Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں عمران خان کوملنے گئیں تو آج بشریٰ بی بی کے حق میں نعرے لگانے والے سامنے آ گئے،نہ صرف بشریٰ بی بی کے حق میں نعرے لگائے گئے بلکہ مطالبہ کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کو پارٹی چیئرمین بنایا جائے

    عمران خان اڈیالہ جیل میں سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، القادر ٹرسٹ میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، ایسے میں بشریٰ بی بی عمران خان کو جیل میں ملنے جاتی ہیں،گزشتہ رو ز بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل گئیں تو انکے خلاف نعرے بازی کی گئی تاہم آ ج منگل کو بشری بی بی کی آمد پر ایسے نوجوان موجود تھے جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی بھی کر رہے تھے، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ علیمہ خان کی جگہ بشریٰ بی بی کو پارٹی کا چیئرمین بنایا جائے، علیمہ خان کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ہے، شرکاء نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،حلیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور لکھے ہوئے تھے،

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹر اپارٹی الیکشن کروانے کا حکم دے رکھا ہے، ایسے میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے، پارٹی چیئرمین کون ہو گا؟ پی ٹی آئی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان ہی چیئرمین ہوں گے، تاہم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہو ئی، عمران خان ایسے میں قانونی طور پر پارٹی چیئرمین نہیں بن سکتے،کیونکہ نواز شریف کو سزا ہوئی تو انہیں بھی پارٹی سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور وہ پارٹی قائد بن گئے تھے، اب پی ٹی آئی میں پارٹی چیئرمین شپ پر جنگ شروع ہو گئی ہے، ایک طرف شیر افضل مروت متحرک ہیں ، بشریٰ بی بی کے خلاف احتجاج ہوتا ہے، چودھری سرور دوبارہ پی ٹی آئی میں شمولیت کی ناکام کوشش کرتے ہیں،علیمہ خان روز عدالت کے باہر یا جیل کے باہر جا کر میڈیاٹاک کرتی ہیں،جیل میں موجود شاہ محمود قریشی بھی پارٹی چیئرمین شپ کے خواہشمند ہیں تا ہم اب چیئرمین شپ کی لڑائی، یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا آنے والا وقت ہی بتائے گا،

    بریکنگ،عمران خان پارٹی چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑیں گے، اعلان کر دیا گیا
    تحریک انصاف کے نائب صدر، اور عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ قانونی قدغن کی وجہ سے عمران خان چیئرمین پی ٹی آئی کا الیکشن نہیں لڑیں گے ،اتفاق رائے یہ یہ فیصلہ ہوا ہے کہ عدالت کی طرف سے نااہلی ختم ہونے پر دوبارہ چیئرمین منتخب ہونگے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ خان نے اِسوقت پاکستان میں حوصلے و ہمت کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ وہ جیل میں اپنا وقت اللّٰہ کی عبادت میں گُزار رہے ہیں۔ جب آپ اُنہیں دیکھیں گے تو اُنکے چہرے پر نظر آئیگا کہ اللّٰہ نے اُنہیں جیل میں ہی فاتح بنادیا ہے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن جمعہ کو متوقع ہیں.

    ایک صارف سعید بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ غالباً کل فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی چار حصوں میں تقسیم ہونے جا رہی ہے اور اب یہ دیکھ کر وہ بات کچھ سچ ہوتی معلوم ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی کو تقسیم کرنے کے کام پر باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کے حق میں اور علیمہ خان کے خلاف یہ نعرے بازی کروائی جا رہی ہے،فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی چار حصوں میں تقسیم ہوگی جس میں ایک حصہ بشریٰ بی بی کے ساتھ، ایک علیمہ خان کے ساتھ، ایک شیر افضل مروت کے ساتھ اور ایک حصے کو آصف علی زرداری کی سپورٹ حاصل ہو گی، منصوبے پر برق رفتاری سے کام شروع کر دیا گیا ہے، مقصد پی ٹی آئی کو تقسیم کرنا اور ووٹرز کو بدظن کرنا ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر شہریوں کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف نعرے بازی کی گئی،عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تو شہریوں نے پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی کی گاڑی کو گھیر لیا ،شہریوں کی جانب سے بشری بی بی کی گاڑی کے آگے شدید نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کرنے پر فوری کاروائی کی جائے،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی غیر شرعی نکاح کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی

    غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت سول جج قدرت اللہ نے کی،درخواست گزار خاور فرید مانیکا کی جانب سے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے،عدالتی حکم پر گواہان مفتی سعید، عون چوہدری اور محمد لطیف عدالت پیش ہوئے، عدالت نے گواہ مفتی سعید کا بیان قلمبند کرنا شروع کردیا، جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ اردو میں بیان قلمبند کروائیں گے؟ مفتی سعید نے کہا کہ میں اردو میں ہی اپنا بیان عدالت میں قلمبند کرواؤں گا،میری عمر 62 سال ہے اور چھترپارک میں ندوت العلماء میں پڑھاتاہوں، سول جج قدرت اللہ نے کہا کہ بیان دینے سے پہلے حلف لینا پڑےگا، مفتی سعید نے بیان قلمبند کرنے سے قبل حلف اٹھایا،مفتی سعید نے حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے جو کچھ عدالت میں بیان دوں گا سچ کہوں گا جھوٹ نہیں کہوں گا

