Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیکیورٹی فورسز کی ایک ہی روز میں  بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی ایک ہی روز میں بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک

    قابلِ اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے ایک ہی دن میں ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی متعدد کامیاب کارروائیاں انجام دیں، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 27 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان، کرم، بنوں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات موصول ہوئیں، جس کے بعد مربوط اور ہدفی آپریشنز کیے گئے۔میر علی، شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔دوغار، کرم ایجنسی میں مقابلے کے بعد 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔اسپن وام، شمالی وزیرستان میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے۔دٹہ خیل، شمالی وزیرستان میں فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔زمرن رینجز، ضلع کیچ، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کی، جس میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق تمام کارروائیاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئیں، جن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے۔سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے، جبکہ عوام کے تعاون کو بھی اس جنگ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

  • وفاقی حکومت کا مجوزہ رمضان پیکج،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے

    وفاقی حکومت کا مجوزہ رمضان پیکج،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے ۔ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔ تمام متعلقہ ادارے آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کریں ۔ یوٹیلٹی سٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے۔ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ غریب عوام میں رمضان پیکج کے امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا. تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔ رمضان پیکج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں۔مؤثر نگرانی کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے.

    دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکج کو موثر اور شفاف قرار دیا ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی. رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی بدنظمی کی نشاندہی نہیں کی گئی. اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی یا سنگین انتظامی بدنظمی و بدعنوانی نہیں پائی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، براۓ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرہ اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی

  • فیلڈ مارشل دہشتگردی کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، وزیراعظم

    فیلڈ مارشل دہشتگردی کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ آج بھی جاری ہے، خوارج کو ہمسایہ ممالک سے مدد مل رہی ہے، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیراعطم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل دہشتگردی کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، معرکہ حق میں بھارت کو ایسا سبق سکھایا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ کے پی کی طرح بلوچستان میں بھی دہشتگردی نے مشکلات پیدا کیں، دہشتگردی کیخلاف افواج پاکستان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،فیلڈمارشل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، افواج پاکستان کی قربانیوں کو اگر ہر روز بھی یاد کیا جائے تو وہ کم نہ ہوں گی،پاک فوج، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی،

  • مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    ایم کیو ایم کے رہنما، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ الطاف حسین ہے، پاکستانی عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں، افتخار حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کیا گیا، افتخار حسین الطاف حسین کا ہی فون سنتا ہے

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کرمنل مائنڈ آدمی ہےجیسے مافیاز کام کرتے ہیں ویسے ہی الطاف حسین کام کرتا ہے جو الطاف کے سامنے سوال کرتا تھا وہ دنیا سے چلا گیا، عمران فاروق الطاف حسین سے لڑائی کرتے تھے، بات کرتے تھے، ایم کیو ایم کے اس وقت کے سب لوگوں‌کو پتہ ہے جب انکا قتل ہو وہ ناراض تھے سیکرٹریٹ نہیں آتے تھے، پہلے بھی کئی بار وہ ناراض ہو چکے تھے، الطاف حسین سے کوئی سوال کر لے تو وہ نظروں میں آ جاتا ہے وہ تو نظروں میں تھے،جب پارٹی میں کچھ نہیں تھا تب پانچ، چھ ،سات لوگوں میں یہ شامل تھے، غلط بات پر روکنا ٹوکنا ان کا حق تھا لیکن الطاف حسین ہوش میں ہوتے تو وہ مارنے کی ہدایت نہ دیتے وہ تو ہفتوں ،ہفتوں نشے میں رہتے، انکی رات کی کال خراب ہوتی تھی پھر شام کو پھر دن دو بجے کی بھی کال خراب ہونے لگی، ہم نے لندن میں ہفتوں‌گزارے،ٹی وی والوں کو کہتے تھے کہ الطاف کی کال نہ اٹھانا،پہلے ہم سے رابطہ کرنا، جو مارنے والی ٹیمیں تھیں ان کو کال کر دی گئی کہ تمہارے قائد کو تنگ کر رہا ہے تو اس کے بعد قتل ہو گیا،یہ میں نہیں کر رہا، میں الزام نہیں لگا رہا،لندن میں قتل ہوا ہے، لندن میں پاکستانی پولیس، پاکستانی عدالت نہیں ہے، وہاں ریاست ،نظام ہے،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے سارے کیس کو ٹریس آؤٹ کیا، قاتلوں‌کی تصویریں نکالیں، جو آرڈر دینے والے ہیں سب کو نکال لیا، قتل کرنے والے پکڑے گئے، قاتل جنہوں نے آرڈر دیا، مبارکباد دی، جس کو کال ریسیو ہوئی اس کا نام افتخار حسین ہے، الطاف کا کزن ہے اور الطاف کا فون وہی استعمال کرتے ہیں، ان کو مبارکباد دی گئی،افتخار حسین پاکستان آئے قاتلوں سے ملے ،پھر وہ لندن گئے تو انکو ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا،یہ میں نہیں کہہ رہا یہ میڈیا میں‌رپورٹ ہوا ہے،لندن میں پاکستان جیسی گرفتاری نہیں ہوتی،وہاں کسی کو گرفتار کرنے کے لئے شواہد جمع کر کے پہلے عدالت پیش ہونا پڑے گا، وارنٹ جاری ہوتے ہیں پھر گرفتاری ہوتی ہے، پولیس ویسے نہیں پکڑ سکتی،پولیس نے عدالت میں قتل کیس کے ثبوت دکھائے ہوں گے تو وارنٹ ملے ہوں گے،مارنے والے جب پاکستان پکڑے گئے تو برطانیہ نے کہا کہ ہمارے حوالے کریں یہ آ کر بیان دیں گے لیکن پاکستان اور برطانیہ میں قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے برطانیہ کے حوالہ نہیں کیا گیا،اسکے بعد برطانوی حکام پاکستان آئے اور یہاں کیس چلا، الطاف حسین کو قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا،پاکستان کی عدالت کو برطانیہ نے ثبوت دیئے،جس کے بعد یہ فیصلہ آیا، پاکستانی میڈیا نے سب نے اسکو نشر کیا،

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیس میں افتخار حسین کی گرفتاری ہوئی، تین لوگ جو یہاں پکڑے گئے تھے انکو پاکستان برطانیہ کے حوالے کر دیتا اور یہ قیدی بیان دیتے تو الطاف حسین ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو جاتے، یہاں کی عدالت نے الطاف کو مفرور قرار دیا ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال ہی ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم ہی مصطفیٰ کمال ہے، پی ایس پی ختم ہو چکی ہے، میں ایم کیو ایم کی سنٹرل کیبنٹ کا ممبر ہوں،چیئرمین کے بعد کسی کو عہدہ نہیں ملا، 11 لوگوں نے ملکر چیئرمین بنایا،یہ سوال کہاں سے آ رہا کہ ایم کیو ایم کوئی اور ہے مصطفیٰ کمال کوئی اور ہے،ایم کیو ایم مرکزسے پریس کانفرنس کا دعوت نامہ جاری ہوتا ہے اور پریس کانفرنس ہوتی ہے.

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    عدالت نے ایمان مزاری کی ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی

    ایمان مزاری کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطورِ پراسیکیوشن گواہ طلب کرنے کی کوشش خالصتاً ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد عدالت کے فورم کو انصاف کے تقاضوں کے بجائے ادارہ جاتی تنازع اور میڈیا بیانیے میں بدلنا تھا۔ قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ملزم کو پراسیکیوشن کے گواہوں کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اس کے باوجود ایک اعلیٰ آئینی عہدے کو بلاجواز گھسیٹنا عدالتی عمل کی سنگینی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    عدالت کے سامنے ایمان مزاری اور ان کے معاونین اس بنیادی سوال کا کوئی قانونی جواب پیش نہ کر سکے کہ وہ کس شق کے تحت ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن گواہ بنوانا چاہتے ہیں۔ یہ خاموشی خود اس درخواست کے کھوکھلے پن کا ثبوت بن گئی۔ جج نے واضح اور غیر مبہم انداز میں یہ اصول دہرایا کہ عدالتیں افراد یا عہدوں سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ صرف قانونی نکات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ محض کسی ادارے یا عہدے کا نام لے لینا اسے مقدمے کا لازمی فریق نہیں بنا دیتا۔قانون اس حوالے سے بالکل دو ٹوک ہے کہ پراسیکیوشن کے گواہوں کا تعین ریاست کا اختیار ہوتا ہے، نہ کہ ملزم کا۔ ایمان مزاری اس بنیادی نکتے کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس مقدمے یا ان مبینہ ٹوئٹس اور بیانات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے جن کی بنیاد پر کیس قائم کیا گیا۔ محض کسی اعلیٰ آئینی عہدے کا نام شامل کر دینا کسی بھی درخواست کو قانونی وزن فراہم نہیں کرتا، اور یہی نکتہ اس کیس میں سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کا دہشتگردی پر من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت حقائق کو نہیں چھپا سکتا، بھارت خطے میں امن کا مسلسل خلل ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے، بھارت نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی کے ارکان قید ہیں، سینئر کشمیری رہنما شبیر شاہ کئی برسوں سے طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں، خاتون کشمیری رہنما آسیہ اندرابی بھی طویل عرصے سے بھارتی حراست میں ہیں، دیگر کشمیری سیاسی رہنما بھی دہائیوں پر محیط قید و بند کی سزا کاٹ رہے ہیں، یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں سزا سنائی گئی، کشمیری صحافی عرفان مجید بھارتی حکام کی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی پاکستان نے مخالفت کی ہے، ایران پر پابندیوں کی پاکستان نے ماضی میں مخالفت کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیا گیا، ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے، سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں،کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی، پاک سعودی دفاعی تعاون جاری ہے جو دوطرفہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے، سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں

  • خودمختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    خودمختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا ہےکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا، اس موقع پر انہیں آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشن کے زیر اہتمام تربیتی مشقوں کا جائزہ لیا، فیلڈ مارشل نے مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے تیاریوں اور جدت اپنانے پر زور دیا اور جوانوں کو فراہم کردہ کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کو سراہا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ لاہور میں ہائی کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے طبی عملے اور انتظامیہ کی خدمات کی تعریف کی۔

    لاہور گیریژن میں افسران سے خطاب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، پاک فوج ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہیں۔ افواج اعلیٰ معیار، نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں،پاک فوج جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جوانوں کی جسمانی فٹنس اور مورال ہماری ترجیح ہے۔

  • فتنہ الخوارج کا تحصیل باڑہ میں مسجد پر حملہ،اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت

    فتنہ الخوارج کا تحصیل باڑہ میں مسجد پر حملہ،اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت

    فتنہ الخوارج نے خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبرکی تحصیل باڑہ کےعلاقے اکاخیل میں مسجد کو نشانہ بنا دیا

    ضلع خیبر تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل عالم کلے (قبروں کلے) میں خوارج کا مسجد اور عام شہریوں کے گھروں میں رکھا سامان پھٹنے سے مسجد اور گھروں کو آگ لگ گئی۔ خوارج کی وجہ سے پیش آنیوالا واقعہ انسان دشمنی اور اسلام کے مقدس مقامات کی توہین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چند مقامی لوگوں کے مطابق خوارج کی جانب سے یہ دھماکہ خود کیا گیا ہے تاکہ مقامی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے سہولت کاری پر مجبور کیا جا سکے۔جنگی چال کے طور پر مساجد اور عام لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنانا خوارج کے مکروہ چہرے کی عکاسی کرتا ہے ۔ عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں اور واقعہ میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے میں مثبت کردار ادا کریں ۔

  • کاروبارکیلئے  قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    کاروبارکیلئے قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے .زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں.ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں. نوجوانوں کو آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو،نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی. اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین پر پہنچ گیا. مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں. زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں. SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ” کا اجراء بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقائدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بلخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی.

  • حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی تیار کرلی

    حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی تیار کرلی

    اسلام آباد: ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور سیاسی استحکام کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی باقاعدہ حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت شروع کرنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف موجودہ سیاسی صورتحال میں مفاہمت اور مکالمے کو ناگزیر سمجھتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی سطح پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور مذاکرات کے لیے واضح لائحہ عمل بھی تیار کرلیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست پر حکومتی وفد اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل پارلیمانی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ آئینی اور جمہوری اصولوں کے تحت مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے واضح فیصلہ کیا ہے کہ مذاکرات صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب نمائندوں سے ہی کیے جائیں گے، جبکہ کسی بھی غیر منتخب یا غیر پارلیمانی نمائندے سے بات چیت نہیں ہوگی۔ حکومتی موقف ہے کہ پارلیمان ہی مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا درست فورم ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن قیادت سے رابطے تیز کریں گے، جس کے بعد مذاکرات کے باضابطہ آغاز کا امکان ہے۔