Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آپریشن سندور، بھارت پہلے ہی دن جنگ ہار چکا تھا، بھارتی سابق وزیراعلیٰ کا اعتراف

    آپریشن سندور، بھارت پہلے ہی دن جنگ ہار چکا تھا، بھارتی سابق وزیراعلیٰ کا اعتراف

    ممبئی: بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما پرتھوی راج چوہان نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر آپریشن سندور کے پہلے ہی دن جنگ ہار گیا تھا۔ ان کے اس بیان نے بھارتی سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔

    پرتھوی راج چوہان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 مئی کو ہونے والی تقریباً آدھے گھنٹے کی فضائی جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کے طیارے مار گرائے گئے، جس کے نتیجے میں بھارت عملی طور پر جنگ ہار چکا تھا۔ اس ابتدائی نقصان کے بعد صورتحال بھارت کے حق میں نہیں رہی۔ پہلے دن کی لڑائی کے بعد بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا کیونکہ اگر انہیں دوبارہ جنگ میں بھیجا جاتا تو پاکستان ائیر فورس کی جانب سے مزید طیارے گرائے جانے کا شدید خدشہ موجود تھا۔ ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ فضائی محاذ پر بھارتی سرگرمیاں محدود رہیں۔

    کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ حالیہ آپریشن کے دوران زمینی سطح پر فوج نے ایک کلومیٹر بھی پیش قدمی نہیں کی۔ ان کے مطابق دو سے تین دن تک جو کچھ ہوا وہ محض فضائی جھڑپوں اور میزائل حملوں تک محدود تھا۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں بھی اسی نوعیت کی ہوں گی، جہاں روایتی زمینی لڑائی کے بجائے ٹیکنالوجی، فضائی طاقت اور میزائل سسٹمز مرکزی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے اس تناظر میں ایک اہم سوال بھی اٹھایا اور کہا کہ اگر جنگوں کی نوعیت یہی رہنی ہے تو کیا واقعی بھارت کو 12 لاکھ فوجیوں پر مشتمل ایک بڑی بری فوج کی ضرورت ہے، یا پھر ان فوجیوں سے کسی اور نوعیت کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔

    پرتھوی راج چوہان نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور انہوں نے کوئی غلط یا گمراہ کن بات نہیں کی۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

    دوسری جانب ان کے اس بیان نے بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، خصوصاً حکومتی حلقوں کی جانب سے پرتھوی راج چوہان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے قومی سلامتی اور فوج کے حوصلے پر منفی اثر پڑتا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست میں دفاعی پالیسی، فوجی اخراجات اور قومی سلامتی کے معاملات پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،متعدد دہشتگردانجام کو پہنچے

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،متعدد دہشتگردانجام کو پہنچے

    خیبر پختونخوا،بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں،

    پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ضلع ڈیرہ بگٹی کے سوئی ایریا میں ٹاؤن چیئرمین کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دستی بم دفتر کی جانب پھینکا گیا تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا تاکہ ملوث عناصر کی نشاندہی اور حملے کے محرکات معلوم کیے جا سکیں۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ایک الگ واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے قلات مڈوے روڈ پر معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، مقامی ذرائع کے مطابق یہ گاڑیاں ریکوڈک منصوبے سے منسلک تھیں۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر حملے کے بعد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد علاقے میں حملہ آوروں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محفوظ بنا کر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ تاحال کسی کالعدم تنظیم، بشمول بی ایل اے یا بی ایل ایف، نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    مسلح افراد کی جانب سے حملے کے دوران پنجگور شہر میں محکمہ انسداد دہشت گردی کا ایک افسر شہید جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ حملہ چتکان بازار میں ہوا جو ضلع کا مرکزی تجارتی علاقہ ہے، جہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشن، سرکاری دفاتر اور بینکوں پر فائرنگ کی۔ پولیس نے مزاحمت کی اور علاقے کو محفوظ بنایا، شہید اور زخمی اہلکاروں کو ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    حکام کے مطابق بلوچستان میں ریلوے سروس ایک دن کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس، کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل اور کوئٹہ–چمن مسافر ٹرین نہیں چلیں گی، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس بھی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ ریلوے حکام نے تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ذرائع کے مطابق سکیورٹی خدشات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ حالیہ مہینوں میں بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی ریلوے سروسز بار بار متاثر ہوئی ہیں جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک علاقے میں شدت پسندوں نے مبینہ طور پر مقامی لوگوں کے جانور چرا لیے اور بعد میں ایک ویڈیو جاری کر کے جھوٹا دعویٰ کیا کہ یہ جانور سکیورٹی فورسز کے تھے۔ ایک مقامی صحافی کے مطابق یہ جانور علاقے کے رہائشیوں کی ذاتی ملکیت تھے۔ حقائق چھپانے کی کوشش میں شدت پسندوں نے انہیں فوج سے منسوب کیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پشاور میں محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) نے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا جبکہ دو فرار ہو گئے۔ حکام کو زنگلی کینال کے قریب شمشو کی جانب، تھانہ بدھ بیر کی حدود میں شدت پسندوں کی موجودگی اور بڑی تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کی خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اطلاع پر CTD کی ٹیموں نے آپریشن کیا۔ موقع پر پہنچتے ہی شدت پسندوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسند مارے گئے جبکہ دو فرار ہو گئے۔ بعد ازاں سرچ آپریشن میں تین کلاشنکوف اور نو میگزین برآمد ہوئے۔

    پولیس کے مطابق حیات خیل کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور اس کا بھائی شہید ہو گئے۔ کانسٹیبل عامر نواز اپنے بھائی خان گل کے ساتھ موٹر سائیکل پر گاؤں جا رہا تھا کہ حملے کا نشانہ بنے۔ دونوں موقع پر ہی جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    حکام کے مطابق ٹپی سکیورٹی پوسٹ پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم الرٹ اہلکاروں نے اینٹی ڈرون سسٹم فعال کر کے ڈیوائس کو محفوظ فاصلے پر ناکارہ بنا دیا۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ واقعہ بنوں کے جنیکھیل میں حالیہ ڈرون حملے کے بعد پیش آیا تھا جس میں بچوں سمیت پانچ شہری زخمی ہوئے تھے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند اب ڈرونز کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس نے جدید آلات، نئے تھانے اور ایڈوانسڈ ڈرون ٹیکنالوجی یونٹ قائم کر کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

    حکام کے مطابق لوئی ماموند میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارا جانے والا دہشت گرد افغان شہری تھا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کا نام سعید ملا تاج الدین عرف احمدی تھا، جو افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی اور کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا۔

    سکیورٹی فورسز نے تحصیل پروآ کے علاقے کوئی بہارہ میں آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت کمانڈر منصور ستوریانی کے طور پر کی ہے، جو کالعدم ٹی ٹی پی کے گھنداپور گروپ سے وابستہ تھا۔ خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن میں مطلوب دہشت گرد مارا گیا، جو کئی سنگین حملوں میں ملوث اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔

    حکام کے مطابق اعظم ورسک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ دہشت گرد احسان عرف خالد مہاجر مارا گیا۔ وہ متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں مطلوب تھا۔

    حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں منڈل پوسٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا۔ شدت پسندوں نے پوسٹ پر حملہ کیا تاہم مؤثر جوابی کارروائی کے بعد فرار ہو گئے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی میں ہونے والی ماس کِلنگ نے ایک بار پھر بھارت کے مشکوک اور خطرناک سکیورٹی کردار پر عالمی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    حملے سے قبل ملزم کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کے انکشاف نے اس واقعے کو ایک منظم اور ٹرانس نیشنل سازش کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسی سنگینی کے پیش نظر آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے باقاعدہ رپورٹ طلب کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شک کی سوئی اب براہِ راست نئی دہلی کی طرف جا رہی ہے۔ بھارت کا ریکارڈ اس حوالے سے پہلے ہی متنازع ہے چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ آپریشنز ہوں یا کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ .. یہ سب ایک ایسے پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    سڈنی حملہ محض ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ بھارت سے جڑے ایک خطرناک ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ حملہ آور کا واردات سے پہلے فلپائن جانا، وہاں عسکری نوعیت کی تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ عالمی سطح پر بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور ٹرانس نیشنل کلنگز کے الزامات کی زد میں ہے، خاص طور پر کینیڈا میں سکھوں کے قتل کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ سڈنی واقعہ انہی شبہات کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ بھارت بیرونِ ملک بیٹھ کر پرتشدد کارروائیوں کے لیے افراد کو تیار کرنے کی صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والی اجتماعی ہلاکتیں بھارت کے اس خفیہ سکیورٹی کھیل کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں جس میں تشدد کو سرحدوں سے باہر ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ اسی تناظر میں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے رپورٹ طلب کرنا ایک غیر معمولی سفارتی قدم ہے۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اور سڈنی حملہ اس پورے پیٹرن کو مزید واضح کر رہا ہے کہ تشدد کی تربیت اور رہنمائی کہاں سے آ رہی ہے۔

    سڈنی ماس کِلنگ نے بھارت کے سکیورٹی بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے سے پہلے ملزم کا فلپائن جانا، مبینہ عسکری تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا ایسے حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے براہِ راست رپورٹ طلب کی۔ بھارت کا ماضی اس حوالے سے پہلے ہی سوالیہ نشان ہے’ چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ ڈرامے ہوں یا کینیڈا میں سکھوں کی ہلاکتیں۔ یہ تمام واقعات ایک ہی پیغام دیتے ہیں: بھارت نہ صرف اندرونِ ملک بیانیہ گھڑتا ہے بلکہ بیرونِ ملک تشدد کے نیٹ ورکس کو بھی خاموشی سے پروان چڑھاتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والا خونریز واقعہ بھارت کے ٹرانس نیشنل تشدد کے ماڈل کی ایک اور کڑی بن کر سامنے آیا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں عسکری تربیت حاصل کرنا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے آسٹریلوی حکومت نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل جیسے الزامات کی زد میں ہے، اور سڈنی واقعہ ان خدشات کو عالمی سچائی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے کہ نئی دہلی بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کے طریقے سکھانے اور استعمال کروانے میں ملوث رہی ہے۔

  • پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بلوچستان میں شرانگیزی اور منظم سازش کا ایک مرتبہ پھر پردہ چاک ہو گیا

    انسانیت سے عاری مودی کی ایک اور گھناؤنی سازش، بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور فتنہ الہندوستان متحرک ہے،پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں ملوث پیج 3 نیوز تھائی کے نام سے چلنے والا ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،جعلی شناخت کے ذریعے بھارتی اکاؤنٹ غدارِ وطن میر یار بلوچ کے نام پر بارہا پیغام رسانی میں ملوث پایا گیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے مسلسل میر یار بلوچ کے نام پر من گھڑت دعوؤں، تاریخی تحریف اور بھارتی ایجنڈا کی تشہیر جاری ہے،جعلی اکاؤنٹ منظم سازش کے تحت بلوچ شناخت کو دہشتگردی کے فروغ کیلئے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے

    حال ہی میں بین الاقوامی سامعین کیلئے اس جعلی اکاؤنٹ سے بھارتی پروپیگنڈا پر مبنی ایک طویل پیغام سامنے آیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے جاری کردہ پیغام دراصل RAW کے تیار کردہ بلوچستان مخالف پراپیگنڈا پر مبنی تھا ،تھائی سماجی ایپ ایکس کے مطابق اکاؤنٹ بھارت سے تھائی لینڈ VPN کے ذریعے آپریٹ کیا جا رہا ہے ،پاکستان مخالف پراپیگنڈا مہم اور شر پسند عناصر کی سرپرستی نے بھارتی مذموم عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا،بھارتی ایما پر بلوچستان میں جاری بدامنی اور دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد دنیا بھر کے سامنے عیاں ہو چکے ہیں

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،کوئٹہ سے 4خودکش گرفتار

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،کوئٹہ سے 4خودکش گرفتار

    بلوچستان و خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز نےدہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیا ہے

    پولیس ذرائع کے مطابق گلبہار نمبر 2 پشاور میں ایک گھر میں گیس لیک ہونے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک کمسن بچی زخمی ہو گئیں۔ دھماکے سے گھر کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ رہائش گاہ پی ٹی آئی رہنما رضوان بنگش کی ہے۔ ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے دھماکے کی اصل وجہ جاننے اور علاقے میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملک خیل قبیلے کے قبائلی بزرگ حاجی کاکے کو نامعلوم افراد نے بشرا علاقے کے قریب تشدد کا نشانہ بنا کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ حکام کے مطابق مقتول گزشتہ دو دنوں سے لاپتہ تھے اور ان کی لاش دریائے کرم کے کنارے سے برآمد ہوئی۔ لاش کو تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مقامی قبائلی عمائدین نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے ایپی گاؤں میں قائم سرکاری گرلز پرائمری اسکول کو بارودی مواد نصب کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ لال سلام کوٹ (لولی کوٹ) اسکول، جو دور دراز علاقے میں سیکڑوں بچیوں کو بنیادی تعلیم فراہم کر رہا تھا، رات کی تاریکی میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اسکول کی تباہی سے طالبات کی تعلیم اور مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ حکام اور مقامی افراد نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا خواندگی، صنفی مساوات اور مجموعی ترقی کے خلاف ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نقصان کا جائزہ لے رہی ہے اور متاثرہ طالبات کے لیے تعلیمی تسلسل یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ سول سوسائٹی اور حکام نے خصوصاً بچیوں کے اسکولوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور بچوں کے تعلیم کے حق کے تحفظ کے لیے مشترکہ ردعمل پر زور دیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کلاچی کے عمومی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 15 دسمبر کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔ اس دوران 34 سالہ نائیک یاسر خان، سکنہ ضلع مردان، بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا جو علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بھی شروع کیا گیا۔

    پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیم گل بہادر گروپ کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اس کے چار اہم کمانڈروں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت دانش عرف انصاف عرف سباون، ضیاء اللہ ولد سلامت خان، عطاالرحمان (دٹہ خیل) اور مولانا کوثر کے نام سے ہوئی۔ حکام کے مطابق یہ دہشت گرد شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر پر حالیہ حملے کی منصوبہ بندی میں براہِ راست ملوث تھے اور علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، دہشت گرد نیٹ ورکس کی تنظیم، نئی بھرتیاں، پولیس چیک پوسٹوں پر حملے اور اغوا برائے تاوان جیسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ ذرائع کے مطابق خود کالعدم تنظیم نے بھی اپنے کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اپنے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ کارروائی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعاون کا مظہر ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بنوں کے نیم قبائلی جنیکھیل علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم پانچ شہری زخمی ہو گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بنوں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت اور اقدامات کا جائزہ لیا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرون کی نوعیت اور دھماکہ خیز مواد کے ماخذ کے تعین کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ بنوں اور ملحقہ اضلاع میں ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جن میں ماضی میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے ایسے حملوں کو کالعدم تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی کے دھڑوں (خوارج)، سے جوڑا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں منڈل پوسٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کی لیکن تعینات دستوں کے بروقت اور مؤثر جواب پر پسپا ہو گئے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق خضدار کی تحصیل وڈھ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر پر دستی بم پھینک دیا جس کے نتیجے میں 8 سالہ بچہ جاں بحق اور خواتین و بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔ حملہ سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کے گھر پر ہوا جو وڈھ میں مزدوری کرتے تھے۔ دھماکے میں بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی شواہد دہشت گرد عناصر کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ مقامی افراد نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے ضلع قلات کے خران علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزمان زین مرزا، عامر شاہ اور رحمت اللہ ہیں، جو خران میں ایس ایچ او محمد قاسم بلوچ کی شہادت سمیت متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران سرکاری اسلحہ، سب مشین گنز اور ایک گاڑی برآمد کی گئی۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا جو افغانستان سے نوشکی روٹ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اس کارروائی سے ایک بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے سامی میں ناکہ بندی کے دوران بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پک اپ گاڑی (رجسٹریشن نمبر SPC-077) کو تلاشی کے لیے روکا گیا، جس سے 100 پستول، دو ایم فور رائفلیں، پستول کے 100 اضافی میگزین اور ایم فور کے دو اضافی میگزین برآمد ہوئے۔ کارروائی کے دوران گاڑی کا ڈرائیور اور اس کا ساتھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کی شناخت عارف اللہ ولد محمد خیراللہ خان اور عنایت اللہ ولد محمود علی خان (ساکنان ضلع بنوں) کے طور پر ہوئی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • وزیراعظم  کی بجلی کی ترسیل کار اور پیداواری کمپنیوں   کی نجکاری تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی بجلی کی ترسیل کار اور پیداواری کمپنیوں کی نجکاری تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کو پاور سیکٹر روڈمیپ پر پیشرفت کی بریفنگ دی گئی،وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں (DISCOs) اور پیداواری کمپنیوں (GENCOs) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ بجلی کے نظام کی نجکاری کے ذریعے ملک میں مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کی تشکیل ہی ملک میں توانائی کے مسائل کا پائیدار حل ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی ترسیل کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ بجلی کے نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بیٹری اینرجی سٹوریج سسٹم پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کی شمولیت سے کام شروع کیا جائے،

    اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار، ترسیل، ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری اور پاور سیکٹر میں دیگر اصلاحات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ تین ترسیل کار کمپنیوںIESCO، FESCO اور GEPCOکی نجکاری کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں اور اس حوالے سے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EoIs) جلد شائع ہوں گے، بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے 500 کے وی کے غازی بروتھا – فیصل آباد ٹرانسمشن لائن کا پی سی ون منظوری کے مراحل میں ہے، درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو تھر کول پر منتقل کرنے کے لیے ٹیکنیکل فیزیبیلیٹی مکمل ہو چکی، تھر کول کی پلانٹس تک منتقلی کے لیے ریلوے لائن پر کام جاری ہے، براجلاس میں مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کی آپریشنلائزیشن پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں لائن لاسز میں کمی ہوئی ہے،بیٹری اینرجی سٹوریج سسٹم کے منصوبے کی کنسییپٹ کلیئرنس پروپوزل کی منظوری ہو چکی ہے اور فیزیبیلیٹی سٹڈی جاری ہے، اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، سردار اویس احمد لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • سڈنی حملہ،اسرائیل، بھارت،افغانستان کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

    سڈنی حملہ،اسرائیل، بھارت،افغانستان کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

    آسڑیلوی شہر سڈنی میں دہشتگردی، اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا پاکستان کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،

    آسڑیلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ کاروائی کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے،حسب روایت اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا اور ان سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس واقعے کو پاکستان کے ساتھ نتھی کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اسرائیلی اخبار یروشلم کی جانب سے حقائق جانے بغیر منظم ایجنڈے کے تحت حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا گیا،اسرائیلی اخبار یروشلم کی طرز پر ”را“ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا،یہ منظم پروپیگنڈا بھارت کے پہلگام فالس فلیگ کی طرز پر کیاگیا جس میں شواہد کا انتظار کئے بغیر الزام پاکستان پر دھرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی،اس پروپیگنڈے کے برعکس اکٹھے کیے جانے والے اصل حقائق کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

    پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق ساجد اکرم اور نوید اکرم نامی شخص کا پاکستانی ہونے کا ابھی تک کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اگر یہ باپ بیٹا پاکستانی ہوتے تو اتنا وقت گزرنے کے بعد پاکستان میں موجود انکے بقیہ خاندان کے بارے میں تفصیلات کا موجود نہ ہونا بھی انکی پاکستانی شناخت پر سوال اٹھاتا ہے۔ آسٹریلیا میں موجود پاکستانی حُکّام کے مطابق تاحال پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے انکے پاکستانی ہونے کے بارے میں کوئی اطلاعات موجود نہیں ہیں۔

    ہندوستانی میڈیا اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی طرف سے کیا جانے والا یہ پروپیگنڈہ کہ ساجد اکرم ٹورسٹ ویزا پر آسٹریلیا گیا تھا انتہائی لغو اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ در حقیقت ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ پر آسٹریلیا پہنچا اور یہ ویزا 2001 میں وارینا نامی آسٹریلین خاتون سے شادی کہ بعد پارٹنر ویزا میں تبدیل ہوا۔ اس سلسلے میں آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک کا بیان ان حقائق کی توثیق کرتا ہے۔ ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کا ممبر ہے جسکی وجہ سے اس سے 6 لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ اسرائیلی، ہندوستانی اور PTI کے بیرون ملک بیٹھے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کل سے ایک ایسے پاکستانی نوید اکرم کی کہانی گڑھ رہے ہیں جس نے خود سوشل میڈیا پر اس جھوٹے پروپیگنڈا کو بےنقاب کر دیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ہے۔ پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا گڑھ بن چکا ہے،واقعے کے دوران کی جانے والی فائرنگ افغان طالبان کی اس طرح کے واقعات میں طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے.

  • معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق

    معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق

    معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق بن کر رہ گئی

    عالمی افق پرفیلڈمارشل کی پذیرائی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت اور پاکستان کی نمایاں سفارتی کامیابیوں سے بھارتی عسکری قیادت شدید تذبذب کا شکارہو گئی،معرکۂ حق میں ہزیمت چھپانے کے لیے اور اپنے آپ کو مقبولیت دلوانے کے لئے بھارتی عسکری قیادت میڈیا میں شعبدہ بازی اور غیر سنجیدہ طرز عمل میں مصروف ہے ، بھارتی عسکری قیادت سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہندو مذہبی رسومات میں میڈیا پر پیش پیش نظر آتی ہے ،دوسری طرف مختلف موقعوں پر اپنی اسٹریٹجک قابلیت دکھانے کے لئے آئے دن میڈیا پر عسکری تیاری کے الاپ گاتی نظر آتی ہے ،مقبولیت اور اپنی ذہنی سوچ کو بڑھاوا دینے کے لئے بھارتی آرمی اور فضائیہ چیف پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بھی سستی شہرت کے حصول کیلئے تھیٹر لگانے سے باز نہ آئے

    بھارتی آرمی چیف کا پاسنگ آؤٹ پریڈ گراؤنڈ میں نا معقول انداز میں پُش اَپس کا بھونڈا ڈرامہ دراصل ناقص تیاریوں اور ناکام حکمتِ عملی پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے، بھارتی آرمی چیف نے پاسنگ آؤٹ پریڈ پر ڈنڈ نکالنے لگ پڑے جس میں سے ایک بھی صحیح نہیں تھا ،بھارتی فضائی قیادت بھی سستی شہرت کیلئے احمقانہ حرکات میں پیش پیش ہے،فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فضائی قیادت کا فلائی پاسٹ میں حصہ لینا اور پاسنگ آؤٹ کیڈٹس کو سلامی پیش کرنا ایسی احمقانہ مثال ہے جسکی توقع بھارتی فوجی قیادت سے ہی کی جاسکتی ہے،

    بھارتی فضائی قیادت رقص و سرور کی محافل میں مصروفِ اپنی ویڈیوز میڈیا پر دینے لگ پڑے ،میدان جنگ کے بجائے اسٹیج تھیٹر ، ناچ گانے اور تماشہ بازی ہی بھارتی فضائی چیف کی اہلیت اور صلاحیت ہو سکتی ہے،کمزور بھارتی فوجی قیادتوں کا مضحکہ خیز سرکس شو عسکری وقار کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا سبب بن گیا ،بھارتی فوجی قیادتوں کی غیر سنجیدہ اور دکھاوے کی حرکات ، ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں

  • ڈی آئی خان، سیکیورٹی فورسز کی  کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 7 دہشت گرد ہلاک

    ڈی آئی خان، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 7 دہشت گرد ہلاک

    ڈیرہ اسماعیل خان: خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گنڈاپور گروپ سے تعلق رکھنے والے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی آج صبح گاؤں ابا شہید میں کی گئی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی تھی، جس پر فوری طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، تاہم فورسز کی مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں تمام 7 دہشت گرد مارے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد علاقے میں مختلف تخریبی سرگرمیوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر حساس مواد برآمد ہوا۔

    سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن بھی کیا تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مزید دہشت گردوں کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز ہر ممکن اقدام کرتی رہیں گی۔

  • خیبرپختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف  کاروائیاں جاری،وادی تیراہ میں آپریشن

    خیبرپختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،وادی تیراہ میں آپریشن

    خیبرپختونخوا، بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں.

    تربت، ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے ابسر میں ریسرچ فارم کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے کی شناخت رحمدل ولد فضل کے نام سے ہوئی جو دکی بازار، ابسر کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پکنک کے لیے وہاں موجود تھا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    اغوا کیے گئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار کی لاش ضلع پنجگور کے علاقے چاکول سے برآمد ہوئی، جس کے بعد مقتول کے لواحقین نے ڈی پی او آفس کے سامنے مرکزی سڑک پر لاش رکھ کر احتجاج کیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکار خلیل احمد ولد احمد کو ایک روز قبل تاسپ کے علاقے سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔ ان کی لاش چاکول کے علاقے سے ملی۔ احتجاج کے دوران لواحقین نے لاش کے ہمراہ دھرنا دیا۔ پولیس افسران اور ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق خیرآباد کے علاقے میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے محمد نعیم ولد محمد یعقوب، ساکن خیرآباد کو قتل کر دیا۔ ملزمان فائرنگ کے فوراً بعد فرار ہو گئے۔ تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ اتوار کے روز تربت میں فائرنگ سے ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل رحمدل نامی شخص کو ابسر ریسرچ فارم کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حالات کا تعین اور ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے خاران کے تھانہ انچارج (ایس ایچ او) کے قتل میں ملوث تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کو خاران کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد خاران کے ایس ایچ او کی ٹارگٹ کلنگ میں براہِ راست ملوث تھے اور دیگر دہشت گرد سرگرمیوں سے بھی وابستہ تھے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق بلوچستان بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور رواں سال اب تک مختلف آپریشنز اور مقابلوں میں مجموعی طور پر 707 دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر قابلِ اعتراض مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز خطے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    جنوبی وزیرستان (لوئر)،پولیس کے مطابق سلمان خیل قبیلے کے قبائلی عمائدین میں شامل ملک تورابی کو اعظم ورسک سے زرمیلَن اپنے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ حالات کا تعین اور ذمہ داران کی شناخت کی جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق تیراہ وادی میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے آغاز کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کی تیاریوں میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اور زیادہ تر رضاکارانہ انخلا پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بار بار کی ہدایات اور یقین دہانیوں کے بعد بیشتر مکین علاقہ خالی کر چکے ہیں، تاہم کچھ خاندان مالی مشکلات، انتظامی مسائل یا آپریشن کے بعد کے انتظامات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اب بھی موجود ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد علاقے میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اور واضح کیا کہ انخلا کا مقصد جبر نہیں بلکہ شہریوں کو نقصان سے بچانا ہے۔ حکام کے مطابق ٹرانسپورٹ سہولیات کا انتظام کیا جا رہا ہے، شہری ہلاکتوں سے بچنے کی کوششیں جاری ہیں اور آپریشن جلد مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ قبائلی عمائدین اور کمیونٹی نمائندوں سے مشاورت جاری ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ مذاکرات کے دوران مکینوں نے مالی امداد، اندرونِ ملک بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کے طور پر باضابطہ شناخت اور مستقبل میں جبری انخلا نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض مقامی سیاسی شخصیات نے آپریشن کی مخالفت کی اور مذاکرات میں شریک نہیں ہوئیں۔ مجوزہ آپریشن طویل عرصے سے جاری سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، کیونکہ تیراہ وادی کو ضلع خیبر میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ عسکریت پسندی، اسمگلنگ اور منشیات و دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے لیے ایک اسٹریٹجک راہداری قرار دیا جاتا رہا ہے۔ انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ اسلام کے دھڑوں سمیت مختلف گروہ اس علاقے سے منسلک رہے ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ تحقیقات نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ تیراہ میں موجود نیٹ ورکس خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔

    ضلع کرم میں سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان جانب سے ہونے والی فائرنگ میں تھل اسکاؤٹس کے تین اہلکار شہید اور تین زخمی ہو گئے، جب فائرنگ نے شبک (انزار) بارڈر پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق اچانک سرحد پار سے فائرنگ شروع ہوئی جس سے انزار بارڈر پوسٹ پر تعینات اہلکار متاثر ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔ تاہم حکومتی سطح پر تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ صورتحال کا جائزہ لینے اور اطلاعات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

    حکام کے مطابق نامعلوم سمت سے دہشت گردوں کی جانب سے داغا گیا مارٹر شیل بنوں کے علاقے بکاخیل میں ایک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے سے گھر کو شدید نقصان پہنچا، ایک بچہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ متاثرین کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمی بچے کی حالت نازک بتائی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں پہنچ کر ذمہ داران کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مارٹر فائر کے ماخذ اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بنوں کے علاقے مامندخیل میں کی گئی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے نتیجے میں کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے ایک سینئر کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت مولوی انصاف اللہ کے نام سے ہوئی، جن کا اصل نام اکرام اللہ تھا۔ انہیں زرگل عرف انکل گروپ کا سینئر کمانڈر بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولوی انصاف اللہ شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر پر حملے کی کوشش میں ملوث تھا اور دیگر کئی دہشت گرد سرگرمیوں میں مطلوب تھا۔ کارروائی کے دوران اس کے دو ساتھی، عطاالرحمٰن اور ابو صالح، فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے۔ ایک اور شدت پسند، شناختی…

    گزشتہ تین روز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مہمند، باجوڑ، کرم اور ٹانک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 29 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں شدت پسندوں کی موجودگی اور نقل و حرکت سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران کئی ٹھکانے نشانہ بنائے گئے، جس کے نتیجے میں مسلح جھڑپیں ہوئیں اور شدت پسند مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد افغان شہری بھی شامل ہیں، تاہم ان کی شناخت کی مزید تصدیق جاری ہے۔ ان کارروائیوں میں زمینی فورسز نے انٹیلی جنس اداروں کی معاونت سے حصہ لیا،