Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،فیصل واوڈا نےسپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

    میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،فیصل واوڈا نےسپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    سیینٹر فیصل واوڈا نے عدالت میں شوکاز کا نیا جواب جمع کرایا جس میں غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا گیا ہےکہ خود کو سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے، میری پریس کانفرنس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا تو غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا۔

    فیصل واوڈا نے مؤقف اپنایا کہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتا ہوں، 5 جون کی عدالتی کارروائی کے بعد مذہبی اسکالرز سے ملاقات کی، مذہبی اسکالرز سے پوچھا کہ ایک سینیٹر کا کردار کیا ہونا چاہیے، مجھے رائے دی گئی کہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہیں چاہے یہ بات آپ کے اقرباء کیخلاف ہی کیوں نہ ہو۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    فیصل وواڈا کے جواب میں قرآن و احادیث کے حوالہ جات بھی دیے گئے اور کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صدق دل سے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، قرآن پاک کی تلاوت کے بعد انتہائی متاثر ہوا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تجویز دی کہ معاملہ انا کا نہیں، احساس ہوگیا ہے کہ معاشرے میں عدلیہ کی اچھی ساکھ برقرار رکھنا ضروری ہے لہٰذا سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ توہین عدالت میں جاری کردہ شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

    بنوں : صوبائی وزیر کے اسکواڈ کی گاڑی پر بم حملہ، 3 راہ گیر زخمی

  • کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈرز گرفتار

    کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈرز گرفتار

    کوئٹہ: حساس اور قانون نافذ کرنے والےاداروں نے بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے اڈے بنانے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2 کمانڈرز کو گرفتار کرلیا گیا۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ روز اہم آپریشن کیا، کارروائی میں اہم دہشت گرد کمانڈر کو گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں کا اہم نیٹ ورک پکڑا گیا ہے، ان تمام دہشت گردوں کے پیچھے بھارتی ایجنسی را کا ہاتھ ہے، ہمسایہ ملک ان دہشت گردوں کواپنی سرزمین پر پناہ دیتا ہے، ان دہشت گردوں کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، گرفتار کمانڈر نصراللہ شوری کا رکن ہے دفاعی کمیشن کا ممبر بھی رہا ہے-

    انہوں نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گرد نصر اللہ کو ایک مشکل آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا ہے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں،نوجوان دشمن کے عزائم کو پہچانیں ان کی باتوں میں نہ آئیں، گمراہ لوگ اپنے ملک صوبے اور لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جو نوجوان باہر بیٹھے ہوئے ہیں انہیں ورغلایا گیا ہے،بعد ازاں انہوں نے دہشت گرد نصراللہ کا ویڈیو پیغام سنایا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا منشیات سے پاک پنجاب کا عزم

    دہشت گرد نے اپنے بیان میں بتایا کہ میرا نام نصر اللہ ہے، میرا تعلق محسود قبیلے سے ہے، جنوبی وزیرستان سے میرا تعلق ہے کالعدم ٹی ٹی پی کی تشکیل سے پہلے میں تخریبی کارروائیوں میں حصہ لیتا رہا تھا، جب کالعدم ٹی ٹی پی وجود میں آئی تو میں شامل ہوگیا، اس طرح میں گزشتہ 16 سال سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ وابستہ رہا۔

    زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    دہشت گرد نے کہا کہ میں نے اس دوران براہ راست دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ضرب عضب کے دوران پاکستان فرار ہوگیا اور وہاں پکتیکا میں رہنے لگا، ان 16 سالوں میں میں نے پاکستان کی سیکیورٹی اداروں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی میں حصہ لیا، میں نے شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسمعیل خان، اور پاک افغان بورڈر میں پاک فوج کے مختلف پوسٹس پر کئی حملوں میں حصہ لیا جن میں چغملئی چیک پوسٹ، زندہ سر پوسٹ، غر لمائی پوسٹ، اکما لا سر پوسٹ، زنگارا، مادی نارئی پوسٹ، مکین روڈ پو قافلے پر حملہ اور مارو بی چیک پوسٹ پر حملہ شامل ہے، ان حملوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کا جانی اور مالی نقصان ہوا، میں کالعدم ٹی ٹی پی کے اندر مختلف عہدوں کے اندر کام کرتا رہا ہوں، مجھے 2020 میں تحصیل شوال شمالی وزیرستان کا کمشنر بنایا گیا۔

    امریکا کا سوات میں ہجوم کے تشدد سے ہلاکت کے واقعے پر اظہار افسوس

    بھارتی خفیہ ایجنسی را نے افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی کیساتھ بی ایل اے مجید برگیڈ اور ٹی ٹی پی خوارج کا الحاق کروایا، گرفتار کمانڈر نصراللہ

    گرفتار کمانڈر نصراللہ نے کہا کہ را کی خواہش TTP اور BLA کا اتحاد ہے،را کا مقصد تھا کہ بلوچستان خضدار کے علاقے میں دہشتگردی کے ٹھکانے بنائے جائیں، بی ایل اے ٹی ٹی پی اتحاد کا ہدف پاک چین دوستی اور CPEC کو سبوتاژ کرنا ہے، بی ایل اے ٹی ٹی پی اتحاد کا ایک ہدف اغواء برائے تاوان کر کے گمشدہ لوگوں کا بیانیہ بنانا بھی ہے-

    نور ولی کی ہندوستانی سفارت خانے سے ملاقاتیں، را کے اہلکاروں سے کابل میں بھارتی سفارت خانے میں ملتا رہا ہے، گرفتار کمانڈر نصراللہ

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    گرفتار کمانڈر نصراللہ نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا تمام پیسہ را سے آتا ہے، نور ولی محسود بی ایل اے کمانڈر بشیر زیب سے بھی کابل میں بھارتی سفارت خانے میں ملتا رہا ہے،مولوی نور ولی محسود سمیت ٹی ٹی پی کی تمام قیادت بھی افغانستان میں موجود ہے، بی ایل اے مجید برگیڈ کا کمانڈر بشیر زیب بھی افغانستان میں موجود ہے، خوارجیوں کے کمانڈر "مفتی” نور ولی کے پیچھے عبوری افغان حکومت ہے،بشیر زیب اور نور والی افغانستان میں آزاد گھومتے ہیں، گرفتار کمانڈر نصراللہ

    گرفتار کمانڈر نصراللہ نے مزید کہا کہ نور ولی محسود سے بی ایل اے سے الحاق کے معاملے پر میری تلخ کلامی بھی ہوئی،بی ایل اے کے کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کی لوٹ مار میں کوئی اور حصہ دار بنے، یقین ہے کہ ہمیں بی ایل اے کے لوگوں نے پکڑوایا ہے، ٹی ٹی پی کے تمام بڑے اور اہم عہدوں پر محسود قوم کے لوگ مسلط ہیں، تشکیلوں میں مرنے کیلئے باقی اقوام کے خوارج کو استعمال کیا جاتا ہے-

    روسی آرمی چیف، سابق وزیر دفاع کی گرفتاری کے عالمی وارنٹ جاری

    گرفتار کمانڈر نصراللہ نے کہا کہ نور ولی سے سوال کرتا ہوں کہ دہشت گردی کی عملی کاررائیوں میں صرف دوسرے قبائل کے بچے ہی کیوں مارے جا رہے ہیں؟ نور ولی دوسروں کے بچوں کو خودکش حملے سے جنت پہنچانے کا فتویٰ دیتا ہے، نور ولی اپنے 9 بچوں میں سے کسی کو بھی جنت بھیجنے کیلئے استعمال کیوں نہیں کرتا؟ اپنی گزشتہ زندگی اور ٹی ٹی پی خوارج سے وابستگی پر نادم ہوں، نہ صرف اللہ بلکہ ان تمام لوگوں سے معافی کا طلبگار ہوں جن کو میرے نام نہاد جہاد سے نقصان پہنچا، بہت سے "گمشدہ” لوگ افغانستان میں موجود ہیں، قبائل آنکھیں کھولیں! نور ولی سے سوال کریں! دہشتگرد ٹولوں کے لیڈر عیاشیاں کرتے ہیں اور بچوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں،پاکستان مخالف دہشت گرد افغانستان میں آزاد گھومتے ہیں، پُشت پناہی حاصل! میں نے بے شمار حملے کیے اور کرو ا ئے، نُور ولی کے لیے TTP ذاتی جاگیر ہے،محسود قبیلہ شُوریٰ میں، باقی قبیلے تشکیلوں میں، ٹی ٹی پی میں غیر محسودوں کا استحصال ہو رہا ہے-

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

  • پاکستانی برآمدات کو عالمی سطح پر فروغ دینا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے،وزیراعظم

    پاکستانی برآمدات کو عالمی سطح پر فروغ دینا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوان کاروباری افراد کو ملک کی معیشت اور مستقبل کے معمار قرار دیا-

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے نوجوان انٹرپرینیورز کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ٹیکسٹائل، تعمیرات، آئل اینڈ گیس، تعلیم، صحت، لاجسٹکس، زراعت، برآمدات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاروباری افراد شامل تھے۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان کاروباری افراد ہماری معیشت اور ہمارے ملک کے مستقبل کے معمار ہیں، حکومت پاکستان کاروباری برادری کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات کو عالمی سطح پر فروغ دینا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، پاکستانی برآمدات کے فروغ کے لیے نوجوان کاروباری افراد انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، حکومت اور کاروباری برادری کے تعاون سے ملک کا مالی اور تجارتی خسارہ کم کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کو باصلاحیت افرادی قوت میں تبدیل کر کے ملکی معیشت کو محرک کیا جا سکتا ہے۔

    ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے،شرجیل انعام میمن

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان معاشی مواقع کی فراہمی میں صنفی امتیاز ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ پاکستانی برآمدات میں اضافے کے لیے اہم ثابت ہو گا،ہم حکومت کے حجم میں کمی اور حکومتی اداروں کو مزید فعال بنانے کے لیے پر عزم ہیں، کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور کاروبار دوست پالیسیاں تشکیل دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیراعظم نے ملاقات کے دوران اقتصادی مشاورتی کمیٹی کی طرز پر نوجوان کاروباری افراد پر مشتمل یوتھ انٹرپرنیور ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین کاروباری اشتراک کا فروع ہماری اولین ترجیح ہے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے(سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی۔

    آپریشن عزم استحکام پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے، بیرسٹر …

    نوجوان کاروباری افراد کے وفد نے ملاقات کے دوران وزیراعظم کو مختلف شعبوں میں پاکستانی کاروباری برادری کی عالمی اور ملکی سطح پر کامیابیوں اور ان کو درپیش مختلف مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا،وفد نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ ساز کامیابی پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ وزیراعظم نے پاکستان کاروباری برادری بالخصوص نوجوان کاروباری افراد کو ان کی کاوشوں پر سراہا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے نجکاری عبد العلیم خان، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، وفاقی وزارتوں کے سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

    اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

  • وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی توسیع کر دی ہے،دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی قابلِ تجدید شمسی توانائی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سولر پینلز پر کسی قسم کی نئی ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، کم لاگت قابل تجدید شمسی توانائی ہر شہری تک پہنچائیں گے،معیشت کو مثبت سمت پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے ہیں،اللہ کے فضل وکرم سے ملک معاشی استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے،چھوٹے اور درمیانے پیمانے کی صنعت کو ترقی دے کر ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے،اشرافیہ اور ملکی وسائل کا استحصال کرنے والوں کی مراعات کو ختم کیا جائے گا،عام آدمی کے معاشی تحفظ اور اُسے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے

    عزم استحکام کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات، گٹھ جوڑ اور انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے،وزیراعظم
    کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے وژن عزم استحکام کے حوالے سے گردش کررہی غلط فہمیوں اورقیاس آرائیوں کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا۔اور کہا کہ عزم استحکام ایک کثیر جہتی، مختلف سیکورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے، اس مقصد کے لیے کسی نئے و منظم مسلح آپریشن کی بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا،بڑے پیمانے پر مسلح آپریشن جس کے نتیجے میں نقل مکانی کی ضرورت ہو،وژن عزم استحکام کے تحت ایسے کسی آپریشن کی شروعات محض غلط فہمی ہےعزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات، جرائم و دہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پر تشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے

    پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی،کابینہ کو بریفنگ
    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ بجٹ 2024-25بحث کے دوران وزراء پارلیمان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں .اجلاس کو ریاستی اداروں کی نجکاری بالخصوص پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے، پری بڈنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیاں پی آئی اے کی مختلف سائٹس کا دورہ کر رہی ہیں. پی آئی اے کی بڈنگ اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی. وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور اس میں شفافیت کے عنصر کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی.

    ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت
    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش اور اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام افغانستان کی استدعا پر ٹرکوں کے پرزوں پر مشتمل ایک کنٹینر کی کراچی سے کابل ٹرانزٹ اجازت دے دی۔ یہ خصوصی اجازت حکومت پاکستان کی جانب سے صرف ایک مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کی سفارش پر وزارت مذہبی امور، حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اسلامی امور، دعوت و رہنمائی سعودی عرب کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی حکومت نے ریاستی اور سرحدی علاقوں کی ڈویژن کی سفارش پر اور سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بہاولپور کے امیر(مرحوم) کی غیر منقولہ جائیداد کے لیے قائم عمل درآمد کمیٹی کی مدت میں مارچ 2025 تک توسیع دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (FAB)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    چینی کی قیمت پر نظر رکھنے کے لئے کابینہ کمیٹی بنانے کی ہدایت
    وفاقی کابینہ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی برآمد کے فیصلے کے بارے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اس حوالے سے شوگر ایڈوائزی بورڈ و متعلقہ اداروں نے آئندہ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے کی کھپت اور اضافی چینی کے ذخائر کا تخمینہ لگا کر باقی ماندہ میں سے قلیل مقدار میں چینی کی برآمد کی منظوری دی ہے. وزیرِ اعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی. علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو چینی کی قیمت پر نظر رکھے گی اور اگر چینی کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا اندیشہ ہوا تو اسکی مزید برآمد کو روک دیا جائے گا.

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کی تیار کی گئی قومی اقتصادی کونسل (NEC) کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2022-23 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اجازت دینے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز(Cabinet Committee on Legislative Cases)کے11جون 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارےCabinet Committee on State Own ed Enterprises (CCoSOEs) کے20 جون 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی،رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ برائے سال 2024-25 پر عام بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی،حکومت بننے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا تھا جس کے تحت چاروں صوبوں کی پی ایس ڈی پی میں ہم سے مشاورت لے کر بنانی چاہیئے تھی۔ مگر افسوس کے ساتھ حکومت نے اس شرط پر عمل نہیں کیا اگر اس شرط پر عمل ہوتا تو بہتر نتائج سامنے آتے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اورنج ٹرین کا مقابلہ کرنا ہے یا دیگر تو اپنے وسائل سے کیسے منصوبے لے کر آسکتے ہیں ؟پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ جو بینظیر نے شروع کی تھی،اسی کو ہم آگے رکھیں، تھرکول کا کامیاب منصوبہ ہویا روڈ ز ،انفراسٹرکچر کا،یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ہی کامیاب ہوتے ہیں، اگر صوبے ہدف حاصل نہیں کرتے تو اپنے بجٹ سے ہدف پورا کریں گے، سر پلس سیلز ٹیکس کی صورت میں صوبے اضافی ریونیو اپنے پاس رکھیں گے، امید ہے کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم پاکستان کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہوگی، حکومت اب تک مہنگائی کو قدرے کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر اپوزیشن نشانے پر تھی، ہم پاکستان کے بنیادی مسئلے کا دفاع کرنے کے لیے ایک ہوئے، اٹھارہویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی سازش کی گئی،ہمارا سیاسی فلسفہ پروگریسو ٹیکسیشن میں یقین رکھتا ہے، ہم عام آدمی کو محصولات کی مد میں ریلیف دینے میں اب تک ناکام رہے ہیں، ہر بجٹ بلاواسطہ ٹیکسیشن پر زور دیتا ہے

    نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے،نیب کو ختم کرنا ہو گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاست آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کو نیب قانون سے استثنیٰ دیا جائے جبکہ ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو بھی نیب سے استثنیٰ دیا گیا ہے ، ہمیں نیب ختم کرنا ہےاور بیوروکریسی کو طاقتور بنانا ہے۔ہمارے منشور میں ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے،نیب کے خاتمے سے معیشت کو بھی فائدہ ہوگا،پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہا ہوں نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،بزنس مین ڈرپوک ہوتا ہے وہ پیسہ انوسٹ کرتا ہے تو اسے نیب گھیر لیتا ہے یہ معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے . دودھ پہ اٹھارہ فیصد ٹیکس لگانا کسی سیاستدان نہیں بلکہ بابو کا فیصلہ ہے ،سٹیشنری پہ ٹیکس لگانا بھی کسی بابو کا فیصلہ ہے اس قسم کے احمقانہ فیصلے واپس لیے جائیں حکومت کو یقین دلاتا ہوں ہم حکومت کے ساتھ ہوں گے

    عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں عوام کے مسائل کیا ہیں عوام کے مسائل حل کریں گے عوام کو مسائل سے نکالیں گے عوام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کون جیل جائے گا کون نہیں،وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو مشورہ ہے کہ اتحادیوں اور اپوزیشن کیساتھ مشاورت ہونی چاہیے تھی، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا، چارٹر آف اکانومی معیشت کی ترقی کا پہلا قدم ہوگا، اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے، نیشنل چارٹر آف اکانومی بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہوگا،وزیراعظم قدم بڑھائیں بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئےپیپلزپارٹی ساتھ دےگی، اربوں کی سبسڈی کسانوں کودیں تومعاشی انقلاب آئےگا،

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات پوچھے، ابھی دلائل دوں یا جواب الجواب میں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چھوٹے دلائل ہیں تو ابھی دےدیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں چیئرمین کی سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر ہوتی، سنی اتحاد کونسل کا نشان نہ ملنے پر چیئرمین نے بطور آزادامیدوار انتخابات لڑے، جمیعت علمائے ف میں بھی اقلیتیوں کو ممبر شپ نہیں دی جاتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہوا میں بات کی، ایسے بیان نہیں دے سکتے، آپ دستاویزات دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دستاویزات بھی دوں گا، الیکشن کمیشن بھی کنفرم کردےگا، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا کاغذات نامزدگی کیساتھ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا گیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے حامد رضا کو روکا جا رہا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کہہ رہے حامدرضانے سنی اتحاد کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیاگیا، سنی اتحاد کا نشان گھوڑاہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامدرضا کو گھوڑے کا نشان کیوں نہیں ملا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے زبردستی آزاد امیدوار کا نشان الاٹ کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب اگر آپ نے کاغذات فائل کئے ہونگے تو سوالات نہیں پوچھنے پڑتے، کاغذات کے بغیر آپ کو بات نہیں کرنے دیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا،

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کے کاغذات نامزدگی پیش کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ حامد رضا کے کاغذات نامزدگی کی کاپیاں کروا کر تمام ججز کو دیں،

    سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ جسٹس منصور علی شاہ
    مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا، مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن پروگرام الیکشن ایکٹ کے تحت جاری کیاگیا، کاغذات نامزدگی تاریخ سے قبل جمع کروانا ضروری ہوتا، تاریخ میں توسیع بھی کی گئی،24 دسمبر تک مخصوص نشستوں کی لسٹ کی تاریخ جاری کی گئی،الیکشن کمیشن کنفرم کرےگا، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب الیکشن کمیشن بہتر دے سکتا ہے، سپریم کورٹ نے حکم امتناع دیا تو اضافی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی رکنیت معطل ہوگئی،انتخابات سے پہلے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے والے ہی بعد میں دعویٰ کر سکتے ہیں،الیکشن ایکٹ سیکشن 206 کے مطابق سیاسی جماعتوں کو شفاف طریقہ کار سے نشستوں کے لیے لسٹ دینی ہوتی، سنی اتحاد کی طرف سے کسی امیدوار نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سے خواتین کی لسٹ موجود نہیں اور جمع نہیں کرائی گئی،جمع کروائی گئی لسٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی، الیکشن کمیشن کنفرم کردےگا،پانچ رکنی پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے دونوں کیسز میں سنی اتحاد کے خلاف فیصلہ دیا، سنی اتحاد نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ آزادامیدوار شامل ہوئے ہیں

    حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا،جسٹس عائشہ ملک
    وکیل مخدوم علی خان نے الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز کا حوالہ دیااور کہا کہ مخصوص نشستیں حاصل کی گئی جنرل سیٹوں پر انحصار کرتی ہیں،آزادامیدوار تین دنوں کے اندر کسی جماعت میں شامل ہوں تو مخصوص نشستوں کے لیے گنا جائےگا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں حامد رضا نے سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر کی، اگر یہ بات درست ہوئی تو یہ سنی اتحاد کونسل کی پارلیمان میں جنرل نشست ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وابستگی کیلئے پارٹی ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فی الوقت صاحبزادہ حامد رضا کا خط ریکارڈ پر موجود ہے کہ انکے نشان پر کوئی الیکشن نہیں لڑا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان کا پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے سے تعلق نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا، الیکشن کمیشن اس معاملے کی تصدیق کرے تو کیس نیا رخ اختیار کر سکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان موجود تھا لیکن کسی نے اس پر الیکشن نہیں لڑا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اپیلوں میں یہ نکتہ بھی نہیں اٹھایا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جو نکات اپیلوں میں اٹھائے گئے ہیں انہی تک محدود رہیں گے، ججز کا کام کسی فریق کا کیس بنانا یا بگاڑنا نہیں ہوتا،

    اپنے موقف پر قائم ہوں پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل

    جسٹس عرفا ن سعادت نے کہا کہ تحریک انصاف اور تحریک انصاف نظریاتی میں کیا فرق ہے،کبھی تحریک انصاف ہوجاتی ہے کبھی تحریک انصاف نظریاتی ان میں فرق بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف نظرثانی سیاسی جماعت ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابی نشان بلے باز ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا تحریک انصاف نے ایسا کیوں کیا؟ اپنی پارٹی میں رہنا چاہیے تھا، سنی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم نے تو نہیں کہا کہ سنی اتحاد میں شامل ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انتخابات کو سپریم کورٹ میں دیکھا جارہا، الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیسے ظاہرکیا؟ کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ الیکشن کے حوالے سے بات کررہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے موقف پر قائم ہوں کہ پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سارا معاملہ شروع ہی سیاسی جماعت کے امیدواروں کو آزاد قرار دینے سے ہوا، کیسے ممکن ہے کہ اس بنیادی سوال کو چھوڑ دیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل اپنا کیس جیتے یا ہارے، دوسری جماعتوں کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر ہی مل سکتی ہیں،متناسب نمائندگی کے اصول سے ہٹ کر نشستیں نہیں دی جا سکتیں، اضافی نشستیں لینے والے بتائیں کہ ان کا موقف کیا ہے؟ دیگر جماعتوں کو چھوڑیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہمیں آئین دوبارہ لکھنا شروع کر دینا چاہیے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین میں پہلے سے درج متناسب نمائندگی کا فارمولہ سمجھائیں! فارمولا کیا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سنی اتحاد نے انتخابات میں حصہ لیا نا مخصوص نشستوں کی لسٹ فراہم کی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسے کیا متناسب سیٹیں دیگر سیاسی جماعتوں کو مل جائیں گی؟فرض کریں سنی اتحاد کو نہیں ملتیں مخصوص نشستیں لیکن آپ کو کیسے ملنی چاہیے ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں فرضی سوالات کے جوابات نہیں دوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر کوئی ممبر استعفیٰ دےدے یا انتقال کرجائے تو ایسا تو نہیں پارلیمنٹ کام کرنا چھوڑ دےگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی جج ریٹائر ہوجائے تو سپریم کورٹ کام کرنا تھوڑی چھوڑ دےگی؟ اگر کوئی ممبر نہیں یا نشست خالی ہے تو ضمنی انتخابات ہو جائیں گے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات میں پارلیمنٹ مکمل کرنے کیلئے مخصوص نشستیں دی گئیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسا کیس کبھی نہیں آیا کہ کسی پارٹی نے انتخابات لڑے نہیں اور مخصوص نشستیں مانگ رہی ہو،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی رہ سکتی ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آمر آئے سب ساتھ مل جاتے ہیں منسٹر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں،جب جمہوریت آئے چھریاں نکال کر آجاتے ہیں،اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں،آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے،

    سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈکٹیٹر کے اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں،میں نے مشرف دور میں وکالت چھوڑ دی تھی،ڈکٹیٹر کے وقت منسٹر بھی بن جائیں پھر اصول کی بات کریں؟ تاریخ کی بات کر رہے ہیں تو مکمل تاریخ کی بات کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتہائی احترام سے کہہ رہا ہوں آج آئین کی پاسداری نہیں ہو رہی، ہم آج ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ہوں گے،ہم بطور سپریم کورٹ آنکھیں بند نہیں کر سکتے،ہم نے بطور سپریم کورٹ سر ریت میں دبا لئے ہیں، لاپتہ افراد کے کیسز ہیں، بنیادی حقوق کی پامالیاں ہیں، یہ سب سیاسی مقدمات نہیں انسانی حقوق کا معاملہ ہے،ہم سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، میری نظر میں آج بھی سب سے اہم درخواست اس عدالت میں 8 فروری الیکشن میں دھاندلی کی ہے،

    سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاریخ بہترین استاد ہے ورنہ بار بار غلطیاں کی جاتی ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں کبھی نہیں کہوں گا کہ میں نے غلطیاں نہیں کیں، سنی اتحاد نے جس طرح کیس کو عدالت میں پیش کیا ویسے ہی اسے دیکھنا چاہیے، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا ہوتیں،جو سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہیں ان پر مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا لازم نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ انتخابات کو سیکرٹ بیلٹ کے تحت ہونا چاہئے سیکرٹ بیلٹ کہاں ہے؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ووٹرز کو معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ دینے والی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ کیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم ججز اور الیکشن کمیشن بھی آئین کی پاسداری کا حلف لیتا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی نہیں کہتاکہ ووٹرز سے ان کا حق چھین لیا جائےگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا،اقلیتوں اور خواتین کو نمائندگی دینا اصل مقصد ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آئین میں الیکشن میں منتخب ہونے کا لفظ لکھا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ صدر اور سینٹ انتخابات کیلئے الگ الیکٹوریٹ دیا ہوتا ہے،کیس میں لگ رہا جیسے انتخابات ہوہی نہیں رہے لیکن آپ کہہ رہے کہ الیکشن ہورہا ہے،آپ مجھے دکھا دیں کہ کوئی الیکشن ہورہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسی باتوں میں پھنس گئے تو دیگر کو سن نہیں پائیں گے آج کیس مکمل کرنا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی جماعت اگر خواتین یا اقلیتی نشستوں کے لیے لسٹ نہیں دیتی تو کیا پارلیمنٹ میں سیٹ خالی رکھی جائےگی، انتخابات میں سیاسی جماعت ہی صرف سیٹ جیٹ سکتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سیاسی جماعت کون ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ دینے والی سیاسی جماعت کہلاتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یعنی جو لسٹ نہیں دیتی اسے سیاسی جماعت نہیں کہیں گے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت سیٹیں جیتے تو انتخابات میں جیت کا معلوم ہوتا ہے،جیتنے والی سیاسی جماعتوں میں آزاد امیدوار شامل ہوتے ہیں،جس سیاسی جماعت کے پاس سیٹ ہی نہیں اس میں آزاد امیدوار شامل نہیں ہوسکتے، جس سیاسی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ ہی نہیں تو الیکٹوریٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اثرات تو ہوں گے،اگر پرائز بانڈ خریدا ہی نہیں تو پرائز بانڈ نکل کیسے آئے گا خریدنا تو ضروری ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کے حقوق کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی،ہمیں درخواستگزاروں نے بتایا کہ اہم درخواستیں زیرالتوا ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ درخواستیں کیوں زیرالتوا ہیں اس کا جواب عدالت دے وکیل تو نہیں دے سکتا،اگر سیاسی جماعت نے انتخابات سے قبل لسٹ نہیں دی اور بعد میں دے تو مزید غیر جمہوری ہوگا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں آزاد امیدواروں نے دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت سیٹیں زیادہ جیتیں،مسئلہ یہ ہے کہ کس حساب سے سیٹیں بانٹی جائینگی،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 17 اور بعد میں مزید 10 مخصوص نشستیں دی گئیں، آپ کہہ رہے اگرسنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت رہتی تو 17 سیٹیں ہوتیں، اب جب نہیں تو 27 سیٹیں ن لیگ کی ہوگئیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو طریقہ کار سے سیٹیں تقسیم گئی ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آزادامیدوار نے ایسی سیاسی جماعت شامل ہونا ہوتا جس نے کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صرف یہی ضروری ہے کہ سیٹیں زیادہ ہوں یا انتخابات میں خواتین، اقلیتوں کی نمائندگی پر بات کرنا ضروری ہے، اقلیتی، خواتین کسی سیاسی جماعت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کی نمائندگی کو محفوظ کرنا ہے،تاریخ پر بات کرنی چاہیے اور تاریخ سے سیکھنا چاہیے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر دو سیاسی جماعت ہیں تو انہی پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے انتخابات کا رزلٹ آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا، دو سیاسی جماعتیں ہیں تو کیا انہیں پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مخصوص نشستیں بانٹنے کا طریقہ ہر انتخابات میں تبدیل ہوتا رہتاہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھنے کا نہیں کہہ رہا، آئین کہہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھیں،

    ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جسٹس اطہرمن اللہ
    حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،وکیل مخدوم علی خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ اقلیتی بھی آپ کی سیاسی جماعت میں اکر بیٹھیں، اگر سیاسی حریف نہیں پسند تو سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ دونوں حریف ساتھ بیٹھیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اقلیتی، خواتین کو ضرور پارلیمنٹ میں نمائندگی ملنی چاہیے،ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جیسا 2018 میں ہوا اب بھی ویسا ہی ہورہاہے، متاثرہ ایک ہی سیاسی جماعت رہی، ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، ابھی تو ہم موجودہ درخواستوں پر کرلیں گے بات لیکن مستقبل میں ایسا وقت ضرور آئےگا جب سپریم کورٹ دوبارہ افسوس کرےگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2 فروری 2024 والا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کی غلط تشریح پر ہے، کیا ہمیں الیکشن کمیشن کے غلط تشریح پر مبنی فیصلہ نہیں دیکھنا چاہیے یا نظر انداز کردینا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایک سیاسی جماعت ہے جو بہت مشہور ہے لیکن انتخابات سے بایئکاٹ کرلیتی ہے، کیا عوام کی سپورٹ کے باوجود بائیکاٹ کرنے والی پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں گی؟ مخصوص نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا شیڈول ایک اہم دستاویز ہوتا جس میں مخصوص اور جنرل سیٹیں شامل ہوتی ہیں،جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کے لیے ایک تاریخ دی جاتی،مخصوص نشستوں کابھی نوٹیفکیشن ہوتاہے، فارم 33 جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے ہوتاہے،ریٹرننگ افسران مخصوص، جنرل نشستوں کے فارم 33 کی اسکروٹنی کرتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن فیصلہ کرےگا کہ امیدوار کی کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارم66 مخصوص نشستوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی لسٹ ہوتی،
    جنرل اور مخصوص نشستوں کی لسٹ کا طریقہ کار بلکل ایک طرح کا ہے،کاغذات نامزدگی پہلی اسٹیج ہوتی ہے، خواتین، اقلیتوں کی سیٹوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی جنرل نشستوں کی ہے،خواتین کی مخصوص نشست وزیراعظم کے لیے بھی امیدوار ہوسکتا،

    انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈکلیئر کر دیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کیسے کی ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب انتحابی نشان واپس ہوگیا تو پی ٹی آئی نے وقت پر نئے انتخابی نشان کیلئے درخواست نہیں دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق بلے کے نشان کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے معذرت اگر ایسا سمجھا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو کم از کم پڑھ لیں فیصلہ نہیں بلکہ یہ قانون ہے،آج انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے تو کل ہو سکتے ہیں، میں حیران تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرا رہی،الیکشن کمیشن کے وکیل سوالات نوٹ کر کے آخر میں جواب دیں،ہزاروں کیسز پڑے ہیں اس ایک ہی کیس کو تو نہیں سنیں گے،تین بجے تک سماعت میں وقفہ کرتے ہیں،آج ہم ججز کا کھانا ہے وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،کیس کی سماعت میں تین بجے تک وقفہ کر دیا گیا

    سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے،جسٹس یحیی آفریدی کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل کی جسٹس اطہر من اللہ سے تلخ کلامی ہوئی،متعدد بار روکنے کے باوجود سکندر بشیر بولتے رہے۔جسٹس عائشہ ملک بھی الیکشن کمیشن کے وکیل کے رویئے پر برہم ہو گئیں ،ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ جواب دینے کا غیر مناسب طریقہ ہے۔

    پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں اسکاجواب نہیں دوں گا،مائی لارڈ میں نے پریس کانفرنس دیکھی ہی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یعنی آپ کامطلب ہےکہ الیکشن کمیشن کسی بےقاعدگی کی ذمہ داری لینےکو تیارنہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات سے قبل اور بعد کی جمع ہونے والی شکایت بھی دے دیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاحبزادہ حامد رضا کو قانون کے مطابق ان کی پارٹی کا نشان کیوں نہیں دیا؟آپ نے اسے شٹل کا ک کا نشان کیوں دیا.یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی کہ پارٹی کو انکا نشان نہیں دیا گیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد نے کبھی مخصوص نشستوں سے متعلق اپنی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ نہیں دی،صوبائی، قومی میں اقلیتی، خواتین کی الگ الگ لسٹیں بنتیں، کُل 13 لسٹیں بنتیں ہیں، سنی اتحاد نے ایک بھی نہیں دی،

    بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز پر برہم ہو گئے،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب میں سپریم کورٹ فیصلے پر کسی کو ریمارکس نہیں دینے دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بلے کے نشان پر فیصلے سے کنفیوژ کررہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہرمن اللہ کو روک دیا، اور کہا کہ بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے نشان کا فیصلہ کہنے میں فرق ہے، ایک طرف ریویو کررہے اور دوسری طرف تبصرہ کررہے، کسی اور بینچ کا فیصلے پر ریمارکس دینا درست نہیں ، آگے چلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کوئی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھا رہا،کیا الیکشن کمیشن نے بتایاکہ اگر بلا نہیں ہوگا تو تمام امیدوار ایک نشان پر انتخابات کیسے لڑیں گے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تھا اس کے اثرات ہوسکتے تھے، جمہوریت کی ضرور بات کرنی ہے لیکن انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروانا، ہمارا کام یہ دیکھنا نہیں کہ کون کس کو منتخب کرتا ہے، 91 پوسٹس تھیں تحریک انصاف کے سب عہدیدار بلامقابلہ منتخب ہوئے، بطور وزیراعظم الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے ایک سال دے دیں، اب تو شاید وہ الیکشن کمیشن کے دشمن ہوگئے، مجھے نہیں سمجھ آتی کیوں اپنی سیاسی جماعت میں انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرواتے کیا یہی جمہوریت ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل ریکارڈ صیحح طرح سے سپریم کورٹ میں پیش کرنے میں ناکام ہو گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے میرے خیال سے الیکشن کمیشن کو آج ریکارڈ دے دینا چاہئے تھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 6 بجے دفتر پہنچا،جسٹس منصور علی شاہ ریکارڈ ڈھونڈتے رہے،سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی مدد کو آگئے، ریکارڈ پیش کرنا چاہا تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا شکریہ،الیکشن کمیشن وکیل صیحح طرح سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر معذرت کرتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن صفحے بدلتے رہے، مدد لیتے رہے،ججز ایک دوسرے کے صفحے دیکھتے رہے اور پوچھتے رہے، کنفیوژن ہوگئی

    سُپریم کورٹ میں سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کی صبح 11:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • مبینہ منی لانڈرنگ،جنرل ر باجوہ کے قریبی عزیز پھر ایف آئی اے میں طلب

    مبینہ منی لانڈرنگ،جنرل ر باجوہ کے قریبی عزیز پھر ایف آئی اے میں طلب

    ایف آئی اے منی لانڈرنگ سرکل نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے قریبی عزیز صابر حمید عرف مٹھو کے کیس کو ری اوپن کردیا،

    صابر حمید کو منی لانڈرنگ کے الزام میں 27 جون کو پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا، صابر حمید کو طلبی کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس سال کا زمین کی خریدوفروخت کا ریکارڈ ہمراہ لائیں،فیملی کی جانب سے کی گئی خریدوفروخت کا بھی ریکارڈ ہمراہ لائیں،سرکاری محکموں کو فروخت کی گئی زمینوں کے ریکارڈ بھی ہمراہ لائیں،صابر حمید کے خلاف گزشتہ برس 2023 میں منی لانڈرنگ کی انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا صابر حمید کو اس وقت بھی طلب کیا گیا تھاتاہم بعد ازاں انکوائری بند کر دی گئی تھی اب انکوائری دوبارہ ری اوپن کر دی گئی ہے

    27 اکتوبر 2023 کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے صابرحمید کے خلاف انکوائری بند کردی تھی، ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء نے انکوائری بند کرنے کا مراسلہ جاری کیا تھا اور ایف آئی اے نے صابر حمید کو نوٹس جاری کرکے 23 اکتوبر کو طلب کیا تھا اور وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

    ایف آئی اے نے چوہدری اشرف گُھرکی اور حامد مشتاق کو بھی طلب کیا ہے،اینٹی کرپشن نے تینوں کو 26 جون جبکہ ایف آئی اے نے صابر حمید اور اشرف گھرکی کو 27 جون ، حامد مشتاق کو 28 جون کو طلب کیا۔ایف آئی اے کی جانب سے تینوں افراد کو منی لانڈرنگ الزامات کے تحت جاری انکوائری میں طلب کیا گیا،تینوں پر غیر قانونی طور پر سرکاری اداروں کو زمین کی خریدو فروخت کا بھی الزام ہے۔

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام، وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ اعلان کردہ وژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جارہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں نوگو ایریاز میں ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان کارروائیوں کےلیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ضرورت تھی، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور دہشت گردوں کی پاکستان میں منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شکست دی جا چکی ہے، بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہےجہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام پاکستان میں پائیدارامن واستحکام کےلیے ایک کثیر جہتی وژن ہے، عزم پاکستان مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی وژن ہے جس کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کےنفاذ میں نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے، قومی ایکشن پلان سیاسی میدان میں قومی اتفاق رائے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردوں کی باقیات، سہولت کاری اور پرتشدد انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، عزم استحکام سے ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے مجموعی طور پر محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے گا، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے سے شروع کیے گئے اس مثبت اقدام کی پذیرائی کرنی چاہیے، تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ اس موضوع پر غیر ضروری بحث کو بھی ختم کرنا چاہیے۔

    سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے نہیں پاکستان کیلئے سٹینڈ لیں، وزیر دفاع
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کا موازنہ ضرب عضب ،راہ نجات اور ردالفساد سے کیا جارہا ہے لیکن ان آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی مگر مقاصد ایک ہی تھے اور یہ آپریشن بھی دہشتگردوں کے خلاف ہے جس کا آغاز کیا جائے گا، تین جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں، ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں، اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ضرور دور کریں گے، آپریشن پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، آپریشن کے سیاسی عزائم نہیں، مقصد دہشت گردی کی لہر ختم کرنا ہے، آپریشن کا فوکس بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو گا

    تحریک انصاف دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایپکس کمیٹی میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا، صوبوں کو مالی مدد کرنا ہو گی، عدلیہ نے قومی سلامتی کی کوشش میں سپورٹ نہ کیا تو آپریشن مؤثر نہیں رہے گا، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بسائے گئے شدت پسندوں کے گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے کہا تھا وزیرِ اعظم کے کہنے پر قدم اٹھا رہے ہیں، ماضی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس وقت اور آج کل صورتِ حال میں بہت فرق ہے، فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا، فاٹا کے علاقے نوگو ایریاز بن چکے تھے، آج ایسی صورتحال نہیں،ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں بی ایل اے رات کے وقت کارروائی کرتے ہیں، سوات میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی تھی،پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی، اس اقدام سے تباہی آئی، امن نہیں آیا، امن پارہ پارہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کے حوالہ سے بیورو کریسی اور میڈیا کی حمایت کی بھی اشد ضرورت ہوگی، پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے، ہم نے دونوں جنگیں امریکی تحفظات کے لیے لڑیں، ردالفساد اور ضرب عضب کے بعد امن قائم ہوا تھا.

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

  • ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

    ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

    اسلام آباد : وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے-

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ بل گیٹس نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی ،جس میں وزیر اعظم نے بل گیٹس کو معاشی استحکام کے حصول کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں اہم پیش رفت، صحت کی سہولیات تک رسائی میں بہتری، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے موافقت اور پولیو کے خاتمے کی حکومتی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے حوالے سے گیٹس فاؤنڈیشن کی گراں قدر حمایت کو سراہا انہوں نے کہا کہ پورے حکومتی ڈھانچے کے ایک ڈیجیٹلائزڈ ایکو سسٹم کے نتیجے میں محصولات میں اضافہ ہوگا جس سے گورننس کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور حکومت عوامی بہبود کی اسکیموں پر زیادہ خرچ کرنے کے قابل ہوگی۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان اور گیٹس فاؤنڈیشن دونوں کے بہت سے اہداف ہیں جن میں صنفی فرق کو ختم کرنا، صحت کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ، غذائی تحفظ کو بہتر بنانا، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے موافقت اور مالیاتی شمولیت شامل ہیں۔

    وزیر اعظم نے بل گیٹس کو مختلف شعبہ جات میں پیش رفت اور درپیش چیلنجوں سے آگاہ کیاپولیو کے خاتمے کے پروگرام کے لیے سب سے بڑا عطیہ دہندہ ہونے پر گیٹس فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا،وزیر اعظم نے پولیو وائرس کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مرکوز حکمت عملی اور پاکستان میں اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے درکار اقدامات سے آگاہ کیا انہوں نے پولیو کے خاتمے کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریاست کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جب تک ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک اس حوالے سے قومی سطح پر کی جا رہی کوششوں کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔

    بل گیٹس نے ملک سے پولیو کے خاتمے کے حوالے سے مسلسل لگن اور ذاتی دلچسپی کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ مسلسل ویکسینیشن اور حکومت کے پختہ عزم کے ساتھ، پولیو کے خاتمے کی مہم میں بہتری آئے گی۔

    بل گیٹس نے ڈیٹا سائنس ٹولز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو پاکستانیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اہم وسائل قرار دیا، دونوں شخصیات نے نہ صرف پولیو کے خاتمے بلکہ تمام صوبوں میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور تمام پاکستانیوں خصوصاً خواتین کی فلاح و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    واضح رہے کہ بل گیٹس وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں وزیراعظم نے رواں سال ریاض میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں بل گیٹس کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

  • کھلاڑی "پارٹیز” میں جانے کے ڈالر لیتے رہے،مبشر لقمان کی بات کی تصدیق

    کھلاڑی "پارٹیز” میں جانے کے ڈالر لیتے رہے،مبشر لقمان کی بات کی تصدیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا اور بھارت سے میچ ہاری، بعد ازاں سپرایٹ تک نہ پہنچ سکی اور واپسی کی راہ لی

    قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے شائقین کرکٹ کو مایوس کیا،ایسے میں شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالاتو وہیں یہ بات سامنے آئی کہ کھلاڑیوں کی توجہ کرکٹ کی بجائے”پارٹیز” پر تھی اور کھلاڑی رات کو دو دو بجے تک ہوٹلوں میں پارٹیز میں شریک رہے ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی امریکا میں ڈالروں میں کمائی کر رہے ہیں وہ تو وہاں سیلفی لینے کے بھی ڈالر لے رہے ہیں،پارٹیز میں شریک ہونے کے بھی ڈالر لئے جا رہے ہیں، مبشر لقمان نے نجی ٹی وی پر سوال اٹھایا تھا کہ کرکٹرز نے امریکہ میں ایک ایک تصویر کے کئی ڈالرز لیے ہیں تو کیا وہ ظاہر بھی کریں گے؟

    مبشر لقمان کی جانب سے کھلاڑیوں کے ڈالر لینے کی بات کی تصدیق آج دیگر میڈیا اداروں نے بھی کر دی، مبشر لقمان جو بات کئی روز قبل کر چکے تھے، آج پاکستان کے معروف میڈیا کے ادارے جنگ اور جیو نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ امریکا میں کھلاڑی پارٹیز میں شریک ہونے کے لئے ڈالر لیتے رہے،جیو ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "2 جون کی رات 11 بج کر 30 منٹ سے 1 بجے کے دوران پارٹیز کے لیے مشہور ’CAVALLI ریسٹورنٹ‘ میں قومی ٹیم کے 5 کھلاڑیوں عماد وسیم، محمد عامر، حارث رؤف ، شاداب خان اور عثمان خان نے ایک پروگرام میں شرکت کی، اس پروگرام کے پروموٹر ’شکاری‘ کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو دو سے ڈھائی ہزار ڈالرز ادا کیے گئے اور آرگنائزر نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آنے والوں سے 25 ڈالرز فی کس لیے، جب یہ بات پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث بنی، تو کھلاڑیوں نے پروموٹر شکاری سے کہا کہ اب بات پھیل گئی ہے، پروگرام باہر کے بجائے کسی کے گھر پر رکھا جائے، اگر 4 کھلاڑیوں کو 2 ہزار ڈالرز تک بھی مل گئے، تو شاپنگ کے پیسے نکل جائیں گے”۔

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان