Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • قومی اسمبلی میں نئے مالی سال25-2024 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ

    قومی اسمبلی میں نئے مالی سال25-2024 کا بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 25-2024 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے، قومی اسمبلی نے 18ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا ہے،بجٹ منظور ہونے سے قبل سنی اتحاد کونسل نے ایوان سے واک آؤٹ کر لیا، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی غیر موجودگی میں فنانس بل منظورہوا.بجٹ منظور ہونے پر حکومتی اراکین نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو مبارکباد دی.

    قومی اسمبلی میں بین الاقوامی فضائی سفر کےلیے ٹکٹوں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شق منظور کرلی گئی، یکم جولائی سے بین الاقوامی سفر کے لیے اکانومی اور اکانومی پلس ٹکٹ پر 12500 روپے ٹیکس دینا ہوگا،یکم جولائی سے امریکا اور کینیڈا کیلئے بزنس کلاس اور کلب کلاس ٹکٹ پر ٹیکس میں ایک لاکھ روپے تک اضافے کی منظوری دی گئی ،مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سفر کےلیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر ڈیڑھ لاکھ روپے ٹیکس دینا ہوگا، یورپ کے فضائی سفر کےلیے بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10 ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا،مشرق بعید، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فضائی سفر پر بزنس، فرسٹ اور کلب کلاس پر 2 لاکھ 10ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا۔

    ضروری نہیں کہ پیکجڈ دودھ کی حوصلہ افزائی کی جائے،ہمیں صحت مند قدرتی دودھ کی طرف جانا ہوگا۔وزیر خزانہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رکن علی محمد خان نے کہا ہے کہ بچوں کے دودھ، اسٹیشنری اور صحت کے آلات پر ٹیکس واپس لیا جائے،علی محمد خان نے ایل پی جی اور لیپ ٹاپس پر بھی ٹیکس واپس لینے کی ترمیم پیش کی، جس پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسٹیشنری، دل کی بیماریوں سے متعلقہ آلات پر ٹیکس پہلے ہی واپس لیا جاچکا، ضروری نہیں کہ پیکجڈ دودھ کی حوصلہ افزائی کی جائے،ہمیں صحت مند قدرتی دودھ کی طرف جانا ہوگا۔

    اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور
    پیپلزپارٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی مراعات بڑھانے سے متعلق ترمیم ایوان میں پیش کر دی،قومی اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیم کثرت رائے سے منظور کر لی،ارکان پارلیمنٹ تنخواہ و مرات ایکٹ میں ترمیم فنانس بل کے ذریعے کی جا رہی ہے ،پیپلز پارٹی کے عبد القادر پٹیل نے ترمیم پیش کی،اراکین اسمبلی کا سفری الاؤنس 10روپے کلومیٹر سے بڑھا کر25روپے کر دیا گیا،اراکین پارلیمنٹ کے بچ جانے والے سالانہ فضائی ٹکٹس استعمال نہ ہونے پر منسوخ کرنے کی بجائے اگلے سال قابل استعمال ہونگے، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا اختیار وفاقی حکومت سے لیکر متعلقہ ایوان کی فنانس کمیٹی کے سپرد کر دی گئی،اپوزیشن نے تنخواہوں اور مراعات سے متعلق پیپلز پارٹی کی ترمیم کی مخالفت کی،ترمیم کے مطابق سالانہ ٹریولنگ ووچرز 25سے بڑھا کر 30کردیا گیا،

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا نے فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا،وزیراعظم
    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری و دیگر اراکین شریک ہوئے.وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران اراکین سے ملتے رہے تو وہیں بلاول زرداری نے بھی اراکین سے ملاقاتیں کیں،وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو حصہ دیا گیا ہے، 2010 میں این ایف سی کا آخری ایوارڈ ہوا تھا، اس وقت دہشتگردی عروج پرتھی، اس میں صوبوں کےحصے میں کے پی کا حصہ ایک فیصد رکھا گیا ، کےپی کو590ارب روپےدہشتگردی کی روک تھام کی مدمیں ملے، دوسرےکسی صوبےکواس مد میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا نے فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا،اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ایک فیصد حصہ کےپی کے کےلیے الگ سے رکھا گیا،وہ ایک فیصد حصہ آج تک مل رہا ہے۔چاروں صوبوں نے مل کر این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق کیا تھا ،اس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف زرداری تھے،میں خود اس این ایف سی ایوارڈ میں شریک تھا ، صوبوں کے حصوں سے پہلے خیبرپختونخواہ کا ایک فیصد شیئر رکھا گیا ،دوہزار دس سے اب تک دہشتگردی کی کاوشوں پر خیبر پختونخواہ کو 590 ارب دیے گئے ،ہم نے چیف سیکرٹری کے لیے تین ناموں کا پینل دیا خیبرپختونخواہ حکومت نے کسی کا انتخاب نہیں کیا ۔ اگر خیبرپختونخواہ حکومت چاہے تو ایک اور پینل دینے کو تیار ہیں ۔ اب تک خیبرپختونخواہ میں سی ٹی ڈی نامکمل ہے ۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کردیں
    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حقیقت پر بات کرنی چاہیے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیسا ہے، کرنسی مستحکم ہے اور یہ ایسے ہی رہے گی، سرمایہ کار واپس آرہے ہیں، پچھلے مہینے غذائی مہنگائی 2 فیصد پر تھی،وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل میں ترامیم ایوان میں پیش کردیں،انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں اضافے کی ترمیم پیش کی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل میں دیگر ترامیم بھی ایوان میں پیش کیں جس کے بعد اپوزیشن نے فنانس بل کے خلاف ترامیم پیش کیں جن کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مخالفت کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کرپشن اور چوری کو ٹھیک کرنا ہے، ایف بی آر کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے کر جانا ہے نجکاری دو سے تین سال کا منصوبہ ہے، انرجی سیکٹر اور پاور سیکٹر کی ریفارم بجٹ کا حصہ ہیں۔

    ویگوڈالے پی ٹی آئی والوں کے پیچھے پھرتے ہیں اس سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی ،عمر ایوب
    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے بجٹ 25-2024 کو پاکستان کےعوام کےخلاف اکنامک دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے لوگ عوام کے قاتل ہیں اور ان کے خون کے ذمہ دار ہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ساڑھے چار سو ارب روپے کی گندم امپورٹ کی، اب اس گندم کو ایکسپورٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے، یہ کابینہ ہے یا سرکس ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، نیب گندم اسکینڈل کی تحقیقات کرے، اس بجٹ سے افراط زر بڑھے گی، یہ عقل کے اندھے ہیں، ان کو معیشیت کا پتہ ہی نہیں ہے، قیمتیں عارضی کم ہوئی ہیں اب دوبارہ بڑھیں گی، بجلی کی قیمت 70 روپے سے بڑھ کر 85 روپے پر جائے گی، اس بجٹ کے ساتھ کوئی اقتصادی گروتھ نہیں ہوگی، یہ عوام اور انڈسٹری مخالف بجٹ ہے، ہم پورے بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،حکمران جماعت نے تسلیم کیا بجٹ (آئی ایم ایف) سے بنوایا گیا ہے، کسانوں کی کمرتوڑدی، اب گندم برآمدکرنےکی کوشش ہوگی، پہلےاربوں روپے بنائے اب پھراربوں روپے بنائیں گے۔ویگوڈالے پی ٹی آئی والوں کے پیچھے پھرتے ہیں اس سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی ۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کو پورے فنڈز فراہم نہیں کررہی ۔وفاقی حکومت پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں سے بدلہ لے رہی ہے ۔ میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں ۔

    خود وزیر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے،زرتاج گل
    زرتاج گل نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ فارم 47والی حکومت کا بجٹ ہے،موجودہ حکومت کو کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے،خود وزیر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے، اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آپ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا ہے ،وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں خیبرپختونخواہ کو چیف سیکرٹری اور آئی جی اپنی مرضی سے لگانے کی اجازت کیوں نہیں ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سنی اتحا د کونسل کے رکن علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کےبجٹ کومسترد کرتےہیں عوام نے بجلی، گیس، پانی کےبل اورکرائےدینے ہیں

    کے پی کو اس بات پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں کوئی کفایت شعاری پلان نہیں رکھا گیا، اس حکومت میں سب سے زیادہ لوگ بے روزگار رہے ہیں،کے پی کو اس بات پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ،پی آئی اے اور ڈسکوز کی نجکاری کی بات کی جارہی ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس میں یہ لوگ ترامیم کرنا چاہ رہے ہیں، موجودہ حکومت میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے، موجودہ حکومت میں ڈالرکاریٹ سب سےزیادہ ہے، بہت سےممالک میں انکم ٹیکس نہیں لیکن یہاں لگایا گیا ہے، حکومت نے سی سی آئی سےمنظوری نہیں لی۔

    بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی شدیدنعرے بازی میں فنانس بل منظور کرلیاگیا،حکومتی ترامیم کی منظوری پر اپوزیشن نے ووٹنگ چیلنج کردی، جس پر اسپیکر نے گنتی کروانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ مجھے نظر آرہا ہے کس کی اکثریت ہے پھر بھی گنتی کروا دیتا ہوں۔

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعظم شہبازشریف کی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوئی ہے،دونوں رہنمائوں میں ملاقات قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ہوئی،وزیراعظم نے بلاول بھٹو کے ساتھ ان کی نشست پر جاکر ملاقات کی ،وزیراعظم نے بلاول بھٹو سے مصافحہ کیا ،دونوں رہہنمائوں نے کچھ دیر تک تبادلہ خیال بھی کیا،وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی بجٹ کی حمایت پر بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا ، بلاول زرداری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کے مفاد میں اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کریں گے ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سینیٹرفیصل واوڈااور مصطفی کمال ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،بیرسٹرفروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ مصطفیٰ کمال نےغیرمشروط معافی مانگی اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کرچکے ہیں،فیصل واوڈا عدالت پیش ہوئے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل نہیں آئے؟کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے، فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کلائنٹس کہاں ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26 چینل کی جانب سے میں ہوں،چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کسی کلائنٹ نے ابھی تک کوئی جواب جمع نہیں کروایا،آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تمام چینلز کے نمائندگان عدالت میں موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا چکا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جواب پر دستخط وکیل کے ہیں چینلز کے نہیں،توہین عدالت کیس میں دستخط چینلز کے ہونا لازمی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شوکاز نوٹس ہوتا تو جواب چینلز کے دستخط سے جمع ہوتا،میڈیا اداروں کو شوکاز نوٹسز نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ میڈیا اداروں کو شوکاز کروانا چاہتے ہیں ؟جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کم از کم میڈیا اداروں کے کسی ذمہ دار افسر کا دستخط شدہ جواب جمع ہونا چاہیے تھا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ کہاں سے کر رہے ہیں؟ پیمرا سے یا کسی بین الاقوامی کنونشن سے دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق اور سچ میں فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ میں آج آپ سے نئی بات سیکھوں گا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کہاں آپ کو کچھ بھی سکھا سکتا ہوں،سچ کا تناظر وسیع ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے کھڑے ہیں یہ حقیقت ہے یا سچ؟بال کی کھال اتارنے جیسی بات کر رہے ہیں، صدیقی صاحب وکیل نے اپنے کلائنٹ کا مفاد دیکھنا ہوتاہے،

    کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آئین پسند نہیں؟ میں سمجھا آپ آئین سے بات کا آغاز کریں گے،کوئی کسی کو چور ڈاکو کہے اور میڈیا کہے ہم نے صرف رپورٹنگ کی ہے کیا یہ درست ہے؟کیا ایسے آزاد میڈیا کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں؟ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے دو الگ الگ چیزیں ہیں،گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، کیا آئین میں صحافت کی کچھ حدود ہیں یا نہیں، ایک وکیل دوسرے کو جھوٹا اور چور کہے تو میڈیا بغیر تصدیق چلا دیتا ہے، کیا توہین آمیز مواد چلانا توہین عدالت نہیں،کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں، ایسا بھی نہیں ہوا کہ ایک بار غلط بات آنے پر پریس کانفرنس کوکاٹ دیا ہو، اب فریڈم آف ایکسپریشن کے تحت بتائیں اس پریس کانفرنس سے کتنے پیسے کمائے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کلائنٹس سے ہدایات لے لیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایک ایک سے بلا کر پوچھ لیتے ہیں،

    ڈائریکٹر نیوز جیوٹی وی رانا جوادروسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کتنی بار وہ پریس کانفرنس چلائی کتنے پیسے بنائے؟رانا جواد نے کہا کہ گیارہ بارہ بلیٹن میں وہ پریس کانفرنس چلی،پیسوں کا نہیں پتہ میں صرف ایڈیٹوریل دیکھتا ہوں فنانس نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریس کانفرنس کرنے والے کہہ رہے ہیں ان سے غلطی ہو گئی،آپ مگر کہہ رہے ہیں کہ آپ کا فرض ہے یہ دکھائیں گے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی شخص آکر کہہ دے میں عوام کا نمائندہ ہوں آپ اسے نشر کریں گے؟

    آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھرسختی سے پیش آئیں گے،چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فریڈم آف پریس کی وضاحت 200سال سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 200سال سے کیوں؟ 1400سال سے کیوں شروع نہیں کرتے،آپ کو 1400سال پسند نہیں؟ 200سال کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں کہ تب امریکا آزاد ہوا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں 200 سال کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ ماڈرن آئین کی ابتدا تب ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے آغاز ہو رہا ہے آئین کا،اس میں کہاں ماڈرن ایج کا ذکر ہے؟ آپ نے بطور ٹی وی چینلز ان کی گفتگو پھیلائی آپ ان پر تہمت اب لگا رہے ہیں توہین کی خود کہتے ہیں کچھ نہیں کیا،باہر کے ممالک میں تو پریس کانفرنس لائیو نہیں دکھائی جاتی، وہاں پریس کانفرنس سن لی جاتی ہے پھر کچھ چیزیں کاٹ لیتے ہیں، اب آپ امریکا کی مثال نہیں دیں گے، آپ نے خود مان لیا توہین ہوئی ہے پھر آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں، یہ تو اب آپ کے اعتراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا اعتبار ہے آپ جو بھی فیصلہ کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں سرٹیفکیٹ نہ دیں، کیا یہ آئینی دلیل ہے کہ آپ پر پورا اعتبار ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ چینلز کے دستخط سے جواب دیں تو دے دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھر آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں تو خود توہین عدالت کی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، ایک ساتھی جج نے کمرہ عدالت میں بات کر دی تھی اس لیے کارروائی شروع کرنا پڑی، ٹی وی چینلز کی جانب سے آپ کا جواب جارحانہ ہے، آپ جواب میں پریس کانفرنس کو توہین کہہ کر اسے نشر کرنا اپنا حق بھی کہہ رہے ہیں، یہ فساد فی الارض کی بات ہے اور اب ہمارا فرض ہے کہ کچھ کریں،

    فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے، چیف جسٹس
    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ عام لوگوں کے ذہن پر میڈیا کا بہت اثر ہوتا ہے، آپ نے پریس کانفرنس چلائی پھر بار بار ٹکرز چلے،ہ ٹی وی چینلز پر ان لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے جنہیں قانون کا کچھ علم نہیں ہوتا،تبصرے لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے سولہ سو فیصلے لکھ چکے ہیں،اگر کوئی میکنزم نہیں ہے تو بنا لیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو چاہتے ہیں تماشا بنے ورنہ آپ کا کام کیسے چلے گا، عدالتی معاون حافظ عرفات کی جانب سے غیبت، بدگمانی اور فاسق کی خبر کی ممانعت میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی شوق نہیں کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں،کیا کریں مگر معاشرہ تباہ ہو رہا ہے،میڈیا کی آزادی سے متعلق ہم بہت محتاط ہیں، کورٹ رپورٹنگ کرنے والے معاشرے میں ایک کام کر رہے ہیں جا کر بتاتے ہیں یہ ہو رہا ہے،اب وہ فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے،

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    سپریم کورٹ، ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری،،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نےتمام میڈیا چینلز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، عدالت نے ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کا موقف درست ہے تو ڈٹ کر کھڑے رہیں،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ میڈیا چینلز کے وکیل نے کہا لائیو پریس کانفرنس دکھانا انکا حق اور ڈیوٹی ہے،توہین عدالت کا قانون واضح ہے،تمام میڈیا چینلز کے جوابات ایک جیسے ہیں،26 چینلز نے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا،میڈیا چینلز نے جواب پر دستخط نہیں کیے، ٹی وی چینلز شوکاز نوٹس پر دستخط شدہ جواب جمع کرائیں،ٹی وی چینلز براڈ کاسٹ سے پیسہ کماتے ہیں،ٹی وی چینلز جواب کیساتھ اشتہارات سے کمائی گئی رقم کا ریکارڈ جمع کرائیں،جوابات پر ٹی وی چینلز کے مالکان اور چیف ایگزیکٹو کے دستخط ہونے چاہیں،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • شبلی فراز کے استعفے سے  پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی، شیر افضل مروت

    شبلی فراز کے استعفے سے پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی، شیر افضل مروت

    تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ تحریک انصاف کا نیا سیکرٹری جنرل کون ہو گا، ایسے میں شیر افضل مروت سامنے آئے ہیں، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں عمر ایوب خان کی طرف سے سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑنے کے دانشمندانہ فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز چند دیگر افراد کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی ایک بھی کام پورا کرنے میں ناکام رہی۔ خان جیل میں ہے اور مینڈیٹ کی بازیابی ابھی دور ہے۔ ہماری خواتین اور رہنما جیلوں میں بند ہیں اور ہم عوام کو ایک عظیم تحریک کے لیے متحرک کرنے میں ناکام رہے۔ ملک بھر میں بلے کے نشان، مخصوص نشستوں، ضمنی انتخابات اور پارٹی کی تنظیم نو کا نقصان ایسی چند مثالیں ہیں جہاں پارٹی قیادت بری طرح ناکام رہی۔ پارٹی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹیاں فیورٹ پر مشتمل ہوتی ہیں اور فیصلے میرٹ پر نہیں ہوتے۔ میں شبلی فراز سے پارٹی آفس اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف دونوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا ہوں تب ہی پارٹی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی۔ اگر پارٹی کارکن مجھے میدان میں چاہتے ہیں تو میرے مطالبے کے حق میں آواز بلند کریں۔ اگر شبلی کو ہٹایا گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پارٹی وقت کی ضرورت کے مطابق اٹھے گی۔ اگر ہم ماضی کی طرح ناقص لوگوں پر خاموشی اختیار کرتے رہے تو فتح نظر نہیں آئے گی

    شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کیا تھا،شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

  • عمر ایوب پارٹی عہدے سے مستعفی

    عمر ایوب پارٹی عہدے سے مستعفی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

    عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا خط ٹوئٹ کیا جبکہ انہوں نے چیئرمین مرکزی فنانس بورڈ پی ٹی آئی کے عہدے سےبھی استعفیٰ دے دیا انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نام خط تحریر کیا،عمر ایوب کے استعفے پر 22 جون 2024 کی تاریخ درج ہے۔

    عمر ایوب نے خط میں کہا کہ مئی 2023 سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دینا باعث اعزاز رہا، بےحد مشکور ہوں کہ آپ نے مجھ پر اعتماد کیا، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات کا موقع دیا گیا۔

    انہوں نے خط میں کہا کہ شاندار سپورٹ پر سینیٹر شبلی فراز،کورکمیٹی اور تنظیمی ممبران کا شکر گزار ہوں،میں سمجھتا ہوں کہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا،مجھے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر بھی نامزد کیا گیا، دونوں عہدے پوری توجہ کے متقاضی ہیں، پارٹی ڈھانچے کو منظم کرنے کے لیے سیکرٹری جنرل کا عہدہ کسی اور دیا جائے، کارکن کی حیثیت سے پی ٹی آئی کے لیے کام کرتا رہوں گا۔

    ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی :وہاب ریاض نے رپورٹ پی سی بی کو جمع کرا …

    مریم نواز کو دیکھتی ہوں تو وہ مجھے متاثر کرتی ہیں، میرا

    بجلی کا شارٹ فال5ہزار885میگاواٹ تک پہنچ گیا

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات سامنے آئے تھے اور 21 ارکان قومی اسمبلی نے الگ گروپ بنانے کا عندیہ دیا تھا۔

  • دوران عدت نکاح کیس،  عمران ،بشریٰ کی سز ا معطلی کی درخواست مسترد

    دوران عدت نکاح کیس، عمران ،بشریٰ کی سز ا معطلی کی درخواست مسترد

    دوران عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا گیا

    عدت میں نکاح کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی،عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، ایڈشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے عمران خان وبشریٰ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سنایا،25 جون کو عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت میں جج افضل مجوکا نے کہا کہ میں نے تفصیلی فیصلہ لکھ دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ جب مرکزی اپیل مقرر ہو تو سزا معطل نہیں کی جاتی.تفصیلی فیصلہ
    عدت کیس سزا معطلی درخواست مسترد ہونے کاتفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،عدالت نے10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں مختلف عدالتی فیصلوں کا بھی ذکر کیا،جج محمد افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عِدت کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کرنے کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کی جانب سے مرکزی اپیلوں پر ایک ماہ میں فیصلے کی ڈائریکشن کو بنا دیا. ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈائریکشن ہے کہ مرکزی اپیلوں پر 12 جولائی تک فیصلہ کرنا ہے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ جب مرکزی اپیل مقرر ہو تو سزا معطل نہیں کی جاتی.عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ دونوں ملزمان کے پاس سزا معطلی کا کوئی جواز موجود نہیں،بشریٰ بی بی کا خاتون ہونا سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا جواز نہیں، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں،سزا معطلی یا ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران مقدمے کے میرٹس پر بات نہیں کی جا سکتی، دونوں ملزمان کو دی گئی سزا نہ تو قلیل مدتی ہے، نہ ہی وہ سزا کا زیادہ حصہ بھگت چکے ہیں،

    عدت کیس میں سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ سنایا گیا تو قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے وابسطہ صحافی کثیر تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود تھے، تحریک انصاف کے رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان جوڈیشل کمپلکس کے باہر موجود تھیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات تھی، جب فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی کارکنان نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حق میں نعرے بازی کی،

    عدت کیس میں سزا معطلی کا فیصلہ مسترد ہونے پر پی ٹی آئی کا اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کا اعلان
    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائرکریں گے،اسیران رہا ہونے تک کوئی بات چیت نہیں ہو گی، ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں،ہماری تحریک تیزی سے آگے چلے گی ہر جگہ مظاہرہ کریں گے،یہ کیس خاوند اور بیوی کے درمیان ہے، اُس کو سیاسی بنایا گیا، فارم 47 کے مسٹر شہباز شریف کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، عمران خان کو رہا کریں،اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آخری وقت تک ہم ظلم کا مقابلہ کریں گے کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، کنول شوذب کا کہنا تھا کہ عدالت نے ناصرف آج انصاف کا قتل کیا ہے، بلکہ خواتین کو بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے یہ عدالت۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی محترمہ اہلیہ کے خلاف عدّت کیس میں نہایت ناقص ٹرائل کے نتیجے میں سنائی گئی سزاؤں کی معطّلی کی درخواستوں پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا فیصلہ نہایت مایوس کن اور انصاف کا کھلا قتل ہے۔ اس غیراخلاقی اور بیہودہ مقدّمے کے اہداف مکمل طور پر سیاسی ہیں اور یہ فیصلہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف جاری انتقامی سلسلے کو دوام بخشے گا۔ہم اس ناقابلِ قبول فیصلے کے خلاف فی الفور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

    پی ٹی آئی والے جشن منانے میں جلد بازی کرتے ہیں،عطا تارڑ
    وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے عدالتی فیصلہ پر کہا کہ آج تحریک انصاف اور ان کے لیڈر کو ناکامی ہوئی ہے اور حق سچ کی فتح ہے، عدت نکاح کا کیس بھی بہت اہم ہے ، یہاں جواب تو دینا ہوگامفتی سعید کا بیان ہے، خاور مانیکا کا کیس بہت اہم ہے،عدالت میں بطور مدعی خاور مانیکا پیش ہوئے، اتنے شواہد نہیں تھے کہ سزا ختم ہوتی،پی ٹی آئی اور بشریٰ کے وکیل ناکام رہے ہیں،اب پی ٹی آئی کو جواب دینا ہو گا،یہ تحریک انصاف کی بہت بڑی ناکامی ہوئی ہے.پی ٹی آئی والے جشن منانے میں جلد بازی کرتے ہیں،

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،

  • امریکی قرارداد  مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں ردعمل دیا ہے

    اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں منظور قرارداد کو پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعمیری بات چیت کا خواہاں ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں، امریکی قرارداد کے جواب میں ہم بھی قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار کرلیا ہے اپوزیشن سے بھی شیئر کریں گے، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا مؤثر ردعمل دیا ہے،پاکستان آزاد اور خودمختار دنیا کی پانچویں بڑی جمہوری قوت ہے۔ ہم بھی دیگرممالک کےحوالےسے50چیزوں پرتنقیدکرسکتےہیں،

    بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے،وزیر خارجہ
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومت میں سی پیک پر کام کو روک دیا گیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک پرکام کو دوبارہ شروع کرایا، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کئی بار کام کرنے کی کوشش کی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے، پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں، ہم نے ماضی میں اپنے تعلقات دوسرے ملکوں سے خود خراب کیے، خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے، موجودہ حکومت نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے،ہم چاہتے ہیں افغانستان مضبوط ہو ،افغانستان ہماری ترجیح ہے،انکےساتھ مذہبی ،ثقافتی رشتہ ہے ،دوحہ میں چند ہفتوں میں سمٹ ہونےجارہی ہے،اس سمٹ میں افغانستان اورہم بھی ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کاحق ملے،ایسانہیں ہوسکتاکوئی میانوالی،پشاورمیں جاکرووٹ کرے ،اوورسیز چاہتے ہیں کہ ان کی چندسیٹوں کی نمائندگی ہونی چاہئے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے،کیس سے متعلق حتمی پیپر بک جمع کرا دیے ہیں،الیکشن کمیشن سے کہاہے کہ 81 آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مجھے دیں ،تحریک انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو فراہم کردوں گا،حامدرضا نے کاغذات نامزدگی میں کہا میرا تعلق سنی اتحاد اور اتحاد تحریک انصاف سے ہے،حامدرضا کے دستاویزات میں کہا تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں،تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں،حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا،حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،

    حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟جسٹس منیب اختر کا استفسار
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں تو حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنا چاہ رہا ہوں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامدرضا نے جمع نہیں کروایا،حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف کا دیاہے،حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں،وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامدرضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی،

    جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 12جنوری کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ کےبعدایک پارٹی کےسرٹیفکیٹ جمع کرانے کےبعد کیا دوسری پارٹی کاسرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کےپاس امیدوارکے کاغذات نامزدگی کےساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے،پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے، ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرےگا نا؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے،اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزادامیدوار ہوتاہے،

    دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟جسٹس نعیم اختر افغان
    حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کے مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیاجائے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کردیاہو؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا،جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جارہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے، چیف جسٹس قاض فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن آگے بڑھتے ہیں،

    کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟چیف جسٹس
    امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار پارٹی وابستگی اور ٹکٹ جمع کرائے تو کیا اسے آزاد ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ جن 81 امیدواروں کی فہرست آپ نے دی ہے اس میں 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی، 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار الیکشن کے حوالے سے کتنے غیر سنجیدہ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی اور ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہر کیے،انتخابی نشان الگ چیز ہے ان امیدواروں کو پی ٹی آئی کا کیوں تصور نہ کیا جائے، امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نے انکی حیثیت پارٹی سے آزاد تبدیل کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی طور پر پر پارٹی وابستگی واپس لی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی تھی تو امیدوار پارٹی ٹکٹ کہاں سے لاتے؟امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے، سکندر مہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تضادات کے باوجود امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کو نشان نہیں ملے گا،الیکشن کمیشن نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا نا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آزادامیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا،

    سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، جسٹس منیب اختر
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہورہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کردیں،سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا،22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا نگران حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

    سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو،چیف جسٹس
    امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرواتے، دنیا بھر کی باتیں کررہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ایک آئینی ادارہ تسلیم کرتے ہیں ، امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوار تو کہہ رہا کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں،امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزاد امیدوار ہوں، وہ تو کہہ رہا کہ سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھا تو عدالت کو دکھانے کا توکوئی جواز نہیں،

    آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟جسٹس جمال مندوخیل
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ جج ہمارے فیصلے کو برقرار رکھ چکے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کے پابند نہیں،ہم نے جو اصل مسئلہ ہے اسے دیکھنا ہے، سوال یہ ہے الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈس فرنچائز کیسے کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا انتخابی نشان نہیں ہو گا تو پی ٹی آئی جماعت نہیں ہو گی؟ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتاوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے ، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا جواب یہی ہے نا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بنچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا، انتخابی نشان والے فیصلے کیخلاف نظر ثانی زیر التوا ہے،یہ بات درست نہیں ہے، ہم نے تشریح صیحح کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کرکے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ 80 سے زائد امیدواروں کو، چھ امیدواروں نے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا لیکن چھ کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مجھے بتائیں کاغذات نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جارہا،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے, وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزادامیدوار خود کو ظاہرکیا، آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے،دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزادامیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزادامیدوار نے خود کو امیدوار ظاہرنہیں کیا، الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزادامیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا،

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتاہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا نہیں ضروری، الیکشن کمیشن کے عدالت کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں تضاد ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا جس میں امیدوار اپنا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟

    ڈی جی لاء نے روسٹرم پر مخصوص نشستوں کے حصول سے متعلق سنی اتحادکونسل کامنشور پڑھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا منشور پڑھ کر انہیں مخصوص نشستیں دیتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا منشور عدالت کے سامنے لایاجائے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا دیکھوں یا ایک پارٹی کا منشور دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے منشور کو نظر انداز کیوں کروں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کسی اور پارٹی کا منشور نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں، میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کررہاہوں،

    الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل سکندر بشیر کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز پڑھے گئے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جینتی پڑےگی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی،آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں، فل کورٹ میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین کے وکلاء کو بھی ایسے ہی ٹریٹ کیا گیا جیسے آپ کو کیاگیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف اور سنی اتحاد نےکوئی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، سنی اتحاد نے نہیں دی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کردیاتھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات پڑیں گے؟الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کتنا وقت لگےگا؟ ایک دو منٹ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو کوشش کررہے کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے گیارہ بجے؟ تحریک انصاف کی لسٹ آج فراہم کردیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی لسٹ دےدوں گا،سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن بھی فراہم کردیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے،صرف عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ درخواست دائر کر دی ہے،

    ‏مخصوص نشستوں کا کیس یکم جولائی بروز سوموار تک ملتوی کر دیا گیا،‏فل کورٹ بینچ مخصوص نشستوں پر سماعت آج بھی مکمل نہ کر سکا

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے 25 جون کو منظور کیے گئے House Resolution 901 کے نوٹس لے لیا ہے۔
    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس قرارداد کی منظوری اور پس منظر ہمارے دوطرفہ تعلقات کے مثبت رجحان سے مطابقت نہیں رکھتا، اور یہ پاکستان کے سیاسی حالات اور انتخابی عمل کی ناقص سمجھ پر مبنی ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی پارلیمانی جمہوریت اور مجموعی طور پر پانچویں بڑی جمہوریت کے طور پر، پاکستان اپنے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے آئینی جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کے لیے پرعزم ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق "ہم باہمی احترام اور تفہیم پر مبنی تعمیری مکالمے اور وابستگی میں یقین رکھتے ہیں۔ اس طرح کی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی غیر جانبدار۔ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون کا کردار ادا کرے گی اور باہمی تعاون کے ایسے ذرائع پر توجہ مرکوز کرے گی جو ہمارے دونوں عوام اور ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں۔”

    کیوں نہ اقوام متحدہ سے امریکی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کہا جائے ،وزیر دفاع
    دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد 901 پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ٹویٹر پر امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ قرارداد ایک ایسے ملک کی جانب سے سامنے آئی ہے جس نے بیسویں صدی میں منتخب جمہوری حکومتوں کے تختے الٹائے،یہ قرارداد ایسے ملک کی جانب سے سامنے آئی ہے جو آج بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے سہولت کاری کر رہا ہے،

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے 2016 اور 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے امریکہ کو آئینہ دکھا دیا اور کہا کہ 2016 اور 2020 میں ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن جماعتوں نے ایک دوسرے پر غیر ملکی مداخلت، دھاندلی کے الزامات لگائے،کیوں نہ اقوام متحدہ سے امریکی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کہا جائے ،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

  • امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی کانگرس کی قرارداد 901 کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ آپریشن گولڈ سمتھ کا ایک حصہ ہے۔جس کا مقصد پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد 901 پیش کی گئی تھی جو پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کی حمایت کیلیے تھی، یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رچرڈ میک کارمک نے گزشتہ برس 30 نومبر 2023 کو پیش کی تھی۔امریکی سینیٹر کی اس قرار داد کو 21 مارچ 2024 کو امریکی کمیٹی برائے خارجہ امور میں بحث کے لئے بھیجا گیا تھا،جس کے بعد 24 جون 2024 کو قرارداد کو ایوان میں غور کے لیے پیش کیا گیا ،امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد 901 کی وقفے وقفے سے ٹیبلنگ کے اوقات کافی دلچسپ ہیں ، قرارداد 901 میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بھی کسی صورت درست نہیں ہیں،اصل میں یہ قرارداد ترقی کرتے پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش و سازش ہے

    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 "آپریشن گولڈ اسمتھ 2.0” کی ایک کڑی نظر آتی ہے،جو کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو نشانہ بنانے والی بدنامی کی مہم ہے، جس کا آغاز ایک سیاسی جماعت نے کیا تھا اور وہی ان سارے عوامل کے پیچھے ہے، حقائق کے برعکس بات کرنا، پروپیگنڈہ پھیلا کر قرارداد 901 کا مقصد جمہوریت اور انسانی حقوق کے شعبوں میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بے بنیاد شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی رکھنے والا ملک ہے، پاکستان میں 8 فروری کو رواں برس پرامن انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت تشکیل میں آئی جو جمہوریت کے روح کے مطابق کام کر رہی ہے، حکومت بجٹ پیش کر چکی ہے.پاکستانی معیشت سنبھل رہی ہے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے، جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے،تو پاکستان میں انسانی حقوق کے حالات پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان قدرے بہتر ہے.

    پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی حکومت کو مکمل حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے، دہشت گردوں، انکے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان نے ابھی چند دن قبل ہی آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے.

    فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی سیاسی حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت معاشی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے غیر قانونی بہاؤ، اسمگلنگ اور کارٹیلز کی اجارہ داری کو کنٹرول کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، فصلوں کی پیداوار کی سطح میں بہتری آئی ہے، افراط زر میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے اور تمام معاشی اشاریے تیزی کا رجحان دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گئی۔ معروف اقتصادی ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی 27 فیصد اسٹاک ریلی ایشیا میں آگے ہے اور اس سال کے آخر تک 10 فیصد مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کا منافع اپنے قیام کے ایک سال کے اندر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ریاست اور اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ عوام اور افواج کے درمیان سماجی معاہدہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حوالہ سے قرارداد اسرائیل اور بھارت نواز رکن کانگریس کے ذریعے جمع کروائی گئی، امریکی قرارداد جس شخص نےامریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی، اِس شخص کا نام رچ میک کارمک (Rich McCormick) ہے۔ یہ کانگریس میں امریکہ میں اسرائیلی لابی کو کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اِس نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسرائیلی بربریت کی کھلم کھلا سپورٹ کی اور فلسطینی مسلمانوں کو برائی سے تشبیہ دی ہے ،آج کل یہ شخص پی ٹی آئی کا سب سے بڑا لابیسٹ ہے۔ پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اپنی ریاست کے خلاف اِس سازش کو سمجھیں، اور اپنے گردو نواح اُن لوگوں کو پہچانیں جو اِس سازش کے آلہ کار ہیں اور پاک فوج کو کمزور کر کے پاکستان کو عراق اور لیبیا بنانا چاہتے ہیں۔

    یہ لابی پہلے سے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے جس کا پی ٹی آئی سے براہ راست گٹھ جوڑ ہے،امریکہ میں ایک لابسٹ فرم کی خدمات بھی اسی سلسلے میں حاصل کی گئی تھیں جس نے 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن ثابت کرنے والی رپورٹ چھپوانے کیلئے ایک امریکی سینیٹر کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کئے۔ آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالے سے باتیں سوشل میڈیا پر پہلے ہی زیر گردش ہیں، خبریں اور تجزیئے شائع کرانا آپریشن گولڈ سمتھ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی مخصوص سیاسی جماعت نے 25 ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض امریکی فرم کی خدمات حاصل کیں،بیرون ملک مخصوص جماعت کے حامی پاکستان میں انتخابات سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کر تے رہے، مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے تمام حدیں پار کر چکی۔ آپریشن گولڈ سمتھ کا مقصد پاکستان پر سفارتی اور انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے اب آپ دیکھیں گے کہ عنقریب پاکستان کے میڈیا میں آپ کو خبریں آئیں گی ایک اور پینڈورا باکس کھلے گا ایک طوفان بدتمیزی مچایا جائے گا آن لائن ہو گا پاکستان میں نہیں ہوگا پہلے باہر ہو گا اور اسی سے آپ کڑیاں ملا سکتے ہیں پہلے باہر ہو گا پھر پاکستان میں آئے گا پھر ٹی وی پر ہم بحث کریں گے مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں آپریشن گولڈسمتھ انتشار پھیلائے گا اور لوگوں کو مزید کنفیوز رکھے گا لوگ اب جو سیٹل ہونا شروع ہو گئے ہیں امیدیں بننا شروع ہو گئی ہیں کہ اب گورننس بہتر ہو رہی ہے،ان میں انتشار پھیلے گا-

  • قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم کا اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ

    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم کا اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ کیا-

    وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے اراکین سے ملاقات کرکے سیاسی ہم آہنگی کا آغاز کیا۔

    وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایس آئی سی ممبران سے ملاقات کے لیے ان کی نشستوں پر رابطہ کیا،وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور علی محمد خان، اسد قیصر اور زین قریشی سمیت اپوزیشن جماعت کے دیگر اراکین اسمبلی سے بھی مصافحہ کیا،مزید برآں، وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو اسمبلی میں اپنی نشست پر گلے لگا کر سیاسی کشیدگی میں کمی کا اشارہ دیا۔

    بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 247 میگا واٹ تک پہنچ گیا

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں نے پہلی تقریر میں میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی، لیکن میری تجویز کو حقارت سے ٹھکرایا گیا،عمران خان کو جیل میں مشکلات ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کریں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلی تقریر میں میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی، لیکن میری تجویز کو حقارت سے ٹھکرایا گیا، ایوان میں ایسی نعرے بازی کی گئی جو سیاہ باب بن گئی، بجٹ کے حوالے سے بھی دوبارہ بیٹھ کر بات کرنے کی پیش کش کی، آج تلخیاں جہاں پر پہنچی ہیں اسکا ذمہ دار کون ہے، ہم اس نہج پر پہنچ چکے کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

    شہباز شریف نے کہا کہ میں جیل میں تھا جب والدہ کا انتقال ہوا تو سپریٹینڈنٹ جیل سے چھٹی مانگی لیکن انہوں نے انکار کردیا، میں ذاتی تکالیف کا رونا نہیں رونا چاہتا، میری کمر میں تکلیف تھی لیکن خطرناک قیدیوں والی گاڑی میں بٹھایا گیا تاکہ مجھے تکلیف ہو، میں نے کینسر سے متاثر ہونے کے باوجود کبھی جیل میں اس کا رونا نہیں رویا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خانکو مشکلات و مصائب کا سامنا ہے تو آئیں بیٹھ کر بات کریں اور معاملات کو طے کریں، انڈر ٹرائل قیدی اور سزا یافتہ قیدی کے حقوق میں فرق ہوتا ہے، خواجہ آصف، رانا ثنا ہم انڈر ٹرائل تھے لیکن ہمیں زمینوں پر لٹایا گیا دوائیاں بند کی گئیں، ہم نہیں چاہتے ان کے ساتھ اسی طرح کی زیادتی ہو جو ہمارے ساتھ ہوئی تھی، آئیں بیٹھیں ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے بات کریں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔

    کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث پیسکو افسر گرفتار