Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا،وزیراعظم

    قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا،وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملکی ترقی اور استحکام کیلئے اتحاد و یکجہتی اور دہشت گردی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بغیر معاشی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے ، شہداء کی قربانیوں کی تضحیک نہیں کرنے دیں گے، عسکری و سیاسی قیادت نے مل کر کام کیا اور ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑی معیشت دوبارہ پٹڑی پر آئی ۔

    وہ بدھ کو قومی علماء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سمیت وفاقی وزراء ، اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ علماء و مشائخ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم اور علماء کرام و قوم کی دعاؤں کی بدولت معرکہ حق میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی، مسلح افواج کی جرأت اور بہادری سے دشمن کو عبرتناک شکست ہوئی، چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے جرأت و بہادری سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اس کامیابی میں بری، بحری و فضائیہ سمیت تمام افواج کا کردار قابل ستائش ہے۔ وزیر اعظم نے فرقہ پرستی کے خاتمہ کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کو تفرقہ بازی کا خاتمہ کرنا ہو گا،ملکی ترقی اور استحکام کیلئے اتحاد و یکجہتی ناگزیر ہے، اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان و خیبرپختونخوا میں روزانہ بے گناہ عوام فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، سکیورٹی فورسز کے جوان ملکی دفاع کیلئے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ان شہداء کے اہل خانہ سے جب ہم ملتے ہیں تو وہ اپنے شہداء پر فخر کرتے ہیں اور ان کے چہرے اطمینان سے لبریز ہوتے ہیں، ہم اپنے ان شہداء کی تضحیک کی اجازت نہیں دیں گے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک معاشی استحکام اور ترقی کی جانب سے تیزی سے گامزن ہے، عسکری و سیاسی قیادت مل کر کام کرکے ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر لائی، معرکہ حق کے بعد پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے، حکومت ملک کو معاشی ترقی کے سفر پر رواں دواں کرنے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہے، محنت سے پاکستان کو وہ مقام دلائیں گے کہ قرضوں سے نجات ملے گی اور خود انحصاری کی منزل حاصل ہوگی۔ انہوں نے ملکی ترقی کیلئے دہشت گردی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر معاشی بحالی کے سفر پر گامزن نہیں ہوا جاسکتا۔

    وزیر اعظم نے تحریک پاکستان کی جدوجہد میں علماء کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی، ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دے کر ملک کو آزادی سے ہمکنار کیا، امانت، دیانت اور محنت سے قیام پاکستان کا مقصد حاصل کرنا تھا، پاکستان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر آنے والوں کو اس ملک کے عظیم ترین بننے کی امید تھی۔ انہوں نے کہا کہ دن رات محنت سے ترقی و خوشحالی ممکن ہے ، دنیا میں مقام حاصل کرنے والی قوموں نے محنت کو اپنا شعار بنایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پائی پائی بچا کر ملک کی معاشی تقدیر بدلیں گے اور اسے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنائیں گے۔ انہوں نے قومی معاملات پر یکجان ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی کی معترف ہے ، دشمن ورطہ حیرت میں ہے اور برادر ممالک خوشی سے پھولے نہیں سماتے ، دوست ممالک نے معرکہ حق میں فتح کو اپنی فتح سمجھ کر مبارکباد دی۔

    وزیر اعظم نے افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علماء کرام اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اس فوج کا دفاع کریں جس نے ہمارے دفاع کیلئے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی اور ہمارے ازلی دشمن کو ایسی شکست دی جسے وہ قیامت تک نہیں بھولے گا۔

  • بھارتی دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر وائرل

    بھارتی دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست اندھرا پردیش میں بھارت محکمہ دفاع کے زیرِ زمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی خفیہ تنصیب کی خفیہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں جس سے بھارت کے دفاعی نظام کی سب سے بڑی نا اہلی سامنے آئی ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خدشہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اس سے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور بھارت کے ہاتھوں جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

    آزاد نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سیٹلائٹ تصاویر نے بھارت کے اسٹریٹیجک عسکری ڈھانچے سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں دفاعی تجزیہ کاروں نے آندھرا پردیش کے علاقے جنگالاپلّی کے قریب ایک مبینہ زیرِ زمین بیلسٹک میزائل اسٹوریج کمپلیکس کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے،سوشل میڈیا پر جاری بحث کے مطابق ان تصاویر میں مبینہ طور پر سرنگوں کے دروازے، بڑے پیمانے پر کھدائی سے نکلی مٹی کے ڈھیر (اسپائل پائلز) اور وسیع تعمیراتی سرگرمیوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں، جو عام طور پر زیرِ زمین محفوظ عسکری تنصیبات سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ یہاں نقل و حرکت اور کھدائی کا حجم اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ علاقے میں کسی مضبوط اور وسیع عسکری ڈھانچے پر کام جاری ہے۔

    تصاویر میں بلند علاقے میں واقع کئی متناسب سرنگ نما راستے دکھائی دے رہے ہیں جنہیں تجزیہ کار ممکنہ طور پر گہرے زیرِ زمین ایٹمی اسٹوریج سہولیات کے لیے استعمال ہونے والے داخلی راستے قرار دیتے ہیں۔تعمیراتی مقام کے قریب مٹی کے نمایاں ڈھیر تجزیہ کاروں کے مطابق بڑے پیمانے پر سرنگوں کے کام کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ دفاعی مبصرین نے تصاویر میں سڑکوں، باڑوں اور معاون تنصیبات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں سخت یا مضبوط پلیٹ فارم یا لانچ پیڈ نما ڈھانچے بھی موجود ہیں۔عمارتوں کا ایک جھرمٹ جو ممکنہ طور پر انتظامی یا عملی کام کے مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے، بھی تعمیراتی مراحل میں دکھائی دیتا ہے، جس سے اس جگہ کے مقاصد کے بارے میں مزید قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

    اسیٹلائٹ تصاویر شیئر کرنے والے صارفین اس مبینہ سائٹ کو بھارت کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں میں اضافے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف برفانی تودے کا سرا ہے اور مزید مقامات کی تصاویر جلد سامنے آ سکتی ہیں۔تاحال بھارتی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بڑے سول یا عسکری منصوبے بظاہر ایک جیسے دکھائی دے سکتے ہیں۔

    ادھرآزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق اوپن سورس انٹیلیجنس نے بھارتی ریاست اندھرا پردیش زیرِ زمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی خفیہ تنصیب کا سراغ لگا کر اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہیں۔ اوپن سورس انٹیلیجنس کے مطابق یہ تنصیب گوہاٹی کے شمال میں ’26.2659 شمالی اور 91.7312 مشرقی‘ کے قریب واقع ہے، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’اگنی‘ سیریز کے ایٹمی میزائل رکھے جانے کا شبہ ظاہرکیا گیا ہے، جو ایشیا کے وسیع حصے سمیت دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تھنک ٹینکس اور او ایس آئی این ٹی کے ماہرین کی جانب سے حاصل کردہ سیٹیلائٹ تصاویر میں زیرِ زمین کمپلکس دکھائی دیتا ہے، جس میں ’متعدد سرنگوں کے داخلی راستے، انتظامی عمارتیں اور سخت حفاظتی بندوبست‘ شامل ہیں۔ یہ علاقہ برہم پترہ دریا کے نزدیک گھنے جنگلات میں واقع ہے۔رپورٹس کے مطابق اس تنصیب کی تعمیر 2014 میں شروع ہوئی تھی۔ یہ مقام ’چین کی سرحد سے تقریباً 230 کلومیٹر اور بنگلادیش سے 130 کلومیٹر‘ دور ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے ممکنہ شمالی خطرات کے خلاف ایک اہم ڈٹرنس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ’سینٹر فارانٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ’انتہائی گہرے زیرِ زمین مرکز‘ میں اگنی میزائل رکھے گئے ہیں، جو ’دنیا کے بیشتر حصوں کو نشانہ بنانے‘ کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی امن کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر جائزے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔اب تک بھارتی حکام نے اس تنصیب پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا، تاہم 2020 میں ایک بھارتی فوجی افسر کے پتہ کی معلومات میں غیر ارادی تبدیلی سے ’ناگاٶں، وسطی آسام‘ میں ایک میزائل یونٹ کی موجودگی کا اشارہ بھی ملا ہے۔حالیہ مہینوں میں اوپن سورس انٹیلیجنس ماہرین نے پلیٹ فارمز ’ایکس‘ اور ’ریڈیٹ‘ پر نئی تصاویر اور مشاہدات شیئر کیے، جن میں اس سائٹ کی بھاری فورٹیفیکشن اور چین کی سمت اس کی اسٹریٹجک پوزیشننگ کو واضح کیا گیا ہے۔یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اپنی ’نیوکلیئر ٹرائیڈ‘ کو جدید ترین نظاموں سے لیس کر رہا ہے، جس میں زمینی میزائل، فضائی جوہری صلاحیت اور آبدوزوں سے فائر کیے جانے والے ہتھیار شامل ہیں۔

