Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہماری آرمڈ فورسز نے دوبارہ ثابت کیا کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں،بلاول

    ہماری آرمڈ فورسز نے دوبارہ ثابت کیا کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام بنا چکا ہے، پاکستان اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔

    کیڈٹ کالج پٹارو میں یوم والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیڈٹ کالج پٹارو ایک بہترین ادارہ ہے، نوجوانوں کی کردار سازی میں کیڈٹ کالج پٹارو کا اہم کردار ہے، کیڈٹ کالج کا ڈسپلین سزا نہیں بلکہ آزادی ہے،تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہماری ترجیح ہے، نوجوان ہمارا مستقبل ہیں،پاکستان کی خدمت کرنا ہم سب کی اولین ترجیح ہے، ٹیلنٹ کے بہترین استعمال سے ہی ترقی ممکن ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ دل کی طرح رہا ہے، جب قوم آواز دے تو آپ کو ہمت کے ساتھ جواب دینا ہے، ہماری مسلح افواج ملک کی حفاظت کے لیے دن رات کوشاں ہیں، ہماری آرمڈ فورسز نے دوبارہ ثابت کیا کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں،پاکستان عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام بنا چکا ہے، پاکستان کی خدمت کرنا ہم سب کی اولین ترجیح ہے،پاکستان اپنی خود مختاری کی حفاظت جانتا ہے،

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا گیا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا گیا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین اعزاز کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورت حال، دفاعی و عسکری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں اسٹریٹجک شراکت داری اور بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹجک چیلنجز پر بھی بات چیت ہوئی،ملاقات کے دوران سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خادم الحرمین الشریفین کے حکم پر اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا.

  • آپریشن بنیان المرصوص میں اللّٰہ کی مدد آتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی,فیلڈ مارشل عاصم منیر

    آپریشن بنیان المرصوص میں اللّٰہ کی مدد آتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی,فیلڈ مارشل عاصم منیر

    چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈمارشل سید عاصم منیرنےقومی علماء مشائخ کانفرنس سے اہم خطاب کیا

    کانفرنس کا انعقاد 10 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ نے بھرپور شرکت کی،فیلڈ مارشل نے ملک کو درپیش چیلنجز، دہشتگردی، قومی سلامتی کے امور، اقوامِ عالم میں پاکستان کے ابھرتے کردار، جنگی تیاریوں اور علم کی اہمیت پر مفصل گفتگو کی،فیلڈ مارشل نے قرآن کریم کی آیات اور اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اپناواضح نقطۂ نظرپیش کیا اور کہا کہ اللہ تعالی نے اسلامی ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطاکیا، ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کاآپس میں ایک گہراتعلق اور مماثلت ہے، ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا قیام کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر رمضان کے بابرکت مہینے میں ہوا دونوں ریاستوں میں مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ رب کائنات نے انھیں خادم الحرمین بنانا تھا اور ہمیں محافظ الحرمین بنانا تھا، آپریشن بنیان المرصوص میں اللّٰہ کی مدد آتے ہوئے دیکھی اور محسوس کی, کسی بھی اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم اور فتوی نہیں دے سکتا، افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشتگردی کے ذریعے ہمارے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں،افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی و فکری میراث اور قلم کی طاقت کو چھوڑ دیا، وہ زبوں حالی کا شکار ہو گئیں،

  • دشمن فوج اور عوام کے مضبوط ،ناقابلِ شکست رشتے سے پریشان ہے،کورکمانڈرلاہور

    دشمن فوج اور عوام کے مضبوط ،ناقابلِ شکست رشتے سے پریشان ہے،کورکمانڈرلاہور

    کور کمانڈر لاہور نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا خصوصی دورہ کیا

    کور کمانڈر لاہور نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے دورے کے دوران طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات کی،خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر لاہور نے کہا کہ پوری قوم پاک فوج کا فخر ہے اور دشمن پاک فوج اور عوام کے مضبوط اور ناقابلِ شکست رشتے سے پریشان ہے،آپریشن بنیان المرصوص نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ قوم اور پاک فوج سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہیں،

    کور کمانڈر لاہور نے دورے کے دوران نیشنل کالج آف آرٹس میں آپریشن بنیان المرصوص ہالز کا باضابطہ افتتاح کیا،کور کمانڈر لاہور نے پاک افواج کے اعزاز میں طلبہ کی جانب سے تیار کردہ شاندار پینٹنگز کی نمائش کا جائزہ لیا،نمائش میں معرکۂ حق کی کامیابیوں اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا،نشست کے اختتام پر طلبہ نے پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا،طلبہ کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان عالمی بیلنس آف پاور میں ایک مؤثر طاقت کے طور پر ابھرا ہے،پاک افواج کی قربانیوں کی بدولت پاکستان آج دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ کھڑا ہے،ہم دشمن کے ہر قسم کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،

  • توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

    توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

    خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید اور ایک کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کر دیا۔

    اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں کیس کا فیصلہ سنایا، تاہم دونوں کے وکلاء عدالت میں موجود نہیں تھے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو پی پی سی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال اضافی قید بھی سنائی، جس کے نتیجے میں مجموعی سزا 17 سال ہو گئی، اور جرمانے کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کا اطلاق کرنے کی ہدایت کی گئی۔ یاد رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی شروعات 13 جولائی 2024 کو ہوئی تھی، جب نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا تھا۔ ملزمان 37 دن تک نیب کی تحویل میں رہے، جس کے بعد 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کی بحالی کے فیصلے کے بعد کیس 9 ستمبر 2024 کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن عدالت کو منتقل ہوا، جہاں اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5 اور پی پی سی کی دفعہ 409 شامل کی گئی۔ ٹرائل 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوا اور اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے پہلی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر 2024 کو بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کی جبکہ عمران خان کی ضمانت 20 نومبر 2024 کو منظور ہوئی۔ 12 دسمبر 2024 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی، اور ٹرائل تقریباً ایک سال جاری رہا، جس میں 21 گواہان پیش ہوئے اور 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ اہم گواہان میں سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر (ر) محمد احمد، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی اور سابق پرنسپل سیکرٹری انعام اللہ شامل تھے، جبکہ چار گواہان کو ایف آئی اے نے ترک کر دیا۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں سعودی ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ وصول کی، جس کی کل مالیت 7 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد تھی، لیکن انہوں نے اسے توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا اور پرائیویٹ اپریزر اور کسٹم حکام کے ذریعے اس کی قیمت کم ظاہر کرائی۔ پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس کے مطابق درخواست گزار کے پرائیویٹ سیکرٹری انعام شاہ نے کم قیمت ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں، جبکہ وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی، بیرسٹر عمیر مجید ملک، بلال بٹ اور شاہویز گیلانی نے کیس کی پیروی کی۔ ملزمان کے وکلاء میں ارشد تبریز، قوثین فیصل مفتی اور بیرسٹر سلمان صفدر شامل تھے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ نے ٹھوس اور قابل اعتبار شواہد پیش کیے، جن کی بنیاد پر دونوں ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت نے سزا سناتے وقت عمران خان کی عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا۔ دونوں کو سیکشن 382-B ضابطہ فوجداری کے تحت رعایت دی گئی اور فیصلے کی نقول مفت فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ ملکی سیاست اور عدالتی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، اور توشہ خانہ ٹو کیس کے ذریعے پاکستان میں کرپشن کے خلاف عدالتی کارروائی کی مثال قائم ہوئی ہے۔

  • شمالی وزیرستان،بویا میں خوارج کے حملے میں 4 جوان شہید

    شمالی وزیرستان،بویا میں خوارج کے حملے میں 4 جوان شہید

    خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے میں 4 خواج ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں وطن کے 4 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان بویا میں فتنہ الخوارج نے 19دسمبرکو سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا اور کیمپ کی حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو بروقت ناکام بنادیا، حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کو بیرونی حفاظتی دیوار سے ٹکرادیا، بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں دیوار گرگئی جس سے قریبی شہری انفرااسٹرکچر اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا جبکہ خوارج کی سفاکانہ کارروائی میں شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا،خوارج کے حملے میں بچوں اورخواتین سمیت 15 بے گناہ شہری زخمی ہوگئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے نہایت بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے تمام 4 خوارج کو ہلاک کردیا گیا، خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں وطن کے 4 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں حوالدارمحمد وقاص، نائیک خان ویز، سپاہی سفیان حیدر اور سپاہی رفعت شامل ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی کی کارروائیاں افغانستان میں موجودخوارج کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، دہشتگردوں کی یہ کارروائی افغان طالبان رجیم کے دعوے کی نفی ہے، افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کی عدم موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں، پاکستان افغان طالبان رجیم سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، افغان طالبان رجیم خوارج کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے، پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے، پاکستان خوارج اوران کے سہولت کاروں کا تعاقب اورخاتمے کا حق رکھتا ہے،

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    ویڈیو:بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے زبردستی خاتون کا نقاب کھینچنے پر اسلام آباد میں احتجاج

  • وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پلوشہ خان کمیٹی اجلاس میں تھیں علیم خان وفاقی وزیر بھی تھے وہاں‌جھڑپ ہو گئی،اتنی شدید کہ وہاں سوشل میڈیا پر ویڈیو ڈلنا شروع ہو گئی ،ہم قائدین کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں رہنمائی دیں گے لیکن یہ دونوں آپس میں کیوں لڑے، ایک ایسی پارٹی کے ساتھ جس کے اتنے زیادہ ممبر بھی نہیں،کوئی اتنے اختلاف بھی نہیں،تو آج پلوشہ خان نے مجھے جوائن کیا ہے ان سے پوچھیں گے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر پیپلز پارٹی کی رہنما،سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ کوئی ایسی بات نہیں تھی، بطور رکن پارلیمنٹ ہم کارکردگی، ایشوز پر سوال کرتے ہیں، سوال کرنا ہر ممبر کا حق ہے، پہلا گھنٹہ سوال جواب کا ہوتا ہے اور اس میں وزیر ہی جواب دیتا ہے، میں نے کمیٹی میں سوال ڈالا لیکن جواب نہیں ملا، سوال بھی کئی ماہ قبل ڈالنا پڑتا ہے، سینیٹ کے سوالات وجوابات کے سیشن میں سوال کا جواب نہیں آیا تو میں نے چیئرمین کمیٹی کو کہا کہ اس کو ایجنڈے کا حصہ بنائیں، آج سوال ایجنڈا آئٹم تھا وہ ایک روڈ پر تھا،ایک روڈ تھی ہڈیارہ کے اوپر سے جو ان کی سوسائٹی سے بھی ملتی ہے، میں نے سوال کیا کہ آپکی سوسائٹی کو فائدہ ہے یا نہیں، این ایچ اے نے عوامی پیسہ لگایا،اس پر وفاقی وزیر نے بریفنگ شروع کی اور اپنا بتایا ،انہوں نے گوگل میپ کھولا اور بتایا کہ روڈ کے دس گیارہ کلومیٹر کے بعد میری سوسائٹی آتی ہے، اس پر میرے سمیت کسی نے کوئی مزید سوال نہیں کیا،اسکے بعد انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ منسٹری میں ایسے چلاتا ہوں جیسے ہاؤسنگ سوسائٹی ،پھر انہوں نے کہا کہ میری ذات پر سوال کیسے کیا گیا، اس وقت مجھے یاد آیا کہ میرا ایجنڈا آئٹم تھا میں نے کہا کہ میرا حق ہے سوال کرنا اور آپ کا کام ہے جواب دینا، اب پتہ نہیں ان کو کیا مسئلہ تھا وہ بتاتے تو شاید ہم کوئی مدد کر سکتے، لیکن پھر انہوں نے کہا کہ اگر آپ سوال کریں گے تو میں آپ کی ذات پر بات کروں گا جس پر میں نے کہا کہ فورم موجود ہےبولیں ،میں کوئی وزیر نہیں ہوں میرے اوپر اربوں کی کرپشن نہیں ہے، سوال کرنے کا حق میرا آپ وزیر ہیں، اس بات پر وہ تمام حدود پار کر گئے،وزیراعظم کی کابینہ ہے تو وزیراعظم کو بنیادی جمہوری اصول انہیں بتانا چاہئے کہ تمام وزرا پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں، میں نے کبھی ذاتی فیور لی ہوتی،کبھی انکے دفتر گئی ہوتی تو وہ بات کرتے، میں نے عوامی مفاد میں بات کی،میرا کبھی ان سے کوئی اختلاف نہیں ہوا،سمجھ نہیں آئی کہ ایسی صورتحال کیوں بنی.

    وزیراعظم کو تمام وزرا کو تاکید کرنی چاہئے کہ وہ وزرا کو سوالات کا جواب دینے کا پابند بنائیں،پلوشہ خان
    ایک سوال کے جواب میں پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے سوال کیا این ایچ اے نے روڈ بنائی،آیا اس روڈ سے پارک ویو سوسائٹی کو فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں، بس یہی سوال تھا ، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اگر ہوتا تو مجھے بھی غصہ چڑھتا،میں یہ ضرور کہتا کہ صرف میری سوسائٹی نہیں دو ہزار سوسائٹیوں کو روڈ جا رہی ہے، جس پر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وہ بھی کہہ سکتے تھے ،ہر وزیر کو جواب دینا ہوتا ہے، انہوں نے جو بھی کیا وہ بہتر بتا سکتے ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیراعظم کو تمام وزرا کو تاکید کرنی چاہئے کہ وہ وزرا کو سوالات کا جواب دینے کا پابند بنائیں، سینیٹ کے اراکین میرے آنے کے بعد آ گئے، علیم خان نے یہ بھی کہا کہ سب بلیک میلر اور بے ایمان لوگ اکٹھے ہو کر سوال کرتے ہو ،جس کے بعد اراکین آ گئے، پارٹی نے بھی میرا ساتھ دیا، شازیہ مری نے مذمت کی، خواتین کا ذاتیات سے سوالوں سے کیا تعلق ہے، یہ ایک ایسی تڑی ہے جو دے کر سمجھیں گے کہ اگلے چپ کر جائیں گے، ہم نے تو سوال کیا کسی نے بلیک میل کیا ہے تو وہ علیم خان ہی بتا سکتے ہیں،وہ خود ہی بتا سکتے ہیں کہ لوگ انکو بلیک میلر کیوں کہتے ہیں،

    این ایچ اے پر سوال کیا،جو میرا حق اور جواب دینا وزیر کا کام ہے،پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ جب انہوں نے بدتمیزی کی تو میرا کام بھی جواب دینا تھا میں نے بھی اونچا بول کر جواب دیا، میں اپر ہاؤس کی ممبر ہوں، دوسری پارٹی کی ممبرہوں ،میں این ایچ اے پر سوال کر رہی تھی، ان کی ذات پر نہیں کر رہی تھی،وہ مجھے روک نہیں سکتے میں کل بھی دس سوال لے کر آجاؤں گی،وزیر کا کام جواب دینا ہے کہ کیا حقیقت ہے کیا نہیں،میں سوسائٹی پر سوال نہیں کر سکتی، کر بھی سکتی ہوں اگر عوامی نوعیت کا ہو، میں نے ان کی سوسائٹی کے ڈوبنے پر سوال نہیں کیا، این ایچ اے کے پیسوں سے بنے روڈ پر سوال کیا وہ بہتر بتا سکتے ہیں،ایک اور بات بتاؤں یہ اس وقت ایجنڈا کا آئٹم تھا،قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا،پرویز رشید اس دوران خاموش رہے، اسکے بعد معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ سوال آیا تو جواب آ گیا،مبشر لقمان صاحب میں آپ سے بھی سوال کر سکتی ہیں آپ عوامی فورم پر ہیں آپ نے یہ والاپروگرام کیا،لیکن میں یہ کہوں کہ جرات کیسے ہوئی،یہ تو نہیں ہو سکتا، سوال کرنا میرا حق،جواب آ گیا، اوکے، میں نے کاؤنٹر سوال بھی نہیں کیا، اسکے باوجود غصے میں آ جانا، یہ کیا ہے،لوگ ہوں گے بلیک میلر ،لیکن ہم ان میں شامل نہیں

    علیم خان آج صرف دوسری بار قائمہ کمیٹی اجلاس میں آئے،پلوشہ خان کا انکشاف
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ جب روٹین کی میٹنگ ہوتی ہے تو بہت سوال اٹھتے ہیں،وہ آج دوسری بار آئے ہیں صرف، کسی ممبر نے کہا بھی تو انہوں نے کہا کہ جب میں پاکستان میں ہوں تو آ جاتا ہوں، اب آپ یہ دیکھ لیں، قائمہ کمیٹی میں تو بہت سخت سوال ہوتے ہیں، میں خود ایک کمیٹی چیئر کرتی ہوں، ہم ہر ایک چیز ادھیڑ دیتے ہیں لیکن ہمیں جواب ملتا ہے یہ نہیں کہا جاتا کہ ذاتیات آپ کی کھول دیں گے،میری ذاتیات کا این ایچ اے سے کیا تعلق ہے

    عام آدمی اگر کوئی سوال کرے تو اس کے ساتھ کیا ہو گا،وزیر کوجواب تو دینا پڑے گا،پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹس میں نہیں بناتی ،نہ میرا ہاتھ تھا اب اگر کل میں اٹھاؤں جو کچھ اس میں ہے تو کیا کہا جائے گا کہ میرا حق نہیں،اتنا بھی آسمان نہیں ٹوٹ پڑا کہ سبھی فرعون بن جائیں، وزیر کو جواب دینا پڑے گا، میں سوال کرتی رہوں گی، میں مختلف وزارتوں پر سوال ڈالتی ہوں، سب سوال کرتے ہیں،اگلی میٹنگ میں علیم خان نے نہیں آنا تو نہ آئیں، چیئرمین کمیٹی کا کام ہے کہ اپنےا راکین کی عزت کا لحاظ کریں، میں سینیٹ کی ممبر ہوں، عام آدمی اگر کوئی سوال کرے تو اس کے ساتھ کیا ہو گا، ریاست مدینہ بنانے والوں کے ساتھ بھی تھے تو بتائیں سوال کیوں نہیں ہو سکتا، اصل مدینہ کی ریاست میں تو سوال ہوتے تھے،یہ کوئی اتنا بڑا ذاتیات کا سوال نہیں تھا، این ایچ اے کسی کی ملکیت تھوڑی ہے،ایک حکومتی ادارہ ہے،

    چیخیں، چلائیں،مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، علیم خان کے لہجے سے نہیں ڈرتی،پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالہ سے رپورٹس ہیں، باتیں ہیں، ہمارا کام ہے سوال کرنا ،میں سوال نہ کروں، بولوں نہ، گائے بن کر بیٹھ جاؤں تو کیا کروں، آپ چیخیں، چلائیں،مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں علیم خان کے لہجے سے نہیں ڈرتی،میری ذات پر بات کرنی ہے تو فورم موجود ہے، ذات کی دھمکی دینا فضول بات ہے،وہ ایک پارٹی کے ہیڈ ہیں، مجھے پتہ ہوتا کہ انکو کیا مسئلہ ہے تو شاید ان کی مدد کر دیتے، یہ آپ ان سے پوچھیں کیا ایشو ہے.

    ذات کی بات کر کے عورت کو دبا لیں گے ایسا سوچنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی،پلوشہ خان
    پلوشہ خا ن کا مزید کہنا تھا کہ میں حیران ہوں کہ آج ایسا ہوا اور بھی وزیر ہیں جو سخت سوالات کا جواب بھی دیتے ہیں، آپ کابینہ کے ممبر ہیں، حکومت کے ممبر ہیں،میں جب حکومت میں‌ تھی تو آپ مجھ سے بھی انٹرویو میں سخت سوالات کرتے تھے لیکن میں نے کبھی نہیں کہا کہ جرات کیسے ہوئی، سوال کرنا ہمارا حق ،جواب دینا ان کاکام، اس میں برائی کیاہے،میں نے انکی سوسائٹی کا جو نقصان ہوا اس پر تو سوال نہیں کیا،مجھے علم نہیں تھا کہ ایسا ہو گا ورنہ میں آج کی میٹنگ میں نہ آتی، میں کسی سے نہیں ڈرتی سوائے اللہ کے ذات کے، چیخنا چلانا،یہ ڈرانا ہی ہوتا ہے، ذات کی بات کر کے عورت کو دبا لیں گے ایسا سوچنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی،انہوں نے کہا کہ مجھ سے سوال کریں گی تو چار انگلیاں آپ کی طرف ہیں میں نے کہا میں کوئی وزیر ہوں یہ چار انگلیاں بھی وزیر کی طرف جاتی ہیں، میں کسی ادارے کو ہیڈ نہیں کرتی نہ میں وزیر ہوں تو میں کس بات کا جواب دوں،صرف اس بات کا کہ میں نے سوال سینیٹ میں ڈال دیا،اب وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو ناگوار گزری، میں ہرروز تو نہیں لیکن کبھی کبھار سوال ڈالتی ہوں، محسن نقوی سے کئی بار سوال کر چکی ہوں انہوں نے تو کبھی نہیں کیا کہ جرات کیوں کی،کبھی کسی وزیر نے ایسی بات نہیں کی ،سب جواب دیتے ہیں لیکن یہ بدتمیزی…اگلے کو بھی فورس کریں کہ وہ جواب دے،میرا ان سے کبھی بھی کوئی اختلاف نہیں رہا.ان کا ذاتی مسئلہ،کوئی دباؤ ہو سکتا ہے،

    علیم خان پارٹی ہیڈ،کیا انکی پارٹی میں لوگ سوال نہیں کر سکتے؟پلوشہ خان
    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھاکہ میں کمیٹی اجلاس کی تمام ریکارڈنگ بھیج دوں گی،سب سن لیجیے گا،ہماری کمیٹی کی تمام میٹنگز کی ریکارڈنگ ہوتی ہے، پھر دیکھیے گا کہ کس نے بدتمیزی کی، چار انگلیاں میری طرف اٹھتی ہیں یا نہیں،میری کئی وزیروں کے ساتھ بات ہوئی کسی بھی وزیر کا رویہ ایسا نہیں رہا،یہ تو پارٹی کے ہیڈ بھی ہیں، کیا ان کی پارٹی میں لوگ سوال نہیں کر سکتے، اچھی پارٹی ہے، میں خود حیران ہوں بحرحال میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں،انہوں نے اپنے طور پر بدتمیزی کی یہ بدتمیزی اگر سمجھتے ہیں کہ مجھے دبا لے گی یا میں ڈر جاؤں گی تو سب کو پتہ ہے میں ڈرتی ورتی نہیں ہوں.

  • بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے   ملک گیر احتجاج

    بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے ملک گیر احتجاج

    مرکزی مسلم لیگ، مسلم ویمن لیگ اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام بھارتی بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے پر ملک گیر احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اسلام آباد،کراچی،پشاور، قصور ،ملتان، وہاڑی، راولپنڈی،بہاولپور ،پاکپتن،ننکانہ صاحب،حیدرآباد،ایبٹ آباد،ہری پور،مردان،راجن پور،ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں خواتین سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے،شرکا نے بھارت کو دہشتگرد اسٹیٹ قرار دینے کا مطالبہ کیا اور کہا خاتون کا نقاب کھینچنا دہشتگردی ہے،بھارت میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے،

    مسلم ویمن لیگ،سول سوسائٹی کے زیر اہتمام بھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران شرکا نے بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انڈیا پردے کی توہین بند کرو،خواتین کو تحفظ دو، سمیت دیگر تحریریں درج تھیں،شرکا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اوربھارتی وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے، اسلام آباد میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بھارت میں مسلم خاتون کا نقاب کھینچے جانے کے واقعہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے مسلم خاتون کا نقاب نوچنے کے خلاف سول سوسائٹی و مسلم ویمن لیگ کا کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرہ میں شہر بھر سے خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی،وہاڑی میں مذمتی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ممبر صوبائی اسمبلی میاں ثاقب خورشید نے کی ،ریلی میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر ایم پی اے میاں ثاقب خورشید نے کہا کہ خاتون کا حجاب کھینچنا اس کے وقار اور مذہبی شناخت پر براہ راست حملہ ہے، حجاب و نقاب پر حملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے خاتون کے ساتھ بدسلوکی عالمی ضمیر کے لیے چیلنج ہے ، سیکولر سٹیٹ کہلانے والے ہندوستان نےبے حیائی کا مظاہرہ کیا ہے کوئی بھی مذہب ایسی حرکت کو پسند نہیں کرتا،سی او بلدیہ راؤ نعیم خالد ،صدر انجمن تاجران طاہر شریف گجر ،جنرل سیکرٹری انجمن تاجران راؤ خلیل احمد ،ایم این اے تہمینہ دولتانہ کے نمائندے ناصر دولتانہ،شیخ عبدالطیف،رانا محمد شفیق،چوہدری سعید اختر، شاہد سنی گجر،ریاض مسیح سمیت دیگر نے کہا کہ بھارتی صوبہ بہار کے وزیراعلیٰ نے جو گھٹیا اقدام کیا ہے اس کی اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔مرکزی مسلم لیگ پشاور اور سول سوسائٹی پشاور کے زیرِ اہتمام فوارہ چوک تا پریس کلب پشاور احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا،پریس کلب پشاور کے سامنے مظاہرے سے سول سوسائٹی کے سرپرست پیر عطاء اللہ درانی،صدر سول سوسائٹی پشاور نوید شہزاد، مرکزی مسلم لیگ کے پی کے صدر دعوتِ اصلاح ابو عکاشہ منظور،سینئر نائب صدر پشاور سمیع اللہ نے خطاب کیا ،مقررین نے کہا کہ مسلم خواتین کے مذہبی تشخص پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔نقاب عزت، شناخت اور مذہبی آزادی کی علامت ہے، اس کی توہین دراصل پوری انسانیت کی توہین ہے۔ مرکزی مسلم لیگ قصور کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔ احتجاج کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ رانا محمد اشفاق نے کی، رانا محمد اشفاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار کو اس عمل کی سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کرنے کی کوئی جرات نہ کرے،بہاولپور کے ون یونٹ چوک پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت مرکزی مسلم لیگ کے رہنما رانا سیف اللہ نے کی۔ مظاہرے میں کارکنان، طلبہ، خواتین، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پاکپتن میں مرکزی مسلم لیگ، انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے زیرِاہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں مذہبی، سماجی، تاجر رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین ننکانہ صاحب کی طرف سے خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،راولپنڈی میں مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام پریس کلب مری روڈ کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے کی قیادت عبدالرحمٰن، محمد مظہر قادر، عرفان احمد، احسان اللہ اور مبین احمد نے کی، مظاہرے کے دوران عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیں اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمان خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،مرکزی مسلم لیگ ایبٹ آباد کے زیرِ اہتمام مسلم خواتین کا نقاب کھینچنے کے واقعے کے خلاف ایبٹ آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مرکزی مسلم لیگ ملتان کے زیر اہتمام بھارت میں بہار کے وزیر اعلیٰ کا مسلم خاتون کا نقاب کھینچے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مرکزی مسلم لیگ ضلع رحیم یار خان کے جنرل سیکرٹری نوید قمر نے بھی رحیم یارخان میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا،

  • قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مواصلات علیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جو سخت جملوں اور ذاتی نوعیت کے الزامات تک جا پہنچی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر علیم خان نے کہا کہ سینیٹ میں ان پر ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے اور وہ اس سوال کو اپنی ذاتی تذلیل سمجھتے ہیں، جس پر سینیٹر پلوشہ خان نے جواب دیا کہ سوال کرنا الزام لگانا نہیں ہوتا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ اس سوال کو اتنا ذاتی نوعیت کا کیوں سمجھ رہے ہیں؟ اس دوران سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ سوال کرنے پر وفاقی وزیر سیخ پا ہیں، جبکہ وفاقی وزیر نے جواباً کہا کہ دنیا جہاں کے بے ایمان یہاں اکٹھے ہوگئے ہیں۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ آپ سوال کرنے پر اس لیے سیخ پا ہیں کیونکہ آپ گلٹی ہیں، جس پر وفاقی وزیر نے سخت لہجے میں کہا کہ میں تمہارے کرتوت سب کے سامنے رکھوں اور یہ بھی کہا کہ مجھ سے ایسے بات کرنے کی تمہاری جرأت کیسے ہوئی۔

    سینیٹر پلوشہ خان نے بھی جواب میں کہا تمھاری جرات کیسے ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کو شٹ اپ کالز بھی دیں،پلوشہ خان نے چیئرمین کمیٹی پرویز رشید سے وفاقی وزیر کے رویے پر رولنگ دینے اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر میری ذات پر بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے سیکرٹری مواصلات اپنی نشست سے اٹھ کر سینیٹر پلوشہ خان کو منانے آئے، جبکہ دیگر کمیٹی ممبران نے بھی مداخلت کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کو خاموش کرا کے اجلاس کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

    ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی،اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاو کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔

  • 9مئی کیس،شاہ محمودقریشی بری،یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ کو سزا

    9مئی کیس،شاہ محمودقریشی بری،یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ کو سزا

    انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کردیا۔

    عدالت نے 9 مئی کو کلب چوک جی او آر کے گیٹ پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو بری کرنے کا حکم دیا۔ اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کیس کا فیصلہ سنایا۔

    اس کے علاوہ انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی،کیس میں دوران ٹرائل ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 21 ملزمان کے حتمی بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے 56 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا،دوران ٹرائل چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا، عدالت نے شاہ محمود قریشی سمیت مجموعی طور پر 13 ملزمان کو بری کر دیا جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 8 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائیں،عدالت نے اشتہاری قرار دیے گئے 4 ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔ اشتہاری قرار پانے والوں میں فاروق انجم، حبیب احمد، ارسلان اور اکبر خان شامل ہیں۔مقدمہ کے 25 ملزموں کا چالان عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔

    تھانہ ریس کورس نے کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملہ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے کلب چوک جی او آر گیٹ کے سیکیورٹی کیمرے توڑے، ملزمان نے پولیس کی وائر لیس اور جی او آر گیٹ کے شیشے بھی توڑے۔ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہکاروں پر حملہ کیا،پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو 9 مئی بغاوت اور فسادات پر اکسانے کا الزام ہے.