Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • توڑ پھوڑ کرنے والے لوگ پی ٹی آئی کے تھے،پراسیکیوٹر کا توہین عدالت کیس میں بیان

    توڑ پھوڑ کرنے والے لوگ پی ٹی آئی کے تھے،پراسیکیوٹر کا توہین عدالت کیس میں بیان

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسسٹنٹ کمشنر کی درخواست پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس واقعے پر مختلف لوگوں کے خلاف کیسز بنائے جا چکے اس روز کیس کی فائل بھی گُم ہوگئی تھی جو سنجیدہ معاملہ تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی بہت سنجیدہ معاملہ ہے ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سارے کیسز اب متعلقہ فورم پر چل رہے ہیں یہاں الگ کارروائی چلی تو وہ کیسز متاثر ہوں گے کیس کی آرڈر شیٹ گُم ہونے کا بھی اس سارے معاملے سے تعلق ہے ،اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل میں کہا کہ سماعت کا مقام بھی اِن کی خواہش کےمطابق تبدیل کیا گیا اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسپیشل پراسیکیوٹر کو سیاسی بات کرنے سے روک دیا اورریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے وکیل خواجہ حارث نے کوئی سیاسی بات نہیں کی آپ بھی اپنے الفاظ کے چناؤ میں محتاط رہیں صرف یہ بتائیں کیا فائل گُم ہونے پر یہاں کارروائی کی ضرورت ہے؟ آرڈر شیٹ گُم ہوئی تو نئی آرڈر شیٹ بنادی گئی تھی اب پہلی شیٹ گُم ہونے پر فریقین میں کسی کو فائدہ یا نقصان ہوا؟

    پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ اگر نئی آرڈر شیٹ بننے میں تاخیر ہوتی تو پراسیکیوشن کا نقصان ہوتا سب پولیس اہلکار ایک طرح سے وہاں کورٹ اسٹاف ہی ہوتے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں میں اپنی فائل کسی پولیس اہلکار کے ہاتھ نہیں بھیج سکتا ایک اوراہم معاملے پر آج کل ہم غور کر رہے ہیں ویڈیو لنک پرحاضری کی عمران خان کی درخواست پرقانون طےکرنا ہے اس معاملے کو صرف عمران خان کی حد تک نہ دیکھا جائے دیکھنا ہے ویڈیو لنک پر قانون کیسے واضح کریں اپنے ریسرچر کو بھی لگایا ہے کہ بھارت میں ویڈیو لنک پرکیا ہو رہا وہ بھی دیکھ رہے ہیں ،اسپیشل پراسیکیوٹر نے توہین عدالت پر عمران خان کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ اس عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمران خان لاء اینڈ آرڈر یقینی بنائیں گے عمران خان کو اس حکم پر عمل نہ کرنے پر نوٹس جاری کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس ایک سنجیدہ ایشو ہے اُس روز توڑ پھوڑ تو ہوئی مگر ذمہ دار کون ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ توڑ پھوڑ کرنے والے سب لوگ پی ٹی آئی کے تھے ٹوئٹس موجود ہیں لوگوں کو وہاں باقاعدہ بلایا گیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ تو اپنے لیڈر کو سپورٹ کرنے آ جاتے ہیں ایک لیڈر ہے اس کی فالوئنگ ہے لوگ تو آجاتے ہیں یہ دکھائیں کیا کہیں لوگوں کو توڑ پھوڑ کے لیے اکسایا گیا توڑ پھوڑ کی ویڈیوز ہیں مگرکیسے طے ہوکہ انہیں کس نے کہا؟ آئی جی کی رپورٹ دیکھ کر دوبارہ معاونت کریں ایک ہجوم جہاں ہو اس کا ایک مائنڈ سیٹ تو ہوتا نہیں ہے ، عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر آئندہ جمعےکو مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،وزیراعظم

    قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،وزیراعظم

    اقبال اور پاک فضائیہ کے شاہین جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کا جھپٹنے کو تیار،پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان میں کیڈٹس کی گریجویشن پریڈ کی تقریب ہوئی،

    وزیراعظم محمد شہباز شریف گریجویشن پریڈ کی پروقار تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گارڈ کا معائنہ کیا اور پریڈ سے خطاب کیا، اکیڈمی سے 147 ویں جنرل ڈیوٹی پائلٹ، 93ویں انجنئیرنگ کورسز کے کیڈٹس فارغ التحصیل ہوئے، 103ویں ایئر ڈیفنس، 24ویں ایڈمن اینڈ سپیشل ڈیوٹی کورسز کے شرکاء بھی پاس آؤٹ ہوئے، ساتویں لاجسٹک اور 129ویں کامبیٹ سپورٹ کورسز کے کیڈٹس بھی فارغ التحصیل ہوئے ،

    پاک فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کہ پاس آؤٹ ہونے والے تمام کیڈٹس کو مبارکباد دیتا ہوں کیڈٹس کے والدین کو دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں پاک فضائیہ نےکسی بھی چیلنج میں ملک کا نام روشن کیا پاک فضائیہ بہترین پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سےدنیا بھرمیں نمایاں ہے یقین ہےکہ مسلح افواج ہمیشہ قوم کی امنگوں کے مطابق صلاحیتوں کامظاہرہ کرتی رہے گی، اس وقت دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سمیت بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے اور پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے یقین دلاتا ہوں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہرکوشش کی جائے گی اور جلد ملک کے معاشی حالات بہتر ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام ملکوں سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ناممکن ہے بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے بھارت نے اگست 2019 سے کشمیرکو جیل میں تبدیل کررکھا ہے خطے میں امن کے لیے ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ مل کرکوشش جاری رکھیں گے جب کہ قیام امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

  • عمران خان کی اسلام آباد کی عدالت میں پیشی

    عمران خان کی اسلام آباد کی عدالت میں پیشی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے پر عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت داخل ہونے سے روک دیا گیا، عمران خان کے ہمراہ پارٹی رہنما ،کارکنان بھی موجود تھے، عمران خان کے وکلا کی جانب سے عمران خان کی گاڑی کو عدالتی احاطے میں داخلےکی اجازت کے لیے درخواست دائرکردی گئی ، جس میں کہا گیا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں ان کی جان کو خطرات ہیں ان کی گاڑی کو عدالتی احاطےمیں داخلےکی اجازت دی جائے، عمران خان کی گاڑی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد عمران خان پیدل عدالت گئے، اس موقع پر عمران خان کے گرد اہلکاروں نے حفاظتی شیلڈ اٹھا رکھی تھیں

    عمران خان کی پیشی کے موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں عمران خان کی آمد سے قبل کمرہ عدالت خالی کرا یا گیا اورکمرہ عدالت کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کلیئرکیا ڈرون کیمروں کے ذریعے بھی ہائیکورٹ کی سکیورٹی مانیٹرنگ کی جارہی ہے

    عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات کی ہے،عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدی کی موجودگی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو کہہ رہا ہوں اگر حکومت فوری اسمبلی توڑ کر الیکشن کراتی ہے تو ہی مذاکرات ہوں گے، اگر وہ دوبارہ وہی ستمبر اکتوبر کی بات کرتے ہیں تو کوئی ضرورت نہیں، اب بال حکومت کے کوٹ میں ہے،ایک دن الیکشن کرانے ہیں تو کرائیں، 14 مئی کی تاریخ گزر گئی تو آئین ٹوٹ جائے گا ،ہم قانون کے مطابق چل رہے ہیں ،مذاکرات ایک جیسے لوگ کرتے ہیں،وہ قانون شکنی کر رہے ہیں،وہ اور ہم ایک جیسے نہیں،آج یہاں توہین ڈرٹی ہیری کیلئے آیا ہوں کیا اس سے ساری دنیا میں مذاق نہیں اڑے گا۔عمران خان نے جنرل باجوہ اور کشمیر سے متعلق حامد میر کے بیان پر جواب میں کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ چیزیں پتہ ہیں مگر یہ نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ ہے، میں نہیں چاہتا کوئی انٹرنیشنل خبر بن جائے اور ملک کا نقصان ہو ، جنرل ریٹائرڈ باجوہ خود کہتا کہ عمران خان خطرناک ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے ،عمران خان ایک قافلے کی شکل میں لاہور سے اپنی رہائشگاہ سے روانہ ہوئے، عمران خان موٹروے سے اسلام آباد گئے، زمان پارک سے روانگی کے وقت کارکنان نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے،

    عمران خان پر عسکری حکام پر الزامات کے تناظر میں بغاوت پر اکسانے کا کیس ہے ان کے خلاف مجسٹریٹ کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، عمران خان نے حفاظتی ضمانت کروا رکھی تھی جو 26 اپریل کو ختم ہو چکی ہے،

    عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کرتے ہوئے آج ہی درخواست ضمانت پر سماعت کی استدعا کی ہے ،عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شدید سکیورٹی تھریٹس ہیں جس کی وجہ سے دوبارہ قاتلانہ حملہ ہوسکتا ہے عدالت ٹرائل کورٹ کے بجائے خود عبوری ضمانت منظور کرے ،

    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کی عدالت پیشی پر مؤثر سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے، ایف آئی آر قانون کے مطابق درج ہوتی ہیں جن کا فیصلہ عدالت کرتی ہے قانون کی نظر میں کسی کو کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہیں، امید ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی عدالت پیشی پرقانون کا احترام کریں گے۔

    عمران خان کے خلاف تھانہ رمنا میں مجسٹریٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، درج ایف آئی آر کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انٹرویو میں حساس ادارے کے آفیسر سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔ حساس اداروں کے مختلف افسران کے نام لے کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عمران خان مذموم ارادوں کے مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ عمران خان کا یہ عمل ملک و ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ مقدمے کے مطابق عمران خان نے اپنی تقاریر سے فوج، مختلف گروہوں اور طبقوں میں انتشار پھیلایا ہے عمران خان نے اپنی تقریرمیں فوجی افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے انہوں نے فوجی افسران اوران کے اہلخانہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا

    عمران خان موو کرتے ہیں تو انکے ساتھ سیکیورٹی ہوتی ہے؟حکومت سے جواب طلب

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

  • سابق آرمی چیف کا مستقبل کے خطرے پر بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا،آئی ایس پی آر

    سابق آرمی چیف کا مستقبل کے خطرے پر بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا،آئی ایس پی آر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان پاک فوج ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے سابق آرمی چیف کے بیان پر مختلف تبصروں بارے ردعمل دیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف کا پاکستان کے مستقبل کے خطرے پر بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا پاک فوج کی جنگی تیاریوں کے بارے میں میڈیا میں بحث سامنے آئی یہ مباحثے سابق آرمی چیف کے انٹرویو کے تناظر میں ہوئے پاک فوج نے ہمیشہ اپنی آپریشنل تیاریوں اور انتہائی جنگی قابلیت پر فخر کیا اور کرتے رہیں گے، فوج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے ہتھیاروں، سازو سامان اور جنگی وسائل سے بھرپور ہیومن ریسورس ہمیشہ تیار رکھا ہے،

    واضح رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر پاک فوج کی تیاریوں کے حوالہ سے مختلف بیانات چل رہے تھے جس پر بہت تنقید کی جا رہی تھی، آیا جنرل ر باجوہ نے وہ بیان دئے تھے یا کسی نے اپنی طرف سے ہی پیش کر دیا،کافی دنوں کی بحث کے بعد آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

  • آئین شکنی کے مرتکب عمران خان کیخلاف کاروائی ضروری، امان اللہ کنرانی

    آئین شکنی کے مرتکب عمران خان کیخلاف کاروائی ضروری، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی و پارلیمانی طرز حُکمرانی کے تحت آئین کا طابع وفاقی مملکت ہے جس کی بابت آئینی شقیں واضح و غیر متزلزل ہیں جہاں اسلام کے قرآن و سنت کے ماخذ ریاست و ھمارے لئے بندھن ہیں وہاں آئین سے وفاداری و قانون کی طابع داری بھی ھمارے فرائض و ذمہ داریوں میں شامل ہے

