Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان میں دہشت گرد گروہ بے لگام ، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید

    افغانستان میں دہشت گرد گروہ بے لگام ، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کی تائید

    افغان طالبان رجیم میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ نے آگاہ کر دیا

    اقوام متحدہ کی ہوشربا رپورٹ میں افغان طالبان رجیم کی مکمل ناکامی ،لاقانونیت اور افراتفری بھی بے نقاب ہو گئی،افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کا یہ دعوے کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، "قابلِ اعتبار نہیں” ہیں ،مختلف ممالک مسلسل اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں، افغانستان میں داعش ، ٹی ٹی پی ، القاعدہ، جماعت انصاراللہ سمیت دیگر دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں ، ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما ہیبت اللہ کے احکامات افغانستان بھر میں نافذ نہیں ہو رہے،افغان طالبان میں دہشت گرد گروہ اتنے بااختیار ہیں کہ آزادانہ کارروائیاں کرتے ہیں ، افغان طالبان غیر پشتون شہریوں کیساتھ پشتونوں کے مقابلے میں زیادہ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، افغانستان میں حکومت جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے چلائی جا رہی ہے ،

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث افغانستان کو روزانہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، افغانستان میں اگر بنیادی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں،افغان طالبان کا مقصد اقتدار میں رہنا ہے اور عوامی حمایت ان کی ترجیح نہیں ہے ،افغان طالبان عالمی سطح پر تسلیم کے خواہاں ہیں، مگر عالمی تحفظات کا کوئی مؤثر جواب نہیں دے سکے، افغان طالبان دور میں خواتین اور اقلیتیں شدید متاثر ہوئے ہیں،

    افغان طالبان رجیم میں افغانستان دہشت گردوں کی انتہا پسندی اور خونریز کارروائیوں کی افزائش گاہ بن چکا ہے،پاکستان عالمی برادری کوافغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سنگینی اور عالمی خطرات سے بارہا آگاہ کر چکا ہے

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی ملاقات

    آسٹریلیا کے نئے تعینات ہونے والے ہائی کمشنر ٹم کین نے آج وزیراعظم سے ملاقات کی۔ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    وزیراعظم نے ہائی کمشنر کو ان کی تقرری پر مبارکباد پیش کی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی تعیناتی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیراعظم نے 14 دسمبر 2025 کو بونڈائی بیچ، سڈنی میں دہشت گردوں کی فائرنگ میں معصوم جانوں کے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کی بلاشبہ مذمت کرتا ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس کی ہر شکل اور صورت میں مذمت کی جانی چاہیے جب کہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اجتماعی کارروائی کی ضرورت ہے۔

    پاکستان-آسٹریلیا تعلقات کے مثبت رخ کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا اور زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں آسٹریلوی دلچسپی کا بھی خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے ریکوڈک کو پاکستان میں اس شعبے کی بے پناہ صلاحیت کی ایک روشن مثال قرار دیا۔ انہوں نے آسٹریلیا میں متحرک پاکستانیوں کی گراں قدر خدمات کو بھی سراہا جس نے دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل کا کام کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے کرکٹ کے لیے دونوں اقوام کے مشترکہ جذبے سمیت پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مضبوط روابط اور ثقافتی رشتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے آسٹریلوی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ ٹم کین نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے کام کرنے کی گہری خواہش کا اظہار کیا۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،19 سے زائد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،19 سے زائد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے کیچ ضلع کے علاقے کراخ کیلی چِٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی اور چاقوؤں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کامریڈ عبدالرزاق چِٹہ جاں بحق ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور میں حالیہ حملے کا ماسٹر مائنڈ، سمیداللہ ایران کے علاقے شمسر میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ حکام کے مطابق سمیداللہ، جو پہلے پروم پہاڑوں میں کیمپ کمانڈر تھا، ایران منتقل ہو چکا تھا مگر سرحد پار سے حملوں کی منصوبہ بندی اور کمانڈرز کو آپریشنل ہدایات دیتا رہا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس کا کزن پنجگور بینک ڈکیتی میں ملوث تھا، جس سے عسکری نیٹ ورک کے متعدد پرتشدد واقعات سے روابط ظاہر ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سمیداللہ کی ہلاکت سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں اس کا کردار ختم ہو گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے پٹک اور شیرینزہ علاقوں میں کارروائی کی، جس کے دوران کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے وابستہ دو عسکریت پسند مارے گئے جبکہ تین مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ ہلاک شدگان کی شناخت جاوید ولد موسیٰ اور عبدالقادر ولد محمد ابراہیم کے نام سے ہوئی۔ ذرائع کے مطابق جاوید گزشتہ چھ ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز پر کم از کم 11 حملوں میں ملوث تھا جبکہ عبدالقادر 21 جولائی 2025 کو آئی ای ڈی نصب کرنے کے واقعے سے منسلک تھا۔ کارروائی کے دوران تین مبینہ سہولت کار بھی گرفتار کیے گئے جن کے نام زاہد، حکمت اللہ اور حسنین بتائے گئے۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔

    سدہ، کرم میں قبائلی عمائدین کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس کی صدارت کمشنر کوہاٹ نے کی۔ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرکت کی۔ جرگے میں کوہاٹ امن معاہدے پر مکمل عملدرآمد پر توجہ دی گئی۔ قبائلی عمائدین نے حکومتی کوششوں کو سراہا اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پختون گڑھی کے علاقے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ویلج کونسل کے چیئرمین محمد رحمان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اسپن وام کے گاؤں شادی خیل میں کارروائی کے دوران 14 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ خفیہ معلومات پر مبنی اس آپریشن میں فضائی نگرانی اور زمینی کارروائی شامل تھی اور کسی شہری جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق اس کارروائی سے عسکری نیٹ ورکس متاثر ہوئے اور کمانڈ اسٹرکچر کمزور ہوا۔

    حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبر ضلع کے آکا خیل عالم خیل علاقے میں کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ زخمی عسکریت پسند کو علاج کے لیے قریبی مرکز منتقل کیا گیا۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔

    حکام کے مطابق دہشت گردوں نے ٹانک میں ایس ایم اے پولیس اسٹیشن پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اضافی کلرک احسان اور اسسٹنٹ کلرک آصف شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    پاکستان آرمی اور قبائلی عمائدین کے درمیان ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیرپا امن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قبائلی عمائدین نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جی او سی میران شاہ میجر جنرل عادل افتخار نے قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا۔

    دہشت گردوں نے صفی تحصیل میں قادر خان شہید پولیس چوکی پر حملہ کیا تاہم پولیس کے بروقت جواب کے باعث حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اضافی پولیس نفری نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔

  • پاکستان پہلگام میں ملوث نہیں تھا، بھارت جواب دے،اقوام متحدہ ماہرین

    پاکستان پہلگام میں ملوث نہیں تھا، بھارت جواب دے،اقوام متحدہ ماہرین

    پاکستان اوربھارت کےدرمیان جنگ سے متعلق اقوام متحدہ ماہرین کی رپورٹ جاری کر دی گئی

    اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے پہلگام حملے کی مذمت ، ذمہ داروں کو سزا دینے پر زور دیا،رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پہلگام حملے میں ملوث ہونے کی تردیدکی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ،7مئی کو بھارت نے پاکستان کی حدود میں طاقت کا استعمال کیا، بھارت کاپاکستانی حدود میں طاقت کااستعمال یواین چارٹر کی خلاف ورزی ہے، بھارت نے سیکیورٹی کونسل کو باضابطہ اطلاع نہیں دی، بھارتی حملوں میں آبادی والے علاقے نشانہ بنے اورمساجد متاثرہوئیں،پاکستانی حدود میں بھارتی حملوں سے شہری جاں بحق اورزخمی ہوئے 7مئی کو پاکستان نے بھارتی کارروائی کی مذمت کی، پاکستان نے سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ وہ دفاع کا حق رکھتا ہے، بھارت پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کےشواہد پیش نہیں کر سکا،دہشتگردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی الگ حق تسلیم شدہ نہیں، اگر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہو تو یہ حقِ زندگی کی خلاف ورزی بن سکتا ہے،بھارت کا یہ طرزِ عمل بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے،اگر بھارتی اقدام حملہ سمجھا جائے تو پاکستان کو سیلف ڈیفنس کا حق حاصل ہے، بھارتی اقدامات پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں،

  • شمالی وزیرستان،بویا میں سیکورٹی ہیڈکوارٹرپر خودکش حملہ،5دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان،بویا میں سیکورٹی ہیڈکوارٹرپر خودکش حملہ،5دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان کے گاؤں بویا میں ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی بویا فوجی قلعے سے ٹکرا دی۔

    علاقے کے دو سیکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ سیکیورٹی تنصیب کی چھت اور بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا،حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ انکرپٹڈ چینلز جنہوں نے دراندازی کے کئی حملوں کا دعویٰ کیا تھا نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ایک سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ کل پانچ حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، ایک کو خودکش بم دھماکے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ چار حملہ آوروں نے قلعہ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی دھماکے کے نتیجے میں 4 فوجی زخمی ہوئے

    پولیس زرائع کے مطابق دھماکہ خودکش یا گاڑی میں نصب بارودی مواد کے زریعے کیا گیا، سیکورٹی کیمپ پر حملے میں اب تک پانچ دہشتگرد مارے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد مجموعی طور پر پانچ بتائی جا رہی ہے، ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے بارودی سے بھری گاڑی کے ذریعے سیکیورٹی کیمپ کی دیوار کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دیگر دہشتگردوں نے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

  • دورہ لیبیا:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات

    دورہ لیبیا:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، جو اس وقت لیبیا کے سرکاری دورے پر ہیں، نے لیبین عرب مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ بالقاسم حفتر اور لیبین عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی۔

    آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو لیبین مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے ساتھ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال، اور دوطرفہ دفاعی تعاون و فوجی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تربیت، استعداد کار میں اضافہ (کیپیسٹی بلڈنگ) اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر لیبیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے پاکستان مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • پاک سرزمین کے بہادر سپوت ،لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا 54 واں یوم شہادت

    پاک سرزمین کے بہادر سپوت ،لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا 54 واں یوم شہادت

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کے 54ویں یوم شہادت پر خصوصی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے،محمد محفوظ شہید کے یومِ شہادت کے موقع پر دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی سے کیا گیا،علماء کرام نے شہید کے بلند درجات اور مغفرت کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا،علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہی پاکستان آج قائم و دائم ہے،علماء نے وطن پر جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو عزت اور تکریم کا حقیقی حقدار قرار دیا،علماء کرام نے کہا کہ شہداء کا مقدس لہو پوری قوم پر قرض ہے،زندہ اور باشعور قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، علماء کرام نے واضح کیا کہ جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ رسوائی کا شکار ہو جاتی ہیں،لانس نائیک محمد محفوظ شہید دھرتی کے دلیر سپوت تھے جو قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، شہداء کی قربانیاں ملکی استحکام، وقار اور قومی عظمت کی علامت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا فخر ہیں

    پاک فوج کے عظیم ہیرو لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشانِ حیدر) کا 54 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے،لانس نائیک محمد محفوظ شہید 25 اکتوبر 1944 کو ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈ ملکاں میں پیدا ہوئے،پاک فوج میں شمولیت لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا دیرینہ خواب اور زندگی کا مقصد تھی،اسی جذبے کے تحت 8 مئی 1963 کو لانس نائیک محمد محفوظ نےپاک فوج کی پنجاب رجمنٹ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی،
    1971 کی جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ واہگہ اٹاری سیکٹر میں دشمن کیخلاف صفِ اوّل میں موجود تھے،17 دسمبر کی شب ہدف کی جانب پیش قدمی کے دوران آپ کو دشمن کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،دشمن کی پوزیشن تقریباََ 70میٹر کے فاصلے پر تھی، جس کے باعث پیش قدمی روکنا پڑی،دشمن کی شدید مزاحمت کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کی لائیٹ مشین گن تباہ ہو گئی،ایک شہید ساتھی کی مشین گن سنبھال کر لانس نائیک محمد محفوظ نے بھر پور انداز سے مکار دشمن کے ہدف کو نشانہ بنایا ،شدید زخموں کے باوجود محمد محفوظ شہید نے دشمن کے مورچہ تک پہنچ کر بھارتی فوج کے مشین گنر کی گردن دبوچ کر اسے ہلاک کر دیا ،اسی مورچہ میں موجود درندہ صفت دشمن نے سنگین وار کر کے آپ کو شہید کر دیا،لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بے مثال جرأت کا اعتراف بھارتی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل پوری نے بھی کیا،لیفٹیننٹ کرنل پوری کا کہنا تھا کہ اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے ایسا دلیر سپاہی نہیں دیکھا،بھارتی کمانڈر نے کہا اگر محمد محفوظ میری فوج میں ہوتے تو میں انہیں بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز کیلئے نامزد کرتا،لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بے مثال جُرات و شجاعت کے اعتراف میں آپکو پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز "نشانِ حیدر” سے نوازا گیا،لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا یومِ شہادت مادر وطن کیلئے افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کی روشن مثال ہے

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے 4 سے زائد دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے 4 سے زائد دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک شدت پسند چوری، تاوان کے لیے اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد مسافروں کو روک کر ان کا سامان لوٹتے ہیں اور افراد کو اغوا کر کے ان کے اہلِ خانہ سے تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں شدت پسند مبینہ طور پر بھتہ مانگ رہے ہیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ان واقعات کے ردِعمل میں گشت اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حساس علاقوں میں پولیس اور حساس اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب بی ایل اے مسلسل بیانات جاری کر رہی ہے جن میں وہ صوبے میں حقوق کی جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایسی مجرمانہ کارروائیاں عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور امن و ترقی کی کوششوں کو سبوتاژ کرتی ہیں۔ حکام نے زور دیا کہ اغوا، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور استحکام کی بحالی تک سیکیورٹی آپریشن جاری رہیں گے۔

    بلوچستان کے بعض علاقوں میں مقامی باشندوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے تشدد کے واقعات کے بعد مسلح شدت پسند گروہوں کے خلاف ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے شدت پسندوں کو بلوچ شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ شدت پسند شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اور مبینہ طور پر ایک بینک سے رقم چھیننے کے بعد فرار ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور لوگوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے شدت پسند تشدد کے خلاف مزاحمت کا اظہار کیا۔
    مقامی باشندوں نے کہا کہ قتل، لوٹ مار اور دھمکیوں جیسے اقدامات نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور علاقے کا امن درہم برہم ہو گیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی کے افراد نے مزید شدت پسند سرگرمیوں کو روکنے کے لیے متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں اور واضح پیغام دیا گیا کہ مسلح اور دہشت گرد تنظیموں کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ویڈیو کی تصدیق اور واقعے کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور امن و امان کے قیام اور شدت پسند خطرات کے تدارک کے لیے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

    حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے داغری میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے کم از کم دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت سجاد زہری عرف سارنگ اور اسمت اللہ ستکزئی عرف سراج کے نام سے ہوئی۔آپریشن کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا تاکہ کسی مزید دہشت گرد کی موجودگی کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے۔ ہلاک شدہ شدت پسندوں کی لاشیں قانونی اور انٹیلی جنس کارروائی کے لیے تحویل میں لے لی گئیں۔ادھر کچھی ضلع کے علاقے سنی میں کیے گئے ایک علیحدہ آپریشن میں بی ایل اے کے مزید دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں سے ایک کی شناخت اسماعیل عرف صوفی کے نام سے ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں کوئٹہ اور کچھی اضلاع میں کم از کم تین بی ایل اے دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور صوبے میں کسی بھی مزید دہشت گرد سرگرمی کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری ہیں۔

    گھاگھی پاس کے علاقے میں مقامی وِنگ کمانڈر اور بَازہ گاؤں کے عمائدین کے درمیان ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں علاقے میں امن برقرار رکھنے اور دہشت گرد عناصر کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کرنے پر زور دیا گیا۔جرگے کے دوران گاؤں کے عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ شدت پسندوں یا جرائم پیشہ عناصر کو کسی قسم کی مدد، پناہ یا سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔حکام کے مطابق عمائدین نے استحکام اور باہمی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ جرگے کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام نے عمائدین کی یقین دہانیوں کو سراہا اور کہا کہ ایسے روابط امن و امان کے قیام اور عوام و اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے چکدرہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع بدوان جنگل کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد سہولت کار کو ہلاک کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق فورسز نے کالعدم تنظیم سے منسلک سہولت کار کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔فائرنگ کے نتیجے میں سہولت کار، فرمان ولد ٹوٹی، موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ واقعے کے بعد لاش کو قانونی اور تفتیشی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔حکام نے کہا کہ شدت پسند سرگرمیوں کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    حکام کے مطابق میر علی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، ذرائع کے مطابق یہ مقابلہ اس وقت شروع ہوا جب دہشت گردوں نے حیسور روڈ پر ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن کے ذریعے مسلح عناصر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جانی نقصان یا گرفتاریوں سے متعلق مزید تفصیلات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔حکام نے اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    پولیس کے مطابق اغوا اور قتل کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی سنگین سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاراچنار اور ضلع کرم کے دیگر علاقے گزشتہ پانچ روز سے منقطع ہیں۔ ان واقعات کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خوراک، ایندھن اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق اپر کرم میں مالی خیل قبیلے کے رہنما حاجی کاکے اور بوشیرہ گاؤں کے رہائشی ریاض خان کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا، بعد ازاں دونوں کی لاشیں ویران علاقوں سے برآمد ہوئیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔صورتحال کے پیشِ نظر حکام نے مرکزی شاہراہ اور تمام اہم رابطہ سڑکیں احتیاطاً بند کر دیں، جس کے باعث لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت رک گئی۔ ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سڑکوں کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چوکس رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں جبکہ سیکیورٹی آپریشنز کے ذریعے ضلع میں استحکام پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب

    معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب

    معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست مودی کیلئے ڈراؤنا خواب بن گئی

    بھارت میں کئی سیاسی و سماجی رہنما بشمول عسکری قیادت اپنی عبرتناک شکست کا اعتراف کر چکی ہے،گودی میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا اور من گھڑت کہانیوں کے باوجود مودی اپنی ہزیمت کا نہ چھپا سکا ، کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کے پہلے ہی دن ہمیں پاکستان کے ہاتھوں مکمل پسپائی کا سامنا کرنا پڑا،7مئی کو صرف آدھے گھنٹے کی فضائی لڑائی میں ہم پاکستان سے مکمل طور پر شکست کھا گئے، یہ حقیقت ہے کہ بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا اور پوری بھارتی فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا ، پاکستان کے ہاتھوں مار گرائے جانے کے خوف سے مزید بھارتی طیاروں نے اڑان ہی نہیں بھری ،بھٹنڈہ یا کہیں سے بھی بھارتی طیارہ ٹیک آف کرتا تو پاکستان سے مار گرائے جانے کا خطرہ ہوتا،

    بھارتی فوجی قیادت آپریشن سندور میں متعدد بار بھارتی طیاروں کی تباہی اور بھاری نقصان کا اعتراف کر چکی ہے،اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی آپریشن سندور میں بھارتی شکست اور ناکامی کا پردہ چاک کر چکے ہیں ،11 مئی کو ائیر مارشل اے کے بھارتی ڈائریکٹر جنرل ائیر آپریشنز نے اعتراف کیا کہ "جنگ میں نقصان ہوتے ہیں”31 مئی کو بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے کہا کہ” یہ اہم نہیں کہ کتنے طیارے گرے یہ اہم ہے کہ کیوں گرے”

    عالمی میڈیا اور رہنما بھی بنیان المرصوص میں بھارت کی بدترین ہزیمت اور بھارتی خود ساختہ بیانیہ کاپردہ چاک کر چکے ہیں،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ بارہا پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے کا اعتراف کر چکےہیں ،شکست خوردہ مودی کو بھی آخر کارپاکستان کے ہاتھوں تاریخی ناکامی اور مکمل پسپائی کوتسلیم کرنا ہو گا

  • ارشد شریف قتل کیس، تفصیلی رپورٹ عدالت جمع،سماعت ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس، تفصیلی رپورٹ عدالت جمع،سماعت ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس کی تفصیلی رپورٹ آئینی عدالت میں جمع کروا دی گئی۔

    آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی،کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ارشد شریف قتل کیس میں تفصیلی رپورٹ جمع کروادی ۔ رپورٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں جے آئی ٹی کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ رپورٹ میں مزید آئندہ اقدامات کے بارے میں بھی بتا دیا گیا ہے، جے آئی ٹی نے صرف کینیا جاکر شواہد اکٹھے کرنا ہیں، جے آئی ٹی کے موقع کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقات فائنل ہو جائیں گی ، بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی،گزشتہ سماعت پر عدالت نے پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی.