Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا ،بشری بی بی عدالت پیش نہ ہوئیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگائی ، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا342 کا بیان کہاں ہے،عمران خان نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کیلئے بلایاگیاتھا،آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرادیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں، عمران خان نے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنادی گئی، وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو ان کو دکھا کر جمع کراؤں گا، میں صرف حاضری کیلئے آیا ہوں، عمران خان کمرہ عدالت سے واپس چلے گئے

    جج نے کہا کہ جائیں فوری اپنا بیان لائیں،عمران خان نے کہا کہ لیکن بیان میں کچھ چیزوں کو ردوبدل کرنا ہے،جج نے کہا کہ آپ بیان لے آئیں کمپیوٹر پر ٹائپ کریں، بعد میں ردوبدل بھی کرلیں گے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی،عمران خان گئے تو واپس نہیں آئے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں کہا وہ نہیں آرہے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے سوال کیا کیوں نہیں آرہے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نےجج کو جواب دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں میرے وکلاء جب تک نہیں آتے میں عدالت نہیں آوں گا،

    جج نے عدالتی اہلکار کو ہدایت کہ وہ کیس ٹائیٹل کی آواز لگائے،عدالتی اہلکار برآمدہ میں گیا اور آواز لگائی سرکاری بنام عمران خان، بشری بی بی،پکار کے باوجود بانی پی ٹی آئی عدالت نہیں آئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توشہ خانہ، سائفر کیس میں سزائیں، تحریری فیصلوں کی کاپی فراہمی کے لئے درخواست
    توشہ خانہ اور سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف سزاؤں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے تحریری فیصلوں کی کاپیوں کی فراہمی کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ نے جمع کروائی ،درخواست سائفر کورٹ اور احتساب عدالت کی نقل برانچ میں جمع کروائی گئی ، درخواست میں کہا گیا کہ حکم سزا، 342 کے بیانات، ارڈر کاپی، شہادتوں کی کاپیاں فراہم کی جائیں،درخواستیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے جمع کروائی گئیں ،

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر

    توشہ خانہ کیس کا تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک صحافی کی جانب سے معلومات کے حصول کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) کے تحت پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ انہیں عہدے پر رہتے ہوئے کتنے تحائف ملے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ جواب دینے کی صورت میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

    عمران خان کی سائیکل کہاں ہے؟ میں نے ساڑھی توشہ خانہ سے نہیں لی،حاجرہ خان

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان

    اور بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی
    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں،بشری بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ غیر شرعی نکاح کیس میں پیش ہونا تھا،بشری بی بی کو فیصلے سے متعلق آگاہ کیا گیا،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں، بعد ازاں بشری بی بی گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں ،راولپنڈی پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات کردی گئی،پولیس کے تازہ دم دستے جیل کے باہر تعینات ہیں، بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی،بشریٰ بی بی کی گاڑی خالی زمان پارک روانہ کردی گئی،نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا،احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد نیب کی جانب سے بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لئیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی،بشری بی بی کے اڈیالہ جیل پہنچتے ہی نیب کی ٹیم نے گرفتاری ڈالی،

    گرفتاری سے قبل بشریٰ بی بی نے ٹیلی فون پر کس سے کی مشاورت
    اسلام آباد ہائی کورٹ سے واپسی پر بشری بی بی نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی،لیگل ٹیم سے مشاورت کے بعد بشری بی بی اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہوئیں،بشری بی بی نے بیرسٹر گوہر علی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا،بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں اپنے خاوند کے ساتھ کھڑی ہر جبر کا مقابلہ کروں گی اور میں خود گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہوں

    بشری بی بی کی توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتاری کا معاملہ ،بشری بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا، بشری بی بی کو الگ سیل میں منتقل کر دیا گیا، بشری بی بی کے سامان کی مکمل تلاشی اور فگر پرنٹس کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی حکومت کے دور میں بیرون ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف کم قیمت پر حاصل کیے اور پھر ان تحائف کو 6 لاکھ 35 ہزار ڈالر میں فروخت کیا،عمران خان کو ملنے والے تحائف میں سعودی عرب سے ملنے والی قیمتی گھڑی بھی شامل ہے جس پر خانہ کعبہ کا ماڈل بنا ہوا ہے اور اس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت اندازے کے مطابق 60 سے 65 کروڑ روپے ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 21 اکتوبر 2022 کو کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 63 (1) کے تحت توشہ خانہ کے تحائف اور اثاثوں کے حوالے سے غلط بیانی کی،اس کے علاوہ الیکشن واچ ڈاگ کی جانب سے سیشن عدالت میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کرمنل پروسیڈنگ شروع کرنے کی استدعا کی گئی،10 مئی 2023 کو ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر عمران خان پر فرد جرم عائد کی تاہم 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو سننے اور 7 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی،4 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سن کو دوبارہ کیس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر 5 اگست کو سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،

    توشہ خانہ کیس میں نیب رپورٹ میں کیا سامنے آیا تھا؟
    عمران خان کو سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف سے متعلق نیب کی رپورٹ سامنے آ ئی ہے،نیب کی رپورٹ 31 دسمبر 2023 کو منظرعام پر آئی تھی جس میں تحائف کی درست قیمت جانچنے کا نظام موجود نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا، نیب رپورٹ کے مطابق 3 ارب 16 کروڑ روپے کے تحفوں کی قیمت پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے لگائی گئی، نصف رقم 90 لاکھ ادا کرکے تحائف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے رکھ لیے،پاکستان میں کوئی ادارہ سعودی شہزادے سے ملے گراف جیولری سیٹ کی قیمت نہ جان سکا، دبئی سے تخمینہ لگوانے پر معلوم ہوا خزانے کو 1 ارب 57 کروڑ، 37 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا،ایف بی آر، کولیکٹوریٹ آف کسٹمز کی کمیٹی نے قیمت لگانے سے معذوری ظاہر کی، جیولری کی قیمت کیلئے انڈسڑیز اینڈ پروڈکشن ڈویژن سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن بتایا گیا جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی ہی غیر فعال ہے جبکہ جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز ایسوسی ایشن بھی قیمت کا اندازہ نہ لگا سکی،پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بھی کہا قیمت نہیں بتا سکتے جبکہ برطانیہ، متحدہ عرب امارات، اٹلی اور سوئٹزر لینڈ ایم ایل اے بھیجے لیکن جواب نہ ملا، دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے ذریعے نجی کمپنی سے تعلق رکھنے والے شخص کی خدمات لی گئیں، نجی کمپنی کے فرد نے بتایا تحائف کی اصل قیمت 3 ارب 16 کروڑ 55 لاکھ روپے بنتی ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ایک ارب 57 کروڑ 37 لاکھ روپے ادا کر کے ہی تحفہ رکھ سکتے تھے، پاکستان میں سرکاری افسران کیخلاف رشوت یا مالی فوائد لےکر کم قیمت بتانے کے ثبوت نہیں ملے، مالی فوائد کے ثبوت نہ ہونے پر سرکاری افسران کو ملزم نہیں بنایا گیا،

    توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور نے کیا کہا تھا؟
    واضح رہے کہ عمر فاروق ظہور نے انکشاف کیا تھا کہ میں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، (وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی) فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔ میں نے یہ قیمتی گھڑی فخر کے ساتھ خریدی تھی کیوں کہ یہ دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس پر ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر ہے، بطور پاکستانی یہ گھڑی میرے لیے کسی کوہ نور کے ہیرے کی طرح قیمتی اور منفرد تھی اور جب مجھے یہ پتہ چلا یہ گھڑی فروخت کیلئے دستیاب ہے تو میں کسی صورت اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ جس طرح بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دبئی کی مارکیٹس میں اس گھڑی کی مارکیٹنگ کی گئی تھی اس کے لیے مجھے خدشہ تھا کہ یہ گھڑی غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتی ہے، میں نے یہ گھڑی اس کے وقار اور انفرادیت کی وجہ سے خریدی، یہ ایک محدود ایڈیشن ہے اور یہ گھڑی دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس میں ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر موجود ہے، میں اپنے پاس اس گھڑی کی موجودگی کے باعث خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھتا ہوں کیوں کہ اس میں ایک روحانی عنصر ہے-انہوں نے کہا کہ میں نے گھڑی کو پوری قوم کی قیمتی ملکیت بنانے کا تصور کیا لیکن ایسا نہیں ہو سکا،جب میں نے دبئی مال میں گراف شاپ پر گھڑی دیکھی اور اس کی صداقت کا جائزہ لیا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک پاکستانی وزیر اعظم یا پھر کوئی حکومت ایسا قیمتی تحفہ کیوں فروخت کرتا چاہتی ہے؟ ایسی گھڑی جس کی قیمت کے ساتھ انتہائی مذہبی اور جذباتی قدر بھی جڑی ہو جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو وہ بالاخر اتنا قیمتی ٹکڑا کیسے چھوڑ سکتے ہیں ایک عام پاکستانی اور سعودی عرب کے لیے بطور اظہار تشکر اگر مجھے موقع ملا تو میں یہ گھڑی اس کے حقیقی مالک کو واپس کرنا چاہوں گا تاکہ یہ تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، میں ساری عمر اس مقدس گھڑی کا مالک ہونے پر فخر محسوس کروں گا لیکن اگر اسے واپس کرنے سے یہ تنازع ختم ہو جاتا ہے اورپاک سعودیہ تعلقات میں مدد ملتی ہے تو مجھے اس میں کوئی حرج نہیں۔

  • نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل کیخلاف بانی تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کئے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت نے سماعت کے مقام کے تعین سے متعلق ایگزیکٹو کے اختیارات کے حوالے سے 1931کے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار درست قرار دیا،عدالت نے فیصلے میں جیل سماعت کے دوران میڈیا اور پبلک کی موجودگی کیلئے بھی ٹرائل کورٹ کو احکامات دئیے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے جج کی تقرری پر درخواست گزار کے اعتراضات مسترد کردئیے

    فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق سیشن عدالت کے مقام کا تعین کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے ، ایگزیکٹو آرڈر موجود نہ ہو تو متعلقہ عدالت کسی دوسرے مقام پر سماعت کیلئے آرڈر جاری کرسکتی ہے،ایگزیکٹو آرڈر کی موجودگی میں متعلقہ عدالت نے دئیے گئے مقام پر سماعت کرنا ہوتی ہے،سائفر کیس میں دو رکنی بنچ کے سامنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت زیر سماعت معاملے میں اپیل تھی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں عدالت کے مقام کے تعین کے حوالے واضح قانون موجود نہیں واضح قانون موجود نہ ہونے کی وجہ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمے میں سی آر پی سی کی دفعہ 352کا اطلاق ہوتا ہے، ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈر اور سی آر پی سی کی سیکشن 352کا اطلاق تب ہوگا جب سیشن عدالت مقام سے متعلق آرڈر پاس کرے،بظاہر جیل ٹرائل درخواست گزار کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر ہے،بدنیتی پر مبنی نہیں،درخواست گزار کے وکیل کا یہ اعتراض درست ہے کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نیب پراسکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ جیل سماعت کے نوٹیفکیشن کے وقت ضمانت اور ریمانڈ کی کارروائی چل رہی تھی،ایگزیکٹو آرڈر یا ٹرائل کورٹ کے کسی حکم کی بنیاد پر کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا،سی آر پی سی کی سیکشن 537 میں واضح ہے کہ کونسی کارروائی کالعدم قرار دی جاسکتی ہے اور کونسی نہیں ،سی آر پی سی میں واضح ہے کہ ایسی غلطی جس سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی ہو تو اس کا ازالہ ضروری ہے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو ئی، گزشتہ روز سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے دس برس قید کی سزا سنائی. توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی  اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    راولپنڈی : سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ اسپیشل کورٹ کے جج نے بڑا مناسب اور بہترین فیصلہ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان جب باہر آتی تھیں تو کہتی تھیں کہ میرے بھائی کو سزائے موت سنائی جائےگی،وہ پوری قوم کا ذہن بنا رہی تھیں میری دعا تھی انہیں سزائےموت نہ ہو،شکر ہےایسی کوئی سزا نہیں آئی جج صاحب نے بڑا اچھا فیصلہ دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کیا رویہ اپناتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سائفر کیس میں سماعت کے دوران ہمارے وکیلوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاکر ان پر بندوقیں تانیں گئیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ آج تک وکیلوں کو کبھی عدالت سے نہیں نکالا گیا، پہلی دفعہ ڈیفینس لائرز کو عدالتوں سے نکالا گیا جہاں انہوں نے جرح کرنی تھی، اور جرح اپنے من پسند وکیل سے کرائی گئی، جو کہ جرح نہیں کہلا سکتی،پہلی دفعہ وکیلوں پر بندوقیں تانی گئیں، جو واقعات سامنے آئے ہیں کہ انہیں ایک چھوٹے کمرے میں لے جا کر ان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان پر بندوقیں تانی گئی ہیں، جو کہ بدترین مثال ہے ملک میں انصاف کے نظام کو کنورٹ کرنے کی، لہٰذا اس کو ہم ٹرائل نہیں مانتے-

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے گواہان کے بیانات کروائے لیکن جرح کے وقت فیصلہ دے دیا، گزشتہ روز ہمارے ساتھ بدتمیزی کی گئی، ہمارے ساتھ جو فراڈ کیا وہ سب کے سامنے ہے، مجھے بھی جیل میں ڈال دیں، میں اسے فراڈ کہوں گی ،عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے، انہیں تنخواہ ملتی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان مان لیں جو وہ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    یوٹیوب پر ڈیجیٹل چینل کو انٹرویو دیتے میں بلاول بھٹو زراداری نے کہا کہ میں نے سیاست کے ذریعے ہی ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی میرے خیال میں دونوں ایک دوسرے سے کافی جڑے ہوئے ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں مشورہ دونگا کہ پرانی سیاست چھوڑ دیں، آئیں جمہوری سیاست کریں۔ مان لیں کہ آپ غلط تھے، جو آپ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا عمران خان اُن لوگوں سے معافی مانگیں جنہیں انہوں نے چور کہا اور زندہ لاشیں کہا مجھے امید ہے کہ عمران خان جو وقت جیل میں گزار رہے ہیں، اس سے ان میں بہتری آئے، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائے جانے پر کہا ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمودقریشی کا جرم بڑا ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سائفر جیسے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کو پبلک کرنا جرم ہے جس سے ریاست کا نقصان ہوا،عدالتی فیصلے پر ہمیں مکمل بھروسہ ہے ریاست پرحملہ کرنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوناچاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو سزا ہی سپریم کورٹ سے ہوئی تھی جس میں وہ اپیل تک نہیں کرسکتے تھے۔

    اس فیصلے پر قانون ماہرین کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی کامیابی ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمود مجرم ثابت ہوگئے،قانونی ماہرین نے مزید کہا کہ عمران نیازی اور شاہ محمود کے وکلا ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود کو سائفر کیس میں 10 سال غیر قانونی سزا دلوا کر جج ابوالحسنات نے قانون کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔

    بانی پی ٹی آئی کو سزا کے بعد وڈیو پیغام میں اسد قیصر نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہم ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے اور یہ فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا انہوں نے ورکرز سے اپیل کی کہ اپنا پورا زور 8 فروری کے الیکشن پر مرکوز کریں اور عمران خان کو جتوا کر اس نظام کو شکست دیں۔عمران خان اور شاہ محمود کی سزا کا فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا

    تحریک انصاف کے رہنما اور بیرسٹر علی ظفر نے کہاہے کہ یہ کیس کی سماعت نہیں تھی، عدالتی نظام سے ایک فراڈ تھا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل کو ہٹا دیاگیاتھا،وکیل کو نکال کر جن کو رکھا گیا اجازت کے بغیر رکھا گیا، اگر فیصلے کی کاپی مل جاتی ہے تو کل ہی اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی جائے گی،اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،وکلا کو ایک روز پہلے کیس فائل دی گئی، انہوں نے چھوٹی سی جرح کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل فائل کی تھی کہ خدشہ ہے سزا آج سنا دی جائے گی اسے روکا جائے جتنے بھی دستاویزات تھے اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ یہ ٹرائل نہیں تھا، انصاف نظام کے ساتھ مذاق تھا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں، کیس ٹھیک چل رہا تھا، اوپن ٹرائل نہیں ہورہا تھا، چار پانچ دنوں میں انصاف اور قانون کے تقاضوں کو رد کیا گیا، یہ مس ٹرائل ہے، آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، سزاتب ہوتی ہے جب جرم ثابت ہو، یہاں تو ٹرائل ہی نہیں ہوا، سزا کم تب ہوتی ہے جب اعتراف ہو کہ جرم کیا ہے سزا کم کی جائے۔

    سائفر کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اعظم خان کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی۔

    مبینہ آڈیو میں بانی پی ٹی آئی کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکا کا، بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی، نئی جو چیز آئی ہے نا کہ وہ جو لیٹر‘، جس پر اعظم خان کہتے ہیں کہ ’سر میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر نا، میرا خیال ہے کہ ایک میٹنگ کر لیتے ہیں اس کے اوپر، دیکھیں اگر آپ کو یاد ہو تو آخر میں سفیر نے لکھا ہوا تھا کہ ڈیمارچ کریں، اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو انٹرنل میٹنگ، کیونکہ رات میں نے بڑا سوچا ہے اس کے اوپر شاید‘۔

    اعظم خان نے مزید کہا کہ آپ نے کہا کہ شاید اُنہوں نے اُٹھایا لیکن نہیں پھر میں نے سوچا کہ How to cover all this? ایک میٹنگ کریں شاہ محمود قریشی اور فارن سیکرٹری کی، شاہ محمود قریشی یہ کریں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سُنائیں گے، تو جو بھی سُنائیں گے تو اُس کو کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں کر دوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنا دی ہے، بس اس کا یہ کام ہوگا، مگر یہ کہ اس کا Analysis ادھر ہی ہو گا، پھر Analysis اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ میں ہو، ’Analysis یہ ہوگا کہ یہIndirect Threat ہے۔ Diplomatic Language میں اسے تھریٹ کہتے ہیں، دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا، وہ اپنی مرضی سے ڈرافٹ کر لیں گے‘۔