    مفتی سعید نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتےہوئے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے اچھے تعلقات تھے، پی ٹی آئی کور کمیٹی کا ممبر بھی تھا،یکم جنوری 2018 کو چیئرمین پی ٹی آئی نے رابطہ کیا ، مفتی سعید صفحہ سے پڑھ کر بیان قلمبند کروا رہے،عدالت نے استفسار کیا کہ دیکھ کر پڑھنے والے جھوٹ بولتے ہیں آپ نے عہد لیا ہوا زبانی بتائیں ،مفتی سعید نے کہا کہ مجھے چیئرمین پی ٹی آئی نے لاہور بلایا اور کہا نکاح پڑھانا ہے، لاہور ایک گھر میں پہنچے جہاں ایک خاتون بشریٰ بی بی کی بہن ظاہر کررہی تھی، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شرعی تقاضے پورے ہیں ، اس یقین دہانی کی بعد نکاح پڑھایا ، نکاح کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بنی گالا رہنے لگے ، نکاح میں شریک لوگوں میں سے دوبارہ فروری میں رابطہ کیا ،سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کتنے نکاح اپ پڑھوا چکے ہیں؟مفتی سعید نے عدالت میں کہا کہ بےشمار نکاح پڑھائے، دوستوں کے بھی پڑھا دیتاہوں، جج قدرت اللہ نے کہا کہ اگر رضوان عباسی دوسری شادی کریں تو نکاح پڑھائیں گے؟جج قدرت اللہ کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ عدت کے حوالے سے آپ نے بشریٰ بی بی سے خود کیوں نہیں پوچھا؟ مفتی سعید نے کہا کہ ہمارے ہاں خاتون سے ایسا کچھ پوچھا نہیں جاتا،بشریٰ بی بی، چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح میں نے پڑھا دیاتھا،فروری 2018 میں مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا گیا،مجھے بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کا نکاح دوران عدت ہوا،عدالت نے استفسار کیا کہ کس نے رابطہ کیا دوبارہ نکاحِ پڑھانے کے حوالے سے؟ مفتی سعید نے کہا کہ مجھے یاد نہیں مجھ سے کس سے نکاح کے حوالے سے دوبارہ رابطہ کیاتھا،بشریٰ بی بی نے کہا خاورمانیکا سے میری طلاق ہو چکی ہے،بشریٰ بی بی کی سہیلیوں نے بھی بتایا کہ خاورمانیکا سے طلاق ہوچکی ہے،نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق دی گئی تھی،مجھے بتایاگیاکہ جنوری 2018 کے پہلے دن نکاح ہوگیا تو چیئرمین پی ٹی آئی بڑے عہدے پر فائز ہو جائیں گے، مجھے بشریٰ بی بی کی کہی ہوئی بات چیئرمین پی ٹی آئی نے خود بتائی،میرے نزدیک یکم جنوری 2018 والا نکاح غیرشرعی اور نکاح کی تقریب غیرقانونی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کرغیرشرعی نکاح پڑھوایا،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کو معلوم تھا کہ شرعی نکاح کے لوازمات پورے نہ تھے،

    سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ مجھے بتائیں عدت کی کیا اہمیت ہے اسلام میں ؟ مفتی سعید نے کہا کہ عدت عورت کو شوہرکے گھر پر گزارنی چاہیے تاکہ شوہر کو دوبارہ رجوع کرنے کا موقع مل جائے،عدت پوری کرنے کا مقصد دوران عدت اگر خاتون حاملہ ہو تو معلوم ہو جائے،سول جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ اگر تین طلاق ہوں ہو تو شوہر کو رجوع کرنے کا موقع مل جائے؟ ایسا ہی ہے؟ مفتی سعید نے کہا کہ اگر شوہر طلاق کے بعد خاتون سے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے،اہل تشیع میں رجوع کی بات ہے ہی نہیں، زبانی طلاق بھی نہیں ہوتی،سول جج قدرت اللہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے دونوں نکاح آپ نے بڑھائے تھے؟ مفتی سعید نے کہا کہ میں نے چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے دونوں نکاح پڑھائے ہیں،عدالت نے کہا کہ اگر جھوٹی گواہی عدالت میں دی جائےتو اس کی کیا دین میں حیثیت ہے؟مفتی سعید نے کہا کہ طلاق ثالثہ نہ لکھیں، طلاق ثالث لکھیں ورنہ لوگ ہنسیں گے،عدالت نے کہا کہ لوگ تو اور بھی بہت سی باتوں پر ہنس رہے ہیں، مفتی سعید کا مکمل بیان عدالت میں قلمبند ہوگیا

    بشریٰ بی بی کے کہنے پر عمران خان نے ریحام خان کو طلاق دی تھی،عون چودھری
    عون چوہدری کمرہ عدالت میں پہنچ گئے،عون چوہدری کا بیان عدالت میں قلمبند ہونا شروع ہو گیا.عون چودھری نے کہا کہ میں 45 سال کا ہوں، قوم گجر ہے، استحکام پاکستان پارٹی کا سیکرٹری ہوں،میں چیئرمین پی ٹی آئی کا سیاسی اور پرائیویٹ سیکرٹری تھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ نہایت قریب تھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کی آنکھیں اور کان تھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کے سیاسی اور زاتی معاملات بھی دیکھتاتھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے معاملات بھی دیکھتاتھا،نومبر 2015 میں ریحام خان کے ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی طلاق ہوئی،ریحام خان کو طلاق دینے کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے تجویز لی،بشریٰ بی بی کے کہنے پر چیئرمین پی ٹی آئی نے ریحام خان کو طلاق دی،چیئرمین پی ٹی آئی نے ریحام خان کو بذریعہ ای میل طلاق دی،ریحام خان بیرون ملک تھیں جب چیئرمین پی ٹی آئی نے طلاق دی،چیئرمین پی ٹی آئی کافی پریشان ان دنوں دکھائی دےرہےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی اپنے ازدواجی تعلقات کے حوالے سے پریشان رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی اکثر کہتےتھے کہ بشریٰ بی بی کے پاس لے جاؤ تاکہ روحانی سکون حاصل ہو،میں بھی بشریٰ بی بی کے پاس لے کر جاتاتھا، چیئرمین پی ٹی آئی خود بھی جاتےتھے،31 دسمبر 2017 کو چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھےکہا بشریٰ بی بی کو لاہور لے کر جاناہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا بشریٰ بی بی کے ساتھ نکاح کے انتظامات کرو،میں حیران ہوگیا کیونکہ بشریٰ بی بی تو پہلے سے شادی شدہ ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا بشریٰ بی بی کو طلاق ہو چکی،یکم جنوری 2018 کو میں، زلفی بخاری لاہور گئے،مفتی سعید نے ڈیفینس لاہور میں بشریٰ بی بی کا نکاح چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ پڑھایا،میں چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے نکاح کا گواہ ہوں،میرے سامنے مفتی سعید نے بشریٰ بی بی سے ہوچھا تو بشریٰ نے بتایا مجھے طلاق ہو چکی،بشریٰ بی بی نے کہا شرعی لوازمات پورے ہیں، نکاح پڑھا دیاجائے،میڈیا پر آگیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے شادی ہو چکی،میڈیا پر معلوم ہوا کہ دوران عدت نکاح ہوا، ہم نے خاموشی اختیار کی،چیئرمین پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی کا فروری میں دوبارہ نکاح پڑھایا گیا،میڈیا پر شور مچا کہ دوران عدت چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کا نکاح ہوا،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا خاموشی اختیار کریں، عدت پوری ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کرلیں گے،بشریٰ بی بی نے مجھے بتایا عدت 14 سے 18 فروری کے درمیان پوری ہورہاتھی،دوسرا نکاح بنی گالا میں فروری 2018 میں زبانی پڑھایاگیا، میں موجود تھا،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے نکاح کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے،میں اور زلفی بخاری دونوں دوسرے نکاح کے گواہ تھے،چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ سے شادی کرنا چاہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھے کہا بشریٰ سے نکاح ہوا تو وزیراعظم بن جاؤں گا،پہلا نکاح دوران عدت جان بوجھ کر چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے کیا،چیئرمین پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی کا پہلا نکاح پیشگوئی کے زیر اثر تھا،بشریٰ بی بی ، چیئرمین پی ٹی آئی کا پہلا نکاح غیرشرعی، غیرقانونی اور فراڈ پر مبنی تھا، عون چوہدری نے اپنا بیان عدالت میں قلمبند کروادیا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف مرحوم کی سنگین غداری کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،توفیق آصف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر پیش ہوئے اور کہا کہ آخری سماعت کے دوران میں اپنے دلائل مکمل کرہا تھا،میں عدالت میں تحریری دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تحریری دلائل کمرہ عدالت میں پڑھیں گے یا ہم خود پڑھ لیں ؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں میں نے تحریری معروضات جمع کروا دیں ہیں، توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کرلئے

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا؟ کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے جب فیصلہ دیا تو کیا خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا تو اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیا، مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاونت نہیں مل رہی،لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے جب فل کورٹ تشکیل تجویز کی تو اگلی تاریخ کیسے دی؟فل کورٹ تشکیل دینا نہ دینا تو پھر چیف جسٹس کا اختیار تھا،عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں درخواست ترمیم کے بعد کی چل رہی تھی،ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی ،خصوصی عدالت ایک ریگولیٹر عدالت تھی ہی نہیں،وہ تو ایک فیصلے کیلئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے،پرویز مشرف نے اسی لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو جانتے ہیں یا نہیں؟خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے, ہائیکورٹ کے حکم میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنے کا نہیں کہا گیا,

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی تو استدعا ہی نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا فیصلہ آچکا تھا،سارے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر نہیں،وکیل نے کہا کہ اسی وجہ سے پرویز مشرف نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایک روز کا نوٹس دیا ،کیا ہائیکورٹ میں ایک روز کا نوٹس دیا جاتا ہے، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ بھجواتے ہوئے تاریخ کیسے دی جا سکتی ہے،ممکن ہے چیف جسٹس فل کورٹ سے متفق ہو یا نہ ہو، خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم ہونی چاہیے تھی، خصوصی عدالت صرف اسی کیس کیلئے بنائی گئی تھی جو فیصلہ سناتے ہی ختم ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متفق تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا موقف ہے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ فیصلے کو تسلیم کرتے تو پھر یہ اپیل نہ کرتے، پرویز مشرف کے وکیل آج بھی اپیل پر کھڑے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا یا سیم پیج پر تھی،خصوصی عدالت کے فیصلے بارے ہائیکورٹ کو بتانا تو تھا، اگر آئین غصب ہو جائے تو پھر عدالت 1956 تک بھی جا سکتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نےویڈیو لنک پر دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان بار کے دلائل اپنانا چاہتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا،رشید رضوی نے کہا کہ مجھے جسٹس اطہر من اللہ کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،پرویزمشرف کےمارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کاروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کاروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہدایات کی بات نہ کریں آپ خود ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے بتائیں،کیا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصلہ مانتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، فیصلہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھینک یو،آپ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جو راستہ چنا تھا ہم اس سے متفق ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ بھی لاہور ہائیکورٹ میں سیم پیج پر تھے،کیا وفاق نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو نہیں بتایا کہ اب خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی،کیا آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا نہیں کہ آپ آگے نہیں چل سکتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سوال کا واضح جواب نہ دے سکے.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے،جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا،ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا،کیا ساوتھ افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟ قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی،کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں،وکیل آکر بتائیں نہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں،میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے،بتائیں نہ کتنے صحافی مارشل لاء کے حامی کتنے خلاف تھے؟ ہمیں تاریح سے سیکھنا چاہیے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تاریخ پھر یہ ہے کہ جب کوئی مضبوط ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی نہیں بولتا،جب طاقتور کمزور پڑھ جاتا ہے اس کے بعد عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب آپ مزید جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں سلمان صفدر آپ آج مزید کچھ کہنا چاھیں گے یا پھر اپیل تک محدود رہیں گے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس میں مزید دلائل دینا چاہتا ہوں،جس قانونی نکتے پر عدالتی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر آئندہ سماعت پر دلائل دونگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو مزید مہلت دے دیتےہیں آپ تیاری کرکے آئیں اس دن آپ کو مزید مہلت نہیں ملے گی۔اس عدالت میں اگر کوئی نہیں آنا چاہتا تو زور زبردستی نہیں کرسکتے۔سلمان صفدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عدالت پرویزمشرف کے اہل خانہ کو سوچنے کی مزید مہلت دے۔ وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں،پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہوگئے

    لاہور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدالتی معاون نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی کی حمایت کی؟وفاق نے بھی کارروائی پر اعتراض نہیں کیا،اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وکلا نے جواب دیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب اب ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے،حامد خان صاحب آپ اپنے گھر سے ہوئی غلط بات کو غلط کہنے کھڑے ہیں،حامد خان صاحب اسی لیے آپ کا قد بڑا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سب ایک ہی پیج پر تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیج کیا تھا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگرہم اتنی دیر تک مہلت دیتےہیں تو اس کیس کی محرکات، اثرات پر جتنی بھی قانونی معاونت ہے اس پر تیاری کرکے آئیے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس میں تشریح کا معاملہ بھی ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ اس میں مئوکلان سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کروں،

    عدالت نے کہا کہ سماعت کے دوران حامد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ، سندھ بار کونسل کے وکیل رشید رضوی اور دیگر وکلا نے دلائل دیئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جب کارروائی شروع ہوئی اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی،اس وقت کی حکومت کو بھی اس عدالت نے کارروائی کی طرف مائل کیا،سنگین غداری کیس جب شروع ہوا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے 12 اکتوبر کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک شخص ہی حکومت چلارہا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سب سول حکومتیں ایک ہی پیج پر تھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو برملا الفاظ میں پرویز مشرف کو جواز دینے والے فیصلے کی مزمت کیوں نہیں کرنی چاہیے،حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے ،کہامیں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ ہوا،سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،میری استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو پرویز مشرف کی پینشن اور مراعات پر بھی اثر پڑے گا،اس سوال پر بھی آئندہ سماعت پر معاونت کریں،ہم سزا بھی برقرار رکھیں اور سب کو پینشن اور مراعات بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وفاق کا موقف تو سنا نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کنفیوز لگ رہے ہیں انہیں شاید وہ سیم پیج مل نہیں رہا،تاریخ میں نہیں جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کب تک کہیں گے تاریخ میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اب ان باتوں پر جانا ہے کہ کس نے کیا کیا،
    آج ہم ملک کی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسمبلیوں کو معطل کیا، ان ججز کو کیا کہیں گے جنہوں نے اس سارے عمل کو قانون جواز بنایا،بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،کارروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہوگی تو فیئر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، اس عدالت کے ججز نے اپنے کاز کیلئے فیصلے دیئے، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے تھا، تین نومبر پر کاروائی ہوئی لیکن 12 اکتوبر پر نہیں، ہمیں سچ بولنا چاہیے جو حقیقت ہے،جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افریقہ اور جرمنی نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، جزا سزا تو اللہ دے گا، کم از کم تسلیم تو کریں کیا صحیح تھا کیا غلط، اسکولوں میں بھی آئین پڑھایا جانا چاہیے،انگلینڈ میں اب موومنٹ آ رہی ہے کہ غلطیوں کو مانیں، جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا اصول درست نہیں ہو سکتا،جنہوں نے بھی ڈکٹیٹر کے فیصلوں کو تسلیم کیا ان کا بتائیں،قانون کے توڑنے کو درست نہیں کہا جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائی لارڈ نے درست کہا قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو مضبوط رہے، آپ کو آئندہ تاریخ کب کی چاہیے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سردی کی چھٹیوں کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ انہیں مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی،وکیل کے مطابق پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،پرویزمشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد تاریخ مانگی،پرویزمشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گیے،پرویز مشرف کے وکیل سے عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟کیا سزا برقرار رہنے پر مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ ،عوام اور میڈیا کو جیل سماعت میں موجود رہنے کی اجازت ہو گی، جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل حکام اور سیکیورٹی اداروں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی،اوپن کورٹ ہوگی۔میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی۔پہلے کی طرح پانچ پانچ فیملی ممبران کو بھی اجازت ہوگی۔آئندہ سماعت جمعہ کو ہوگی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، حکم نامہ میں کہا گیا کہ آج کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی غیر حاضر رہے،23 نومبر کو سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دونوں ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عدالت میں سکیورٹی رپورٹ پیش کی گئی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ اسلام آباد پولیس، آئی بی اور اسپیشل برانچ کی معلومات کی بنیاد پر تھی،رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، عدالت کی جانب سے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا گیا، رپورٹ سے ظاہر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے،عدالت سابق وزیراعظم کی جان کو لاحق خطرات کی تشخیص کو ہلکا نہیں لے سکتی، ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کے کارکنان کا جوڈیشل کمپلیس پر دھاوا بولنے کا واقعہ بھی رونما ہو چکا، جوڈیشل کمپلیس میں سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے محفوظ ہے نہ ہی دیگر افراد کیلئے، ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرنے کا حکم دیتی ہے،چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہورہا ہے، شاہ محمود قریشی کا بھی اڈیالہ جیل میں ہی ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل ایک اوپن ٹرائل ہوگا،ملزمان کے وکلا اور خاندان کے پانچ پانچ افراد کو ٹرائل کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام اور سماعت سننے کے خواہشمد افراد کو ٹرائل کی کارروائی میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام کو جیل رولز اور مینول اور کمرہ عدالت میں گنجائش کی بنیاد پر ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء اور ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی عدالت میں موجود تھی، سلمان صفدرایڈوکیٹ نے کہا کہ آج دو مختلف معاملات ہیں، سائفر کیس کا ٹرائل آج سماعت کے لیے مقرر ہے، ہم امید کررہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کیا جائے گا،ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا ، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا،

    عدالت نے اسٹاف کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی،جیل حکام نے عدالت میں رپورٹ پیش کردی ،جج ابولحسنات ذوالقرنین نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے، جیل حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد پولیس کو اضافی سیکورٹی کے لیے خط لکھا، بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سیکورٹی خدشات ہیں ، اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کیساتھ منسلک ہے

