Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جج محمد بشیر نے رخصت کی درخواست واپس لے لی

    جج محمد بشیر نے رخصت کی درخواست واپس لے لی

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اپنی رخصت کی درخواست واپس لے لی

    احتساب عدالت کے جج توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اور وہی ان کیسز کا فیصلہ سنائیں گے، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو یہ اعزاز حاصل ہو گاکہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی قسمت کا بھی فیصلہ کریں گے،

    جج محمد بشیر نے بیماری کی وجہ سے رخصت کی درخواست دی تھی تاہم وزارت قانون نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی ریٹائرمنٹ تک رخصت کی درخواست اب تک منظور نہیں کی جس کے بعد جج محمد بشیر نے درخواست واپس لے لی ہے،جج محمد بشیر نے 24 جنوری سے 14 مارچ تک رخصت کی درخواست دائر کی تھی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر رواں سال 14 مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں،ریٹائر ہونے سے قبل جج محمد بشیر عمران خا ن کے مقدمات کا فیصلہ سنا دیں گے.عمران خان کے کیسز کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے.

    جج محمد بشیر تین بار توسیع لے کر 12 سال اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج رہے ,جج احتساب عدالت محمد بشیر نے چھ وزرائے اعظم اور سابق صدر کے خلاف کرپشن کیسز کی سماعت کی ،نواز شریف، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی سمیت پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے کیسز جج محمد بشیر نے سنے

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنائی تھی، بعد ازاں نواز شریف کی پاکستان آمد کے بعد توشہ خانہ کیس میں نواز شریف نے جج محمد بشیر کی عدالت کے سامنے ہی سرنڈر کیا تھا،عمران خان بھی جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں.اب توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیسز کی سماعت جج محمد بشیر ہی اڈیالہ جیل میں کر رہے ہیں

    ہواؤں کا رخ تبدیل، جاتی عمرہ میں تشویش، تحریک انصاف پر شب خون

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

  • ہواؤں کا رخ تبدیل، جاتی عمرہ میں تشویش، تحریک انصاف پر شب خون

    ہواؤں کا رخ تبدیل، جاتی عمرہ میں تشویش، تحریک انصاف پر شب خون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے کل کے فیصلوں کے بعد پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ مل گئی ہے، بلاول لاہور میں سرپرائز دے سکتے ہیں،اکبر ایس بابر ہو سکتا ہے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں کامیاب ہو جائیں اور پارٹی انکے پاس چلی جائے

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر اینکر ثمینہ رانا کے سوال جس طرح الیکشن قریب آ رہے ہیں روز تبدیلی سیاسی صورتحال میں آ رہی ہے، کا جواب دیتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج کا دن بڑا اہم ہے، سپریم کورٹ میں اہم کیس کی سماعت ہوئی، بیرسٹر علی ظفر وہاں پہنچے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں بینچ تھا، انہوں نے بڑے سیریس سوال کئے،کہا کہ اگر کوئی مفرور ہے تو وہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو سکتا ہے یا نہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل اور دوسرے وہ انکو کنوینس نہیں کر سکے، میجر طاہر صادق کے کاغذات منظور ہو گئے،کچھ لوگوں کے اوپر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیلٹ پیپر پرنٹ ہونے چلے گئے نام نہیں ڈال سکتے، جس پر عدالت نے کہا کہ نام ،نشان ڈالیں، پرویز الہیٰ، عمر اسلم کے کاغذات بھی منظور ہو گئے، اب پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ مل گئی،

    مبشر لقمان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ یہ صحیح ہے کہ اکبر ایس بابر نے اب انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، ہم خود انٹرا پارٹی الیکشن کروائیں گے، تحریک انصاف کے اکاؤنٹ کو سیز کیا جائے، وہ خط لکھیں گے، اب اسوقت کوئی عہدیدار پی ٹی آئی کا نہیں، نئے الیکشن ہوں گے تو بلے کا نشان ملے گا، سوال یہ ہے کہ وہ کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟ جب ن لیگ سے ق لیگ بنی تھی تو لاہور، اسلام آباد میں جو بڑی پراپرٹیز تھیں ، اس پر ق لیگ نے کلیم کیا اور وہ انکو مل گئی، ایسے فیصلے ماضی میں ہوئے کہ کوئی اور آئے ، اپنا حق ثابت کرے تو اس کو مل جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ اکبر ایس بابر کے ہاتھ اب پارٹی چلی جائے

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حفیظ اللہ نیازی نے اچھی بات کی ہے،میں نے تفصیل کے ساتھ وی لاگ میں بتایا تھا کہ کس پارٹی کو کتنی سیٹ متوقع ہیں، آزاد امیدواروں کی تعداد 72 کے قریب ہوں گی، 90 سے 95 ن لیگ کی ہوں گی، حفیظ اللہ نیازی کے مطابق آزاد ساٹھ سے ستر کی ہوں گی،باقی پارٹیوں کی سیٹیں 35 کے قریب ہوں گی جن میں ایم کیو ایم،استحکام پارٹی، جے یو آئی و دیگر، مریم،نواز شریف، علیم خان، عون چودھری اپنا الیکشن جیتیں گے، کل تک کی جو صورتحال ہے لگ رہا ہے کہ بلاول لاہور میں سرپرائز دے سکتے ہیں

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی زیرک سیاستدان ہیں، وہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، انکی باتیں صحیح ہوں گی، آزاد امیدوار جیت کر کسی پارٹی کے ساتھ مل جائیں گے، کوئی بعید نہیں کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ حکومت میں مل جائیں،کل بلاول کا ایک بیان آیا جس میں انہوں نے کہا کہ آصف زرداری صدر کے امیدوار ہوں گے اور وہ تجربہ کار ہیں، صدر تو وہ اسی وقت بن سکتے ہیں جب ن لیگ کی حمایت ہو، آصف زرداری کو صدر بنوانے کا مطلب ہے کہ ن لیگ کی حمایت پیپلز پارٹی کو بھی کرنی پڑے گی.

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، جنرل الیکشن میں بہت لوگوں کو اصلیت پتہ چلے گی، الیکشن لڑنا اور پاپولر ہونا یہ دو الگ چیزیں ہیں،الیکشن کی سائنس بہت مختلف ہے،

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

  • الیکشن کمیشن نےنامکمل حتمی پولنگ سکیم شائع کردی

    الیکشن کمیشن نےنامکمل حتمی پولنگ سکیم شائع کردی

    اسلام آباد(محمداویس) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حتمی پولنگ سکیم پبلک کرنے میں مکمل ناکام ہوگیا دو دن بعد بھی حتمی پولنگ سکیم کی نامکمل لسٹ جاری کردی گئی،ایسی پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں کہ 50گھنٹے مسلسل ووٹ ڈالے جائیں پھر بھی سو فیصد ووٹ کاسٹ نہیں ہوسکتے ہیں،الیکشن کمشین نے 6978ووٹر پر مشتمل پولنگ سٹیشن بنادیئے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ اسٹیشنز بنانے کے لیے12سو ووٹرز کا قانون یکسر نظر انداز کردیا،جب کہ پولنگ بوتھ 300ووٹرز پر بنانےکا قانون ہے اور الیکشن کمیشن نے17سو سے بھی زائد ووٹرز پر ایک پولنگ بوتھ بنادیا ایک گھنٹے میں ایک پولنگ بوتھ پر زیادہ سے زیادہ 40ووٹ مثالی حالات میں ڈالے جاسکتے ہیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کو سوالات بھیجنے اور رابطہ کرنے کے باوجود موقف نہیں دیا.

    الیکشن کمیشن نے شیڈول کے مطابق 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم جاری کرنی تھی 26جنوری کو نامکمل پولنگ سکیم کے حوالے سے لسٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جاری کردی ہے پولنگ سکیم میں پنجاب اور اسلام آباد کے حلقوں کی حتمی پولنگ سکیم موجود نہیں ہے الیکشن کمشین آف پاکستان نے عام انتخابات 2024کے لیے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لیے نامکمل حتمی پولنگ سکیم جاری کی ہے،ملک بھر میں 92,000 سے زائد پولنگ سٹیشنز بنائے گئے ہیں، پولنگ سکیم میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ بنانے کے لیے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے قانون کہتا ہے کہ ایک پولنگ اسٹیشن 12سو ووٹرز پر مشتمل ہوگا اور ایک پولنگ بوتھ 300ووٹرز پر مشتمل ہوگا مگر الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشن 6ہزار سے زائد ووٹرز پر بنادیئے ہیں جبکہ وہاں بھی پولنگ بوتھ 4ہی رکھے گئے ہیں اسطرح فی بوتھ ووٹر کی تعداد 15سو سے بھی زیادہ بنتی ہے اور ایک بوتھ پر 15سو ووٹ ڈالنے کے لیے 50گھنٹے درکار ہوں گے کیوں کہ قانون میں 300ووٹ ڈالنے کے لیے 10گھنٹے رکھے گئے ہیں اس طرح ٹیکنکلی جس جس پولنگ سٹیشن پر 400ووٹرز سے زیادہ پر ایک پولنگ بوتھ رکھا گیا ہے وہاں کے ووٹرز کو ووٹ ڈال نے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا قانون سے انحراف کی وجہ سے پولنگ ڈے پر ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہے گا کیونکہ ٹیکنیکل طریقہ سے بڑی تعداد میں ووٹرز کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا گیا ہے ۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ 21مردان میں پورے پاکستان میں سب سے بڑے پولنگ سٹیشن میں سے ایک ہے جس کا پولنگ اسٹیشن نمبر 78 گورنمنٹ پرائمری سکول زائی خیل کٹلنگ مشترکہ ہے جس میں 6979ووٹرز ہیں اور 4پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔اگر 8فروری کو مثالی پولنگ بھی یہاں ہوں تو سو فیصد ووٹ ڈالنے میں 50گھنٹے سے زائد لگیں گے جو کے کسی صورت ممکن نہیں ہے اس طرح صوبہ کے پی کے پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں پولنگ سٹیشن کے اندر پولنگ بوتھ کی تعداد بھی کم رکھی گئی ہے 500سو سے لے کر 700ووٹوں پر عام پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں ان پولنگ سٹیشنوں پر سو فیصد ووٹ ڈالنے کے لیے 22گھنٹے درکار ہوں گے اس کے ساتھ عوام کو لمبی لائنوں میں گھنٹوں کھڑا ہونا پڑے گا ۔جب اس حوالے سے ترجمان الیکشن کمشین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی موقف نہیں دیا ۔(محمداویس)

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

    الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر بارے بریفنگ،صحافیوں کا بائیکاٹ،احتجاج

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

  • میں جو اعلان کرتا، ن لیگ مذاق اڑا کر اگلے دن وہی اعلان کر دیتی،بلاول

    میں جو اعلان کرتا، ن لیگ مذاق اڑا کر اگلے دن وہی اعلان کر دیتی،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ آپ کی طاقت اور ووٹوں سے جیتیں گے اور آپ کی حکومت بنائیں گے ،

    ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل نکلالنا ہے تو 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل کرنا ہوگا، اشرافیہ سے وسائل لے کر غریبوں پر خرچ کریں گے ،پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو عوام کی طرف دیکھ رہی ہے ، پیپلزپارٹی طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتی ہے ، ہمارا ساتھ دیں نفرت اور تقسیم کی سیاست ختم کردیں گے ،پرانے سیاستدانوں نے سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا ،حیران ہوں ن لیگ نے آج تک اپنا منشور نہیں بتایا ، جومیں کہتا ہوں ن لیگ اسے نقل کرکے اعلان کردیتی ہے ، 300 یونٹ مفت بجلی کے اعلان پر ن لیگ نے مذاق بنایا ، ن لیگ نے اگلے دن ہی مفت بجلی یونٹ دینے کا اعلان کردیا ،خواتین کے لئے 30 لاکھ گھر بنا کر ان گھروں کے مالکانہ حقوق فراہم کروں گا ،وسیب کے لئے جد وجہد ہم نے شروع کی تھی ، وہ جاری رہے گی اور میں عوام کے مطالبات پورے کروں گا۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میں واحد سیاسی لیڈر ہوں جو اس وقت اپنی پارٹی کی الیکشن مہم سنجید گی سے چلا رہا ہے۔پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر ملک سے غربت ، مہنگائی، بیروزگاری اور دہشتگردی کا خاتمہ کرے گی۔

    قبل ازیں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قاسم پورہ ملتان جلسہ گاہ آمد کے موقع پر عوام کی جانب سے پرجوش استقبال جبکہ مقامی قیادت کی جانب سے انہیں سرائیکی چادر اور پگڑی پہنائی گئی۔

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں

     آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری پہنچ کر خطاب کیا،

    الیکشن والے دن بلاول کو ووٹ دیں ،اور اس کو کامیاب بنائیں

    بلاول بھٹو زرداری کی بلاول ہاؤس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو سے ملاقات

  • سائفر کیس، وکلا صفائی پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی

    سائفر کیس، وکلا صفائی پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی
    سماعت کے دوران ملزمان کے وکلاء عدالت پیش نہ ہوئے،ملزمان کے وکلا کو عدالت پیشی کے لیے دو مرتبہ مہلت دی گئی،ملزمان کے سینیئر وکلا کے معاون قمر عنایت راجہ اور خالد یوسف عدالت پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کے سینیئر وکلاء کدھر ہیں،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اگر وکلا صفائی روز نہیں آئیں گے روز التوا لیں گے تو ہمیں کس بات کی سزا ہے کہ روزانہ صبح صبح آجائیں،بعض گواہان جرا کے لیے دبئی سے آ کر پاکستان بیٹھے ہوئے ہیں روزانہ عدالت پیش ہوتے ہیں،آج بھی التوا کی درخواست دائر کر رہے ہیں پتہ نہیں سینیئر کونسل کب ائیں گے، وکلاء صفائی جرح کرنے سے کتراتے اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں،

    معاون وکیل نے کہا کہ سکندر ذوالقرنین کے دانت کی سرجری ہے،ایسا معاملہ نہیں کہ ہم جان بوجھ کر التوا مانگ رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ تین مرتبہ پہلے بھی التوا لے چکے کوئی ایک وکیل تو آج حاضر ہوتا ،یہ سارے سرکاری ملازمین ہیں کچھ بیرون ملک سے جرح کے لیے آئے بیٹھے ہیں ،میں بطور جج صبح نو بجے کا آیا بیٹھا ہوں اب بہت ہو گیا ملزمان خود بھی جرح کر سکتے ہیں ،ملزمان نے فیملی سے ملاقات اور وکلا سے مشاورت کے لیے وقت مانگا عدالت نے دیا ،وکلا صفائی نے جرح کے لیے التوا مانگا عدالت نے وہ بھی دیا،اب اپ ایک لمبی تاریخ لینا چاہتے ہیں کس بنیاد پر دیں ،صبح میڈیا پبلک اور پراسیکیوشن آ جاتی ہے آپ دیر سے آتے ہیں سب اپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں،

    پراسیکیوٹر ذلفقار عباس نقوی نے کہا کہ عدالت اپنے ارڈر میں پہلے بھی تحریر کرا چکی کہ وکلا صفائی جرح سے گریز کر رہے ہیں ،ملزمان کے بیان پر 16 جنوری سے جرح شروع ہونی تھی،یو اے ای سے سفیر جرح کے لیے آے بیٹھے ہیں وکلاء صفائی لاہور اور اسلام اباد سےنہیں آئے،وکلاء صفائی کا ملزمان سے جرح کا حق ختم کیا جائے

    فاضل جج نے وکیل صفائی کے معاونین کو ہدایت کی کہ آپ ساڑھے 12 بجے تک وکلا کو بلائیں نہیں تو قانون کے مطابق کاروائی کو آگے بڑھائیں گے آپ عدالت کا آخری فیصلہ بھی پڑھ لیں،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ وہ کلاسفائی جان بوجھ کر معاملہ لٹکا رہے ہیں اپ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گواہ روزانہ یہاں موجود ہوتے ہیں،معاون وکیل خالد یوسف نے کہا کہ عدالت میں سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا ٹرائل جاری ہے اور ہمیں ابھی تک جرح کی کاپیاں فراہم نہیں کی گئی،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ساتھی وکیل جس جوش سے بات کر رہے ہیں اسی جوش کے ساتھ گواہان پر جرح بھی کر لیں، عدالت نے وکلا صفائی کو پیش ہونے کے لیے دو مرتبہ کی مہلت ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل منظورکر لی گئی،شوکت بسرا کو قومی اسمبلی کے حلقے 163 سے انتخابات لڑنے کی اجازت مل گئی

    میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، شوکت بسرا کے کاغذات منظور
    کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد شوکت بسرا نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نمبر 804 کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، قیدی نمبر 804 پر اس جیسی 100 ایم این اے شپ قربان، عمران خان دلوں میں بستا ہے، بلا جو نشان ہیں یہ لوگوں کے دلوں میں چلا گیا ہے، میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، میرا مستقبل اس قیدی نمبر 804 کی شکل میں ہے جو کہتا ہے ایاک نعبدو ایاک نستعین، مائیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، صنم جاوید کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے میں اپنی ان بہنوں کو جو جیلوں میں پڑی ہیں سلام پیش کرتا ہوں، یہ فراڈ الیکشن کروا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں استحکام آجائے گا؟ ، آپ ہمیں صرف فیلڈ دے دیں تحریک انصاف کا ووٹر اسے خود لیول کرئے گا،

    سپریم کورٹ، صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،صنم جاوید کو تینوں حلقوں این اے 119, این اے 120 پی پی 150 میں الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صنم جاوید اور شوکت بسرا کے ناموں کو بیلٹ پیپر میں شامل کرنے کا حکم دے دیا.

    وکیل شاہزیب رسول نے کہا کہ صنم جاوید نے 21 دسمبر کو اوتھ کمشنر کی موجودگی میں 22 دسمبر کی تاریخ کا بیان حلفی دیا،
    اوتھ کمشنر نے صنم جاوید کے دستخط کی تصدیق کی ،ریٹرننگ افسر نے کہا کہ 22 دسمبر 2023 کو صنم جاوید سے جیل میں کوئی ملنے نہیں گیا تو کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے ازخود کیسے صنم جاوید کےدستخط کی تصدیق کی؟ وکیل نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے 30 دسمبر کو جیل حکام کو خط لکھا اور 22 دسمبر کو کوئی ملاقاتی نا جانے پر کاغذات مسترد کر دیے،صنم جاوید 10 مئی سے جیل میں ہیں اور ان کے شوہر بھی گرفتار ہیں، جسٹس عرفان نے کہا کہ صنم جاوید نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ انہوں نے22 دسمبر کو دستخط کیے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ہی امیدوار کے پیچھے سپریم کورٹ تک آئی اور پھر کہتے ہیں انفرادی شخص کے خلاف نہیں؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ریٹرننگ افسر ازخود انکوائری کیسے کرا سکتا ہے؟

    پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت
    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ، درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی .عمر اسلم کے نو مئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر کاغزات نامزدگی مسترد کئے گئے تھے، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا دیں کہاں لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج
    دوسری جانب پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار نے دو فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا،درخواست گزار نے دونوں مقدمات کا کاغذات نامزدگی میں بھی ذکر نہیں کیا،ریٹرننگ آفیسر نے بیٹے کی لندن میں موجود جائیدادوں کا پوچھا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر نے میری نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد کر دیئے،درخواست گزار کیخلاف وارث خان تھانے میں دو ایف آئی آرز درج تھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں کیس چلانا ہے تو فیکٹ بتائیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس شخص کیخلاف دو فوجداری ایف آئی آرز ہوئیں وہ پورے شہر میں گھوم رہا ہے،ضمانت کیلئے ٹرائل کورٹ جانے میں آپکو مسئلہ کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ہمارے پاس ایک کیس تھا انہوں نے ضمانت لی ہوئی تھی، آپ درخواست دیتے ہیں تو ہم فورا سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں مگر تیاری تو کر کے آئیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تزکرہ ہی نہیں کیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے اپنے بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سچ بولنے کیلئے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،

    این اے 49 اٹک، طاہر صادق کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما طاہر صادق کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،طاہر صادق نے این اے 49 اٹک سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں ، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ نے طاہر صادق کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہعوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں احتساب عوام نے کرنا ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔

    سپریم کورٹ،صنم جاوید اور شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کی مصروفیت کے باعث کیس 2 بجے تک ملتوی کر دیا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ،اڈیالہ جیل میں قید پرویز الہیٰ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے کاغذات مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پرویز الہی پر ایک پلاٹ ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے،پلاٹ کا اعتراض تب ہی بنتا تھا جب جج کا فیصلہ موجود ہو پلاٹ فلاں شخص کا ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ریٹرننگ افسر کا مکمل آرڈر بھی نہیں ملا،کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض عائد کیا گیا کہ ہر انتخابی حلقے میں انتخابی خرچ کیلئے الگ الگ اکاؤنٹ نہیں کھولے گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز الہیٰ پانچ حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، فیصل صدیقی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پانچ انتخابی حلقوں کیلئے پانچ الگ الگ اکائونٹس کھولے جائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر انتخابی مہم میں حد سے زائد خرچہ ہو تو الیکشن کے انعقاد کے بعد اکاؤنٹس کو دیکھا جاتا ہے، کاغذات نامزدگی وصول کرنے والے دن پولیس نے گھیراؤ کر رکھا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑیں قانون کی بات کریں، وکیل نے کہا کہ ایک اعتراض یہ عائد کیا گیا کہ میں نے پنجاب میں دس مرلہ پلاٹ کی ملکیت چھپائی، اعتراض کیا گیا 20 نومبر 2023کو دس مرلہ پلاٹ خریدا، میرے موکل نے ایسا پلاٹ کبھی خریدا ہی نہیں، اس وقت وہ جیل میں تھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جائیدادیں پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہو امیدوار کے جیتنے سے قبل کتنے اثاثے تھے اور بعد میں کتنے ہوئے، آپ پلاٹ کی ملکیت سے انکار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر ایک ہی وقت میں پرویز الہٰی، مونس الہٰی اور قیصرہ الہٰی کی ان ڈکلیئرڈ جائیداد نکل آئی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ اچانک آپ کی اضافی جائیداد نکل آئی ہے، آپ یہ اضافی جائیداد کسی فلاحی ادارے کو دے دیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نگران حکومت پرویز الٰہی کے کاغذات مسترد کرانے میں ملوث ہے،ریٹرننگ افسر کا کام سہولت پیدا کرنا ہے نہ کہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا،بدقسمتی سے ایک ہی سیاسی جماعت کیساتھ یہ سب ہو رہا ہے،انتخابات کو اتنا مشکل مت بنائیں، آر او کا کام رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں ہوتا، پرویز الہی پر جو اعتراض لگایا گیا اس کا تو بعد میں بھی ازالہ ممکن ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت اگر یہ وضاحت کر دے تو آئندہ ایسے بیوقوفانہ اعتراض نہ لگیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وہ کوئی اور طریقہ نکال لیں گے ،وکیل پرویز الہییٰ نے کہا کہ ہم الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، میرے موکل کو پی پی 32 گجرات کی حد تک الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹوں کو انکے حق دہی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے مخالف امیدوار ارسلان سرور کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ دس مرلہ پلاٹ کے کاغذ تک آپکو کیسے رسائی ملی، وکیل حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ دس مرلہ پلاٹ کا دستاویز پٹواری سے ملی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اِس پٹواری کا نام بتائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں نگران حکومت اس میں ملوث ہے، سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید چوہدری پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،پرویز الہی قومی اسمبلی کی نشستوں سے دستبردار ہوگئے ،سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے اور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے دیا

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • عمران خان کی زیادہ توجہ اپنی شہرت پر تھی نہ کہ گورننس پر، نگران وزیر اعظم

    عمران خان کی زیادہ توجہ اپنی شہرت پر تھی نہ کہ گورننس پر، نگران وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایران کو جواب پورے خطے کے لئے پیغام تھا، کیونکہ ایران کے حملے میں ہمارے شہر ی شہید کر دئے گئے تھے،تاہم بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ میں اس موقع پر بیان دوں لیکن میں نے بہت صبر سے کام لیا، وزیر اعظم نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیادہ توجہ اپنی شہرت پر تھی نہ کہ گورننس پر، عمران خان کی گورننس کے معاملات میں دلچسپی نظر نہیں آرہی تھی۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ الیکشن صاف و شفاف ہوں گے، ماضی میں بھی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں لیکن کروڑوں ووٹرز کو مینیج نہیں کیا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے پاس لیول پلیئنگ فیلڈ موجود ہے جبکہ انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے۔
    ایک سوال پر نگران وزیر اعظم نے کہا کہ ’آئین میں پانچ سال کا وجود حکومت کا نہیں پارلیمان کا ہے۔ تحریک انصاف کے دور میں معاشی و خارجی مسائل بہت زیادہ تھے، ارکان پارلیمنٹ اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد لائےان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کی کافی حد تک تحقیقات ہو چکی ہے۔ 9 مئی میں ملوث کچھ لوگوں کا کیس ملٹری کورٹس، کچھ مقدمات سول کورٹس میں چلیں گے اور نئی حکومت آنے کے بعد سزائیں ہوتی نظر آئیں گی۔

    ۔

  • الیکشن کمیشن مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام

    الیکشن کمیشن مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام

    کیا عام انتخابات 8فروری کو ہوں گے نیا سوال کھڑا ہوگیا، الیکشن کمیشن آف پاکستان مقررہ وقت میں حتمی پولنگ سکیم جنرل الیکشن 2024دینے میں ناکام ہوگیا پولنگ سکیم کے اندر قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی مکمل تفصیل ہوتی ہے کتنے پولنگ سٹیشن بننے ہیں اور کہاں بننے ہیں پولنگ اسٹیشن میں کتنے ووٹرز ہوں گے پولنگ سٹیشن کے اندر کتنے پولنگ بوتھ ہوں گے مکمل تفصیل ہوتی ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم جاری کرنے کا شیڈول دیا تھا مگر دو دن گزرجانے کے باجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ہےالیکشن کمیشن نے شیڈول کے مطابق 24جنوری کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کا حتمی پولنگ سکیم دینا تھا مگر دو دن گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں ناکام ہوگیا ہے ترجمان نے حتمی پولنگ سکیم میں ناکامی پر موقف نہیں دیا ۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24جنوری کو حتمی پولنگ سکیم چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے تین قومی اسمبلی کے حلقوں کے لیے دینی تھی مگر مقررہ تاریخ گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن حتمی پولنگ سکیم دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ہے. چاروں صوبوں اور وفاقی دارلحکومت کے پولنگ سکیم مقررہ وقت میں جاری نہ ہونے سے جنرل انتخابات 2024کے 8فروری کو انعقاد پر سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا 8فروری کو الیکشن کا انعقاد ممکن بھی ہوگا کہ نہیں ۔ترجمان الیکشن کمیشن سے اس حوالے سے سوال کئے گئے کہ کب تک حتمی پولنگ سکیم جاری ہوگا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں،  آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ”پاکستان نیشنل یوتھ کانفرنس“ سے تاریخی خطاب کیا ہے

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا کا مقصد بے یقینی، افرا تفری اور مایوسی پھیلانا ہے ، سوشل میڈیا کی خبروں کی تحقیق بہت ضروری ہے،تحقیق اور مثبت سوچ کے بغیر معاشرہ افراتفری کا شکار رہتا ہے ، آرمی چیف نے قرآن مجید کی آیت پڑھی اور کہا کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ؛”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اُس کی تصدیق کرلو“

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کے معماروں اور اقبال کے شاہینوں سے مخاطب ہو کر انتہائی خوشی محسوس کر رہا ہوں،پاکستان کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارا مذہب، تہذیب و تمدن ہر لحاظ سے ہندوؤں سے مختلف ہے نہ کہ ہم مغربی تہذیب و تمدن کو اپنا لیں،نوجوانوں کو اپنے وطن، قوم، ثقافت و تہذیب و تمدن اور اپنے آپ پر بے پناہ اعتماد ہونا چاہئے، پاکستان کے نوجوانوں کو اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ وہ ایک عظیم وطن اور قوم کے سپوت ہیں،ہمارے ملک کے نوجوان اس قوم و ملک کی روشن روایات، اقبال اور قائد کے خوابوں کی تعبیر کے امین ہیں، دہشتگردوں کیخلاف تو افواج پاکستان لڑ سکتی ہیں مگر دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کا تعاون ضروری ہے، پاکستان کے قیام کی ریاست طیبہ سے مماثلت ہے دونوں کلمے کی بنیاد پر قائم ہوئی ، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ معدنی وسائل، زراعت اور نوجوان افرادی قوت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے، مسلمان مشکل میں صبر اور آسانی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہماری افواج ہر قسم کے خطرے اور سازش کے خلاف ہمہ دم تیار ہیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں،پاکستان اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان کے روشن مستقبل پر کامل یقین اور اسلاف کی میراث کو قائم رکھنا ہے،

    طلباء نے خطاب کے دوران پاکستان آرمی زندہ باد ، پاکستان زندہ باد اور قائد اعظم زندہ باد کے نعرے بھی لگائے

    طلباء نے کھل کر سوال پوچھے جن کا جواب آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بہت تحمل مزاجی سے دیا۔ ایک طالب علم نے سوال کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی کا دور کیوں نہیں دوبارا آ سکتا کہ ہر کوئی کھل کر سوال کرے۔ جس پر جواب آیا کہ کل آپ لوگوں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے سوال کئے اور آج میں آپ کے ساتھ ہوں۔ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے اور آپ اپنی مرضی اور سوچ کے مطابق ووٹ کاسٹ کریں۔ طلباء نےا ہر جواب پر تالیاں بجائیں طلبا کی جانب سے یہ جوش ان کا اپنی فوج اور سپہ سالار پہ اعتماد کا کھلا ثبوت ہے

    ایک طالب علم نے سوال کیا کہ پانچ سال کے لئے حکومت آتی ہے تو اسے پانچ سال پورے کیوں نہیں کرنے دیئے جاتے؟،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا حکومت پانچ سال کے لئے نہیں آتی بلکہ پارلیمنٹ پانچ سال کے لئے منتخب ہوتی ہے،گزشتہ پارلیمنٹ نے اپنی پانچ سال کی مدت پوری کی تھی،
    اور پارلیمنٹ نے اپنی آئینی پاور کا استعمال کر کے حکومت بدل دی تھی اس میں فوج یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی رول نہیں ہوتا،پوری دنیا میں یہ نارمل پریکٹس ہے عدم اعتماد کے زریعے حکومت بدلنا،برطانیہ میں کئی بار ایسا ہوا بشمول انڈیا میں بھی ایسا ہو چکا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں عدم اعتماد کے زریعے حکومتیں بدلی ہیں،جہاں جہاں پارلیمانی نظام ہے وہاں یہ کوئی انہونی بات نہیں،جواب پر کنوینشن سینٹر تالیوں سے گونج اٹھا.

  • نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کے جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل بینچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور نیب کی پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس موجود ہیں کہ میڈیا کو رسائی دی جا رہی ہے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جلد بازی دیکھیں کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا اور ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا، وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن 28 نومبر کو جاری کیا جبکہ ریفرنس 20 دسمبر کو دائر ہوا، دوسرا نوٹیفکیشن 14 نومبر کو جاری ہوا جبکہ ریفرنس 4 دسمبر کو دائر ہوا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ نوٹیفکیشن سے ریفرنس دائر ہونے تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی؟

    پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ عمران خان کو 13 نومبر کو 190 ملین پاؤنڈ کے نیب کے کیس میں گرفتار کیا گیا،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ نوٹیفکیشن اور سمری کا عمل دیکھیں تو غیر ضروری جلد بازی واضح ہے، نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی، ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں بھی بالکل یہی بات کہنے لگا تھا”.

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ٹرائل اتنا اوپن ہے کہ ہمارے ایک ساتھی وکیل کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، سائفر کیس میں متعلقہ جج نے حکومت کو جیل ٹرائل کے لیے خط بھی لکھا تھا، ہائی کورٹ نے اس کے باوجود ٹرائل کالعدم قرا ردیا کیونکہ جوڈیشل آرڈر موجود نہیں تھا، اس کیس میں تو متعلقہ جج کی طرف سے کوئی خط بھی نہیں ہے، جیل میں عدالت لگانا الگ بات ہے ٹرائل کرنا الگ معاملہ ہے، جیل ٹرائل کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے، عدالت نے احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہے، احتساب عدالت کے جج تمام کیسز چھوڑ کر 2 کیسز کے لیے روزانہ اڈیالہ جیل جاتے ہیں،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.