Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    12 اور 13 جنوری کو خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کامیاب کارروائیوں میں 8 خوارج ہلاک ہوگئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 12 اور 13 جنوری کو دو اہم کارروائیاں کیں۔ پہلی کارروائی ٹانک کے علاقے میں کی گئی، جہاں خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔دوسری کارروائی ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مزید 2 خوارج مارے گئے۔ ان دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولیاں اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا اور علاقے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا۔

    دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائیاں حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا حصہ ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنۂ خوارج کے مکمل خاتمے کیلئے پوری قوم اپنے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے نڈر جوانوں پر فخر ہے، اور حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحرک ہیں۔

    یہ کارروائیاں خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک بھر میں امن و امان قائم کرنا اور دہشت گردوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب ہونے سے روکنا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور ملک میں امن و سکون قائم کیا جائے گا۔

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    حماس پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا، اسرائیلی حکام

  • نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا 9 مئی کے واقعات میں کسی فوجی افسر کے ملوث ہونے پر ٹرائل ہوا؟

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں جن افراد پر کیس چلایا گیا وہ ریٹائرڈ تھے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کنٹونمنٹ میں اگر کسی سپاہی کا سویلین کے ساتھ اختلاف ہو جائے تو کیس کہاں جائے گا؟وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ اختلاف الگ بات ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کے معاملے کو بہت وسعت دی جا رہی ہے،وکیل نے کہا کہ زمانہ امن میں بھی ملٹری امور میں مداخلت کرنے پر سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہی چلے گا۔

    لوگوں کا کور کمانڈر ہاؤس کے اندر جانا سیکیورٹی بریچ تو ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آخر کوئی ماسٹر مائنڈ بھی ہو گا، سازش کس نے کی،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سازش کرنے والے یا ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہو گا، سویلین کا ٹرائل اچانک نہیں ہو رہا، 1967ء سے قانون موجود ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے وزارتِ دفاع کے وکیل سے کہا کہ ذہن میں رکھیں ایف بی علی کیس سول مارشل لاء دور کا ہے، ذوالفقار علی بھٹو سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے، خواجہ صاحب آپ وزارت دفاع کے وکیل ہیں، ایک اہم سوال کا جواب دیں، 9 مئی کو لوگ کور کمانڈر ہاؤس میں پہنچ گئے؟ لوگوں کا کور کمانڈر ہاؤس کے اندر جانا سیکیورٹی بریچ تو ہے،وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ مظاہرین پر الزام املاک کو نقصان پہنچانے کا ہے، 9 مئی کے واقعہ میں کسی فوجی افسر کو چارج نہیں کیا گیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ 9 مئی کو جب ملٹری تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا، کیا کوئی مزاحمت کی گئی؟ ضروری نہیں گولی چلائیں۔وزارتِ دفاع کے وکیل نے کہا کہ جانی نقصان نہ ہو اس کے لیے مکمل تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

  • پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت

    پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت

    پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر سامنے آئے ہیں، جو پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، اور حالیہ برسوں میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ دہشت گرد پاکستانی علاقے میں دراندازی کی کوششیں کرتے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ "دہشت گردوں کو افغانستان میں امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”، اور یہ اسلحہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس سے خطے کی سلامتی کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اس بات کی گواہ ہیں۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 11 جنوری 2025 کو ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے دوسالی میں دو الگ الگ انٹیلی جنس آپریشن کیے، جن کے دوران چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ دو کو گرفتار کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جن میں AK-47، M4، اور Drangunov جیسے جدید ہتھیار شامل تھے۔اسی دوران، ایک اور آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں کیا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور دو زخمی ہوئے۔ ان کے قبضے سے بھی غیر ملکی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 9 دسمبر 2024 کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں بھی ایک انٹیلی جنس آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ اس آپریشن کے دوران بھی غیر ملکی اسلحہ جیسے M16-A2، M4، اور AK-47 برآمد ہوئے۔مزید برآں، 10 نومبر 2024 کو شمالی وزیرستان میں ایک اور کامیاب آپریشن کے دوران دس دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، اور ان کے قبضے سے M16-A4، M4، اور AMV-65 جیسے جدید اسلحے کا ذخیرہ برآمد ہوا۔

    افغانستان سے پاکستان میں جدید غیر ملکی اسلحے کی سمگلنگ اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کا اس اسلحے کو پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عوام کے خلاف استعمال افغان عبوری حکومت کے اس دعوے پر سوالیہ نشان ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔امریکہ نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے تھے، جن میں سے 300,000 انخلاء کے وقت افغانستان میں باقی رہ گئے تھے۔ پینٹاگون کے مطابق، 2005 سے اگست 2021 تک افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا گیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد، یہ اسلحہ پاکستان میں دہشت گردوں کی سرحد پار کارروائیوں میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

    یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھی محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے۔ اس اسلحے کی موجودگی اور اس کے استعمال نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کیا ہے اور خطے میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    پاکستانی حکام کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں موجود اسلحے کی سمگلنگ کو روکنے اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کے لیے افغان حکومت پر دباؤ ڈالے۔

    پاکستان جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا خواہاں ہے،وزیر خزانہ

    سوات کی تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز کا قلعہ بالا حصار میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر کا دورہ

  • وزیر اعظم ہاوس کے بجلی چوروں کے خلاف احکامات کرپٹ افسران نے ہوا میں اڑا دیے

    وزیر اعظم ہاوس کے بجلی چوروں کے خلاف احکامات کرپٹ افسران نے ہوا میں اڑا دیے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، تین ماہ قبل وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں بجلی چوری میں ملوث افراد اور ان کے سرکاری محکموں میں موجود سہولتکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس خط میں ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر سرفراز خان ورک کا نام بھی شامل تھا، جبکہ دیگر کرپٹ افسران اور بجلی چوروں کے نام بھی اس لسٹ میں شامل تھے۔


    یہ خط 13 ستمبر 2024 کو وزارت داخلہ کو ارسال کیا گیا تھا، تاہم تین ماہ گزرنے کے باوجود ان بجلی چوروں اور کرپٹ افسران کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق، وزارت داخلہ کے افسران نے دانستہ طور پر لیسکو میں موجود بجلی چوروں کے خلاف کاروائی روک رکھی ہے۔


    یہ بات خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کہ جب ملک بھر میں عوام اور مختلف محکموں کے خلاف بجلی چوری کے مقدمات درج ہو رہے ہیں اور ان کے خلاف گرفتاریوں اور جرمانوں کا عمل جاری ہے، لیکن سرکاری افسران اور بجلی چوروں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف عوام کو بھاری بلز کا سامنا ہے بلکہ ملکی خزانے کو بھی مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔


    وزیر اعظم ہاؤس اور وزارت داخلہ کی بے بسی اس بات کا غماز ہے کہ سرکاری افسران کا گٹھ جوڑ عوامی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو فوری طور پر ان کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے تاکہ بجلی چوری اور سرکاری افسران کی کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  • ملک میں امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا،آرمی چیف

    ملک میں امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا،آرمی چیف

    پشاور: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک میں امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے آج پشاور کا دورہ کیا جہاں اُن کا کور کمانڈر پشاور نے استقبال کیا،آرمی چیف کو ملک میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور فتنہ الخوارج کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی موجود تھےآرمی چیف نے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے سیکیورٹی اداروں کی مثالی کامیابیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے ہمیں بلیک میل کیا جارہا ہے،خواجہ آصف

    انہوں نے کہا کہ ہماری فورسز نے بے مثال جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے کمزور کررہی ہیں، اہم دہشت گرد رہنماؤں کا خاتمہ، ان کے نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کی ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں یہ جنگ جاری رہے گی اور ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ان شاء اللہ۔”

    سونا سستا،ڈالر مہنگا ،اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں اور انہوں نے کئی حملوں کو ناکام بنا کر ملک میں امن قائم رکھاانہوں نے ہر آپریشن کو سیکیورٹی فورسز کے عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تیاری کا ثبوت قرار دیا۔

    جنرل عاصم منیر نے واضح پیغام دیا کہ ملک کے امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گادشمن خوف اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے دشمن عناصر کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور وہ مزید بھاری نقصان اٹھائیں گے۔”

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی تاریخ اور وقت تبدیل

    آرمی چیف نے پاک فوج کے جوانوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مادر وطن کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور پاک فوج و قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ناقابل شکست قوت کے طور پر متحد ہیں۔

    بعد ازاں، آرمی چیف نے خیبر پختونخوا کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے الگ ملاقات کی شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ سیاسی آواز اور عوامی حمایت کی ضرورت پر زور دیاسیاسی نمائندوں نے دہشت گردی کے خلاف قوم کی جنگ میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر متزلزل حمایت کا عزم ظاہر کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ انتہا پسند فلسفے کے خاتمے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد ضروری ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائی، 27 دہشتگرد ہلاک

  • چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج صبح صبح بڑی خبریں آ گئی ہیں، آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہونا تھا میں صبح اٹھ کر بیٹھ گیا تھا کہ 11 بجے تک فیصلہ آ جائے گا پتہ چلا کہ جج عدالت آ گئے اور اسکے بعد ساڑھے دس بجے واپس چلے گئے، غصے میں تھے اور کہا کہ دو دفعہ ملزم عمران کو بلایالیکن وہ نہیں آئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایک نیاٹواسٹ آ گیا ہے،لیکن آج جب عدالت کی سماعت شروع ہوئی تو جج ناصر جاوید رانا کو کافی اضطراب تھا، انہوں نے دو تین بار ملزم عمران خان کو بلوایا لیکن عمران نہ آئے، اس وجہ سے فیصلہ مؤخر ہو گیا، اب 17 جنوری کو فیصلہ سنایا جائے گا،پی ٹی آئی وکلا کی ٹیم انہوں نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ غلط بات ہے، ہمیں کل بتایا تھا کہ 11 بجے فیصلہ آنا ہے، ہم عدالت پہنچ رہے تھے، تو یہ پہلے کیسے اٹھ کر چلے گئے، ان کے ذہن میں کیا ہے،بشریٰ بھی راستے میں ہے اور عدالت ،جیل آ رہی ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، اور اس کے اوپر پوری دنیا کی نظریں ہیں، پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیا فیصلہ آنا، کیا کیا سزا ہو سکتی ممکنہ طور پر دونوں ملزمان کو،پھر سلمان اکرم راجہ نے اسی پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر کے ساتھ بیان دیا ، اس میں سے آپ کو جواب بھی ملے گا،انہوں نے کہا کہ 15 تاریخ سے مذاکرات شروع ہونے وہ اہم ہیں ہم نہیں چاہتے کوئی ڈیل ہو،لیکن اصول کے مطابق ہونے چاہئے، اب لگتا ہے کہ فیصلہ مؤخر کرنے کا فیصلہ دونوں سائیڈوں سے ہے کہ 15 تاریخ کو دیکھ لیں کیا ہوتا ہے ،پہلی باری یہ بتانے لگا ہوں کہ اگر آپ پی ٹی آئی کے فالورز ہیں تو آپ کے لیے خبر ہے کہ شاید واقعی کچھ پیچھے ہو رہا ہے، اتنا آسان نہیں کہ دو دو دن کے وقفے سے فیصلہ مؤخر کریں پہلے دسمبر میں پھر جنوری کے پہلے ہفتے میں، پھر اب تیسری بار آج مؤخر ہونا، یہ ایسے نہیں ہو رہا، اسکا مطلب ہے کہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے سلسلے میں عمران رہائی لیتے ہیں تو وہ انکی سیاسی موت ہے،عوام میں تو کہہ رہے کہ کارکنان کی رہائی چاہتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ عمران رہائی کے لئے بیتاب ہے، مذاکراتی ٹیم کہتی ہے کہ ہمیں خان صاحب نے نہیں کیا لیکن ہم انکی رہائی کا مطالبہ ضرور کریں گے، ہو سکتا ہے کہ کوئی عبوری حکومت آئے اور اس کو اگلے ایک ڈیڑھ سال الیکشن لے جائے، وہ عبوری حکومت قومی حکومت کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، اس وقت جو حالات ہیں کوئی بھی جماعت اپوزیشن میں نہیں رہنا چاہتی، کوئی بھی جماعت،سب اقتدار میں آنا چاہتی ہیں،ن لیگ وہ اس وقت سب سے کمزور وکٹ پر ہے کیونکہ بلاول زرداری کی بڑی خواہش ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں ،پیپلز پارٹی میں بھی بڑے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ بلاول وزیراعظم کے طور پر آ سکتے ہیں اب چڑیل جو خبر لےکر آئی وہ کہہ رہی کہ بلاول کے وزیراعظم بننے میں رکاؤٹ آصف زرداری ہیں،آصف زرداری اس وقت صدر پاکستان ہیں، بلاول اگر وزیراعظم بنتے ہیں تو آصف زرداری کو اپنی صدارت چھوڑنا پڑے گی، کیا عمر کے اس حصے میں پہنچ کر اپنی صدارت کو چھوڑیں گے، ذرا سا مشکل ہے، وہ اپنی ٹرم پوری کرنا چاہیں گے، بلاول کی وزیراعظم بننے کی خواہش کے سامنے کوئی رکاوٹ ہے تو وہ انکے گھر میں ہے،لیکن قومی حکومت کب بن سکتی ہے، اگلے ایک دو ماہ میں تو نہیں، کیونکہ مئی میں بجٹ آنا ہے، آئی ایم ایف جا کر ناک کی لکیریں رگڑنی ہیں،یقین دہانیاں کروانی ہیں جو بھی کچھ ہو گا، مئی یا جون، بجٹ آنےکے بعد ہو گا.اسکے لئے کافی لوگوں نے لابنگ شروع کر دی ہے،ایک سابق وفاقی وزیر نے ایک بڑا تھنک ٹینک بنا لیا،کس کے اشارے پر، دو موجودہ حکومت کےو فاقی وزرا بھی بڑے خواہشمند ہیں، فیصل واوڈا سندھ کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں،وہ کوشش کر رہے ہیں، انکو پتہ ہے کہ اسکے علاوہ کوئی چانس نہیں ہے،

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

  • امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں کچھ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فالو کر رہاہوں، وہ روز نیا بیان دے رہے ہیں،کچھ لوگ اس کو مذاق سمجھ رہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، امریکہ میں جو صدر منتخب ہوتا ہے اسکے پیچھے بہت بڑا تھنک ٹینک ہوتا ہے، ذہین لوگ ہوتے ہیں جو اسکے لیے ڈیٹا جمع کرتے ہیں پھرپالیسی بیان آتا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جو بیان دے رہے ہیں اس میں سی آئی اے کا بھی ان پٹ ہوتا ہے،اور بھی اداروں کا، اب جو ٹرمپ کے بیانات آ رہے ہیں یہ صرف چار سال کے لئے نہیں ہیں، امریکہ ایک کروٹ لینے لگا ہے، اگلے 15 بیس سال دنیا پر اور خاص کر ہمارے ملک میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے، میں جب اپنے ملک کو دیکھتا ہوں‌تو لوگ اس بات پر لڑ رہے کہ مریم نواز نے یو اے ای کی ولی عہد سے ہاتھ کیسے ملایا،کوئی یہ دیکھ رہا ہے کہ شیر افضل مروت، سلمان اکرم راجہ کی لڑائی کہاں تک جائے گی لیکن ہمیں احساس ہی نہیں اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا پلان پایہ تکمیل تک پہنچ گیا اور 2025 گریٹر اسرائیل کا فیز ٹو مکمل ہو گا جس میں جورڈن کا بیشتر حصہ آئے گا، یمن آئے گا اور کچھ اور علاقے آئیں گے، عرب ممالک کی صحت کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، جو آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے اسکی آںکھیں کھل جائیں گی اور پھر وقت نہیں ملے گا،

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گلف آف میکسیکو کا نام میں نے گلف آف امریکہ رکھنا ہے، وہ امریکن تاریخ کو ری رائیٹ کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اب اسکا نام آئے کہ یہ آدمی آیا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیا، ٹرمپ کو یہ پتہ ہے کہ چین کا ٹیرف کیا ہے، چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ ٹریلین آف ڈالر میں ہے،اس کا 68 فیصد چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ، باقی پوری دنیا کے ساتھ ہے، آج اگر امریکہ کوئی اس پر چابی کستا ہے تو چائنہ بلبلائے گا، امریکہ روس کو کہتا ہے کہ یوکرین میں جہاں تک آ گئے یہ علاقہ تمہارا، اس پر صبر کرو، تمہاری پابندیاں ختم کر رہے ،لڑائی ختم کرو اور چائنہ سے دور ہو جاؤ کیونکہ اس کو ہم نے سبق سکھانا ہے، پھر کیا ہو گا، ٹرمپ نے کینیڈا کو کہہ دیا ہے کہ کیوں نہ کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ ملایا جائے، یہ مذاق کی باتیں نہیں،جب ہیڈ آف سٹیٹ بات کرتا ہے تو اسکے پیچھے بڑی سوچ ہوتی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ پانامہ کینال کو لینا ہے،گرین لینڈ کو لینا ہے، گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر اثر ہے، اب ڈنمارک میں خوف کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پانامہ کینال اور گرین لینڈ کے لئے ٹرمپ کوشش کر ے گا وہاں امریکن ٹریڈ کر رہے ہیں، انکا خیال ہے کہ یہ بنانے کے پیسے ہم نے دیئے تھے،ٹرمپ کا خیال ہے کہ پانامہ پر قبضہ کریں اور چین کی ٹریڈ روک دیں،جو مرتا ہے مرے، گرین لینڈ کے اوپر بھی سیکورٹی کی بات ہوئی، کہا کہ امریکن سیکورٹی کو خطرہ ہے، اسکی کئی وجوہات ہیں ،جب صدر سیکورٹی کی بات کرے تو ہر امریکی اٹھ کربیٹھ جاتا ہے اور اس کی بات غور سے سنتا ہے،ٹرمپ نے اسرائیل کے لئے بھی کام کرنا ہے، فیز ٹو کے لئے تیار کرنا ہے، 2025 ٹرمپ کا ان چار چیزوں پر نکلے گا، 2026 میں لگتا ہے کہ ابتدائی چار ماہ میں ایران کی باری ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق چلو، اسکے بعد پاکستان کی باری ہے، پاکستان کو انگوٹھے کے نیچے کرنا آسان ہے، ایک آئی ایم ایف قسط نہ ملے یا تاخیر ہو ،سعودی عرب تیل نہ دے تو پھر کیا ہو گا، محمد بن سلمان ٹرمپ کا بہترین دوست ہے، آپ بھول جائیں کہ محمد بن سلمان کے ساتھ کیا دوستی ہے کیسے تعلقات ہیں،کیونکہ ہماری اوقات نہیں ہے اس پردوستی جتانے کی،

  • کیا غیر آئینی اقدام پر ججز بھی آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    کیا غیر آئینی اقدام پر ججز بھی آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں کورٹ مارشل ہی ہوتا ہے،جسٹس امین الدین خان نے وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ مناسب ہو گا کل تک اپنے دلائل مکمل کر لیں، کون سے مقدمات فوجی عدالتوں کو منتقل ہوئے اور کیوں ہوئے؟ اسے مختصر رکھیے گا، ججز سے متعلق سوالات ہوئے تو آخر میں اس کو بھی دیکھ لیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ کی سیکشن 59 (4) کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں کئی جرائم کا ذکر بھی موجود ہے، ایکٹ کے مطابق تمام جرائم کا اطلاق فوجی افسران پر ہو گا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کی سیکشن 31 ڈی کے تحت آتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیکشن 31 ڈی تو فوجیوں کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے پر اکسانے سے متعلق ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ فوجی عدالتوں کو آئین نے بھی تسلیم کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں کیس کس کا جائے گا یہ دیکھنا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین تو بہت سے ٹربیونلز کی بھی توثیق کرتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہے کہ کون سے کیسز کہاں اور کیسے سنے جا سکتے ہیں، مسئلہ یہاں پروسیجر کا ہے کہ ٹرائل کون کرے گا؟ آرمی ایکٹ میں کیا آئین معطل کرنے کی سزا ہے؟ اگر کوئی آرمی آفیسر آئین کو معطل کرتا ہے تو کیا سزا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 6 میں آئین کو معطل کرنے کی سزا ہے، آئین کا آرٹیکل 6 ہر قانون پر فوقیت رکھتا ہے، آرمی ایکٹ میں حلف کی خلاف ورزی کی سزا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدلیہ مارشل لاء کی توثیق کرتی رہی، کیا غیر آئینی اقدام پر ججز بھی آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز مشرف کیس میں ججز کے نام لیے گئے تھے، سنگین غداری ٹرائل میں بعد ازاں ججز کے نام نکال دیے گئے۔سپریم کورٹ نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائلز کے خلاف اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کر دی

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ،

    190ملین ریفرنس کا فیصلہ 17جنوری بروز جمعہ کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،عمران خان آج کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، بشریٰ بی بی بھی عدالت نہ پہنچیں جس کی وجہ سے عدالت نے آج فیصلہ نہ سنایا،فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے دس بجے کا تھا، پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے تاہم عمران خان اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ آئے اور نہ ہی بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں.

    آج امکان تھا کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاتاہم عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا، قبل ازیں اسی ضمن میں اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اڈیالہ جیل کے باہر راولپنڈی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے،پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات تھی، یکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے،عمران خان کی بہنیں علیمہ خان و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم آج بھی فیصلہ نہ سنایا جا سکا،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • 26 نومبر احتجاج، بشریٰ کی عبوری ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج، بشریٰ کی عبوری ضمانت مسترد

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کے دوران دیا۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس پر سماعت جاری تھی۔ اس دوران بشریٰ بی بی کے وکیل نے استثنیٰ کی درخواست بھی پیش کی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ آج 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ آنا ہے، جس کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل جانا ہے۔پراسیکیوٹر اقبال کاکڑ نے عدالت میں موقف اپنایا کہ بشریٰ بی بی نے اپنے ضمانتی مچلکے ابھی تک جمع نہیں کرائے۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ "آپ نے ابھی تک ضمانتی مچلکے ہی جمع نہیں کرائے۔” جج نے مزید کہا کہ "عدالت کے حکم پر آپ عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں۔” اس کے بعد عدالت نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی تین درخواستوں کو خارج کر دیا۔

    خیال رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ ترنول میں دو مقدمات درج ہیں، جبکہ تھانہ رمنا میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر بھی تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔

    ایک اور مقدمے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بھی بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس موقع پر بشریٰ بی بی کے وکیل انصر کیانی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ "بشریٰ بی بی کے خلاف آج 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ آنا ہے، اور انھیں جیل میں حاضری دینا ضروری ہے، کیونکہ احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے رکھا ہے۔”پراسیکیوٹر نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ عبوری ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک ملزمہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ اس پر ایڈیشنل سیشن جج عامر ضیا نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