    اپنے ایک بیان میں امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 4/5 دائرہ کار فراھم کرتا ہے مگر اس کے باوجود آئین کے آرٹیکل 17/19 کے بنیادی حق کے تناظر میں اس کا غلط استعمال اور اس پر اصرار اس کے مضمرات سے عدم توجہی ریاستی ڈھانچے سمیت مذھبی و اخلاقی اقدار و آئین کے تحت ریاستی پالیسی میں مندرجہ آرٹیکل 29/31/37 سمیت اخلاقی اقدار کے منافی ہے جس طریقے سے گذشتہ 5 سال میں ایک سیاسی پارٹی و اس کے سربراہ کو قانون و آئین سے ماوراء پروان چڑھا کر اس کو ریاست کا زمام کار سونپا گیا اس نے نہ صرف طرز حُکمرانی بلکہ طرز انسانی و معاشرتی اقدار کو بھی پامال کیا ابتداءً میں اس کو راولپنڈی کا تحفظ حاصل تھا اب اس کو شاہراہ دستور پر واقع ایک بلڈنگ کے اندر موجود ایک مثلثہ کی آشیر باد حاصل ہے جس کے نتیجے میں وہ پارٹی و سربراہ اپنے آپ کو پوتر دوسروں کو شودر سمجھنے لگا ہے نعوذاللہ بعض اوقات وہ پیغمبری کے جھوٹے دعوے کے برابر دعوے کرکے ایمانی و اخلاقی زوال تک پہنچ جاتا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی غلاظت ہی نہیں اخلاقی پستی بھی پروان چڑھ رہا ہے

    امان اللہ کنرانی کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے قانون و آئین کے دائرے میں ایسے شخص و جماعت کے خلاف سینہ سپر ھوکر اس کو قانون کی گرفت میں لایا جائے پاکستان کے اسلامی و فلاحی و وفاقی و سیاسی و جمہوری و پارلیمانی ھیئت کو سبوتاژ ھونے سے بچایا جائے ایک فرد واحد کو دودھ میں بال کی طرح نکال کر پھینک دیا جائے ریاست کے اندر فساد فی الارض کے تمام اسباب کا بیخ کنی کیا جائے ورنہ ریاست و وفاق کے بکھرنے و اسلام کے پاکیزہ اصولوں کو بگاڑنے کا عمل ھمارے معاشرے کو پستی کی گہرائیوں میں دھکیل دے گا جس کے ھم متحمل نہیں ھوسکتے ایک نیازی کے ھاتھوں ھمیں 1971 میں ھزیمت اُٹھانی پڑی دوسرے نیازی کے ھاتھوں زلت و رسوائی ھماری مقدر ھوگی مگر مجھے یقین ہے پاکستان کے 22 کروڑ عوام غلام نہیں کسی کے مصنوعی و طلسماتی و خودساختہ شہرت کے وباء سے متاثر ھوکر اپنے ریاست و اقدار کا تحفظ نہ کرسکیں اس ضمن میں وفاقی حکومت کی توجہ سپریم کورٹ پاکستان کے پانچ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلے PLD 2022 SC 574 کے پیراگراف 12 کے اندر درج جسٹس مظہر عالم میاں خیل صاحب کے اضافی نوٹ کی طرف دلاتے ھوئے مطالبہ کرتا ھوں کہ آئین شکنی کے مرتکب ذمہ داروں صدر مملکت و اس وقت کے وزیراعظم و ڈپٹی سپیکر کے خلاف آئین کے متعلقہ شقوں کی روشنی میں کاروائی کرے

  • نواز کو نکالا گیا،مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں،وزیراعظم

    نواز کو نکالا گیا،مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعتعماد کاووٹ لینے کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس اعتماد کیلئے قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وزیراعظم نے اپنی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا نام لے کر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اس ایوان کے اعتماد کا مان رکھوں گا،2018میں اس ملک کی معیشت بہترین تھی،پانچ سال گرز گئے متنازع الیکشن دھاندلی کی تحقیق نہیں ہوسکی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سائفر کے ذریعے امریکہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، پاکستان کیلئے بہت جلد سستا پٹرول مہیا کرینگےجناب اسپیکر پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے ،میرا فرض ہے کہ میں پارلیمان کے فیصلے کا احترام کروں،جناب اسپیکر یہ ہو نہیں سکتا کہ پارلیمان آئین بنائے،آئین بنانے کا اختیار صرف پارلیمان کو ہے،آج پارلیمان نے میرے پہ ا عتماد کا اظہار کر دیا ہے،نواز شریف کو بدقسمتی سے نااہل کر دیا گیا،اگر یہ مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں اس کے لیے بھی میں تیار ہوں،پارٹی کے لوگ مجھے سیاست کے معاملے میں اچھی آگاہی دیتے ہیں،جناب اسپیکر بات چیت کا ایجنڈا کیا ہے ؟ایجنڈا یہ ہونا چاہئیے کہ پورے پاکستان میں ایک دن الیکشن ہوجناب اسپیکر عدات ہر بار پنجاب میں انتخابات کی بات کیوں کرتی ہے،جناب اسپیکر اس ہاؤس میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جنہوں نے پندرہ سال جیلیں کاٹی ہیں ،نیب نیازی نے مل کر کر نوازشریف کی بیٹی کو گرفتار کیا،جناب اسپیکر پاکستان کے خلاف بدترین سازشیں بوئیں،ہمیں اس ملک کو بنانے کی جو ذمہ داری دی گئی اس کو پورا کرنے دیا جائے،ہمیں بے کار کی الجھنوں میں نہ ڈالا جائے،ملک میں دہرے معیار نے نظام عدل کا دفن کیا،  بیٹیوں کے گھروں کو پولیس نے گھیر ے میں لیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک لاڈلے کیلئے سوموٹو آجاتا ہے آج پارلیمان کی آئنی حیثیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے، اس پارلیمان کی آئنی طاقت کوئی نہیں چھین سکتا،

    قومی اسمبلی مییں مولانا اسعد محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر وزیر اعظم کو مبارکباد دیتا ہوں،ہم اپنے ملک کے آئین کی حفاظت کررہے ہیں،پاکستان میں ایک اسرائیلی نمائندہ اپنے نظریات کے مطابق کام کررہا ہے، سیاستدانوں کے مزکرات پر اصولی طور پر اتفاق کرتے ہیں،یکطرفہ فیصلے کے بعد پارلیمان حرکت میں آئی،سیاستدانوں کے مزاکرات کسی دباؤ میں نہیں ہونے چاہیں،

    شاہد خاقان عباسی بھی وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے موجود تھے ،وزیر اعظم نے 180 ارکان کی حمایت حاصل کرلی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ،اعتماد کے ووٹ کےلیے 172 اراکین کی ضرورت تھی،اسپیکر نے اعلان کیا کہ 180 ارکان نے وزیراعظم شہباز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ،وزیراعظم کو ایوان کے اراکین کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے ۔آج مفتی عبد الشکور زندہ ہوتے تو یہ تعداد 181 ہوتی،ووٹ دینے والے تمام اراکین کے نام قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر ڈالیں،اسپیکر کے اعلان ہوتے ہی ایوان میں شیر شیر کے نعرے لگ گئے ،اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض، چیئرمین پی اے سی نور عالم خان سمیت دیگر پی ٹی آئی ممبران ایوان میں موجود تھے

    وزیراعظم کے قومی اسمبلی میں پہلے سے 6 ووٹ بڑھ گئے ،وزیراعظم شہباز شریف 2022 میں 174ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ میں 180 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی ،ضمنی انتخابات میں عبدالقادر مندوخیل، علی موسی گیلانی اور عبدالرحیم بلوچ رکن منتخب ہوئے دو آزاد اراکین کی وزیراعظم کو حمایت حاصل ہوئی،بی اے پی کی زبیدہ جلال بھی حکومتی بنچز پر آگئیں مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات میں ایک مزید سیٹ جیتی ،شائستہ پرویز جیت کر آئین اور ان کی جگہ مخصوص نشست پر شکیلہ لقمان آگئی

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ،جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

    ،وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

  • وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں شروع ہو گیا

    وزیرِ اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے ہیں، قومی اسمبلی اجلاس کا ضمنی ایجنڈا جاری ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد ایوان میں پیش کی، بلاول کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا یہ ایوان وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے پاکستان کی پارلیمان جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے چار رکنی اکثریتی بینچ کے ساتھ کھڑی ہے ،بلاول بھٹو نے قرارداد پیش کردی،وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے،وزیر اعظم شہباز شریف کو 180ممبرز قومی اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے

    حکمران اتحاد کے ارکان قومی اسمبلی کی کل تعداد 181 ہے،ایوان میں مسلم لیگ ن کے 85 پیپلز پارٹی کے 58 ارکان ہیں، ایم ایم اے کے ارکان کی تعداد 13، ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کی تعداد 7 ہے۔حکمران اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، بی این پی کے 4 ارکان ہیں۔ق لیگ کے 3، اے این پی اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن ہے۔چار آزاد ارکان اسمبلی بھی حکمران اتحاد میں شامل ہیں،قومی اسمبلی کے 180 اراکین نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کر دیا ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اگر مفتی عبدالشکور زندہ ہوتے تو اعتماد کے ووٹ 181 ہوتے تا ہم انہوں نے 180 ووٹ حاصل کیے

    اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو ایک بار پھر عزت سے نوازا، اور 180 ووٹوں سے اعتماد کا ووٹ دلوایا ،میں یقین دلاتا ہوں کہ اس ایوان کے اعتماد کا مان رکھوں گا ،2018میں اس ملک کی معیشت بہترین تھی،پانچ سال گرز گئے متنازع الیکشن دھاندلی کی تحقیق نہیں ہوسکی،

    وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا،بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی۔ دو ممبران کو وہیل چئیرز پر لایا گیا، تحریک انصاف کے 12 منحرف ارکان ایوان میں موجود تھے مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا، پانچ ارکان ایوان سے باہر چلے گئے تھے

    صدر پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گئے ،ممبران اسمبلی نے ڈیسک بجا کر آصف علی زرداری کا استقبال کیا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ،پیپلز پارٹی کے علیل سینئر رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور بھی اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے ایوان میں موجود تھے

    حامد میر کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے 180 ارکان کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا عمران خان نے 2021 میں سینیٹ کے الیکشن میں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد 178 ارکان کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا

    قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے، وفد میں فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، امین الحق شامل تھے ،ایم کیو ایم کے وفد نے مردم شماری پر تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا،ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دے گی، وفد نے یقین دہانی کروا دی،

    وزیر دفاع خواجہ آصف سے غیر رسمی گفتگو،سوال کیا گیا کہ کیا اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کامیاب ہونگے،جس کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے مگر آج شام تو ابتدائی سفارشات پر ہی گفتگو ہوگی،سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے؟ کیوں ضرورت پیش آرہی ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اعتماد کے ووٹ سے افواہیں دم توڑ جاتی ہیں،

    ،جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

  • ہم تو فقیر لوگ ہیں ،ہم کو جس طرف چلاتے ہیں چل پڑتے ہیں،آصف زرداری

    ہم تو فقیر لوگ ہیں ،ہم کو جس طرف چلاتے ہیں چل پڑتے ہیں،آصف زرداری

    وزیراعظم کے ظہرانے میں شو آف پاور کا مظاہرہ ،175 سے زیادہ اراکین کی شرکت،ضرورت ہوئی تو وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

    وزیراعظم کو بعض رہنماؤں نے آج ہی قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی تجویز دی،وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہ دیا ،حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کسی بھی وقت اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں۔ ہمارے پاس 181 اراکین ہیں ۔۔

    سابق صدرآصف زرداری نے بھی ظہرانے میں شرکت کی .ظہرانے کے موقع پر آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیا وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت ہے، جس پر سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم کو خبروں کا کیا پتہ، ہم تو فقیر لوگ ہیں ،ہم کو جس طرف چلاتے ہیں چل پڑتے ہیں،

    اصف علی زرداری سے مذاکرات کے حوالے سے صحافی نے سوال کیا جس پر آصف علی زرداری نے جواب دیا کہ حکومت ساتھ چل رہی ہے بلاول سے پوچھیں ،صحافی نے بلاول بھٹو سے سوال کیا کہ کیا مذاکرات آگے بڑھنے کا امکان ہے ، جس پر بلاول نے جواب دیا کہ موقع ملے گا تو پریس سے بات کروں گا

    وزیر دفاع خواجہ آصف سے غیر رسمی گفتگو ،سوال کیا گیا کہ کیا اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کامیاب ہونگے،جس کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے مگر آج شام تو ابتدائی سفارشات پر ہی گفتگو ہوگی،سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے؟ کیوں ضرورت پیش آرہی ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اعتماد کے ووٹ سے افواہیں دم توڑ جاتی ہیں،

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عید ملن ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف اسپیکر بنکویٹ ہال پہنچ گئے ،اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی آمد پر انکا استقبال کیا ،وزیر اعظم فردا فردا تمام اراکین کے پاس جاکر ان سے ملاقات کرتے رہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام اراکین پارلیمنٹ کو عید کی مبارکباد بھی دی ظہرانہ میں اتحادی جماعتوں کے ارکان کے علاوہ اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی منحرف ارکان بھی شریک تھے وفاقی وزراء اور کابینہ اراکین کے لئے الگ ہال میں کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے

    دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت ،وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اتحادی ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، ارکان پارلیمنٹ کے لیے ظہرانے میں چھ ڈشوں کا اہتمام کیا گیا تھا، وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری دعوتوں میں ون ڈش کا اعلان کیا گیا تھا ،میٹھے میں فرنی، حلوہ، فروٹ چاٹ بھی رکھی گئی ہے اراکین پارلیمنٹ کے لئے وزیر اعظم نے وزیر اعظم ہاوس سے کھانا تیار کروایا ہے اراکین پارلیمنٹ کے لئے بار بی کیو کا بھی اہتمام کیا گیا،

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ،جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف اور چینی ہم منصب کا ٹیلی فونک رابطہ

    وزیر اعظم شہباز شریف اور چینی ہم منصب کا ٹیلی فونک رابطہ

    وزیر اعظم شہباز شریف اور چینی ہم منصب لی چیانگ کی ٹیلی فون پر رابطہ ہوا پے

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لی چیانگ کو وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی،وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعظم تقرری چینی قوم کے آپ پر اعتماد کا مظہر ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف نے ون چائنہ پالیسی کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا،اور کہا کہ پاکستان تائیوان، تبت، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین پر چین کی پالیسی کی حمایت کرتا رہے گا،مسئلہ کشمیر پر چین کے اصولی موقف اور حمایت کے مشکور ہیں،

    چینی وزیر اعظم نے اہم امور پر حمایت کے لئے پاکستان سے اظہار تشکر کیا ،وزیراعظم لی چیانگ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی قومی ترقی، خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے حمایت جاری رکھے گا،چین پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا،

    واضح رہے کہ پاک چین دوستی گہری، بے مثال ہے،چین کی قیادت نے محنت،عزم اورجذبے کے ساتھ ترقی کی منزل حاصل کی ہے چین ترقی پذیر ریاستوں کیلئے بدعنوانی سے چھٹکارا پانے اور اپنے عوام کو غربت سے نکال کر خوشحالی کی طرف لیجانے کیلئے رول ماڈل ہے۔ چینی قوم نے اپنی عظیم لیڈر شپ میں غربت،بے روزگاری اور کرپشن کیخلاف کامیاب جدوجہد کی ہے۔چین پاکستان کاسب سے زیادہ با اعتماد دوست ملک ہے۔ پاک چین دوستی پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔چین آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ کھڑا رہاہے۔ پاکستان اور چین عالمی امور، امن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔ پاک چین ناقابل تسخیر دوستی اور سٹریٹجک شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

  • عمران خان کسی بھی ریلیف کے مستحق نہیں،نیب کا جواب عدالت جمع

    عمران خان کسی بھی ریلیف کے مستحق نہیں،نیب کا جواب عدالت جمع

    توشہ خانہ کیس میں نیب نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا،

    نیب کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کیخلاف تحقیقات کے حوالہ سے جواب جمع کروایا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب حکام کی جانب سے جواب جمع کروایا گیا ہے، نیب کے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی درخواست خارج کی جائے، عمران خان کسی بھی ریلیف کے مستحق نہیں، انہوں نے کلین ہینڈ کے ساتھ ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا ان کو سوال نامہ بھیجا مگر سوالات کا جواب نہیں دیا گیا عمران خان طلبی کے نوٹس پرنیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے ان کو قانون کے مطابق ہی نوٹس بھیجا گیا سوالات بھی پوچھے لیکن عمران خان نے جو جواب بھیجا اسے جواب نہیں کہا جا سکتا وہ جان بوجھ کرمعاملے کو التوا میں ڈالنا چاہتے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں نیب کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے 58 تحائف رکھے انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے 14 کروڑ سے زائد کے تحائف 3 کروڑ 80 لاکھ میں رکھ لیےانہوں نے معلومات دینے کے بجائے ٹال مٹول والا جواب بھیجا لہٰذا عمران خان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے خلاف نااہلی کی درخواست پر سماعت پانچ مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونی ہے، عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں نیب کی طلبی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے عمران خان کی جانب سے نیب میں طلبی کے نوٹس غیرقانونی قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے عمران خان نے کیس کا فیصلہ آنے تک نیب کو تادیبی کاروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی ہے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ نیب کے 16 فروری اور17 مارچ کے نوٹس غیرقانونی قرار دیے جائیں، درخواست پر فیصلہ آنے تک انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے سے روکا جائے۔