Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 13 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 13 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے بارہ برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 13برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 13 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    baaghitv

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم عالی،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے رہنما ،سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • ایلون مسک کی برطانوی سیاست میں مداخلت،الزامات اور تنازعات

    ایلون مسک کی برطانوی سیاست میں مداخلت،الزامات اور تنازعات

    ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی سیاست میں متنازع حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور دیگر لیبر پارٹی کے رہنماؤں پر حملے کیے اور غلط معلومات پھیلائیں۔

    مسک نے اپنی 211 ملین فالوورز کے لیے کی گئی متعدد پوسٹس میں کیئر اسٹارمر اور لیبر پارٹی کے ارکان کو برطانیہ میں مبینہ طور پر "گرومنگ گینگز” کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ یہ اصطلاح 2010 کی دہائی میں منظر عام پر آنے والے ایک اسکینڈل کی عکاسی کرتی ہے جس میں شمالی انگلینڈ کے مختلف قصبوں میں کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ ان جرائم کے زیادہ تر مرتکب برطانوی پاکستانی تھے۔

    گرومنگ گینگز اسکینڈل کیا ہے؟

    2011 میں دی ٹائمز آف لندن کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ 1997 سے انگلینڈ کے شمالی اور وسطی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہ کم عمر لڑکیوں کا استحصال کر رہے تھے۔ اس وقت کے چیف انسپکٹر ایلن ایڈورڈز نے کہا تھا، "ہر کوئی نسلی پہلو کو دیکھنے سے ڈر رہا تھا۔”2014 میں روٹرہیم کے قصبے میں ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، 1997 سے 2013 تک کم از کم 1,400 بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ مقامی حکام ان مسائل سے چشم پوشی کرتے رہے۔ اس اسکینڈل نے برطانیہ میں ایک قومی مباحثے کو جنم دیا، جس میں نسل، امیگریشن اور استحصال جیسے مسائل زیر بحث آئے۔

    ایلون مسک کا تنازع کیسے شروع ہوا؟

    اکتوبر میں لیبر پارٹی کی رکن اور "سیف گارڈنگ” کی وزیر جیس فلپس نے اولڈہم کونسل کی جانب سے گرومنگ گینگز کے اسکینڈل پر قومی تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اس فیصلے پر سخت دائیں بازو کی نیٹ ورک جی بی نیوز نے ایک مضمون شائع کیا، جس کے بعد ایلون مسک نے فلپس کو "ریپ جینو سائیڈ ایپولوجسٹ” اور "چڑیل” قرار دیا۔

    کیئر اسٹارمر کا ردعمل

    مسک نے اسٹارمر پر الزام لگایا کہ وہ "ووٹ کے بدلے اجتماعی زیادتیوں” میں ملوث ہیں۔ تاہم، اسٹارمر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "بچوں کا جنسی استحصال انتہائی مکروہ ہے، اور ہمیں اس سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔”2013 کی پارلیمانی رپورٹ میں اسٹارمر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا تھا کہ "انہوں نے جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے مجرمانہ انصاف کے نظام میں بہتری کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔”

    تحقیقات کا موجودہ حال

    2015 سے برطانیہ میں متعدد مقامی اور قومی سطح پر گرومنگ گینگز کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ 2022 میں ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں کا جنسی استحصال اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پروفیسر الیکسس جے، جنہوں نے روٹرہیم انکوائری کی قیادت کی، نے کہا کہ "مزید تحقیقات کے بجائے ہمیں سفارشات پر عملدرآمد شروع کرنا چاہیے۔”

    سعودی عرب جانیوالی خاتون کے پیٹ سے درجنوں ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد

    ہزار ادویات کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہو جانے کا انکشاف

    سیاسی جماعتوں میں معذوری ونگ قائم کیا جائے،ناصرحسین شاہ

  • مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    لاہور(باغی ٹی وی رپورٹ)پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکرپرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ کی تقریب 365 نیوز کھرا سچ کے دفتر میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر ٹیم کھرا سچ، باغی ٹی وی کے ارکان اور 365 نیوز کے ساتھیوں کی موجودگی میں مبشر لقمان نے کیک کاٹا۔ تقریب میں شریک تمام عملے نے انہیں مبارکباد دی اور ان کی صحت مند اور خوشحال زندگی کے لیے دعا کی۔

