Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دہشتگرد تنظیموں بی ایل اے،بی ایل ایف کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت عیاں

    دہشتگرد تنظیموں بی ایل اے،بی ایل ایف کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت عیاں

    دہشت گرد تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی ( بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت عیاں ہو چکی ہے۔

    دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان بالخصوص بلوچستان کی ترقی کی دشمن ہیں، 9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ حملے میں شہید ہونے والے 2 معصوم شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق منظر عام پر آگئے۔29 ستمبر 2023ء کو مستونگ دھماکے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے جو کہ ایک مسجد کے قریب ہوا، مستونگ حملے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی معصوم بچی کی تصویر لئے غم سے نڈھال ہے، بی ایل اے کے دل دہلا دینے والے حملوں کی ذمے داری خود بی ایل اے نے قبول کی۔گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کو شہید کیا، بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی ماؤں نے ان دہشت گردوں کی درندگی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور گھناؤنی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔

    4 جنوری 2025ء کو تربت بس حملے میں شہید ہونے والے نوجوان کی والدہ نے چیخ چیخ کر سوال کیا کہ ’’ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے اس کے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔

    کئی حملوں میں ملوث بی ایل اے کے بشیر نامی گرفتار دہشت گرد نے بی ایل اے کی حقیقت کو کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلعت عزیز نامی بلوچ طالبعلم کو بھی بی ایل اے دہشت گرد جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے، 11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ معصوم شہریوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔15 سالہ معراج وہاب بی ایل اے کے وحشیانہ اقدام کا شکار ہوا جسے دہشت گردوں نے بے دردی سے قتل کر دیا، جمیل اور اس کے بھتیجے معراج وہاب کو مبینہ ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ سے وابستگی کے جھوٹے الزام میں بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا۔معراج کی والدہ نے بی ایل اے کے ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ جیسے بے بنیاد الزامات کی تردید کی۔

    ان دہشت گردوں کی حقیقت بلوچ عوام کے سامنے عیاں ہو چکی ہے اور بلوچ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے، سکیورٹی فورسز اب پوری قوت سے ان کا مقابلہ کریں گی اور انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔

    پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، دہشتگرد کمانڈر کا انکشاف

    بلوچستان میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا

    سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائی، 27 دہشتگرد ہلاک

    ایف سی بلوچستان کی بروقت کارروائی: خاران شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا

    بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنیوالے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی

  • کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میری چڑیل انڈیا گئی ہوئی تھی،وہاں سے سیف علی خان پر حملے کی اندر کی خبر لے کر آئی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل خبر لے آئی اور اصل خبر مجھے دے دی، سیف علی خان، کرینہ کپور،جو حملہ ہوا،ممبئی پولیس جو ڈھونڈ رہی ہے، میری چڑیل وہ سب لے آئی، دو نمبریاں کر رہے، میڈیا میں کچھ اور بیان کچھ اور، میں رپورٹ سیف علی خان کی میڈیکل کی شیئر کرتا ہوں اس میں اس کے زخموں بارے لکھا اور لکھا کہ ہسپتال میں جو لے کر آیا بندہ اس کا نام افسر ہے، ابھی تک افسر نام کا بندہ کہیں بھی نہیں ہے،کسی بھی بیان میں، نہ پولیس کے، نہ ڈاکٹر کے، ابھی تک جو جھگڑے ہو رہے تھے وہ یہ کہ تیمور لے کر گیایا جہانگیر،یا کوئی اور،تصویریں تو چھوٹے بیٹے کی تھیں کہ تیمور رکشے ہپر سیف کو لے کر گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ ہسپتال ڈیڑھ دو منٹ دور ہے، اب ڈھائی بجے وہ نکلے، رکشے میں بیٹھے، سڑکیں خالی،ٹریفک جام نہیں، کرفیو نہین اور وہ سیدھا اسے ہسپتال لے کر گیا، لیکن ہسپتال کہہ رہا کہ یہ چار بج کر 11 منٹ پر ہمارے پاس آئے، چڑیل کی رپورٹ بڑی خوفناک ہے، افسر نامی بندہ سیف کو لے کر آیا، 5 ڈاکٹر جنہوں نےپریس کو بتایا تھا کہ اسکا چھوٹا بیٹا آیا تھا،وہ اب کدھر ہے، یہ افسر کون ہے،کہاں سے آ گیا، کون بندہ ہے، یہ رکشہ ڈرائیور بھی نہیں ہے، اس کا نام کچھ اور ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف علی خان نے آج پولیس کو بیان دے دیا ہے اور کچھ چینل کو خرید بھی لیا گیا ہے جس طرح آج تک،وہ کہہ رہا ہے کہ ہر ایک رپورٹ میچ کر رہی ہے،لگ بھگ ہر چیز میچ کر رہی ہے حالانکہ کسی کی سٹیٹمنٹ میچ نہیں کر رہی، ڈاکٹر نے جو پہلے سٹیٹمنٹ دی اور جو میڈیکل رپورٹ آئی اس میں تضاد ہے، میرا تمام بھارتی میڈیا کو چیلنج ہے کہ میری یہ رپورٹ، میڈیکل رپورٹ فیک ہے یا غلط ہے،اگر بھارتی میڈیا میں سے کوئی بھی کہہ دے کہ یہ رپورٹ غلط ہے تو میں مانتا ہوں، بہت بڑا چیلنج دے رہا ہوں مجھے چڑیل پر اعتبار ہے وہ صحیح کاغذ لے کر آئی ہے،رپورٹ میں انٹری کا ٹائم اور نام دیکھئے گا جو لے کر آیا، ان دونوں چیزوں سے پچھلی ساری رپورٹ غلط ثابت ہوں گی، سیف علی خان نےیہ بیان دیا کہ میں اور کرینہ اپنے بیڈ روم میں تھے ہمیں نیچے سے چیخوں کی اواز ائی ہم دونوں نیچے گئے وہاں ایک اجنبی کمرے میں تھا اور بیٹا میرا رو رہا تھا، میڈ اونچی آواز میں بات کر رہی تھی میں نے پکڑنے کی کوشش کی،میں اور کرینہ……یہ سیف علی خان کہہ رہا ہے پولیس کو بیان میں، کہ کرینہ اور میں ایک ساتھ نیچے آئے، اگر یہ لوگ اوپر تھے تو ریا کپور،کرشنا کپور کیسے پوسٹ کر رہی تھیں کہ ہم پارٹی میں تھے،اس وقت انسٹا پر پوسٹ وہ کر رہی تھیں، ڈھائی بجے، سوا دو بجے انہوں نے انسٹا پر پوسٹ کی، آدھا میڈیا بھارت کا یہ بتاتا تھا کہ کرینہ وہاں نہیں تھی پارٹی میں تھی، کرشمہ کا گھر قریب ہی ہے کرینہ کے گھر کے تو وہ وہاں تھی، سونم ،ریا بھی وہاں تھیں، میں کہہ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہے،کرینہ کمرے میں موجود تھی، اس کا حلیہ دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا ویڈیو میں جو وہ گارڈ سے باتیں کرتے نظر آ رہی وہ حلیہ پارٹی والا نہیں ہے،اسکو تو اگر موت کا فرشتہ بتا کر آئے گا توپہلے یہ میک اپ کرے گی

    مبشر لقمان کامزید کہنا تھاکہ ممبئی پولیس یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے جو تحقیقات کی جتنے بھی چوکیدار تھے وہ سو رہے تھے،یہ بات سمجھ آتی ہے؟ ہضم ہو رہی ہے کہ ایک نہیں دو نہیں چھ گارڈ بلڈنگ کے ایک ساتھ سو رہے ہیں،ایک ساتھ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں باجماعت ہو کر،یہ باجماعت سونے کا پہلی بار سنا،پھر کسی نے نہیں دیکھا اس کو جو سیڑھی سے چڑھ رہا ہے اور پائپ کے راستے سے اوپر جا رہا ہے،پورے ممبئی میں کوئی نہیں دیکھ رہا،جن لوگوں کی دو کی تصویریں پہلے دکھاتے رہے وہ لوگ کون تھے،اور وہ وہاں پر کیا کر رہے تھے رات کو ڈھائی بجے،یہ ملزم بنگلہ دیش سے آیا اور ریسلر ہے یہ پروفیشنل، سیف علی خان کے اپارٹمنٹ میں چوری کی نیت سے آیا اس پر چوری کا پرچہ کاٹا گیا، اغواکی کوشش، اقدام قتل کا نہیں کاٹا گیا،اس نےچوری کرنی تھی تو 12 ویں منرل پر کیوں گیا، پہلی دوسری منزل پر کر لیتا، اسکو خواب ائی تھی کہ سیف علی خان کے گھر جانا ہے، کرینہ نے خود بیان دیا کہ میری جیولیری کو ہاتھ تک نہیں لگایا ،کچھ نہیں اٹھایا،جوتے پہنے اس نے وہاں سے اٹھا کر،اور پھر دوبارہ غائب ہو گیا، کمرے میں بند کیا لیکن دوبارہ سے غائب ہو گیا، سب کچھ ہو گیا کسی نے گھر میں سے پولیس کو کال نہیں کی،پولیس کو کسی نے نہیں بتایا، کرینہ گھر میں ہے، دوسرے لوگ گھر میں ہیں ، ملزم نے چوری نہیں کی، چوری کی نیت کا پرچہ کٹا لیکن چوری نہیں ہوئی تو چوری کا پرچہ کیسے کٹ گیا، اسکے بعد وہ غائب ہوا، 12 فلور وہ پھر نیچے آیا تب بھی گارڈ سوتے رہے.

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • انسانی اسمگلنگ،سدباب کیلئے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم

    انسانی اسمگلنگ،سدباب کیلئے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم

    پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات کے دلخراش واقعے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    وزیرِ اعظم نے اس سنگین مسئلے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔وزیرِ اعظم نے اجلاس میں بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جا رہی ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد انسانی اسمگلنگ میں ملوث مجرمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانا اور ان کی گرفتاریوں کے عمل کو تیز کرنا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ "ہم انسانیت کے قاتلوں کو کسی صورت بھی نہیں چھوڑیں گے اور ان کی گرفتاریوں میں تیزی لائی جائے گی۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے بشمول وزارت خارجہ کو انسانی اسمگلروں کی نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

    اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت اور اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ اب تک چھ منظم انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور 12 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ 25 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے تین اہم افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ 16 افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جا چکے ہیں تاکہ ان کی بیرون ملک فرار کی کوششوں کو روکا جا سکے۔اجلاس میں ایف آئی اے کے مشتبہ اہلکاروں و افسران کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بیرون ملک جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیرِ اعظم نے اجلاس میں موجود حکام کو ہدایت کی کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کو مکمل طور پر بے نقاب کریں اور انہیں عبرتناک سزا دلوائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ "غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر ہم سب غمگین ہیں۔” انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو ہر صورت سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔یہ اجلاس وزیرِ اعظم کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عزم و ارادے کی ایک اور واضح مثال ہے، جس کا مقصد نہ صرف پاکستانیوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے بلکہ ملک کو عالمی سطح پر انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی دینا ہے۔

    بھیک دینے اور لینے والے پر مقدمہ درج

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کےدورہ چین کے ثمرات، چھ ہفتے میں تیز ترین فارن انویسٹمنٹ کا آغاز

  • پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، دہشتگرد کمانڈر کا انکشاف

    پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، دہشتگرد کمانڈر کا انکشاف

    مختلف دہشت گرد تنظیموں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے کمانڈرز نے کوئٹہ میں صوبائی وزرا اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی اور خود کو ریاست پاکستان کے سپرد کرنے کا اعلان کردیا۔

    مختلف دہشتگرد تنظیموں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے اہم دہشتگرد کمانڈرز میں نجیب اللہ عرف درویش عرف آدم، عبدالرشید عرف خدائیداد عرف کماش اور دیگر شامل ہیں،دہشت گرد کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ میرا شمار مکران ڈویژن کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے، تمام بڑے عہدیداروں سے قریبی رابطے میں رہا، 19 سال آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ رہا، ان کا اصل روپ دیکھنے کے بعد اپنے آپ کو ریاست پاکستان کے سپرد کر دیا، میرا ایک ہمسایہ تھا جو بی ایل ایف کا کمانڈر تھا، ہم آپس میں بیٹھ کر بلوچ قوم کی محرومیوں پر بات کرتے ،وہاں سے میری ذہن سازی شروع ہوئی، میں نے پھر بی آر پی میں شمولیت اختیار کی، سنٹرل کمیٹی کا بھی ممبر بنا،

    زندگی کے 19 سال دہشتگردوں کے ساتھ گزارے،نوجوان اس سازش اور پراکسی کا حصہ نہ بنیں،نجیب اللہ
    نجیب اللہ کا کہنا تھا کہ میں نے ریاست پاکستان اور انکی سکیورٹی فورسز کو بھرپور نقصان پہنچایا، غیر ملکی ایجنسی نے مجھ سے کہا کہ ہمیں بلوچستان کی آزادی سے کوئی سروکار نہیں ہم آپ کو صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کریں گے، بلوچ آزادی پسند لیڈران بیرون ملک بیٹھ کر عیاشی کی زندگی بسر کررہے ہیں، پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، جبکہ اللہ نظر کا بیٹا ملائشیا میں اعلی تعلیم حاصل کررہا ہے،اختر نذیر کا بیٹا فرانس میں ہے، ایک کا عمان میں ہے، زندگی کے 19 سال دہشتگردوں کے ساتھ گزارے انکا اصل چہرہ سامنے آیا،نوجوان اس سازش اور پراکسی کا حصہ نہ بنیں،پہاڑوں پر بیٹھے لوگ انکا آلہ کار مت بنیں ،انکے اپنے بچے اور خود بیرون ملک بیٹھے ہیں،اگر انہی لیڈران یا اہل و عیال کو بخار بھی ہو تو بہترین علاج کرواتے ہیں لیکن اگر ایک بلوچ زخمی بھی ہوجائے تو اس کے علاج کے لئے چندہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے، علاج نہ ہونے کی وجہ سے جان بھی چلی جاتی ہے، بلوچ آزادی کی تحریکیں گینگ وار کی شکل اختیار کرگئی ہیں،بی ایل اے اور یو بی اے کی لڑائی ہوتی ہے تو ایک عام بلوچ مرتا ہے، لیڈروں کو کچھ نہیں ہوتا،80 سالہ بوڑھے کو ان دہشت گردوں نے اٹھایا اور مسنگ کہہ دیا، انہوں نے اعتراف کیا ہوا کہ خود ان کو اٹھایا ہوا، گینگ وار کی طرز پر ایک دوسرے کو مار رہے ہیں،

    نجیب اللہ کامزید کہنا تھا کہ میرا شمار اہم قائدین میں ہوتا ہے، میں ہمسایہ ملک میں تھا تو میرے اوپر دباؤ تھا کہ میں را کا حصہ بن جاؤں، میں انکاری تھا جس کے بعد مجھے گرفتار کروایا گیا،کئی ماہ کے بعد ضمانت سے رہا ہوا، باہر نکل کر حقیقت سامنے آئی، میرے دو ساتھی اب بھی مسنگ ہیں،مسعود اور جلیل ،مجھے نہیں پتہ وہ زندہ ہیں یا نہیں،میں بہت سوچنے پر مجبور ہوا کہ آیا یہ کیسی آزادی کی تحریک ہے، جس میں ایک دوسرے کو مار رہا ہے،لیڈر کے خلاف کھڑے ہوں،سوال کریں تو مار دیا جائے گا یا ہمسایہ ممالک میں گرفتار کروا دیا جائے گا،مجھے موقع ملا کہ میں ریاست میں آ کر ریاست کے اندر رہتے ہوئے مسائل کے لئے پرامن رہ کر جدوجہد کروں، میں یہ نہیں کہتا کہ مسائل نہیں ہیں، مسائل پرامن جدوجہد سے بھی حل ہو سکتے ہیں.

    صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے، دہشت گردوں کے ہینڈلرز معصوم بچوں کو سبز باغ دکھاکر پہاڑوں پر لے جاتے ہیں، حکومت ہتھیار ڈالنے والوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتی ہے، پہاڑوں پر بیٹھے گمراہ افراد کیلئے راستہ کھلا ہے

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پاکستان کی پارلیمنٹ میں آج ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو آیا، جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

    یہ اجلاس صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت نے ایجنڈے میں آٹھ بل رکھے ہیں، جن پر اپوزیشن کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگی اور اس کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گی۔

    مشترکہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی درخواست کی، تاہم اسپیکر نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر اپوزیشن ارکان نے اپنے احتجاج کا آغاز کیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی، جن میں "پیکا ایکٹ نامنظور” اور "صحافیوں پہ ظلم بند کرو” جیسے نعرے شامل تھے۔ احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ ان ہنگامی حالات میں ایوان میں شور و غوغا مچ گیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کی طرح کا منظر پیش کرنے لگا۔

    اس کے باوجود اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھا اور حکومتی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کرنے کا عمل نہ رک سکا۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ احتجاج ایک دن پہلے کی طرح ہی تھا، جس میں حکومت کے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18منٹ جاری رہا،مشترکہ اجلاس نے 9منٹ میں 4بل کثرت رائے سے منظور کئے،،نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ کے قیام کا بل 2024منظور ،بل سینیٹر منظور احمد نے پیش کیا ،بل کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی،تجارتی تنظیمات ترمیمی بل 2021ء مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا جبکہ درآمدات و برآمدات انضباط ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا۔قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024ء اور نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ بل 2024ء بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیے گئے۔علاوہ ازیں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء ڈیفر کر دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء مؤخر کر دیا گیا۔این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2023ء اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیے گئے۔وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیا گیا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تجارتی تنظیمات ترمیمی بل سمیت 4 قوانین منظور کر لیے گئے، پی ٹی آئی اراکین پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے اور بھرپور احتجاج کیا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت کے ایک گھنٹہ بعد شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، بلاول بھٹو زرداری، وزیر دفاع خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور دیگر اراکین ایوان میں پہنچے، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کونسل کے اراکین بھی ایوان میں موجود تھے۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 12 فروری 2025 کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا.

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا،پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر بھی صحافیوں کے احتجاج میں شامل ہوگئے،صحافیوں کی جانب سے شہباز گردی نامنظور کے نعرے لگائے گئے،پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی،

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔عدالت

  • باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے

    باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کے موقع پر لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب منعقد کی گئی،کھرا سچ کے دفتر 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان کے ہمراہ مہمانوں نے کیک کاٹا، سی ای او باغی ٹی وی ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان اچانک اسلام آباد روانگی کی وجہ سے تقریب میں شریک نہ ہو سکے،کیک کاٹنے کی تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،معروف لکھاری،دانشور ریاض احمد احسان،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم علی، لکھاری و مصنف اعجاز الحق عثمانی، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان، ایگزیکٹو پروڈیوسر کھرا سچ نوید شیخ،محمد عبداللہ، حنظلہ عماد سمیت دیگر شریک ہوئے،شرکاء نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،

    اس موقع پر سی ای او باغی ٹی وی ،سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ باغی ٹی وی کا آغاز اس وقت کیا تھا جب ہمارا مؤقف کوئی چھاپنے کو تیار نہیں تھا، ہمارے خلاف خبریں نشر ہوتیں لیکن ہمارامؤقف نہیں لیا جاتا تھا اس وجہ سے باغی ٹی وی کا آغاز کیا اور آج 13 برسوں تک کامیابی سے سفر جاری ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ باغی ٹی وی کی ایڈیٹوریل پالیسی انتہائی واضح اور پاکستانیت پر مبنی ہے،ہم سب کی خبریں شائع کرتے ہیں تا ہم کسی بھی مذہب فرقے کے خلاف کوئی خبر شائع نہیں کی جاتی، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ باغی ٹی وی پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا میں ایک بڑا نام ہے اور باغی ٹی وی نے اپنے آپ کو منوایا ہے، باغی ٹی وی مزید ترقی کرے گا، اس میں باغی ٹی وی کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم ہے، مبشر لقمان نے باغی ٹی وی کی ٹیم ایڈیٹر ممتاز اعوان، ایڈیٹر باغی ٹی وی انگلش سنیہ حسن، سوشل میڈیا ہیڈ عبداللہ آصف، ازلفہ عبداللہ، نور فاطمہ، انچارج نمائندگان باغی ٹی وی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی سمیت تمام ٹیم کے کردار کو سراہا اور کہا کہ علاقائی نمائندے بھی باغی ٹی وی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب ، خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں باغی ٹی وی کے نمائندگان موجود ہیں، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ باغی ٹی وی پانچ زبانوں میں کام کر رہا ہے، اردو، انگلش،چائنیز، پشتو، دری، اور یہ اعزاز صرف باغی ٹی وی کو ہی حاصل ہے ،پاکستان میں کوئی بھی میڈیا کا ادارہ پانچ زبانوں میں کام نہیں کر رہا،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں تقریب میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں.

    اس موقع پر ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز محمد عثمان نے بہترین کارکردگی پر ٹیم کے اراکین اور لکھاریوں کو سرٹفکیٹ دیئے، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم علی، مصنف و لکھاری اعجاز الحق عثمانی کو بہترین لکھاری کا سرٹفکیٹ دیا گیا، باغی ٹی وی کی ٹیم کے اراکین ممتاز اعوان، سنیہ حسین،نوید شیخ، محمد عبداللہ، جویریہ ،سعد فاروق، نور فاطمہ،ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی،محمد نعمان کو سرٹفکیٹ دیا گیا، سال 2024 میں علاقائی نمائندگان کی جانب سے بہترین کارکردگی پر اوچ شریف بہاولپور سے باغی ٹی وی کے نمائندہ کو "رپورٹر آف دی ایئر” کا سرٹفکیٹ جاری کیا گیا،تقریب کے اختتام پر ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا.

    ejaz

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 13برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 13 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم علی،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے رہنما ،سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

    قبل ازیں باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ کے موقع پر قصور،گوجرانوالہ، سیالکوٹ،ڈیرہ غازی خان، لنڈی کوتل،تلہ گنگ، ٹھٹھہ،تنگوانی، میرپور ماتھیلو و دیگر شہروں میں کیک کاٹا گیا.

    تلہ گنگ:باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر شاندار تقریب کا انعقاد

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن

    گوجرانوالہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد، کیک کاٹا گیا

    ڈیرہ غازی خان: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا شاندار انعقاد

    میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب کا انعقاد

    ٹھٹھہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا کیک عوامی پریس کلب مکلی میں کاٹا گیا

    گوجرہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر عبدالرحمن جٹ کو اعزاز

    قصور: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب، کیک کاٹا گیا

    سیالکوٹ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ بیورو آفس میں منائی گئی

    سرائیکی ادب کے پروفیسر ڈاکٹر الطاف ڈاھر کو باغی ٹی وی کی جانب سے خدمات کے اعتراف میں سرٹیفکیٹ

    لنڈی کوتل پریس کلب میں باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی

    تنگوانی: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا پریس کلب میں کیک کاٹاگیا

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

  • عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو وقت دیا تھا کہ وہ جوڈیشل کمیشن بنائے لیکن انہوں نے ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی لہذا آج کے بعد کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج جیل میں مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،حکومت نے 7 روز میں کمیشن بنانا جو آج تک تھا ،حکومت کی جانب سے آج تک کمیشن نہیں بنایا گیا اس لئے بانی پی ٹی آئی نے مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،آج عمران خان سے میری، میڈیا کی ملاقات ہوئی، عمران خان نےد و ٹوک اعلان کر دیا، اب مذاکرات کا کوئی دور نہیں ہو گا، حکومت نے بھی تک کمیشن کا اعلان نہیں کیا،ہماری خواہش تھی کہ مذاکرات آگے چلیں لیکن برف پگھل نہیں رہی، جس پر افسوس ہے، آج سے ہمارے مذاکرات ختم،اگر کمیشن بننا ہے تو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے 3 ججز پر بنایا جائے، مستقبل کالائحہ عمل بھی عمران خان نے دے دیا ہم جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملائیں گے، ہمیں بیرون ملک مدد کی ضرورت نہیں، البتہ عمران خان کی رہائی کے لئے جو لوگ کوشش کر رہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، بہت جلد عمران خان باہر ہوں گے، ترجمانی کی لڑائی نہیں چل رہی،مسئلہ حل ہو جائے گا

    وزیراعلیٰ سندھ سے چین کی سرکاری انجنیئرنگ کارپوریشن کے وفد کی ملاقات

    کپل شرما ، ریمو ڈی سوزا سمیت 4 معروف فنکاروں کو قتل کی دھمکی

  • وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتہ کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی ہے اور اس کے حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر اڑان پاکستان کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو مقامی طور پر تیار کردہ ملک کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو ضروری قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی ترقی اور استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی ترقی کی رفتار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو 2018 میں رک گئی تھی۔ وزیرِ اعظم نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی استحکام کے دوران ترقی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیرِ اعظم نے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں کمی کا سہرا حکومت کی محنتی معاشی ٹیم کے سر ہے، اور برآمدات میں اضافے، صنعتی اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کے نفاذ اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ کے نظام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومتی پالیسوں پر ان کے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کے جلد تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان اور خطے کی ترقی کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی باصلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے، اور حکومت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

    ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے وزیرِ اعظم کی حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کو سراہا، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے ساتھ حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو تحسین کا نشانہ بنایا۔ وفد کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان بھی شریک تھے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

  • ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کے کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    بینچز کے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے کی، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے عدالت سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر دی،ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی حکم پر بینچ بنانے کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، جسٹس عقیل عباسی نے حامد خان سے سوال کیا کہ آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بینچز ایسے بنے جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم کا سوال آجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کسی ملک میں بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ کوئی ایک مثال ہو؟وکیل حامد خان نے کہا کہ بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بنائے ایسا کہیں نہیں ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوور لیپنگ نہیں ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالو نہیں کرتی تو پھر کیا ہو گا؟ عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز مقرر کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ راجہ عامر کیس میں بھی فل کورٹ بنا تھا۔حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے علاوہ ہر عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کر سکتی ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کر سکتی ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرنے والی صورتِ حال نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز 1980ء کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی؟ کیا جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے؟،وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی، آرٹیکل 191 اے میں آئینی بینچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں، کم از کم 5 ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتِ حال میں 3 آئینی بینچز بن سکتے ہیں، جو سینئر ہو گا وہی بینچ کا سربراہ ہو گا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔

    فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا میں شکر گزار ہوں آپ ایک دن کے نوٹس پر تشریف لائے،احسن بھون بولے جناب کا حکم تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ تو ہمارا حکم مانتے ہیں ،جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے،احسن بھون نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے آپ کوئی آئین کے منافی فیصلہ نہیں کریں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔ عدالت میں دوبارہ قہقے لگ گئے،

    عدالتی معاونین شاہد جمیل،ایڈووکیٹ حامد خان اور منیر اے ملک نے فل کورٹ بنانے کی حمایت کر دی،حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی،

    جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، احسن بھون نے کہا کہ آپ ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، آپ بیٹھیں یا نہ بیٹھیں یہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی ممبر ہوں، احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز بھی لگائے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم جو ججز نامزد کرتے ہیں انھیں تو ایک ہی ووٹ ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہوتا ہے،باقیوں کو گیارہ گیارہ ووٹ پڑ جاتے ہیں،

    کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ بنانے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا مجھے یہ بھی بتادیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہوا تھا؟کیا فل کورٹ بنائی گئی تھی تو صلاح الدین بولے بلکل ہوا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے ہم فل کورٹ کا فیصلہ دے کر بیٹھ جائیں فیصلہ کہیں ادھر ادھر پڑا رہے عمل درآمد ہو نہ اس پر تو فائدہ،کمیٹی کے پاس کیس واپس لینے کا اختیار کدھر سے آگیا۔کیس ہمارے سامنے کمیٹی نے لگایا۔اس طرح سے کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کے آزادی کے منافی ہے،اگر ہم کوئی فیصلہ دیتے تو نظر ثانی میں بڑا بینچ بنا دیتے۔

    سپریم کورٹ، بینچز اختیارات کیس، توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
    بینچز اختیارات کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،عدالتی معاون وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھیں، پارلیمنٹ کا اختیار دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں قانون سازی کرناہے، کمیٹی بینچ کے سامنے ٹھیک کیسز مقرر کرتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پھر کیاکریں؟ یعنی آپ کہہ رہےہیں کمیٹی نےٹھیک کیا؟ مسئلہ کمیٹی کے سامنے رکھیں؟ احسن بھون نے جواب دیا فل کورٹ جوڈیشل آرڈر کےتحت نہیں ہوسکتا ورنہ فساد ہوجائےگا، یہاں ادارے کوتباہ کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، ہرکوئی اپنی پارلیمنٹ،اپنے ججز، اپنی سپریم کورٹ چاہتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم ادارے کو بچانے کے لیے ہی لگے ہوئے ہیں۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے لیے موجودہ بینچ درست طور پر تشکیل نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ رولز کے تحت توہین عدالت کا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس فیصلہ کریں گے، اس بینچ کے پاس توہین عدالت کی سماعت کا اختیار نہیں، یہ معاملہ دیوانی یا فوجداری توہین کے دائرے میں آتا ہے، توہین عدالت کا پورا پروسیجر دیا گیا ہے جو چیف جسٹس کے اختیار میں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائیگا۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

  • پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟  مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    میں پیسے سے کیوں پیار کرتا ہوں جس کی وجہ سے کامیابی کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں، ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم 2025 میں زندگی کے مقاصد کی تکمیل میں ذہنی اصولوں پر بات کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا پیسے کی دوڑ میں مصروف ہے لیکِن ہم ایسے کاموں میں مصروف عمل ہیں کہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایلیٹ کلاس آج بھی ماں کی مامتا جیسے اشتہاروں کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں، معاشرے کو بیہودہ سکرپٹ کے ذریعے ایسا ڈرامہ دیا جا رہا ہے کہ وہاں تخلیقاتی ذہن کا تصور ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے طالب علموں کو زر یعنی دولت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ زندگی میں پیسہ بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے تو آپ اپنی ماں کا علاج نہیں کروا سکتے، آپ خوشیاں نہیں خرید سکتے، آپ اپنے بچوں کی بہتر روزگار کی سہولیات تلاش نہیں کر سکتے، لہذا زندگی میں پیسہ ہے تو آپ کی زندگی میں سکوں کی لہر دوڑنا شروع ہو جائے گی۔

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی اس تقریب میں ” سنو کہانی میری زبانی ” لکھنے والی مصنفہ سعدیہ سرمد، اداکار افتخار احمد عرف افی سمیت دیگر ماڈلز موجود تھیں۔ ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم پر مستقبل کے معماروں یعنی طالب علموں نے خود سے تمام انتظامات مکمل کیے تھے۔ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے طالب علموں کی اس کاوش کی تعریف کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر آپ کو ابھی اس پر شک ہے کہ پیسہ کیوں ضروری ہے تو اپنے اشرافیہ کو دیکھ لیں جو سب کچھ اپنی مرضی کا کرتے ہیں اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوبصورتی میں کوئی کمی ہے اور کوئی تم سے پیار نہیں کرے گی تو بیٹا یہ آپ کی سوچ درست نہیں آپ پیسہ اکٹھا کرنے کے قابل بن جاؤ پیار آنے والی خود کر لے گی۔

    ted
    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالا شاہ کاکو کیمپس میں ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم پر طالب علموں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زندگی صرف ایک ہی چیز کا نام ہے اور وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر آپ میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو آپ اپنی زندگی میں ان قیمتی رنگوں سے محروم ہو جائیں گے جن کے خواب آپ نے کبھی دیکھے تھے۔

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی تقریر کا موضوع تھا ” وائے آئی لو منی ” یعنی مجھے پیسے سے پیار کیوں ہے ؟۔ مبشر لقمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پیسہ ہی وہ واحد چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کی معاشرے میں عزت کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ پیسے والوں سے سخت نفرت کرتے ہیں جو کہ غلط ہے ، جب بیمار ہوتے ہیں تو پیسے والے ملک ریاض کو ہی کال کرتے ہیں کہ میری والدہ یا والد ٹھیک نہیں ان کا علاج کروانے کیلئے مدد کریں۔ لہذا پیسے والوں پر تنقید نہیں بلکہ ان کی طرح پیسہ کمانے والے بنو۔ انہوں نے پاک کلام قرآن مجید کی آیات مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دعا کریں کہ یا اللہ پہلے میری دنیا بہتر بنا پھر میری آخرت۔ لہذا پیسہ دنیا کو بہتر کرنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ مبشر لقمان نے اختتامی الفاظ میں حیران کن فیکٹ بتایا کہ ہم لوگ محنت کرتے کرتے مر جاتے ہیں لیکن اپنے اوپر پیسہ خرچ نہیں کرتے۔ اپنے اوپر پیسہ خرچ کرو اللّٰہ اور دے گا اس ذات پر یقین رکھو۔ انہوں نے اپنی زندگی کی کامیابی کی کہانی بھی بتائی، اور یہ بھی بتایا کہ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ میرے اخراجات یعنی خرچے بڑھا دے انہوں نے کہا میں یہ دعا اس لیے کرتا ہوں کہ اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہوا ہے لہذا جس نے خرچے بڑھانے ہیں وہ اس حساب سے مجھے یقین ہے کہ رزق بھی دے گا۔

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان نے خوبصورت واقعہ کے ذریعے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں رواج بن چکا ہے کہ قانون کی پرواہ کرنے والا کو یہاں لٹکایا جاتا ہے اور جو قانون پاؤں تلے مسل دیتے ہیں ان کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے