Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ترکی ،طیارہ تباہ،لیبیا کے آرمی چیف جاں بحق

    ترکی ،طیارہ تباہ،لیبیا کے آرمی چیف جاں بحق

    ترکیہ میں طیارہ اڑان بھرنے کے بعد گر کر تباہ ہوگیا، طیارے حادثے میں لیبیا کے فوجی سربراہ بھی جاں بحق ہوگئے۔

    لیبیا کے وزیرِاعظم عبد الحمید دبیبہ نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل محمد علی احمد الحداد اور چار دیگر اعلیٰ لیبیائی عہدیدار ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک حادثہ منگل کی شب اس وقت پیش آیا جب یہ وفد انقرہ کے دورے کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔وزیرِاعظم عبد الحمید دبیبہ نے اپنے بیان میں اس واقعے کو ایک “دلخراش حادثہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم، عسکری ادارے اور عوام کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ان کا کہنا تھا“ہم نے ایسے افراد کو کھو دیا ہے جنہوں نے اخلاص، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے وطن کی خدمت کی، اور جو نظم و ضبط، قومی وابستگی اور فرض شناسی کی مثال تھے۔”

    ترکی کے وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا کے مطابق فالکن 50 بزنس جیٹ نے منگل کی شام 8 بج کر 10 منٹ (17:10 GMT) پر انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے طرابلس کے لیے پرواز بھری۔ طیارے سے آخری ریڈیو رابطہ 8 بج کر 52 منٹ (17:52 GMT) پر ہوا۔انہوں نے بتایا کہ پرواز کے دوران ہایمانا ضلع کے اوپر طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی، تاہم اس کے بعد رابطہ قائم نہ ہو سکا۔

    ترکی کی جینڈرمیری نے طیارے کا ملبہ انقرہ سے تقریباً 74 کلومیٹر (45 میل) دور ہایمانا ضلع کے علاقے کیسیق کاواک گاؤں کے جنوب میں تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر تلاش کر لیا۔

    ترکی کی وزارتِ دفاع نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ جنرل الحداد اس ہفتے سرکاری دورے پر انقرہ آئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے ترک ہم منصب اور دیگر اعلیٰ عسکری کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا تھا۔

    جنرل الحداد کی عسکری خدمات
    سیاسی تجزیہ کار ٹرائنا کے مطابق جنرل محمد علی احمد الحداد ایک پیشہ ور اور بااصول فوجی تھے جنہیں لیبیا کے مغربی علاقوں میں وسیع احترام حاصل تھا۔انہوں نے کہا“وہ ایک ایسے فوجی تھے جو ہمیشہ قانون کے مطابق چلتے، کسی بھی طاقتور ملیشیا کا ساتھ نہیں دیتے تھے اور اصولوں پر قائم رہتے تھے۔ لیبیائی فوجی ادارے کے لیے یہ واقعی ایک بہت بڑا نقصان ہے۔”ٹرائنا کے مطابق اگرچہ جنرل الحداد کئی دہائیوں تک فوج سے وابستہ رہے، تاہم معمر قذافی کے خلاف بغاوت کے دوران انہوں نے باغیوں کے ساتھ نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

  • چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قومی سلامتی کے بدلتے ہوئے اور پیچیدہ چیلنجز پر تفصیلی خطاب کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس میں شریک سول اور عسکری افسران کے پینل کی جانب سے فیلڈ مارشل کو پاکستان کو درپیش سلامتی کے مسائل اور ان سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی،اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کو بیک وقت متعدد اور مسلسل نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں روایتی اور غیر روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس، سائبر، اطلاعاتی، عسکری اور معاشی محاذ شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی، علاقائی اور داخلی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں مؤثر دفاع اور استحکام کے لیے ہمہ جہتی تیاری ناگزیر ہے۔فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل خود کو ڈھالنے کی صلاحیت اور قومی طاقت کے تمام عناصر کے درمیان مربوط ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ اور مبہم حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں، جن میں پراکسیز کے ذریعے داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مستقبل کی قیادت پر زور دیا کہ وہ ان پیچیدہ، کثیرالجہتی اور فکری و ادراکی چیلنجز کو بروقت پہچاننے اور انہیں مؤثر انداز میں ناکام بنانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ غیر یقینی حالات میں واضح، بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت اور فکری مضبوطی آج کے پھیلے ہوئے اور متنازع سلامتی ماحول میں انتہائی اہم اوصاف ہیں،فیلڈ مارشل نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ڈی یو اسٹریٹجک سوچ رکھنے والے رہنماؤں کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو علمی اور پیشہ ورانہ تربیت کو مؤثر پالیسی سازی اور عملی نتائج میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ عسکری تعلیم ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے، مقامی استعداد بڑھانے اور طویل المدتی قومی استحکام کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کورس میں شریک افسران کی تجزیاتی سوچ اور فکری معیار کو سراہا اور انہیں دیانت، نظم و ضبط اور بے لوث خدمت کی اقدار پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پہنچنے پر یونیورسٹی کے صدر نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا پرتپاک استقبال کیا۔

  • وزیراعظم سے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر   کی ملاقات

    وزیراعظم سے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات

    متحدہ عرب امارات کے پاکستان میں سفیر، عزت مآب سالم محمد سالم البواب الزابی نے آج وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں وزیراعظم کےمعاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان میں انکی حالیہ تقرری پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں سے باہمی احترام، دوستی اور قریبی تعاون پر مبنی ہیں۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے لیے نیک تمناوں اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے آئندہ دورۂ پاکستان کے منتظر ہیں۔وزیرِاعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے ساتھ توانائی، معدنیات، آئی ٹی، ریلوے اور ہوا بازی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے اہم شعبوں میں یو اے ای کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے لیے متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت، بشمول انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ترقیاتی منصوبوں، کو بھی سراہا۔

    سفیر سالم محمد سالم البواب الزابی نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

  • فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دے دیا

    فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دے دیا

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے بھی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی متاثر کن شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بدلتے عالمی نظام میں مؤثر اسٹریٹجک رہنما قرار دے دیا۔

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیا،فنانشل ٹائمز کے مطابق بدلتی عالمی سیاست نے مڈل پاورز کے لیے نیا مگر مشکل دور کھول دیا ہے، مڈل پاورز کے لیے یہ پیشرفت خاصی پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر درمیانی طاقتوں کے سب سے کامیاب ملٹی الائنرز (multi-aligners) میں شامل ہیں، ٹرمپ کے ساتھ سب سے بہتر ہم آہنگ ہونے کا اعزاز پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے۔

    برطانوی جریدے نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مڈل پاورز سفارتکاری کی کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کی قیادت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے درمیان بیک وقت روابط میں متحرک رہی، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی سفارتکاری کو بدلتے عالمی ماحول میں مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، ٹرمپ کے ساتھ بروقت خوش گفتاری اور نرم سفارتی رویہ مؤثر ثابت ہوا، پاکستان کی سفارتی کامیابی نے بھارت کو مایوس کیا، بھارت کے لیے درمیانی طاقت کا کھیل توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوا، ہندوستان بدلتے عالمی حالات اور ٹرمپ کے انداز سے ہم آہنگ نا ہو سکا، اس سفارتی ناکامی کے باعث ہندوستان کو مڈل پاور حکمت عملی میں مشکلات کا سامنا ہے

  • وزیراعظم شہباز شریف کی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

    وزیراعظم شہباز شریف کی پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، پی ٹی آئی قیادت کو پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دے چکا ہوں،تحریک انصاف اگر مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اپنانا چاہتی ہے تو حکومت بلکل تیار ہے ، پارلیمان میں اپوزیشن لیڈر کی کرسی پر جا کر کہا تھا آئیں بیٹھ کر بیت چیت کا راستہ نکالتے ہیں ، مگر مذاکرات کی آڑ میں بدامنی کی اجازت نہیں ہو گی ۔جائز مطالبات پر ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں، مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ نہیں چلے گی،ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی ہونی چاہیے، ملک کو آگے چلنا چاہیے اور حکومت پاکستان اس کے لیے ہر اقدام کے لیے تیار ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب میں ملنے والا کنگ عبدالعزیز ایوارڈ کسی ایک فرد کا نہیں،یہ پوری قومِ پاکستان کا اعزاز اور عالمی سطح پر پاکستان کی عزت و وقار کی پہچان ہے،یہ اعزاز پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، قیادت اور ملک کے وقار پر عالمی اعتماد کا ثبوت ہے،قوم کو اپنے سپہ سالار پر فخر ہے۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے انڈر 19 ایشیا کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے عمدہ کھیل سے پاکستان کرکٹ کے سنہرے دور کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔وزیراعظم نے اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز ایوارڈ ملنے پر قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اعزاز پوری پاکستانی قوم کے لیے باعث فخر ہے۔

    وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بتایا کہ آج کا دن اہم ہے اور نجکاری کے لیے متعلقہ حکام اور کابینہ کے ارکان نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے کام کیا ہے۔ نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں، بولیوں کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے، اور لفافوں میں آئیں بولیاں براہ راست کھولی جا رہی ہیں، بولی کے عمل کو شفاف بنانا ناگزیر ہے کیونکہ کامیاب اور شفاف نجکاری سے معاملات میں بہتری آئے گی۔

  • پاکستان کے فیلڈ مارشل قابل احترام شخصیت ہیں،ٹرمپ

    پاکستان کے فیلڈ مارشل قابل احترام شخصیت ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کردی۔

    فلوریڈا میں وزیر جنگ اور وزیر بحری امور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے اوراس جنگ میں طیارے تباہ ہونےکا ذکر کردیا،امریکی صدر نے کہا کہ وہ دنیا میں اب تک 8 جنگیں روک چکے ہیں جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ بھی شامل ہے۔ اس جنگ میں 8 طیارے گرائے گئے تھے، پاکستان کے فیلڈ مارشل قابل احترام شخصیت ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے جنگ رکوا کر 10 ملین لوگوں کی جانیں بچائیں۔

    امریکی صدر نے پریس کانفرنس کے دوران 100 گنا زیادہ طاقتور ٹرمپ کلاس بحری جہاز بنانے کا بھی اعلان کردیا، کہا کہ 15 آبدوزیں بنائی جارہی ہیں، آبدوز سازی میں امریکا کسی بھی ملک سے 15 برس آگے ہے، چین، روس کوئی بھی آبدوزوں میں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا ، یہ آبدوزیں دنیا بھر میں امریکا کے دشمنوں کو خوفزدہ کردیں گے، وکٹری نامی جہاز امریکی فوج کی طاقت کو قائم رکھنے میں مدد دےگا اور اس سےامریکی جہاز سازی صنعت کوبحال کرنے میں مدد ملے گی،امریکی بحریہ کو دنیا کی طاقتو ترین بحریہ بنا رہے ہیں۔بحریہ کا ہیڈکوارٹر بھی بہتر کیا جارہا ہے، ایک دو سال پہلےجو ہم پر ہنستے تھے، اب وہ ہمارا احترام کرتےہیں۔

  • ایک دہائی سے دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث کمانڈر ندیم جہنم واصل

    ایک دہائی سے دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث کمانڈر ندیم جہنم واصل

    ڈیرہ اسماعیل خان ،مطلوب دہشت گرد کمانڈر ندیم عرف جنتی تحصیل کلاچی کے علاقے لونی موڑ کے قریب سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں ہلاک ہو گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ آپریشن خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔ ندیم گزشتہ دس برسوں سے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھا اور کلاچی، درابن کلاں اور ملحقہ علاقوں میں سرگرم تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندی اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں سے متعلق متعدد مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو محفوظ بنا لیا اور کسی بھی باقی ماندہ عسکریت پسند کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کرنے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ اس کی دہشت گرد سرگرمیوں میں مکمل شمولیت کا اندازہ لگانے اور اس کے ساتھیوں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں

    دوسری جانب لکی مروت کے علاقے جبارخیل میں سیکیورٹی فورسز نے موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں کونشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک عسکریت پسند موقع پر ہلاک جبکہ اس کے دو ساتھی زخمی ہو گئے۔

  • بھارت کیخلاف کامیابی،وزیراعظم کا انڈر19 ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلیے1،1 کروڑ روپے کا ااعلان

    بھارت کیخلاف کامیابی،وزیراعظم کا انڈر19 ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلیے1،1 کروڑ روپے کا ااعلان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو شکست دیکر انڈر 19 ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

    اس موقع پر انہوں نے فاتح ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم نے بھارت کیخلاف شاندار کامیابی پر ٹیم اور منیجمنٹ کو مبارکبار دی۔ملاقات میں چیئر مین پی سی بی محسن نقوی اور وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد ٹیم کے مینٹور سرفراز احمد نے کپتان فرحان یوسف اور دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کر کے آئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا، وزیراعظم نے فرداً فرداً تمام کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا، وزیراعظم نےبھارت کے خلاف بہترین کارکردگی پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی،

    کھلاڑیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ لوگوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا، بھارت کو بدترین شکست پر میں آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، کل خود دیکھا ٹیم جس جوش و جذبے سے میدان میں لڑرہی تھی اس کی مثال نہیں ملتی، مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو آپ پر فخر ہے،وزیر اعظم نے کھلاڑیوں سے کہا امیدکرتاہوں کہ آپ کارکردگی کے تسلسل کوبرقرار رکھیں گے، آپ بہت جلد انڈر 19 ورلڈ کپ بھی پاکستان لائیں گے ، چیئرمین پی سی بی کو کہتا ہوں کہ تمام کھلاڑیوں کا بھرپور خیال رکھاجائے ، تمام کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی جائے

    وزیراعظم نے سمیرمنہاس کو بہترین کارکردگی پر شاباش دی اور ان کو ہیرو قرار دیا، شہباز شریف نےمحسن نقوی کو پی سی بی معاملات احسن طریقے سے چلانے پر مبارکباد دی۔اس موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان انڈر 19 ٹیم کے مینٹور سرفراز احمد نےکہا کہ وزیراعظم نے کھلاڑیوں کے لیے ایک، ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، مستقبل میں یہ نوجوان پلیئر ملک کا نام روشن کریں گے۔

    ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ کوچ شاہد انور نے بتایا کہ ٹیم کی تیاری کا عمل 17 جون 2025 سے شروع ہوا، جس کے دوران 70 نوجوان کھلاڑیوں کے ٹرائلز لیے گئے۔ ٹرائلز کے بعد 30 کھلاڑیوں کا کیمپ لگایا گیا اور ایشیا کپ سے قبل ہدف یہی رکھا گیا تھا کہ نہ صرف ٹرافی جیتنی ہے بلکہ شائقینِ کرکٹ کے دل بھی جیتنے ہیں،قومی ٹیم کے سابق کپتان اور انڈر 19 ٹیم کے مینٹور سرفراز احمد نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں نوجوان کھلاڑیوں کی محنت کو سراہا گیا اور فی کھلاڑی ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نے پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ ٹیم مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی، سمیر منہاس نے فائنل میں شاندار اننگ کھیلی جبکہ عثمان خان نے بھی ان کے ساتھ اہم شراکت داری قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑے میچ میں بڑا اسکور کرنا ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا نتیجہ تھا، فرحان یوسف نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کو بھرپور سپورٹ فراہم کی، جس کے باعث تمام کھلاڑی اعتماد کے ساتھ کھیلے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کی جیت میں ہر کھلاڑی کا کردار اہم رہا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ٹورنامنٹ میں انفرادی طور پر نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے تاہم آئندہ ورلڈ کپ میں بہتر پرفارمنس دینے کی کوشش کریں گے،سٹار بلے باز سمیر منہاس نے کہا کہ ان کا پلان سادہ تھا، وکٹ پر وقت گزارنا اور ٹیم کے لیے رنز بنانا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں کسی قسم کا دباؤ محسوس نہیں کیا اور کوشش یہی تھی کہ بورڈ پر اچھا ٹوٹل سجایا جائے تاکہ مخالف ٹیم دباؤ میں آئے۔

  • 5بڑے کاروباری گروپس  کا بلوچستان میں سرمایہ کاری کا اعلان

    5بڑے کاروباری گروپس کا بلوچستان میں سرمایہ کاری کا اعلان

    پاکستان کے معدنی شعبے میں تاریخی پیش رفت، پانچ بڑے ملکی کاروباری گروپس پہلی باراربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے

    معدنیات کے شعبے میں پاکستان کی تاریخی جست، قومی معیشت کے لیے روشن مستقبل کی نویدثابت ہوئی،ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے سنہرےدور کا آغاز ہوا چاہتا ہے،ملکی صفِ اوّل کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے بلوچستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا،لیک سٹی ہولڈنگز، فاطمہ گروپ، دین گروپ، ہلٹن گروپ اور سورتی گروپ اس تاریخ ساز اور دور رس سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں،تقریباً پانچ ارب امریکی ڈالرز کی مجموعی مارکیٹ ویلیو رکھنے والے یہ گروپس ، بلوچستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پر عزم ہیں،یہ پیش رفت ماڑی انرجیز کی ذیلی کمپنی ماڑی منرلز اور گلوباکور منرلز کے درمیان بلوچستان میں معدنی تلاش کے لیے جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد سامنے آئی

    جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت گلوباکور منرلز لمیٹڈ بلوچستان کے معدنی شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی،معاہدے کے تحت بلوچستان کے ضلع چاغی میں سونا اور تانبے سمیت قیمتی معدنیات کی تلاش میں سرمایہ کاری کی جائے گیااس حوالہ سے سابق وفاقی وزیر اور معروف صنعتکار گوہر اعجاز نے کہا کہ معدنی ترقی کے آغاز سے ملک میں امن، ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے،بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور پاکستانی کمپنیوں کی براہِ راست سرمایہ کاری صوبہ کی معاشی سمت بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی،

    بلوچستان میں معدنی شعبے کی بحالی سے ہزاروں بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،ایس آئی ایف سی کی مربوط سہولت کاری سے ریگولیٹری رکاوٹیں دور اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر معدنی سرمایہ کاری ممکن ہوئی،معدنی وسائل کی ترقی سے پاکستان کی معاشی خود کفالت، صنعتی وسعت اور قومی معیشت کو طویل المدتی استحکام حاصل ہوگا،ایس آئی ایف سی کے تعاون سے بلوچستان میں وسیع سرمایہ کاری معاشی بحالی اور ترقی کی واضح علامت ہے،

  • رواں سال واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی،امریکی اخبار

    رواں سال واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی،امریکی اخبار

    امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے پاک امریکا تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال رہا۔

    واشنگٹن ٹائمز نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ رواں سال واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی،امریکی اخبار کے مطابق امریکی پالیسی شفٹ کی بنیاد مئی کی پاک بھارت جنگ بنی،واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کا خصوصی تجزیہ بھی شامل کیا گیا ہے، واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن گیا۔ امریکہ کے لیے پاکستان کی اتنی تیز رفتار امیج بلڈنگ و رائے تبدیل ہونا نایاب و منفرد واقعہ ہے۔ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔ابتدا میں بھارت کو کواڈ اور دیگر فورمز کے ذریعے بالادست بنانے کی سوچ تھی اور اسلام آباد کو سائیڈ لائن کرنے کی توقع کی جا رہی تھی۔تاہم بھارت کے سیاسی حالات، شخصی آزادیوں پر پابندیاں، غیر یکساں ملٹری پرفارمنس اور سفارتی سختی نے بھارت کو ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر مشکوک بنا دیا، پاک امریکا تعلقات میں پہلا پگھلاؤ خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم ایکسچینجز سے آیا، جس سے واشنگٹن کو سبسٹینٹو تعاون کا واضح اشارہ ملا، مارچ میں ٹرمپ نے قومی خطاب میں پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی، جس نے واشنگٹن میں پالیسی کا رخ بدل دیا، اسلام آباد نے موقع فوراً کیش کیا، ہر محدود تعاون غیر متوقع کریڈٹ میں بدلتا گیا، انگیجمنٹ بڑھتی چلی گئی اور تعلقات ٹرانزیکشنل سے اسٹریٹجک بنتے گئے،

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں فیصلہ کن موڑ مئی کی مختصر مگر شدید پاک بھارت جھڑپ بنی، پاکستان کی ملٹری کارکردگی نے ٹرمپ کو حیران کر دیا، پاکستانی ڈسپلن، اسٹریٹجک فوکس اور ایسِمٹرک کیپیبلٹی کو امریکی توقعات سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا، اسی لمحے پاکستان کو دوبارہ سنجیدہ ریجنل ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا، مئی جنگ کے بعد ٹرمپ کے لیے اسٹریٹجک نقشہ ری ڈرا ہوا، پاکستان کو جنوبی ایشیا ویژن کو اینکر کرنے والا Emerging Asset قرار دیا گیا، پاکستان کی ملٹری ماڈرنائزیشن کو نئی عالمی اہمیت ملی، کمانڈ اسٹرکچر میں اوورہال ہوا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ فعال بنایا گیا، اس عہدے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نمایاں طور پر لیا گیا، ساتھ ہی آرمی چیف کے طور پر ان کے کردار کو بھی سراہا گیا،سیزفائر پر بھارت کا سرد ردعمل ٹرمپ کو ناگوار گزرا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کو قدر اور شکرگزاری سے قبول کیا،

    امریکی اخبار کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر ٹرمپ کے اِنر سرکل کے اسٹار بن کر ابھرےٹرمپ عاصم تعلق کو ہاف جوکنگ "برومانس” کہا گیا،عاصم منیر کو Disciplined Dark Horse اور Deliberate Mystery جیسے القابات دیے گئے، وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ کو کسی پاکستانی ملٹری ہیڈ کے لیے پہلی مثال قرار دیا گیا، فیلڈ مارشل کا سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال ہوا، امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک بات چیت کی گئی، 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہےایران تک ڈسکریٹ اور کریڈیبل چینل، غزہ کیلکولس میں ممکنہ کلیدی کردار و خطے میں پاکستان کو نمایاں دیکھا گیا ہے۔ واشنگٹن میں انڈیا فرسٹ کا دور ختم ہو چکا ہے، نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے رویے سے مشروط رہے گی،2025 میں امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو ری رائٹ کرنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہی اصل کردار ادا کیا۔