Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی رہائی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ

    عمران خان کی رہائی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا ہے

    احتجاج کی قیادت عمرایوب اور بیرسٹر گوہر علی خان نے کی، اراکین اسمبلی کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی گئی، اس موقع پر اراکین اسمبلی کی جانب سے عمران خان کی تصاویر اٹھائی گئی تھیں،تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا،اس موقع پر پولیس نے الیکشن کمیشن جانے والے راستے بند کر دیئے،اور احتجاج کے شرکا کو الیکشن کمیشن کے باہر شاہراہ دستور پر روک دیا گیا.

    اس موقع پر احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے سارے پارلیمنیرینز نکل رہے ہیں سڑکوں پر،پارلیمنٹیرینز بانی تحریک انصاف کی رہائی کیلئے احتجاج کررہے ہیں،انصاف دیر سے ملنا بھی ناانصافی ہے،آج اس ناانصافی کے کے خلاف ہم نکلے ہیں، اس ایوان میں ہماری آواز نہیں سنی جارہی،ایوان میں جو بولا ہماری آواز بند کر دی گئی،ہم خواتین کی رہائی چاہتے ہیں،یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے،

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان فوری مستعفی ہوں، انہوں نے عدالتوں کے سامنے جھوٹ بولا تھا، انہوں نے 46 ارب کا بجٹ مانگا اور صرف ساڑھے سولہ ارب خرچ کیے، انتخابات میں پی ٹی آئی کی 180 سیٹیں چوری کی گئیں، ہماری سیٹیں چھین کر فارم 47 پر لوگوں کو لایا گیا، چین کے وزیر نے کل واضح کہا کہ سیکیورٹی مسائل حل کریں۔

    عمران خان 50 روپے کے پیپر پر دستخط کر کے باہر نہیں گئے،زرتاج گل
    اس موقع پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے غلام نہیں، جو لوگ ناجائز ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں چیف جسٹس سے اپیل ہے انہیں سنا جائے۔تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کے مستقبل کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی 50 روپے کے پیپر پر دستخط کر کے باہر نہیں گئے،شاہد آفریدی سو بار مر کر پیدا ہو بھی جائے تو بھی اسکی حیثیت، اوقات نہیں کہ عمران خان کا مقابلہ کر سکےکہاں عمران خان کہاں یہ؟ زمین وآسمان کا فرق ہے۔میں میڈیا کے ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو بے پناہ پریشر کے باوجود ہمارا احتجاج کروڑوں لوگوں تک پہنچاتے ہیں،8 فروری کو جیتنے والے عمران خان کو آپ نے کال کوٹھڑی میں بھیج دیا صرف اس وجہ سے کہ آپ اس کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے،

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چار رہنماؤں کی نظربندی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، ڈی سی پنڈی نے 15روزہ نظر بندی احکامات 3ایم پی او کے تحت جاری کئے ہیں، تحریک انصاف کے رہنماؤں شہریار ریاض،کرنل ریٹائرڈاجمل صابرراجہ،چوہدری امیر افضل،تیمور مسعود اکبر کے نظر بندی احکامات جاری کئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں نظر بند کیا جائے گا،

  • بابراعظم  کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بابراعظم کے حوالہ سے ویڈیو میں میں نے جو بات کی اور لوگ جو سمجھ رہے ہیں اس میں آسمان زمین کا فرق ہے

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری ویڈیو جس کو ہر آدمی کوٹ کر رہا ہے، میں جاہل لوگوں کی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا،انہوں نے میری ویڈیو نہیں دیکھی، میں نے یہ بات کی کہ بابراعظم کو بھائی نے گاڑی گفٹ کی اور اس کی فیملی نے ویڈیو بھی اپلوڈ کی، اب مجھے بابر اعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن نہیں پتہ چل رہا، مجھے وہ بتا دیں تا کہ میں چپ ہو جاؤں، اگر بابراعظم کے بھائی کی اتنی آمدن ہے کہ وہ آٹھ کروڑ یا چار پانچ کروڑ کی گاڑی گفٹ کر سکتا ہے اور وہ ڈیکلیئرڈ ہے تو پھر میرا اور آپکا بات کرنا نہیں بنتا لیکن اگربابر نے ہی اسکو پیسے دیئے،اور بھائی نے گفٹ کا نام دے دیا، بابر کے ٹیکس ریٹرن میں بھی نہیں اور بھائی کے بھی،میری کہی ہوئی بات کیا ہے، لوگوں کی سمجھی ہوئی بات کیا ہے،دونوں میں آسمان زمین کا فرق ہے، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اور کہا تھا کہ انکو مار پڑے گی اور یہ یہ ہو گا،یہ سپر ایٹ میں نہیں جائیں گے

    محسن نقوی کرکٹ کو نہیں سمجھتے اس لیے انہیں عہدہ نہیں رکھنا چاہیے،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کرکٹ کو نہیں سمجھتے اس لیے انہیں یہ عہدہ نہیں رکھنا چاہیے،کرکٹرز نے امریکہ میں ایک ایک تصویر کے کئی ڈالرز لیے ہیں تو کیا وہ ظاہر بھی کریں گے، کل سلمان بٹ نے جی این این پرمیرے متعلق بات کی ،سلمان بٹ میں ہمت ہوتی ،واقعی وہ کسی کا نمک حلال ہوتا یا نمک حلالی کی ہوتی،توبتاتا لوگوں کو،میرے آگے قرآن اٹھا کر اس نے کہاتھا کہ اس نے سپاٹ فکسنگ نہیں کی ہے.اور کل وہ ڈیفنڈ کر رہا ہے اسکو، چور کیا کرے گا، دوسری کی چوری نہیں ڈیفنڈ نہیں کرے گا،محسن نقوی کو کرکٹ کا نہیں پتہ،جو کرکٹ کو سمجھتا ہو،ظہیر عباس،ماجد خان، صادق محمد کی طرز کی لوگ جو کرکٹ اور منیجمنٹ کو سمجھتے ہوں ایسے لوگ چیئرمین پی سی بی ہونے چاہئے، محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں، چار پانچ انکے چینل ہیں اور بھی انکے بزنس ہیں تو ایسے میں سارے کام مشکل ہوتے ہیں.

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • پاکستان کا  روس کے گیم چینجر منصوبے نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کا فیصلہ

    پاکستان کا روس کے گیم چینجر منصوبے نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کا فیصلہ

    پاکستان نے چین کے بعد روس کے گیم چینجر منصوبے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے

    نجی ٹی وی جیو میں شائع ہونے والی سینئر صحافی اعزاز سید کی رپورٹ کے مطابق "سفارتی ذرائع کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان کو نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کی دعوت دی تھی، روسی صدر نےگزشتہ برس اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں پاکستان کو نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور شمولیت کی دعوت دی تھی،سفارتی ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان نے اس منصوبے میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس ضمن میں بات چیت اور متعلقہ طریقہ کار پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے،پاکستان نے کامیابی سے 10 لاکھ ٹن روسی خام تیل درآمد کیا ہے جبکہ پاکستان اور روسی فیڈریشن میں زراعت میں باہم تعاون کے فروغ پر بات جاری ہے، پاکستانی کینو کی پہلی کھیپ کو ایران اور آذربائیجان کے راستے روس پہنچایا گیا۔

    پاکستان سی پیک کے ساتھ ساتھ شاہراہ ریشم کوآئی ٹی سی میں استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے، روسی فیڈریشن سے پاکستان کو لکڑی کی درآمد پر بھی غور کیا جا رہا ہے، پاکستانی طلباء کو روسی جامعات میں تعلیم کے مواقع کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی پائیداری پر بھی بات چیت جاری ہے،سی پیک کی طرح روس کا انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، منصوبے سے پاکستان کے ایران، آذربائیجان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات مستحکم ہوں گے۔

    روس میں تعینات پاکستان کے سفیر خالد جمالی نے روس کے شہر خنٹی مان سیسک میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی آئی ٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر پیوٹن کی دعوت قبول کرتے ہوئے پاکستان نے اصولی طور پر اس منصوبے میں شامل ہونے پر رضامند ی ظاہر کی ہے اور اس کے لیے طریقہ کار پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے پاکستان اور روس کے مابین مضبوط دو طرفہ تعلقات ہیں، جنہیں پاکستان کی اس منصوبے میں شمولیت سے فروغ ملے گا اور دونوں ملک مزید ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    لڑکیاں بھی ہندوستانی اور افسر بھی انڈین ، پھر "ہنی ٹریپنگ” کا الزام آئی ایس آئی پر کیوں ؟؟؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل بھارتی میڈیا بلکہ گودی میڈیا کا پسندیدہ موضوع ہنی ٹریپ ہے ۔ آپ اس گودی میڈیا کی رپورٹنگ دیکھیں گے تو محسوس ہوگا کہ ہر بھارتی افسر کو عورت کے ذریعے کمپرومائز کیا جا سکتا ہے ۔مطلب اس نے پتہ نہیں کون سے ۔سادھو کی دی دوائی کھا لی ہے ۔ کہ وہ راسپوٹین بن گیا ہے ۔ حالانکہ خود جو بالی وڈ نے فلمیں بنا دی ہیں ان کے مطابق تو ان کا اصل مسئلہ ان کی بیگمات کی بے راہ روی ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال جو منظر کشی کی گئی ہے اس کے مطابق بھارتی فوج کے بڑےبڑے میجر جنرل رینک ، برئیگیڈ ر رینک کے افسر ہوں یا پھر ڈی آرڈی او کے سائنسدان بس ایک میسج کی مار ہیں ۔ یہاں تک تو کہانی سمجھ آتی ہے ۔ پر اب ان کا الزام ہے کہ ا س سب کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ۔ بلکہ یہ تو یہاں تک کہانی سنا رہے ہیں کہ آئی ایس آئی اتنی ایڈوانس ہوچکی ہے کہ اس کام کے لیے لڑکیاں بھی بھارتی ہائر کی جا رہی ہیں ۔ پر یہ سب بکواس اور جھوٹ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ بھارتی افسران ناڑے کے ڈھیلے ہیں اور ایک برہنہ تصویر کے لیے ملکی راز بیچنے میں دیر نہیں لگاتے مگر یہ سراسر جھوٹ ہے کہ بھارتی لڑکیوں کو ہائر کیا جاتا ہے ۔اچھا یہاں میں بڑے ادب اور احترام سے کہنا چاہوں گا کہ افسروں سمیت عورتیں بھی بھارت ہی کی بک رہی ہیں ۔ اور میں آپکو بتاوں بھارت کے پاس کون سا ایسا راز ہے جو پاکستانی آئی ایس آئی نے چرانا ہے ۔ آئے روز فائٹر جیٹ بھارت کے زمین بوس ہوتے ہیں میزائل ان کے چلنےسے پہلے ٹھوس ہوجاتے ہیں ۔ پھر جس دفاعی نظام اور برہوموس پر ان کو ناز ہے ۔ اس کو پاکستان نے ابھی نندن کو چائے پلا کر دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم کہاں ہیں اور یہ بھارتی کہاں ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال یہ ایک لمبی لسٹ ہے جو بھارتی افسران اپنے ملکی راز پتہ نہیں کس کس ملک کی عورت کو بیچ چکے ہیں ۔ اور الزام پاکستان پر آتا ہے۔ ان کی ۔را۔ کو پتہ لگانا چاہیے کہیں اس کے پیچھے سی آئی اے ، ایم آئی سکس نہ ہوں ۔کیونکہ اکانامک ٹائمز کی اسٹوری کے مطابق بھارت کا روس سے لیا ہوا ایس ۔ فور ہنڈر کا دفاعی نظام کمپرومائز ہوچکا ہے ۔ یہ معاہدہ جب ہو رہا تھا تو اس سے تو امریکہ سمیت یورپ کو چڑ تھی کہ روس سے کیوں سامان خرید رہے ہو ۔ خریدنا ہی ہے تو ان سے خریدو ۔ پاکستانی آئی ایس آئی کو ایسے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔دراصل چلیں میں آپکو پہلے ہی بتا دیتا ہوں یہ بھارتی کچھ بالی وڈ سے زیادہ ہی متا ثر ہوگئے ہیں ۔ انھوں نے سلمان اور شاہ رخ خان کو کچھ زیادہ ہی آئیڈلائز کر لیا ہے۔ کہ آئی ایس آئی دیپکا اور کترینہ کیف جیسی حسیناؤں کو بھیجے گی ان کو قابو کرنے کے لیے ۔ حالانکہ ان سب افسران کی شکل رجنی کانت جیسی ہے ۔ ایک اور چیز بڑی مزیدار سامنے آئی ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کا تعلق بی جے پی سے ہے یا ماضی میں یہ آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں ۔ تو اس پوائنٹ کو لے کر کانگریس جو مودی سمیت حکومت کے کپڑے اتار رہی ہے ۔ وہ الامان الحفیظ ہے ۔ اسی لیے آسان طریقہ بھارتی حکومت سمیت گودی میڈیا کے لیے ایک ہی ہے کہ بھارت میں کچھ بھی ہو اس کے تانے بانے پاکستان اور آئی ایس آئی سے جوڑ دو ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے سب دیکھنے والوں کے لیے مفت مشورہ ہے کہ کسی انڈین آفیسر کا نمبر مل جائے تو آپ نے بس ایک میسج ہی کرنا ہے اور اگر ویڈیو چیٹ کرلی پھر تو چاہے آپ اسکی پچھلی ہزار سال کی راشی نکلوا لیں ۔ یعنی جو مرضی راز نکلوا لیں ۔اور اگر آپ ہزار ڈالر کہیں ان افسران کو رشوت لگادیں تو پھر دیکھیں ان کی پھرتیاں ۔ براہموس اور ایس فور ہنڈر کے راز کیا پورے پورے میزائل لا کر آپکےقدموں میں رکھ دیں گے ۔ ویسے یہ سیکس اسکینڈل بھارتی فوج میں کوئی نئے نہیں ہیں ۔ ایک پوری تاریخ ہے ۔ بالی وڈ خود اس پر فلمیں بنا چکا ہے ۔ بھارتی نیوی میں تو کوئی افسر اپنے بیوی آگے پیش نہیں کرتا تو ترقی ہی نہیں ملتی اور یہ ایک عام کلچر ہے وہاں پر ۔ پھر وائف سویپنگ کے بغیر تو بھارتی فوج میں آپ آگے نہیں بڑھ سکتے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ اہم واقعات آپکو بتاتا ہوں ۔ سات مئی دوہزار تئیس کو انڈین ریاست مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی سکواڈ ۔اے ٹی ایس۔ نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ۔ڈی آر ڈی او۔ کے ایک سائنسدان کو گرفتار کیا۔ ان پر پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اے ٹی ایس نے کہا ہے کہ یہ ۔ہنی ٹریپ۔کا معاملہ ہے اور پردیپ کورولکر نامی ایک سینیئر سائنسدان، جو پونے میں کام کرتے تھے، ایک نوجوان لڑکی سے واٹس ایپ اور ویڈیو کالز کے ذریعے رابطے میں تھے۔پھر تصویریں ، ویڈیوز پتہ نہیں کیا کیا بھیجتے رہے ۔ اس لڑکی کو لندن میں ملنے کی تیاری بھی کی ۔ پلان بھی بنایا مگر اپنے آپ میں بنے ٹائیگر کا یہ پلان پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا اور پہلے ہی بھارتی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا ۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اس قسم کا معاملہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ دوسال قبل یعنی نومبردوہزار بائیس میں دلی پولیس نے مبینہ طور پر انڈین وزارت خارجہ کے لیے کام کرنے والے ایک ڈرائیور کو اس وقت گرفتار کیا جب سکیورٹی ایجنسیوں نے پولیس کو الرٹ کیا کہ ڈرائیور ۔ہنی ٹریپ۔ ہو کر کسی کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا تھا۔ اس وقت تقریبا آٹھ سو کے قریب ایسے بھارتی افسران ہیں جن پر انکوائری چل رہی ہے اور یہ فوج سمیت میزائل پروگرام اور ایٹمی پروگرام سے وابستہ لوگ ہیں ۔مطلب آسوٹھ ایک بہت بڑا فگر ہے ۔ آپ اندازہ کریں یہ انڈینز ناڑے کے کتنے ڈھیلے تھے ۔ پھر انیس سو اسی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ۔۔را۔۔ کے ایک افسر جو۔۔ایل ٹی ٹی ای۔۔ کے معاملات دیکھتے تھے، ایک امریکی ایئر ہوسٹس کی زلفِ گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ محترمہ ۔سی آئی اے۔ کی ایجنٹ ہیں اور انہیں استعمال کررہی ہیں۔ جب تک انہیں خبر ہوتی، وہ جیل کی کوٹھری تک پہنچ چکے تھے۔۔ اسی طرح دوہزار چار میں ایک امریکی خاتون دو بھارتی افسروں ۔ پال اور داس گیتا۔ سے ملیں، ان سے پینگیں بڑھائیں ، پھر ان افسروں کے لیپ ٹاپ ایسے غائب ہوئے کہ آج تک نہیں ملے۔ جبکہ قانوناً حساس اطلاعات آفس سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بہرحال دونوں حضرات جیل کی ہوا کھارہے ہیں۔ ایسے واقعات کی کمی نہیں،دوہزار نو میں سُکھ جندر سنگھ نامی افسر کو ایئر کرافٹ کے سودے کے لیے ماسکو بھیجا گیا مگرآپ سودے کو بھلا کر ایک روسی خاتون کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پائے گئے۔ راجستھان کے ایک فوجی افسر بنگلہ دیشی خاتون کے ساتھ ۔۔فیس بک۔۔پر دوستی کرتے نظر آئے۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ محترمہ ان سے ملنے کئی بار راجستھان کا بارڈر کراس کرکے ہندوستان آچکی ہیں۔ ایک ایسی ہی حسینہ ڈھاکہ کے تربیتی کالج میں ایک ہندوستانی افسر کو پھنسا چکی تھیں۔ خوش قسمتی سے نوجوان افسر کو اس کے ضمیر کی آواز نے بچالیا۔ اس نے فوراً اپنے باس کو خبر کی اور افسر کو ہندوستان واپس بلالیا گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر آج سے ایک دہائی قبل کی بات ہے جب اسلام آباد میں تعینات انڈین فارن سروس کی پریس انفارمیشن سیکرٹری مادھوری گپتا کا معاملہ اس وقت اہمیت کا مرکز بن گیا جب دوہزار دس میں دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے ان پر ۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی۔ کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ انھیں اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دوہزار اٹھارہ میں ایک ذیلی عدالت نے انھیں تین سال کی سزا سنائی لیکن ساتھ ہی انھیں ضمانت پر رہا بھی کر دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا۔مادھوری گپتا نے وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے افسران اور ان کے خاندان کے افراد کی پاکستانی جاسوسوں کو تعیناتی کی معلومات دی تھیں۔ بہرحال دوہزار اکیس میں چونسٹھ سالہ مادھوری گپتا کی موت کے بعد یہ معاملہ بھی ختم ہوگیا۔ درحقیقت ۔ہنی ٹریپنگ۔ کا عمل رومانوی یا جنسی تعلق بنا کر ہدف سے معلومات نکالنا ہے۔ یہ معلومات یا تو بڑی رقم کے لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہیں یا پھر سیاسی وجوہات کی بناء پر ان میں جاسوسی شامل ہوتی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں انڈیا سمیت کئی ممالک میں ۔۔ہنی ٹریپ۔۔ کے کئی کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جہاں غیر قانونی وصولی یا بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے۔پھر۔۔ بی رمن۔۔ کی کتاب ۔۔دی کاو بوائز آف را: ڈاؤن میموری لین۔۔ بھی اس جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس کے مطابق ماسکو میں تعینات ایک نوجوان انڈین سفارت کار کو ایک روسی رقاصہ سے پیار ہو جاتا ہے۔ جب روس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی نے اس ڈانسر کے ذریعے اس سفارت کار سے کچھ معلومات لینا چاہی تو اس نے صاف انکار کر دیا اور دلی آ کر وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو ساری بات بتا دی۔ سفارت کار کو زیادہ محتاط رہنے کی تنبیہ کے ساتھ معاف کر دیا گیا لیکن اس کے بعد سے انڈین فارن سروس کے تمام افسران کو ۔دوسرے ممالک میں ایسے کسی بھی فتنے سے بچنے کی ہدایت دی گئی، جو آج تک جاری ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہانیاں تو بہت ہیں مگر قصہ مختصر، جنسی بے راہ روی کسی کو نہیں بخشتی۔ اگرآپ اقتدار کے نشے میں چور ہوس کا شکارہیں تو جلدآپ کا زوال یقینی ہے۔ کیونکہ حسن کا مایاجال اتنا دلفریب اور توبہ شکن ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ بھول کر اس کا اسیر ہوجاتا ہے۔ بات جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ صدیوں سے شہد کی یہ مکھیاں بڑے پیار سے شہد کے میٹھے گھونٹ اپنے شکار کے حلق میں انڈیل رہی ہیں اوران کے شکار شہد چکھتے ہی ایسے مدہوش ہوجاتے ہیں کہ انہیں دنیا ومافیہا کی خبر نہیں رہتی۔ یاد رہتا ہے تو صرف ان مکھیوں کا تعاقب اوران کی اطاعت۔ اپ اس دیوانگی کو ۔ ہنی ٹریپ ۔۔ کہنا چاہیں تو کہیں لیں ۔

