Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے،صدر مملکت و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

    ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے،صدر مملکت و وزیراعظم کے خصوصی پیغامات

    آج ملک بھر میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔

    آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے، مظفر آباد میں صبح نو اور دس بجے کے درمیان سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی،آج پورے ملک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا، آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔

    گزشتہ سات دہائیوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ صرف حالیہ 34 برسوں میں 96 ہزار سے زائد کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے، 7 ہزار سے زیادہ افراد دورانِ حراست شہید ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد بچے شفقتِ پدری سے محروم کر دیے گئے 05 اگست 2019 کے بعد بھارتی مظالم میں مزید اضافہ ہوا، گزشتہ پانچ برسوں میں 966 کشمیری شہید، 25 ہزار سے زائد گرفتار اور ہزاروں کو عقوبت خانوں میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جنوری 2025 میں بھی ریاستی جبر کا سلسلہ نہ رکا اور مزید بے گناہ کشمیریوں کی جانیں لے لی گئیں۔

    آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی آج ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف مظفر آباد جائیں گے یوم یکجہتی کشمیر پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن کشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے، دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ناگزیر ہےوزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے، کشمیری بھائیوں کی بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈا پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے من مانی سیاسی نظربندیاں بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں، 5اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی کا سلسلہ شروع کیا، ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھااقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور وکالت کی، پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر افواجِ پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل، نیول چیف اور ایئر چیف نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت جاری رکھیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے بیان میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بیان میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی جیسے اقدامات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔

    افواجِ پاکستان نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا رہے ہیں مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہےمسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس تناظر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔
    افواجِ پاکستان نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، کشمیری عوام کی جدوجہد کو جائز حق سمجھتے ہوئے افواجِ پاکستان ان کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی رہیں گی۔

  • زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی  آصفہ بھٹو  سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل کی آصفہ بھٹو سے ملاقات

    زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکریٹری جنرل، جج محمد عبدالسلام نے ابوظبی میں اپنے سرکاری مصروفیات کے دوران اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان انسانی اخوت، ہمدردی، باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور مکالمے کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جنہیں عالمی سطح پر مشترکہ انسانی اقدار قرار دیا گیا۔ جج محمد عبدالسلام نے خاتونِ اول کو زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے وژن، دائرۂ کار اور اس کی آزاد و غیر جانبدار حیثیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ دنیا بھر میں اُن افراد اور اداروں کو تسلیم کرتا ہے جو امن، رواداری، انسانی وقار اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی اخوت کو عالمی انسانی و فلاحی مکالمے کا بنیادی ستون بنانا ایک دوراندیش قدم ہے۔ انہوں نے زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کو ایک معتبر اور مؤثر عالمی پلیٹ فارم قرار دیا جو اقدار پر مبنی اور شمولیتی طرزِ فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔خاتونِ اول نے اس موقع پر پاکستان کے سماجی انصاف، بین المذاہب ہم آہنگی اور شمولیتی ترقی کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص خواتین کو بااختیار بنانے، کمیونٹی کی سطح پر فلاحی اقدامات اور عوام دوست سماجی تحفظ کے نظام پر زور دیا، جن کا مقصد کمزور اور محروم طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک آئندہ بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے جو اقوام اور معاشروں کے درمیان باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور عالمی یکجہتی کو فروغ دیں۔

  • 
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ دورہ، دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا عزم

    
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ دورہ، دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا عزم

    
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جاری اندرونی سیکیورٹی آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی۔
    بریفنگ میں بھارت کے حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گرد گروہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے حالیہ دہشت گرد حملوں اور سیکیورٹی فورسز کے فوری اور مؤثر ردعمل پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا، جس کے باعث بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
    ‎ریاست کی رِٹ کو مضبوط بنانے، عوام اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا اور تشدد و دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں کو سراہا۔
    ‎بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی اور مادرِ وطن کے دفاع میں ان کے بلند حوصلے، جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • 
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت

    
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت

    
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے ساتھ 60 گھنٹے پر مشتمل پیٹرولنگ ایکسرسائز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مقابلوں میں 19 دوست ممالک کی 24 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ متعدد ممالک کے عسکری مبصرین بھی مشق کا حصہ ہیں۔ بحرین، بنگلا دیش، بیلاروس اور مصر کی ٹیمیں مقابلوں میں شریک ہیں، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ بطور مبصر شامل ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ اور مراکش کی ٹیمیں بھی مشق میں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16 ملکی ٹیمیں جبکہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین بھی اس بین الاقوامی مشق میں شامل ہیں۔
    ‎مشق کے دوران اعلیٰ جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی اور پیشہ ورانہ عسکری مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ٹیم اسپرٹ کے ذریعے استقامت، باہمی تعاون اور بنیادی عسکری صلاحیتوں کو نکھارنا اس مشق کا بنیادی مقصد ہے۔
    ‎تقریب کا مقصد دوست ممالک کی افواج کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔

  • مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی  اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    دفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ گرما گرم بحث نے 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کے ساتھ پیش آنے والے فوجی تصادم کے دوران نئی دہلی کی اسٹریٹجک ناکامیوں اور دفاعی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہےدفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو واضح تزویراتی برتری حاصل ہوئی۔

    یہ معاملہ اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواَنے کی غیر شائع شدہ کتاب “Four Stars of Destiny” کے اقتباسات ایک بھارتی جریدے میں رپورٹ ہوئے،کتاب کے مسودے کے مطابق چین نے تبت میں جاری فوجی مشقوں سے دستے اچانک ایل اے سی کے اگلے مورچوں پر منتقل کیے، جس نے بھارتی افواج کو ششدر کر دیا۔

    مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    جنرل نرواَنے، جو دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے، اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت چین کی فوجی نقل و حرکت کی رفتار اور پیمانے کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا، اگرچہ بعد ازاں بھارتی فوج نے پوزیشنز مستحکم کر لیں، تاہم ابتدائی انٹیلی جنس خلا بھاری ثابت ہوایہ کشیدگی اپریل اور مئی 2020 میں جھڑپوں کی صورت میں بڑھی اور 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں خونریز ہاتھا پائی پر منتج ہوئی، جس میں 45 برس بعد پہلی مرتبہ بھارت چین سرحد پر ہلاکتیں ہوئیں۔

    منگل کے روز پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کی جانب سے کتاب کے حوالے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاحال شائع نہیں ہوئی تاہم قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مسودے پر مبنی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بحران سے متعلق حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے بالآخر ایل اے سی کے ساتھ 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فوج، توپ خانہ، میزائل اور راکٹ سسٹمز تعینات کرنا پڑے۔

  • بشیر  بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

    درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

    سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

  • بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف گزشتہ تین دن سے جاری بھرپور اور فیصلہ کن آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے متعدد علاقوں کو کلیئر کرا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو قوم کی سلامتی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہریوں کو بھی شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، جدید جنگی سازوسامان اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دہشت گرد کو اوسطاً 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا، جو کسی منظم بیرونی نیٹ ورک اور مالی معاونت کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید امریکی ساختہ M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزرز اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جو عام طور پر جدید عسکری فورسز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس کمیونیکیشن سیٹس سے بھی لیس تھے، جس سے ان کے درمیان رابطہ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بے حسی پیدا کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر حملوں سے قبل استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دہشت گرد خوف اور درد کے احساس سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں انجام دے سکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور تعاقبی آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے تعاقبی آپریشنز میں مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 197 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

  • قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرار داد میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سیاست سے بالاتر ہوکر قومی اتحاد ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردوں نے گھناؤنے اور غیر انسانی ذرائع اختیار کیے۔متن میں کہا گیا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، بیرونی اور اندرونی سہولت کاروں کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے، دشمن کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دنیا میں ہوتا ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد 177 لاشیں چھوڑ کر بھاگے ہیں، ہم دہشتگردی کیخلاف میدان میں بھی بھارت اور افغانستان کو شکست دیں گے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دُنیا کو معلوم ہے بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے، کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دشمنوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دُنیا میں ہوتا ہے۔

  • بلوچستان حملوں کی عالمی مذمت،بھارت،فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچستان حملوں کی عالمی مذمت،بھارت،فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت،بھارت اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑایک بار پھر بے نقاب ہو گیا

    امریکا، چین،روس، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کی جانب سے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی،امریکہ کی چارج ڈی افیئرز ناتالی بیکر نے کہا کہ امریکا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کی ناصرف شدید مذمت کرتا ہے بلکہ پاکستان کیساتھ یکجہتی میں شریک ہے،چین کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا،چین نے واضح کیا کہ:چائنا ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہوئے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے گا،روس کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی،سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے بھی بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی،برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے ساتھ ہے

    دوسری جانب بھارتی میڈیا اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بلوچستان واقعہ کے فوراََ بعد منظم اور گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کیا گیا،بھارتی ریاست کی سرپرستی میں دہشت گردوں کو مظلوم ظاہر کرنے کی مذموم کوششیں بے نقاب ہوچکی ہیں

    ماہرین کے مطابق بھارتی پروپیگنڈا دہشت گردی کے فروغ کیلئے جاری ایک منظم ڈس انفارمیشن اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے،بھارت خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کیلئے دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل پشت پناہی کر رہا ہے ، بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا مقصد بلوچستان میں امن، ترقی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے