Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی اور وزرات خارجہ کو نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے، اٹارنی جنرل معاملے پر لارجربینچ تشکیل دینے کے نقطے پر معاونت کریں، درخواست گزار فرحت اللہ بابر نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس غیر قانونی شہریوں کی بے دخلی کا مینڈیٹ نہیں، جن افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چُکے ہیں، افغان شہریوں کے ساتھ حکومت پاکستان غیر انسانی سلوک کر رہی ہے،نگران حکومت پالیسی معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں رکھتی،اس عدالت کے پاس شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کریں؟ درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 4، 9 ،10 اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے جو لوگ یہاں رہ رہے ہیں کیا وہ یہاں ہی رہیں اس پر عدالت کی معاونت کریں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے معاہدے مہاجرین کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے ان معاہدوں کا پابند ہے،عدالت نے مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

    غیر قانونی، غیر ملکیوں کے انخلا پر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف آپریشن کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم 18 ہزار غیر ملکیوں کی فہرست خیبر پختونخوا پولیس کو ارسال کر دی گئی

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    افیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں کمرہ عدالت میں موجود تھیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت پیش ہوئے،جج نے استفسار کیا کہ کیا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن آیا ہے؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ ابھی تک جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا ، جج نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی رپورٹ نہیں، انہیں تو پیش کریں، بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو آج عدالت پیش کرنا چاہیے تھا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھیں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا سائفرکیس کی گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھا گیا، عدالت نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے تو ہم دیکھ لیتے ہیں، جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن نہیں آیا تو ہم پروڈکشن آرڈر کروایں گے، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت کا 23 نومبر کو چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن کا آرڈر تھا، پھر خصوصی عدالت نے اپنے ہی آرڈر پر نظر ثانی کردی ، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو خط بھیجاتھا،آپ کا آرڈر جیل میں ٹرائل کے حوالے سے قانونی طور پر درست نہیں ہے، اڈیالہ جیل ممنوعہ علاقہ ہے جہاں ویڈیو اور فوٹوگرافی ممنوع ہے، یہ طے ہونا چاہیے کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ کیا خطرات کے حوالے سے دیکھنا عدالت کا اختیار ہے ؟ وکیل صفائی نے کہا کہ اگر کوئی ایڈیشنل آئی جی کہہ دے تو ناکافی ہے، منسلک رپورٹس بھی ہونی چاہیے ،جج نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے خط کے ساتھ سیکیورٹی رپورٹس بھی منسلک ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ جیل مینوئل میں لکھا ہے اڈیالہ جیل ممنوعہ جگہ ہے، موبائل استعمال نہیں ہوسکتا ،جج نے کہا کہ صحافیوں کی موجودگی جیل میں ٹرائل کے دوران ضروری ہوگی ،وکیل صفائی نے کہا کہ آپ کو جیل کو عدالت ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ اس کو غیر ممنوعہ جگہ بھی ڈیکلیئر کرنا پڑے گا ، جج نے کہا کہ بالکل ہوگا اور صحافیوں کی موجودگی بھی جیل میں ٹرائل کے دوران ہوگی ، وکیل علی بخاری نے کہا کہ آپ کا آرڈر مکمل نہیں ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا، اس آرڈر میں وجوہات کا ذکر موجود نہیں کہ آخر کیوں جیل میں سماعت ہورہی، وزارتِ قانون نے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، خصوصی عدالت ہائیکورٹ کے احکامات کی پابند ہے،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کی زمہ داری سیکیورٹی کی ہے،فردجرم، نقول کی تقسیم سب کچھ ملزم کی موجودگی میں ہونا چاہیے،سائفرکیس کی آج کی سماعت کا اختتام کیا ہوگا؟ کیا وزارتِ قانون کو ڈائریکشن عدالت دے سکتی؟ نہیں دے سکتی،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا،
    خصوصی عدالت جیل میں ٹرائل کرنے کی پابند تھی لیکن سماعت جیل سے مشروط ہے، میں وزارت قانون کے نوٹیفیکیشن کا انتظار کررہاہوں، اگر نوٹیفیکیشن نہ آیا تو میں ملزمان کو عدالت پیش کرنے کا نوٹس جاری کروں گا، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت ہی ادھر لے جائیں،جج نے کہا کہ عدالت لے چلیں گے جیل میں فکر نہ کریں، ٹرائل پینڈنگ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اصل ملزم ہے، شاہ محمود قریشی شریک ملزم ہیں، عدالتی سماعت کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کی سماعتیں غیرقانونی قرار نہیں دیں، اوپن کورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیاتھا، وکیل صفائی نے کہا کہ خصوصی عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو قید رکھنا غیرقانونی ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر زولفقار نقوی نے کہا کہ وزارتِ قانون کے نوٹیفیکیشن کا آج انتظار کرلیں،جج نے کہا کہ دھوپ سیکیں، نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن آگیاہے، اس کیس کو کل کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ کل کیسے مینج ہوگا۔عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات بھی ہیں، کل حاضری لگا لیں گے۔علی بخاری ایڈووکیٹ کی استدعا پر عدالتی عملہ نے نوٹیفکیشن پڑھا، جج ابوالحسنات نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بھی نوٹیفکیشن میں تحریر کیاگیاہے، درخواست نمٹادی ہے۔وکیل نے کہا کہ ابھی تو اس پر دلائل بھی نہیں ہوئے۔عدالت نے کہا کہ کل جیل میں دے دینا پھر۔ان کی پروڈکشن کا مسئلہ ہے، کل اگلی تاریخ دے دیں گے۔وکیل نے کہا کہ کچھ وکلاء لاہور سے آئے ہوئے، ہماری بھی دیگر کیسز میں تاریخیں ہوتی ہیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج کی کرلیں حاضری ہی لگانی ہے۔
    اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کی استدعا کردی،عدالت میں کہا کہ میں تو آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کے حق میں ہوں،عدالت نے کہا کہ میں نے اطلاع دینی ہے دوسرے اقدامات ہونے ہیں آج ہی کیسے کریں۔نوٹیفکیشن کے بغیر بھی کیسے جاسکتا ہوں۔ وکلاء نے کہا کہ اگلے ہفتے کیلئے رکھ لیں۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ کبھی نہیں کہتے تاخیر کریں، لمبی تاریخیں رکھیں۔ ہفتے کو ہائیکورٹ، سپریم کورٹ بند ہوتی ہیں، لیکن ٹرائل کورٹس میں ہمارے کیسز ہوتے ہیں، ہفتہ اور پیر کے روز ہمارے لیے اہم ہوتے ہیں، 5 دسمبر رکھ لیں۔
    پی ٹی آئی وکلاء کی جانب سے 5 دسمبر تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جج نے کہا کہ 5 دسمبر کو سماعت رکھ لیں گے لیکن حاضری کے حوالے سے تو سماعت رکھنی ہے نا، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری مقرر تھی، اس بات پر کیا کہیں گے؟ جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو اطلاع کرنی تھی اور وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کا انتظار تھا آج، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم انتظار کرلیتےہیں، آپ آج ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کروا دیں،اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ چاہتےکیا ہیں؟ ڈیڑھ گھنٹے سے یہی باتیں کررہےہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ کوئی اسٹے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اسلام ہائیکورٹ اور نہ آپ نے اپنا آرڈر پر عملدرآمد کروایا، انٹراکورٹ اپیل پر حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے۔سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ اس عدالت نے 23 نومبر 2023 کو حکم دیا کہ 28 نومبر کو ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کیا جائے، عدالت نے 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا حکم دے دیا، 23 نومبر کے حکم نامے کی موجودگی میں 28 نومبر کا حکم نامہ غیر قانونی ہے، عدالت 23 نومبر 2023 کے حکم نامے پر عملدرآمد کروائے، 21 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو اوپن کورٹ نہ ہونے کے باعث کالعدم قرار دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں 23 نومبر کو خصوصی عدالت نے ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے،28 نومبر کو اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے خط کے ذریعے عدالت کو پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے روکا، خصوصی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خط پر انحصار کرتے ہوئے ٹرائل جیل میں کرنے کے احکامات جاری کردیئے، خصوصی عدالت کا 28 نومبر کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ 23 نومبر کے پروڈکشن آرڈر کے حکم نامے پر نظر ثانی ہے، اپنے احکامات پر نظر ثانی کرنا اس عدالت کا مینڈیٹ نہیں ہے،خصوصی عدالت نے جیل ٹرائل کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا کہ اس سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی،خصوصی عدالت کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جیل ایک ممنوعہ جگہ ہے جہاں فوٹوگرافی، بغیر اجازت داخلہ منع ہے، ایک ہائی سکیورٹی جیل کو اوپن عدالت اور عوام کی رسائی میں قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے،

  • عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی، خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستیں ہوں گی، بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 جنرل نشستیں ہوں گی، قومی اسمبلی میں خواتین کی 60، اقلیتوں کی 10مخصوص نشستیں ہوں گی۔ 266 جنرل نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کا ایوان 336 ارکان پر مشتمل ہوگا،پنجاب سےقومی اسمبلی میں خواتین کی 32 مخصوص نشستیں، سندھ سے قومی اسمبلی میں خواتین کی 14 مخصوص نشستیں،خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی میں خواتین کی10مخصوص نشستیں، بلوچستان سے خواتین کی4 مخصوص نشستیں ہوں گی،

    ملک بھر کے 109 اضلاع کے 1324 حلقوں پر اعتراضات جمع کرائے گئے تھے،پنجاب سے 672،سندھ 228، خیبرپختونخوا 293،بلوچستان 124 جبکہ اسلام آباد سے 7 اعتراضات پر سماعت کی گئی،الیکشن کمیشن کے دو بینچوں نے یکم سے 22 نومبر تک اعتراضات پر سماعت کی تھی،الیکشن کمیشن نے رواں برس 27 ستمبر کو حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست شائع کی تھی،ابتدائی حلقہ بندیوں اعتراضات 27اکتوبر تک دائر کیے گئے تھے

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن،بانی رہنما اکبر ایس بابر کا بھی بڑا اعلان

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن،بانی رہنما اکبر ایس بابر کا بھی بڑا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر ایس بابر نے نئے پی ٹی آئی چیئرمین کی تقرری مسترد کردی، الیکشن کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے

    اکبر ایس بابر نے کہا کہ یہ "الیکشن” نہیں سراسر "سلیکشن” ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں اپنے آزاد مبصرین مقرر کرے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مقرر کردہ مبصرین کی نگرانی میں شفاف، آزادانہ اور پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کے انعقاد سے پہلے ہی پارٹی چیئرمین کی طرف سے نئے چیئرمین کی نامزدگی نے پارٹی الیکشن کو محض سلیکشن کا عمل بنا دیا ہے،پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق مرکزی قیادت کا الیکشن صوبائی منتخب قیادت کی ذمہ داری ہے،جب تک مرکزی قیادت کے الیکشن کا الیکڑول کالج منتخب نہ ہو تو مرکزی قیادت کا الیکشن کس بنیاد پر ہو گا؟

    اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ اب تک نہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کا اعلان ہوا ہے، نہ یوسی، تحصیل, ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح پر الیکشن کا انعقاد ہوا ہے،انٹرا پارٹی الیکشن کے شیڈول کا اعلان بھی ابھی نہیں ہوا، ان حالات میں مرکزی قیادت کا الیکشن محض ڈھونگ اور ناٹک کے سوا کچھ نہیں، تاریخ میں شاید یہ پہلے الیکشن ہیں جہاں ووٹر لسٹ نہیں، امیدواروں کو الیکشن کے طریقہ کار کا علم تک نہیں اور اسے "الیکشن” کہا جا رہا ہے،انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر کاغذی کاروائی قبول نہیں، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، شخصی تسلط سے نجات تک سیاسی جماعتیں جمہوری نہیں ہوں گی،عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھنے والی قابل قیادت پارٹیوں میں جمہوریت لانے سے ہی آئے گی،

    دوسری جانب بانی صدر پی ٹی آئی پنجاب اور عمران خان کے سگے چچا کے بیٹے سعید اللہ خان نیازی نے بانی رہنما اکبر ایس بابر کی حمایت کا اعلان کردیا.سعید اللہ خان میانوالی کی ممتاز شخصیت، عمران خان کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی کے بڑے بھائی اور نیازی قبیلے کے سربراہ بھی ہیں، سعیداللہ نیازی نے عمران خان کے مقابلے میں اکبر ایس بابر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کی ذمہ داری پارٹی کی ناقص قیادت پر ہے۔ پی ٹی آئی کا وجود خطرے میں ہے،پارٹی بنانے میں خون پسینہ دینے والے ورکرز کے لئے یہ صورتحال باعث تشویش ہے۔ عمران خان کے سامنے ہمیشہ سچ بولا جو کڑوا ہوتا ہے۔ آج نہیں تو کل یہ سچ دنیا کے سامنے آہی جائے گا۔ پی ٹی آئی کو مزید تباہی سے بچانا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کسی شخصیت کی ملکیت نہیں۔ پی ٹی آئی کسی ایک شخص کو اقتدار میں لانے کے لئے نہیں بنائی تھی۔ پی ٹی آئی بنانے کا مقصد معاشرے میں بہتری لانا تھا، انتشار پھیلانا نہیں تھا۔پی ٹی آئی کو بچانے کے لئے کل بھی اکبر بابر کے ساتھ کھڑا تھا، آج بھی ساتھ کھڑا ہوں۔ اکبر ایس بابر ایک سچا اور مخلص شخص ہے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عمران خان کی بیوی اور بہنوں میں اقتدار کی جنگ، بشری بی بی،لطیف کھوسہ کی آڈیو لیک

    عمران خان کی بیوی اور بہنوں میں اقتدار کی جنگ، بشری بی بی،لطیف کھوسہ کی آڈیو لیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وکیل لطیف کھوسہ کی مبینہ آڈیو لیک ہو گئی ہے

    آڈیو میں بشریٰ بی بی اور لطیف کھوسہ آپس میں بات چیت کر رہے ہیں، بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ "بلکہ وہاں پر ہمارا مسئلہ پڑ گیا کیونکہ انکی بہنیں بھی ساتھ تھیں اور ہماری اچھی خاصی بلکہ وہاں پر مسئلہ پڑ گیا تھا،بشری بی بی نے مسکراتے ہوئے بات کی جس پر لطیف کھوسہ نے کہا اچھا اچھا،بشریٰ بی بی نے کہا کہ وہاں کافی سارا یشو کھڑا ہو گیا تھا میں حیران رہ گئی تھی ،پھر میں نے زیادہ مناسب نہیں سمجھا کہ میں ان لوگوں سے زیادہ بہنوں سے بات کروں،بس میں نے خان صاحب کو کہہ دیا کہ جی میرے کیسز تو سب وہی کریں گے اور آپ کے جتنے اب ہوں‌گےمیں نہیں سمجھوں گی کہ یہ لیٹ ہو رہا تو وہ انہی کو دوں گی،لطیف کھوسہ کہتے ہیں چلیں چلیں وہ کہتی ہیں کہ اسکے ساتھ بدتمیزی کی ہے میں نےوہ اصل میں ہوا یوں،

    بشری بی بی نے لطیف کھوسہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ جی انہوں نے ہمارے ساتھ اتنی بدتمیزی کی کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے،کہ کسی کی اتنی ہمت ہو ، میں نے آگے سے کہا کہ انکو کیا ضرورت تھی کہ یہ تینوں کون ہوتی ہیں جو اٹھ کر انکے آفس چلی جائیں،کہتی ہیں کہ نہیں ہم تو پوچھنے گئی تھیں،میں نے کہا یہ کون ہوتی ہیں پوچھنے والی،کہتی ہیں ہم پوچھنے گئی تھیں کہ یہ زہر والی لائن کیوں‌لکھی ہے، وہ جس طریقے سے بول رہی تھیں میں نے کہا اس طریقے سے مت بولیں ،وہ جی کافی بولی، بہت زیادہ بولی تو میں نے خان صاحب کو کہا کہ نہیں جی بس،میرے وکیل وہی ہیں تو پھر میں اٹھ کر آ گئی،

    لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ بحرکیف پتہ نہیں انکو کیا پرابلم ہے،بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے جانا نہیں تھا، کھوسہ صاحب کی بیوی نے کہا کہ تم جا کر ملو،میں نے کہا ان کی آپس میں لڑائیاں شروع ہو جائیں گی پھر میں خاموش ہو گئی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں بدتمیزی کرنے والا نہیں،میں نے یہ کہا کہ جس طرح میں کر رہا ہوں‌کام مجھے کرنے دیں، اسکو انہوں نے بدتمیزی کہہ دیا، بشریٰ بی بی نے کہا کہ نہیں جی میں آپ کو بتاتی ہوں،انہوں نے کہا کہ وہ اس پٹیشن کے لئے گئی ہیں،وہ کہتی ہیں کہ یہ تو ہے ہی جھوٹ ،ہم تو ویسے ہی ملنے گئے تھے،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان کی بریت کی درخواست خارج

    خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان کی بریت کی درخواست خارج

    جج دھمکی کیس میں عمران خان کی بریت کی درخواست خارج ، اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، کیس کا ٹرائل 20 دسمبر سے شروع ہو گا

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے جج دھمکی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی بریت درخواست خارج کردی،عباس خان کی عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر چیئرمین پی ٹی آئی کی بریت درخواست پر فیصلہ محفوظ کیاتھا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست249خارج کی جاتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی خاتون جج دھمکی کیس میں بریت کے مستحق نہیں، عدالت نے مزید کارروائی کیلئے سماعت 20دسمبر تک ملتوی کردی،چیئرمین پی ٹی آئی پر تقریر کے دوران شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون جج کو دہمکی دینے کا الزام تھا

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت سول جج محمد مرید عباس نے کی۔پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے۔خاتون جج دھمکی کیس میں پراسیکیوشن کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    نواز شریف کے خلاف صرف آخری مقدمہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا باقی رہ گئی،نواز شریف کو انتخابی سیاست کے لیے العزیزیہ ریفرنس میں 20 دسمبر سے پہلے بری ہونا ہوگا ،نواز شریف پانامہ کیسز کے تین ریفرنسز میں سے دو میں کلئیر ہوگئے،نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں بری جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نیب نے اپیل واپس لے لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی،عدالت نے رجسٹرار آفس کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل کو تاریخ دینے کی ہدایت کی ،آئندہ عام انتخابات کا شیڈول دسمبر کے دوسرے ہفتے میں جاری ہوگا ،8 فروری کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو دسمبر کے تیسرے ہفتے تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے ہوں گے،نواز شریف کی تاحیات نااہلی الیکشن قانون میں تبدیلی سے ختم ہوگئی

    نیب کی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل پر بھی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے، نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی،نواز شریف کی پیشی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف میں سیکورٹی سخت کی گئی تھی،پانچ سو کے قریب اہلکار سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،اسلام آباد کے پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار کے اہلکار بھی موجود ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں،نواز شریف کی پیشی سے قبل خواتین اہلکار بھی تعینات کی گئیں.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ آج میں عدالت کے سامنے فرد جرم کے بعد کی کارروائی پر دلائل دوں گا، مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر پر نواز شریف کی اعانت جرم کا الزام تھا،عدالت نے نواز شریف کے دونوں شریک ملزمان کی اپیل منظور کر کے بری کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ سے شریک ملزمان کی بریت کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے، احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو سیکشن 9 اے سے بری قرار دیا تھا، اس کیس میں اب بس سیکشن 9 اے 5 بچا ہے جو آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ہے،

    وکیل امجد پرویز نے نیب آرڈیننس کا سیکشن 9 اے 5 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کے تحت استغاثہ کو کچھ حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضہ ہے کہ ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ملزم کو بے نامی دار ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ ملزم کے اثاثے اس کے آمدن کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے،نیب آرڈیننس میں بے نامی دار لفظ کی تعریف کی گئی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی،سزا معطلی کے فیصلے میں ہم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا سہارا لیا تھا،بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں مزید وضاحت کی ہے اس پر ہماری معاونت کریں

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے اثاثوں کے حصول کے وقت معلوم ذرائع آمدن سے متعلق تحقیقات کرنا ہوتی ہیں،معلوم ذرائع آمدن کا اثاثوں کی مالیت سے موازنہ کرنا ہوتا ہے، یہ مقدمہ ایسا ہے جس میں اس کے مندرجات ہی ثابت نہیں کیے گئے، انہوں نے جرم کے تمام جز ثابت کرنے تھے، نہیں کیے،امجد پرویز نے نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات بمع تاریخ عدالت میں جمع کرا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ اثاثہ جات ایک ہی وقت میں آئی ہیں یا الگ الگ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ پراپرٹیز آئی ہیں، پورے ریفرنس میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق لکھا ہی نہیں ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن نے ریفرنس میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے یہ پراپرٹیز کب لیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پورے ریفرنسز میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں،اس کے بعد یہ بات سامنے آنی تھی کہ اثاثوں کی مالیت آمدن سے زائد ہے یا نہیں،اس تقابلی جائزے کے بغیر تو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہی نہیں بنتا،نیب انویسٹی گیشن، جے آئی ٹی یا سپریم کورٹ کے فیصلے میں پراپرٹیز کی مالیت کا تعین موجود نہیں جو پراپرٹیز کی مالیت کا تعین یا نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کرتی ہو. واجد ضیاء سٹار گواہ تھا اس نے بھی یہ بات مانی کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں تھی. فرد جرم عائد کرتے وقت یہ بات بتائی جاتی ہے کہ آپ کے اثاثے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس تو ہے بھی بس تین چار صفحوں کا ہی ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف کی ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کیلئے کوئی شہادت موجود نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے کیا ثابت کرنا ہوتا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کرنا ہوتا ہے، اُس کے بعد پراسیکیوشن نے زیرکفالت اور بےنامی داروں کو ثابت کرنا ہوتا ہے،پراسیکیوشن نے پھر آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین کرنا ہوتا ہے، پراسیکیوشن نے ذرائع آمدن کی اثاثوں سے مطابقت دیکھنی ہوتی ہے، نیب میاں نواز شریف پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بھی ثابت نہیں کر سکا،سب سے اہم بات ان پراپرٹیز کی آنرشپ کا سوال ہے،نہ تو زبانی، نہ دستاویزی ثبوت ہے کہ یہ پراپرٹیز کبھی نواز شریف کی ملکیت میں رہی ہوں، استغاثہ کو یہ ثابت کرنا تھا کہ مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز، نواز شریف کی زیر کفالت تھے، بچوں کے نواز شریف کی زیر کفالت کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں، ان تمام چیزوں کو استغاثہ کو ثابت کرنا ہوتا ہے، ان چیزوں کا بار ثبوت دفاع پر کبھی منتقل نہیں ہوتا، کوئی ثبوت نہیں کہ پراپرٹیز نواز شریف کی ملکیت یا تحویل میں رہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ سارا پراسیکیوشن کا کام ہے؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل یہ سب استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نوٹ کر رہے ہیں؟ یہ بڑی اہم باتیں کر رہے ہیں،نیب وکیل نے کہا کہ جی سر میں نوٹ کر رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں تو قلم ہی نہیں ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ استغاثہ کو پبلک آفس اور جرم میں گٹھ جوڑ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے،استغاثہ کو ثابت کرنا ہے کہ پبلک آفس کیسے بینامی جائیداد بنانے کیلئے استعمال ہوا، استغاثہ کو مندرجات ثابت کرنے ہوتے ہیں، اس کے بعد بار ثبوت ملزم پر منتقل ہوتا ہے، کورٹ نے مفروضے پر سزا دی اور فیصلے میں ثبوت کے بجائے عمومی بات لکھی، عدالت نے کہا کہ مریم نواز بینفشل اونر تھیں اور نواز شریف کے زیر کفالت بھی تھیں،لکھا گیا کہ بچے عمومی طور والد کے ہی زیرکفالت ہوتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے ایک نیب کے ملزم انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ امتیاز کو بری کیا ،اس بنیاد پر بریت ہوئی کہ نیب نے ملزم کی مبینہ جائدادوں کی قیمت اور ملزم کی آمدن کا تعین کئیے بغیر ہی اُس پر ریفرنس دائر کر دیا تھا،سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی بھی متضاد فیصلہ نہیں دیا،مریم نواز کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان عدالتی فیصلوں اور اصولوں کی توثیق کی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا کہ بینامی کیلئے 4 مندرجات کا ثابت ہونا ضروری ہے،ان چاروں میں سے ایک بھی ثابت نہیں تو وہ بینامی کے زمرے میں نہیں آئے گا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جناب میرا امتحان کیوں لے رہے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وہ تو ضروری ہوتا ہے نہ، عدالت کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے،

    امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مریم نواز کی ہائی کورٹ سے بریت کا فیصلہ پڑھ کر سنا یا اور کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مریم نواز کو بری کیا تھا، عدالت نے لکھا پراسیکیوشن کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک ڈاکومنٹ موجود نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں دائر اپیل کو منظور کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی بریت کا فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس لیئے ہم اس فیصلے سے باہر نہیں جا سکتے۔دوسری جانب نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی جس کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جولائی 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال اور دسمبر 2018 میں العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،نواز شریف نے عدالت میں سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی تھی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • ڈی ایچ اے حادثہ کی کہانی، افنان شفقت کے والد کی زبانی

    ڈی ایچ اے حادثہ کی کہانی، افنان شفقت کے والد کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں آج مشکل کام کرنے جا رہا ہوںَ دلخراش واقعہ ہوا، اس نے سب کو سوگوار کر دیا، خاص طور پر ماں باپ کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے، ایسے واقعہ کو نظرانداز کرنا، ایک حادثہ ہوا ڈی ایچ اے لاہور میں جس میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد پر قیامت آ گئی اور انکی موت ہوئی، مجھے یاد ہے، میں‌بیٹے کے ساتھ آ رہا تھا ہم نے دو گاڑیاں دیکھیں مین بلیوارڈ پر لگی ہوئی تھیں، میں نے بیٹے کو کہا کہ اللہ رحم کرے، جتنا بڑا حادثہ ہوا کوئی زخمی نہ ہوا ہو، اس رات تو ہمیں پتہ نہ چلا اگلے دن خبر آنا شروع ہو گئی کہ چھ افرا د کی موت ہوئی، حادثاتی موت بھی شہادت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ سوگواران کو صبر دے،آمین،اسکے بعد میں نے دیکھا کہ جس طرح خبریں آنا شروع ہوئیں ان میں سب سے پہلے یہ آئی کہ لڑائی ہوئی تھی، ہاتھا پائی ہوئی،لڑکیوں کو چھیڑنے کی بات ہوئی پھر کہا کہ ڈی ایچ اے میں نہیں رہنے دوں‌گا، میں سوچ رہا تھا کہ یہ باتیں کہاں سے آ رہی ہیں، انکا گواہ کون ہے؟ حادثہ کا تو سب کو سمجھ آتا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ ملتا ہے، لیکن رکنا ، گالم گلوچ کرنا یہ کہاں سے نکلا؟ ہم نے اس کیس کو دیکھنا شروع کیا، مظلوم فیملی جن کی اموات ہوئی انکے والد نے میڈیا ٹاک کی، میں نے وہ سنی، بچے کی ایک ویڈیو آئی اور میں نے ایک ویلاگ میں کہا کہ پولیس اس بچے کی ویڈیو کیسے وائرل کر سکتی ہے یہ کم عمر ہے، پولیس کا کون کیا کر سکتا ہے، زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لئے سسپینڈ ہو جائیں گے، پھر آہستہ آہستہ دہشت گردی کا پرچہ ہو گیا، جج نے کہا کہ میں نہیں سن سکتا، یہ اے ٹی سی کورٹ سنے گی، آج صبح مجھے پتہ چلا کہ بچے کا مزید ریمانڈ مل گیا، پولیس ایک ماہ کا ریمانڈ مانگ رہی تھی تا ہم پانچ دن کا عدالت نے دیا، اس کی وجوہات بہت ہیں، آج کار حادثہ کے ملزم افنان کے والد شفقت ہمارے ہمراہ ہیں

    مبشر لقمان نے افنان کے والد شفقت سے سوال کیا کہ بہت بڑا ظلم ہو گیا ہے، جس پر شفقت کا کہنا تھا کہ ایسی ہی بات ہے، یہ ایک حادثہ تھا، ایک ہی فیملی کے چھ لوگ چلے گئے، اس سے بڑا اور ظلم کچھ نہیں کہہ سکتے، ہماری تمام تر ہمدردیاں اسکے ساتھ ہیں، میں نے کل بھی میڈیا پر بات کی، ہم اس کےبارے بات نہیں کر سکتے ،اتنا بڑا حادثہ ہوا، یہ اللہ کی مرضی تھی اور ہمارے بچے سے یہ ہونا تھا، یہ ایک حادثہ تھا اسکو جس رنگ میں پیش کیا گیا اور جس طرح روز چیزیں بدلتی گئیں ہمارے لئے وہ اور فکر کی بات تھی، ہمیں اس فیز میں دھکیل دیا گیا کہ ہم ہمدردی بھی نہیں کر سکتے، دعا کے لئے بھی نہیں جا سکتے، جب حادثہ ہوا تو میرا بیٹا اسی وقت گرفتارہو گیا، ایف آئی آر ہو گئی، اگلے دن ہماری کوشش تھی کہ جب میتیں آئیں گی تو ہم جنازے میں شرکت کریں گے، کچھ فیملی کے لوگ تیار تھے، میری بھی کوشش تھی کہ جاؤں، اس وقت یہ بات کر دی گئی کہ قتل کیا گیا، ہم پوسٹ مارٹم کروا رہے ہیں،یہ ایف آئی آر کے اگلے دن بعد کا بیان ہے، جب 302 کے بیان کی بات آئی تو ہم محتاط ہو گئے کہ انکے جذبات پتہ نہیں کیا ہوں گے، قتل کیسے ہوایہ وہ جانتے ہیں، پہلے کبھی میری ان سے ملاقات نہیں، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں،مدعی کا بیان ہے کہ میں بھی ساتھ تھا لیکن میں ساتھ نہیں تھا، میں عسکری الیون تھا اور گھر سے نکل رہا تھا، اسکی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، بیٹا الگ تھا ، آٹھ چالیس ، پینتالیس کو رات کو بیٹا گاڑی لے کر نکلا مجھے پتہ تھا کہ یہ نکلا ہے، ہم لوگ فلیٹ میں رہتے ہیں،

    مبشر لقمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پڑھا ہے کہ آپ بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون ہیں، جس پر شفقت کا کہنا تھا کہ یہ آن دی ریکارڈ ہے کہ میں فلیٹ میں اور رینٹ پر رہتا ہوں، اپنا گھر نہیں ہے، بچوں کو اچھی تعلیم دے رہا ہوں، ہر والد کی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو اچھی تعلیم دی جائے، اس کوشش میں میں اپنا گھر ابھی تک نہیں بنا سکا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا سوال یہ ہو گا کہ کیا تعلیم دی بچوں کو کہ کم عمر بچہ گاڑی چلا رہا، شفقت کا کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے، اس معاملے میں صرف میں نہیں ہوں، ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، بچے جاتے ہیں، اسکا مطلب یہ نہیں کہ بچے نافرما ن ہیں میرے بچے نے کبھی نشہ نہیں کیا، اپنی سائیڈ پر سیدھا جانا تھا اس نے سپیڈ کا نہیں کہتا کہ کم تھی یا زیادہ، سپیڈ پچاس تھی یا ڈیڑھ سو ، یہ بحث نہیں بندے تو مرے ہیں انکا دکھ کرنا چاہئے، فرض کریں ہم پچاس کی سپیڈ کہہ دیتے لیکن بندے تو مرے،جب یہ گیا اسکے پندرہ بیس منٹ بعد بیٹے کی کال آئی کہ بابا گاڑی لگ گئی، میں اسوقت فیز فائیو میں تھا، اسکی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ہے، مجھے وہاں پہنچتے دس پندرہ منٹ لگے، اسوقت لوگوں نے اسکو گھیرا ہوا تھا ، تشدد کر رہے تھے، نو بجکر 11 منٹ پر پہلی کال چلی، اسکے بعد پولیس اس کو لے کر گئی.پولیس اور ریسکیو دیر سے آئے،

    ملزم افنان کے والد شفقت کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں

  • انٹرا پارٹی انتخابات،بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین کے امیدوار نامزد

    انٹرا پارٹی انتخابات،بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین کے امیدوار نامزد

    تحریک انصاف کا کون ہو گیا نیا چیئرمین؟ شیر افضل مروت کے گزشتہ روز کے اعلان کے بعد تردیدیں، دعوے، لیکن حتمی فیصلہ کچھ نہ ہو سکا، شیر افضل مروت اپنے دعوے پر قائم ہیں کہ چیئرمین عمران خان نہیں ہوں گے تا ہم اب لطیف کھوسہ نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اور کہا کہ چیئرمین عمران خان ہی ہوں گے، دوسری جانب پی ٹی آئی میں شدید اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں

    اب بیرسٹر علی ظفر نے اعلان کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے فوراََ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی منظوری دی ،چیئرمین پی ٹی آئی عارضی طور پر انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے لیے اُمیدوار نامزد کردیے گئے۔الیکشن کمیشن کو موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ ہم سے بلے کا نشان لے،قانونی طور پر عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں،علی ظفر کا کہنا تھا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے قانونی ٹیم سے چئیرمن شپ کے انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی،قانونی ٹیم کے مطابق چئیرمن پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ ہوا اور سزا سنائی گئی،ہمارے مطابق یہ سزا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، قانونی طور پر چئیرمین پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں ،ہمارے خدشات ہیں کہ اگر چئیرمن پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو الیکشن کمیشن آخری وقت میں بلے کا نشان واپس لے سکتا ہے،ہم نے ان قانونی معاملات پر چئیرمین کو آگاہ کیا، چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام میرے ساتھ ہے، میں کسی قسم کا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا،چئیرمین نے کہا کہ میں عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہوں، انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے کی ضرورت نہیں، چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عارضی طور پر چئیرمین شپ کیلئے کوئی اور امیدوار ہو،

    علی ظفر کے بیان کے بعد شیر افضل مروت سچے ثابت ہو گئے، انکا کل کا بیان درست تھا حالانکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی، کیا اب شیر افضل مروت کے خلاف مہم چلانے والے شیر افضل مروت سے معافی مانگیں گے؟

    عہدہ امانتاً قبول کر رہا ہوں،بہت جلد یہ عہدہ عمران خان کو واپس دیں گے،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے نامزد چیئرمین بیرسٹر گوہر نے علی ظفر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عمران خان باعزت واپس نہیں آجاتے، میں ذمہ داری نبھاؤں گا، ہماری جدوجہد وہی ہے جو عمران خان کی تھی، انہی کا نظریہ اول آخر ہے، وہ جیل کے اندر ہوں یا باہر اصل لیڈر وہی ہیں،ہمارا نظریہ وہی ہے جو خان صاحب کا ہے،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف کا عہدہ امانتاً قبول کر رہا ہوں انشاء اللہ بہت جلد یہ عہدہ عمران خان کو واپس دیں گے

    https://twitter.com/BarristerGoharA/status/1729830211561128369

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات سامنے آئے ہیں،مرکزی رہنما شیرافضل مروت کا رہنماء پی ٹی آئی عاطف خان کیخلاف مبینہ آڈیو پیغام لیک ہوا ہے،شیر افضل مروت کہتے ہیں کہ عاطف خان نے کارکنوں کو پیغام بھیجا ہے کہ کنونشن سے بائیکاٹ کیا جائے، عاطف پی ٹی آئی پشاور ریجن کا صدر اور ذمہ دار بندہ ہے،اس نے نامناسب بات کی،عاطف خان کو کوئی حق نہیں کہ چیرمین پی ٹی آئی کے کنونشن سے بائیکاٹ کی باتیں کریں،علی امین گنڈاپور اس معاملے پر عاطف خان کو شوکاز نوٹس دیں،عاطف خان وضاحت دیں کہ اس نے کس حیثیت سے بائیکاٹ کی بات کی،عاطف خان سے اس بات پر چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پوچھا جائے گا،عاطف خان کی اس بات کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن کے معاملے پر سینئر نائب صدر شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ میرے گزشتہ روز کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر میرے خلاف بہت زیادہ ردعمل سامنے آرہا ہے،میں نے عدالت کی جانب سے عمران خان کی پارٹی چیئرمین کے طور پر نااہلی کے حوالے آگاہ کیا، قانونی پہلوؤں کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی چیئرمین کے لیے الیکشن نہیں لڑ سکیں گے،میں نے یہ خبر جیل میں چئیرمن پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بتائی، یہ خبریں میں نے نہیں بنائیں اور نہ ہی میں توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے عدالتی فیصلے کا ذمہ دار ہوں، میرے خلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے،چئیرمن شپ کے الیکشن کا فیصلہ سینیٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر عمیر نیازی اور میری موجودگی میں چئیرمن سے ملاقات میں ہوا،میرے خبر دینے کے فوراً بعد میڈیا نے میرے بیان کی تردید شروع کردی،پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے مجھ سے تصدیق کے بغیر بیان جاری ہوناافسوس ناک ہے،بدقسمتی سے میرے بارے میں بہت غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں کہ تضاد کے پیچھے کون ہے، پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئیٹر اکائونٹ سے بیان ہٹا دینا چاہئے ، بدنام کرنے والے لوگ مجھے تحریک انصاف کی قیادت کی خواہش کرنے کی تصویر کشی کرنا بند کر دیں،میں یہاں سیاست کو فتح کرنے کی نیت سے نہیں آیا، ہمیں ان مشکل حالات میں ہمت کی ضرورت ہے، کوئی بھی جو پاکستان کا وفادار ہے وہ میری کوششوں کو سراہے گا،میں اس مشکل وقت میں چئیرمن پی ٹی آئی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں، ہم سب کو اس ظلم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے،جیل میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ساتھ، ان کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے انہیں توڑ کر رکھ دیا، تحریک انصاف میں شاید ہی کوئی ایسا بچا ہو جس پر ناقابل تصور تشدد نہ کیا گیا ہو، پی ٹی آئی میں ہمیں اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے، میں تحریک انصاف میں نیا ہوں لہذا اس معاملے پر کسی کو موردالزام نہیں ٹھہراتا، پی ٹی آئی کی زیادہ تر سینئر قیادت ابھی تک جیلوں میں قید ہے، اس وجہ سے پارٹی میں تنظیم اور معلومات کے بہاؤ کو کسی حد تک نقصان پہنچا ہے، میں حال ہی میں کنونشنوں میں میرے فعال کردار کی وجہ سے عوام کی طرف سے مجھے دی جانے والی عزت کے لیے بہت مشکور ہوں، میں اس اعتماد کو کبھی نہیں توڑوں گا جو چئیرمن پی ٹی آئی نے مجھ پر ڈالا ہے،جو اس مشکل وقت میں چئیرمن پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ مقبول ہوگا، مجھ پر تنقید کرنے والے لوگوں کو کہتا ہوں کہ کنونشنز میں میرا ساتھ دیں اور فرنٹ لائن پر ہمارے ساتھ لڑیں،

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاور مانیکا کے بیان پر چیئرمین پی ٹی آئی کو تکلیف ہوئی کہ کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے،اور اتنا جھوٹ بھی بول سکتا ہے، سیاست میں سب ہوتا ہے کیسسز بنا دیئے جاتے ہیں،لیکن کوئی اتنا گر سکتا ہے، سابق وزیر اعظم کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں،خاور مانیکا کو 2 ماہ پابند سلاسل رکھا گیا، جج کے سامنے بیان پر خاور مانیکا لکھے ہوئے کاغذ کو پڑھ رہے تھے،انھیں لکھا ہوا کاغذ دیا گیا، انھیں 6 سال بعد یاد آ گیا کہ یہ عدت میں شادی ہوئی تھی،پی ٹی آئی چیئرمین نے آج پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا کہا ہے کہ قوم کو اور پارٹی کو آپکی ضرورت ہے ، پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے اپنے دوستوں اور فیملی سے مشاورت کروں گا،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں پی ٹی آئی چیئرمین کی ایک اور بشری بی بی کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی، 35 ارب روپے سپریم کورٹ سے نکال کر سرکاری خزانے میں داخل کر دیا گیا، 460 ارب روپے بحریہ ٹرسٹ نے 2026 تک پیسے جمع کروانے کا وقت ہے، القادر ٹرسٹ میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے یونیورسٹی بنا کر تحفہ میں دی گئی،القادر ٹرسٹ کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین اور بشری بی بی کا کوئی واسطہ نہیں ہے، توشہ خانہ میں بھی پی ٹی آئی چیئرمین کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے، پی ٹی آئی چیئرمین اور بشری بی بی کی درخواست ضمانت کو 6 دسمبر تک توسیع دی گئی، جیل ٹرائل کی شروعات نہیں ہوئی، نوٹیفکیشن غیر موثر ہو سکتا ہے،352 کے مطابق میں جیل ٹرائل نہیں بلکہ اوپن ٹرائل ہی ہو سکتا ہے،اوپن ٹرائل کا مقصد ہے کہ پوری دنیا انصاف کا بول بالا ہوتا دیکھ سکے،مائنس پی ٹی آئی چیئرمین کا تصور نہیں ہے، پی ٹی آئی کا چیئرمین عمران خان ہے اور عمران خان ہی چیئرمین رہے گا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا جارہا ہے، انٹرا پارٹی الیکشن میں پی ٹی آئی چیئرمین ہوں گے،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • بلوچ طلبا بازیابی کیسَ:کیا ہم خود جب لاپتہ ہوں گے تب سمجھ آئے گی؟،اسلام آباد ہائیکورٹ

