Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد اسی مقام سے برآمد کر لی گئی جہاں اس سے قبل اس کی والدہ کی لاش ملی تھی۔ حکام کے مطابق بچی کی لاش جمعرات کے روز ریسکیو ٹیموں نے طویل سرچ آپریشن کے بعد نکالی،ریسکیو ذرائع کے مطابق لاہور کی آؤٹ فال روڈ سے 10ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی ہے۔ بچی کی لاش واسا کے ڈسپوزل اسٹیشن سے ملی، بچی کی لاش بھی وہیں سے ملی جہاں سے والدہ کی لاش ملی تھی۔

    لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی تھی،متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھکر کے دورے سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر ہی ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،ماں اور بچی کے واقعہ کے ریسکیو آپریشن میں موجود تمام اداروں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ،پولیس، ریسکیو ، واسا اور انتظامیہ واقعے سے متعلق غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کریں گے ،وزیر اعلی ٰ پنجاب کی جانب سےفیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت ترین کارروائیوں کا عندیہ ہے،آپریشن کی متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے افسران اور اداروں کیخلاف کارروائی کی جائےگی،گھر جانے کے بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس ہوگا۔

  • مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، فیلڈ مارشل

    مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بہاولپور گیریژن کا دورہ کیا، ٹیکنالوجی میں ترقی پر زور دیا اور ملکی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو آپریشنل، تربیتی اور انتظامی امور پر بریفنگ دی گئی، فیلڈ مارشل نے کور کی مجموعی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جنگی چیلنجز سے نمٹنے کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ مسلح افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں، میدانِ جنگ اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اعلیٰ درجے کی تیاری ضروری ہے پاک مسلح افواج مختلف شعبوں میں تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں، ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگی حکمتِ عملی کو نئی سمت دی ہے، ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر سطح پر فکری تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے خیرپور ٹامیوالی میں فیلڈ ایکسرسائز اسٹیڈ فاسٹ ریزولو کا مشاہدہ کیا، اس موقع پر نگرانی سسٹم، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کا عملی مظاہرہ کیاگیا مشق ٹیکنالوجی پر مبنی ملٹی ڈومین آپریشنز میں پاک افواج کی بڑھتی صلاحیتوں کی عکاس ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری کی تعریف کی۔

  • عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    بدھ کے روز بلوچستان میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ایک خاتون کو اغوا کر لیا۔ متاثرہ خاتون کی بازیابی کے لیے سکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تقریباً شام 04:30 سے 04:45 کے درمیان بلوچستان کے علاقے بلچہ میں ایک کرولا گاڑی ایک خاتون نرگس کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی، جس کے بعد گاڑی وہاں سے روانہ ہو گئی۔بعد ازاں خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد شہر کے قریب اسے روکنے میں کامیاب ہو گئے، ذرائع نے بتایا۔

    اس موقع پر ذرائع کے مطابق گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف اٹھائے باہر نکلا۔جب شوہر نے مزاحمت کی اور بتایا کہ خاتون اس کی بیوی ہے اور اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہے، تو پیچھے سے دو موٹر سائیکلیں آ گئیں اور انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ملزمان نے شوہر اور اس کے بھتیجے کے موبائل فون بھی چھین لیے اور بعد ازاں خاتون کو اپنے ساتھ ناصرآباد کے جنگلاتی علاقے کی طرف لے گئے۔ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس واقعے پر سرگرم عمل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کی فوری طور پر تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مزید پیش رفت اور تفصیلات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔

    یہ واقعہ کسی عام اغوا یا ذاتی دشمنی کا معاملہ نہیں۔ دن کی روشنی میں اسلحے کے زور پر عورت کا اغوا، مدد کے لیے مسلح ساتھیوں کا پہنچنا، اور پھر جنگل کی طرف لے جانا ایک منظم دہشت گرد کارروائی کی واضح علامت ہے۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جو بی ایل اے دہشت گرد برسوں سے خوف پھیلانے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

    تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔کیچ کا یہ واقعہ اسی خطرناک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ خاتون کو پہلے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، پھر بلیک میل کر کے اسے خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے کھلا خطرہ ہے۔عورتوں کا اغوا، ان پر تشدد اور انہیں اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی ہے۔ اگر ایسے جرائم کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ پھیلتا جائے گا۔ آج سچ کہنا اور آواز اٹھانا ہی کل کے بڑے سانحے کو روک سکتا ہے۔

  • فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    ضلع کیچ کے علاقے بلاچا کے پاس کرولا گاڑی میں سوار چند لوگ آئے اور ایک مقامی عورت نرگس کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر بھاگے۔

    عورت کے شوہر نے جب دیکھا تو اپنے بھتیجے کے ساتھ گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد سٹی میں گاڑی روکنے پر کامیاب ہوا۔گاڑی سے ایک شخص کلاشنکوف سے مسلح نیچے اترا اور پیچھے سے دو موٹر سائیکل سوار فتنہ الہندستان کا پرچم اوڑے بھی نمودار ہوئے۔ انہوں نے عورت کے شوہر اور بھتیجے کو خوب مارا اور عورت کو لے کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔ماہرین کے مطابق فتنہ الہندستان کے یہ درندے اسی طرح معصوم خواتین کو اغوا کر کے ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں اور وڈیو بنا کر ان کو شاری بلوچ کی طرح بناتے ہیں۔فتنہ الہندستان معاشرے کا وہ ناسور بن چکے ہیں جن سے عام عوام کی زندگی اور عزت دونوں خطرے میں ہے

    واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں دہشت گردی کے خدشات کے پیشِ نظر انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر عارف والا روڈ پر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے، جو انتہائی مطلوب اور حساس نوعیت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز اور اسلحہ برآمد کیا گیا، جسے ممکنہ طور پر کسی بڑی تخریبی کارروائی میں استعمال کیا جانا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گردی کے واقعے کو ناکام بنا دیا گیا۔ گرفتار دہشت گرد کو فوری طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران اس کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ دہشت گرد عناصر سے متعلق اہم انکشافات کی توقع ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم کے خلاف دہشت گردی، اسلحہ رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سی ٹی ڈی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع تربت میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جسک کراس کے قریب کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے مشکوک سرگرمیوں پر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ گاڑی نے چیک پوسٹ سے بچنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور مختلف تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ دوسرے ہلاک دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جس کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    کارروائی کے بعد دہشت گردوں کی گاڑی کی تلاشی لی گئی، جس سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ مواد برآمد ہوا۔ برآمد ہونے والے اسلحے کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مزید دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • آئی ایس پی آر کی جانب سے افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین،نیا نغمہ ریلیز

    آئی ایس پی آر کی جانب سے افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین،نیا نغمہ ریلیز

    آئی ایس پی آر کی جانب سے افواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شاندار نغمہ ریلیز کر دیا گیا

    یہ نغمہ شدید موسمی حالات، برفانی طوفانوں اور ناقابلِ برداشت سردی میں وطن کی سرحدوں کے دفاع اور مشکل میں گِھری قوم کی خدمت میں مصروف افواجِ پاکستان کے عزم، حوصلے اور بے مثال فرض شناسی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے،نغمے میں اس حقیقت کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ پاک فوج وطنِ عزیز اور قوم کے تحفظ کے لیے شب و روز ہر قسم کے خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جو اس کے بلند حوصلے اور غیر متزلزل جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے،قدرتی آفات اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پوری قوم افواجِ پاکستان کو اپنا مضبوط سہارا سمجھتی ہے، اور پاک فوج نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر محاذ پر قوم کی امیدوں پر پوری اترتی ہے۔نغمے کے سحر انگیز بول اور دل کو چھو لینے والی آواز نے سماں باندھ دیا، جو بلاشبہ پوری قوم کی افواجِ پاکستان سے والہانہ محبت، اعتماد اور فخر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

  • وزیراعظم  سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات

    اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے اہم ملاقات کی، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں، بالخصوص لیپ ٹاپ اسکیم سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم کو بتایا کہ یوتھ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیمی ترقی، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں لیپ ٹاپ اسکیم کی پیش رفت، شفافیت کے طریقۂ کار، مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد اور آئندہ مرحلوں کے لائحۂ عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی معیار بہتر بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت نوجوانوں کی ہنر مندی اور استعدادِ کار میں مزید اضافے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔”انہوں نے ہدایت کی کہ لیپ ٹاپ اسکیم سمیت تمام یوتھ پروگرامز میں شفافیت، میرٹ اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت نوجوان مستفید ہو سکیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے۔

    ملاقات کے اختتام پر چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے لیے تمام منصوبے تیزی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھائے جائیں گے، تاکہ قومی ترقی میں نوجوانوں کا کردار مزید مضبوط ہو سکے۔

  • تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کے درمیان سرکاری و دستاویزی شواہد نے کئی اہم حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشنز، مراسلات اور تحریری ریکارڈ کے مطابق تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے خالصتاً سول انتظامی بنیادوں پر کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو مسخ کر کے ایک ایسا سیاسی و عوامی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جس میں ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق آبادی کی منتقلی کا فیصلہ مقامی حالات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس عمل میں مقامی جرگوں، عمائدین اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ شواہد اس دعوے کی واضح نفی کرتے ہیں کہ تیراہ ویلی سے لوگوں کو کسی زبردستی، دباؤ یا عسکری کارروائی کے تحت بے دخل کیا گیا۔سرکاری لیٹرز اور ریکارڈ میں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان آرمی کا کردار محض انسانی اور امدادی نوعیت کا تھا۔ فوج نے لاجسٹک سپورٹ، ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش، طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں معاونت کی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور منظم انداز میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم اس انسانی کردار کو بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر عسکری مداخلت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

    تحریری شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک منظم غلط معلوماتی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اصل انتظامی ناکامیوں کو پسِ پردہ رکھنا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 4 ارب روپے کے ریلیف فنڈ کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان فنڈز کا ایک بڑا حصہ شفاف اور درست انداز میں استعمال نہیں ہوا، جس پر اب تک مکمل اور تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔دستاویزات یہ تضاد بھی واضح کرتی ہیں کہ ایک جانب سرکاری ریکارڈ اس فیصلے کو سول انتظامیہ کا اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی بیانات اور بیانیاتی مہمات اسے فوجی آپریشن کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد ریاستی سطح پر بیانیاتی ابہام اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اصل مسئلہ کسی عسکری آپریشن کا نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی، کمزور منصوبہ بندی اور ریلیف فنڈز کے شفاف استعمال میں ناکامی تھا، جسے چھپانے کے لیے بیانیہ تبدیل کیا گیا۔

    سرکاری دستاویزات نے اس تاثر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ تیراہ ویلی سے نقل مکانی فوجی جبر یا آپریشن کا نتیجہ تھی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ یہ فیصلہ سول حکومت کی جانب سے کیا گیا اور فوج نے صرف انسانی امداد اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی امدادی اقدامات کو عسکری جبر کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی شدید طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ماہرین اور مبصرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ تیراہ ویلی سے متعلق حقائق کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، ریلیف فنڈز کے استعمال کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، تاکہ نہ صرف متاثرہ آبادی کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی بھی بحال ہو۔

  • اورکزئی،کرم،برفباری سے بند راستے پاک فوج نے کھول دیئے

    اورکزئی،کرم،برفباری سے بند راستے پاک فوج نے کھول دیئے

    ضلع اورکزئی میں شدید برفباری کے دوران راستے بند ہونے پر پاک فوج نے ہنگامی بنیادوں پر راستے کھول دیئے

    پاک فوج نے ضلع اورکزئی کے دور افتادہ علاقوں میں شدید برفباری اور ناسازگار حالات میں آپریشن مکمل کیا،حالیہ برف باری کے باعث اورکزئی کےگاؤں کالایہ دربار کو جانے والے تمام راستے مکمل طور پر بند ہو چکے تھے ،راستوں کی بندش سے نقل و حمل کے ساتھ ساتھ وفات پانے والے افراد کی تدفین بھی ناممکن مرحلہ تھا،پاک فوج نے ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری اور افرادی قوت سے راستوں کو بحال کیا، پاک فوج کی بروقت امدادی کاروائی کے بعد مقامی شہری کی نمازِ جنازہ اور تدفین بروقت اور باوقار طریقے سے انجام پزیر ہو سکی

    دوسری جانب شدید برفباری سے متاثررہ ضلع کرم میں بھی پاک فوج نے بروقت ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے،پاک فوج نے بھاری مشینری سے 8 کلومیٹر تاؤڈو اوبو روڈ کو بھی بحال کردیا،شدید برف باری کے باعث مناتو سدا روڈ مکمل طور پر بند ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں پھنس گئیں،پاک فوج نے بروقت آپریشن کرتے ہوئے مسافروں اور گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا،مقامی عمائدین اور عوام نے پاک فوج کے اس ہمدردانہ اور بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا،پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کیلئے ہمہ وقت موجود ہے