Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

  • غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے معاہدے میں 6 ہفتوں کی ابتدائی جنگ بندی کا خاکہ پیش کیا تھا، اس کے تحت وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور شمالی غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی شامل ہے۔معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکس کی اجازت دی جائے گی، ان میں سے 50 ایندھن لے کر جائیں گے اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

    معاہدے کے مطابق اسرائیل ہر یرغمال شہری کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور ہر اسرائیلی خاتون فوجی کی رہائی کے بدلے 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالی رہا کیا جائیں گے اور بچ جانے والی یرغمالی اس مدت کے اختتام سے پہلے چھوڑ دیے جائیں گے۔تمام زندہ یرغمالیوں کو پہلے رہا کیا جائے گا اور اس کے بعد مردہ یرغمالیوں کی باقیات حوالے کردی جائیں گی۔معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت قطر، مصر اور امریکا دیں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ غزہ معاہدے کے حوالے سے گیند حماس کے کورٹ میں ہے۔واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ سب کچھ گنوانے کے بعد ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کے بعد ایران کی اہم سپلائی لائن تباہ ہوگئی، خطے میں امن، استحکام کے لیے ایران کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی پر مہر لگانا حماس پر منحصر ہے جب کہ حتمی تجویز قطر میں مذاکرات کی میز پر ہے، گیند اب حماس کے کورٹ میں ہے۔

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    جنوبی افریقہ کو جھٹکا، فاسٹ بولر اینرچ نورکیا چیمپئنز ٹرافی سے باہر

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

  • حماس  نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    حماس نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔

    فلسطینی گروپ حماس نے عرب میڈیا کو بتایا کہ خلیل الحیا کی قیادت میں ایک وفد نے حماس کی مجوزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے معاہدے کی منظوری قطر اور مصر کے ثالثوں کے حوالے کردی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جمعرات کوغزہ جنگ بندی معاہدے پر ووٹنگ کر سکتی ہے۔اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ وہ اپنا دورہ یورپ مختصر کر رہے ہیں تاکہ وہ غزہ کے قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے پر سکیورٹی کابینہ اور حکومتی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔ادھر فلسطینی سول ڈیفنس نے رہائشیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے ان علاقوں سے دور رہیں جہاں اسرائیلی فوج موجود ہے جب تک کہ ممکنہ جنگ بندی کی تفصیلات معلوم نہیں ہو جاتیں اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

    پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں اینٹی ریپ ایکٹ آگاہی اور ٹریننگ سیمینار

    بیورو کریٹس وائس چانسلر ،سندھ کی سرکاری جامعات میں ہڑتال کا اعلان

    2024 میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں نمایاں کمی

  • بنگلہ دیشی دفاعی وفد کی ایئرچیف سے ملاقات،فوجی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ

    بنگلہ دیشی دفاعی وفد کی ایئرچیف سے ملاقات،فوجی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ

    اسلام آباد: بنگلہ دیش کے اعلیٰ سطح دفاعی وفد نے پاک ایئرفورس کے سربراہ سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ایئر فورس کے سربراہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بنگلہ دیش کے اعلیٰ سطح دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ملاقات کی وفد کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن، پرنسپل اسٹاف آفیسر، آرمڈ فورسز ڈویژن، بنگلہ دیش نے کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے دونوں ممالک کی ایئر فورسز کے درمیان فوجی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا فضائیہ کے سربراہ نے مشترکہ تربیتی منصوبوں اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا۔

    <a href="https://login.baaghitv.com/polio-ka-aik-or-case-samneyاسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا-a-gaya/”>ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا,کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

    آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمرالحسن نے پاکستان ایئر فورس کے جدید منصوبوں، اعلیٰ ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر تیار کیے گئے تکنیکی ڈھانچے کی تعریف کی وفد نے جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیاروں کی تیاری سمیت دیگر جدید عسکری سازوسامان میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان فوجی شراکت داری کو مضبوط بنانے، تعاون کو فروغ دینے اور تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

  • بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

    راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے کا الزام حقائق کے منافی ہے-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا پاکستان پر الزام بھارت کی ریاستی جبر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، یہ بھارت کی دھوکے بازی کی اعلی مثال ہے، بھارتی آرمی چیف کے ریمارکس جموں اینڈ کشمیر میں بھارتی جبر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے کا الزام حقائق کے منافی ہےبھارتی آرمی چیف کا پاکستان پر الزام بھارت کی ریاستی جبر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہےیہ بھارت کی دھوکے بازی کی اعلی مثال ہےایسے جھوٹے اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات ہندوستانی فوج میں سیاست کی بے تحاشہ مداخلت کا ثبوت ہے-

    ٹرمپ کی حلف برداری،پاکستانی اہم شخصیت کو دعوت نامہ مل گیا

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر میں جنرل آفیسر نے بربریت کی خود ذاتی طور پر نگرانی کی پوری دنیا بھارت کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے نفرت پر مبنی جذبات اور تقریر کی گواہ ہے عالمی برادری بھارت کی بین الاقوامی قتل و غارت سے غافل نہیں ہےعالمی برادری بھارت کی جانب سے نہتے کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی گواہ ہے، بھارت کے ان مظالم نے کشمیریوں کے جذبہ خود ارادیت کو مزید تقویت دی ہے-

    شبلی فراز اور عمر ایوب کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

    پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے والی بھارتی فوج کے سربراہ کی حالیہ بیان بازی نہ صرف حقائق کے برخلاف ہے، بلکہ بھارت کے روایتی موقف کو دہرانا اور پاکستان پر اس کی سرزمین پر مقامی ردعمل کے بدلے الزامات لگانا ایک بے فائدہ عمل ہے۔ یہ انتہائی منافقت کی ایک مثال ہے۔یہ بیان دراصل دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و بربریت، بھارت میں اقلیتیوں پر ہونے والے مظالم، اور بھارت کی عالمی سطح پر جابرانہ سرگرمیوں سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ بھارتی فوج کے اس جنرل نے اپنے سابقہ دور میں خود کشمیریوں پر وحشیانہ تشدد کو براہِ راست نگرانی کی تھی۔ ایسی سیاسی طور پر محرک اور جھوٹی باتیں بھارتی فوج کی سیاسی نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں۔دنیا بھارتی فوج کی نفرت انگیز تقریروں کی گواہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ بین الاقوامی کمیونٹی بھارت کی بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی سیاسی قتل و غارتگری سے بھی بے خبر نہیں ہے، اور نہ ہی بھارت کی سیکیورٹی فورسز کے ذریعے بے گناہ شہریوں پر تشدد اور کشمیریوں کے حقوق انسانی کی پامالی سے۔ایسی جابرانہ کارروائیاں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے عزم و ارادے کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنی ہیں، جو اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، بھارتی قیادت کو حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا چاہیے اور بھارت کی اندرونی سیاست سے گریز کرتے ہوئے، زمینی حقیقت کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت کہ ایک بھارتی فوجی افسر پاکستان کی تحویل میں ہے، جسے پاکستان میں بے گناہ شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے منصوبے بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا، پاکستان بھارتی فوج کی قیادت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ سیاسی مجبوریوں سے بالاتر ہو کر پیشہ ورانہ انداز اور ریاستوں کے مابین برتاؤ کے اصولوں کے مطابق اپنے رویے کی رہنمائی کرے، نہ کہ کسی سیاسی دباؤ کے تحت۔

  • ٹرمپ کی حلف برداری،پاکستانی اہم شخصیت کو دعوت نامہ مل گیا

    ٹرمپ کی حلف برداری،پاکستانی اہم شخصیت کو دعوت نامہ مل گیا

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2025 میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں پاکستان سے ابھی تک ایک ہی رہنما کو دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں، جنہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے.

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اس دعوت نامے کو قبول کیا ہے اور وہ آئندہ چند دنوں میں امریکا روانہ ہوں گے۔ بلاول بھٹو کی شرکت امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہونے والی تقریب حلف برداری اور دیگر تقاریب میں متوقع ہے۔دعوت نامہ بلاول بھٹو کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا ہے اور یہ دعوت ایک اہم سفارتی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مضبوطی کی خواہش ہے، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا دورہ امریکا ایک اہم موقع ہوگا، جہاں وہ عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کے علاوہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

    یہ دعوت امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کو دی جانے والی ایک علامتی اہمیت کی نشاندہی بھی کرتی ہے، جو عالمی سیاست میں دونوں ممالک کے کردار کو تسلیم کرتی ہے۔پاکستان سے ابھی تک صرف بلاول زرداری کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے،

    امریکا اور دنیا بھر کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری پر
    امریکا اور دنیا بھر کی نظریں اگلے ہفتے ہونے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی تقریبِ حلف برداری پر جمی ہوئی ہیں۔ اس تقریب کی نوعیت اور اہمیت میں دنیا کے کئی ممالک کی اہم شخصیات کی شرکت اور عدم شرکت کا فیصلہ بڑی بات بن چکا ہے۔ اس موقع پر ہم جانیں گے کہ کون "ان” ہے اور کون "آؤٹ”، کون بلانے کے باوجود نہیں آئے گا اور کون بے چین ہے دعوت نامہ پانے کے لئے۔

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے تصدیق کی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری میں "یقیناً” شرکت کریں گے۔ یہ فیصلہ بائیڈن کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2021 میں بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی، جس سے اقتدار کی پرامن منتقلی کی امریکی روایت کو توڑا گیا تھا۔سابق خاتون اول مشیل اوباما نے اپنی غیر موجودگی کا فیصلہ کیا ہے، اور ان کے دفتر نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی۔ مشیل اوباما کا ٹرمپ کی تقریب میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ اس سے قبل ان کی سیاسی اختلافات کا عکاس بھی ہو سکتا ہے۔

    پہلی بار غیر ملکی مہمانوں کو مدعو کیا گیا
    ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بار حلف برداری میں غیر ملکی صدور اور وزرائے اعظم کو دعوت دی گئی ہے، جو امریکی روایت کے خلاف ہے کیونکہ عمومی طور پر ایسی تقریبات میں غیر ملکی شخصیات کو مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس بار دنیا بھر کی بڑی طاقتوں اور اتحادیوں کو دعوت دی گئی ہے، جس سے امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں۔

    چین کے صدر شی جن پنگ کی شرکت؟
    چینی صدر شی جن پنگ کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ چینی حکومت یا وزارت خارجہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔جارجیا میلونی: اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی نے بھی تقریب میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ وہ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیل بھی ٹرمپ کے ساتھ گہری دوستی رکھتے ہیں اور ان کی شرکت متوقع ہے۔ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن کو بھی دعوت دی گئی ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک شرکت کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو نے تصدیق کی کہ انہیں دعوت دی گئی ہے اور وہ اس وقت اپنے پاسپورٹ کی بازیابی کی کوشش کر رہے ہیں۔ جاپان کے وزیر خارجہ تاکیشی ایویا بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔

    کون مدعو نہیں ہے؟
    ولادی میر پیوٹن: روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔
    کم جونگ ان: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بھی اس موقع پر موجود نہیں ہوں گے، حالانکہ ٹرمپ کی ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔
    ارسلولا وان ڈیر لیین: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین بھی مدعو نہیں ہیں لیکن انہوں نے نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

    افتتاحی تقریب کے لئے ریکارڈ عطیہ
    ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریب کے لئے 170 ملین ڈالر کی رقم جمع کی گئی ہے، جو ایک ریکارڈ رقم ہے۔ اس میں بڑے کاروباری، ٹیک ایگزیکٹوز، اور دیگر اہم عطیہ دہندگان نے دل کھول کر حصہ ڈالا ہے۔

    وی آئی پی ٹکٹس کی کمی
    دنیا بھر کی اہم شخصیات اور سیاسی رہنماؤں نے وی آئی پی ٹکٹس کی کمی کی شکایت کی ہے، اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جگہ کی کمی کے باعث لاکھوں ڈالر عطیات دینے والوں کو بھی ٹکٹ نہیں مل پا رہے۔

    پرفارمنس کے لئے مشہور فنکار
    کیری انڈر ووڈ، ویلج پیپل، اور دیگر معروف فنکار ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں پرفارم کریں گے۔ کیری انڈر ووڈ "امریکا دی بیوٹی فل” گانا گائیں گی اور ویلج پیپل اپنے مشہور گانے "Y.M.C.A.” پر پرفارم کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریبات کا آغاز 20 جنوری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا اور یہ چار دن تک جاری رہیں گی۔ اس دوران مختلف پروگرامز اور تقریبات ہوں گی جن میں آتشبازی کا شو، ریلی، اور وائٹ ہاؤس میں چائے کی تقریب شامل ہیں۔

    میشل اوباما ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گی

    کیری انڈر وُڈ کو ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں پرفارم کرنے کی دعوت

    2020 میں امریکی انتخابات،ٹرمپ کی اقتدار کیلئے مجرمانہ کوششیں، رپورٹ جاری

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

    نئی ٹرمپ انتظامیہ،پاکستان کی حکمت عملی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

  • وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ  بارے  عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    وزیراعظم کا انسانی سمگلنگ بارے عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس مکروہ دھندے کو مکمل طور پر روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے ذریعے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعظم نے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ادارہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔

    انہوں نے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی سکریننگ کے لیے ایک معیاری نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انسانی سمگلنگ کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی بیرون ملک سفر اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے مؤثر مہم چلائے تاکہ عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ بیرون ملک انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث انتہائی مطلوب سمگلروں کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے بھرپور تعاون حاصل کرے۔

    اجلاس کے دوران شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ انسانی سمگلروں کے خلاف اب تک متعدد اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جون 2023 سے دسمبر 2024 تک کے دوران کئی انسانی سمگلر گرفتار کیے جا چکے ہیں اور متعدد سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔مزید یہ کہ انسانی سمگلروں کے 500 ملین روپے سے زائد کے اثاثے ضبط کیے جا چکے ہیں اور ضبطی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی سمگلروں کے استغاثہ کے عمل کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی تیز رفتار کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی اور اس اہم معاملے پر اپنے خیالات اور سفارشات پیش کیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی اور اس مکروہ دھندے کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

    نارکوٹکس کو وزارتِ داخلہ ،ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں شامل کرنے کا فیصلہ ،وزیر قانون

    چیمپئنز ٹرافی:اکستان میں ہونے والے میچز کے ٹکٹوں کی قیمتیں فائنل

  • شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 خوارج جہنم واصل

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا ہے، جس میں چار دہشت گرد جہنم واصل کئے گئے ہیں

    سیکیورٹی فورسز نے سپن وام کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر فوری کارروائی کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے اس آپریشن کے دوران خارجی دہشت گردوں کے ٹھکانے کے خلاف کامیاب کارروائی کی۔ فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔مزید برآں، آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں ممکنہ دہشت گردوں کی موجودگی کی بنا پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور ملک بھر میں امن قائم کرنے کے لئے اپنی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس عزم پر قائم ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    یہ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں ایک اور اہم کامیابی ہے، جس کے ذریعے دشمن کے نیٹ ورک کو مزید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اپنی تمام تر توانائیاں ملک میں امن و سکون کی بحالی کے لئے بروئے کار لا رہی ہے۔

    بھارتی ہندو زائرین کو پاکستان میں بہترین سہولیات فراہم

    حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

  • ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

    ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس امین الدین

    سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کے خلاف اپیل پر آئینی بینچ میں سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ مانتا ہوں شواہد کی بنیاد پر ہی نیت کو جانچا جائے گا۔

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہیں،
    جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، بینچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد بلال بینچ میں شامل ہیں،دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جرم کی نوعیت سے طے ہوتا ہے کہ ٹرائل کہاں چلے گا، اگر سویلین کے جرم کا تعلق آرمڈ فورسز سے ہو تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں جائے گا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم نیت کو بھی دیکھ سکتے ہیں، جرم کرنے والے کا مقصد کیا تھا، کیا جرم کا مقصد ملک کے مفاد کے خلاف تھا،وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ عدالت کا پوچھا گیا سوال شواہد سے متعلق ہے، سپریم کورٹ براہِ راست شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرم کرنے والے کی نیت کیا تھی، یہ ٹرائل میں طے ہو گا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ مانتا ہوں شواہد کی بنیاد پر ہی نیت کو جانچا جائے گا، پہلے بنیادی اصول تو طے کرنا ہے، ڈیفنس آف پاکستان سے کیا مراد ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جنگ کے خطرات ڈیفنس آف پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جسٹس حسن اظہر رضوی صاحب نے ایک سوال کیا تھا کہ جی ایچ کیو پر حملہ، ایئر بیس کراچی پر حملے کا کیس ملٹری کورٹ کیوں نہیں گیا؟ اس سوال کا جواب 21 ویں آئینی ترمیم کے فیصلے میں موجود ہے،وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ21 ویں آئینی ترمیم کیس میں جی ایچ کیو حملے کی تفصیل کا ذکر ہے، 21 ویں ترمیم کیس میں ایئر بیس حملہ اور فوج پر حملے کا ذکر ہے، 21 ویں ترمیم کیس میں عبادت گاہوں پر حملوں کی تفصیل کا ذکر ہے، دہشت گردی کے یہ تمام واقعات بتائیں گے کہ 21 ویں آئینی ترمیم ہوئی کیوں تھی، عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹ تسلیم شدہ ہیں، آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا گٹھ جوڑ ہو تو ملٹری ٹرائل ہو گا، ملٹری کورٹ میں ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت جرم کا ہوتا ہے، بات سویلین کے ٹرائل کی نہیں ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ جرم کے گٹھ جوڑ سے کیا مراد ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ گٹھ جوڑ سے مراد جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا گٹھ جوڑ کے ساتھ جرم کا ارتکاب کرنے والے کی نیت بھی دیکھی جائے گی،جسٹس امین الدین نے کہا کیا کہ ملزم ملٹری ٹرائل میں جرم کی نیت نہ ہونے کا دفاع لے سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملزم کہہ سکتا ہے کہ میرا یہ جرم کرنے کا ارادہ نہیں تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہے تو ٹرائل فوجی عدالت کرے گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نیت کا جائزہ تو ٹرائل کے دوران لیا جا سکتا ہے

  • انسان خطا کا پتلا ، غلطیوں کو نہ ماننا اور سبق نہ سیکھنا بڑی غلطی ہے۔ آرمی چیف

    انسان خطا کا پتلا ، غلطیوں کو نہ ماننا اور سبق نہ سیکھنا بڑی غلطی ہے۔ آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ انسان خطا کا پتلا ہے، ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن ان غلطیوں کو نہ ماننا اور ان سےسبق نہ سیکھنا اُس سے بھی بڑی غلطی ہے،

    پشاور خیبر پختونخواکے سیاسی عمائدین سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی فتنہ الخوارج کی پاکستان کے کسی بھی علاقے میں عملداری ہے۔کیا فساد فی العرض اللّٰہ کے نزدیک ایک بہت بڑا گناہ نہیں ہے؟ افغانستان ہمارا برادر پڑوسی اسلامی ملک ہے اور پاکستان افغانستان سےہمیشہ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے، افغانستان سے صرف فتنہ الخوارج کی افغانستان میں موجودگی اور سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے پر اختلاف ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک وہ اس مسئلے کو دور نہیں کرتے،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ریاست ہے تو سیاست ہے،خدا نخواستہ ریاست نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم سب کو بلا تفریق اور تعصب، دہشت گردی کے خلاف یک جا کھڑا ہونا ہوگا، جب ہم متحد ہو کر چلیں گے تو صورتِ حال جلد بہتر ہو جائے گی۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن ان غلطیوں کو نہ ماننا اور ان سےسبق نہ سیکھنا اُس سے بھی بڑی غلطی ہے، عوام اور فوج کے درمیان ایک خاص رشتہ ہے ، اس رشتے میں کسی خلیج کا جھوٹا بیانیہ بنیادی طور پر بیرون ملک سے ایک مخصوص ایجنڈے کے ذریعے چلایا جاتا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر سب پارٹیوں کا اتفاق حوصلہ مند ہے مگر اس پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔

    چیف جسٹس کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات

    بسکونی کی پریمیئم بسکٹ رینج کو ‘ہوم برانڈ آف دی ایئر’ ایف ایم سی جی ایشیا ایوارڈز 2024 میں اعزاز