Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • طالبان انٹیلیجنس سے منسلک سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

    طالبان انٹیلیجنس سے منسلک سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب

    طالبان انٹیلیجنس (GDI) سے منسلک اکاؤنٹس ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلانے میں بے نقاب ہو گئے ہیں، جس کے تحت کراچی کے ایک معروف تاجر کو جھوٹے طور پر داعش-خراسان کا کمانڈر ظاہر کیا گیا۔

    گزشتہ تین ہفتوں سے یہ طالبان سے منسلک اکاؤنٹس خیبر ضلع کے علاقے تیراہ میں مبینہ طور پر ISKP کی موجودگی سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلا رہے تھے۔اسی مہم کے دوران ایک جعلی شناخت “حافظ زبیر موحد” گھڑی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ تیراہ میں داعش-خراسان کی قیادت کر رہا ہے۔ انہی اکاؤنٹس نے یہ بھی جھوٹا الزام لگایا کہ مذکورہ شخص اسلام آباد خودکش حملے کے وقت اسلام آباد میں موجود تھا۔جسے داعش-خراسان کا کمانڈر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ کسی بھی طرح کا شدت پسند نہیں۔ “حافظ زبیر موحد” کے جعلی نام سے گردش کرنے والی تصویر دراصل حافظ محمد کی ہے، جو کراچی کے ایک معروف تاجر اور پراپرٹی ڈیلر ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں۔

    طالبان انٹیلیجنس سے منسلک اکاؤنٹس نے دانستہ طور پر ان کا نام حافظ محمد سے بدل کر حافظ زبیر رکھا، انہیں جھوٹے طور پر داعش سے جوڑا اور خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں داعش-خراسان کا کمانڈر قرار دیا۔ حقیقت میں حافظ محمد کا داعش سے کوئی تعلق نہیں اور انہوں نے آج تک کبھی تیراہ کا دورہ بھی نہیں کیا۔

  • تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری

    تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری

    تیراہ میں خوارج کی جانب سے عبادت گاہوں کے تقدس کی پامالی جاری، شڈالہ مدرسہ کو خوارج نے اپنا اڈہ اور مسجد کو مورچہ بنا لیا

    اطلاعات کے مطابق، تیراہ میدان کے علاقے میں واقع شڈالہ مدرسہ کو خوارج مورچے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ خوارج اسلحہ سمیت مسجد اور مدرسے کے اندر موجود رہے اور طویل عرصے تک اسے اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے رہے۔اسلامی تعلیمات میں مساجد کو امن، عبادت اور روحانی سکون کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں واضح ہے کہ مسجد کے اندر اسلحہ لانا سختی سے منع کیا گیا ہے تاکہ عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رہے اور نمازیوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ خوارج کی جانب سے مسجد میں اسلحہ لے جانا اور اسے پناہ گاہ میں تبدیل کرنا ان اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    جب دہشت گرد عناصر عبادت گاہوں میں پناہ لیتے ہیں تو وہ انہیں جنگی مورچوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے بلکہ مقامی آبادی کی جانیں بھی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

  • سپریم کورٹ،عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکلا کی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی۔

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے وکیل رہنما لطیف کھوسہ نے عمران خان سے ملاقات کی استدعا کی تاہم اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ابھی درخواست کےقابل سماعت ہونےکے اعتراض کی رکاؤٹ کو عبور کرنا ہوگا، ذہن میں رکھیں آپ کے مقدمات دوسری عدالتوں میں زیر التوا ہیں، بغیر نوٹس جاری کیے ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر نہیں دے سکتے۔

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ میں عمران خان کی درخواست ضمانت غیر موثر ہونے پر خارج کردی۔

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کو فورسز نے ناکام بنایا، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتا افراد کی فہرست میں شامل دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی اس دوران ہلاک ہوئے جبکہ لاپتا افراد کی فہرست میں شامل دہشگرد عبدالحمید اور راشد بھی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے گئے کئی دہشتگرد لاپتا افراد کی فہرست میں شامل تھے، 2025 میں قلات آپریشن میں ہلاک دہشتگرد صہیب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتا افراد کی فہرست میں تھا جبکہ مارچ 2024کو گوادر حملے میں ہلاک دہشتگرد کریم جان بلوچ بھی بی وائے سی کی لاپتا افراد فہرست میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ نیول بیس حملے میں ہلاک دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ نام نہاد لاپتا افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کیلئے ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ نوجوانوں کو جعلی بیانیہ بناکر اپنےجال میں پھنساتی ہے، نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کربلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کےحوالے کردیتی ہے، بی وائے سی قوم پرستی کی بنیاد پر ریاست مخالف جذبات ابھارکر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے متعدد حملے ناکام بناتے ہوئے 200 دہشتگردوں کو ہلاک کیا تھا جبکہ ان حملوں میں 22 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری بھی شہید ہوئے تھے۔

  • اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں خود کش دھماکا،31افراد شہید

    اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں خود کش دھماکا،31افراد شہید

    اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبری کے قریب زور دار دھماکے کے نتیجے میں خوف و ہراس پھیل گیا،دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 31 ہوگئی مجموعی طور پر 169 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا

    اسلام اباد بعد نماز جمعہ امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خودکش بمبار کو پہلے ہی دیکھ کر روکنے کی کوشش کی گئی جس پر وہ پھٹ گیا – ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ نمازجمعہ کے بعد ہوا،جس کے باعث امام بارگاہ میں موجود متعدد نمازی متاثر ہوئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد درجن بھر سے زائد ایمبولینسیں موقع پر پہنچا دی گئیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

    آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر اسلام آباد بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ حساس مقامات، امام بارگاہوں اور مساجد کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس اعلی حکام موقع پر پہنچ گئے،ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں اب تک 169زخمی افراد کو پمز سمیت دیگرہسپتالوں میں منتقل کیا گیا،دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، پولیس کے مطابق خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا – خودکش حملہ آورکو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا

    آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے فرسٹ کزن حسن بھی دھماکے میں شہید ہو گئےہیں،وہ والدین کے اکلوتے بیٹے تھے،

    بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے،صدر مملکت
    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نےوفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،صدرِ مملکت نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبرِ جمیل کی دعا کی ہے،صدرِ مملکت نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے،قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں خود کش دھماکہ قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرا دُکھ ہے۔ معصوم شہریوں کی جانیں لینے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔ پوری قوم فتنہ الخوارج کے دہشگردوں کے خلاف مکمل یکسوئی سےمتحد ہے اور اپنے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانبحق افراد کی مغفرت فرمائے۔ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

    ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا ہسپتال کا دورہ، دھماکے کے زخمیوں کی عیادت
    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی پولی کلینک اور پمز ہسپتال میں عیادت کی، ہسپتال انتظامیہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس دہشتگردی میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  • پاک فوج کی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد

    پاک فوج کی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد

    بلوچستان میں بھارتی پروکسی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں نے پاک فوج کی فوری امداد اور بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔

    حالیہ بربریت کے دوران پاک فوج عوام کی حفاظت کے لیے میدان میں ڈٹی رہی، جس پر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے پاک فوج کے بروقت ایکشن کی بھرپور پزیرائی کی گئی۔نوشکی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی نے پاک فوج کی جُرات و قربانی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ رات کے چار بجے بلوچی لباس پہنے دو دہشتگردوں نے ان پر حملہ کیا اور اس کے پورے خاندان کو نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق پاک فوج نے بروقت پہنچ کر ان کی حفاظت کی اور ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں بہترین نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔

    اسی طرح گوادر بلوچستان سے تعلق رکھنے والی زخمی خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے انہیں بحفاظت ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا اور ان کا بھرپور خیال رکھا۔

  • خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اور 5 فروری کو خیبرپختونخوا میں 2 الگ جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 خوارج مارے گئے،ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے، ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، ضلع خیبر میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کردیے گئے،علاقے میں دیگر بھارتی سرپرست خوارج کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہیں، کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے، انسداد دہشت گردی مہم وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری ہے، بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف فورسز کا فیصلہ کن کریک ڈاؤن جاری ہے۔

  • بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق باغبانپورہ میں سکھ نہر کےقریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کےلیے بجلی کےکھمبے پر چڑھا، اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا،ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوگیا، اسی طرح گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور45سالہ شبیر زخمی ہوگئے، لوئر مال کے علاقے میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہوا جبکہ گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتار رہا تھا کہ اس دوران زخمی ہوگیا۔

    لاہورمیں بسنت کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جہاں عورتیں، بچے اور بزرگ سب ہی رنگا رنگ پتنگوں کے ساتھ خوشیوں میں ڈوبے نظر آ رہے ہیں۔ کئی برسوں کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں ایک بار پھر بسنت کی بہار لوٹ آئی ہے اور شہر کی گلیاں، کوچے اور سڑکیں پتنگوں سے سجی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتوں پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو پتنگ بازی میں مصروف ہے، جبکہ بازاروں میں پتنگ اور ڈور کی خریداری کا رش بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں ماضی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہیں، اس کے باوجود شہر بھر میں یہ اشیاء نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جس سے بسنت کے شوقین افراد کی دلچسپی اور جوش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    طویل عرصے بعد بسنت منانے کے موقع پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت فضا خوشگوار ہے اور کوئی کسی کو تنگ نہیں کر رہا، ہر شخص اپنی مستی اور خوشی میں مگن ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیاں تین دن تک برقرار رہیں اور کسی کی نظر نہ لگے۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں بسنت کے باعث آج اور کل عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو تہوار منانے کا بھرپور موقع میسر آیا ہے ،تاہم خوشیوں کے اس موقع پر بعض ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں بسنت کے دوران مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔بسنت کی بحالی نے جہاں شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں، وہیں انتظامیہ کے لیے یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ خوشیوں کے اس تہوار کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی قیمتی جان کا ضیاع نہ ہو اور عوام بلا خوف و خطر اس تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔

  • معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی لہٰذا بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں،قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور کشمیری ہر روز نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہوگا، کشمیری دنیا کو ہر روز سچائی کا آئینہ دکھا رہے ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، آزاد کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو ، میرا فرض ہے آگے بڑھ کر تعاون کروں اور ہمارے تعاون میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی،کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، میں تحریک آزادی کے شہید کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری اپنے بچوں کو قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنی آزادی قربان کرنےکو تیار نہیں،بھارت کی جانب سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے مگر بھارت جو فرنٹ کھولے گا اسی محاذ پر کبھی نہ بھولنے والا جواب دیں گے، معرکہ حق میں بھارتی گھمنڈ خاک میں ملا دیا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی تیز کررہا ہے مگر سفارتی محاذ پر بھی بھارتی بیانیہ دفن ہوگیا ہے، بھارت کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسی شکست دی کہ ان کی نسلیں بھی بھول نہ پائیں گی، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیں گے، معرکہ حق میں پاکستان کی فتح اصل میں کشمیریوں کی بھی فتح ہے، معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، ہمیں اتحاد اور اتفاق سے دشمن کے عزائم ناکارہ بنانے ہیں، بھارت کے جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم اور ناپاک سازشیں ترک کرنے تک خطے میں امن ممکن نہیں، ہم امن چاہتےہیں لیکن امن برابری اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے۔

  • بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل کیا ہے جس کے تحت خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر امن و ترقی میں خلل ڈالنے والے بھارتی سپانسر شدہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافات میں آپریشن شروع کیا گیا جب مصدقہ اور تصدیق شدہ انٹیلی جنس نے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی جو مقامی عوام کے لیے ایک خطرہ ہیں اس مرحلے کے دوران، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے شناخت شدہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ہندوستانی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

    سیکورٹی فورسز کے جارحانہ اور ثابت قدم جوابات نے بلوچستان کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے فتنہ الہندستان کے مذموم حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا ان کے نتیجے میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کا ایک وسیع سلسلہ متعدد علاقوں میں شروع کیا گیا تاکہ مسلسل کومبنگ اور سینیٹائزیشن آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کیا جا سکے۔

    پیچیدہ منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس، اور بغیر کسی رکاوٹ کے مشترکہ عمل کے ذریعے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے آپریشن ردالفتنہ-1 کے تحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے درستگی اور عزم کے ساتھ جواب دیا۔ ان اچھی طرح سے مربوط مصروفیات اور بعد ازاں کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں، 216 دہشت گردوں کو جہنم میں بھیج دیا گیا ہے، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر تباہ کر رہے ہیں۔

    کارروائی کے دوران غیر ملکی ہتھیاروں، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور آلات کا کافی ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا ہے ابتدائی تجزیہ ان انتہا پسند پراکسیوں کو منظم بیرونی سہولت اور لاجسٹک سپورٹ کی نشاندہی کرتا ہےان آپریشنز کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 36 بے گناہ شہریوں نے شہادت کو گلے لگایا جب کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دیں ان کی ہمت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم خدمت کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ قوم ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور تمام شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑی ہے۔

    پاکستان کی مسلح افواج حکومت پاکستان کے قومی ایکشن پلان کے دائرہ کار میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور دہشت گردی کے خطرات کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پورے عزم کے ساتھ جاری رہیں گی،آپریشن ردالفتنہ 1 پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے قابل فخر لوگوں کے ہمیشہ تشدد پر امن، تقسیم پر اتحاد اور تشدد پر ترقی کو ترجیح دینے کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔

    محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ان کی شجاعت اور مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنایا انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے اور دہشتگردانہ نیٹ ورک کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاانہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ہر خطرے کے خلاف بھرپور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