Baaghi TV

وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے اور سفارتی کوششوں کو مزید وقت ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کردیا،امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں، جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا، اس لیےجنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک کہ ایران کی تجویز پیش نہیں کی جاتی،انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک تہران اپنی تجویز پیش نہیں کر دیتا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔

ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی، مذاکراتی عمل اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دن بھر ایران سے مذاکرات کے مستقبل اور جنگ بندی کے خاتمے کے وقت سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام واشنگٹن وقت کے مطابق ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے کوئی واضح وقت نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہوگی، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 7 بج کر 50 منٹ بنتا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی میں توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق فوری تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار ایران کی مجوزہ شرائط اور مذاکراتی نتائج پر ہوگا۔

More posts