    ’اگنی میزائل سیریز‘، جسے ڈی آر ڈی او نے تیار کیا ہے، ’اگنی-1‘ جیسے قلیل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سے لے کر ’اگنی-5‘ تک، جس کی رینج 5 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے، بھارت کی اسٹریٹجک صلاحیت کی بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت تقریباً ’172 جوہری وارہیڈز‘ موجود ہیں، جبکہ موجودہ پلوٹونیم اسٹاک انہیں مزید بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اندھرا پردیش کا یہ مقام بھارت کی واحد ’خفیہ‘ تنصیب نہیں بلکہ ’مورکی، راجستھان‘ کے قریب ایک اور زیرِ زمین مرکز کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں میزائل اور وارہیڈ کے ذخائر ہوسکتے ہیں۔ یہ تنصیب ’پاکستانی سرحد سے تقریباً 300 کلومیٹر دور‘ واقع ہے اور ’اگنی-1‘ اور ’اگنی-2‘ جیسے میزائلوں کی تعیناتی کے قابل سمجھی جاتی ہے۔خطے پر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ آسام اور اندھرا پردیش کی تنصیب چین کے خلاف بھارتی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جیسے کہ شمال مشرق میں ’پینا کا راکٹ لانچرز‘ کی تعیناتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تنصیبات ’وارہیڈ اور میزائل کے تیز تر ملاپ کی اہلیت بڑھاتی ہیں، اگرچہ بھارت عمومی طور پر وارہیڈز کو الگ رکھتا ہے۔ نئی دہلی نے اب تک اس تنصیب کی باضابطہ تصدیق نہیں کی،

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخو ا و بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    کلّاتک کے علاقے میں، جو تُربت کے نواح میں واقع ہے، نامعلوم مسلح افراد نے ایک موبائل فون ٹاور کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب کیا جس کے نتیجے میں ٹاور زمین بوس ہوگیا اور آس پاس کے علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز متاثر ہوئیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے مبینہ سہولت کاروں یا نیٹ ورکس کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات اور علاقے کی نگرانی بھی شروع کر دی ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پاک افغان سرحد کے قریب کلی لقمان گاؤں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران چھ دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد کرکے ناکارہ بنا دیے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد ٹارگٹڈ سرچ آپریشن کے دوران ملا۔ کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بلوچستان کی مرکزی شاہراہ پر کئی دنوں سے پھنسے مسافر ایک دھرنے کے باعث شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں مسافر شکایت کرتے ہیں کہ وہ “تین چار دن” سے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بعض افراد کا الزام ہے کہ ان کی بسوں کو رات کے وقت لوٹا گیا۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ہجوم میں موجود ایک شخص منتظمین سے درخواست کرتا ہے کہ کم از کم محدود راستہ کھول دیا جائے، کیونکہ خواتین، بچے اور بیمار مسافر سہولتوں کے بغیر بسوں میں محصور ہیں۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ مشکلات کے باعث ایک مرد اور ایک خاتون کی موت ہوگئی ہے، مگر حکام نے ان اموات کی تصدیق نہیں کی۔ ویڈیو اس کی اپیل پر ختم ہوتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھرنا ختم ہونے کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔ اس واقعے نے شاہراہوں کی مسلسل بندش پر عوامی غصہ بڑھا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ طویل دھرنے مسافروں کو ہراسانی اور لوٹ مار کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ اس صورتحال سے کالعدم گروہ اور ان کے حامی فائدہ اٹھاتے ہیں،یہ دعوے بھی مصدقہ نہیں۔ ویڈیو سے واضح ہے کہ عوام مستقل رکاوٹوں سے شدید تھکاوٹ کا شکار ہیں۔