    جس پر عمران خان نے کہا کہ ’تو پھر کس کس کو بُلائیں اس میں؟ شاہ محمود، آپ، میں اور سہیل‘، اعظم خان نے کہا کہ ’بس‘، بانی پی ٹی آئی نے کہا ’ ٹھیک ہے کل ہی کرتے ہیں’۔

    اعظم خان نے کہا کہ ’تاکہ وہ چیزیں ریکارڈ میں آجائیں آپ یہ دیکھیں کہ وہ Consulate for State ہیں۔ وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کر لوں گا آرام سے، تو آن ریکارڈ آ جائے گی کہ یہ چیز ہوئی ہے، آپ فارن سیکرٹری سے سنوائیں تاکہ Political نہ رہے اور Bureaucratic Level پر یہ چیز آئے‘۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’نہیں تو اُس نے ہی لکھا ہے Ambassador نے‘، اعظم خان نے کہا کہ ’ہمارے پاس تو کاپی نہیں ہے نا یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا؟‘بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ یہاں سے اٹھی ہے، اس نے اٹھائی ہے، لیکنany how ہے تو فارن سازش‘۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کاکہنا ہے کہ میرے خیال میں عدالت نے نرم فیصلہ دیا ہے-

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ ان کے رویے سے پاکستان کے سفارتی تعلقات متاثر ہوئے،بانی پی ٹی آئی نے اپنے خلاف ایف آئی آر خود اپنی حرکتوں سے کٹوائی، بانی پی ٹی آئی نے لاپروائی اورسلامتی کے معاملات پر ظلم کیا ہے، پی ٹی آئی سے جڑے لوگوں کو اپنے آنکھیں اپنے کھول لینی چاہئے،وہ کون ہو سکتا ہے جو شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچائے، بانی پی ٹی آئی نے اپنی ذات کو ریاست سے بڑا سمجھا،بانی پی ٹی آئی کے منظور نظر لوگ سب ان کو چھوڑ کرجا چکے ہیں،ہر روز پی ٹی آئی کے لوگوں کی بڑی تعداد ن لیگ میں شامل ہو رہی ہے۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہاہے کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے۔

    اس حوالے سے اپنے بیان میں اشتراوصاف نے کہاکہ نیشنل سکیورٹی کے معاملات میں کوتاہی نہیں برتی جا سکتی،ملکی سالمیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،ان کاکہناتھا کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے ۔

    سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا پر بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں۔
    https://x.com/PTIofficial/status/1752224508075774414?s=20
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ بنیادی حق سے محروم کیا جائے تو فیصلہ کیا آنا ہے دنیا کو معلوم ہے،جج صاحب سائفر کیس آئین و قانون سے ہٹ کر چلا رہے ہیں، ہمیں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ پر اعتماد ہے،ہمیں عدالتوں سے انصاف ملے گا، کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں، یہ اشتعال دلائیں گے،مشتعل نہیں ہونا- فوکس الیکشن پر کریں، عدلیہ پر اعتماد ہے، ریلیف ملے گا سزا بھی کالعدم ہو جائیگی،،کوئی قانون ہاتھ میں نہ لیں، ہماری توجہ الیکشن سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن 8 فروری کو سب کا محاسبہ ہوگا۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیانات کی کاپییاں حاصل کرلی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی خود جوابات لکھوا رہے

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔

    کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سماعت کے دوران جج نے کہا کہ آپ کے وکلا حاضر نہیں ہورہے ،آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی، اس پر وکلا صفائی نے کہا کہ ہم جرح کرلیتے ہیں،جج نے وکلا صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جس میں عمران خان نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفرکیس میں سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیابانی پی ٹی آئی عمران خان کی وساطت سے ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں سائفر کیس میں عدالت کا 26جنوری کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،سرکاری وکلا کی تقرری کے بعد کی گئی کارروائی بھی کالعدم قرار دی جائے۔

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے وکلا کے نہ آنے پر اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ ملک عبدالرحمان بانی پی ٹی آئی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے۔

    سرکاری وکلا صفائی مقرر ہونے پر عمران خان نے جج سے مکالمہ کیا تھا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے، جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سےکہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی، مشاورت نہیں کرنے دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا۔

    علاوہ ازیں گزشتہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے جج کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست جمع کروائی تھی، عدم اعتماد کی درخواست دائر ہونے کے بعد فاضل جج نے کمرہ عدالت تبدیل کر دیا تھا بانی پی ٹی آئی کے 342 کے ریکارڈ کی کاپیاں آج ملزمان کو فراہم کی گئی ہیں۔

    بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے،الیکشن کمیشن

    گزشتہ روز اسٹیٹ ڈیفینس کونسل نے مزید 12 گواہان پر جرح مکمل کی تھی اب تک 4 گواہوں پر وکلا صفائی جبکہ 21 پر اسٹیٹ ڈیفینس کونسل جرح مکمل کر چکے ہیں عدالت نے عدم اعتماد کی درخواست کے بعد اسٹیٹ ڈیفینس کونسل کو جرح مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے گزشتہ روز کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی، سائفر کیس میں مجموعی طور پر تمام 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوگی، گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامے تیار کرلیے گئے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔

    اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

    سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

    سائفر آخر ہوتا کیا ہے؟

    بی بی سی کے مطابق سائفر دراصل کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے،سائفر کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے،سائفر کو کوڈڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے،اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنہیں ”سائفر اسسٹنٹ“ کہا جاتا ہے، یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارت خانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    عمران خان کا 342 کا بیان کیا ہے؟

    ماہر قانون وقاص ابریز کا کہنا ہے کہ 342 کا بیان دراصل ملزم کا بیان ہے، جس میں ملزم اگر اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہ سکتا ہے ملزم کا بیان زیر دفعہ 342 ض ف قلمبند کرتے ہوئے عدالت خود ملزم سے سوالات کرتی ہے اور ملزم خود ان سوالات کا جواب دیتا ہےاس حوالے سے پراسیکوٹر یا کونسل مستغیث کا سوالنامہ تیار کر کے دے دینا اور کونسل ملزم کا ان کے جوابات تیار کر کے دے دینا دفعہ 342 ض ف کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جج ابوالحسنات نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آجائیں جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آرہا ہوں جلدی تو آپ کو ہے، ہم نے تو جیل میں ہی رہنا ہےجج نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ 342 کے بیان پر دستخط کریں گے؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ مجھے پہلے بتائیں یہ ہوتا کیا ہے۔

    جج ابو الحسنات نے کہا کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو سوالوں کے جواب دینے کا موقع دے رہا ہوں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں اپنا جواب خود لکھوانا چاہتا ہوں جس پر جج نے کہا کہ اچھی بات ہے آپ اپنا جواب خود لکھوائیں۔

    جب عدالت نے عمران خان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،عمران خان کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے استفسار کیا، ’خان صاحب، آپ سے آسان سا سوال ہے، سائفر کہاں ہے؟، جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’میں نے وہی بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے دفتر میں تھا‘۔

    عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں ہے بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔

  • سائفر کیس، عمران خان، شاہ محمود قریشی کا عدالت میں پھر شورشرابا

    سائفر کیس، عمران خان، شاہ محمود قریشی کا عدالت میں پھر شورشرابا

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے کیس کی سماعت کی۔ سابق سیکریٹری اعظم خان سے جرح کے دوران عدالت کا ماحول ناساز ہوگیا،دوران سماعت عمران خان اور شاہ محمود قریشی غصہ میں آگئے، شور شرابہ شروع کر دیا جس کے بعد عدالت نے کاروائی کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی

    گزشتہ سماعت پر عدالت کے احکامات پر عمران خان اور شاہ محمود کو سرکار کی طرف سے دیئے گئے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جس پر دونوں نے سرکار کی طرف سے دیے گئے وکلا صفائی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل کی فائل دیوار پر دے ماری تھی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • آرمی چیف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، دہشتگردی مشترکہ خطرہ  ،بہترروابط  سے  نمٹنے پراتفاق

    آرمی چیف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، دہشتگردی مشترکہ خطرہ ،بہترروابط سے نمٹنے پراتفاق

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ایران کے وزیر خارجہ کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ، ایران کے تاریخی ، مذہبی اور ثقافتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا، باہمی تعلقات مزید مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو بہتر انداز میں سمجھنے پر بھی گفتگو کی گئی، دہشتگردی مشترکہ خطرہ ،بہترروابط سے نمٹنے پراتفاق کیا گیا، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی جیسے خطرے سے نمٹنے کیلئےمربوط کاوشوں ، بہتر روابط کی ضرورت ہے،خودمختاری اورسرحدوں کا احترام بین الریاستی تعلقات کیلئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی رابطہ کار افسروں کی تعیناتی کے میکانزم کو فعال بنانے پراتفاق کیا گیا، ملاقات کے دوران سرحدی علاقے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے حوالے سے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کی صورت حال، مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور غزہ پر صہیونیوں کے مظالم پر بھی گفتگو کی۔
    coas iran

    وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے،وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ہم منصب کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا، وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے 19 جنوری کو ہو نے والی گفتگو میں پاکستان آنے کی میری دعوت قبول کی،دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کو درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال ہوا،پاکستان اور ایران خطے کے اہم ممالک ہیں اور دونوں کو سیاسی اور دفاعی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ، دونوں ممالک کو دہشتگردی کا سامنا ہے جس کے خاتمے کےلئے دونوں ممالک پرعزم ہیں، پاکستان اور ایران بارڈر پر سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرنے کےلیے باہمی دلچسپی رکھتے ہیں ،

    مشترکہ بارڈر پر موجود دہشت گرد دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں،ایرانی وزیر خارجہ
    ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیر اللہیان کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان دہشت گردوں کو کسی قسم کا موقع نہیں دیں گے،پاکستان کے ساتھ اہم برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان سے جغرافیائی تعلقات بھی اہمیت کےحامل ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی ہمارے لیے مقدم ہے، ایران اور پاکستان کے عوام کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں، دہشت گردوں نے ایران کو بہت نقصان پہنچایا ہے، ایران اور پاکستان میں مقیم افراد کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں، دہشت گردوں نے ایران کو بہت نقصان پہنچایا ہے، مشترکہ بارڈر پر موجود دہشت گرد دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں

    قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی وزارت خارجہ آمد ہوئی ہے،نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیر خارجہ کا وزارت خارجہ میں استقبال کیا،نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ کے مابین وزارت خارجہ میں ون آن ون ملاقات ہوئی،ملاقات میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا،ون آن ون ملاقات کے بعد وزارت خارجہ میں پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے

    قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان پاکستان پہنچ گئے ہیں،ایرانی وزیر ٌخارجہ کے پاکستان پہنچنے پر ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ نے نورخان ایئر بیس پر انکا استقبال کیا،دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ امیرعبداللہیان نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے ملاقات کریں گے جبکہ اپنے دورے کے دوران وہ وزارت خارجہ کے حکام کے علاوہ سکیورٹی حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے،
    irani

    پاکستان روانگی سے قبل ایران کے وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ہم دشمنوں کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ خطے میں دوستی امن اور سکیورٹی کو ہدف بنائیں  اچھی ہمسائیگی کے ذریعے ہی سلامتی کا حصول ممکن ہے

    ایران کے پاکستان پر میزائل حملے اور پاکستان کی جوابی کاروائی کے بعد ایران کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ پاک ایران تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے،

    ایرانی وزیر خارجہ کے دورے سے قبل پاکستان سے تعلق رکھنے والے 9 مزدروں کو ایران کے سرحدی علاقے میں قتل کردیا گیا ،قتل کیے جانے والے افراد مزدوری کے لئے ایران گئے تھے تعلق پنجاب اور سندھ سے ہے۔دفتر خارجہ نے ایران کے سرحدی علاقے سراوان میں 9 پاکستانیوں قتل کے ہولناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے ،ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات اور گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

  • تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    سپریم کورٹ،ایف ائی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،ہراساں کیے جانے والے صحافی کورٹ میں پیش ہوئے،صحافیوں میں عبد القیوم صدیقی ، سہیل رشید، فیاض محمود اور ثاقب بشیر شامل تھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے،سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ صحافی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے،عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے،

    اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور پر تشدد ہوا کیا ان کا پتہ چلا کہ کون لوگ تھے؟کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے کہا کہ جی بالکل میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں، جو ایف آئی آر دی تھی اس میں بھی میں تشدد کرنے والوں نے اپنا تعارف کروایا تھا.اسد طور نے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسد طور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹا الزام لگایا ہے؟ اگر آپ پر دباؤ ہے تو ہم آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسد طور نے کہا کہ میں ایف آئی آر کو اون کر رہا ہوں لیکن اس درخواست میں مجھے غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،کیا اسد طور کا کیس فعال ہے یا سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے؟ اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن میں مجھے ٹریپ کیا گیا تھا، تین سال پرانی درخواست سے خود کو الگ کر رہا ہوں، جو حالیہ اعلامیہ ہے اس سے متفق ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹے الزامات لگائے تھے؟ اسد طور نے کہا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے، اسد طور نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹرم پر بلا لیا ، اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں جب درخواست دائر ہوئی تو سمجھا تھا کہ مطیع اللہ جان بھی ساتھ ہیں،جس انداز میں کمرہ عدالت میں درخواست دی گئی وہ طریقہ کار درست نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس انداز میں درخواست لگی اس سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا،ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے،ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر ہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں، یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے،جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا،

    میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کو جاری ایف آئی اے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اگر تنقید کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں تو وہ واپس لیں، اگر خامیاں تنقید کے ذریعے اجاگر نہیں کریں گے تو میں اپنی اصلاح کیسے کروں گا،پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارا مقدمہ صرف صحافیوں کی حد تک ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تفریق کی بات کر دی،دل کھول کر تنقید کریں،تنقید سے اصلاح ہوتی ہے،فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں،تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے، میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے، سپریم کورٹ بارے تنقید پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تھمب نیل پر جو کچھ لکھاہوتاہے وہ اندر نہیں ہوتا،یہ بہت عجیب ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالم گلوچ الگ بات ہے، ایف آئی اے تنقید کی بناء پر کارروائی نہ کرے،عدلیہ کا مذاق اڑائیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آرٹیکل 19 کا خیال ہے تو کچھ خیال آرٹیکل 14 کا بھی کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فئیر تنقید میں مسئلہ نہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کسی صحافی کے خلاف تنقید پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گالم گلوچ غلط ہے لیکن تنقید پر ممانعت نہیں، اگر کسی صحافی کو صرف تنقید کرنے پر پکڑا جائے تو یہ غلط ہے، مجھے تو گالم گلوچ سے بھی فرق نہیں پڑتا لیکن حدود ہونی چاہئے،صحافی قیوم صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی کیونکہ بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان کو بھی حقوق دلائیں گے جو ہمارے سامنے نہیں ہیں، خود پر تنقید کو ویلکم کرتا ہوں، کچھ باتیں قائد اعظم کی کر لیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہوں نے تو قائد اعظم کا بھی مذاق اڑایا ہے،

    ارشد شریف قتل کیس بھی مقرر کیا جائے، مطیع اللہ جان کی چیف جسٹس سے استدعا
    مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقرر کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں، اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں، صدر سپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا،
    ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے، خواتین کے سکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہاء پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے، ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں،خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اور اپنے ضابطہ اخلاق پر چلتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبر کی تردید کرتی ہے؟ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی
    خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم  کارکنوں نے  پاکستان کیخلاف نیا محاز کھول لیا

    پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم کارکنوں نے پاکستان کیخلاف نیا محاز کھول لیا

    اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے لیے پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم اراکین اور مختلف اداکاروں نے فنڈز فراہم کیے ہیں اس مبینہ منصوبے کے بنیادی مقاصد، سفارتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شامل ہے حتمی مقصد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر عالمی دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس منصوبے میں پروپیگنڈا کی کوششوں کے ذریعے 9 مئی کو جھوٹے فلیگ آپریشن کا الزام لگا کر مسلح افواج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا بھی شامل ہے، ذرائع کے مطابق اس کا مقصد 8 فروری کے انتخابات کو متنازعہ بنانا اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کو بڑھانا ہے۔

    ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے، ایف آئی اے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جس کے شواہد مبینہ طور پر فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) جیسے اداروں کے پاس پہنچ چکے ہیں-

    مزید برآں، ایف آئی اے ذرائع کا الزام ہے کہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف قراردادیں امریکی ایوان نمائندگان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ماضی میں بھی اسی طرح کے مقاصد کے حصول کے لیے پیش کی جا چکی ہیں، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بیانیے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی رپورٹ بین الاقوامی فوجداری عدالت برائے تحقیق اور پالیسی (ICCRP) میں پیش کیے جانے کے عمل میں ہے۔

    منصوبے کے ایک حصے کے طور پر، مبینہ طور پر پاکستانی حکومت اور افواج کے کردار کو منفی انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک متعصب دستاویزی فلم تیار کی گئی ہے، جس کی جلد ریلیز کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں، ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کا مقصد امریکی اور مغربی میڈیا میں اسپانسر شدہ مضامین کی اشاعت کے ذریعے پاک فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کو جھوٹا فلیگ آپریشن ثابت کرنے کے لیے مزید لابیسٹ فرموں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، حتیٰ کہ من گھڑت کہانی میں سینئر حاضر سروس فوجی افسران کے نام بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر اس منصوبے میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پر ایف بی آئی کی رپورٹ شائع کرنے کے ارادے سے پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کو دھمکیاں دینے کا الزام لگانا شامل ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق، ان پیش رفت کے درمیان سوشل میڈیا پر "آپریشن گولڈ سمتھ” کے حوالے سے باتیں گردش کر رہی ہیں۔ خبروں اور تجزیوں کی اشاعت کو "آپریشن گولڈ سمتھ” کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ایف آئی اے نے "آپریشن گولڈ سمتھ پلس” کے مشتبہ سودوں کے ذریعے کئی افراد کے خلاف اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ مہم شروع کی گئی ہے مختلف بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس، جن میں دی انٹرسیپٹ، دی اکانومسٹ، نیویارک ٹائمز، الجزیرہ، بی بی سی اردو، اور دیگر شامل ہیں، مبینہ طور پر اس رپورٹ کردہ اقدام کے حصے کے طور پر پاکستان مخالف مضامین شائع کر چکے ہیں۔

  • انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر

    انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

    آئینی درخواست قاضی محمد سلیم نامی شہری نے سپریم کورٹ میں دائر کی،درخواست میں وفاق پاکستان اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کا حکم دے،عام انتخابات کے فوری بعد پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بحال کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا کوٹہ کا تحفظ کیا جا سکے،عام انتخابات میں ووٹرز کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کے لیے یکساں موقع فراہم کرنا نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں 175 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں، رپورٹس کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 59.3 فیصد ہے، اعدادوشمار کے مطابق 75.3 ملین رجسٹرڈ ووٹرز انپڑھ ہیں، اگر انتخابات کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان بحال ہو جائے تو عدالت پی ٹی آئی کے تمام منتخب آزاد امیدواروں کو "بلے” کے بحال شدہ نشان کے تحت پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت دے، سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی ووٹرز کو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو الاٹ کی گئی مخصوص نشستوں کے ذریعے یکساں طور پر مستفید ہونے کے قابل بنائے گا،یہ عمل انتخابی نشان واپس لینے جیسے مہلک گھاؤ کے بعد پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے مساوی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے میں مدد دے گا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لے رہے ہیں،

  • اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی  بھی طلب

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز اور غلط معلومات کی تشہیر کے خلاف ایف آئی اے حرکت میں آ گئی ہے،115 انکوائریاں باضابطہ طور پر رجسٹر کر دی گئیں،ایف آئی اے نے غلط معلومات پھیلانے والے 65 افراد کو نوٹس بھیج دیے،ایف آئی اے کی تحقیقات اور مذکورہ کارروائی معاملے کی سنجیدگی کو ظاہر کر رہی ہے،ایف آئی اے کے نوٹسز کے حوالے سے سماعت کی تاریخ 30 اور 31 جنوری 2024 مقرر کی گئی ہے،جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ان میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی 47 مشہور شخصیات بھی شامل ہیں

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کی پاداش میں ان 47 اہم افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے،ایف آئی اے کے اقدامات ادارے کی ملکی قوانین کی پاسداری کے عزم کا مظہر ہیں

    ایف آئی اے نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے الزام میں 47 صحافیوں کو طلب کر لیا ،جن صحافیوں کو طلب کیا گیا ہے ان میں مطیع اللہ جان، سیرل المیڈا، صابر شاکر، شاہین صہبائی، عدیل راجہ، ثمر عباس، اسد طور، صدیق جان، اقرار الحسن، ملیحہ ہاشمی، جبران ناصر شامل ہیں، ایف آئی اے نے ان صحافیوں کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں.پروپیگنڈا میں ملوث ملزمان کو 31 جنوری کو ایف آئی اے سائبرکرائم سینٹر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے

    واضح رہے کہ حساس اداروں کے افسران نے عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والوں کے حوالے سے ’پلان آف ایکشن‘ سربراہ جے آئی ٹی کو پیش کیا تھا، سوشل میڈیا پرعدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں جے آئی ٹی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا حساس اداروں کے افسران نے پلان آف ایکشن سربرا ہ جے آئی ٹی کو پیش کیا اس حوالے سے پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مواداپ لوڈ، شیئراورک منٹ کرنے والوں کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت کے ساتھ اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سابق رکن اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں خاتون کی عصمت دری،بنائیں فحش ویڈیو

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    شہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    یونیورسٹی میں فحش ویڈیوز اور مبینہ نشے کی فروخت،عدالت میں درخواست دائر

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نےتحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کمیٹی کے کنوینر ہوں گے،وزارت داخلہ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ہیں ٹیم ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی نشان دہی کرے گی جے آئی ٹی میں آئی بی کا گریڈ 20 کا ایک اور آئی ایس آئی کا ایک افسر بھی شامل ،ٹیم میں اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بھی بطور ممبر شامل ہوں گے جبکہ پی ٹی اے کا نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہے-

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ 13 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک کیس پر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ایک عدلیہ خلاف مہم چلائی گئی۔عدلیہ مخالف مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات داخلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وزرات داخلہ نے 16 جنوری کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔آئین پاکستان آرٹیکل 19 ہمیں آزادی رائے کی حد بھی بتاتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،پانچ سو سے زائد اکاؤنٹس کو چیک گیا ہے،ایف آئی اے سائبر ونگ باریک بینی سے تمام اکاؤنٹس کو دیکھ رہا ہے.

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کر دیا ہے

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سیکریٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا آج بھی عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا،ملک عبدالرحمان عمران خان کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسٹیٹ کونسل ملزمان کی نمائندگی کرتے ہوئے گواہان پر جرح کریں گے

    عدالتی فیصلے پر اڈیالہ جیل میں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور انہوں نے جیل کے کمرہ عدالت میں اسٹیٹ ڈیفنس کونسل یونس شاہ سے فائل چھین کر دیوار پر دے ماری جج نے شاہ محمود قریشی کو بدتمیزی پر وارننگ دی، عمران خان نے بھی خصوصی عدالت کے جج سے آج بھی سماعت کے دوران بدتمیزی کی

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے تلخ کلامی،شاہ محمود قریشی کا غصہ، پراسیکیوٹر کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا مسترد
    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذولقرنین نے کیس کی سماعت کی ،بانی تحریک انصاف کے وکلا کی عدم موجودگی کے باعث سائفر کیس میں گواہوں کے بیانات پر جرح شروع نہ ہوسکی ،عدالت کے احکامات پر سرکار کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری وکلا بھی پیش ہوئے،سرکاری وکیل ایڈووکیٹ عبد الرحمن بانی تحریک انصاف کی طرف سے اور حضرت یونس شاہ محمود قریشی کی طرف سے پیش ہوئے ،

    بانی تحریک انصاف اور شاہ محمود قریشی نےسرکاری وکلا صفائی پر اظہار عدم اعتمادکر دیا،جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین اور بانی تحریک انصاف کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی،شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل صفائی کی دی گئی کیس کی فائل ہوا میں اچھال دی ،عمران خان نے کہا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے ۔ جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی ، مشاورت نہیں کرنے نہیں دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا ، جج نے کہا کہ جتنا آپ کو ریلیف دیا جا سکتا تھا میں نے دیا،سائیکل فراہمی کی بات ہو یا پھر وکلا سے ملاقات میں نے آپ کی درخواست منظور کی، میرے ریکارڈ پر 75 درخواستیں ہیں جو ملاقاتوں سے متعلق ہیں،عمران خان نے کہا کہ آپ نے تو ملاقات کا آرڈر کیا لیکن ملاقات کرائی نہیں گئی،

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ادھر بھی سرکار ادھر بھی سرکار یہ مذاق ہو رہا ہے، ہمیں اتنا حق نہیں کہ اپنے وکلا کے ذریعے کیس لڑ سکیں،عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی کاروائی اردو میں ہونی چاہیے،سرکار کی طرف سے تعینات کردہ وکیل صفائی جو انگریزی بول رہے ہیں وہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی،جو کچھ ہو رہا ہے یہ شفاف ٹرائل کے تقاضوں سے متصادم ہے،پاکستان کی تاریخ میں ایسا ٹرائل نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ نے فیصلہ سنانا ہے تو ایسے ہی سنا دیں، انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے ۔نہ اللہ کا ڈر ہے کسی کو نہ ہی آئین و قانون کا۔

    مان نہ مان میں تیرا مہمان، عمران خان کا سرکاری وکلا پر طنز
    عمران خان نے جج سے استدعا کی کہ ان گھس بیٹھیوں کو تو باہر بھیجیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سرکاری وکیلوں کو یہاں طوطا مینا کی کہانی کے لیے بٹھا دیا گیا ہے۔ ہمارے وکلا کو جیل کے اندر نہیں آنے دیا جا رہا ۔اوپن ٹرائل میں کسی کو جیل آنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جج نے کہا کہ شاہ محمود قریشی صاحب اگر آپ خود جرح کرنا چاہتے ہیں تو آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ تین مرتبہ تاریخ دی مگر آپ کے وکلا نے آنے کی زحمت نہیں کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سرکاری ڈرامہ نہیں چلے گا اس طرح سے ٹرائل کی کیا ویلیو رہ جائے گی ۔جج نے کہا کہ” میرے لیے آسان تھا کہ میں ڈیفنس کا حق ختم کر دیتا ۔ لیکن میں نے پھر بھی سٹیٹ ڈیفنس کا حق دیا۔ اس کسٹڈی کی وجہ سے مجھے یہاں جیل آنا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی تو کسی ماں کے بچے ہیں جن کے کیس جوڈیشل کمپلیکس میں چھوڑ کر آیا ہوں۔میں آرڈر کر کر کے تھک گیا ہوں مگر آپ کے وکیل نہیں آتے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ اگر ٹرائل میں رکاوٹیں آتی ہیں تو عدالت ضمانت کینسل کر سکتی ہے”۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کا بھی مذاق اڑایا گیا۔جیل سے باہر نکلتے ہی ایک اور کیس میں اُٹھا لیا گیا۔ جج نے کہا کہ شاہ صاحب اس کیس کو لٹکانے کا کیا فائدہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جج صاحب جیل میں کوئی خوشی سے نہیں رہتا۔میں اپنا وکیل پیش کرنا چاہتا ہوں سرکاری وکیلوں پر اعتبار نہیں۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بلا لیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پراسیکیوشن کے نامزد کردہ وکیلوں سے ڈیفنس کروایا جا رہا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو چکا۔عثمان گل نے کہا کہ نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ سائفر کیس کا فیصلہ پانچ فروری تک ہو جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نجم سیٹھی کو عدالت بلایا جائے اور پوچھا جائے کہ کہاں سے یہ انفارمیشن ملی۔ جج نے کہا کہ آپ کو نجم سیٹھی کی باتوں پر اعتبار ہے یا عدالت پر اعتبار۔ پراسکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں ملزمان کی سائفر کیس میں ضمانت خارج کی جائے، جج نے کہا کہ ضمانت کا معاملہ خود دیکھوں گا یہ میرا معاملہ ہے۔ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ فیئر ٹرائل وہ نہیں جو وکلا صفائی مانگ رہے ہیں، فیئر ٹرائل وہی ہے جو قانون میں دیا ہوا ہے ۔عدالت نے جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ان کے وکلا سے فون پر بات کروانے کی ہدایت کی ،وکلاء سے مشاورت کیلئے سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی اپنے وکیلوں سے بات کروانے کا حکم
    وقفہ کے دوران میڈیا نمائندوں کو جیل سے باہر بھجوا دیا گیا،معزز عدلیہ نے سائفر کی سماعت 15 منٹ کیلئے روک دی، وکلاء کی جانب سے گواہوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ روک دیا گیا،ایڈووکیٹ عثمان ریاض نے عدالت سے 15 منٹ کا وقت مانگا تھا ،15منٹ کے وقفے کے بعد معزز جج صاحبان دوبارہ کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی کے ڈیفینس کونسل بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی نے اپنے ڈیفینس کونسل کے ساتھ بدتمیزی کی اور فائل چھین کر دیوار پر دے ماری ، شاہ محمود قریشی نے فرمائش کی کہ میری بات بیرسٹر گوہر سے کرائی جائے،عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بیرسٹر گوہر سے بات کرنے کی اجازت دے دی،عمران خان نے بھی اپنے ڈیفینس وکیل سکندرذوالقرنین سے بات کرنے کی اپیل کی،معزز جج نے پولیس کو بانی پی ٹی آئی کی اُن کے ڈیفینس کونسل سے بات کرانے کا حکم دیا

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،