Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبیا کے کمانڈر اِن چیف خلیفہ ابو القاسم حفتر کی ملاقات

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبیا کے کمانڈر اِن چیف خلیفہ ابو القاسم حفتر کی ملاقات

    
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیبیا کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر اور ان کے ہمراہ ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور بالخصوص خطوں کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے پیشہ ورانہ تعاون، پاکستان اور لیبیا کی مسلح افواج کے درمیان مستقل روابط اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لیبیا میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جو دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاس ہے۔
    ‎قبل ازیں نور خان ائیر بیس آمد پر مہمانوں کا استقبال کیا گیا اور معزز مہمان نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جی ایچ کیو میں یادگارِ شہدا پر پھول رکھے۔

  • نوشکی، سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

    نوشکی، سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

    نوشکی میں سیکیورٹی فورسز نے ڈی سی کمپلیکس اور اس کے اطراف میں جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے مزید 7 دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، بارود اور حساس آلات برآمد کیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ڈی سی کمپلیکس میں موجود مشتبہ عناصر کے خلاف کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔ فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر مرحلہ وار پیش قدمی کی، جس دوران دہشتگردوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام خطرات کو ناکام بنایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے 9 عدد ایس ایم جیز، 16 میگزین اور 415 راؤنڈز،2 عدد ایم-16 رائفلیں، 15 میگزین اور 352 راؤنڈز،2 عدد چینی ایل ایم جیز اور 110 راؤنڈز،1 عدد ڈریگنوف اسنائپر رائفل بمعہ 10 میگزین،1 عدد 14.5 ایم ایم اینٹی ایئرکرافٹ مشین گن اور 284 راؤنڈز،1 عدد آر پی جی اور 12 راؤنڈز،1 عدد یو بی جی ایل گرنیڈ،8 دستی بم،5 ٹرانزامین انجیکشن بمعہ سوئیاں،3 واکی ٹاکیز، 4 موبائل فونز اور 1 نائٹ ویژن ڈیوائس برآمد ہوئیں،

    گرفتار دہشتگرد سے تفتیش جاری ہے، جس سے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ اہداف سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے،علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے تک مشتبہ مقامات کی کڑی نگرانی جاری رہے گی۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل یونیسکو کی ملاقات

    وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل یونیسکو کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد الاینانی نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی اور اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

    ڈاکٹر الاینانی کو بطور ڈائریکٹر جنرل یونیسکو منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے، وزیراعظم نے جامع اور معیاری تعلیم کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے لائحہ عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے یونیسکو کی بنیادی اقدار کی پاسداری کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے یونیسکو کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر الاینانی کی قابل قیادت میں تنظیم کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات، بالخصوص "ایجوکیشن ایمرجنسی” جس کا مقصد اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے داخلوں میں اضافے جیسے اقدام پر روشنی ڈالی. وزیرِ اعظم نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دور میں تعلیم کے شعبے میں حاصل کیے گئے تجربات، بہترین طریقوں اور کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے 6 مقامات کے تحفظ اور اس امر میں یونیسکو کے تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز جیسی مزید جگہوں کو تقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت دی۔

    ڈائریکٹر جنرل یونیسکو نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے مختصر دورے میں مختلف اسکولوں اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا اور تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کے لیے اپنے مسلسل عزم پر زور دیا۔

  • بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    حالیہ برسوں کی سب سے منظم اور تباہ کن کارروائیوں میں سے ایک کے بعد، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک واضح اور بے لاگ پیغام دیا، صوبے کے مسائل کی جڑ سیاست میں نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن عسکری ردِعمل درکار ہے۔

    ان کا یہ بیان کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مختلف شہروں میں بیک وقت کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پرتشدد لہر میں کم از کم 31 معصوم شہری اور 17 بہادر سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ تاہم، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے غیر معمولی عزم کے ساتھ جواب دیا اور صرف 40 گھنٹوں کی شدید کارروائیوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ برآمد ہونے والی لاشیں تحویل میں ہیں، جن میں سے بعض کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے، جو اس خطرے کی سرحد پار جہت کو نمایاں کرتی ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شدت پسندوں کی تعداد سے متعلق پھیلائی جانے والی مبالغہ آمیز خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایک سے دو ہزار حملہ آوروں کی اطلاعات؟ سراسر غلط۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعداد 200 سے 250 سے زیادہ نہ تھی، اور ان میں سے اکثر کو یا تو پسپا کر دیا گیا یا ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بی ایل اے کی حکمتِ عملی کو بے نقاب کرتا ہے کہ اپنی طاقت کو پروپیگنڈے کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور شہری علاقوں میں عام لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا،ایک بزدلانہ طریقہ جو انہی لوگوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ کی تشخیص بھی اتنی ہی دو ٹوک ہے، وہ منظم عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کو براہِ راست 2018 کے بعد اختیار کی گئی مصالحتی پالیسی سے جوڑتے ہیں۔ اس سے قبل شدت پسند مسلسل دفاعی پوزیشن میں تھے۔ فرنٹیئر کور کی چوکیاں شاہراہوں پر قائم تھیں، سیکیورٹی کی موجودگی نمایاں اور مؤثر تھی، اور عسکریت پسندوں کے لیے دوبارہ منظم ہونا مشکل تھا۔ 2018 کے بعد کی “نرم” پالیسی نے انہیں سانس لینے کا موقع دیا۔ 2021 تک وہ دوبارہ منظم ہو چکے تھے، اور 2023–2024 میں مزید دلیر اور منظم ہو گئے۔ 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بگٹی حکومت نے ایک دیانت دارانہ جائزہ لیا،“ہم کیا کر رہے تھے؟ ہم انہیں کھلی چھوٹ کیوں دے رہے تھے؟” اسی احتساب نے پالیسی میں فیصلہ کن اصلاح کی راہ ہموار کی، جس میں مفاہمت کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کو ترجیح دی گئی۔

    حالیہ حملوں کے بعد تیز رفتار، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں اس نئے عزم کے نتائج ظاہر کرتی ہیں۔ غیر ملکی مداخلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بگٹی نے بی ایل اے کے سینئر کمانڈر بشیر زیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب انٹیلی جنس کا 99.99 فیصد حصہ اسے افغانستان میں موجود قرار دیتا ہے۔ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور لانچ پیڈ بنی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق بی ایل اے جسے “فتنہ الہندوستان” قرار دیا گیا ہے،ملکی عدم استحکام کے لیے بیرونی سرپرستی حاصل کر رہی ہے۔ یہ الزامات بے بنیاد نہیں بلکہ متعدد انٹیلی جنس جائزوں اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت کے مشاہدہ شدہ نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بی ایل اے کوئی جائز سیاسی جماعت نہیں۔ “کیا بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ پارٹی ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں؟” انہوں نے معنی خیز سوال اٹھایا۔ یہ گروہ بیلٹ کے بجائے بندوق کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مذاکرات کی پیشکش تشدد کو انعام دینے اور قومی سالمیت سے دستبرداری کے مترادف ہوگی۔ بگٹی نے اعلان کیا، “پاکستان ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے والا نہیں۔ وہ عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، مگر ہمارے ملک کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے۔”

    سب سے زیادہ اطمینان بخش ان کا عوامی رائے سے متعلق جائزہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کی بھاری اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ باغیوں کے لیے ہمدردی محدود ہے،عموماً 1 سے 3 فیصد،جو دنیا بھر میں کسی بھی شورش میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وسیع عوامی حمایت کامیاب انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد بنتی ہے۔ جب شہری دہشت گردی کو مسترد کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں تو شدت پسند اپنی سانس کھو دیتے ہیں۔

    حالیہ کارروائیاں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ قلیل عرصے میں 145 دہشت گردوں کا خاتمہ اس تنازعے کی دہائیوں میں لگنے والے شدید ترین ضربوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے، پاکستان کے پاس اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کی صلاحیت بھی ہے اور عزم بھی۔ وزیراعلیٰ بگٹی کے مؤقف کی تائید کا مطلب حقیقت کو رومانوی بیانیوں پر ترجیح دینا ہے۔ دہشت گردی کو خوشامد سے قابو نہیں کیا جا سکتا؛ اسے فیصلہ کن انداز میں للکارنا پڑتا ہے۔ جہاں حقیقی سیاسی شکایات ہوں، وہاں مکالمہ ضروری ہے،مگر اس قیمت پر نہیں کہ شہریوں، اسکولوں، بینکوں، اسپتالوں اور سیکیورٹی تنصیبات کے خلاف مسلح تشدد کو برداشت کیا جائے۔

    بلوچستان امن، ترقی اور وقار کا مستحق ہے۔ یہ مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑا جائے، غیر ملکی پراکسیوں کو بے نقاب کیا جائے، اور ریاست بلا چیلنج اپنی عملداری قائم کرے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی حقیقت پسند قیادت،جو ہتھیار ڈالنے سے انکار، سیکیورٹی کو ترجیح، اور عوام کو متحد کرتی ہے،قومی حمایت کی مستحق ہے۔ آگے کا راستہ مصالحت نہیں، عزم ہے۔ پاکستان متحد ہے، ہم اس جنگ کو اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہماری سرزمین کا ہر انچ محفوظ نہ ہو جائے۔

  • بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی صحافی آدتیہ راج کول اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد “آپریشن ہیروف 2” کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 200 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ تنظیم کے 18 جنگجو مارے گئے، جن میں 11 مبینہ ’فدائین‘ خودکش بمبار شامل تھے۔

    حقیقت،یہ دعوے بے بنیاد، گمراہ کن اور منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔ “آپریشن ہیروف 2” درحقیقت کالعدم بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے متعدد اضلاع میں کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی کوشش تھی، جس میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ معتبر اور تصدیق شدہ ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ملوث کم از کم 145 دہشت گرد (جن میں 3 خودکش عناصر بھی شامل تھے) کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا، سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں کی شہادتوں کی تصدیق ہوئی، جو بھارتی ذرائع کی جانب سے پھیلائے گئے 200 ہلاکتوں کے من گھڑت دعوے سے کہیں کم ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے 18 جنگجوؤں (بشمول مبینہ ’فدائین‘) کی ہلاکت کا دعویٰ خودساختہ ہے، جس کی کوئی آزادانہ یا مستند تصدیق موجود نہیں۔

    بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز اور بیانیے سیاق و سباق سے ہٹ کر، ایڈیٹ شدہ یا پرانی فوٹیج پر مشتمل تھے، جنہیں بی ایل اے کی طاقت بڑھا چڑھا کر دکھانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے 40 گھنٹوں پر محیط تیز، مربوط اور پیشہ ورانہ ردِعمل کے نتیجے میں تمام ملوث دہشت گردوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا گیا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا گیا اور علاقے میں امن و امان بحال ہوا۔

    نتیجہ ،یہ فیکٹ چیک واضح کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی تشہیر اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینا ہے، جبکہ زمینی حقائق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں اور کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا  آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کیے گئے مؤثر اور مربوط تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد گزشتہ تین روز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 تک جا پہنچی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی اور فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جبکہ مشتبہ افراد کی نگرانی اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رکھیں گی۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات ختم ہو گئی۔

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی شہباز شریف سے ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی،ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات میں مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امیر مقام اور رانا ثنااللہ بھی ملاقات میں موجود تھے،ذرائع پی ٹی آئی کا بتانا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے ملاقات میں وادی تیراہ، امن جرگہ اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے این ایف سی معاملات پر بھی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا۔

    وفاقی و صوبائی حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی.وزیراعظم
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا وزیراعظم ہاؤس نے اعلامیہ جاری کر دیا ،جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا.وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے.صوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے. وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی. خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئیے. صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں.وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے. خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی. قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے،

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن،48 گھنٹوں میں 108 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن،48 گھنٹوں میں 108 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن بی ایل اے کے 61 دہشتگرد ہلاک کردئے ۔ بی ایل اے کا ہیروف 2 مکمل طور پر فیل ہوگیا ۔ جب کہ 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور چند زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر گزشتہ 48 گھنٹوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔

    ابتدائی حملہ کوئٹہ کی سریاب روڈ پر پولیس وین کو نشانہ بنانے سے شروع ہوا۔ چند ہی منٹ بعد نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر، دالبندین کے ایف سی کمپاؤنڈ، پسنی میں کوسٹ گارڈ چوکی اور گوادر کی لیبر کالونی سمیت بارہ مقامات پر فائر اور خودکش حملے کیے گئے۔ ہر مقام پر مؤثر جوابی فائر کے باعث دہشت گرد پسپا ہوئے اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ہیروف 2‘‘ بی ایل اے کی ایک نئی اصطلاح تھی جس کے ذریعے وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر منصوبہ پہلی ہی جھڑپ میں خاک میں مل گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں متعدد عسکریت پسند افغانستان میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے براہِ راست ہدایات لے رہے تھے، جب کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ بھی تھا۔

    فائر فائٹ ختم ہوتے ہی صوبائی حکومت نے اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں خون کے مراکز ہائی الرٹ پر ہیں۔ مواصلاتی نگرانی سخت کی جا چکی ہے جبکہ حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس معطل ہے تاکہ دہشت گردوں کی باہمی رابطہ کاری روکی جا سکے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ شہری علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں اور قومی شاہراہیں کھولی جا چکی ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق 108 عسکریت پسندوں کا نقصان بی ایل اے کے فیلڈ نیٹ ورک، اسلحہ رسد اور مقامی سطح پر بھرتی کے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ پچھلے سال کے دوران تنظیم کی سرگرمیوں میں افغان سرزمین اور غیر ملکی فنڈنگ کے تذکرے تواتر سے آ رہے ہیں، جنہیں پاکستان سختی سے اجاگر کرتا رہا ہے۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلباء کیساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر آمد پر اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور طلباء کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مفصل گفتگو کی ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا کے حوالے سے طلباء کو مکمل آگاہی فراہم کی،اس موقع پر یونیورسٹی آف گوادر کے طلباء کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ہمیشہ ریاست، آئین اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے ذہنوں میں موجود ابہام کو دور کیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے شواہد کے ساتھ مس انفارمیشن کا تدارک کیا ہے ، ہماری ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ یہ ملاقات کافی معلوماتی رہی، طلباء نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کیساتھ کھڑے رہنے پر پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا

  • بلوچستان، 12 مقامات پر حملے ناکام،58 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان، 12 مقامات پر حملے ناکام،58 دہشتگرد جہنم واصل

    گذشتہ رات فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے۔

    سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے گئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں اب تک۔ فتنہ الہندوستان کے 58 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ اس دوران سیکورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان اس دھرتی اور عوام کی حفاظت کیلئے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔سیکورٹی فورسز کا مختلف لوکیشنز پر دہشتگردوں کا تعاقب اور engagement کا سلسلہ تا حال جاری ہے،ان کاروائیوں کے نتیجے میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتیں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔ سیکورٹی ذرائع

    یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گرد پہلے ہی جہنم واصل کر چکے ہیں۔

    سیکورٹی فورسز اور پولیس کے 10 شہداء کے علاوہ فتنہ الہندوستان کے ان انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیا ہے جنمیں ایک خاتون کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی طرف سے مزید تعاقبی آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔ ان دہشت گردانہ کاروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