    خیبر پختونخوا سے افغان شہریوں کی واپسی منگل کے روز بھی جاری رہی، جہاں 1,145 افراد طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس گئے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق واپس جانے والوں میں 543 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 114 اے سی سی ہولڈرز اور 488 غیر دستاویزی افغان شامل تھے۔ اب تک طورخم کے ذریعے 176,132 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 62,747 اے سی سی ہولڈرز اور 666,542 غیر دستاویزی افغان واپس جا چکے ہیں۔ انگور اڈہ بارڈر سے اب تک 1,241 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 496 اے سی سی ہولڈرز اور 8,447 غیر دستاویزی افراد کی واپسی ہو چکی ہے۔ دیگر صوبوں سے افغان باشندوں کو خیبر پختونخوا منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعہ کو پنجاب سے 8 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 3 اے سی سی ہولڈرز اور 8 غیر دستاویزی افغان منتقل کیے گئے۔ مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے 4,313 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 10,384 اے سی سی ہولڈرز اور 37,023 غیر دستاویزی افغانی منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر نفاذی کارروائیاں جاری ہیں۔ جمعہ کو 50 غیر دستاویزی افغانوں کو ملک بدر کیا گیا، جس سے ٹرانزٹ سینٹرز کے ذریعے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 7,431 ہو گئی۔

    سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں تور غنڈی چیک پوسٹ کے قریب دہشت گرد حملے میں پاک فوج کے چھ اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں کام کرنے والی سکیورٹی ٹیم کو نشانہ بنایا۔ شہید ہونے والوں میں حوالدار شوکت حبیب، حوالدار سبزل، سپاہی عبد الخالق، سپاہی رفیع اللہ، لانس نائیک امجد اور سپاہی وقاص شامل ہیں۔ زخمیوں میں ایف سی کے اہلکار محمد جاوید خان، محمد ایاز، رب نواز، عامر شہزاد، محمد رضوان اور محمد زید سلطان شامل ہیں۔ انہیں قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں کئی دہشت گرد مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ علاقے میں تحقیقات اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    کرم کے علاقے تورغر میں سکیورٹی فورسز نے ٹھوس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کمانڈر درویش گروپ سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو آرٹلری حملے میں ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق دہشت گرد سرحد پار سہولت کاری اور سکیورٹی پوسٹوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ یہ دونوں حال ہی میں بلند و بالا علاقوں میں اپنی نقل و حرکت کو چھپانے کے لیے آئے تھے۔ فورسز نے ان کی موجودگی کا سراغ لگایا اور درست نشانے سے انہیں ہلاک کر دیا۔ کمانڈر درویش گروپ، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے زیر اثر کام کرتا ہے، ٹارگٹ حملوں، بھرتیوں اور سرحد پار دراندازی میں ملوث رہا ہے۔ یہ کارروائی مغربی سرحد پر ٹی ٹی پی سے وابستہ نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن جاری رہیں گے اور کسی بھی عسکریت پسند کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال خیبر پختونخوا کے 14 اضلاع میں دہشت گردی کے 1,588 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کیسز میں 7,000 سے زائد مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں رہا، جہاں 394 دہشت گردی کے کیس درج ہوئے۔ شمالی وزیرستان میں 181، پشاور میں 163 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 152 کیس ریکارڈ کیے گئے۔ نامزد مشتبہ افراد کے لحاظ سے بھی بنوں میں سب سے زیادہ 3,437 افراد شامل ہیں، اس کے بعد شمالی وزیرستان میں 887 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 865 افراد کو نامزد کیا گیا۔ حکام کے مطابق متعدد کیسز کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    سکیورٹی فورسز نے پیر کی شب سنٹرل کرم کے علاقے تورغر پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی درویش گروپ کے 10 سے 15 دہشت گردوں نے پوسٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ باقی فرار ہوگئے۔ اضافی نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو تلاش کیا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق کارروائی جاری ہے اور ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان میں دہشت گردی، افغان فوجیوں کی شمولیت کا نیا انکشاف

    پاکستان میں دہشت گردی، افغان فوجیوں کی شمولیت کا نیا انکشاف

    پاکستان کے اندر دہشت گردی میں سرحد پار عناصر کی مبینہ شمولیت سے متعلق ایک اور سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔

    آپریشن الرعد کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے میں افغان نیشنل آرمی کے ایک مبینہ اہلکار اختر منصور ولد عبدالرحمٰن، ساکن کندھار کو ہلاک کر دیا ہلاک شدہ افغان فوجی کے قبضے سے ایک جعلی پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہوا، جو خان محمد ولد غوث بخش، ساکن مستونگ کے نام سے جاری کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دستاویز جعلی تھی اور دہشت گردی نیٹ ورک کی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق اختر منصور افغان نیشنل آرمی کے 205 "البدر کور” کندھار کا موجودہ حاضر سروس اہلکار تھا۔ اس حوالے سے مزید تصدیق اور تکنیکی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    فورسز کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک یو ایس بی ڈرائیو بھی ملی ہے جس میں مبینہ طور پر افغان وزارتِ دفاع کے سرکاری کارڈز، کوائف اور خفیہ نوعیت کے ڈیٹا موجود ہے۔ اس ڈیجیٹل مواد کی فارنزک جانچ جاری ہے تاکہ اس کے ممکنہ استعمال اور نیٹ ورک کے روابط کا پتا چلایا جا سکے۔

    سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کے ان دیرینہ تحفظات کو تقویت دیتا ہے کہ سرحد پار موجود بعض ریاستی سرپرستی یافتہ عناصر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں منظم انداز میں معاونت حاصل ہے۔

  • صدرِ مملکت نے انڈونیشیا کے صدرکو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا

    صدرِ مملکت نے انڈونیشیا کے صدرکو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان عطا کیا۔

    منگل کو ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی کابینہ کے اراکین، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف دی ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف ، پارلیمنٹ کے اراکین اور سفارتی کور کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    قبل ازیں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، مشترکہ اقدار اور پائیدار بنیادوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جو قائدِ اعظم محمد علی جناح اور صدر سوئیکارنو نے قائم کی تھیںدونوں صدور نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ تعلقات کو سراہتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ اقدار اور دیرپا خیرسگالی پر استوار ہیں ،انہوں نے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مزید قریبی تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔صدر آصف علی زرداری نے سوماترا میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے جانی نقصان اور تباہی پر دلی افسوس کا اظہار کیا،انہوں نے جاں بحق افرادکی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

    دونوں رہنماؤں نے بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور جامع ترقی کے فروغ کے اپنے عزم پر بھی گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اصول مستقبل میں باہمی تعاون کی رہنمائی کریں گے۔انہوں نے دوطرفہ تجارت کا جائزہ لیا اور اقتصادی تعاون میں مسلسل اضافے پر اطمینان ظاہر کیا، صدرِ آصف علی زرداری نے پاکستان کی برآمدات میں تنوع اور متوازن تجارتی مواقع کی ضرورت پر زور دیا، دونوں فریقین نے مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام کو تجارتی مسائل کے حل اور کاروباری روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر فورم قرار دیا۔

    ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیاعلاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدرِ مملکت نے معزز مہمان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔وسیع اجلاس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام نے شرکت کی-

    پاکستان کی جانب سے شرکاء میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، وزیر تجارت جام کمال خان ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر ، سیکریٹری خارجہ اور انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر شامل تھےدونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مزید جائزے کے لیے علیحدہ ون آن ون ملاقات بھی کی۔تقریب کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔

  • وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم

    وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم

    عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب کی غیر معمولی کارکردگی پر ادارے کے افسران اور قیادت کی تحسین کی۔ وزیراعظم نے اس بات کو واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے لیۓ مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام اور کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن دنیا کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بدعنوانی کے مضر معاشرتی اثرات کی حوصلہ شکنی اور بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کے اپنے عزم کی تجدید کریں۔ وزیراعظم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور تمام متعلقہ ادارے بھرپور طریقے سے اور بڑی تندہی سے کارروائی کر رہے ہیں تاکہ ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے نیب کی کاروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منظم مالی جرائم کے باعث اپنی رقوم سے محروم ہونے والے شہریوں کی بروقت داد رسی سے نیب پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔

    تقریب سے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بھی خطاب کیا اور نیب کی حالیہ چند سالوں اور بالخصوص اس سال میں کارکردگی پر وزیراعظم اور حاضرین کو بریفنگ دی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ باہمی اور موثر تعاون سے نیب نے 2025 میں 5.1 ٹریلین روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی غیر معمولی وصولیاں ممکن بنائیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 2022 کے بعد سے قومی احتساب بیورو میں اصلاحاتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے ہیں جس سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کاعالمی دن وزیراعظم ہاؤس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ احتساب اور جوابدہی حکومت کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں.

    تقریب کے اختتام پر نیب کی غیر معمولی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرنے والے نیب افسران کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔وزیر اعظم نے اعلی کارکردگی دکھانے والے نیب افسران کو انعام کے طور پر تین اعزازیہ یا عمرے کی ادائیگی کاموقع فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں. تقریب میں UNODC کے نمائندے نے اقوام متحدہ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آف یوتھ افیئرز فلپ پولیر کا پیغام پڑھ کر سنایا. تقریب میں نائب وزیراعظم و وفاقی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نزیر تارڑ، نیب کے افسران، ڈی جی ایف آئی۔ اے۔، ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، سرکاری افسران اور دیگر شرکاءنے شرکت کی۔

  • چیف آف ڈیفنس فورسز   سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات

    چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر پروابوو سبیانتو نے ملاقات کی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی پر گفتگو کی گئی،اس موقع پر پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،انڈونیشیا کے صدر نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور خطے میں امن واستحکام کے لےی پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا،ملاقات میں تربیت، انسدادِ دہشت گردی اور استعدادِ کار میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تربیت، انسدادِ دہشت گردی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں.

  • پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ 1971 میں پاک بحریہ دشمن کیلیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔

    پاک بحریہ کی جانب سے 9 دسمبر کو یادگار دن "ہنگور ڈے” کے طور پر منایا جا رہا ہے، ہنگور ڈے”آبدوز ہنگور”کی بہادری اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی روشن علامت ہے،اس موقع پر اپنے بیان میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا پاکستان خود مختاری اور دفاعِ وطن کے لیے عزم محکم رکھتا ہے، 9 دسمبر71کو آبدوز ہنگورکے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی جو آج تک دشمن کے ذہن پر نقش ہے، یہ دن باور کرواتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، 1971 میں پاک بحریہ دشمن کیلیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔

  • اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو ہونگے،الیکشن کمیشن نے بلدیاتی قانون 2015 کے مطابق انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140(A) اور 219(d)، الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 219، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 اور متعلقہ رولز کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیڈول جاری کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں امیدواروں کی نامزدگی، چھان بین، فہرستوں کی اشاعت اور پولنگ تک کا مکمل انتخابی ٹائم لائن جاری کیا گیا ہے۔نامزدگی فارم جاری کرنے کی تاریخ 19 دسمبر 2025تک ہے،امیدواروں کے نامزدگی فارم جمع کرانے کا مرحلہ
    22 دسمبر 2025 سے 27 دسمبر 2025 تک ہے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 30 دسمبر 2025 سے 3 جنوری 2026 تک کی جائے گی،ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی مدت 5 جنوری 2026 سے 8 جنوری 2026 تک ہو گی،اپیلیٹ اتھارٹی کی جانب سے اپیلیں نمٹانے کی تاریخیں 9 جنوری 2026 سے 13 جنوری 2026 تک ہوں گی،نظرِ ثانی شدہ امیدواروں کی فہرست کی اشاعت 14 جنوری 2026 کو کی جائے گی،امیدواروں کی حتمی فہرست کی اشاعت 15 جنوری 2026 کو ہو گی،الیکشن نشان الاٹ کرنے اور امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے کی تاریخ 16 جنوری 2026ہے،

    نوٹیفکیشن کے دوسرے حصے میں الیکشن کمیشن نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں جس کے مطابق تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کوئی ترقیاتی منصوبہ یا سرکاری وسائل استعمال کرکے انتخابی عمل پر اثرانداز نہ ہوں۔سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اہلکار اپنے عہدے کے اختیار کا غلط استعمال کرکے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔الیکشن پروگرام کے اجراء کے بعد حکومتی اشتہارات، ترقیاتی اعلانات اور غیر ضروری سرکاری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔

  • انڈونیشیا کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں پروقار استقبالیہ تقریب

    انڈونیشیا کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں پروقار استقبالیہ تقریب

    انڈونیشیا کے صدر پرابوووسوبیانتو کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریب وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر پرابوووسوبیانتو کا وزیراعظم ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پُرتپاک استقبال کیا،اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے انڈونیشیا کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔دونوں ملکوں کے قومی ترانے پیش کیے گئے۔معزز مہمان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر کا وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام سے تعاارف کر ایا ۔معزز مہمان نے اپنے وفد کا تعارف وزیراعظم محمد شہباز شریف سے کرایا ۔

    صدر پرابوووسوبیانتو نے وزیراعظم ہاؤس کے سبزہ زار میں پودا بھی لگایا۔انڈنیشیا کے صدر کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے اعتماد کے رشتے پر قائم تعلقات کا فروغ مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔ صدر پَروبووو کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئی جہت دینے، شراکت داری میں وسعت اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا،