Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، بیرسٹر علی ظفر بھی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل! ہمیں آپ کا اعتماد چاہئے، ‏شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قریشی صاحب! آپ بیٹھ جائیں،آپ کو سنتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک تاریخ جو ہم نے دی ہے اس پر ایک پارٹی کے علاوہ سب متفق ہیں مذاکرات کرانا آپ کا کام ہے،ہم اس پر کوئی وضاحت نہیں چاہتے، ہم یہاں پر اس لئے ہیں کہ آپ ہمیں اس کا حل نکال کر بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لئے وقت دیں، 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا، 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کیلئے با اختیار نہیں ہیں،گزشتہ روزحکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصرکے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کیلئے با اختیار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو چیمبر میں آپ سے ملاقات ہوئی ، ہمارے ایک ساتھی کی عدم دستیابی کے باعث چار بجے سماعت نہیں ہوئی تھی ، فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سہولت کاری کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمائندے ہیں نہ اپوزیشن کے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا ، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں،سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعات کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیئے صرف حل بتائیں،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ‏پی ڈی ایم میں مذاکرات کے معاملے پر اختلافات ہیں،انگریزی نہیں اردو میں بات کروں گا، اس وقت تک جب میں عدالت میں کھڑا ہوں، پی ڈی ایم نے مذاکرات کے لئے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کے اسرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی،پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا ،سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صرف سینیٹرز کے نام مانگے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔مذاکرات سیاسی جماعتوں کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیںسیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لگتا ہے حکومت صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، ہم آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتے، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان میں کہا گیا کہ ججز کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائیگا ،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،ان کو چھوڑ دیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ اب کیا چاہتے ہیں،عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے ووٹ کے حق کے لئے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو بہتر ہے، اگر کسی حل پر نہیں پہنچتے تو جیسا چل رہا ہے ویسے چلے گا،شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے موقع دیا، ہم نے اتفاق رائے کیلئے ایک صفحے پر جواب تیار کیا، وہ میڈیا کو نہیں دوں گا، عدالت چاہے تو اُسے دے دوں گا، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی ، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ماحول بنانا پڑتا ہے،ایسی باتیں نہ کی جائیں جس سے ماحول خراب ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کام میں صبر اور تحمل چاہئے،اِن کو بھی یہی تلقین کرینگے کہ صبر و تحمل ہو،گزشتہ سماعت پر یہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں،مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے،تحریک انصاف والے چاہتے ہیں آج ہی مذاکرات ہوں ، ہم نے حکومت کو دیکھنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا کر رہی ہے، مذاکرات کیلئے نام دینے میں کیا سائنس ہے؟ کیا حکومت نے اپنے 5 نام دئیے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے،پانچ لازمی دیں ،حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں فریقین متفق تو حل نکل آئے گا، فواد چودھری ے کہا کہ سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی،سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسے ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہیں کرے گی، پارلیمان اور عدالت نہیں سپریم صرف آئین ہے، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،

    کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکم جاری کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم مزاکرات کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں، یہ لوگ مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے یہ عوام سے بھاگے ہوئے لوگ ہیں ،سینٹ کمیٹی کو تحریک انصاف نے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ سینیٹ کا نہیں ہے اسلیئے ہمارا واضح موقف ہے کہ آج سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ دیکھنا ہے۔

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کیس: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ سماعت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات جاری کیں، اٹارنی جنرل عدالت میں حکومتی موقف پیش کریں گے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی تجویز مسترد کر دی ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی تجویز گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے دی تھی کابینہ کی رائے میں نظرثانی دائر کرنے کا مطلب فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا نظرثانی دائر کردی تو یہ فیصلہ 3-4 کا ہونے کے موقف کی نفی ہوگی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی رائے کے مطابق اکثریتی فیصلے میں انتخابات کا حکم ہی نہیں تو نظرثانی کس بات کی؟

    علاوہ اذیں سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ،درخواست میں وفاقی حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر قانون، وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے ، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون غیرآئینی و غیر قانونی ہے درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کوعدالتی فیصلہ تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے قانون پر دستخط سے روکا جائے، قانون کو کالعدم قراردیا جائے ،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ،یہ لوگ زاتی مفادات کے لیئے عدالتوں پر حملہ آور ہیں آج توہین عدالت کی کاروائی شروع نہیں ہوئی تو بہت حیران کن بات ہوگیعمران خان کے خوف سے یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں کل اسمبلی میں غیر آئینی اجلاس ہوا

    واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ آج طلب کر رکھی ہے

  • دوران عدت نکاح،گواہ کے بیان کی درخواست، محفوظ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    دوران عدت نکاح،گواہ کے بیان کی درخواست، محفوظ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دوران عدت نکاح، عمران خان کے خلاف گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست پر آج محفوظ شدہ فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے فیصلہ سنانا تھا تا ہم جج کی رخصت کی وجہ سے فیصلہ نہ سنایا جا سکا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج نصر من اللہ رخصت پر ہیں، عون چودھری کی گواہی کے لئے عدالت میں درخواست دی گئی تھی جس پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جج کی رخصت کے حوالہ سے عدالتی عملہ کا کہنا ہے کہ سول سینئر جج نصر من اللہ بلوچ 2 مئی تک رخصت پر ہیں عون چودھری کو عدالت میں بیان قلمبند کرانے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ 4 مئی کو سنایا جائے گا

    قبل ازیں جب سماعت ہوئی تھی تو وکیل درخواست گزار راجہ رضوان عباسی سول جج کی عدالت میں پیش ہوئے ،درخواست گزارکی جانب سے عون چوہدری کا بیان قلمبند کرانے کی درخواست دائر کی گئی جس پر وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ درخواست گزارمزید گواہان کا عدالت میں بیان قلمبند کرانا چاہتا ہے عون چوہدری عمران خان کے نکاح میں بطورگواہ شامل تھے وہ آئندہ سماعت پرعدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں لہٰذا عدالت عون چوہدری کوبطورگواہ کیس میں بیان قلمبند کرنےکی اجازت دے ،عدالت نے دلائل کے بعد عون چوہدری کو بطور گواہ کیس میں شامل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    عمران خان اور بشریٰ بی کے نکاح خواں مفتی محمد سعید احمد نے اپنا بیان گزشتہ سماعت پر قلمبند کروادیا ،بشریٰ بی بی اور عمران خان کے نکاح میں عون چوہدری بطور گواہ شامل تھے ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت کل مقرر ہے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

  • ترکی،پاکستان آرمی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لئے خصوصی ایوارڈ

    ترکی،پاکستان آرمی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لئے خصوصی ایوارڈ

    پاک فوج کے لئے ایک اور اعزاز،پاک فوج پاکستان اور ترکی کے تاریخی، دینی و برادرانہ تعلقات کی نئی علامت بن گئی

    ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے پاکستان آرمی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لئے خصوصی ایوارڈ دیا گیا،پاک فوج کی ٹیم کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بہترین پیشہ وارانہ خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا .ایوارڈ پاکستان آرمی کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے ٹیم لیڈر نے وصول کیا ،ایوارڈ دینے کی خصوصی تقریب انقرہ میں منعقد ہوئی

    پاک فوج کی 33رکنی ٹیم 7 فروری 2023 کو خصوصی پروازکے ذریعے ترکی روانہ کی گئی تھی ٹیم 22 فروری 2023 تک ترکی کے متاثرہ علاقے میں موجود رہی ،پاک آرمی کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے 91 سائٹس کو سرچ، 8 افراد کوزندہ، 7 افراد کی شناخت جبکہ 138 جاں بحق افراد کو ملبے تلے نکال کر ورثاء کے حوالے کیا تھا .کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو مشن کے بعد پاکستان آرمی کی USAR ٹیم 23/24 فروری کو پاکستان واپس پہنچی وطن واپسی پر بھی پاک آرمی کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا ،امدادی اور ریسکیو کاوشوں کے اعتراف میں استنبول ائرپورٹ پررخصتی کے وقت ترکی کے اعلی فوجی و سول حکام بھی موجود تھے

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

  • پارلیمنٹ بالادست، فیصلوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا،حکومتی اتحادی اجلاس میں فیصلہ

    پارلیمنٹ بالادست، فیصلوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا،حکومتی اتحادی اجلاس میں فیصلہ

    ملک بھر میں ایک روز ہی انتخابات کا معاملہ ،تحریک انصاف سے مذاکرات کیے جائیں گے یا نہیں ؟ وزیر اعظم کی سربراہی میں حکومتی اتحاد کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے

    اجلاس میں مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری، قمر زمان کائرہ، چوہدری سالک، مریم اورنگزیب ،آغا حسن بلوچ، اسحاق ڈار، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی اور اسلم بھوتانی سمیت دیگر شریک ہیں، اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا،،اجلاس میں اہم عدالتی، آئینی اور قانونی امور پر بھی مشاورت کی گئی، الیکشن فنڈز کی فراہمی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم اور تحریک انصاف سے مذاکرات بارے واضح حکمت عملی پر بات کی گئی،

    وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے شرکا کو اہم عدالتی قانونی اور آئینی امور پر بریفنگ دی ،الیکشن فنڈ کی فراہمی سے متعلق اتحادیوں نے پارلیمنٹ کے فیصلے پر کاربند رہنے کا عزم کیا،شرکا نے حالیہ آڈیو لیکس پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہ انصاف کے ترازو کے پلڑے برابر نہیں،ہمارا موقف درست ثابت ہو رہا ہے،پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے، اس کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا، مخلوط حکومت کے سربراہان کو کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں، آج ہم سب پھر مل بیٹھے ہیں، آج بھی یہ مانتے ہیں کہ فیصلہ چار، تین کا ہے،سپریم کورٹ 3 رکنی بنچ کیساتھ معاملات آگے لے کر جانا چاہتی ہے، ابھی بھی صورتحال بڑی چیلنجنگ ہے، پارلیمان کو 3 رکنی بنچ کے اقدامات پر تحفظات ہیں، کل اسی بنچ نے الیکشن فنڈز کے حوالے سے جواب مانگا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پارلیمان نے ڈیل کیا، پارلیمان چاہے گی یہ معاملہ بھی ان کے سامنے لایا جائے، پارلیمان چاہے گی فیصلے کیے ہیں ان کا احترام کیا جائے، پنجایت سپریم کورٹ کا کام نہیں، سپریم کورٹ کا کام قانون اور آئین کے مطابق فیصلے دینا ہے، اتحادی متحد ہیں کہ پارلیمان کی مدت 13 اگست کو ختم ہوتی ہے، پاکستان سے باہر چند ایجنٹس نے وہ کردار ادا کر دیکھایا جو کبھی دشمن بھی نہ کر سکتا،

    شرکاء کو پی ٹی آئی سے مزاکرات کے لئے ابتدائی رابطوں سے بھی آگاہ کیا گیا ،عمران خان سے مذاکرات نہ کرنے سے متعلق مولانا فضل الرحمن نے اپنا موقف دہرا دیا،کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پیش نظر پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا،شرکاء نے رائے دی کہ بامقصد مزاکرات کے لئے سب کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے سابق صدر آصف علی زرادری اجلاس میں شرکت کے بعد واپس روانہ ہوگئے

    اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں عمران خان کے کل کے خطاب کو بچگانہ قرار دے دیا گیا، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ غیر سنجیدہ شخص اور غیر ضروری عنصر ہے ،اجلاس میں شرکاء کا کہنا تھا کہ کبھی کہتا ہے کہ مذاکرات کے لیے اسے نامزد کیا پھر اپنی ہی باتوں سے پھر جاتا ہے،یہ خود مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تو ہم کیوں جھکیں، اب جو بھی بات چیت ہو گی پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے ہو گی، عمران خان کو بھی پارلیمنٹ کے فورم پر آنا ہو گا، اتحادیوں کی اکثریت نے مذاکرات سے متعلق مولانا فضل الرحمن کے موقف سے اتفاق کیا،حکومت نے آئینی اور قانونی محاذ پر بھرپور سیاسی جنگ لڑنے کا عزم کیا،

    الیکشن پر اتفاق رائے کیلئے سپریم کورٹ کی سیاسی جماعتوں کو دی گئی مہلت کا آج آخری دن ،اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ الیکشن ایک ساتھ ہونے ہیں یا علیحدہ علیحدہ فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، سپریم کورٹ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ثالثی کرانا نہیں،

    ،حکومتی اتحاد کی جانب سے عید سے قبل اسد قیصر سے رابطہ کیا گیا تھا، اسد قیصر نے کہا تھا کہ حکومتی اتحاد سے رابطہ ہوا تھا لیکن عدم سنجیدگی کے باعث بات آگے نہ بڑھ سکی،حکومتی اتحاد میں اتفاق رائے پیدا ہو گیا تو پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی بات چیت کو آگے بڑھائے گی

    پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کریں گے ،تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی میں، سینیٹر اعجاز چوہدری، اسد قیصر ، قاسم سوری سمیت دیگر افراد شامل ہیں،مذاکرات میں ملک بھر میں ایک ہی روز الیکشن کرانے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تحریک انصاف پنجاب میں نوے روز کے اندر جب کہ حکومتی اتحاد 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے پر بضد ہے سپریم کورٹ نے عید سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مشاورت کا حکم دیا تھا امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں ،امیر جماعت اسلامی سراج اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان بھی حکومتی اتحاد سے انتخابات کے معاملے پر بات چیت کے حوالے سے عندیہ دے چکے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں اہم عدالتی اور قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،سپریم کورٹ میں زیر سماعت اہم کیس اور نئی آڈیو لیکس پر بھی بات چیت کی گئی،

    واضح رہے کہ براہ راست مذاکرات کے لیے تحریک انصاف نے شرائط رکھ دیں ، تحریک انصاف نے شرط رکھی کہ حکومت اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تحریک انصاف کو دے ہمارے تمام اراکین قومی اسمبلی کے استعفے نامنظور کیے جائیں ۔تحریک انصاف کے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں عمران خان کے خلاف بھی تمام کیسز ختم کیے جائیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    مولانا فضل الرحمان سے رابطہ ہوا، وہ بھی ملک کی بہتری چاہتے ہیں

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • آرمی چیف کا دورہ چین، پی ایل اے ہیڈ کوارٹرز میں پرتپاک استقبال

    آرمی چیف کا دورہ چین، پی ایل اے ہیڈ کوارٹرز میں پرتپاک استقبال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر چین کے دورے پر ہیں

    دورہ چین کے دوران پی ایل اے ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پی ایل اے کے دستے کا معائنہ کیا،آرمی چیف کی کمانڈر پی ایل اے سے تفصیلی ملاقات ہوئی، دوران ملاقات جنرل سید عاصم منیر اور کمانڈر پی ایل اے نے باہمی دلچسپی کے سیکورٹی امور اور عسکری تعاون پر تبادلہ خیال کیا، پاک چین عسکری قیادت نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور عسکری تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے دورہ چین کا پہلا دن ،پی ایل اے ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا، آرمی چیف نے پیپلز لبریشن آرمی کی آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی دیکھا،آرمی چیف نے پی ایل اے کے سپاہیوں کے اعلی تربیتی معیار اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا ،چین میں قیام کے دوران آرمی چیف کی پی ایل اے کی قیادت سے مزید ملاقاتیں ہوں گی،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورے کا مقصد پاکستان اور چین میں فوجی تعلقات کو فروغ دینا ہے

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال کا بینچ اچانک ڈی لسٹ کردیا گیا-

    باغی ٹی وی: رجسٹرار سپریم کورٹ نے مقدمات ڈی لسٹ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق بینچ کے سامنے سماعت کے لئے مقرر تمام مقدمات بھی ڈی لسٹ کر دیے گئے ہیں تاہم نوٹیفکیشن میں بینچ ڈی لسٹ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کے بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی شامل تھے بینچ کے سامنے آج 12 مقدمات سماعت کے لئے مقرر کیے گئے تھے سپریم کورٹ کے بینچ نمبر 2 کے مقدمات کی فہرست بھی منسوخ کردی گئی جبکہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کی کازلسٹ بھی منسوخ کردی گئی۔

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔

    آڈیو لیک کی گفتگو انتہائی سنگین ہے،وزیر قانون

    بینچ نمبر 2 کے تمام مقدمات کی سماعت کے لئے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نئے بینچ نمبر 2 کے مقدمات کی فہرست جاری کردی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال طبیعت ناسازی کے باعث سپریم کورٹ نہیں آ سکے۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • شہبازگل نےنادراسے114 فوجی افسران کاخاندانی ڈیٹاحاصل کرکےجعلی اکاؤنٹس بنائے،جرنلسٹ  اعزازسید کےانکشافات

    شہبازگل نےنادراسے114 فوجی افسران کاخاندانی ڈیٹاحاصل کرکےجعلی اکاؤنٹس بنائے،جرنلسٹ اعزازسید کےانکشافات

    انویسٹیگیٹو جرنلسٹ اعزاز سید نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرنلسٹ اعزاز سید کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ شہباز گل نے نادرا سے 114 فوجی افسران کا خاندانی ڈیٹا لیا اور ان کی فیمیلیز اور ان کے نام کے ٹوئٹر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے گئے تھے اور وہ اکاؤنٹس پی ٹی آئی کے لئے استعمال کئے گئے تھے-

    2023 کا بارشوں کا طاقتورترین سسٹم ملک پراثرانداز ہونے کیلئے تیار


    انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے ناموں پر جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ فوجی افسران کی بیویاں، بیٹے اور بیٹیاں عمر ان خان سےمحبت کرتی ہیں اور غالباً یہ ٹاسک ملا ہوا تھا شہبازگل کو اور اس نے یہ ٹاسک حاصل کرنےکے لئے نادرا سے ڈیٹا حاصل کیا تھا نادرا کے ڈیٹا کی انکوائری کیسے ہوئی ہے کیا اور کون کون ذمہ دار تھا ابھی سامنے یہ بات نہیں آئی لیکن ایسے ہوا ضرور تھا-

    پرویز الہیٰ کے قریبی ساتھی گجرات سے مبینہ طور پر لاپتہ

    جرنلسٹ اعزاز سید نے کہا کہ جب شہباز گل انٹیلی جنس والوں کوسوالوں کے جواب دے رہے تھے تو ن سے یہ باتیں پوچھی گئیں اور شہباز گل نےان کےسامنے مبینہ طور پر یہ باتیں مانیں بھی ہیں انہوں نےیہ تسلیم کیا ہےاس کےعلاوہ ان دنوں جنرل باجوہ کی ملاقات صدر مملکت عارف علوی سے ہوئی تھی اس میں جنرل باجوہ نے مبینہ طور پر یہ بات بتائی کہ انہوں نے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو بتایا کہ آپ کا بندہ(شہباز گل)تو فر فر بول رہا ہےآ پ کے بارے میں-

    سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نےعمران خان کو الزامات پر نوٹس بھجوا دیا

  • افواج پاکستان کو سیاست میں گھسیٹنا ملکی مفاد میں نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

    افواج پاکستان کو سیاست میں گھسیٹنا ملکی مفاد میں نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا کبھی اٹوٹ انگ نہیں رہا، ضرورت پڑی تو جنگ بھارت کے گھر تک لے جائیں گے-

    باغی ٹی وی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین سے تعاون کیا، پریس کانفرنس کا مقصد فوج کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا احاطہ کرنا ہے، پریس کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کےخلاف فوج کے اقدامات کا احاطہ کرنا ہے۔

    ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، …

    پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل احمد شریف نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جو دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں ان میں ملوث دہشت گردوں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کرکے گرفتار کیا گیا 2023 میں دہشت گردی کے واقعات میں 137 افراد شہید اور 117 زخمی ہوئے، دہشت گردی کے خلاف آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے، دہشت گردوں کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں،پُوری قوم اِن بہادر سپوتوں اور اِن کے لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی قیمتی جانیں ملک کی امن و سلامتی پر قربان کر دی۔

    انہوں نے کہا کہ پشاور خودکش حملے میں ملوث دہشتگرد کا تعلق افغانستان کے علاقے قندھار سے تھا ،کچھ علاقوں میں دہشتگردوں کی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں اریاد اللہ کو ٹی ٹی پی سے احکامات موصول ہوئے تھے اراید اللہ نے 30 لاکھ روپے میں گاڑی خریدی جس پر دہشتگرد کے پی او پر حملے کیلئے پہنچے کراچی پولیس پر حملہ کرنے والے تینوں دہشتگرد مارے گئے کراچی پولیس آفس پر حملے میں ملوث ایک دہشتگرد کا تعلق لکی مروت دوسرے کا وزیرستان سے تھا-

    آرمی چیف چار روزہ دورے پر چین میں ہیں. آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے جھوٹے بیانیہ کو علماء میڈیا کی مدد سے روکا گیادہشت گرد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات خراب کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پیاور بلوچستان کی دہشتگرد تنظیموں کا بیرونی تعلق ثابت ہوچکا ہے، افغانستان سے امریکی انخلا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تببدیلیوں کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 98 فیصد مکمل ہوچکا ہے، پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 85 فیصد مکمل ہوچکا ہے، مغربی بارڈر پر 3 ہزار 141 کلو میٹر پر باڑ لگائی جارہی ہے کشمیر بھارت کا کبھی اٹوٹ انگ نہیں رہا، ضرورت پڑی تو جنگ بھارت کے گھر تک لے جائیں گے، 20 سال سے افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فواجِ پاکستان،قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی کارروائیوں، عزم اوردہشتگردی کو ختم کرنے کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے،درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود دہشتگردی کے خلاف افواج پاکستان کی قربانیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اگر پاکستان کا موازنہ دیگر ممالک سے کیا جائے تو جس طرح پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور لڑ رہے ہیں، اُس کو نہ صرف دُنیا نےتسلیم کیا ہے بلکہ اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی دہشتگردی کے خلاف ہماری کامیاب جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔انشااللہ اس وقت بھی ترکیے اور شام کے زلزلہ متاثرین کیلئے امداد جاری ہے-

    عمران خان تیزی سے پاکستان کو انتشار کی طرف دھکیل رہا. بلوم برگ

    میجرجنرل احمد شریف کا مزید کہنا تھا کہ فوج کے سیاسی استعمال سے انتشار پھیلتا ہے، سیاستدان فوج کی غیرسیاسی ہونے کی سوچ کو تقویت دیں، پاکستان کی فوج قومی فوج ہے، تمام سیاست دان اور سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں فوج کسی خاص سوچ، رویے اور نظریے کی طرف راغب نہیں، بھارتی سیاست میں پاکستان کو اہمیت دی جاتی ہے، بھارت مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام لگاتا ہے، فالس فلیگ آپریشن کی باتیں اسی مقاصد کے لئے ہیں، بھارت ہمیشہ الزام تراشیاں کرتا رہے گا۔

    پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کی تاریخی اہمیت ہے، دونوں ملکوں کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات ہیں، آرمی چیف کے دورہ چین میں تمام پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔

    شیخ رشید نےوزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ لینےکیلئےصدر مملکت کو خط لکھ دیا

    میجرجنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا، خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، کے پی پولیس کی استعداد کار میں بہتری لارہے ہیں افواج پاکستان کو سیاست میں گھسیٹنا ملکی مفاد میں نہیں، افواج پاکستان کو سیاست میں گھسیٹنے سے انتشار پھیلے گا، فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائی جاسکیں، سوشل میڈیا پر آئے روز پروپیگینڈا کیا جاتا ہے، الیکشن کے لئے فوج کی فراہمی سے متعلق وزارت دفاع الیکشن کمیشن اور عدالت کو آگاہ کرچکی ہے، جعلی میڈیا اکاؤنٹس پر فضول پروپیگینڈا کیا جاتا ہے، فوج میں انصاف اور احتساب کا مضبوط نظام موجود ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے سابق افسران کے کورٹ مارشل سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ آپ صرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر فوکس کریں، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق سوال وزارت خارجہ سے کیا جائے۔

    آڈیو لیک کی گفتگو انتہائی سنگین ہے،وزیر قانون

    میجرجنرل احمد شریف کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ دہشت گردی کے خلاف 70 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہورہے ہیں، بھارت نے جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی خلاف ورزی کی، بھارت نے رواں سال 56 بار چھوٹی سطح پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کیں، قیاس آرائی پر مبنی 22، فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 3، سیز فائر خلاف ورزی کے 6 چھوٹے اور فضائی حدود کی ٹیکٹیکل خلاف ورزی کے 25 واقعات شامل ہیں ہم بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے نہیں ڈرتے، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کے 6 جاسوسی ڈرون گرائے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا جاری ہے، پاکستان کی جانب سے کئی بار اقوام متحدہ مبصرین کو ایل او سی پر لے جایا گیا، پاکستان او آئی سی کے سکرٹری جنرل کو بھی ایل او سی کا دورہ کرا چکا ہے، دوسری جانب بھارت نے کسی بھی غیر ملکی مبصرین یا میڈیا کو ایل او سی پر جانے کی اجازت نہیں دی۔

    خواتین سے بدسلوکی کے الزامات،سی این این کا اینکر برطرف

    ان کا مزید کہنا تھا کہ معشیت کی بہتری کیلئے فوج کے اخراجات میں کمی لائی جا رہی ہے اس کےلئے فوج نے ہر وسم کے اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے افواج پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے کوئی نوگو ایریا نہیں-

  • ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، مودی پر اٹھے سوال

    ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، مودی پر اٹھے سوال

    ستیہ پال ملک کی طرف سے پلوامہ پر بیان، بھارت میں ہنگامہ خیزی میں اضافہ، مودی پر اٹھے سوال

    لاہور(خالدمحمودخالد)بھارتی مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی گورنر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رکن ستیہ پال ملک کی طرف سے14 فروری 2019 کو ہونے والے پلوامہ حملے میں 40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے وزیراعظم مودی کے خلاف بیان نے بھارت میں ہنگامہ خیزی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ستیہ پال ملک کے انٹرویو کا بھارت کے بڑے میڈیا ہاوس اور ٹی وی چینلز نے بھارتی حکومت کے زبانی احکامات پر بلیک آوٹ تو کردیا لیکن اپوزیشن جماعت کانگریس سے ہمدردی رکھنے والے اہم اور بڑے اینکرز نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر مودی کے خلاف جو پروگرام نشر کئے ہیں ان سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ مودی کے جھوٹ کا بھانڈہ پھوٹنے والا ہے۔ مودی سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ستیہ پال کو بطور گورنر خاموش رہنے کا کیوں کہا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سینٹرل ریزرو فورس کے قافلے کے لئے پانچ ہیلی کاپٹر کیوں نہیں دیئے۔ ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت ہیلی کاپٹر فراہم کر دیئے جاتے تو پلوامہ حملہ روکا جاسکتا تھا۔ ایک سینیئر اینکر رویش کمار کا کہنا ہے کہ ستیہ پال ملک کا انٹرویو مودی کو پسند نہیں آیا ان کی ناراضگی صاف دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے اس حوالے سے بحث بڑے ٹی وی چینلز پر روک دی گئی لیکن مودی اس بحث کو غیرملکی نشریاتی اداروں پر کیسے روک سکیں گے۔ رویش کمار نے انتہائی اہم نکتہ اٹھایا اور کہا کہ پلوامہ حملے کے کئی گھنٹے بعد تک مودی کیا کر رہے تھے اور اس حوالے سے کئی اہم سوالوں کے جواب اب تک کیوں نہیں مل سکے۔ ستیہ پال ملک یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ2700 فوجی جوانوں پر مشتمل 78 فوجی گاڑیوں کا اتنا بڑا قافلہ وزیر داخلہ کی طرف سے ہیلی کاپٹر فراہم نہ کرنے کی وجہ سے بذریعہ سڑک جارہا تھا جب اس پر حملہ کیا گیا جب کہ سڑک کو عام ٹریفک کے لئے بند بھی نہ کیا گیا۔  ستیہ پال ملک نے مزید کہا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ پلوامہ واقعہ کے وقت مودی ریاست اترکھنڈ کے معروف جم کوربیٹ نیشنل پارک میں ڈسکوری چینل کے لئے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کروا رہے تھے۔ ان کو کئی بار فون کیا گیا لیکن ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ ریکارڈنگ سے فارغ ہو کر مودی نے کئی گھنٹے بعد انہیں ایک ڈھابے سےفون کر کے پوچھا کہ اصل واقعہ کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہماری غلطی سےیہ سب کچھ ہوا۔ اگر ہم فوجیوں کو ہیلی کاپٹر دے دیتے تو کچھ نہ ہوتا، اس پر مودی نے کہا کہ تم چپ رہو۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے بھی کہا کہ ملک تم تو میرے کلاس فیلو ہو، سچائی مت سامنے لانا اور خاموش رہنا۔ ستیہ پال نے اعتراف کیا کہ ڈوول نے انہیں کہا کہ ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈالنی ہے اس لئے تم کوئی بات نہ کرنا۔ رویش کمار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ستیہ پال ملک نے کہا کہ مودی نے ڈھابے سے فون کیا لیکن یہ بات ہضم نہیں ہورہی کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی ایٹمی طاقت بھارت کے وزیراعظم جہاں ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کروا رہے تھے وہاں فون نہ ہو۔ بھارت کا کون سا کونا ایسا ہے جہاں فون کی سہولت نہ ہو۔ ایسا ممکن نہیں کہ مودی بغیر فون کے نیشنل پارک چلے گئے اور انہیں جانا بھی نہیں چاہیئے۔ مان لیا کہ پروگرام کی ریکارڈنگ کی وجہ سے مودی کے پاس فون نہیں تھا تو ان کے ساتھ چلنے والے ان کے عملے کے فون کہاں تھے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس بات کی تحقیق کیوں نہیں ہوئی کہ مودی نے پلوامہ حملے کے بعد کتنی دیر کے بعد ستیہ پال ملک کو فون کیا۔ ان کے فون کی کال تفصیل نکال کر سچائی کو سامنے لانا ہوگا۔ اسی دن مودی نے اتراکھنڈ میں ایک انتخابی ریلی سے فون پر خطاب کیا۔ پلوامہ میں حملہ تین بجے کے قریب ہوچکا تھا تو مودی نے پہلے ریلی سے خطاب کیا یا ستیہ پال ملک کو۔ اس کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ کال تفصیل سے یہ بات سامنے آجائے گی کہ پلوامہ حملے کی اطلاع مودی کو کتنے بجے دی گئی اور کس کے فون سے دی گئی۔ ڈسکوری چینل کے اینکر بیئر گرل کا فون اس وقت کہاں تھا، کیا اس کے فون پر سگنل آرہے تھا۔ اس کی تحقیقات کر کے ثبوت مل سکتے ہیں اگر یہ ثبوت مٹا نہ دیئے گئے ہوں تو۔ 14 فروری 2019 کے ٹی وی پروگرامز اور اخبارات کو سامنے رکھیں تو صاف بات سامنے آتی ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک نے وہی باتیں کیں جو وہ آج کررہے ہیں۔ان کی تمام باتوں میں کافی وزن ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ آخر ستیہ پال ملک کو خاموش رہنے پر کیوں مجبور کیا گیا اور پھر تھوڑے عرصے کے بعد ان کا کشمیر سے تبادلہ کر دیا گیا۔ ستیہ پال نے انٹرویوز میں بتایا تھا کہ کشمیر انتظامیہ نے دہشت گردی کے ممکنہ حملے کی پہلے ہی اطلاع کر دی تھی اور کہا تھا کہ 300 کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے کر ایک گاڑی 10 سے 15 دنوں تک ہائی وے پر گھوم رہی ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ممکنہ حملے کی خبر ملتے ہی پولیس میں اعلی سطح کے تبادلے کردیئے گئے۔  ستیہ ملک نے ہر انٹرویو میں کہا کہ 2700 فوجیوں کا 78 گاڑیوں پر مشتمل بڑا قافلہ بذریعہ سڑک نہیں جا سکتا اور اگر مجبوری کی حالت میں ایسا کرنا پڑے تو گاڑیوں کی سپیڈ تیز رکھی جاتی ہے جس سے دھماکہ خیز مواد زیادہ اثر نہیں کرتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قافلے کی سپیڈ جان بوجھ کر آہستہ رکھی گئی تھی۔ رویش کمار کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت کچھ میڈیا نے مودی سے یہ سوال پوچھے لیکن بالا کوٹ پاکستان میں نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی کرتے ہی میڈیا کا رخ بدل گیا۔ پلوامہ حملہ بھول کر ہر جگہ بالا کوٹ کا واویلہ کر رہا تھا۔ کوئی میڈیا یہ نہیں پوچھ رہا تھا اور نہ یہ پوچھنے دیا جارہاتھا کہ پلوامہ حملے کے وقت مودی کئی گھنٹے کے لئے ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کیوں کر رہے تھے جب کہ ان کی حکومت کے 9 سال کے دوران وہ ایک گھنٹہ بھی پریس کانفرنس کے لئے نہیں نکال سکے تھے۔ بالا کوٹ کا واقعہ ہونے کے بعد جیت کا اعلان کر دیا گیا جس سے پلوامہ کی وہ بحث جو مودی کی مقبولیت کو دھڑام سے نیچے گرا چکی تھی پیچھے چلی گئی اور بالا کوٹ کی نام نہاد جیت نے مودی کو دوبارہ مقبول بنا دیا۔ یہ اصل وجہ تھی کہ پلوامہ واقعہ کے بارے میں ستیہ پال ملک کو چپ رہنے کو کہا گیا کیونکہ پلوامہ کو بنیاد بناکر بالا کوٹ کا واقعہ اس پلان کا حصہ تھا جس سے ایک انتہائی غیرمقبول سیاسی لیڈر کو دوبار مقبول بنا گیا۔ 

    راحت اندوری نے کیا خوبصور شعر کہا تھا 

    سرحدوں پر بہت تناو ہےکیا

    کچھ پتا تو کروچناو ہے کیا

        

    2019 کے انتخابات سے قبل بیروزگاری کے سوالوں کو لے کر مودی مکمل طور پر پنس چکے تھے۔ کوئی جواب نہیں تھا تو کہہ دیا پکوڑےتلنا بھی روزگار ہے۔ اس بیان پر بہت ہنگامہ مچا ہوا تھا اسی کے بعد پلوامہ ہوتا ہے جس کے بالاکوٹ کا ڈرامہ۔ جس سے ہر ریاست کے نوجوان سب کچھ بھول کر مودی کے دیوانے ہو گئے تھے۔ انتخابات کا سارا رخ پاکستان کی طرف موڑ کر پاکستان سے بھارتی ہائی کمشمنر کو واپس بلا لیا گیا اس کے ساتھ پاکستان کو دیا گیا فوسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ واپس لے لیا گیا۔26 فروری کو جس دن بالاکوٹ کا ڈرامہ کیا گیا اس واقعہ کی ٹی وی کوریج صرف چند گھنٹے جاری رہی پاکستان کو مبینہ طور پر جواب دے کر مودی میٹرو بس میں سفر کرتے ہوئے پورے دہلی کے سفر پر نکل پڑے اور یوں ان کی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے کامیابی کی طرف چل پڑی اور ٹی وی پر صرف مودی ہی نظر آنے لگے۔ نام نہاد بہادری بھارتی فوج کی لیکن ٹی وی پر فوٹو مودی کی اور ان کے حامی میڈیا نے ماحول بنادیا کہ وزیراعظم ایسا دلیر ہونا چاہیئے۔ پاکستان کو جواب دے کر لیڈر آزادی سے گھومے بھارت کو ایسا حکمران چاہیئے۔ لوگوں تک ان سوالوں کے جواب پہنچنے سے رہ گئے کہ پلوامہ حملے کے وقت وزیراعظم کیا کررہے تھے۔ فوجیوں کی حفاظت میں کمی کیوں رہ گئی۔ ستیہ پال ملک کے بیان کو مودی مودی کے شور میں دبا دیا گیا۔ یوں مودی کی جماعت انتخابات جیت گئی اور مودی دوبارہ وزیراعظم بن گئے۔ ایک سال بعد بی بی سی نے پلوامہ کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں رپورٹر کانام نہیں شائع کیا گیا۔رپورٹ میں مرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ نے کہا کہ انہیں ابھی تک پلوامہ حملے کی اصلیت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہیں معاوضہ تو مل گیا لیکن ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ پلوامہ کا واقعہ کیسے ہوا۔ جو کوئی پلوامہ کی تحقیقات کی بات کرتا اسے بھارت دشمن اور پاکستان کی زبان بولنے والا قرار دیا جاتا۔ ایسا ماحول بنا دیا گیاجس سے ثابت ہوتا تھا کہ مودی پلوامہ حملے کے باعث انتہائی شاک میں ہیں لیکن ڈیلی ٹیلگراف نے مودی کی سات دن کی تصاویر شائع کردیں جس میں وہ قہقہے لگاتے نظر آرہے تھے۔ 

  • آرمی چیف چار روزہ دورے پر چین میں ہیں. آئی ایس پی آر

    آرمی چیف چار روزہ دورے پر چین میں ہیں. آئی ایس پی آر

    آرمی چیف دوطرفہ فوجی تعاون بڑھانے کیلیے 4 روزہ دورے پر چین میں ہیں، آئی ایس پی آر

    آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیرچین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف دو طرفہ فوجی تعلقات کو بڑھانے کے لیے چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔

    اس بارے میں میاں داؤد نے لکھا کہ "جیسے ہی آرمی چیف حافظ عاصم منیر اعلی سطحی وفد کے ہمراہ ملکی سلامتی اور علاقائی امن سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت کیلئے چائنہ پہنچے ہیں، عین اسی وقت PTI رہنمائوں، بہروپیئے صحافیوں نے فوج اور آرمی چیف پر تنقید شروع کردی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمیں یہودی اور قادیانی فنڈڈ جماعت نہ کہو”


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

    تاہم خیال رہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے فلوقت مختصرا صرف دورہ بارے بتایا گیا ہے جبکہ مزید کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئی ہے. جبکہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم اپنے دورے کے دوران چین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، دورے کا مقصد پاکستان اور چین میں فوجی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