Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

    عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

    عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے حکم نامہ جاری کردیا۔

    ثالثی عدالت کا کہنا ہے کہ بھارت 9 فروری 2026 تک بگلیہار اور کشن گنگا کے آپریشنل لاگ بکس جمع کرائے، ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں بھارت کو باضابطہ طور پر وجہ بتانا ہوگی،پاکستان 2 فروری 2026 تک یہ واضح کرے وہ کون سی دستاویزات چاہتا ہے۔ کیس کے میرٹس کے دوسرے مرحلے کی سماعت 2 اور 3 فروری کو دی ہیگ میں ہوگی،عبوری ریلیف دینے کا اختیار صرف ثالثی عدالت کو ہے، نیوٹرل ایکسپرٹ کو عبوری اقدامات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل کی قیادت میں اعلیٰ سطح پاکستانی وفد ہفتے کے روز دی ہیگ روانہ ہوگا، وفد میں پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ شامل ہوں گے۔ نیدرلینڈ میں پاکستان کے سفیر اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ٹیم بھی وفد کا حصہ ہوگی، پاکستان کا مؤقف ہے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی پن بجلی شقوں کا غلط استعمال کیا ہے، پونڈیج لاگ بکس کیس کے لیے براہِ راست متعلق اور اہم ہیں، یہ ریکارڈ زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت پونڈیج کے تعین میں مدد دیتے ہیں۔

  • تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ،فتنوں کا صفایا کر رہے،سکیورٹی ذرائع

    تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ،فتنوں کا صفایا کر رہے،سکیورٹی ذرائع

    سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہااور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنوں کا صفایا کررہے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں سکیورٹی حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی، سکیورٹی ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا، وادی تیراہ میں دہشت گردوں، فتنہ ہندوستان اور فتنہ خوارج کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے اور انٹیلی جنس بیسڈآپریشن میں تمام فتنوں کا صفایا کررہے ہیں، ڈرون ٹیکنالوجی میں خودانحصاری حاصل کرچکے ہیں، جاری جنگوں کے تناظرمیں جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی کام کررہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔

  • جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے،وزیراعظم

    جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، گورنر اسٹیٹ بینک دل بڑا کریں اور تگڑے فیصلے کریں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عظیم کاروباری شخصیات نے ملک کا نام روشن کیا، ایکسپورٹرز پاکستان کے عظیم فرزند ہیں، کاروباری شخصیات نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، کاروباری شخصیات نے ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا،ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت سنبھالی تو کچھ لوگوں نے کہا پاکستان ڈیفالٹ کرچکا ہے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لیے چیلنج تھا، حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہوچکی ہے، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے، حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مل کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا، گورنر اسٹیٹ بینک دل بڑا کریں اور تگڑے فیصلے کریں، گورنر اسٹیٹ بینک کاروباری شخصیات کی بات سنیں، حکومتیں کاروبار نہیں کرتیں، کاروبار پرائیویٹ سیکٹر نے کرنا ہے۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے قرض لیے انہوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا، جو قرض لینے جاتا ہے اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے، کوئی کسی سے مانگنے جاتا ہے تو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے، چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی مدد کی۔

  • وادیٔ لیپہ، شدید سردی ،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند

    وادیٔ لیپہ، شدید سردی ،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند

    وادیٔ لیپہ، آزادجموں و کشمیر میں شدید سردی اور سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلندہیں

    وادیٔ لیپہ میں شدید برف باری، منجمد درجۂ حرارت اور دشوار گزار زمینی حالات کے باوجود پاک فوج کے جوان پوری پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کیساتھ عوام کی خدمت میں مصروف ہیں،سخت موسم کے باوجود پاک فوج کے دستے دن رات سڑکوں کی بحالی اور برف ہٹانے کے کام میں سرگرم ہیں،امدادی سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ ناصرف موجود بلکہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرےگی

    وادیٔ لیپہ کے عوام نے پاک فوج کی بروقت کارروائی، انتھک محنت اور بے لوث خدمت کو دل کی گہرائیوں سے سراہا ،مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سخت ترین موسم میں بھی عوامی خدمت کو یقینی بنانا پاک فوج کی پیشہ ورانہ پہچان اور قومی فخر ہے،ہمیں پاک فوج پر فخر ہے کیونکہ وہ ہر مشکل گھڑی میں قوم کے کام آتی ہے،شدید برف باری کے باعث سڑکیں بند ہو گئی تھیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو گئے تھے، مگر پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام سڑکیں اور لنک روڈز بحال کر دی، طبی ایمرجنسی کے دوران ایک خاتون کو بروقت ریسکیو کرنا بھی پاک فوج کی عوام دوست خدمات کا روشن ثبوت ہے، مقامی عوام نے پاک فوج کی ان خدمات پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا

  • بنوں: سیکیورٹی فورسز کا  آپریشن، تین عسکریت پسند ہلاک

    بنوں: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، تین عسکریت پسند ہلاک

    بنوں: ضلع بنوں کے مختلف علاقوں اکبر علی خان کلے، اسپرکہ اور ڈومیل میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف آج علی الصبح مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا، جو تاحال جاری ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں موجود شدت پسند عناصر کا قلع قمع کرنا تھا۔آپریشن کے دوران فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک تین عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض زخمی عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان، ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی اور 116 بریگیڈ کے بریگیڈیئر عمیر نیازی آپریشن کے دوران خود فیلڈ میں موجود رہے اور تمام کارروائی کی براہ راست نگرانی کرتے رہے۔ اعلیٰ حکام کی موجودگی میں فورسز نے مختلف مقامات پر گھیراؤ کرتے ہوئے مشتبہ ٹھکانوں کی تلاشی لی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

  • پاکستان نیوی نے 14 ویں مرتبہ سی ٹی ایف-150 کی کمان سنبھال لی

    پاکستان نیوی نے 14 ویں مرتبہ سی ٹی ایف-150 کی کمان سنبھال لی

    پاکستان نیوی نے مشترکہ میری ٹائم ٹاسک فورس 150 (CTF-150) کی کمان 14ویں مرتبہ سنبھال لی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس سلسلے میں کمان کی تبدیلی کی تقریب بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (CMF) کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی تقریب کے دوران پاکستان نیوی کے کموڈور محمد یاسر طاہر نے کمان رائل سعودی نیول فورسز کے کموڈور فہد ایس الجواید سے سنبھالی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کموڈور محمد یاسر طاہر نے کہا کہ ان کی ٹیم اس اہم اور باوقار ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خطے میں سمندری سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان نیوی غیر قانونی سمندری سرگرمیوں کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے گی اور اہم بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی 7کروڑ روپے کی رقم واپسی درخواست پر نوٹس جاری

    کمان کی تبدیلی کی اس تقریب میں بحرین میں پاکستان کے سفیر، کمانڈر کمبائنڈ میری ٹائم فورس، کمانڈر رائل بحرین نیول فورسز اور سی ایم ایف کے تحت کام کرنے والی دیگر ممالک کی بحری افواج کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    سی ٹی ایف-150، کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت کام کرنے والی 5 ٹاسک فورسز میں سے ایک ہے۔ اس کا بنیادی مشن غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اسلحہ، منشیات اور دیگر غیر قانونی اشیا کی اسمگلنگ کو روکنا ہے، جو بحر ہند، بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں سرگرم ہوتے ہیں،رائل سعودی نیول فورسز کی قیادت کے دوران پاکستان نیوی کے جہازوں کی جانب سے کی جانے والی کامیاب انسدادِ منشیات کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان نیوی علاقائی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ سمندری کوششوں میں سنجیدہ اور پُرعزم کردار ادا کر رہی ہے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

  • بی ایل اے کے دہشتگردوں کی جانب سے بلوچ خاتون کی عزت تار تار

    بی ایل اے کے دہشتگردوں کی جانب سے بلوچ خاتون کی عزت تار تار

    بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں نےایک بلوچ خاتون کواغوا کرنے، چار روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں ویران علاقے میں چھوڑ دیا ہے

    ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون حنال بلوچ کو مبینہ طور پر بی ایل اے کے ایک کمانڈر دوگزین عرف سرابی اور اس کے ساتھیوں نے اغوا کیا۔ خاتون کو حراست کے دوران تشدد اور اجتماعی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اسے انتہائی کمزور حالت میں ایک ویرانے میں پھینک دیا گیا۔ مقامی افراد نے خاتون کو دیکھ کر فوری طور پر مدد فراہم کی اور قریبی طبی مرکز منتقل کیا۔

    متاثرہ خاتون نے بیان میں کہا ہے کہ اسے زبردستی اٹھایا گیا اور کئی دن تک غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ اسے انصاف مل سکے اور آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو مثال بناتے ہوئے سزا دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ، قانونی معاونت اور طبی و نفسیاتی سہولیات فراہم کی جائیں۔

  • بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد اسی مقام سے برآمد کر لی گئی جہاں اس سے قبل اس کی والدہ کی لاش ملی تھی۔ حکام کے مطابق بچی کی لاش جمعرات کے روز ریسکیو ٹیموں نے طویل سرچ آپریشن کے بعد نکالی،ریسکیو ذرائع کے مطابق لاہور کی آؤٹ فال روڈ سے 10ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی ہے۔ بچی کی لاش واسا کے ڈسپوزل اسٹیشن سے ملی، بچی کی لاش بھی وہیں سے ملی جہاں سے والدہ کی لاش ملی تھی۔

    لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی تھی،متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھکر کے دورے سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر ہی ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،ماں اور بچی کے واقعہ کے ریسکیو آپریشن میں موجود تمام اداروں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ،پولیس، ریسکیو ، واسا اور انتظامیہ واقعے سے متعلق غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کریں گے ،وزیر اعلی ٰ پنجاب کی جانب سےفیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت ترین کارروائیوں کا عندیہ ہے،آپریشن کی متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے افسران اور اداروں کیخلاف کارروائی کی جائےگی،گھر جانے کے بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس ہوگا۔

  • مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، فیلڈ مارشل

    مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بہاولپور گیریژن کا دورہ کیا، ٹیکنالوجی میں ترقی پر زور دیا اور ملکی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو آپریشنل، تربیتی اور انتظامی امور پر بریفنگ دی گئی، فیلڈ مارشل نے کور کی مجموعی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جنگی چیلنجز سے نمٹنے کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، میدانِ جنگ اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اعلیٰ درجے کی تیاری ضروری ہے پاک مسلح افواج مختلف شعبوں میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں، ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگی حکمتِ عملی کو نئی سمت دی ہے، ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر سطح پر فکری تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے خیرپور ٹامیوالی میں فیلڈ ایکسرسائز اسٹیڈ فاسٹ ریزولو کا مشاہدہ کیا، اس موقع پر نگرانی سسٹم، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کا عملی مظاہرہ کیاگیا مشق ٹیکنالوجی پر مبنی ملٹی ڈومین آپریشنز میں پاک افواج کی بڑھتی صلاحیتوں کی عکاس ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری کی تعریف کی۔

  • عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    بدھ کے روز بلوچستان میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ایک خاتون کو اغوا کر لیا۔ متاثرہ خاتون کی بازیابی کے لیے سکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تقریباً شام 04:30 سے 04:45 کے درمیان بلوچستان کے علاقے بلچہ میں ایک کرولا گاڑی ایک خاتون نرگس کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی، جس کے بعد گاڑی وہاں سے روانہ ہو گئی۔بعد ازاں خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد شہر کے قریب اسے روکنے میں کامیاب ہو گئے، ذرائع نے بتایا۔

    اس موقع پر ذرائع کے مطابق گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف اٹھائے باہر نکلا۔جب شوہر نے مزاحمت کی اور بتایا کہ خاتون اس کی بیوی ہے اور اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہے، تو پیچھے سے دو موٹر سائیکلیں آ گئیں اور انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ملزمان نے شوہر اور اس کے بھتیجے کے موبائل فون بھی چھین لیے اور بعد ازاں خاتون کو اپنے ساتھ ناصرآباد کے جنگلاتی علاقے کی طرف لے گئے۔ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس واقعے پر سرگرم عمل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کی فوری طور پر تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مزید پیش رفت اور تفصیلات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔

    یہ واقعہ کسی عام اغوا یا ذاتی دشمنی کا معاملہ نہیں۔ دن کی روشنی میں اسلحے کے زور پر عورت کا اغوا، مدد کے لیے مسلح ساتھیوں کا پہنچنا، اور پھر جنگل کی طرف لے جانا ایک منظم دہشت گرد کارروائی کی واضح علامت ہے۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جو بی ایل اے دہشت گرد برسوں سے خوف پھیلانے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

    تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔کیچ کا یہ واقعہ اسی خطرناک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ خاتون کو پہلے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، پھر بلیک میل کر کے اسے خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے کھلا خطرہ ہے۔عورتوں کا اغوا، ان پر تشدد اور انہیں اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی ہے۔ اگر ایسے جرائم کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ پھیلتا جائے گا۔ آج سچ کہنا اور آواز اٹھانا ہی کل کے بڑے سانحے کو روک سکتا ہے۔