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا ورلڈ کپ سے آوٹ ہونا کرکٹ کے لیے المیہ ہےیہ میں نہیں دنیا کے بڑے بڑے کرکٹر ز اور اسپورٹس تجزیہ کار کہہ رہے ہیں ۔ پر ایک چیز پر یہ سب بھی متفق ہیں کہ پاکستان کے باہر ہونے پر دکھ ہوا لیکن پاکستان کا کرکٹ سسٹم اس کا ذمے دار ہے ۔ جہاں ہر بجن سنگھ گیری کرسٹن کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ وقت ضائع نہ کریں ہندوستان واپس آجائیں۔ تو سہواگ کا ماننا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے لیے میری ٹیم میں بابر اعظم کی جگہ نہیں۔ مائیکل وان ، ناصر حسین ، وریندر سہواگ ، سری کانت سب پاکستان کرکٹ کو لے کر پریشان بھی ہیں اور مشورہ دیتے ہوئے بھی دیکھائی دیتے ہیں کہ اگر کل صبح آپکو بابر اعظم ، شاہین شاہ آفریدی ، محمد رضوان ، شاداب خان کی انڈیا ، آسٹریلیا ، انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی سلیکشن کرنی ہو تو ان کی جگہ ہی نہیں بنتی ۔ کیونکہ ٹی ٹوئنٹی میں جو اسٹرائیک ریٹ درکار ہے یہ اس پر کھیلتے نہیں ہیں ۔ پھر چاہے بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی میں ویرات کوہلی سے زیادہ رنز کیوں نہ بنا رکھے ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر ایک وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آج تک میچ کتنے جتوائے ۔ کتنی ٹرافیاں وہ گھر لے کر آئے ۔ کیونکہ یہ پاکستان کی اجتماعی کامیابی کو ترجیح دینے کے بجائے ذاتی سنگ میل کو ترجیح دیتے رہے ہین ۔ اصل میں تو پاکستان کرکٹ ٹیم کا لیول اور کیلیبر اب ایسوسی ایٹ ٹیمز والا بھی نہیں رہا۔پرتنخواہیں اور مراعات ہم ان کو انڈیا ، انگلینڈ اور آسٹریلیا والی دے رہے ہیں بلکہ کچھ پلیئر ز کو تو کرکٹ بورڈ نے باقاعدہ داماد بنا یا ہوا ہے ۔اگر جلد کوئی بہتری نہ لائی گئی تو مجھے لگتا ہے کہ کچھ ہی سالوں میں پاکستانی کرکٹ فینز اس بات کی خوشی منایا کریں گے کہ پاکستان ٹیم نے ورلڈ کپ کے کوالیفائینگ راؤنڈ میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آئر لینڈ،زمبابوے،کینیڈا،امریکہ،یوگنڈا،افغانستان پاکستان سے بہتر ہو گئی ہیں ۔پاکستان کو اب کرکٹ ایسی ٹیموں کے خلاف ہی کھیلنی چاہئیے۔حارث رؤف کو دیکھ لیں۔کھیلا بھی نہیں جاتا ہے،ٹیم کو میچز بھی ہروانے ہیں،اور اوپر سے فینز سے بھاگ بھاگ کے لڑ بھی رہا ہے۔کسی نے جو بھی کہا ہو کیا انٹرنیشنل کرکٹر ایسا کرتے ہیں۔ میں نے تو آج تک نہیں دیکھا ۔ اس حوالے سے احمد شہزاد نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے فاسٹ بولر حارث رؤف سے ہمدردی کے لیے سوشل میڈیا پر جو پوسٹیں لگائیں وہ انہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں خراب کارکردگی پر قوم سے معافی مانگنے کے لیے بھی لگانی چاہیے تھیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جو سب سے بڑا سوال ہے وہ یہ کہ اگر بابر اعظم کپتان نہیں رہتے تو کیا ان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں جگہ بنتی ہے ۔ اب اس حوالے سے متضاد قسم کی خبریں گردش میں ہیں ۔ ایک تو کہا جا رہا ہے کہ کپتان بابر برقرار رہیں گے باقی ٹیم سے سات سے آٹھ لوگوں کی چھٹی کر دی جائے گی ۔ اور بابر اعظم ڈومیسٹک کھیلنا شروع کر دیں گے جہاں وہ نئے ٹیلنٹ کو پنپین گے اور ٹیم میں نئے لوگون کو شامل کریں گے ۔ مجھے اس کہانی پر کوئی اتنا زیادہ بھروسہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر ٹیلنٹ ہنٹ بابر نے ہی کرنا ہے تو پھر سلیکٹرز کی کیا ضرور ت ہے ۔ اور بابر اتنا ہی قابل ہوتا تو کم ازکم ابرار احمد کو ضرور موقع دیتا ۔ مگر ٹیم میں ہوتے ہوئے بھی مسٹری اسپنر بابر الیون میں اس لئے نہیں کھیلا کہ وہ بابر اعظم کی پرانی فرنچائز کے شہر کا ہے، کیسی شرمناک حقیقت ہے ، شان مسعود اور سعود شکیل شجرِ ممنوعہ اور چار اوپنرز ٹیم کے ساتھ گئے مڈل آرڈر خالی، سونے سوہگہ یہ کہ چار اوپنرز کے ہوتے ہوئے بھی دو مڈل آرڈر بیٹسمین بابر اور رضوان اوپننگ کر رہے تھے، اوپنرز مڈل آرڈر میں تھے، کوئی تیاری نہیں، کوچ نے ٹورنامنٹ میں ہی ٹیم کو پہلی مرتبہ جوائن کیا، ورلڈ کپ سے پہلے کوئی کنڈیشننگ میچ نہیں، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ یہ کھیلنےضرور گئے تھے لیکن کرکٹ میچ نہیں۔سیاست کھیلنے گئے تھے ۔ شریکوں اور رقیبوں سے اپنے پرانے اسکور برابر کرنے گئے ۔ کیونکہ بابر اعظم کا گروپ اور سوشل میڈیا بہت پاور فل ہے، پہلے اس نے اپنے فرسٹ کزنز عمراکمل، کامران اکمل اور عدنان اکمل کو باہر کرایا اور اب پورے پٹھان گروپ کے خلاف کمپین چل رہی ہےاور سارا ملبہ ان پر ڈالنے اور بابر اینڈ کو۔ کو "کلین چٹ” دینے کا کام ہو رہا ہے، گھوم پھر کر ہونا یہی ہے کہ یہی نا اہل ٹیم پر مسلط رہیں گے، گزشتہ سال انڈیا میں شرمناک شکست کے بعد بھی ٹیم میں دکھاوے کیلئے وقتی تبدیلیاں ہوئی تھیں لیکن اس ورلڈ کپ میں پھر وہی ٹیم، وہی ناکام کپتان، وہی ڈرپوک ٹک ٹک اوپنرز بابر اور رضوان، اور اس سے برا رزلٹ۔ پھر بابر اعظم کا بحیثیتِ کپتان پی ایس ایل میں بھی ریکارڈ دیکھ لیں، کراچی کا بھٹہ بٹھا کر اب زلمی پر طبع آزمائی کر رہا ہے۔تو جناب اگر پچھلی بار کی طرح صرف خانہ پوری کرکے بابر کو ہی کپتان رکھا گیا۔ تو اس ملک میں کرکٹ کا اللہ حافظ سمجھیں ۔ بلکہ ۔ انا لله و انا الیه راجعون ۔ پڑھ لینا ۔

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے   12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ میں دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا، تحریک انصاف کے رہنما عون عباس، شاندانہ گلزار، کنول شوزب کمرۂ عدالت میں موجود تھیں،

    سماعت شروع ہوئی توخاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،جس پر جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں، آپ خاور مانیکا سے رابطہ کر لیں، پاور آف اٹارنی واٹس ایپ پر منگوا لیں۔جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء سے کہا کہ میرے 2 سوالوں کےجواب دے دیں، مجھے سزا معطلی پر مطمئن کر دیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں آج اپیلوں پر دلائل دوں گا، وکیل شکایت کنندہ نوٹ کر لیں۔بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ عدالت کی مکمل معاونت کرنے کو تیار ہیں

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں آج دلائل نہیں دے سکتا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر بھی عدالت عمل کرے، 1985ء کی آئینی ترمیم کے بعد صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، پیر کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجہ دلائل دیں گے،جج افضل مجوکا نے کہا کہ پیر کو سماعت کرنا ممکن نہیں، منگل کو سماعت کریں گے۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ آخری اتھارٹی ہے، شریعت عدالت کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، اسلام میں خاتون کے بیان کو حتمی مانا جاتا ہے، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد مزید نہیں دیکھا جائے گا۔اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے عدت کا تصور شرعی ہے ،جج نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے ، وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ مسلم فیملی لا میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چکی گئیں، چار ماہ رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا موقف سامنے نہیں رکھنے دیاگیا،سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، 496بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے،خاورمانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی،ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاورمانیکا کی طلاق ہوئی، فراڈکون کررہا؟کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا،جج نے کہا کہ 496بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 496بی ختم کردیاگیاتھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496بی میں عائد نہیں ہوا، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے،شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا،

    عدت کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” عدت کیس میں دونوں مرکزی اپیلوں کا فیصلہ کرنے کے لیے میرے پاس 12 جولائی تک کا وقت ہے ”

    خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشری بی بی متقی پرہیز گار ہیں ،وکیل سلمان اکرم راجہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دیناہے،سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا،ومجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی، اپیل پر فیصلہ کرناہے، سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی، اور کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیاکہ جیونیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ کو انٹرویو دیا،خاور مانیکا نے مانا کہ ان کا شاہ خانزادہ کے ساتھ ایک انٹرویو ہے ، اگر عدالت ایک دفعہ سن لے ،جج نے کہا کہ کیا ہو ایس بی فرانزک کے لیے آپ کی جانب سے کوئی درخواست دی گئی ؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یکم فروری یہ کیس شروع ہوا دو فروری ختم ہو جاتا ہے ، جج نے استفسار کیا کہ دو دن میں ختم ہو گیا ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بارہ بارہ ، 14 ، 14 گھنٹے روزانہ ہم اڈیالہ جیل کے سامنے عدالت کے سامنے کھڑے رہے ،انہوں نے کہا بحث ابھی ہو گی کل میں نے فیصلہ سنانا ہے ، خاور مانیکا نے مان لیا کہ ویڈیو میں ہوں اور یہ بھی مانا کہ اس نے کہا بشری بی بی متقی پرہیز گار ہیں ،جو الفاظ ویڈیو میں بشری بی بی کے حوالے سے کہے گا ان کا بھی خاور مانیکا نے مانا ، یہ سب کچھ ہونے کے بعد ہمیں فرانزک کرانے کی کیا ضرورت تھی ؟ خاور مانیکا نے مانا کہ یہ کلپ اس زمانے کا ہے جب وہ میری بیوی تھیں ، خاور مانیکا نے اپنے کلپ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ،

    شاہزیب خانزادہ کے ساتھ خاور مانیکا کا انٹرویو عدالت میں چلایا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاور مانیکا ویڈیو میں کہہ رہا بشری بی بی میری سابقہ اہلیہ ہیں ، خاور مانیکا بشری بی بی کے سابقہ اہلیہ ہونے کا بھی کہہ رہا ہے وہ ایک متقی پرہیز گار خاتون ہیں ، خاور مانیکا کا یہ کہنا کہ وہ سابقہ اہلیہ ہیں اس کا مطلب ہے وہ یکم جنوری 2018 کے بعد یہ بات کر رہے ہیں ، خاور مانیکا اس کا مطلب ہے جھوٹ شخص ثابت ہے ، خاور مانیکا کو جھوٹا کہنے پر وکیل زاہد آصف ایڈوکیٹ نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایسے الفاظ استعمال نا کریں پہلے بھی میرے کلائنٹ کے ساتھ ایک نا خوشگوار واقعہ ہو چکا ، آپ کوئی اور مناسب الفاظ بھی استعمال کر سکتے ہیں ،خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے،

    نوٹ کرلیاکہ پریشر کے تحت، تاخیر سےشکائت دائر کی گئی،عدت کیس اپیل میں عدالت کے ریمارکس
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکائت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاورمانیکا کو گرفتار کیاگیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر ائے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی،جو لوگ چلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیاہوتاہے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت نے نوٹ کرلیاکہ پریشر کے تحت، تاخیر سےشکائت دائر کی گئی”.وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ سال گیارہ ماہ بعد شکایت درج کی گئی ، چلے سے واپس آکر یہ خیال آیا ،

    دورانِ سماعت کیس کے گواہ اور نکاح خواں مفتی سعید کا ویڈیو بیان بھی عدالت میں چلایا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سے نکلنے کے بعد 25 نومبر 2023 کو بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف شکایت فائل کرتے ہیں ۔ خاور مانیکا جب چلا مکمل کرکے واپس آئے تو انھیں یاد آیا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گئی ۔ پہلے ایک کمپلینٹ محمد حنیف نے دائر کی پھر خاور مانیکا نے دائر کی ، پہلے جو شکایت کنندہ تھا اس نے کمپلینٹ واپس لی ، پھر دوسری کمپلینٹ میں بھی کردار وہی تھے جو پہلی کمپلینٹ میں تھے ، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت سے استدعا کی کہ پانچ منٹ وقفہ کر لیں ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے تو کوئی ایشو نہیں ، میں وقفے کے بغیر جاری رکھ سکتا ہوں،خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ راجہ صاحب جوان ہیں ہم بوڑھے ہو گئے ، عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی.

    میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل نہیں مانتا کہ میں مفتی سعید کو عالم کہوں، کوئی سوچ سکتاہےکہ عدالت میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولا جاسکتا ہے،مفتی سعید نےکہا دوسرے نکاح کے دوران معلوم نہیں کون کون گواہان موجود تھے،عون چودھری کی موجودگی میں مفتی سعید نےکہا معلوم نہیں کون گواہ تھا، مفتی سعید بھروسے کے لائق نہیں، خاور مانیکا سے قبل حنیف نامی شہری نے شکایت دائر کی، محمد حنیف کی شکایت میں وہی گواہان تھے جو خاور مانیکا کی شکایت میں تھے، عون چوہدری شکایات کے کرتا دھرتا ہیں، تمام گواہان کو عون چوہدری جمع کرتے،

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے خاور مانیکا کے ملازم اور گواہ محمد لطیف کا بیان عدالت میں پڑھا،جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا کو کب معلوم ہوا کہ بشریٰ بی بی اورعمران خان کا نکاح ہوا؟خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت میں کہا کہ میں خاور مانیکا سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کر دوں گا،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان پر تو کوئی الزام بھی نہیں ہے، جس پر جج نے کہاکہ یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے،جج افضل مجوکا کے اس جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 27 جون سے قبل فیصلہ کرنا ہے، اگر کوئی فریق حاضر نہ ہوا تو فیصلہ پھر بھی کروں گا، عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں دائر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • ہرنائی،سیر کیلئے جانیوالے دس افراد کو شناختی کارڈ دیکھ کر کیا گیا اغوا

    ہرنائی،سیر کیلئے جانیوالے دس افراد کو شناختی کارڈ دیکھ کر کیا گیا اغوا

    بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے،ہرنائی کے علاقے شعبان میں اغوا کاروں نے سیر کیلئے جانے والے 14 افراد کو اغوا کرلیا بعد ازاں چار مغویوں کو چھوڑ دیا گیا تاہم 10 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 35 کلومیٹر دور ضلع ہرنائی کے پہاڑی علاقے میں مسلح افراد نے سیر کے لئے جانیوالے 14 افراد کو اغوا کیا،تاہم اغوا کاروں نے 14 میں سے 4 افراد کو چھوڑ دیا، دس تاحال لاپتہ ہیں،

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق 10 افراد کے اغوا کی اطلاعات ملنے کے بعد لیویز فورس اور انتظامی حکام موقع پر پہنچ گئے اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں،ڈائریکٹر جنرل لیویز نصیب اللہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ نواحی علاقے شعبان سے 10 افراد کے اغوا کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، ابھی تک کسی شخص نے اپنے رشتہ داروں کے اغوا کی رپورٹ درج نہیں کرائی

    دوسری جانب سیر کے لئے جانے والے افراد کے اغوا کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے،اور کہا ہے اس حوالہ سے جلد بیان جاری کیا جائے گا

    کمشنر سبّی ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی کا کہنا ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مغوی افراد گزشتہ روز پکنک کی غرض سے ہرنائی میں زرغون غر کے علاقے شعبان گئے تھے۔ نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کو علی الصبح انھیں اغوا کیا، مسلح افراد نے مختلف مقامات سے لوگوں کے شناختی کارڈزدیکھے اور پھر انہیں ساتھ لے گئے،اغوا کار مسلح تھے اور بڑی تعداد میں تھے انہوں نے مختلف مقامات سے شہریوں کواغوا کیا.

    پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام نے کی مخالفت

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ

  • چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عید سے دو دن قبل میں نے ایک چینل جوائن کیا ٹیلن نیوز، وہاں میں دفتر گیا ہوا تھا باہر نکل رہا تھا تو کچھ خواجہ سرا ملے اور انہوں نےکہا کہ مبشر صاحب ہم استقبال کی تیاری کر رہے ہیں، بتائیں کب آنا ہے، جس پرمیں نے پوچھا کہ کس کا استقبال، تو انہوں نے کہا بابر اعظم کا استقبال،اور پاکستانی ٹیم کا استقبال،ہم نے جس طرح کا استقبال کرنا وہ پھر دنیا دیکھے گی،مجھے ایک بار شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ ،ایک شی میل کو ان سے شکایت تھی میں نے اسکا انٹرویو کیاتھا،جس پر شیخ رشید احمد نے بڑا گلہ کیا ،اور کہا کہ خواجہ سرا بڑے خطرناک ہوتے ہیں یہ گالیاں عورتوں والی نکالتے ہیں لیکن ہاتھ انکے مردوں والے ہوتے ہیں، اب مجھے شیخ رشید کی بات سمجھ آئی کہ وہ خواجہ سرا کس طرح کا بابراعظم کا استقبال کرنا چاہتے ہیں،انکو بھی پتہ چل گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کیسی ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم کے کچھ لوگ پاکستان پہنچ گئے،جو رہ گئے وہ کچھ دن تک آئیں گے، وہ الگ الگ آ رہے تا کہ عوام سے چھپا جا سکے، اب مختلف انکشافات ہو رہے ہیں،چڑیل بھی آج کل بڑی ایکٹو ہے، اس نے بتایاکہ بابر اعظم اور بکیوں کا تعلق ہے ، میں نے پوچھا کیا تعلق ہے؟ تو کہا گیا کہ وہاب ریاض کاباپ کون ہے؟ عمر اکمل کا سسر کون ہے؟ وسیم اکرم کا بھائی کون ہے، کیا ان سب کو جانتے نہیں،انضمام کس کے لئے کام کرتا ہے،سایا کارپوریشن نے کیسے بلیک میل کیا سب کو، چھمک چھلو جو نئی وارداتی ہے اس بارے اظہر محمود ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کہاں سے ملی تھی، مشتاق صاحب کی فگر ہیں، میں نے کہا مشی، وہ تو بڑے اچھے آدمی ہیں، داڑھی رکھی ہوئی میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پہلے نماز پڑھوں گا پھر کافی پیوں گا، چڑیل نے کہا میرا منہ نہ کھلوائیں ان کے کرتوت کچھ اور ہیں،یہ سایا کارپوریشن کا مین ریکروٹر تھا جو اچھا کھیلتا وہ سایا والوں کے ساتھ سائن کروا لیتا، آئی پی ایل ہو ،پی ایس ایل ہو یا کہیں بھی کوئی کرکٹ ہو،سٹہ ہو گا، آئی سی سی میں بھی سٹہ ہوتا ہے، جب لوگ سوچتے ہیں کہ میری تو ایک سال یا کچھ عرصہ کرکٹ رہ گئی تو وہ ایسی ٹیم سے ہار جاتی جو نکمی ترین ہوتی، اب کوئی سوچ سکتا تھا کہ پاکستان افغانستان سے ہار جائے گا؟بکیز نے اسکا ریٹ لگایاہوا ہے ،یعنی افغانستان پر بیٹ کی تو آپ کروڑ پتی، ابھی ہمیں کیا پتہ کون کون بک میں ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ نیدرلینڈ،آئرلینڈ سے پاکستان ہار سکتا ہے، یہ ورلڈ چیمپیئن ٹیم ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ امریکا سے میچ ہار جائیں گے جو اپنا پہلا میچ کھیلے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تھوڑا دن پہلے بابر اعظم کی نئی ای ٹرون گاڑی آ گئی،بابر اعظم نے کہا بھائی نے گفٹ کی، کل سے میں لگا ہوا تھا کہ اسکا بھائی کرتا کیا ہے کہ سات آٹھ کروڑ کی گاڑی گفٹ کر رہا ہے، پتہ چلا کہ ٹھینگا کرتا ہے، چڑیل نے کہا کہ میچ ہاریں گے تو گاڑی تو آئے گی ہی سہی، ڈی ایچ اے میں گھر ، آسٹریلیا میں پلاٹ نہیں آئیں گے تو کس کے آئیں گے، یہ سب کے بارے میں ہے، پاکستانی ٹیم میں کون کون بکی ہے، سب کو پتہ ہے، بورڈ کو بلیک میل کیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کو بابر نے ہٹوایا، شاہین اکیلا تھوڑا ہے اسکے پیچھے شاہد آفریدی ہے، شاہین آفریدی کی انجری کے بعد واپسی ہوئی تو وہ صحیح پرفارم نہیں کر رہا تھا ، انہوں نے فوری کہا کہ محمد عامر کو لے آؤ، یہ وہی شاہین آفریدی ہے جو کہتا تھاکہ مر جاؤں گا محمد عامر کے ساتھ نہیں کھیلوں گا، لیکن اسے لایا گیا، محسن نقوی کو کہا گیا،محمد عامر کو واپس لائے اور پہلا اوور دیا، تا کہ شاہین آفریدی کو گالیاں نہ پڑیں کوئی اسکو برا بھلا نہ کہے، حارث رؤف کو دیکھ لیں،

  • یہاں ایک دوسرے پرگالم گلوچ ہوتی ہے،ہم چاہتے ہیں احترام ہو،چیف جسٹس

    یہاں ایک دوسرے پرگالم گلوچ ہوتی ہے،ہم چاہتے ہیں احترام ہو،چیف جسٹس

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونلز تشکیل دینے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس نعیم افغان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیس میں آئین کےآرٹیکل 219(سی) کی تشریح کا معاملہ ہے-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں کیس کی تھوڑے حقائق بتا دئیں ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 14 فروری کوالیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تشکیل کیلئے تمام ہائی کورٹس کوخطوط لکھے،ٹریبونلزکی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیارہے ، تمام ہائیکورٹس سے خطوط کے ذریعے ججزکے ناموں کی فہرستیں مانگیں گئیں-

    وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ خطوط میں ججزکے ناموں کے پینلزمانگے گئے،لاہورہائیکورٹ کی جانب سے 20 فروری کو 2 ججزکےنام دئیے گئے، دونوں ججزکوالیکشن ٹریبونلزکیلئے نوٹیفائی کردیا گیا، 26 اپریل کومزید 2 ججزکی بطورالیکشن ٹریبونلزتشکیل دیے گئے،دوران سماعت ہائی کورٹ کیلئے قابل احترام کہنے پر چیف جسٹس نے روک دیا –

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ کوقابل احترام کہہ رہے ہیں ، ججزکیلئے کہا جاتا ہے،انگریزی زبان انگلستان کی ہے، وہاں پارلیمان کوقابل احترام کہاجاتاہے؟یہاں پارلیمینٹیرین ایک دوسرے کواحترام نہیں دیتے،یہاں ایک دوسرے پر گالم گلوچ ہوتی ہے، ہم چاہتے ہیں احترام ہو، الیکشن کمیشن کوقابل احترام کیوں نہیں کہتے، کیا الیکشن کمیشن قابل احترام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 4ٹربیونلزکی تشکیل تک کوئی تنازعہ نہیں ہوا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ایک دوسرے سےملاقات نہیں کرسکتے،کیا پاکستان میں ہر چیز کو متنازعہ بنانا لازم ہے ؟ انتخابات کی تاریخ پر بھی صدر مملکت اور الیکشن کمیشن میں تنازعہ تھا، رجسٹرار ہائیکورٹ کی جانب سے خط کیوں لکھے جا رہے ہیں، چیف جسٹس اور الیکشن کمشنر بیٹھ جاتے تو تنازعہ کا کوئی حل نکل آتا، بیٹھ کر بات کرتے تو کسی نتیجے پر پہنچ جاتے، کیا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کا ملنا منع ہے ؟ کیا کوئی انا کا مسئلہ ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے تنازعہ نہیں ہوا، لاہور ہائیکورٹ کے علاوہ کہیں تنازعہ نہیں ہوا، بلوچستان ہائیکورٹ میں تو ٹربیونلز کی کارروائی مکمل ہونے کو ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ آئین بالکل واضح ہے الیکشن ٹربیونلز کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، آرٹیکل 219 سیکشن C نے بالکل واضح کر دیا ہے، ہم نے عدالتی فیصلوں پر نہیں آئین وقانون کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، سپریم کورٹ نے جب جب آئینی تشریح کی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے صدارتی آرڈیننس کے اجراء پر اہم ریمارکس دیے کہ صدارتی آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کی توہین ہے، اگر آرڈیننس ہی لانا ہے تو ہاؤس بند کر دیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین آرڈیننس کے اجراء کی اجازت دیتا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ٹریبونلز تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ججز کا قانون کب بنایا گیا؟ صدارتی آرڈیننس کے زریعے تبدیلی کیسے کی جاسکتی ہے؟ ایک طرف پارلیمان نے قانون بنایا ہے، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کیسے لایا جاسکتا ہے، آرڈیننس لانے کی کیا وجہ تھی؟ ایمرجنسی تھی؟ الیکشن ایکٹ تو پارلیمان کی خواہش تھی، یہ آرڈیننس کس کی خواہش تھی، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرڈیننس کابینہ اور وزیراعظم کی خواہش تھی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہےیا کابینہ کی؟ جس پر وکیل الیکش کمیشن نے کہا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ہائیکورٹ فیصلے کی نفی کی گئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجہ کو ججز کے لیے ہینڈ پک کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کو ہائیکورٹ کے کچھ ججز پر تحفظات ہیں؟ لاہور ہائیکورٹ کے حوالے سے ایسے ریمارکس کو ہم تسلیم نہیں کریں گے، آرڈیننس کو دیکھ کر ہینڈ پک کا لفظ ہم استعمال کر رہے ہیں، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کدھر سے آگیا، کوئی ایمر جنسی ہوتی تو سمجھ میں آتا ہے، یہ بھی تو الیکشن میں مداخلت ہے، کیا اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں اس آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ایڈووکیٹ سلیمان اکرم راجہ سے کہا کہ پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ نے ریٹرننگ افسر کے معاملے پر پورا انتخابی عمل ہی روک دیا تھا، کیا الیکشن کمیشن کو ہی ختم کردیں، آپ اپنا کام کریں دوسرے کو اپنا کام کر دیں، جس کا کام ہے، اسے کرنے دیاجائے، فرض کر لیں دو آئینی اداروں کی بظاہر لڑائی ہے، تو اس معاملے میں آپ کا کیا لینا دینا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجہ کو لقمہ دینے سے روک دیا اور کہا کہ سلمان اکرم راجہ آج تو ہم آپ کے دل کی باتیں کررہے ہیں۔

    وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد 60 ہے جبکہ 40 کام کر رہے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا ٹربیونل کے ججز کی تعیناتی کس کا اختیار ہے؟ ہمارے سامنے معاملہ ہے کہ ججز تعینات کون کر سکتا ہے؟ آئین کیا کہتا ہے؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا اچھے قوانین کی تشریح کی ضرورت نہیں ہوتی، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آئین کے مطابق ٹربیونلز بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے پوچھا کیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے؟ جس پر وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہے لیکن بتانا چاہ رہا ہوں کہ ہائیکورٹ نے کیا کیا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لارجر بینچ بنانےکیلئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کوبھجوا دیا۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس کردیا، سپریم کورٹ نےدیگرصوبوں میں ٹریبونلزکی تشکیل کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے طلب کرلیں.جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ دیکھنا چاہتےہیں ٹریبونلزکی تشکیل کامسئلہ دیگرصوبوں میں کیوں نہیں ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ معاملہ کمیٹی کے سامنے جتنی جلدی ممکن ہورکھا جائے،کمیٹی کے ایک ممبرلاہوردوسرے کراچی میں ہیں ،آئندہ ہفتے ہی معاملہ کمیٹی کے سامنے رکھا جاسکےگا،آپ مقدمے میں فریق ہیں بہترہوگا،آئندہ یونیفارم نہ پہن کرآئیں،وکیل نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ نے تمام نامزد ججزکوٹریبونل کیلئے نوٹیفائی کردیا،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کومعطل کیا جائے ،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے خلاف حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی،سپریم کورٹ نے لارجر بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ 3 رکنی کمیٹی کو بھجوا دیا،اٹارنی جنرل سمیت دیگر 9 فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں شامل دو ججز اس وقت کراچی اور لاہور رجسٹری میں ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہی ہوگا.

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے 12 جون کو 8 ٹربیونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کیے تھے۔

  • اسرائیلی حمایت میں ہونیوالے مظاہرے میں شاہد آفریدی کی شرکت،تصویر وائرل

    اسرائیلی حمایت میں ہونیوالے مظاہرے میں شاہد آفریدی کی شرکت،تصویر وائرل

    پاکستان کے قومی کرکٹر، سابق قومی کپتان شاہد آفریدی اس وقت خبروں کی زد میں‌ہیں، یوٹیوبر و صحافی عمران ریاض نے شاہد آفریدی پر تنقید کی جس کے بعد شاہد آفریدی نے عمران ریاض کو جواب دیا ، اسکے بعد سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کے حق اور مخالفت دونوں طرز کی بحث جاری ہے، کئی صارفین شاہد آفریدی کی حمایت کر رہے ہیں تو کئی مخالفت کر رہے ہیں، اسی اثنا میں شاہد آفریدی کی ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا.

    برطانیہ میں قائم اسرائیلی گروپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں شاہد آفریدی بھی کھڑے ہیں، اسرائیلی گروپ نے دعویٰ کیا کہ شاہد آفریدی نے اسرائیل کی حمایت کی ہے، تصویر کے ساتھ پیغام میں لکھا گیا کہ "مشہور پاکستانی کرکٹر نے مانچسٹر میں اتوار کو ان کے ایک مظاہرے میں جو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں تھا میں رک کر سپورٹ پیش کی”، شاہد آفریدی تصویر میں اس فورم کے شریک چیئر رافی بلوم اور ڈپٹی چیئرمین برنی یاف کے ساتھ ہیں،انہوں نے اسرائیل کی حمایت پر شاہد آفریدی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    شاہد آفریدی کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں مظاہرے میں شمولیت کی تصویر سامنے آنے پر پاکستانی سیخ پا ہو گئے اور شاہد آفریدی کے خلاف بولنے لگ گئے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں‌کرتا،پاکستانی قوم بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے،اور پاکستان اگر اسرائیل سے کسی قسم کے کوئی روابط رکھنا چاہے تو پاکستانی قوم کڑی تنقید کرتی ہے،بلکہ پاکستانی مذہبی جماعتیں تو دھمکیاں بھی دیتی ہیں،

    اسرائیل کی حمایت میں مظاہرے میں شرکت پر شاہد آفریدی کا مؤقف
    سوشل میڈیا پر اسرائیل کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی تصویر وائرل ہوئی تو شاہد آفریدی کو خود میدان میں آنا پڑا، شاہد آفریدی نے خاموشی توڑی اور ردعمل میں کہا کہ تصور کریں کہ آپ مانچسٹر میں ایک گلی میں ٹہل رہے ہوں اور نام نہاد پرستار سیلفی لینے کے لیے آپ سے رابطہ کریں، آپ ایسا ہونے دیں اور چند لمحوں بعد، وہ اسے صیہونی حمایت کی کسی صورت کے طور پر اپ لوڈ کرتے ہیں، یہ حیر انگیز ہے،براہ کرم اپ لوڈ کی گئی ہر چیز پر یقین نہ کریں،فلسطین میں معصوم جانوں کو اذیت میں مبتلا دیکھنا واقعی دل دہلا دینے والا ہے۔ اس طرح، مانچسٹر میں شیئر کی گئی کوئی بھی تصویر کسی بھی ایسی صورت حال کے لیے میری حمایت کی عکاسی نہیں کرتی جہاں انسانی جانیں خطرے میں ہوں۔میری پوری دنیا میں شائقین کے ساتھ تصویریں ہیں اور یہ صورتحال بھی مختلف نہیں تھی۔میں امن کی دعا کرتا ہوں، میں اس جنگ کے خاتمے کی دعا کرتا ہوں، میں آزادی کی دعا کرتا ہوں۔

    شیریں مزاری شاہد آفریدی پر پھٹ پڑیں، کہا یہ مت سمجھیں ہم سب احمق ہیں
    تحریک انصاف کی سابق رہنما،سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیں یقین ہے کہ آپ دکھائے جانے والے پمفلٹ یا پلے کارڈز کو نہیں پڑھ سکتے جیسے تصویر لی جا رہی تھی؟ ان کی شناخت اور ارادہ کبھی پوشیدہ نہیں تھا لہذا براہ کرم یہ مت سمجھیں کہ ہم سب احمق ہیں۔ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کس کے ساتھ تصویریں بنوا رہے ہیں۔ شرمناک۔

    عدیل حبیب نامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کیا شاہد آفریدی ڈی چوک جائیں گے، جہاں جماعت اسلامی نے فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کے لئے دھرنا دیا ہوا ہے

    اسرائیل کی حمایت میں مظاہرے میں شرکت پر شاہد آفریدی کیخلاف آرٹیکل سکس کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    ڈاکٹر صابر ابو مریم جو پاکستان میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف مہم چلاتے ہیں ٹویٹر پر کہتے ہیں کہ شاہد آفریدی نے فلسطینیوں کی قاتل غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی حمایت کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ بھی فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستانی عوام کے سامنے مکروہ اور بھیانک چہرہ آج واضح ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی حمایت کرنا یعنی پاکستان کی توہین اور سنگین غداری۔حکومت پاکستان آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کرے۔

    پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام نے کی مخالفت

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