Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن شیڈول روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائیں،کیا آپ نے الیکشن ایکٹ پڑھا ہے؟ ووٹر لسٹ بنانا اور اسکی سکروٹنی کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، عدالت مناسب سمجھے گی تو الیکشن کمیشن کو جائزے کی ہدایت کردے گی،ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ہم پورے پاکستان کا ریکارڈ کھول کر بیٹھ جائیں،آپ الیکشن کمیشن کو دی گئی درخواست کو ساتھ لگائیں اس پر جلد آرڈر کا کہہ دیں گے ، درخواست گزار کے وکیل نے دستاویزات جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی ،عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کثیر تعداد میں افغان باشندوں کو غیر قانونی شناختی کارڈ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے

    شہری آفتاب عالم ورک نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر بنچ تشکیل دے دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کل درخواست پر سماعت کریں گے،شہری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نمبر لگا دیا،شہری نے وکیل اختر عباس اور شاہ رخ شیخ کے ذریعے درخواست دائر کی،دائر درخواست میں کہا گیا کہ ملک بھر میں افغان باشندوں کو ملک سے واپس افغانستان جانے کا حکم دیا گیا ،انکشاف ہوا خبروں میں آیا سعودی عرب اور ملک میں ہزاروں جعلی شناختی کارڈ افغانیوں کو جاری ہوئے ، افغان باشندوں کے جعلی شناختی کارڈز پر ووٹ بھی کثیر تعداد میں بن چکے ،اس تناظر میں الیکشن کمیشن کو الیکٹرول رول پر نظر ثانی کا حکم دیا جائے ، نادرا کو حکم دیا جائے کثیر تعداد میں جن افغان باشندوں نے فراڈ سے شناختی کارڈ بنائے بلاک کرکے ووٹ ڈیلیٹ کرائیں ، نادرا کو حکم دیا جائے وہ جعلی شناختی کارڈ ڈیلیٹ کرکے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے ،پٹیشن کے زیر التوا ہوتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے،

    عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے جلد سماعت کی درخواست دائر 

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    ‏سپریم کورٹ آف پاکستان،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    13 سال بعد سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے ذوالفقار بھٹو قتل ریفرنس پر سماعت ہوگی،ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بنچ کرے گا،ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں ہوگی،

    ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں،صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو ہوئی تھی،ذوالفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی،صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں،صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی.

    سابق صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا تھا جس میں کہاگیا تھا کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں جو پھانسی دی گئی کیا وہ آئین اور ملکی اور اسلامی قوانین کے مطابق تھی؟کیا وعدہ معاف گواہ کے بیان پر کسی کو پھانسی دی جاسکتی ہے اور کیا بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کسی عدالت میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، جب ریکارڈ میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا رویہ جانب دارانہ ہو تو کیا ان حالات میں عدالتی کارروائی کو منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

    2018 میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس میں فریق بننے کی درخواست دائرکی تھی، بلاول کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ اپنے نانا کے عدالتی قتل میں انصاف کے بول بالا کیلئے مجھے فریق بننے کی اجازت دی جائے، بھٹو کا نواسہ ہونے کے ناطے میں اس صدارتی ریفرنس میں براہ راست فریق بن سکتا ہوں،عدالت مجھے بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے ریفرنس میں شریک بننے کی اجازت دے،

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہو گا، فیصلہ آ گیا

    توہین الیکشن کمیشن کیس، ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہو گا، فیصلہ آ گیا

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور فواد چودھری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کے جیل ٹرائل سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا ، الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،کیس کی سماعت 13 دسمبر کو اڈیالہ جیل میں ہوگی،وزارت داخلہ نے بانی چیئرمین کو الیکشن کمیشن پیش کرنے سے معذرت کی تھی،وزارت داخلہ نے وزارت قانون سے رائے لیکر بانی چیئرمین تحریک انصاف اور فواد چوہدری کا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کی درخواست کی تھی، الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کی رائے موصول ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

    الیکشن کمیشن کے پاس اڈیالہ جیل کے علاوہ سماعت کیلئے کوئی اور طریقہ موجود نہیں،تحریری فیصلہ
    بانی چئیرمین تحریک انصاف و فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ،اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،5 صفحات پر مشتمل فیصلہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور دو صفحات پر مشتمل فیصلہ فواد چوہدری سے متعلق ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور فواد چوہدری کو سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر الیکشن کمیشن پیش کرنے سے معذرت کی،وزارت داخلہ نے دیگر مقدمات کی طرح اڈیالہ جیل میں ٹرائل کرنے کی تجویز دی،وزارت قانون نے بھی اڈیالہ جیل میں کیس کا ٹرائل کرنے کی رائے دی۔ بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس دوہزار بائیس سے زیر سماعت ہے،متعدد بار بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اس کیس میں طلب کیا وارنٹ گرفتاری جاری کئے مگر وہ پیش نا ہوئے،بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا کی جانب سے بار بار التواء کی درخواستیں دائر ہوئیں،توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیس کو مزید تاخیر کا شکار نہیں بنایا جاسکتا،بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل ممکن نہیں ہے،
    الیکشن کمیشن کے پاس اڈیالہ جیل کے علاوہ سماعت کیلئے کوئی اور طریقہ موجود نہیں ،اس کیس کی سماعت وزارت داخلہ اور قانون کے رائےکے مطابق کیس اڈیالہ جیل میں کی جائے گی، 13 دسمبر کو 4 رکنی بینچ اڈیالہ جیل میں اس کیس کی سماعت کرے گا،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہونی ہے، جیل میں ہونے کی وجہ سے عمران خان کو الیکشن کمیشن پیش نہیں کیا جا رہا تھا،ایک سماعت کے دوران ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خدشات ہیں تو سماعت جیل میں نوٹیفائی کرسکتے ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن حکام جیل جانا چاہتے ہیں تو نوٹیفائی کرسکتے ہیں، وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار ملاقات کی اجازت ملی، ملاقات کے دوران کاغذ پینسل تک لیکر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، کمیشن مناسب آرڈر دے ، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ ہم خود ہی اڈیالہ جیل چلے جاتے ہیں ، جب ہم جائیں گے آپکو تمام سہولیات مل جائیں گی،

    الیکشن کمیشن کے جیل ٹرائل کے فیصلے کو مسترد کر تے ہیں ،وکیل شعیب شاہین
    الیکشن کمیشن کے جیل ٹرائل کے فیصلے کے بعد عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو تاریخوں میں ہمیں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ رپورٹ دی جائیں گی ، مگر نہیں دی گئیں ،ہم الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو مسترد کر تے ہیں ،آرڈر سنانے کے لیے بھی ممبر نہیں آئے ایک اہلکار کو بھیجاگیا،اگر آپ نے انصاف کا قتل کرنا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے،الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے خلاف یہ پہلا فیصلہ نہیں ہے،ہم نے اکاؤنٹس کی تمام تفصیلات کمیشن میں جمع کروا دی ہیں ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیے گئے،جب ان پر تنقید کی جاتی ہے تو توہینِ الیکشن کمیشن کیس بن جاتا ہے،

  • توشہ خانہ کیس، اپیل واپس لینے کی درخواست،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توشہ خانہ کیس، اپیل واپس لینے کی درخواست،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 21 اکتوبر 2022 کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپیل واپس لینے سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا

    عدالت نےبانی چئیرمین تحریک انصاف کی درخواست خارج کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،13 ستمبر کو عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے 21 اکتوبر 2022 کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کر رکھا تھا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپیل واپس لے کر لاہور ہائیکورٹ میں کیس چلانا چاہتے ہیں.

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،عمران خان نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائرکی تھی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں،   عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان نے پاکستان کا سب سے بڑا نقصان کر دیا

    عمران خان نے پاکستان کا سب سے بڑا نقصان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں عمران خان کی سیاست، صداقت سے ایگری نہیں کرتا بہت باتوں سے ایگری نہیں کرتا، میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹا آدمی ہے لیکن خاور مانیکا جو کر رہا ہے وہ بھی جائز نہیں ، اب جو خاور مانیکا کر رہا ہے یہ بذات خود غیر شرعی ہے کیونکہ شریعت کہتی ہے کہ عیب کا پتہ چلے تو پردہ ڈالو،نہ کہ اس کو اچھالو،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے ہیں، عدالت میں، میں بیان تفصیل میں نہیں بتا سکتا کہ وہاں کیا کچھ کہا گیا،غیر شرعی نکاح کیس میں گواہ نے کہا کہ عمران خان بشریٰ کے گھر آتے تھے، عمران خان بشریٰ بی بی کے کمرے میں چلے جاتے تھے، عمران خان اور بشریٰ بی بی عین غین بھی کرتے تھے، وہ ایک دوسرے کے ساتھ بے حیائی کی حدتک آ گئے تھے، میں بشریٰ کے کمرے میں جاتا تو عمران خان گالیاں دیتا تھا،پھر دونوں کہتے کہ باہر چلے جاؤ،مجھے خاور مانیکا کہتے تھے کہ جا کر انہیں دیکھو، اب عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے کل جھوٹ بولا تھا کہ نکاح سے قبل بشریٰ بی بی کو نہیں دیکھا تھا، حالانکہ اس نے دیکھا تھا،خاور مانیکا نے بھی کہاںیاں سنائیں، نوکروں کو وہ بھیجتاتھا لیکن خود میں ہمت نہیں تھی کہ خود جا کر کچھ کرتا، اس وقت پولیس رپورٹ کرتے، لیکن خاموش رہے، اس وقت کچھ نہیں کیا، طلاق دینے کے لئے بھی گوگی نے فون کئے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عادل راجہ، حیدر مہدی اور پھر پتہ نہیں وجاہت کو آج کل کیا ہو گیا ہے، آج یہ باہر بیٹھ کر عادل راجہ کا انٹرویو کر رہا ہے، کیا ڈرامے لگائے ہوئے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے ہو، روٹی کمائی نہیں جاتی، عادل ٹویٹر پر اپیلیں کر رہا کہ میری مدد کر دیں، پیسے نہیں ہیں، اس نے صرف پاکستان کی سالمیت سے کھیلنا ہے،

    ملزم افنان کے والد شفقت کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • عمران خان پر اپنوں نے بجلیاں‌گرا دیں،بری طرح بے نقاب

    عمران خان پر اپنوں نے بجلیاں‌گرا دیں،بری طرح بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان سے جیل میں سات صحافیوں کی ملاقات ہوئی، جس میں عمران خان نے شادی سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں پر بات کی، ان باتوں میں کیا حقیقت ہے. کچھ کا میں خود بھی گواہ ہوں، عمران خان کے اپنے ہی پرانے دوستوں نے اسکو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا ہے،قندیل بلوچ کا ذکر کیوں ہو رہا ہے اب؟ عمران خان نے سائفر کیس میں دو افراد کو کٹہرے میں لانے کا ذکر کیا ، نو مئی کے واقعے کا ذمہ دار ایک شخص کو قرار دیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 121 دن بعد عمران خان کی جیل میں صحافیوں سے ملاقات ہوئی، صحافیوں کی آمد سے کم از کم پی ٹی آئی وکلا کے جھوٹ سامنے آ گئے ،ظلم کا جو بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ پنجرے میں بند کر کےلایا جاتا ہے، ٹھنڈے بستر پر سلایا جاتا، پرائیویسی نہیں دی جاتی، پولیس اہلکار سر پر سوار ہوتے ہیں، وکلاء سے بھی بات ٹھیک سے نہیں کرنے دی جاتی، یہ سب باتیں جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی کیونکہ صحافیون کے مطابق جیل میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، کیس کی سماعت کمیونٹی ہال میں ہوئی جس میں سو کے قریب لوگ بیٹھ سکتے ہیں، عمران خان، اسکے وکیل اور اسکا پورا خاندان اس کمرے میں موجود تھے، ڈیڑھ گھنٹہ کمرہ عدالت میں رہے ،سماعت صرف 15 منٹ کی ہوئی، باقی وقت وکلاء اور گھر والوں سے مشاورت کرتے رہے، اس دوران کسی نے روکا نہیں، پھر انہوں نے صحافیوں سے ملاقات کی اور انکے سوالات کے جواب دئے،عدت بارے جو سوال ہوا اس پر عمران خان نے سیدھا جھوٹ بولا کہ قرآن پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ نکاح سے پہلے ایک بار بھی بشریٰ کو نہیں دیکھا، عون چودھری کا بیان بھی آ گیا کہ عمران خان کہ یہ صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کسی چیز کی شرم نہیں، اسکو ملک، قوم، تہذیب، مذہب، معاشرے کا لحاظ نہیں، عمران خان نکاح سے قبل ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ملے، سب نے دیکھا تھا، عمران خان بشریٰ سے فون پر بات کرتا تھا، ملاقات بشریٰ بی بی کی بہن نے کروائی تھی جو دبئی میں ہوئی تھی، طلاق، پھر عدت میں نکاح، خاور کی زبانی باتیں آ چکیں، مفتی سعید کی گواہی بھی آ گئی کہ دو بار نکاح کیا، عمران خان دم کروانے جاتا تھا، انگوٹھی بھی اسکو اسی پیرنی نے دی تھی ، قندیل بلوچ کا قتل ہوا، اس نے کہا تھا کہ بشریٰ اور عمران خان مستقبل میں ملنے والے ہیں اور انکی شادی ہو جائے گی.

    ملزم افنان کے والد شفقت کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال جیسے مسئلےسے نمٹنے کے لیے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) نےکمپین فارٹوبیکوفری کڈز(سی ٹی ایف کے) کیساتھ ایک مشترکہ تقریب کاانعقاد کیا،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب کامقصد ان ہیروز کوخراج تحسین پیش کرنا تھاجنہوں نے تمباکو کنٹرول کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے،ان ہیروز میں اہم سرکاری عہدیدار،ماہرین صحت،میڈیا نمائندےاور اسٹیک ہولڈرزشامل ہیں، تقریب میں ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان سمیت دیگر چیمپئن کو شیلڈز دی گئیں، تقریب سے وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی،سی ٹی ایف کے ڈائریکٹرٹوبیکوکنٹرول ساؤتھ ایشیاء ریجن ڈاکٹر ماہین ملک، ڈاکٹر خلیل احمد، ملک عمران احمد، ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام و دیگر نے خطاب کیا، جبکہ تقریب میں کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا، مستنصر و دیگر بھی شریک ہوئے،

    نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ آج میں کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں جو لوگ گھروں یا دفاتر میں ہیں، ان پر سوچنا اور جواب بھی ضروری ہے، ایسی کون سی وبا ہے بیماری ہے جس کی وجہ سے ہر چھ سیکنڈ بعد اک شخص دنیا سے چلا جاتا ہے ایسی کونسی بیماری جس کی وجہ سے دس میں سے ایک شخص کی موت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی میں کونسی جنگ لگی تھی کہ دس کروڑ لوگ زندگی سے محروم ہویے۔ ایسی کونسی جنگ ہے جس کی وجہ سے پچاس لاکھ لوگ زندگی سے محروم ہوتے ہیں۔ دس کروڑ پچھلی صدی میں مرے۔ یہ اعدادوشمار میں پچاس لاکھ ہر سال میں مارے جاتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ یہ جنگ جاری رہی تو اگلے سات سال بعد 2030 تک پچاس سے اسی لاکھ تک چلی جائے گی یہ ہے وہ جنگ جس کے لڑاکا میرے سامنے بیٹھے ہیں اور میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے آیا ہوں

    مرتضی سولنگی کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک میں مضر صحت چیزوں کی فراوانی ہے تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی ہے، یہ انسانی زندگی کے لئے خطرہ ہے اس کا ذکر نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ کاروبار جڑا ہوا ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو اس پر پابندی ہونی چاہئے ۔ مستقبل کی ماحولیات کی تباہی انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہے تمباکو نوشی بھی اسی لئے خطرہ ہے اسکے اثرات روز دیکھتے ہیں۔ کل بھی جب میں وزیر نہیں تھا تب بھی آپکا حامی تھا کل بھی رہوں گا

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    سی ٹی ایف کے ڈائریکٹرٹوبیکوکنٹرول ساؤتھ ایشیاء ریجن ڈاکٹر ماہین ملک نے پاکستان میں سی ٹی ایف کے کی شراکت دار تنظیم کے عزم پر اظہار تشکر کیا اورکہاکہ سی ٹی ایف کے تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر اور قابل عمل اقدامات اٹھائے گی ،انہوں نے کہاکہ سی ٹی ایف کے اس حوالے سے مربوط پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نےتمباکوکے استعمال سے بچوں کی صحت اوران کی فلاح و بہبود پر پڑنے والے برے اثرات جیسے اہم مسئلے کواجاگرکرتے ہوئے کہاکہ انسدادتمباکو کے حوالے سے مرتب کی گئی سفارشات پر عمل درآمد کرکے ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول قائم کیاجاسکتا ہے ،اس بات کو یقینی بنائینگے کہ ہمارے نوجوان تمباکو سے دور رہ کر پروان چڑھیں،تقریب میں حکومتی، تعلیمی اداروں، میڈیا اور نوجوانوں سمیت دیگرایسے تمام افرادکو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے اپنے آپ کو تمباکو سے پاک پاکستان کیلئے وقف کر رکھا ہے۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں جس سفر کا آغاز کچھ برس قبل کیا تھا کچھ قدم اس میں آگے بڑھے ہیں، آج ہم اس مقام پر ہیں کہ پاکستان کا ٹوبیکو کنٹرول بہتر ہے، فیڈرل ہیلتھ لیوی آج بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ٹیکس بڑھے ، چند دن قبل ایف بی آر کا اپنا ڈیٹا ریلیز ہوا سب سے زیادہ ریونیو ٹوبیکو سے ہوا۔ اب بھی ضرورت ہے کہ ٹیکسز کو مزید بڑھایا جائے ،

    ملک عمران احمد کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنیوالے آج یہاں جمع ہیں بہت کم موقع ملا کہ انکی کوششوں کو خراج تحسین پیش کریں۔ ٹوبیکو کنٹرول چیمپین جنہوں نے اس کاز کے لئے کام کیا انکی کوششوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہی کی کوششوں کی وجہ سے تمباکو نوشی کے خلاف پاکستان میں مہم چلی، پارلیمنٹ میں بات ہوئی اور تمباکو پر ٹیکس بھی لگا ۔

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف

    امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کو کم از کم دو بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ انکشاف عافیہ صدیقی کے وکیل کلائیو اسٹیفورڈ کی جانب سے کیا گیا جن کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان ڈاکٹر عافیہ سے دوبار جنسی زیادتی کے واقعات سے آگاہ ہے ،کلائیو اسٹیفورڈ اسمتھ نے نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈاکٹر عافیہ نے جنسی زیادتی کابتایا جس کے بعد شکایت داخل کی گئی بگرام جیل میں بھی ڈاکٹر عافیہ سےجنسی زیادتی کی گئی تھی، ڈاکٹرعافیہ سے بگرام میں جنسی زیادتی بطور تفتیشی حربہ کی گئی، ڈاکٹر عافیہ سے آئے دن بدسلوکی اور تشدد کیا جاتا ہے۔

    امریکا نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو جیل میں قید بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فوزیہ صدیقی نے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ جیل میں عافیہ کی حالت پہلے سے زیادہ خراب لگی ہے عافیہ کی حالت بیان کرنےکیلئے الفاظ نہیں،عافیہ صدیقی کو ایک بار پھر اسی حالت میں چھوڑ آئی ہوں،ملاقات میں دونوں بہنیں ایک دوسر ے کو چھو نہیں سکیں اور ان کے درمیان شیشے کی دیوار حال رہی ملاقات کے اختتام پر بہت دکھی ہوں، اپنے پاکستانی بھائیوں سے گزارش کرتی ہوں کہ عافیہ کی رہائی کیلئے کچھ کریں۔

    ڈاکٹر فوزیہ کی امریکی جیل میں قید اپنی بہن عافیہ سے ملاقات

  • عدت میں نکاح:بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کے ملازم کا بیان قلمبند

    عدت میں نکاح:بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کے ملازم کا بیان قلمبند

    چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کے خلاف کیس میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم نے اپنا بیان قلمبند کرادیا۔
    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی، سول جج قدرت اللہ نے سماعت کی بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے گھریلو ملازم محمد لطیف نے اپنا بیان قلمبند کرادیا، جس کے بعد عدالت نے کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل طلب کر لئے،بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    خاورمانیکا کے پرانے ملازموں میں سے ایک محمد لطیف ولد سید محمد چوہان نے عدالت میں بیا ن دیتے ہوئے کہا کہ میں خاور فرید مانیکا کے ساتھ گزشتہ 35 سال سے گھریلو ملازم ہوں، میں چونکہ ان کا پرانا ملازم ہوں اس لیے ان کا مجھ سے کسی قسم کا پردہ نہیں ہے ان کے بچے بھی میرے ہاتھوں میں پلے ہیں اور میں ان کے گھر کے فرد کی طرح ہوں، مانیکا صاحب کے پیر غنی، پاکپتن شریف، لاہور اور اسلام آباد بنی گالہ میں گھر ہیں، اسلام آباد والا گھر مکان نمبر 3، گلی نمبر 2، بنی گالہ میں واقع ہے، یہ مکان 2002/2003 میں مکمل ہوا تھا، میاں صاحب کی فیملی لاہور بھی رہتی تھی اور بنی گالہ اسلام آباد میں بھی رہتی تھی، مستغیث خاو مانیکا صاحب کسٹم میں ملازم تھے اور مختلف جگہوں پر ان کی پوسٹنگ ، تبادلے ہوتے رہتے تھے۔ مگر ان کی فیملی لاہور یا اسلام آباد میں رہتی تھی، عمران خان الزام علیہ نمبر 1 نے میاں صاحب کے بنی گالہ گھر 2015 میں آنا جانا شروع کیا۔ 2015 میں الزام علیہ نمبر 1 کبھی کبھار بنی گلہ مستغیث کے گھر آتے تھے۔ عمران خان صاحب کا 2016/2017 میں میاں صاحب کے گھر آنا جانا زیادہ ہوگیا۔ عمران خان صاحب کے ساتھ کبھی ایک آدھ بی بی ہوتی تھی کبھی ایک آدھ صاحب جو کہ کلین شیو تھے وہ آتے جاتے تھے کبھی ڈرائیور کے ساتھ آتے تھے زیادہ تر اکیلے آتے تھے اور کئی مرتبہ ڈرائیور چھوڑ کر چلا جاتا تھا اور زیادہ تر وہ رات کو آتے تھے۔

    خاور مانیکا کے ملازم نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب ہمیشہ خاور مانیکا صاحب کی غیر موجودگی میں ان کے گھر آتے تھے۔ کئی مرتبہ میاں صاحب نے جب آپاں بشریٰ بی بی الزام علیہ نمبر 2 سے جب بات کرنی ہوتی تو ان کے یعنی آپاں بشریٰ بی بی کے فون پر کال کرتے جب ان کا فون بند ہوتا تو میرے نمبر پر کال کرتے اور میں ان کی یعنی مانیکا صاحب کی آپاں بشریٰ سے بات کرواتا اور اسی دوران جب میں اندر جاتا اس سلسلے میں جب میں گھر کے اندر گیا تو دیکھا عمران خان صاحب اور آپاں بشریٰ ڈرائینگ روم میں نہیں تھے بلکہ اپنے کمرے میں تھے اور جب میں کمرے کے اندر بات کروانے کے لیے گیا تو دیکھا الزام علیہ نمبر 1 و 2 آپس میں بدکاری کررہے تھے اور میں نے ان کو تین چار دفعہ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا جب پہلی مرتبہ بدکاری کرتے دیکھا تو میری پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں اس بابت میاں خاور مانیکا صاحب کو اطلاع بھی دیتا رہا،ا ن واقعات کے بعد میاں صاحب کی اور بشریٰ بی بی کی آپس میں لڑائیاں شروع ہوگئیں اور 2017 کے آخر میں میاں صاحب نے آپاں بشریٰ کو طلاق دے دی، میں نے کئی دفعہ عمران خان صاحب کو میاں صاحب کے فون آنے پر اور ان کے کہنے پر ان کو گھر سے بھی نکالا.میں نے کئی دفعہ عمران خان صاحب کو بشریٰ بی بی کے ساتھ ڈرائینگ روم میں نازیبا حرکتیں کرتے بھی دیکھا تھا۔ جب میں میاں صاحب کی بات کروانے آپا بشریٰ بی بی کے پاس اندر جاتا تو کئی مرتبہ مجھے ڈانٹ بھی پڑتی تھی۔ اگر میاں صاحب نہ ہوتے تو شاید مجھے آپاں بشریٰ نوکری سے بھی نکال دیتی.

    واضح رہےکہ گزشتہ روز میڈٰیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا تھا کہ ہر طرح کی قسم اٹھانے کو تیار ہوں کہ نکاح سے پہلے نہ کبھی بشریٰ بی بی سے ملا نہ کبھی انہیں دیکھا،عون چوہدری نے عمران خان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا عمران خان کی جانب سے یہ کہنا کہ بشریٰ بی بی کو نکاح سے پہلے نہیں دیکھنے کا دعویٰ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، سابق چیئرمین بشریٰ بی بی سے ایک بار نہیں کئی بار نکاح سے پہلے ملے، گھنٹوں ملاقات کرتے رہے-

    عون چوہدری کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی قرآن پر حلف دے دیں کہ انہوں نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح سے پہلے چہرہ نہیں دکھایا، میں خود سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو ملاقات کیلئے لے کر جاتا رہا۔عون چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے پول کھولے تو انہیں شرم سے سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی سے نکا ح سے پہلے درجنوں بار ملے بھی اور دیکھا بھی تھا۔

  • مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا  فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ختم ہوگئی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور عام انتخابات سمیت دیگر اہم معاملات پر گفتگو کی گئی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ پہنچے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے صدر جماعت شہباز شریف کے ہمراہ پارٹی سیکریٹریٹ آمد پر مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا۔ دونوں جماعتوں کے مابین وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، اس موقع پر ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے والے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کے مجوزہ ملک گیر بلدیاتی نظام پر تفصیلی مشاورت کی اور ایم کیو ایم کے مجوزہ بلدیاتی نظام پر مکمل اتفاق رائے کیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آئندہ پارلیمان میں اس بلدیاتی نظام بارے آئینی ترمیم لائی جائے گی۔نواز شریف نے فضل الرحمان کو ایم کیو ایم کے ساتھ طے پا جانے والے انتخابی معاہدے پر اعتماد میں لیا، دونوں جماعتوں نے سندھ میں ایم کیو ایم اور دیگر ہم خیال جماعتوں سے مل کر انتخابی اتحاد بنانے پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علما اسلام (ف) میں مکمل سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں صوبوں میں ہر قومی و صوبائی نشست پر امیدوار باہمی اتفاق رائے سے اتارے جائیں گے اور یہ بھی طے پایا کہ جس نشست پر جس پارٹی کا امیدوار مضبوط ہوگا اسی کی نامزدگی اور حمایت کی جائے گی، کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچا جا سکا تو ایک جماعت کا امیدوار قومی اور دوسری کا صوبائی نشست پر نامزد کیا جائے گا۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے بعد مل کر حکومت بنانے اور تمام امور پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا اور مشترکہ صدارتی امیدوار لائے جانے پر بھی مشاورت کی۔


    ملاقات میں سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف، سینیٹر اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں قائدین کے درمیان مجموعی ملکی صورتحال، عام انتخابات کے انعقاد، سیاسی تعاون اور اشتراک عمل پر مشاورت ہوئی۔ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے جبکہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف بھی ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے۔