Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • انسداد دہشت گردی عدالتوں کو کیوں نہیں مضبوط بنایا جاتا؟جسٹس جمال مندوخیل

    انسداد دہشت گردی عدالتوں کو کیوں نہیں مضبوط بنایا جاتا؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں سویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس میں عدالت نے سوال کیا کہ یہ تفریق کیسے کی جاتی ہے کہ کون سا کیس ملٹری کورٹ اورکون ساکیس انسداد دہشتگردی عدالت میں جائے گا؟

    سویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی جس دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،سماعت کے آغاز پر خواجہ حارث نے ملٹری ٹرائل کالعدم قراردینے سے متعلق 5رکنی بینچ کا فیصلہ پڑھ کرسنایا اور کہا کہ فیصلے کے مطابق تمام بنیادی حقوق ہیں جن کی وضاحت کردی گئی ہے، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی حقوق معطل ہونے کے لیے ایمرجنسی ہونا ضروری ہے، معاملہ مختلف ہے کہ ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں ہوسکتا، جسٹس امین الدین نے کہا بنیادی حقوق کا عدالتوں میں دفاع ہو سکتا ہے صرف عملداری معطل ہوتی ہے جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں ملزمان کو فوجی تحویل میں لیاگیا توبنیادی حقوق معطل نہیں تھے، نہ ہی ایمرجنسی نافذ تھی۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مرکزی فیصلے میں آرمی ایکٹ کی شق 2 ڈی کو کالعدم قرار دیا، اس شق کوکالعدم قرار دینے سے مجموعی اثر کیا ہوگا، کیا اب کلبھوشن جیسے ملک دشمن جاسوس کاکیس ملٹری کورٹس میں چل سکتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کےفیصلے سے ملک دشمن جاسوس کا کیس ملٹری کورٹس میں نہیں چل سکتا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہم اپنے پراسیکیوشن کے نظام کو مضبوط کیوں نہیں کر رہے؟ جسٹس اظہر رضوی نے ریمارکس دیے جی ایچ کیو پر پہلے بھی ایک حملہ ہوا جس میں شہادتیں ہوئیں، کراچی میں ایک دہشتگردی کی کارروائی میں ایک کورین طیارے کو تباہ کیا گیا، شہادتیں ہوئیں، طیارہ سازش کیس میں ایک آرمی چیف بیرونی دورے پر تھے تو ان کےجہاز کو ہائی جیک کرنےکی کوشش کی گئی، ان واقعات میں فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے، شہادتیں ہوئیں، یہ تمام مقدمات کہاں چلائے گئے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کون سا کیس ملٹری کورٹس میں چلےگا اور کون سا نہیں چلے گا، یہ تفریق کیسے کی جاتی ہے؟ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ 9مئی واقعات میں 103ملزمان کے خلاف ملٹری کورٹس میں کیس چلا اور باقی کیسز انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چل رہے ہیں، یہ تفریق کیسے کی گئی؟ کون سا کیس ملٹری کورٹس میں جائے گا،کون ساکیس انسداددہشتگردی عدالتوں میں جائے گا؟ ملزمان کو فوج کی تحویل میں دینےکا انسداد دہشتگردی عدالتوں کا تفصیلی فیصلہ کدھر ہے؟ جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ کسی جرم پر کون اور کیسے طے کرتا ہے کیس کہاں جائے گا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مقدمات کہاں چلنے ہیں اس کی تفریق کیسے اور کن اصولوں پر کی جاتی ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس اختیار ہے کہ بنیادی حقوق معطل کر سکے، ایگزیکٹو صدر مملکت کے آرڈر پر عملدرآمد کراتی ہے، یہ تمام اختیارات ایگزیکٹوکے ہیں تو کوئی اورکیسے اس طرح کے معاملات دیکھ سکتا ہے؟ انسداد دہشتگردی عدالت سے ملزم بری ہو رہا ہے، اسے فوجی عدالت سے سزا ہو رہی ہے، کیا فوجی عدالتوں میں کوئی خاص ثبوت فراہم کیا جاتا ہے؟ انسداد دہشت گردی عدالتوں کو کیوں نہیں مضبوط بنایا جاتا؟ عدالتوں نے فیصلہ شواہد دیکھ کر کرناہوتا ہے۔جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا 9مئی کا واقعہ دہشتگردی سے زیادہ سنگین جرم ہے؟ جوٹرائل فوجی عدالت میں ہو رہاہے؟ اچھے تفتیشی افسران اور پر اسیکیوٹر رکھیں تو عدالتوں سے سزائیں بھی ہوں گی۔

    بعد ازاں عدالت نے سویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 19 خارجی دہشت گرد جہنم واصل،تین جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 19 خارجی دہشت گرد جہنم واصل،تین جوان شہید

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسسز نے کے پی کے میں 3 محتلف علاقوں میں کارروائیوں میں 19 خارجی دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق 6 اور 7 جنوری کو فورسز نے خیبرپختونخوا میں خارجی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔سیکیورٹی فورسز نے پشاور کے علاقے متانی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، متنی میں ہونے والی کارروائی میں 8 خارجی دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔سیکیورٹی فورسز نے دوسرا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن مومند کے علاقے بائے زئی میں کیا، بازئی میں ہونے والی کارروائی میں بھی 8 خارجی دہشت گرد مارے گئے جبکہ تیسری کارروائی کرک کے علاقے میں کی گئی، کرک میں ہونے والی کارروائی میں 3 خارجی دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں دھرتی کے 3 بہادر سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا، شہداء میں لانس حوالدار عباس علی، نائیک محمد نذیر اور نائیک محمد عثمان شامل ہیں۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال،سندھ حکومت کا طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ کا فیصلہ

    بہاولپور چڑیا گھر میں بنگال ٹائیگر بیمار پڑ گیا

    اسلام آباد میں مقیم 800 افغانی زیرحراست ہیں،افغان سفارتخانے کا دعویٰ

  • وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم حال ہی میں رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب محمد بن زید آلنہیان سے ہونے والی اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی جانب سے 2 ارب امریکی ڈالرز کی ادائیگی، جو کہ اس سال جنوری میں واجب الادا تھی، کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ہماری معیشت کے لئے انتہائی خوش آئند ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تاریخی تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔

    وفاقی کابینہ نے ریوینیو ڈویژن کی سفارش پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انفرااسٹرکچر کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کریٹیکل انفرااسٹرکچر قرار دینے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انتہائی حساس ڈیٹا کو سائبر حملوں جیسا کہ ہیکنگ اور کسی بھی غیرقانونی مداخلت سے بچانا ہے۔ اس اقدام سے ایف بی آر کا حساس ڈیٹا مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

    فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامےمیں توسیع
    وفاقی کابینہ نے ہوا بازی ڈویژن کی سفارش پر بین الاقوامی ائیر لائین فلائی دبئی کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی اور دوبئی سے لاہور اور اسلام آباد پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامے (Temporary Operating Permit )میں 4 جنوری 2025 سے 3 فروری 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ کو وزارت بحری امور کی جانب سے 11 وفاقی وزارتوں /ڈویژنز کی گوادر بندرگاہ سے مارچ 2024 سے اب تک کے دوران پبلک سیکٹر درآمدات و برآمدات پر بریفنگ دی گئی- وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں کی رپورٹس کو بریفنگ کا حصہ بنا کر ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ درآمدات و برآمدات میں کسی بھی قسم کی تخصیص کے بغیر پبلک سیکٹر کی تمام درآمدات و برآمدات کا 60 فیصد حصہ گوادر بندرگاہ سے کیا جائے ۔

    وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک
    وفاقی کابینہ کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز کی جانب سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای-آفس کے نفاذ کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی-اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ای-آفس کو اس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یکم جنوری 2025 سے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لئے کاغذ کا استعمال ترک کر دیا گیا اور تمام فائلز موومنٹ اور دیگر خط و کتابت صرف ای-آفس استعمال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 21 وزارتوں/ڈویژنز میں ای- آفس کا نفاذ سو فیصد کر دیا گیا ہے۔ ای-آفس کے نفاذ سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ اسٹیشنری اور پیٹرول کی مد میں قومی خزانے کو فائدہ بھی پہنچے گا۔ ای-آفس کے نفاذ سے وزیر اعظم آفس میں سمری کی پراسیسنگ کا دورانیہ اب زیادہ سے زیادہ صرف تین دن تک محیط ہو چکا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر اسکولوں اور کالجوں کے لئے ری فربشڈ کروم بکس کی خریداری/حصول کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈینینس کے سیکشن 21ـ اے کے تحت استثنیٰ دے دیا- وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان کروم بکس کی خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی کروایا جائے۔

    وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ اور شینڈونگ روئی (Shandong Ruyi) گروپ چائینہ کے درمیان ٹیکسٹائل پارکس کے قیام کے حوالے سے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے وزارت خارجہ کی سفارش پر ڈپلومیٹک اکیڈیمی ، وزارت خارجہ جمہوریہ سربیا اور فارن سروس اکیڈیمی ، وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-

    وفاقی کابینہ کو کابینہ کمیٹی برائے پرائیویٹ حج آپریٹرز کورٹ کیسز کی سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے حج 2025 کے انتظامات موجودہ 46 منظمین کریں گے ۔کمیٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں کے لئے نئی حج پالیسی بنائی جائے۔ وفاقی کابینہ نے مذکورہ کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حوالے سے تمام کورٹ کیسز کو منتقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 31 دسمبر 2024 اور یکم جنوری 2025 کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے مختلف آپشنز پر کام

  • یو اے ای نے  واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی  ، وزیراعظم

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں متعین کی جانے والی معاشی سفارتکاری کی کوششوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، اور پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات میں نئی جہتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خاص طور پر اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا جس میں وہ رحیم یارخان میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، اور ملاقات کو نہ صرف مفید بلکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستان کی معیشت کے استحکام میں ایک بڑی مدد ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور معاشی سفارتکاری کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی گواہی دیتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو چکا ہے اور ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں زراعت، برآمدات، کامرس اور دیگر اہم شعبوں میں ترقی کی جانب پیش رفت شامل ہے۔ خاص طور پر، ٹیکسٹائل کے شعبے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اڑان پاکستان ہوم گرون پروگرام کا آغاز ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ ملے گا، اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اسی طرح، سمیڈا کا کردار پاکستان کی خوشحالی اور ترقی میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ ملک میں توانائی کے بحران کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور اس مسئلے کا حل پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشنل تعلقات کے حوالے سے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ پاکستان کے برادارنہ تعلقات کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ایجنڈا تیار کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم نے کرم میں امن معاہدے کے بعد ایک افسوسناک واقعہ کا ذکر کیا جس میں قافلے پر حملہ کیا گیا اور ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) اور سیکیورٹی فورسز کے جوان زخمی ہو گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرم میں امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی یہ کوشش افسوسناک ہے اور حکومت اس پر سخت ردعمل ظاہر کرے گی۔وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے کے خلاف اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پاکستان انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گا تاکہ نہ صرف ملکی عوام کی حفاظت کی جا سکے، بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی عالمی سطح پر مضبوط بنایا جا سکے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حکومت پاکستان معاشی ترقی، عوامی خوشحالی اور عالمی تعلقات میں بہتری کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد ملک میں استحکام لانا اور پاکستانی عوام کو بہتر معاشی مستقبل فراہم کرنا ہے۔

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے ملک میں انسانی سمگلنگ کے خلاف حالیہ کارروائیوں اور قانون سازی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اجلاس کے دوران انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی حالیہ تادیبی کارروائیوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ اقدام انتہائی اہم ہے اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیوں کی ضرورت ہے۔”وزیراعظم نے انسانی سمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ان سہولت کاروں کے خلاف مزید سخت تعزیری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس مکروہ کاروبار کا خاتمہ کیا جا سکے۔”انہوں نے تمام انسانی سمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت دی تاکہ ان سمگلرز کو نشان عبرت بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ "انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کے لیے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔”

    وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "وزارت قانون و انصاف سے مشاورت کے بعد اعلیٰ ترین درجے کے وکلا کو تعینات کیا جائے تاکہ اس معاملے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔”وزیراعظم نے دفتر خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک سے انسانی سمگلنگ میں ملوث پاکستانی شہریوں کے حوالے سے متعلقہ ممالک سے رابطہ کرے اور ان کی پاکستان حوالگی کے لیے جلد از جلد اقدامات اٹھائے۔وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ عوام میں بیرون ملک نوکریوں کے لیے صرف قانونی راستوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ غیر قانونی طریقوں سے بچا جا سکے۔وزیراعظم نے ملک میں ایسے تکنیکی تربیتی اداروں کی ترویج کی ضرورت پر زور دیا جو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سرٹیفائیڈ پیشہ ور افراد بیرون ملک بھیج سکیں۔وزیراعظم نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی سکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔

    اجلاس میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور وزیراعظم کو انسانی سمگلنگ کے خلاف حالیہ اقدامات اور قانون سازی کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    کرام (خیبر پختونخوا) میں 4 جنوری کو ڈی سی کرم سمیت 7 افراد پر حملے میں ملوث دو مبینہ شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    4 جنوری کو لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کر کے ڈی سی کرم سمیت 7 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اس حملے کے بعد، کوہاٹ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 4 جنوری کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ فرقہ ورانہ انتشار کی حمایت کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے مجرموں کی حوالگی میں عدم تعاون کیا گیا تو اس کے خلاف کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ اس دوران، مقامی آبادی کو عارضی طور پر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ کارروائی کے دوران شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مختلف خوارج (دہشت گرد) کے سر کی قیمت بھی مقرر کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف مزید کارروائیاں کی جا سکیں۔ یہ اقدام علاقے میں قانون کی بالادستی اور امن قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    دوسری جانب، 4 جنوری کے حملے کے بعد کرم کے علاقے میں ایک قافلہ جو تین ماہ بعد علاقے میں کھانے پینے کا سامان لے کر آ رہا تھا، اسے روک دیا گیا۔ اس قافلے میں شامل افراد اور سامان کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔حکومت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا