Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان بحریہ کا شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل فائرنگ کا کامیاب تجربہ

    پاکستان بحریہ کا شمالی بحیرۂ عرب میں میزائل فائرنگ کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں FM-90(N) ER سطح سے فضاء تک مار کرنے والے میزائل کی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیت کی توثیق کی

    ۔ فائر پاور کے مظاہرے کے دوران، پاک بحریہ کے جہاز نے انتہائی مینوریبل فضائی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے پاک بحریہ کی جنگی صلاحیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی۔ کمانڈر پاکستان فلیٹ، ریئر ایڈمرل عبدالمُنیب نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹ پر اس لائیو فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔کمانڈر پاکستان فلیٹ نے فائرنگ میں شریک افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ہر صورت پاکستان کے سمندری دفاع کو یقینی بنانے اور قومی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

  • بھارت،افغان دفاعی منصوبہ: عسکریت پسندی کے فروغ،خطے کے امن کیلیے سنگین خطرہ

    بھارت،افغان دفاعی منصوبہ: عسکریت پسندی کے فروغ،خطے کے امن کیلیے سنگین خطرہ

    بھارت نے افغانستان کے لیے جدید اور عالمی معیار کے دفاعی نظاموں کی تیاری کے حوالے سے تعلیمی و تربیتی عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں بھارتی نوجوانوں کے ساتھ افغان نوجوانوں کی شمولیت بھی شامل ہوگی۔ اس پیش رفت کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک نیا اور سنجیدہ خدشہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    بھارتی وزارتِ دفاع کے ذرائع کے مطابق بھارت 2026 میں افغانستان کے لیے جدید دفاعی تعلیمی و تربیتی مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں دفاعی ٹیکنالوجی، فضائی نگرانی اور جدید فوجی نظاموں سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔ بھارتی دعویٰ ہے کہ ان مراکز کے ذریعے افغان نوجوانوں کو مستقبل میں جدید دفاعی نظام تیار کرنے اور فضائی و زمینی دفاع کو مضبوط بنانے کی صلاحیت دی جائے گی۔تاہم سیکیورٹی اور خطے کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام افغانستان کو ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی پراکسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تربیتی مراکز کے ذریعے صرف افغان نوجوان ہی نہیں بلکہ دیگر عسکریت پسند اور مسلح گروہوں سے وابستہ عناصر کو بھی براہِ راست یا بالواسطہ تربیت دی جا سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔

  • قادری ہاؤس پولیس چھاپہ،17 افراد گرفتار،بھتہ خوری کی اطلاع پر کاروائی کی،پولیس

    قادری ہاؤس پولیس چھاپہ،17 افراد گرفتار،بھتہ خوری کی اطلاع پر کاروائی کی،پولیس

    کراچی پولیس نے بھتہ خور گروہ میں شامل ہونے کے الزام میں جواد قادری اور شاہزیب ملا سمت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    ایس ایس پی عمران خان نے بتایا ہے کہ ناظم آباد میں قادری ہاؤس پر بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ملزم ریحان کی نشاندہی پر چھاپہ مارا گیا،چھاپے میں جواد قادری اور شاہزیب ملا سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے، ریحان جمشید کوارٹر میں بھتہ خوری اور فائرنگ میں ملوث تھا، گرفتار کیے گئے ملزمان بھتہ خور گروہ کے سرغنہ صمد کاٹھیاواڑی اور وصی اللّٰہ لاکھو کا نیٹ ورک چلاتے تھے، گرفتار ملزمان پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے، ملزمان کا سابقہ کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    دوسری جانب پاکستان سنی تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قادری ہاؤس پر پولیس کے چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہیں، 20 سے زائد ذمے داران و کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، قادری ہاؤس کے کیمروں کو بھی توڑ دیا گیا، طاقت کے استعمال سے حق و سچ کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، ثروت اعجاز قادری کو کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا

    کراچی میں قادری ہاؤس پر پولیس کارروائی پر ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن عمران خان نے کہا ہے کہ ثروت اعجاز کے گھر سے چھاپے میں 17 افراد کو حراست میں لیا گیا، سنی تحریک کے رہنماؤں کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا،انٹیلیجنس معلومات اور تکنیکی شواہد کی روشنی میں بھتہ خور گروپ وصی اللّٰہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواڑی کیخلاف کارروائی کی گئی، کارروائی پہلے سے گرفتار ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی۔ ملزم ریحان الدین چار سال تک بھتہ کیس میں جیل میں رہا ہے۔ ملزمان ایسی جگہ سے گرفتار ہوئے اس لیے معاملہ حساس ہوگیا، 3 بھتہ خور اور تین شوٹرز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ملزمان جمشید روڈ پر کار شوروم سے بھتے کے لیے فائرنگ میں ملوث ہیں، گرفتار 17 ملزمان میں سے 8 ملزمان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ ملا ہے، دیگر ملزمان کے جرائم ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے، سال بھر میں بھتہ خوری کے 169 واقعات ہوئے تھے جس میں 65 واقعات بھتہ خوری کے تھے جبکہ دیگر واقعات ذاتی معاملات کے تھے،کل ہونے والی واردات میں کسی دوسرے گروہ کا نام سامنے آرہا ہے، جو لوگ دورانِ تفتیش سامنے آئے انہیں گرفتار کیا گیا، 17ملزمان حراست میں ہیں، تمام سے تفتیش کی جارہی ہے

    قادری ہاؤس سے اسلحہ ملتا اور وہیں واپس جمع ہوتا تھا، بھتہ خور ملزم کے انکشافات سامنے آ گئے، ایس آئی یو سے فائرنگ کے تبادلے میں گزشتہ روز گرفتار ہونے والے بھتہ خور ملزم ریحان الدین عرف ڈاکٹر نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔نیو ایم اے جناح روڈ کار شوروم پر فائرنگ کرنے والے گرفتار مرکزی ملزم ریحان عرف ڈاکٹر نے کراچی کے تاجروں اور دکانداروں سے بھتہ خوری کے حوالے سے ساری تفصیل بیان کردی۔اس حوالے سے پولیس نے بتایا ہے کہ ریحان عرف ڈاکٹر نے حلقہ این اے 238 سے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا جس میں شکست ہوئی۔دوران تفتیش ملزم نے بتایاکہ وہ جواد قادری عرف واجہ براہ راست صمد کاٹھیاواڑی کیلئے کام کرتا ہے، کراچی میں جواد قادری بھتہ خوری کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ملزم ریحان عرف ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ سنی تحریک کے مرکز قادری ہاؤس سے اسلحہ ملتا اور واپس وہیں جمع ہوتا تھا۔ایم اے جناح روڈ پر شوروم مالک سے بھتے کے واقعے بارے میں ملزم نے بتایا کہ ہمیں اس کی معلومات ملی تھیں تو شاہزیب کو شوروم پر فائرنگ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔اس تاجر سے 50 لاکھ روپے بھتے کی رقم ملنا تھی جس میں سے میں 25 لاکھ روپے رکھتا اور باقی 25 لاکھ خبر دینے والے کو دیتا تھا۔ملزم ریحان عرف ڈاکٹر نے بتایا کہ صمد کاٹھیاواڑی کے کارندے، نیو کراچی، جمشید روڈ، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں رہتے ہیں، 10سے زائد بھتہ خور ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔

  • افغانستان ،بھارت سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی

    افغانستان ،بھارت سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان اور بھارت سے دہشت گردی پر مبنی مواد پھیلانے والے درجنوں ایکس (X) اکاؤنٹس کی نشاندہی کر لی ہے۔

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ بھارت سے آپریٹ ہونے والے 19 دہشت گرد ایکس اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ افغانستان سے اسی نوعیت کے 28 اکاؤنٹس سرگرم ہیں۔حکومت نے نشاندہی کی کہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں، جن میں ٹی ایف اے کے/ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور بی ایل ایف شامل ہیں، سوشل میڈیا پر نمایاں موجودگی رکھتی ہیں۔ یہ تنظیمیں امریکا اور برطانیہ سمیت بڑی عالمی طاقتوں کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں، اس کے باوجود سوشل میڈیا کو بھرتی، پروپیگنڈا اور باہمی رابطہ کاری کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بچوں کے استحصال جیسے مواد کی خودکار شناخت اور حذف کے لیے استعمال ہونے والے الگورتھمز کو سراہا اور زور دیا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دہشت گرد مواد کی شناخت اور حذف کے لیے بھی ایسے ہی خودکار نظام نافذ کریں۔حکام کے مطابق ایکس (X) کی جانب سے تعاون محدود رہا ہے، جبکہ واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹیلی گرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز نے دہشت گرد مواد پھیلانے والے اکاؤنٹس کی نشاندہی میں پاکستان کے ساتھ تعاون شروع کر دیا ہے۔حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بہتر رابطہ اور مقامی حکام کے ساتھ مؤثر تعاون کے لیے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے کا ارادہ نہیں، تاہم دہشت گرد مواد اور اکاؤنٹس کے خلاف بہتر اور بروقت ردِعمل کے لیے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

    وزیرِ داخلہ نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز تعینات کرنے چاہئیں تاکہ دہشت گرد تنظیموں کی تعریف یا دہشت گرد مواد پھیلانے والے مررڈ (نقل) اکاؤنٹس کو خودکار طور پر شناخت کر کے ہٹایا جا سکے۔

    وزیرِ قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان برازیل کی طرز پر قانونی اقدامات پر غور کر سکتا ہے، جہاں ایکس کو غلط معلومات کے نیٹ ورکس سے منسلک رجسٹریشن ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔وزیرِ قانون بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہاپاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہے اور عالمی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ اس جنگ میں دنیا کو پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا

  • نیشنل گیمز کی رنگا رنگ اختتامی تقریب، فیلڈ مارشل  کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت

    نیشنل گیمز کی رنگا رنگ اختتامی تقریب، فیلڈ مارشل کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت

    35ویں نیشنل گیمز کی رنگا رنگ اختتامی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    6 سے 13 دسمبر تک جاری رہنے والے نیشنل گیمز کی اختتامی تقریب نیشنل بینک اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی، تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود تھےفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 35ویں نیشنل گیمز کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے 36ویں نیشنل گیمز کی میزبانی پنجاب کے سپرد کی، اس موقع پر نیشنل گیمز کا جھنڈا پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن کے حوالے کیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی تقریب میں شرکت پر ہم ان کے مشکور ہیں اور 35ویں نیشنل گیمز کے کامیاب انعقاد پر خوشی ہے سندھ کو نیشنل گیمز کے انعقاد پر فخر ہے، نیشنل گیمز قومی وحدت، اتحاد اور ہم آہنگی کی علامت ہیں، مئی 2025 میں پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو شکست دی اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاک فوج نے دشمن کو پسپا کیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی تھی، کھلاڑیوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی کسی سے کم نہیں، اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا۔

    تقریب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو روایتی سندھی اجرک اور سندھی ٹوپی پہنائی اور اعزازی شیلڈ پیش کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بہترین کارکردگی پر پاکستان پولیس کو شیلڈ دی جبکہ بلاول بھٹو نے نمایاں کارکردگی پر صوبہ پنجاب کو اسپیشل ٹرافی سے نوازا۔

    قائد اعظم ٹرافی نیشنل گیمز کی فاتح پاکستان آرمی کے نام رہی، جسے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ٹرافی پیش کی۔ پاکستان آرمی نے 25ویں بار ایونٹ کا ٹائٹل اپنے نام کیا اور 196 گولڈ میڈلز کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی،واپڈا 84 گولڈ میڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی اور اسے رنر اپ ٹرافی دی گئی، جبکہ پاکستان نیوی 36 گولڈ میڈلز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، بہترین کارکردگی پر پاکستان نیوی کو ٹرافی عطا کی گئی جو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیش کی،نیشنل ریکارڈ قائم کرنے پر رول آف آنر ٹرافی حمزہ آصف کے نام رہی۔

  • ہماری حکومت نے بہتر حکمت عملی سے چیلنجز کا مقابلہ کیا،وزیر اعظم شہباز شریف

    ہماری حکومت نے بہتر حکمت عملی سے چیلنجز کا مقابلہ کیا،وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک معاشی بحران سے نکل چکاہے، ترقی کی جانب رواں دواں ہیں-

    نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج میرے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میں اس افتتاحی تقریب میں موجود ہوں ،کاروباری طبقے اور عوام کی جانب سے ان اصلاحات کا مطالبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے تھا،ریگولیٹری فریم ورک کا اجرا کوانٹم جمپ کی حیثیث رکھتا ہے،ان اصلاحات سے کاروباری برادری اور عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے، میں معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی پوری ٹیم کو ان شاندار اصلاحات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار اور نازک صورتحال سے دوچار تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا،مہنگائی بے قابو اورملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں،بیرون ممالک سے سرمایہ کاری رک گئی تھی ، ملک مکمل طور پر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا ہماری حکومت نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ، بہتر حکمت عملی سے چیلنجز کا مقابلہ کیااور ایک پوری ٹیم ورک کے ذریعے دن رات کام کر کے ملک کو اس دلدل سے نکالا۔

    انہوں نے کہاکہ آج الحمد اللہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے،معاشی اشاریے بہت بہترہو چکے ہیں ،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور ملک میں سرمایہ کاری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہےپشاور سے لے کر کراچی تک معاشی سرگرمیاں جاری ہیں،غیر ملکی ادارے بھی ہماری مثبت پالیسوں کے معترف ہیں ،بہتر حکمت عملی کی بدولت آئی ایم ایف نے 1.2 بلین ڈالر کی قسط کی منظوری دے دی ہے ،جس سے آنے والے دنوں میں معاشی حالات مزید بہتر ہوں گے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں برسرروز گار کرنے کے لیے فنی وپیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لائے جارہے اورآسان کاروبار سکیم سے ہزاروں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں، اس فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی سے نوجوانوں کو نہ صرف ملک بلکہ بیرون ممالک میں بھی روزگار کے مواقع میسر آئیں گے،جس سے ملک سے نہ صرف بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہو گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر ادارہ جاتی فرہم ورک کو بہتر کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ،مزید ٹارگٹس حاصل کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں،معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات،برطانیہ ،امریکہ سمیت دیگر دیگر ممالک سمیت مختلف سیکٹرز میں بہتری کے لیے بھرپورتعاون فراہم کر رہے ہیں،جلد ملک کو معاشی قوت بنائیں گے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے، یہ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے ترقیاتی ریاست ہمیشہ جرات مند، سہولت فراہم کرنیوالی اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ہوتی ہے،ترقیاتی ریاست شہریوں کو لال فیتے کے بجائے جدت ، مقابلہ ،تعمیر اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہےوزیراعظم شہباز شریف واضع ویژن، انتھک محنت اور صلاحیت کو کارکردگی میں بدلنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں، ان کی مدبرانہ قیادت میں ملکی ترقی کے اس سفر کو جاری رکھیں گے۔

    برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائیٹ آنر ایبل بیرونیس چیپمین نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا کی اس تقریب میں شرکت باعث اعزاز ہے،جو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے پاکستان بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال اور سرمایہ کاری کیلئے بہترین ملک ہے، قدرتی وسائل سے بھر پور عالمی تجارتی راستوں کے مرکز پر ہونے کے باعث پاکستان توجہ کا مرکز ہے،دونوں ممالک آپس میں تجارتی روابط بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں۔

    قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے نیشنل ریگولیٹری اصلاحات کا افتتاح کیا

  • بی ایل اے کا آواران میں آبادی پر حملہ،چار بچے زخمی

    بی ایل اے کا آواران میں آبادی پر حملہ،چار بچے زخمی

    بلوچستان کے ضلع آواران میں نمازِ جمعہ کے دوران فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے سویلین آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے مارٹر گولوں اور راکٹس سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار معصوم بچے زخمی ہو گئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب مقامی آبادی نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں مصروف تھی۔ حملے میں عبادت گاہ کے اطراف اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے نہتے شہریوں بالخصوص بچوں کو نقصان پہنچا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بھارتی ایجنڈے کے تحت بلوچستان میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے اور بلوچ نسل کشی کے مذموم عزائم کا تسلسل ہے۔سکیورٹی فورسز نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق دہشت گرد عناصر کی شناخت اور گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ حساس مقامات کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    نہتے بچوں پر حملہ دہشت گردوں کی سفاکیت، بزدلی اور شکست خوردہ ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے۔ ترجمان کے مطابق فتنہ الہندوستان کا ایجنڈا بلوچستان کے امن و امان کو تباہ کرنا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے، تاہم بلوچستان کے باشعور عوام دہشت گردی کے اس مکروہ کھیل کو بخوبی پہچان چکے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور بلوچستان میں امن کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا،مقامی عمائدین اور شہریوں نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے، تاکہ آئندہ ایسے بزدلانہ واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز ، ناقص گورننس بے نقاب

    وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز ، ناقص گورننس بے نقاب

    وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان ،سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز نے ناقص گورننس کو بے نقاب کردیا

    وادی تیراہ میں ابتر صورتحال ، صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے،آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج عدم استحکام کو فروغ اور منشیات کی اسمگلنگ سے پیسہ وصول کرتےہیں،خیبرپختونخوا کا افغانستان کیساتھ 1224 کلومیٹر کی طویل سرحد موجود ہے، فرنٹیئر کور کے پاس تقریباََ 717 کلومیٹرکی سرحد موجود ہے جس میں برف پوش اور سنگلاخ پہاڑ بھی ہیں ،خیبرپختونخوا کے افغانستان کے ساتھ سرحد میں بلند چوٹیاں اور تنگ گھاٹیاں بھی موجود ہیں ،ایف سی نے دراندازی کرنے والوں کیخلاف کیمرے بھی لگائے ہیں ،سرحد اس وقت مکمل بند(سیل) ہو سکتی ہے جب دونوں اطراف سے سرحد کا احترام کیا جائے،
    پہلی بار افغانستان اور پاکستان میں باڑ لگائی گئی ہے ، اب اس کو بین الاقوامی سرحد کہہ سکتے ہیں ،باڑ لگا کرآزادانہ نقل و حرکت اور دراندازی کیخلاف رکاؤٹ کھڑی کی گئی ہے ، پچھلے سال "باغ میدان” میں ایف سی کے 64 جوان شہید اور 198 زخمی ہوئے ،اتنے شہدا ء اور زخمی یہاں پر کسی اور ادارے کے نہیں ہیں ،دواتوئی میں ایک تنگ راستہ ہے مگر وہاں پر کوئی چیکنگ نہیں کی جا سکتی کیوں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ، آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری آبادی کی نگرانی کیلئے صرف 3پولیس اہلکار موجود ہیں

    ونگ کمانڈر کرنل وقاص نے بتایا کہ وادی تیراہ میں 60 کلومیٹر تک ضلعی انتظامیہ ، پولیس یا اسپتال موجود نہیں ہے،وادی تیراہ کے علاقے میں کوئی سرکاری اسکول نہیں اور نہ اساتذہ ہیں ،جب بچے اسکول نہیں جائیں گے ، پڑھیں گے نہیں تو ان میں شعور کیسے آئے گا،اگر بچے نہیں پڑھیں تو وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف جاتے ہیں ، ایف سی کے زیر اہتمام 16اسکول ہیں جن میں ایف سی نے خود اساتذہ کو بھرتی کیا ہے، وادی تیراہ میں کوئی اسپتال نہیں ، لوگ کسی ایک انجکشن کیلئے بھی ایف سی کے پاس آتے ہیں فرنٹیئر کور مقامی افراد کیلئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کرتی ہے ،وادی تیرہ میں منشیات فروشی کا مسئلہ بہت بڑا ہے جن میں فتنہ الخوارج ملوث ہے ، فتنہ الخوارج منشیات اور بھتہ سے اکٹھی کی گئی رقم سیکیورٹی فورسز اور عوام کیخلاف استعمال کرتےہیں،

    وادی تیراہ میں بدانتظامی اور مقامی حکومت کی نااہلی کا فائدہ شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہ اٹھا رہے ہیں

  • پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے  کیلئے پوری طرح تیار ہے،فیلڈمارشل عاصم منیر

    پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے،فیلڈمارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے،

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا،فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کی مضبوطی کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے فارمیشن کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور مجموعی تیاری کی تعریف کی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےافسران اور جوانوں کے بلند حوصلے اور قومی سلامتی کیلئے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی،جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، تیز فیصلہ سازی، درستگی اور صورتحال سے آگاہی کی اہمیت پر زور دیا،قومی سلامتی کے لیے افسران اور جوانوں کے غیر متزلزل عزم کو سراہا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دشمن کی ہائبرڈ مہم، انتہاپسند نظریات ، قومی استحکام کو نقصان پہنچانے والوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں .جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی و قت کا تقاضا ہے ،پاک فوج تقسیم پیدا کرنے والے عناصر کی طرف متوجہ اور نمٹنے کیلئے تیار ہے،جدید جنگ تقاضا کرتی ہے فورسز میں چستی، درستگی اور حالات سے باخبر رہنے کی صلاحیت ہو،جدید جنگ یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ فورسز میں بروقت فیصلے کرنے کی اہلیت ہو،

  • بلوچستان، خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری

    بلوچستان، خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا و بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    حکام کے مطابق کرم کے علاقے مندان میں شدت پسندوں نے ایک شہری پک اپ گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک قبائلی مزدور جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کی، جس سے احمد خان چمکنی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اور مسافر زخمی ہو گیا۔ حملے کے بعد شدت پسندوں نے گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے وہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئی۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی، تاہم حکام نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے بنوں ضلع کے مامش خیل علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران ایک اہم شدت پسند کو ہلاک جبکہ چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، اور اسلحہ، گولہ بارود اور شدت پسند سرگرمیوں سے متعلق مواد برآمد کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن 12 دسمبر کو آدھی رات کے بعد شروع ہو کر صبح 10 بجے تک جاری رہا۔ یہ کارروائی 8 دسمبر کو انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے تھریٹ الرٹ کے بعد کی گئی، جس میں بنوں اور گردونواح میں 15 سے 16 رکنی شدت پسند سیل کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی۔ مبینہ طور پر اس سیل کی قیادت برکت اللہ کر رہا تھا، جس کی نقل و حرکت کو تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔چھاپے کے دوران برکت اللہ فرار ہونے کی کوشش میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک ایم فور رائفل برآمد ہوئی۔ آپریشن کے دوران چار دیگر مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ برآمد ہونے والے سامان میں ایک ایم فور رائفل، تین سب مشین گنز، ایک شاٹ گن، ایک پستول، چار دستی بم، متعدد نمبر پلیٹس لگی ٹویوٹا پریئس گاڑی، کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات، شناختی کارڈز، میگزین پاؤچز، 11 میگزین، 300 سے زائد مختلف اقسام کی گولیاں، موبائل والٹ سم، ایک رجسٹر اور 93,150 روپے نقد شامل ہیں۔آپریشن کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مزید کارروائیاں شروع کیں، جن میں گرفتار ملزم امین اللہ سے منسلک اسلحہ کی دکان کو سیل کرنا بھی شامل ہے۔ گروہ کے لاجسٹک نیٹ ورک اور مالی ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ مشتبہ شدت پسند کو ہلاک جبکہ چار دیگر کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ چھاپہ علاقے میں ایک ٹھکانے پر مشتبہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر مارا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص مارا گیا جبکہ چار کو حراست میں لے لیا گیا۔موقع سے ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم، ہونڈا سٹی گاڑی، اسلحہ، دستی بم اور دیگر مواد برآمد کیا گیا۔ گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنوں جنوبی خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہے۔

    ایک علیحدہ واقعے میں منگل کی رات شدت پسندوں نے ضلع میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے حملہ پسپا کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق پانچ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ جنوبی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، بشمول بنوں اور لکی مروت، میں مقامی آبادی نے شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ واقعات میں تختی خیل کے علاقے میں مسلح شہریوں نے کئی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا اور دیگر کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں شدت پسندوں نے جوابی کارروائی میں کواد کاپٹر کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا، جس سے آٹھ بچے زخمی ہو گئے۔

    حکام کے مطابق شدت پسندوں نے بنوں میں شیخ لندک پولیس چیک پوسٹ پر کواڈکاپٹر کے ذریعے حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق کواڈکاپٹر سے گرایا گیا دھماکہ خیز مواد چیک پوسٹ کے قریب پھٹ گیا، جس سے زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی چیک پوسٹ کو گزشتہ رات بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تازہ حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    حکام اور قبائلی عمائدین نے وادی تیراہ میں جاری بدامنی سے متاثرہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے 27 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے میں بے گھر خاندانوں کی محفوظ واپسی، تباہ شدہ گھروں اور زمینوں کا معاوضہ، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی، آمدورفت کی سہولت اور واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے مشترکہ جرگہ شامل ہے۔ ایجنڈے کی توثیق کے بعد قبائلی عمائدین نے مجوزہ احتجاجی مظاہرے منسوخ کر دیے ہیں۔برقمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبار، آدم خیل، اکاخیل اور زاخاخیل سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں خاندان، جو بارات اور پشاور منتقل ہو گئے تھے، سیکیورٹی انتظامات مکمل ہونے کے بعد واپس لوٹنے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ کالعدم مسلح گروہوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان برسوں سے جاری جھڑپوں کے بعد علاقے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جن کے باعث تعلیم، مقامی بازار اور روزمرہ زندگی متاثر ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق ایجنڈے پر عمل درآمد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق برکھان میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں دو نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔حکام کے مطابق صنعتی شہر حب میں نامعلوم شخص نے پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر دستی بم پھینکا، تاہم بم پھٹ نہ سکا اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دستی بم کیمپ کے باہر سے برآمد کر لیا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی فوری طور پر طلب کیا گیا، جس نے بم کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔

    بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن (BGTOA) کی ہڑتال جمعرات کو پانچویں روز میں داخل ہو گئی، جس کے باعث صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئیں۔ ترجمان روزی خان مندوخیل کے مطابق ہڑتال مکمل رہی اور سامان کی لوڈنگ و ان لوڈنگ مکمل طور پر بند رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کے اشتراک سے ملک گیر سطح پر جاری رہے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔یہ ہڑتال پنجاب حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر عائد بھاری جرمانوں کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ ٹرک مالکان نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں بشمول ہزار گنجی ٹرک اسٹینڈ میں گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں، جس سے تجارت اور ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ مندوخیل نے جرمانوں کو ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بغیر عائد کیے جانے کو ناانصافی قرار دیا

    حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خضدار میں آپریشن تیز کرتے ہوئے سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مشتبہ افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے گرفتار شدگان کی شناخت یا آپریشن کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تحقیقات جاری ہیں