Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سینئر صحافی حامد میر کی ارشد شریف کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست یہ ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر تحقیقات جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،آپ نے پچھلی سماعت میں کہا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، آپ کوئی آرڈر شیٹ دیکھا دیں،جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی ابھی کام کر رہی ہے ابھی کینیا سے ایم ایل ار سے متعلق ایم او یو سائن ہونا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ڈیڑھ سال سے جے آئی ٹی آئی نے کوئی کام نہیں کیا، جے آئی ٹی کو ہیڈ کون کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی مائی لارڈ ایسا ہے۔

    شعیب رزاق نے کہا کہ ان کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ جے آئی ٹی کو کوئی ہیڈ نہیں کر رہا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایف آئی آر ہوئی ہے؟ شعیب رزاق نے کہا کہ جی تھانہ رمنا میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب جے آئی ٹی کا کچھ حصہ لیک ہوا تو جس پر کینیا نے ریزرویشن دیں، عدالت نے تھانہ رمنا کے ایس ایچ کو بھی ذاتی حثیت میں اگلی سماعت میں طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دیکھ لوں سٹیٹ نے کیا کیا ہے اب تک ؟جے آئی ٹی میں کون ہے،عدالت نے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو اصل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائی کورٹ،الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی ٹی آئی امیدواروں کی درخواستوں پر کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کر دی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ منٹ وقت لے لیں ، کیا پانچ منٹ سے بھی وقت کم کردوں؟ آپ اس آرڈیننس کا کیسے دفاع کریں گے؟ کون سا آسمان گرنے لگا تھا کہ قائم مقام صدر سے رات و رات آرڈیننس جاری کروا دیا،پارلیمنٹ کو ختم کردیتے ہیں،اور آرڈیننس کے زریعے حکومت چلواتے ہیں ، آپ لوگوں نے آرڈیننس کی فیکٹری لگا رکھی ہے، ایک واہ فیکٹری ہے اور دوسری آرڈیننس فیکٹری ، وہ اسلحہ بنانے ہیں آپ آرڈیننس بناتے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا ٹریبیونل تبدیلی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا، انجم عقیل عدالت میں سوری ، سوری کرتے رہے، جج کے تعصب پر اپنے الفاظ پر شرمندگی اور معذرت کا اظہار کیا،عدالتی زبان قرار دیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جھاڑ پلا دی کہا کہ آپ نے بیان حلفی بھی لگایا ہوا ہے کہ جو درخواست میں لکھا وہ درست ہے،آپ انگریزی پڑھ سکتے ہیں؟ پڑھیں،آپ نےاقرباء پروری لکھا ہے آپ نے یہ الزام کیوں لگایا؟انجم عقیل کے ساتھ کھڑے وکیل کےلقمےپر چیف جسٹس عامر فاروق سخت برہم ہو گئے،کہا میں نے ذاتی طور پر طلب کیا ہے تو انہیں خود بات کرنے دیں،انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں،میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، عدالت نے حکم دیا کہ انجم عقیل خان ہر سماعت پر حاضری یقینی بنائیں ، عدالت نے کیس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی

    آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا انجم عقیل خان سے مکالمہ
    دوران سماعت انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات ابھی نہیں کر رہے، آپ نے جو الزامات لگائے اس متعلق بتائیں، انجم عقیل خان نے کہا کہ میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جج صاحب نے کہاں تعصب ظاہر کیا جہاں آپکو لگا یہ انصاف نہیں کرینگے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپکی درخواست پر ساری کارروائی کی، آپ بتا تو دیں،آپ سوری سوری کر رہے ہیں، یہ بتائیں Bias کیا ہوتا ہے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج نہیں ہے، یہ سادہ انگریزی ہے، جج صاحب متعصب تھے کیونکہ انہوں نے آپکی سفارش نہیں مانی؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ نہیں، ہم نے سفارش کی ہی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اچھا، یہ مجھے نہیں پتہ سفارش کی ہے یا نہیں، آپ پارلیمنٹیرین ہیں، آپ قانون بنائیں گے، آپ نے پوری اکانومی چلانی ہے، آپ وہاں جا کر بھی کہیں گے کہ مجھے اکانومی کا نہیں معلوم؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ لیگل گراؤنڈز پر میرے وکیل عدالت کو بتائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل اپنے سے تو نہیں کرتا، آپ نے کہا تو انہوں نے درخواست دی ہو گی نا، مجھے تو کوئی جلدی نہیں، آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے، آپ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتائیں ورنہ آپ اپنا نقصان کرینگے، ہم سب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں آپکو جواب دینا ہو گا،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس منیب اختر،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلوں میں آئینی تشریح کی قدرتی حدود سےمطابقت پر زور دیا گیا ہے، آرٹیکل 51 اور 106 سے 3 ضروری نکات بتانا ضروری ہیں، آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کی غلط تشریح دی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئین کو نظر انداز کیا۔

    آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل صدیقی سے کہا کہ الیکشن کمیشن یا آپ کیا سوچ رہے ہیں وہ چھوڑ دیں، الیکشن کمیشن بھی آئین پر انحصار کرے گا، الیکشن کمیشن آئین کی غلط تشریح بھی کر سکتا ہے، عدالت کسی کی طرف سے آئین کی تشریح پر انحصار نہیں کرتی، آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور فیصل صدیقی میں بلے کے نشان پر اہم بحث ہوئی، وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپ کے فیصلے کی جس لیول پر انٹرپٹیشن کی آپ دیکھئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا،وکیل نے کہا کہ اس ملک میں متاثرہ فریق کیلئے کوئی چوائس نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،صرف آئین پر رہیں،وکیل نے کہا کہ ایک رات پہلے انتخابی نشان لے لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا تو نہیں لیا، آپ تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں آپ کا نشان کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا ،گھوڑا

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی،بلے باز کے نشان سے متعلق وضاحت کروں گا کہ کیا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کیا ہوا، آپ فیکٹس پر ذرا فوکس کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان لئے جانے کے بعد معاملہ کنفیوژ ہوگیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل آسان ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین پر عمل نہ کرکے ملک کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کی آپ کی تشریح الگ ہے میری الگ ہے،

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ تمام امیدوار پی ٹی آئی کے تھے حقائق منافی ہیں، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے سرٹیفکیٹس جمع کروا کر واپس کیوں لیے گئے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ جنھوں نے الیکشن لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی انھیں کیوں مخصوص نشستیں دی جائیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ آپ کے دلائل سے تو آئین میں دیے گئے الفاظ ہی غیر موثر ہو جائیں گے، سنی اتحاد کونسل تو پولیٹیکل پارٹی ہی نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارٹی الیکشن نہیں لڑتی بلکہ امیدوار الیکشن لڑتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے دلائل مفادات کا ٹکراؤ ہیں، یا آپ سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کریں یا پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں، ہم نے صرف دیکھنا ہے آئین کیا کہتا ہے، ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا، نظریاتی میں گئے اور پھر سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے، آپ صرف سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملک میں ایسے عظیم ججز بھی گزرے ہیں جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا،صرف آئین پر رہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان چلے جانے کے بعد پولیٹیکل پارٹی نہیں رہی،لیکن پولیٹیکل ان لسٹڈ پولیٹیکل پارٹی تو ہے، الیکشن کمیشن نے ان لسٹڈ پارٹی تو قرار دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی، اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے،

    جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیا تو اپیل کیوں دائر نہیں کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ اس سوال کا جواب سلیمان اکرم راجہ دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رولز آئین کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کہا تھا 80 فیصد لوگ آزاد ہو جاتے ہیں تو کیا دس فیصد والی سیاسی جماعتوں کو ساری مخصوص نشستیں دے دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل آئین یہی کہتا ہے، کسی کی مرضی پر عمل نہیں ہو سکتا، اس ملک کی دھجیاں اسی لیے اڑائی گئیں کیونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا،میں نے حلف آئین کے تحت لیا ہے،پارلیمنٹ سے جاکر آئین میں ترمیم کرا لیں، ہمارے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے ہیں،امریکہ اور برطانیہ کے آئین کو صدیاں گزر چکی ہیں، جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ہماری انا کی بات ہو جائے گی،مشکل سے ملک پٹری پہ آتا ہے پھر کوئی آکر اڑا دیتا ہے،پھر کوئی بنیادی جمہوریت پسند بن جاتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت فورٹریس آف ڈکشنری نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن ملکوں کا آپ حوالہ دےرہے ان کے آئین کل نہیں بنے،پاکستان کے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے اور اس کا حال کیا کیا ہے، انگلستان میں لکھا ہوا آئین نہیں، تاریخ دیکھتے ہیں،

    جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، جو کچھ 2018 میں ہوا وہی ابھی ہوا، جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا،یہ باتیں سب کے علم میں ہیں، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ میں آپکی باتوں سے مکمل متفق ہوں،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کے صدر تھے، کیا انہوں نے انتخابات کی تاریخ دی ، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تھا جو انتخابات نہیں کروا سکا،ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوائی تھی،انتخابات ہم نے کروائے ، پی ٹی آئی نے تو لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن رکوانے کی کوشش کی ، کبھی کبھی سچ بول دیا کریں ، باہر جا کر بڑے بڑے شو کر کےجھوٹ نا بولا کریں، الیکشن ہم نے کروائے تھے، تحریک انصاف اور ان کے صدر عارف علوی اور عمران خان تو الیکشن روکنے پر لگے ہوئے تھے۔الیکشن کمیشن ایک عرصے سے تحریک انصاف کو پارٹی الیکشن کروانے کا کہہ رہا تھا لیکن پارٹی الیکشن نہیں کروائے،عمران خان بطور وزیراعظم بھی الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہورہے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا
    چیف جسٹس قاضی فائز جب 13 جنوری بلے کے نشان کے کیس کے فیصلے سے متعلق وضاحت دے رہے تھے تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا میں اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ نظرثانی درخواست زیر التوا ہے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم نظر ثانی درخواست دائر ہوئی ہے ،مجھے علم نہیں، پتہ کریں، حامد خان کئی بار ملے کبھی ذکر نہیں کیا، حامد خان نے بھی نظر ثانی درخواست دائر ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی بات ہوئی تھی جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کرائی تھی کہ نظر ثانی زیر التوا ہے اس لیے اس حوالے سے بات نا کی جائے .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا،آفس سے تفصیلات مانگ لیں،پی ٹی آئی وکیل سے کہا کہ آپ نے یاددہانی نہیں کروائی.

    الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو جماعت سیاسی نہیں اور الیکشن نہیں لڑی اس کی مخصوص نشستیں کہاں جائیں گی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا،

    آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا،چیف جسٹس
    جسٹس اطہر من اللہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میں بحث ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا آئین کو پسند کیوں نہیں کرتے؟ آئین آئین ہوتا ہے، وکیل نے کہا کہ ایک بات کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں، آپ سیاسی بات کرتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم یہاں انسانی حقوق کے دفاع کیلئے موجود ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا، عدالت سمجھتی سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جنہوں نے آپ کو جوائن کیا کیا ان میں کوئی غیر مسلم ہے، اہم سوال ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، دیکھنا پڑےگا،

    پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،چیف جسٹس
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیمطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خواتین کو نہیں غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،بطور آفیسر آف کورٹ اس سوال کا جواب دیں ،وکیل نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب اس لئے نہیں دے رہا کہ یہ اتنا سادہ نہیں،ہر آزاد ایم این اے، ایم پی ائے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو، میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں، مخصوص نشستیں صرف متناسب نمائندگی کے سسٹم کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں، متناسب نمائندگی کے نظام کے علاوہ مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا کوئی تصور نہیں،مخصوص نشستیں امیدواروں کا نہیں سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے،الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ شمولیت صرف پارلیمان میں موجود جماعت میں ہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن کی یہ تشریح خودکشی کے مترادف ہے،

    وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے،چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج بھی پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتا ہے، ایوان کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا، میری نظر میں ایوان کو مکمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا، ہمارے ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، ملک آئین کے مطابق چلا ہی کب ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کر لئے.

    وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ خلاف آئین ہے،فیصل صدیقی اپیل کے حوالے سے تفصیل سے دلائل دے چکے،ہماری تین درخواستیں تھیں عدالت چاہے تو معاونت کےلیے تیار ہوں،مزید معاونت بھی کردوں گا، وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان کے دلائل مکمل کرلیے.

    سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کردیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنول شوزب پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر ہیں، الیکشن ایکٹ کیمطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا، کنول شوزب کوپہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کنول شوزب کیا اکیلی تھیں جو سنی اتحاد کونسل میں نہیں گئیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب عام انتخابات میں منتخب نہیں ہوئیں، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو ملنے پر انہیں منتخب ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اوکے، تو یہ متاثرہ فریق ہیں، کیا کنول شوزب نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کنول شوزب متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر کیسے براہ راست سپریم کورٹ آ سکتی ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس عدالت میں چیلنج کیا تھا اس کا فیصلہ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ فیصلہ کچھ دیر تک ریکارڈ کا حصہ بنا دوں گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہی نہیں کیا گیا اس کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کنول شوز ب سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں شامل ہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب کا نام سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں موجود ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں نام دکھائیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فہرست لی ہی نہیں تو ریکارڈ سے کیسے دکھا سکتا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ آٹھ فروری کے حوالے سے بھی درخواست زیر التواء ہے،عدالت نے ہر غیرمتعلقہ معاملے پر ازخودنوٹس لیا ہے لیکن الیکشن پر نہیں، انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فیصل صدیقی کا کیس تباہ کر رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ کسی کا کیس تباہ نہیں کر رہا، سمجھ نہیں آ رہا آپ بار بار یہ کیوں کہہ رہے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ دلائل کیلئے کتنا وقت لیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک گھنٹے سے زائد وقت لوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گھنٹہ آپ کو نہیں دے سکتے،اس کیس کو ہم اتنا طویل نہیں کر سکتے،ہزاروں دیگر مقدمات زیر التوا ہیں،زیر التوا مقدمات والوں پر تھوڑا رحم کر لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں جسٹس اطہر من اللہ سے وسیع تناظر میں متفق ہوں،میری رائے میں پی ٹی آئی کو ہمارے سامنے آنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کو آکر کہنا چاہئے تھا یہ ہماری نشستیں ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسے حالات تھے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو سُنی اتحاد کونسل میں جانا پڑا؟ کیا پی ٹی آئی کو پارٹی نہ ماننے والے آرڈر کیخلاف درخواست اسی کیس کے ساتھ نہیں سُنی جانی چاہئے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ نے ہماری اپیل واپس کر دی، رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے تھے، رجسٹرار آفس نے کہا انتخابی عمل نشان الاٹ کرنے سے آگے بڑھ چکا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ اہم ترین معاملہ تھا لیکن آپ نے اپیل دائر نہیں کی، چیمبر اپیل دائر نہ کرنے سے اہم ترین معاملہ غیرموثر ہوگیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا چیمبر اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی معاملات میں جانے کے بجائے عدالت 184/3 کا اختیار کیوں نہیں استعمال کر سکتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سُنی اتحاد کونسل اگر بیان دے کہ کنول شوزب انکی امیدوار ہونگی تو درخواست سن سکتے ہیں،

    ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ سلمان صاحب 86 لوگ ایک جماعت سے الیکشن لڑ کر بعد میں ایک شخص کو جوائن کر گئے کیوں؟ ہمیں وہ مجبوری تو بتا دیں وہ مجبوری کیا تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا، کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رک نہیں سکتا، سلمان اکرم راجہ صاحب بات سن بھی لیا کریں کیا ہم اب آپکے مفروضوں پر چلیں گے یا آئین پر چلیں گے۔ کل کو ہر کوئی آکر کہہ دے گا کہ یہ مجبوری تھی اسلئے آئین چھوڑ دیں، ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہاں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،فاطمہ جناح نے انتخابات میں حصہ لیا تو تب بھی عوام سے حق چھینا گیا،مکمل سچ کوئی نہیں بولتا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی بیانات میں نہیں جاوں گا آئین و قانون پر دلائل دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جیتنے کے بعد آزاد اُمیدوار سُنی اتحاد کونسل میں کیوں شامل ہوئے؟ آپ کو پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہئے تھا، آپ پی ٹی آئی کا انتخاب کرتے تو آپ کا کیس اچھا ہوسکتا تھا.

    سپریم کورٹ، دوران سماعت خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلنے پر چیف جسٹس کا نوٹس
    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خاتون کے فون سےہری لائٹ جلنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹس لے لیا،سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے تھے کہ اس دوران خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ پیچھے سے کون تصویر لے رہا تھا؟وکلا نے کہاکہ خاتون کے پاس ڈائری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ خاتون بیٹھی ہیں، کیا گرین چیز سے پکچر لے رہی ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کھڑی ہو جائیں ، آپ کے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟خاتون کے فون میں دیکھیے کیا کر رہی ہیں اور ہری لائٹ کیا تھی جو دیکھنے میں آئی؟

    آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے،چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86امیدوار آزاد منتخب نہیں ہوئے، لوگوں نے انہیں سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے طور پر منتخب کیا، 86 امیدواروں کو کیوں لگا کہ ایک ہی جماعت سے منسلک ہونا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلمان صاحب تھوڑا سا برداشت رکھیں، اگر آپ اپنا آزاد کا سٹیٹس برقرار رکھیں گے تو پھر بھی اُنہی سیاسی جماعتوں کو جائیں گی آپ کو نہیں ملیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو جیتی گئی نشستوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے توشروع میں کہا تھا ایک رکن بھی پارلیمنٹ میں خالی نہیں چھوڑا جاسکتا، آپ کہہ رہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنا کوئی مسئلہ نہیں ,ہر چیز قانون کی بنیاد پر ہوتی ہے ,بظاہر قانون کی زبان بڑی واضح ہے ,ہر سیاسی جماعت کی اپنی منزل ہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد مشاورت سے سنی اتحاد کونسل کو اپنایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے درست کہا کہ جب آپ آزاد امیدوار ہیں تو پھر ایسی جماعت میں جانا ہوگا جس نے سیٹ انتخابات میں حاصل کی ہوں گی ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہ رہے کہ الیکشن میں نہ جیتے آزاد ملے تو سیٹ حاصل کرلی ؟ جواضح کردیا گیا ہے کہ جو سیٹیں آپ نے جیتی ان میں آزاد شامل ہوں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن میں جیتی گئی سیٹیں اور حاصل کردہ دونوں میں فرق ہیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حاصل کردہ سیٹوں سے مطلب جیتی گئی سیٹ لیا جا رہا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت ماننے سے کونسا آئینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کون جیتا کون آگیا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 25 بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ووٹر سب کے منشور نہیں پڑھتا ج،چھوٹی سیاسی جماعت میں اگر آذاد امیدوار شامل ہوجاے تو کیا ہوگا ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ارب پتی سیاسی جماعت خرید لے ؟کل کوئی ارب پتی کہے کیا الیکشن لڑنا پارٹی اور آزاد امیدوار خریدوں گا پھر ؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 نمائندے آزاد نہیں تھے انہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے ووٹ پڑے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم آزاد امیدوار ہونے کی ہی وجہ سے سیاسی جماعت میں شامل ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ لیں کوئی آزاد امیدوار نہیں ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آذاد امیدوار آزاد ہی رہتے تو پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پھر مخصوص نشستیں خالی رہتیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ہیں،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شروع میں الیکشن کمیشن نے ساری سیٹیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی،بعد میں مقدمہ بازی کی وجہ ان سیٹوں کو روک دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہم آزاد ممبر ہوئے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر غلط سمجھا گیا.

    پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ گر آزادامیدوار ایک جماعت میں دو تین ماہ بعد شامل ہوتے تو کیا جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے کی اہلیت ہوگی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسی وجہ سے تین دنوں میں شامل ہونے کا قانون ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت ہی عجیب سا قانون ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل ہے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار سمجھا جائے یا سنی اتحاد کونسل کا،آپ پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل ہیں سنی اتحاد کونسل کی بات نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بات تو ماننے والی ہے مجموعی طور پرتحریک انصاف نے برے انداز میں کیس کو چلایا ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے چودہ مختلف فیصلے رکھوں گا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ سنی اتحاد یا پی ٹی آئی کو چاہتے ہیں،صرف درخواست گزار کی بات ہو رہی ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف درخواست گزار کی انفرادی بات نہ کی جائے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دے رہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت خواہ ہوں ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنے درخواست گزار کی بات کریں دوسروں کی بات کیسی کر رہے ہیں، ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز نے سنی اتحاد کونسل جوائن کرنے پر احتجاج کیا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نہیں ہمارے خلاف صرف الیکشن کمیشن تھا،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ، عزت کا حقدار ، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی غلطیوں کا حل ہم ڈھونڈیں؟ ہم نے الیکشن کمیشن کو نہیں منظور کیا، آپ نے کیا، غلطیاں تو کی نا،کنول شوذب کوئی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018 میں ایک سیاسی جماعت مشکلات کا شکار تھی، 2024 میں بھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کو الیکشن کمیشن میں خرابی محسوس ہوئی درخواست دائر کریں یا قوانین میں ترامیم کریں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، عزت کا حقدار ہے، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،سپریم کورٹ بھی عزت کے ساتھ برتاؤ کی حقدار ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 ممبران نے کاغذات جمع کرواتے وقت کہاکہ تحریک انصاف کے ہیں؟ کیا عوام کو انتخابات کے سسٹم پر بھروسہ ہے؟ کیوں سچ نہیں بول سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل کچھ اور کہہ رہا ہے لیکن مجھے دماغ کے ساتھ دلائل دینے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کسی کو اختلاف نہیں، آزاد امیدواروں کو کوئی تو شناخت ملے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ سکتےکہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعت کی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں،میں بطور آزاد امیدوار ہی کیس کو دیکھ رہا، بطور پی ٹی آئی امیدوار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ جذبات میں دلائل دے رہے ہیں،جب سی ٹی اسکین کروانے جائیں تو ایک گولی دیتے ہیں جو ریلیکس کر دیتی ہے،از راہ تفنن بات کر رہا ہوں سلمان اکرم راجہ صاحب آپ بھی وہ گولی کھا لیا کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جمیعت علمائے اسلام میں بھی شامل ہوسکتےتھے، کس کی رائے تھی سنی اتحاد میں شامل ہونے کی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ممکن تھا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی ذہنیت نہ ملے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ اپنے ووٹرز کا حق دے رہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے پر مجبور کیا، ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچکزئی صاحب کی جماعت میں بھی جا سکتے تھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی جماعت کی تلاش تھی جس کے ساتھ چل سکیں کل وہ ہم میں ضم ہو سکے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو انتخابی نشان والے کیس میں بھی کہا تھا مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہو تو عدالت آجانا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے مسئلہ پیدا ہوا تو کیا یہ عدالت اسے درست کر سکتی ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرے تو میں اسے عظیم فیصلہ کہوں گا، پاکستان کے عوام بھی اس فیصلے پر جشن منائیں گے، سنی اتحاد نے انتخابات سے قبل اعلان کیا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں گے، جب تحریک انصاف بطور آزاد انتخابات لڑی تو حامدرضا نے بھی آزادامیدوار الیکشن لڑا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حامدرضا اپنی ہی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حامد رضا بطور تحریک انصاف امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو یہی نہیں معلوم کہ حامدرضا نے اپنے کاغذات میں کس پارٹی کا نام لکھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو کنول شوذب کا معلوم نہیں، حامدرضا نے کیوں آزادامیدوار الیکشن لڑا، سنی اتحاد کہاں ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ صاف شفاف انتخابات کروائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 86 لوگوں کی بات نہ کریں، آپ ایک درخواستگزار ہیں، 86 درخواستگزار نہیں، ایم کیو ایم آپ کی حکومت کا حصہ تھی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے، ہم آئین کی تشریح چاہتےہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایم کیو ایم والے آپ کے ساتھ تھے، آج نہیں، کل سنی اتحاد نے بھی ایسا کیا تو ہمارے پاس آئیں گے؟کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کل صبح ساڑھے نو بجے کیس کی سماعت کریں گے،کل تمام وکلا کو سن کر کیس ختم کریں گے،تمام وکلا مختصر دلائل دیں،پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک،الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل کے دلائل رہ گئے ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں ایک متاثرہ فریق کی نمائندگی کر رہا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا،جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کرلیے ، کیس کی آئندہ سماعت 25 جون کو دوبارہ ہوگی ،

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے،الیکشن کمیشن
    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا،سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے عوام دشمن قرار دے دیا۔

    قومی اسمبلی میں اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ اس ایوان کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتی ہوں، اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی اور بیروزگاری ہےپوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق ہے؟ کسانوں، مزدوروں، غریبوں کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں، نئے سال کا بجٹ عوام کی نمائندگی نہیں کرتا، بجٹ کی ترجیحات میں کسان، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا، کیا پاکستان کے لوگ اس عوام دشمن بجٹ کے مستحق ہیں؟ہمیں عام آدمی کے ریلیف کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں کسان کو مضبوط کرنا ہوگا، کسان کو کبھی سیلاب، کبھی گندم درآمد کا مسئلہ ہے ہمیں ملک کے غریب ترین شہریوں کوسہولیات فراہم کرنا ہوں گی، ہمیں پاکستان اور قوم کی خوشحالی کےلیےکام کرنا ہوگا۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ جذباتی لمحات ہیں کہ وہ اس ایوان سے خطاب کر رہی ہیں جس کا حصہ نانا نانی دادا والدین اور بھائی بھی رہے ہیں۔ہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدرآصف علی زرداری پارٹی کی سینیر قیادت اور خاص طور پر نواب شاہ کے پی پی کے جیالوں اور جیالیوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے عوام کی ترجمانی کرنے موقع فراہم کیا۔ اس وقت ہم ایک مرتبہ پھرچیلنجنگ حالات میں ہیں۔ حکومت اس سال کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کر رہی ہے کہ ہم بدترین بیروزگاری افراط زر، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم سب اس شاندار ملک کے شہری ہیں اور ہمیں اس بجٹ سے بہت سی امیدیں تھیں۔ہم ایسا بجٹ کی امید کر رہے تھے کہ پاکستان کے عوام کی ضروریات کے مطابق ہوگا اور اس بجٹ میں ہمارے کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود ہوگی۔ ہمیں ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جو بڑی کارپوریشنوں کو فائدہ نہ پہنچائیں اور جس کی قیمت ہمارے معاشرے کے غریب لوگ ادا نہ کریں۔ ہم ایسے بجٹ کی توقع کر رے تھے جس میں سبسیڈیز غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو دیکھ کر انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی کہ جو امیر کو اور امیر اور غریب کو اور غریب نہ بنائے۔ ہمیں ایک ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جس میں غریب اور امیر کے درمیان فرق کم ہوتا۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اسپیکر سے پوچھا کہ جو بجٹ ان کے سامنے ہے کیا وہ یہ سارے مقاصد پورے کرتے ہے؟ اور کیا پاکستان کے عوام اس بجٹ کے مستحق ہیں۔ پاکستان کے عوام اس سے بہتر بجٹ کے مستحق ہیں اور ہم سب کو متحد ہو کر اپنے شہریوں کے لئے بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے حالی ہی میں خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان نے اتحاد کے بارے بات کی۔ یہی اس وقت کی ضرورت ہے کہ اس وقت تقسیم کرنے والی سیاست سے ہماری قوم کو خطرہ ہے۔ ہم اپنے نظریات اپنے اصولوں اور اپنے اعمال میں تقسیم ہیں اور مخالفت کو ہتھیار بنا رہے ہیں اور اپنے اختلافات کو تشدد سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں منتخب نمائندوں کی حیثیت سے تمام چیزوں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برداشت اور تسلیم کرنے جیسے الفاظ صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنے چاہیے بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ہم نے ایک ہو کر تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا ہوگااور عوام کے لئے عوام کی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ ہم سب نے ایک ساتھ مل کر اپنے عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے کیونکہ عوام اس شدید گرمی میں 15-15 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔ اس شدید گرمی میں 15 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تشدد کے مترادف ہے۔ ہمارا کسان مشکل سے فصل اگاتا ہے اور اسے سیلاب میں گنوا دیتا ہے اور جب اس فصل آتی ہے تو اسے فصلوں کے خریدار نہیں ملتے۔ ہمیں اپنے کسان کو مضبوط بنانا ہوگا جو سیلابوں، طوفانوں اور گندم درآمد کرنے جیسے فیصلوں کا سامان کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے متوسط طبقے کی مدد کرنے کے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے جنہیں نوکریوں کا تحفظ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اپنے انسانی وسائل کو ترقی دینا ہوگی اور سب سے غریب طبقات کو براہ راست ریلیف مہیا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی ہم اپنے عوام کی جانب سے منتخب کرنے کا جواز حاصل کر سکیں گے۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ سیاست کے ایک نئے دور کی ابتداءدیکھیں گی جس میں سب ایک ساتھ مل کر اس ملک اور اس کے شہریوں کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کر یں گے۔

    پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے بینظیر بھٹو کے قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔قومی اسمبلی میں کہا کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ کرنے والا کام نہیں کرتی، شازیہ مری کی تمام باتوں سے متفق ہوں، فوج اور سکیورٹی اداروں کے بغیر آپ کچھ نہیں ہیں 16جون 1948ء کو قائداعظم نے فوجی افسروں سے کہا پالیسیاں بنانا آپ کا کام نہیں، عوام نے لیاقت علی خان کو چنا، کیوں اسے چن دیا گیا، قوم کو بے نظیربھٹو کے قاتلوں کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔

  • انسداد دہشت گردی کیلئے آپریشن ’عزمِ استحکام’ کی منظوری

    انسداد دہشت گردی کیلئے آپریشن ’عزمِ استحکام’ کی منظوری

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی کیلئے آپریشن ’عزمِ استحکام’ کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سمیت وفاقی کابینہ کے اہم وزرا، تمام صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، سروسز چیفس کی اجلاس نے شرکت کی۔

    اجلاس کے اعلامیے کے مطابق فورم نے انسداد دہشت گردی کی جاری مہم اور داخلی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ کیا اور انسداد دہشت گردی کی جامع اور نئی جاندار حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا وزیر اعظم نے انسداد دہشت گردی کےلیے آپریشن ’عزمِ استحکام’ کی منظوری دی اور کہا کہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے، آپریشن عزم استحکام دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کےلیے اہم ثابت ہو گا سفارتی کاوشوں سے دہشتگرد تنظیموں کی بیخ کرنی کریں گے اور کسی کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات میں مثبت پیش رفت

    فورم نے اعادہ کیا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ ہے،اجلاس میں چینی شہریوں کیلئے فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور چینی شہریوں کی حفاظت کےلیے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد متعلقہ محکموں کو نئے ایس او پیز جاری کردئیے گئے۔

    ثناءاللہ مستی خیل کی اسمبلی رکنیت معطل

  • بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پچھلے دو دن سے کچھ دوست بڑے پریشان ہیں،میسج کال کر رہے ہیں کہ کیس ہونے والا ہے، این ڈی ٹی وی کا یا کوئی کسی اور کا کلپ فارورڈ کر رہا ہے کہ میرے بارے میں کیا کہا گیا، یہ کہا گیا کہ پی سی بی کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ ہم یوٹیوبر ،اینکرز اور کچھ سابق کرکٹرز کے اوپر احاطہ کرنے لگے ہیں کہ وہ کیسے کہہ رہے ہیں، ثبوت دیں یا ہر جانہ دیں، بہت اچھی بات ہے، یہ پی سی بی کی آفیشیل سٹیٹمنٹ نہیں ہے، ذرائع کی خبر ہے، جب پی سی بی کی آفیشیل خبر آئے گی پھر بات کروں گا .

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک اور بات سوچی ہے کہ کیا ہم چھوٹی عدالتوں میں کیس لڑتے رہیں گے، نہ تو یہ پہلا کیس اور نہ ہی آخری کیس ہو گا، میں کام کرتا رہوں گا تو بہت لوگوں کو تکلیف ہو گی،اگر میں کمپرومائیز کرلوں تو کوئی کیس نہیں ہو گا، ایسا کرتے ہیں میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے درخواست کرتا ہوں ، اس وی لاگ کے ذریعے اور ایک درخواست بھی دائر کر دیتا ہوں، پاکستان کی سب سے قابل احترام عدالت کے پاس چلے جاتے ہیں کہ اس پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، کیونکہ یہ پہلی سیریز نہیں جس میں سبکی ہوئی،باتیں ہوئی،یہ دوسری سیریز نہیں، ہر سیریز کے بعد، ہر ٹورنامنٹ کے بعد یہ چیزیں سامنے آتی ہیں، شور ہوتا ہے، لوگوں کے احساسات سے کھیلا جاتا ہے، لوگ دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں لیکن انکے پھر دل ٹوٹتے ہیں، یہ سب کچھ جوڈیشیل کمیشن میں واضح ہونا چاہئے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس قیوم مرحوم انکا جو کمیشن تھا اس میں انہوں نے کئی کھلاڑیوں کے بارے میں باتیں کیں لیکن سزا صرف ایک کو دی تھی، پھر سب نے اسے کہا تھا کہ چپ کر جاؤ ابھی، اس کمیشن کے اقتباسات سامنے رکھوں تو حیران ہو جائیں گے، انضمام الحق کے بارے میں کمیشن میں لکھا تھا کہ انہیں انیزیا کا اٹیک تھا کوئی بات یاد نہیں آ رہی تھی، وقار یونس کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے تو میچ فکسنگ کا کبھی سنا ہی نہیں، پھر اس کمیشن نے انکو تنبیہ کی، اس کے اوپر تھوڑی بہت باتیں کرنی شروع کیں، کورٹ نے کافی کرکٹر کے بارے آبزرویشنز دی تھی، 14 میں سے 11 پر آبزرویشن آ رہی تھی تو اسکا کیا مطلب ہے کہ ایک آدھ آدمی غلط نہیں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،جوڈیشل کمیشن کا مطلب ہے کہ جتنے بھی کھلاڑی ہیں ابھی کے یا پرانے،انکے جتنے بھی رشتے دار ہیں ان سب کے اثاثوں کی چھان بین ہونی چاہئے، نیب کو بتانا چاہئے،سورس آف انکم چیک ہونا چاہئے،یا تو ٹیکس نہیں دیا، یا منی ٹریل نہیں دی،کسی بھی صورت میں ایسا کام قابل معافی نہیں، سپریم کورٹ چلتے ہیں، میں بھی ، آپ بھی آ جائیں، سپریم کورٹ کئی چیزوں کی بانڈریز بنا دے، کہ اگر چیئرمین پی سی بی لگانا ہے تو اسکا کرائیٹیریا کیا ہونا چاہئے، ایم ڈی کون ہونا چاہئے، ڈائریکٹر پی ایس ایل کس کو ہونا چاہئے اور قابلیت کیا ہونا چاہئے،پاکستان میں کتنے بڑے بڑے کرکٹر ہیں، مشتاق محمد لے لیں، محمد صادق، ظہیر عباس، جاوید میانداد، ہمارے مایہ ناز کرکٹر ہیں، ان پر فخر ہے، انکو آگے آنا چاہئے وہ بتائیں کیا انکو کھیل کا نہیں پتہ،آج کے زمانے کو اگر مبشر لقمان جانتا ہے تو جاوید میانداد کیوں نہیں جانتا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،وزیراعظم

    ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاست کی عملداری کو پوری قوت اور بغیر کسی استثنیٰ کے نافذ کرنا ہم سب کی ذمہ ذاری ہے۔ ایک نرم ریاست کبھی بھی بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتی۔ دہشتگردی میں مبتلا ایک غیر مستحکم ریاست میں مضبوط معیشت کا تصور ممکن نہیں

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو وسائل دیے گئے ہیں اسلئے توقع ہے صوبے دہشتگردی کے خلاف بھرپور حصہ ڈالیں اور مل کر اس ناسور کا خاتمہ کرینگے ، دہشتگردی کیخلاف کامیابی کیلئے سیاسی اور مذہبی طبقے کو کردار ادا کرنا ہوگا، سیکیورٹی کو ریاست کے صرف ایک ادارے پر چھوڑنا فاش غلطی ہوگی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم کو شامل کرنے کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، افواج دہشتگردی کیخلاف جو جنگ کر رہی ہے اس کے اخراجات وفاق اٹھاتا ہے، دہشتگردی کیخلاف فوج کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھیں گے، یقینی بنائیں گے کہ غلط معلومات اور جھوٹ سچائی کو نہ چھپا سکے، پاکستان کے دشمنوں نے سوشل اسپیس کو زہر آلود کر رکھا ہے، اظہاررائے کا غلط استعمال اور آئین کی دھجیاں اڑانے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہوسکتا، ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ غریب آدمی کو اپنی روزی روٹی کی فکر ہے، روزگار کی فکر ہے، مکمل نظام کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.

    کرم میں آئی ای ڈی دھماکے میں پاک فوج کے 5جوان شہید

     پاک فوج کے کیپٹن سمیت 7 جوان شہید 

    سیکورٹی فورسز کے تین آپریشن،23 دہشتگرد جہنم واصل،5 جوان شہید

    ژوب،ایک ماہ میں 29 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

  • سپاہی ہارون ولیم کی آخری رسومات ادا،وزیراعظم آرمی چیف کی شرکت

    سپاہی ہارون ولیم کی آخری رسومات ادا،وزیراعظم آرمی چیف کی شرکت

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں جان دینے والے پاک فوج کے سپاہی ہارون ولیم کی آخری رسومات ادا کردی گئیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 29 سالہ سپاہی ہارون ولیم گزشتہ روز کرم میں مارے گئے تھے،سپاہی ولیم ہارون کی آخری رسومات سینٹ پال چرچ راولپنڈی میں ادا کی گئیں، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی سپاہی ہارون ولیم کی تدفین کی تقریب میں شرکت کی.

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ روز کرم میں شہید ہوانے والے حوالدار عقیل احمد، لانس نائیک محمد تفیر، سپاہی انوش روفن اور سپاہی محمد اعظم خان کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کی گئی جن میں عسکری و سیاسی حکام نے شرکت کی.
    cm
    مسیحی برادری کی پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں ہیں،وزیراعظم
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عیسائی برادری کی ملک کی ترقی میں خدمات اور قربانیوں کو سراہا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلح افواج مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے مشتمل افراد کا مجموعہ ہے، یہ مجموعہ ریاست کے اجتماعی دفاع کے لیے کوشاں ہے،کل ایک انتہائی افسوسناک واقعے کے نتیجے میں ہارون ولیم نے وطن پر جان قربان کی، میں ان قربانی دینے والے سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں، شہدا نے پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، افواج پاکستان نے ملکی حفاظت کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، وطن پر قربان ہونے والوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، مسیحی برادری کی پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں ہیں، مسیحی برادری نے آرمی، ایئر فورس اور بحریہ میں اپنی خدمات پیش کیں، میں خود ایک مشنری اسکول سے پڑھا ہوں، پوری قوم افواج پاکستان اور سپہ سالار سب ان کو سلام پیش کرنے کے لیے یہاں ہیں،ہم سب کو آئین و قانون کے مطابق مساوی حقوق حاصل ہیں، میں سپہ سالار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں افواج پاکستان کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں.

    pm

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سپاہی ہارون ولیم، سپاہی انوش اور ان کے ساتھیوں کی خدمات کو سراہا
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سپاہی ہارون ولیم، سپاہی انوش اور ان کے ساتھیوں کی خدمات کو سراہا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ان سپاہیوں کا اتحاد اور بہادری قوم کی مضبوطی کی مثال بنتی ہے، قوم مادروطن کے دفاع لیے ان سپاہیوں کی خدمات اور قربانیوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی.

    کرم میں آئی ای ڈی دھماکے میں پاک فوج کے 5جوان شہید

     پاک فوج کے کیپٹن سمیت 7 جوان شہید 

    سیکورٹی فورسز کے تین آپریشن،23 دہشتگرد جہنم واصل،5 جوان شہید

    ژوب،ایک ماہ میں 29 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    coas

    دہشتگردوں کو جہنم رسید کرنے تک سکھ کی سانس نہیں لیں گے.بلاول
    دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نےخیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے،بلاول بھٹو زرداری نے گاڑی پر بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ فوجی جوانوں کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا،اور کہا کہ حوالدار عقیل احمد شہید، لانس نائیک محمد طفیر شہید، سپاہی انوش رفون شہید، سپاہی محمد اعظم خان شہید اور سپاہی ہارون ولیم شہید کی قوم ہمیشہ مقروض رہے گی،مجھ سمیت پوری قوم شہید جوانوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہے،دہشت گردی کے پیچھے چُھپے ہر خونی چہرے سے پاکستانی قوم اچھی طرح واقف ہے،دہشتگردوں کو جہنم رسید کرنے تک سکھ کی سانس نہیں لیں گے

  • پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام کی مخالفت کے بعدروک دیا گیا

    پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام کی مخالفت کے بعدروک دیا گیا

    ہیومن ملک بینک، علماء کرام کی مخالفت کے بعد سندھ حکومت نے منصوبے پر کام روک دیا

    اس ضمن میں سندھ حکومت کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے،اعلامیہ کے مطابق سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیوناٹالوجی اس مسئلے پر دارالعلوم کراچی اور اسلامی نظریاتی کونسل سے مزید رہنمائی حاصل کرے گا، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیوناٹالوجی نے ہیومن ملک بینک کے قیام سے قبل دارالعلوم کراچی سے فتویٰ حاصل کیا تھا جس کے بعد ہیومن ملک بینک قائم کیا گیا،یہ فتویٰ اس بات کو یقینی بنانے میں اہم تھا کہ ادارے کی کوششیں اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں، یہ فتویٰ 25 دسمبر 2023 کو دارالعلوم کراچی سے جاری ہوا تھا،ماں کے دودھ کے ملک بینک کو بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے 34 ہفتے یا اس سے کم مدت کے ہوتے ہیں جن کا وزن 2کلو سے کم ہوتا ہے ان میں سے اکثر ماؤں کا دودھ اتنا نہیں ہوتا کہ بچوں کی غذائیت کو پورا کر سکے جبکہ ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی اور دودھ دینے سے انہیں پیچیدگیوں ، انفیکشنز اور جلد اموات کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہذا ان بچوں کی جانیں بچانے کے لئے ماں کا دودھ فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے ،اس مسئلے سے نمٹنے کےلیے ہیومن ملک بینک کا قیام عمل میں لانا تھا،ہیومن ملک بینک کی سروس مفت فراہم کی جاتی تاکہ خرید و فروخت کا کوئی تصور نہ ہو جبکہ مسلم بچوں کو صرف مسلم ماؤں کا دودھ دیا جاتا.
    milk bank
    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بینک سندھ حکومت نے بنایا تھا، محکمہ صحت سندھ نے سرکاری ہسپتال میں ہیومن ملک بینک کا افتتاح کیا تھا،ہیومن ملک بینک دنیا بھر کے ہسپتالوں میں قائم ہیں جہاں پر نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹس میں قبل از وقت یا بیمار بچوں کو دودھ فراہم کیا جاتا ہے، پاکستان میں ہویمن ملک بینک نہیں تھا تاہم سندھ حکومت آگے بڑھی اور ہیومن ملک بینک کھول دیا جس کے بعد پاکستانی علما کرام نے ہیومن ملک بینک کی مخالفت کی اسکے بعد سندھ حکومت کو اب اس منصوبے کو معطل کرنا پڑ گیا.

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