    بلوچ طلبا بازیابی کیسَ:کیا ہم خود جب لاپتہ ہوں گے تب سمجھ آئے گی؟،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد: بلوچ طلبا بازیابی کیس میں عدالت نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے کہا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پھر آپ دونوں کو گھر جانا پڑے گا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کمیشن عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محسن اخترکیانی نے سماعت کی اس موقع پر نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، نگراں وزیر انسانی حقوق خلیل جارج اور لاپتہ بلوچ افراد کے اہل خانہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے، نگراں وزیراعظم انوار الحق عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے۔

    بلوچ طلبا بازیابی کیس کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے کہا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پھر آپ دونوں کو گھر جانا پڑے گا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں شروع

    دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ مجموعی طور 69 طلباء لاپتہ تھے،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے، مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے ہیں، 28 بلوچ طلباء تاحال لاپتہ ہیں، میں یقین دہانی کراتا ہوں تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں کریں گے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے، جس کا پاکستان میں جو دل کررہا ہے وہ کررہا ہے، اس کیس میں سارے طالبعلم ہیں، یہ ہمارے اپنے شہری ہیں، پاکستان میں کوئی قانون نہیں، لاپتہ افراد کا الزام ہماری ایجنسیوں پرہے، یا تو بتائیں کہ دوسرے ملک کی ایجنسی نے بندے اٹھائے ہیں ، ایک مخصوص ادارے پر الزامات ہیں ،تحقیقات بھی اسی سے کرائیں گے ؟ ریاستی ادارہ کوئی کام کرے تو انہیں پراسکیوٹ کون کرے گا، ان میں سے کوئی دہشت گرد ہے تو کارروائی کریں، سوال بہت سادہ ساہے پیش کی گئی رپورٹ سےلگتا ہے اگر ہم کلبھوشن کا ٹرائل کرسکتے تو باقیوں کا بھی کرسکتے ہیں۔

    ملزم کو جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کا بھرپور وقع دیا جائے،لاہور ہائیکورٹ

    وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بہت سارے افراد عدالتی مفرور ہیں، کچھ افراد افغانستان چلےگئے، الخانہ کمیشن میں درخواست دے دیتے تو یہ افراد فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ پاکستان میں جس کا جو دل کر رہا ہے وہ کر رہا ہے، المیہ ہے کہ مقدمہ اندراج کے بعد خاموشی چھاجاتی، کیا ہم خود جب لاپتہ ہوں گے تب سمجھ آئے گی؟

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بلوچستان کا بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور یہاں انتظامیہ 365 کے تحت ایک کارروائی کرکے منہ دوسری طرف کر لیتی ہے ، جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں عدالت کے سامنے پیش کریں ، کسی ایجنسی کو استثنی نہیں کہ جس کو مرضی برسوں اٹھا کر لے جائیں ، پھر وہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے حوالے کر دیں ، کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ کام ہوتے ہیں ، جو بھی لاپتہ شخص بازیاب ہوتا ہے وہ آکر کہتا ہے میں کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا ، بند کمروں میں کسی کی نہیں سنوں گا ، جو کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں۔

    فائرنگ کے مختلف واقعات ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ کوئی قانون سے ماورا نہیں، قانون کا یہ چکر چلے گا تو وہ لوگ بھی پراسکیوٹ ہوجائیں گے جو جبری گمشدگیاں کر رہے ہیں جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پولیس بندہ لیکر جاتی ہے بعد میں بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے، تھانے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہاں بندہ ہی نہیں، جبری گمشدگی والے کیسز میں لوگ آپ کے اپنے اداروں کے پاس ہیں ، سیکرٹری دفاع ذمہ دار ہیں کہ ان کے ادارے کسی ایسے کام میں ملوث نا ہوں، جبری گمشدگی کیسز کا حل نکال کر رہا کریں یا عدالت پیش کریں ، آج تک کسی اسٹیٹ کے ادارے کو ذمہ دار ٹھہرا کر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ جسٹس محسن اخترکیانی نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا مائنڈ بتا دیا ہے۔

    لاپتہ بلوچ شخص کی بہن عدالت کے سامنے بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نا رکھ سکیں اور رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف بلوچ اور کزن رشید بلوچ کو 2018 میں گرفتار کیا گیا ، سرفراز بٹی کہتے ہیں یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے میرا سب کچھ رک گیا ، ہم سارا گھر ختم ہو گیا ہے چھ سال سے دھکے کھا رہے ہیں۔

    کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 470 پوائنٹس کا اضافہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پھر آپ کو اور وزیراعظم کو گھر جانا پڑے گا، دو ہفتے میں ان افراد سے ملاقات کریں اور مسئلہ حل کرائیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے سرفراز بگٹی سے کہا کہ اس معاملے پر سیکرٹری دفاع کو ہدایات جاری کریں اور ماتحت اداروں کو بلا کر پوچھیں بڑے واضح الفاظ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ، سیکرٹری دفاع و سیکرٹری داخلہ بھی ذمہ دار ہوں گے ، مجھے رزلٹ چاہے یہ بچی آئندہ سماعت پر کہے کہ میرا بھائی واپس آگیا ہے، ان سے ملیں ان کو بلا لیں یا خود پریس کلب جائیں ان کی بات سنیں،نگران وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ دو دن میں مل لوں گا کھانے پر بلاؤں گا، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت 10جنوری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 22 نومبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت عالیہ نے وزیراعظم سمیت وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو بھی آج عدالت طلب کیا تھا۔

    شہباز شریف رمضان شوگر ملز ریفرنس میں احتساب عدالت پیش