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی زمہ داری ہے ، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے ، 23 نومبر کو عدالت نے چیئرمین پی ٹی اور شاہ محمود قریشی کو طلب کیا تھا، عدالت نے حکم دیا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلہ سے معلوم ہوگا کہ استغاثہ کیس کہاں تک متاثر ہوگا ،ہم کہتے رہے ان حالات میں فرد جرم عائد نہ کریں ،ہمیں کہا جاتا تھا کہ حکم امتناع ہے تو دکھا دیں، ہم کہتے رہے ابھی آگے نہ بڑھیں طے ہو لینے دیں کہ یہ کیس کیسے چلنا ہے، کبھی کوئی کیس اتنی جلدی میں چلا ؟ بے نظیر بھٹو کیس کتنے سال چلا؟ اس کیس کو ہم پانچ ہفتوں میں مکمل کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے،اس خط و کتابت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، ہمیں صبح سے بلکہ کل سے حالات بتا رہے تھے کہ یہ پیش نہیں کریں گے ،یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ، ہم جان پر کھیل کر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں،کیا چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں محفوظ نہیں یا راستے میں کوئی خطرہ ہے تو بتا دیں ؟جوڈیشل کمپلیکس کو مکمل طور پر بند کرکے بھی لایا جاسکتا ہے،اس عدالت میں کس سے خطرہ ہے؟ یہاں فیملی سے خطرہ ہے یا قانون کی پاسداری کرنے والے وکلاء سے خطرہ ہے؟ آپ کی بات نہیں مان رہے یا اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات نہیں مان رہے تو کیا ہم سپریم کورٹ جائیں ؟آپ کا حکم حتمی ہوتا ہے پھر آج کیا ہوا ہے؟ اگر سکیورٹی تھریٹ ہیں تو اس کیس پر سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی جائے جیل میں کیس نہیں چل سکتا تو یہاں بھی یہ چلانا نہیں چاہ رہے تو ملزمان کو ضمانت دے دی جائے ، یہ ٹرائل کہا چل سکتا یہ بتا دیں،یہ ٹرائل یہاں پر نہیں چل سکتا اور نہ جیل میں چل سکتا ہے تو پھر کہا چل سکتا ہے

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا ،علی بخاری نے کہا کہ جیل سپریڈنٹ کا لیٹر ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور نے خود پڑھا ہے،شاہ محمود قریشی کو کیوں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا ؟,اب تو کوئی چارج فریم نہیں ہوا اور نہ کوئی نقل تقسیم ہوئی ہے پھر اندر کیوں رکھا ہوا ہے،آپکا اپنا آرڈر تھا جیل سپرنٹینڈنٹ کو کہیں میرے آرڈر پر عملدرآمد کروائیں نہیں تو نتائج بھگتیں،وکیل علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزم کو عدالت میں پیش کرنا قانونی زمہ داری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے، شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہوئے عدالت نے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر کرے گی، کیا عدالت نے ملزمان کو طلب کیا تھا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ نے ملزمان کو طلب کیا تھا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جتھے مرضی نوٹیفکیشن لائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،عوام کو رسائی ہونی چاہیے ، میڈیا کو عدالت تک رسائی ہونی چاہیے ، میں خواہش کا لفظ استعمال کررہا ہوں کہ جو بھی کیس سننے کی خواہش رکھتا ہو کیا آپ اسے اجازت دے سکتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کی طرف فیصلے کرنے والا جیل سپرٹنڈنٹ کون ہے، جیل سپرٹنڈنٹ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کیساتھ بتایا کہ سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل میں ٹرائل ہوگا یہاں پر,آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل ٹرائل کی صورت میں کتنے لوگ عدالت میں آسکتے ہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا،عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کے لیے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے،

    وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی خط و کتابت نہیں انکو پیش کیوں نہیں کیا گیا ، سلمان صفدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہاں کون سا ایسا واقعہ ہوا جس سے کہیں کوئی تھریٹ ہے، روزانہ اڈیالہ جیل سے دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے،اب یا تو پیش کیا جائے یا زمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ،اسکندر ذوالقرنین سلیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے پر متعلقہ آئی جی کو طلب کیا جانا چاہیے ، ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کام نہیں ہے کہ وضاحتیں دیں ، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیل سپرٹنڈنٹ کے درمیان خط و کتابت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت ، سائفر کیس ،چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہ کرنے جیل حکام کی رپورٹ ،عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چڑیل بڑی خبریں لے کر آئی ہے،اتنی کہ میں ساری نہیں بتا سکتا، بشریٰ بی بی باہر نکلی تو لوگ جمع ہو گئے کالا جادو مردہ بار کے نعرے لگے، ویڈیو وائرل ہوئی، یہ مکافات عمل ہے، بہت پہلے پی ٹی آئی کے دوستوں کو کہا تھا کہ جو کرتے ہو یہ نازیبا حرکت ہے، سڑک پر نکلنے والے کو کیوں تنگ کرتے ہو ، عابد شیر علی فیملی کے ساتھ کھانا کھا رہا اسکو ٹرول کر رہے ویڈیو بنائی گئیں، پھر ا س طرح تو ہونا تھا ، اب گھر کے باہر بھی لوگ جمع ہوں گے، جو بویا ہو گا وہی کاٹنا پڑتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے متعلق چڑیل بضد ہے کہ انکی طبعیت اب ایسی نہیں رہی کہ نواز شریف وہ وزارت عظمی کا بوجھ سنبھال سکیں، نواز شریف اپنے قریبی ساتھیوں کو نہیں پہچان رہے، انکو بتانا پڑتا ہے کہ یہ کون ہے، عمر زیادہ ہو جائے تو ایسا ہوتا ہے، ہمارے گھروں میں بھی لوگوں کو یہ بیماری ہوتی ہے، میں طنز میں بات نہیں کر رہا،اب انکی وہ فزیکل کنڈیشن نہیں کہ وہ وزیراعظم بنیں، لیکن انکے لوگ بضد ہیں کہ میاں صاحب وزیراعظم بنیں، اب نواز شریف نے ایک شرط رکھ دی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ دو تہائی ملے گی تو وزیراعظم بنوں گا، اس پر پی ایم ایل این میں اوس پڑ گئی، ایک تہائی ملنا بھی معجزہ ہو گا، انکا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت جانے تک اگر الیکشن ہوتے تو پچیس تیس سیٹیں ملتی اب ساٹھ ستر ملیں گی، نواز شریف بڑے کلیئر ہیں، انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ 170 سے زیادہ سیٹیں ہوں گی تو وہ وزیراعظم بنیں گے، انکو بتایا جا رہا ہے کہ اسی نوے کے قریب سیٹیں ملیں گی ایسے میں شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی چڑیل کے مطابق ہو سکتا ہے چھوٹ جائیں ، وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بنیں گے اور الیکشن بھی لیڈ کریں گے، اگر قریشی مہم لیڈ کریں گے تو بلے کا نشان ہو گا، چالیس کے قریب سیٹیں پی ٹی آئی کو آسانی سے مل جائیں گی،الیکشن ہو رہے ہیں، پرسوں‌تک ہمارا خیال تھا کہ شاید الیکشن نہ ہو، لیکن اب الیکشن ہو رہے ہیں،الیکشن میں پی ٹی آئی چالیس 45 سیٹیں کیسے لے گی؟ لاہور میں نواز شریف فیملی کی چار سیٹوں پر وہ لڑ رہے ہیں، ن لیگ کے اندر ایک بہت سخت ڈپریشن ہے کہ محنت ہم کریں، جلسے ہم کریں، بریانیاں ہم کھلائیں اور الیکشن یہ لوگ لڑیں، اگر نواز شریف ، شہباز شریف ایم این اے کا الیکشن لڑ رہے ہیں تو شہباز ایم پی اے کا الیکشن کیوں لڑ رہے، حمزہ دونوں سیٹوں پر لڑیں گے، مریم بھی لڑے گی، حمزہ شہباز کی سیاست اب تقریبا ن لیگ کے اندر ختم ہو چکی ہے،حمزہ شہباز چند دنوں میں امریکا چلے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ انکی بیٹی کا علاج ہونا ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ اس نتیجے پر پہنچی کہ لاہور کی سیٹیں زیادہ وہ ہار رہے ہیں،ا نہوں نے باقی شہروں سے سیٹیں لینی ہیں، اربن ایریا ن لیگ ہار رہی ہے،آزاد امیدوار اس الیکشن میں بہت بڑی فورس بن کر ابھریں گے، مولانا فضل الرحمان نے کے پی کا صوبہ مانگ لیا ہے، بلوچستان میں بھی شیئر مانگ لئے،نواز شریف نے ملاقات میں مولانا سے کچھ وعدہ کیا ہے.

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • آرمی چیف سے سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    آرمی چیف سے سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر کی ملاقات ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رائل سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ المطیر نے آج جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ جی ایچ کیو آمد پر پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں فریقین نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں بشمول دفاع، سیکورٹی، فوجی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے علاوہ علاقائی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران معزز مہمان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا،خطے میں امن قائم کرنے میں دی گئی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے معزز مہمان کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات

    امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے بھی رائل سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر کی ملاقات ہوئی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا سے لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ محمد المطیر نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی،ملاقات کے دوران فریقین نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں، دفاع اور سیکیورٹی سمیت دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا.
    ispr

  • القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    190ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت،عمران خان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی عدالت نے استدعا مسترد کر دی

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،القادر ٹرسٹ پراپرٹی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی تھی،نیب ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عمر ندیم، عبدالستار، عرفان اور تنویر شامل ہیں ،نیب ٹیم نے 23 نومبر سے 26 نومبر تک ہونے والی تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا.

    القادر پراپرٹی اور 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ، نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تحقیقات جاری ہے، نیب ٹیم روزانہ کی بنیاد پر عمران خان سے تحقیقات کر رہی ہے،نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان
    میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے چار دنوں کی تفتیش کے دوران نیب ٹیموں سے عدم تعاون کیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کا رویہ دوران تحقیقات انتہائی متکبرانہ رہا ۔اڈیالہ جیل حکام نے تفتیش کےلیے الگ سے کمرہ مختص کر رکھا ہے، عمران خان تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ،نیب کی ٹیموں نے متعدد بار سابق وزیر اعظم کے سامنے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی دستاویزات رکھیں ۔اس سکینڈل سے متعلق متعدد سوالات بھی کیے گیے ،سابق وزیراعظم عمران خان نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مسلسل اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوال و جواب کا مطالبہ کرتے رہے ۔سابق وزیراعظم القادر ٹرسٹ سے متعلق سوالات پر اسے روحانیت اور صوفی ازم کا بڑا منصوبہ قرار دیتے رہے ۔سابق وزیراعظم ہر سوال کے جواب میں لمبی تقریر جھاڑتے ہوئے انتقامی کاروائیوں کا ذکر کرتے رہے ۔190 ملین پاؤنڈ سے متعلق تمام ملبہ شہزاد اکبر اور ایک سابق عسکری عہدے دار پر ڈال دیا ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق چیئرمین نیب کے پاس جو دستاویزات تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔کابینہ نے اس سارے معاہدے کی منظوری دی تھی اب سب مکر گئے ۔نیب ٹیم نے اس وقت اس بارے کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے رکھے ،میں بطور وزیراعظم اس سارے معاملے کا اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی دوران تفتیش بہت سے فیصلے غلط کرنے کا اعتراف بھی کرتے رہے ۔نیب دونوں کیسز کا تمام ریکارڈ دستاویزات ماضی کے اجلاسوں کے منٹس ساتھ لیکر جاتی رہی .

    اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم ہو گئی،ملاقات کرنے والوں میں مہرین قریشی، مہربانو قریشی، گوہر بانو قریشی اور بیرسٹر تیمور ملک شامل تھے، اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات اڈیالہ جیل کی کانفرنس روم میں کروائی گئی، شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ سے جیل سہولیات اور کیسسز کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی کے اہلخانہ اور وکلاء اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • افغان خود کش بمبارکا حملہ،دو شہری شہید،تین فوجی جوانوں سمیت 10 زخمی

    افغان خود کش بمبارکا حملہ،دو شہری شہید،تین فوجی جوانوں سمیت 10 زخمی

    بنوں کے علاقے بکا خیل میں خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خودکش بمبار موٹرسائیکل پر سوار ہوکر سیکیورٹی فورسز کے قافلے سے ٹکرایا، افغان شہری خودکش بمبار نے موٹرسائیکل پر سوار ہو کر خودکش دھماکہ کیا، خودکش دھماکے میں حافظ گل بہادر دہشتگرد گروپ کا افغان شہری ملوث تھا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خود کش حملے میں 2 شہری شہید، 7 شہری اور 3 فوجی جوان زخمی ہوئے ہیں،زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر شہریوں اور فوجیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

    بنوں خود کش حملہ،افواج پاکستان اور شہریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بنوں میں خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے، شہباز شریف نے شہداء کو خراج عقیدت، متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا، شہباز شریف نے زخمیوں سے بھی ہمدردی کا اظہارکیا اور کہا کہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں،دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا قومی نصب العین ہے، دہشت گردوں کے خلاف افواج پاکستان اور شہریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی، چار سال کے دوران دہشت گردوں کو واپس لاکر دوبارہ آباد نہ کیا جاتا تو آج ملک دوبارہ اس عفریت کی گرفت میں نہ آتا، شہباز شریف نے شہداء کے درجات کی بلندی کی، انہوں نے اہل خانہ کے لئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی.

    مٹھی بھر دہشتگرد عناصر قوم کے پختہ عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔محسن نقوی
    وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے بنوں کے علاقے بکاخیل میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی، وزیر اعلی محسن نقوی نےدھماکے میں دو شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا،وزیر اعلی محسن نقوی نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا،وزیر اعلی محسن نقوی نے تین فوجی جوانوں سمیت دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاکی اور کہا کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔ مٹھی بھر دہشتگرد عناصر قوم کے پختہ عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے قوم متحد ہے۔

    خطے کے امن کی بقا کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے بنوں کے علاقے بکا خیل میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔خود کش دھماکے کے نتیجے میں متعدد معصوم شہری شہید ہوئے۔ چیئرمین سینیٹ نے شہدا کے لواحقین کیلئے صبر وجمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ دہشت گرد ترقی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیوں دی ہیں۔خطے کے امن کی بقا کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔چیئرمین سینیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو سبوتاژنہیں کرسکتے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، قائد ایوان سینیٹ سینیٹر محمد اسحاق ڈاراور قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی بنوں کے علاقے بکا خیل میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں شہدا کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے

  • نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت،جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ عدالت

    نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت،جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ عدالت

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی،نواز شریف عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی دونوں اپیلوں پر سماعت شروع ، ہو گئی،فریقین کے وکلا روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں نیب ریفرنس دائر ہونے سے پہلے کے واقعات کی تفصیل جمع کرانا چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی وہ تفصیل آپ فراہم کر دیں، امجد پرویز نے کہا کہ 20 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دی،نواز شریف کے خلاف لگے الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ یہ سپریم کورٹ کے ججز کا تین اور دو کا اکثریتی فیصلہ ہے؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریفرنسز دائر ہونے سے پہلے کے حقائق بہت اہم ہیں، جے آئی ٹی کے ٹی او آرز کہاں ہیں؟ اُنکا سکوپ کیا تھا؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جی آئی ٹی کیلئے کچھ سوالات رکھے گئے کہ وہ اُن سوالات کا جواب دے گی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسارکیا کہ پانامہ جے آئی ٹی میں کتنے لوگ شامل تھے؟امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی میں پانچ لوگ شامل تھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے آرڈر میں بتا دیں ٹی او آرز کہاں ہیں؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جے آئی ٹی کا مینڈیٹ کیا تھا انہوں نے کرنا کیا تھا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کمرہِ عدالت میں میاں نواز شریف کے قریب کھڑے لیگی رہنماؤں کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ کیوں کھڑے ہیں پیچھے جا کر بیٹھ جائیں،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد دلائل کیلئے طلب کیا،سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو وزیراعظم پاکستان کو نااہل قرار دیدیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا کہا یا نیب خود اس کا پابند تھا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کی ڈائریکشن دی، نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا گیا، فیصلے کی روشنی میں نواز شریف، حسین اور حسن نواز کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دائر کیا گیا،احتساب عدالت کو چھ ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے کہا بعد میں سامنے آنے والے حقائق پر نیب ضمنی ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے،چیئرمین نیب نے یکم اگست کو معاملہ تفتیش کیلئے ڈی جی نیب لاہور کو بھیجا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کا کہہ دیا تو معاملہ تفتیش کیلئے کیوں بھیجا گیا؟ امجد پرویز نے کہا کہ ہم نے نیب سے یہ پوچھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تفتیش کیوں کر رہے ہیں؟نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کہیں تحریری طور پر موجود ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل، تحریری طور پر یہ بیان موجود ہے، نیب نے 8 ستمبر کو ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ایک ریفرنس میں بری بھی ہوئے تھے، پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے بریت کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے؟ پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ اپیل دائر ہے لیکن نوٹس نہیں ہوئے اور وہ آج سماعت کیلئے مقرر بھی نہیں ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ نواز شریف کو اِن ریفرنسز میں کتنی کتنی سزا سنائی گئی؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں سات سال سزا سنائی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے اِن ریفرنسز میں سزا بڑھانے کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایون فیلڈ میں نہیں لیکن العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کی اپیل دائر کی گئی، ریفرنس دائری کے وقت نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ میں تھے،نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ سے آ کر عدالت میں پیش ہوئے،نواز شریف اور مریم نواز کا کوئی وارنٹ گرفتاری کا آرڈر نہیں ہوا،ریفرنس دائر ہونے کے بعد اور فرد جرم سے پہلے نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کہا کہ ہماری کسی بھی ابزرویشن سے اثر انداز ہوئے بغیر فیصلہ دے، ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی،والیم دس ایم ایل ایز پر مشتمل تھا،ہم نے والیم دس مانگا تھا مگر ہمیں فراہم نہیں کیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک ریفرنس پر فیصلہ سنایا تھا، فیصلے کے بعد دیگر ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دی تھی،اس عدالت میں درخواست زیرسماعت ہونے کے دوران ہی جج محمد بشیر نے کیس سننے سے معذرت کر لی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز ایک ساتھ چلانے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، جج صاحب نے ایک ریفرنس کو جلدی سے چلایا اور دو پر کارروائی کو روک دیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں عائد کی گئی فرد جرم کا متن پڑھ کر سنایا اور کہا کہ نواز شریف نے چارج فریم ہونے کے بعد صحت جرم سے انکار کیا، احتساب عدالت نے فرد جرم کے بعد نیب سے شہادتیں طلب کر لیں، نیب نے ایک ابتدائی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی اور بعد میں ضمنی تفتیشی رپورٹ دی،ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا،نیب نے ٹی وی انٹرویوز پیش کیے، نواز شریف کی اسمبلی فلور پر کی گئی تقریر کا حوالہ دیا، ایک گواہ رابرٹ ریڈلے پیش کیا جو نواز شریف کی حد تک کیس میں متعلقہ گواہ نہیں، نیب نے جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کر دیے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کہیں اپنا مائنڈ استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ کیا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے نواز شریف کو ایک کال اپ نوٹس بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا،نیب نے ضمنی ریفرنس میں کچھ مزید شواہد ریکارڈ پر لائے،نیب نے میاں نواز شریف کے قوم سے خطاب کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، نیب نے مریم، حسن اور حسین نواز شریف کے بیانات کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، نیب نے کیلبری فونٹ سے متعلق ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا بیان شامل کیا،نیب نے گواہوں کے بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟آپ کہہ رہے ہیں کہ پوری جے آئی ٹی رپورٹ نیب نے ریفرنس میں شامل کر دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے خود سے نواز شریف کو نوٹس جاری کیا تھا؟وکیل امجد پرویزنے کہا کہ جی، نوٹس جاری کیا اور نواز شریف نے جواب جمع کرایا تھا، نیب کے کال اپ نوٹس میں تفتیش سے متعلق کچھ نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو نیب نے اپنی طرف سے الگ سے کوئی تفتیش نہیں کی؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل، نیب نے صرف جے آئی ٹی کے سامنے بیان کی تصدیق چاہی،نیب نے نواز شریف کو خود سے کوئی سوالنامہ نہیں دیا، نواز شریف کو مالک اور مریم نواز سمیت دیگر بچوں کو بے نامی دار ثابت کرنے کا بوجھ پراسیکیوشن پر تھا، ہمارا موقف یہی رہا کہ چارج بھی غلط فریم ہوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کیساتھ نہ چارج صحیح فریم ہوا اور نہ نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں، نیب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مریم نواز بینفشل اونر ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے یہ کوشش ضرور کی مگر اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، ایون فیلڈ ریفرنس میں 18 میں سے 6 گواہوں کے بیانات ہو چکے تھے جب نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا کسی گواہ نے ایسا کوئی بیان دیا جس کے بعد نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پہلی گواہ سدرہ منصور نے ایس ای سی پی کا ریکارڈ پیش کیا،میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارا کیس اوپن ہوا اور گواہ پر جرح ہوئی تو اسی وقت نیب نے ضمنی ریفرنس لانے کا فیصلہ کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس متعلق وقت لے کر جواب دیں، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا،میاں نواز شریف اور مریم نواز کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن میں موجود تھے، کلثوم نواز اُس وقت کینسر کی آخری سٹیج پر تھیں، احتساب عدالت کو فیصلے کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی، ٹرائل کورٹ نے ہماری درخواست اُسی دن مسترد کر دی، احتساب عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کو کو سزا سنا دی،احتساب عدالت نے نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کا الزام مسترد کر دیا، نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی، عدالت نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر سزا سنا دی، سمجھ سے باہر ہے کہ کرپشن کی بنیاد ختم ہو گئی لیکن عمارت پھر بھی کھڑی ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟

    اعظم نذیر تارڑ نے نواز شریف کیلئے حاضری سے استثنی مانگ لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کر دیں،نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے کہا کہ نیب کی دو اپیلیں بھی سماعت کے لیے مقرر کردیتے ہیں،

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آبا د روانہ ہوئے،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، داخلی راستے خاردار تاریں لگا کر بند کر دیئے گئے ہیں،عام لوگوں کے احاطہ عدالت میں داخلہ پر پابندی عائدکر دی گئی ہے.

    نواز شریف اسلام آباد منسٹر انکلیو پہنچے ،نواز شریف نےاسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر منسٹر انکلیو میں کچھ دیر قیام کیا،نواز شریف کی لیگل ٹیم منسٹر انکلیو میں پہلے سے ہی موجود تھی، نواز شریف نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے روانہ ہوئے،نواز شریف کی جانب سے کیسز سے متعلق قانونی ٹیم کو میرٹ پر فیصلہ لینے کی ہدایت کی گئی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز   کا آپریشن، 8دہشت گرد ہلاک

    جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8دہشت گرد ہلاک

    راولپنڈی: سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں آپریشن ،فائرنگ کے تبادلے میں 8دہشت گرد ہلاک ہوگئے-

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 8دہشت گرد ہلاک ہوگئے،ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کیخلاف کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے،سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہیں۔