سچ” قرار دیا۔

    لائسنس کی شرائط

    سینیٹر افنان اللہ خان نے تجویز دی کہ اسٹار لنک کو صرف اس صورت میں لائسنس دیا جائے جب مسک عوامی سطح پر اپنے متنازعہ بیانات پر معذرت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو وزارت خارجہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔گلوبل نیٹ ورک انیشی ایٹو کے نائب چیئرمین اسامہ خلجی نے کہا کہ پاکستانی سینیٹرز کا حق بنتا ہے کہ وہ مسک کے پاکستان مخالف بیانات کے پیچھے محرکات پر سوال اٹھائیں۔“لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں اچھے انٹرنیٹ کی ضرورت کو کیسے پورا کیا جائے۔ اگر اسٹار لنک اچھی کوالٹی انٹرنیٹ فراہم کرنے کے قابل ہے تو اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے،” خلجی نے کہا۔

    اسٹار لنک کے لائسنس کی موجودہ صورتحال

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق اسٹار لنک کی درخواست سیکورٹی کلیئرنس کے زیر غور ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے سینیٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسٹار لنک نے 2022 میں پاکستان میں کام کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔2023 میں متعارف کرائی گئی سیٹلائٹ پالیسی اور 2024 کے اسپیس ایکٹیویٹی قوانین کے تحت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (PSARB) کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ اسٹار لنک کی درخواست کا تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد لائسنس جاری کیا جائے گا۔

    گرومنگ گینگ تنازعہ

    ایلون مسک کے ان بیانات، جن میں انہوں نے پاکستانی نژاد افراد کو برطانیہ کے گرومنگ گینگ اسکینڈل سے جوڑا، پاکستان اور اوورسیز کمیونٹی میں شدید غم و غصے کا باعث بنے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات تعصب اور نسل پرستی کو ہوا دیتے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مسک کے ان بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں "انتہا پسندانہ زہر” قرار دیا۔

    اسٹار لنک کی افادیت

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی خراب سہولیات کے پیش نظر اسٹار لنک جیسی سیٹلائٹ سروسز ملک میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں، جہاں انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے، اسٹار لنک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔خلجی نے کہا کہ پاکستان میں مزید سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کنندگان کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کے پاس بہتر انتخاب ہو اور قیمتیں کم ہو سکیں۔