    تقریب میں متعدد نمایاں شخصیات نے شرکت کی جن میں محمد عثمان ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز 365 نیوز، نوید شیخ ایگزیکٹو پروڈیوسرکھراسچ، ارسا سہیل پروڈیوسر، عبدالرؤف پروڈیوسر، علی رضا ایسوسی ایٹ پروڈیوسر، اسد ملک ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز حیدر اعوان شامل تھے۔

    شرکاء نے مبشر لقمان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق گوئی اور جرات مندانہ انداز کو سراہا۔ یاد رہے کہ مبشر لقمان اپنی بے باک صحافت، جرات مندانہ تجزیوں اور سچائی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ دیانت داری اور اصولوں پر مبنی صحافت کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔

    مبشر لقمان باغی ٹی وی کے سی ای او اور کھرا سچ پروگرام کے میزبان ہیں۔ باغی ٹی وی اور کھراسچ کی ٹیم نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستانی صحافت کا ایک چمکتا ستارہ قرار دیا، جو عوام کو حقائق سے روشناس کرانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔

    تقریب کے دوران شرکاء نے مبشر لقمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی سالگرہ کو ایک یادگار موقع قرار دیا۔ ان کی جرات مند اور بے خوف صحافت پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک قابل تقلید مثال ہے، جس نے ہمیشہ عوام کے لیے سچائی کا راستہ روشن کیا ہے۔

  • خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ  اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم

    خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں، جو کہ ایک تاریخی کامیابی ہے، اور خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ معاشی و سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور ترقی میں شمولیت نہ صرف ان کے حقوق کا تحفظ ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ مسلم دنیا بشمول پاکستان کو لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکیوں کی تعلیم ایک بڑا چیلنج ہے اور مسلم ممالک کو اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی حکومت لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات اور وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے تمام طبقات بشمول خواتین کو علم حاصل کرنے کی اہمیت بتائی ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملالہ یوسفزئی بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں، جنہیں خوش آمدید کہا گیا۔ انہوں نے ملالہ کو بہادری اور ہمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فاطمہ جناح اپنے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ کھڑی تھیں، اور بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ انہوں نے ارفع کریم کا ذکر بھی کیا، جو ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی پہلی خاتون مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ انجینئر بنیں، اور آج مریم نواز کی صورت میں پاکستان کو پہلی خاتون وزیراعلیٰ بھی ملی ہے۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر ایک اور اہم مسئلہ بھی اٹھایا کہ پاکستان میں تقریباً 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تعداد کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرنی ہوگی اور اس کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔شہباز شریف نے اعلان کیا کہ اسلام آباد اعلامیہ کو اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل میں پیش کیا جائے گا تاکہ عالمی برادری میں لڑکیوں کی تعلیم کے اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس کانفرنس میں تعاون فراہم کیا۔

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

  • دریائے سندھ میں سونے کے وسیع ذخائردریافت ، کیا  اس سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟

    دریائے سندھ میں سونے کے وسیع ذخائردریافت ، کیا اس سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟

    پاکستان کا دریائے سندھ، جو خطے کی تاریخ اور تہذیب میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے، میں اربوں روپے مالیت کے سونے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہمالیہ سے شروع ہوکر بھارت سے گزرتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے، دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں سے ایک ہے اور 3200 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ اس کے بطن میں قیمتی خزانے، سونا اور دیگر معدنیات بھی چھپے ہوئے ہیں۔یہ سونے کے ذخائر پنجاب کے ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ میں دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے جیالوجیکل سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ذخائر 600 ارب پاکستانی روپے کی ممکنہ آمدنی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ذخائر، جو دریائی تلچھٹ میں پائے گئے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جمع ہوتے ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سونا ہمالیہ کے شمالی علاقوں سے دریائے سندھ کے تیز بہاؤ کے ذریعے صدیوں میں نیچے پہنچا ہے۔

    دریائے سندھ نے ہمالیہ سے قیمتی معدنیات، بشمول سونے کے ذرات، کو میدانوں تک پہنچانے میں صدیوں سے کردار ادا کیا ہے۔ سرد موسم میں جب پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے تو مقامی لوگ دریائی تہہ سے سونے کے ذرات نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم یہ غیر قانونی سرگرمی حالیہ برسوں میں بہت بڑھ گئی ہے، جس کے باعث حکومت کو کارروائی کرنا پڑی۔2024 میں، پنجاب حکومت نے دریائے سندھ سے سونے کی غیر قانونی کان کنی پر پابندی عائد کر دی۔ سونے کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے وسیع پیمانے پر غیر قانونی کان کنی ہو رہی تھی، جسے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ حکام بھاری مشینری کے استعمال پر خاص توجہ دے رہے ہیں تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے۔ پنجاب کے وزیر برائے کان کنی، ابراہیم حسن مراد نے انکشاف کیا کہ اٹک کے علاقے میں 32 کلومیٹر پر پھیلے سونے کے ذخائر کا وزن 32.6 میٹرک ٹن تک ہو سکتا ہے۔اس دریافت نے مقامی اور صوبائی حکام میں خوشی اور تشویش دونوں پیدا کر دی ہیں۔ اس حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں کہ ان ذخائر کا انتظام کیسے کیا جائے۔ تنازع اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم کو نظرانداز کیا، جس کے باعث سونے کی ممکنہ کان کنی پر تنازع پیدا ہو گیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے بھی دریائے سندھ کے حوالے سے ایک سروے کیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہمالیہ سے سونے کے ذرات دریائے کابل کے ذریعے پشاور اور مردان کے علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

    یہ وسیع ذخائر پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی کے امکانات لاتے ہیں، لیکن ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے انتظام کے چیلنجز بھی پیدا کرتے ہیں۔ حکومت سونے کے ان قیمتی ذخائر کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اصولوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان ذخائر کا استعمال یا دیگر معدنیات جیسے زنک اور پتھر پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ خطے کی کان کنی کی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا۔ دریائے سندھ کے اس چھپے ہوئے خزانے کی تقدیر تاحال غیر یقینی ہے۔

    ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم برقرار
    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات
    چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

  • ڈی آئی خان میں 5 خوارج جہنم واصل ، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    ڈی آئی خان میں 5 خوارج جہنم واصل ، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے پانچ خوارجی مارے گئے ۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ مارے گئے خوارجیوں میں سرغنہ شفیع اللہ عرف شفیع بھی شامل ہے۔ ہلاک خوارجیوں سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والی خوارجی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے ۔مارے گئے خوارجی شہریوں کے قتل عام میں بھی ملوث تھے.ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیر اعظم کی کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین:
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی کی۔ انہوں نے خارجی سرغنہ سمیت 5 خارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر آپریشن میں شریک افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتیوں کی تعریف بھی کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، مجھ سمیت پوری قوم اپنی جان کی پروا کئے بغیر ملک دشمنوں کے خلاف جنگ میں شریک سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین:
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارجی دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ 5 خوارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو شاباش دیتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز نے بروقت آپریشن کرکے خوارجی دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا۔انہوں نے کہا کہ بہادر سکیورٹی فورسز پر قوم کو ناز ہے۔ سکیورٹی فورسز نے خوارجی دہشتگردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ پاکستان کے عوام سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو قوم تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

  • سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز، جو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی، سوا چار سال کے بعد ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس پرواز کا آغاز وزیر دفاع خواجہ آصف کی موجودگی میں ہوا، جنہوں نے مسافروں کو الوداع کرتے ہوئے اس تاریخی موقع پر اہم باتیں کیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پیرس کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی بیان بازی نے پی آئی اے کو بہت نقصان پہنچایا، اور اس کے باوجود پی آئی اے نے سول ایوی ایشن کے ساتھ مل کر محنت کی اور 4 سال کے دوران کئی سو ارب روپے کا خسارہ اٹھایا۔وزیر ہوابازی خواجہ آصف نے پرواز کو خود بھی وزٹ کیا ،وزیر ہوابازی نے پرواز پی کے 749 کے مسافروں سے بات چیت بھی کی۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق، پہلی پرواز جو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی، وہ دن کے بارہ بجے روانہ ہوئی ہے۔ پیرس جانے اور آنے والی پہلی اور دوسری پروازوں کی فلائٹ بکنگ مکمل ہو چکی ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پی آئی اے کی پروازوں کے لیے عوام میں بڑی دلچسپی ہے۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق، وہ پیرس کے لیے ہفتے میں دو براہ راست پروازیں چلائے گی، اور مسافروں کو ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس میں موبائل فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

    یورپ کی فضاﺅں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا ،خواجہ آصف
    اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس پرواز کی روانگی سے قبل ایک تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی محنت کو سراہا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازیں اب یورپ کی فضاؤں میں بھی پرواز کریں گی، اور وہاں سبز ہلالی پرچم لہراے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے برطانیہ میں بھی تین مقامات پر اپنی پروازیں آپریٹ کرے گی۔خواجہ آصف نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ پی آئی اے پر اس وقت 800 ارب روپے کا قرض ہے، اور اس کے باوجود پی آئی اے نے اپنی خدمات میں بہتری لانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، قومی ایئر لائن پاکستانیوں کی میتیں بغیر کسی چارجز کے مفت لے کر آتی تھی لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے اوور سیز پاکستانی اس سہولت سے محروم ہو گئے تھے۔ پورے یورپ کے لئے قومی ایئر لائن کی پروازیں بحال ہو گئی ہیں، یورپ کی فضاﺅں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا ہے، ایک غیر ذمہ دار بیان نے قومی ایئر لائن کو بہت نقصان پہنچایا، ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔

    یہ پرواز پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں کی دوبارہ بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی، اور اس کے ذریعے نہ صرف قومی ایئر لائن کی ساکھ میں بہتری آئے گی، بلکہ پاکستانی شہریوں کو بھی بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی۔

    وزیرِاعظم کی پی آئی اے کی پیرس کیلئے پہلی پرواز کی روانگی پر عوام کو مبارکباد
    اسلام آباد: وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی کے بعد پیرس کیلئے پہلی پرواز کی روانگی پر عوام کو مبارکباد دی۔ وزیرِاعظم نے اس اہم موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک بڑی سہولت حاصل ہوگی، کیونکہ وہ اب براہِ راست پروازوں کے ذریعے اپنے وطن واپس جا سکیں گے اور دیگر اہم مقامات تک بھی آسانی سے سفر کر سکیں گے۔

    وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کے لئے پروازوں کی بندش سے قومی ایئرلائن کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تھا اور اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی تھی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے موجودہ حکومت نے پی آئی اے کا تشخص بحال کیا ہے اور اب یہ قومی ایئرلائن ترقی کی جانب گامزن ہے۔شہباز شریف نے اس کامیابی کے حوالے سے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ ہوا بازی و وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، اور متعلقہ تمام اداروں کے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا اور انہیں تحسین کے لائق قرار دیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی محنت اور عزم کی بدولت پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی ممکن ہوئی۔

  • فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے میں نے ایک پروگرام کیا تھا جس میں بتایا تھا کہ او جی ڈی سی میں کس حد تک کرپشن ہو رہی ہے، آج اسکا پارٹ ٹو بتاؤں کہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی، نااہلی، غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا،نقصان ہو رہا، کرپشن کے انبار ہیں، کتنا پیسہ کس کو گیا کیسے لوٹا گیا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار ہے کیا، لاگت کتنی آتی ہے، اس کے برعکس امریکہ میں کتنی لاگت آتی ہے، حکومتی وزرا میڈیا پر آ کر سرعام جھوٹ بولتے ہیں، وزرا نوازشات کی برسات کر رہے ہیں، گیس کی پیداوار میں گھپلے کیسے ہو رہے، ماری پٹرولیم لمیٹڈ کی نوے فیصد پیدوار اور آمدنی ماری گیس فیلڈ سے آتی ہے ، ایکس اون،اسکا تجارتی نام ایس او ہے، پاکستان میں فی مکعب فٹ گیس کی پیداواری لاگت چھ لاکھ ڈالر ہے، امریکہ میں دو سے تین لاکھ ڈالر ہے، پاکستان میں گیس کی قیمتیں اس لئے زیادہ کیونکہ پیدواری لاگت دگنا ہے، یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے،زرون گیس فیلڈ کی ماہانہ آپریٹنگ لاگت چار لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکہ میں صرف 30 ہزار ڈالر لاگت ہے،ماری پٹرولیم لمیٹڈ کے اخراجات سولہ فیصد یا امریکہ سے بھی آگے ہیں، اس میں قصور حکومت یا موجودہ نظام کا ہے، نہ کمپنی میں بہتری لا سکے، نہ اپنی پرفارمننس بہتر کر سکے، ماری پٹرولیم میں ڈرلنگ کے اخراجات ایم پی ایل بین الاقوامی معیار سے بہت زیادہ ہیں دس ہزار فٹ کنویں کی لاگت 50 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگتا ہے، امریکہ میں ایک کنویں کو 3 ملین ڈالر اور تین ہفتے لگتے، یہ فرق نہ صرف ماڑی پٹرولیم کی ناکامیوں نااہلی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ممکنہ مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یکم جنوری کو گیس کی کرپشن پر پروگرام کیا جس پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا میں نے بتایا تھا کہ کیسے مہنگی گیس پیدا کی جا رہی جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا،حکومتی عہدیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ احتساب کریں بلکہ مجھے چپ رہنے کا کہہ دیا گیا، میں چپ نہیں رہوں گا، سوال بھی اٹھاؤں گا اور کرپشن بھی بے نقاب کروں گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وسائل بے دریغ استعمال کئے جاتے ہیں، کون تھا جو کرپشن کے بازار گرم کر کے بیٹھا تھا ، ایک شخص جو ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ میں آتا، فہیم حیدر ماری پٹرولیم کے سی ای او ہیں،یہ 2020 سے ابتک مسلسل یہاں موجود ہیں.تین سال کے لئے انکو لگایا گیا تھا، 12 اگست کو دوبارہ بورڈ آف ڈائریکٹر نے ایم ڈی مقرر کر دیا، دوبارہ تقرری پھر تین سال کے لئے کی گئی، اس شخص پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا، کمپنی نے حکومت کے خزانے سےپیسہ نکلوایا اور حکومت نے پھر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوایا، سال 2023 میں فہیم کو جو تنخواہیں اور پیسے ملے چار لاکھ چورانوے ہزار ڈالر تنخواہوں اور دیگر کی مد میں ادا کئے گئے جو پاکستانی 13 کروڑ سے زائد ہیں، 2024 میں 27 کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ ادا کئے گئے، یعنی ایک سال میں ہی فائدوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا، اس ادارے میں 803 لوگ ایگزیکٹو میں شمار کئے جاتے ہیں جن کو 2023 میں 8 بلین سے زائد تنخواہیں و دیگر دی گئیں، 2024 میں ایگزیکٹو نے عیاشی کی زندگی گزاری کیونکہ حکومت ن لیگ کی ہے لہذا لوگوں کو نوازا جاتا ہے،یہ کام مصدق ملک کی نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتا، حکومت کی غیر ضروری نوازشات سرکاری کمپنیوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہیں جس کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے.فہیم حید رنے جو تجربہ بتایا وہ اسکا نہیں ہے،

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی، غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والا گرفتار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟

  • عمران خان سے ملاقات کا دن، لیکن ملنے کوئی بھی نہ آیا

    عمران خان سے ملاقات کا دن، لیکن ملنے کوئی بھی نہ آیا

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کا دن تھا، تاہم حیران کن طور پر کوئی بھی رہنما، وکیل یا فیملی ممبر ان سے ملاقات کے لیے نہیں پہنچا۔

    عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل میں معمول کے مطابق ملاقات کا دن مقرر تھا، تاہم آج اس دن پر کسی بھی پارٹی رہنما یا وکیل کی طرف سے جیل میں ان سے ملاقات کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مذاکراتی کمیٹی کا کوئی رکن بھی جیل نہیں آیا، حالانکہ کمیٹی کی جانب سے بات چیت کے سلسلے میں ملاقاتوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس بارے میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں ملی ہے، جس کی وجہ سے وہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے منگل اور جمعرات کے دن مخصوص کیے گئے ہیں۔ جیل کے مینوئل کے مطابق، آج ملاقاتوں کا وقت بھی ختم ہو چکا ہے، تاہم عام طور پر ملاقات کی اجازت ملنے یا نہ ملنے کے باوجود پارٹی کے رہنما اور وکلاء جیل پہنچ کر ملاقات کی کوشش کرتے ہیں۔اس حوالے سے جیل ذرائع نے مزید بتایا کہ اگرچہ ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی کسی طرح کی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر پارٹی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    اس دوران عمران خان کی رہائی اور ان کے مقدمات پر بات چیت کی توقع کی جارہی تھی، مگر آج کے دن ملاقات کا نہ ہونا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آئندہ دنوں میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی کوششیں کامیاب ہو پاتی ہیں یا نہیں، اور کیا ان ملاقاتوں سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