Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی،بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کرنیوالے 12 دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی،بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کرنیوالے 12 دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی پنجاب نے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور سے بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق کے الزام میں 12 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق گرفتار دہشتگردوں سے اسلحہ، بارودی مواد اور ڈیٹونیٹرز برآمد ہوئے، را کے دہشتگردوں سے حساس مقامات اور حساس اداروں کی تصاویر اور ویڈیو بھی برآمد ہوئی ہیں، دہشتگردوں سے ایک مدرسے اور ایک میلے کی تصویریں، ویڈیو اور لوکیشن بھی برآمد ہوئی،لاہور سے دہشتگرد سکھ دیپ سنگھ، عظمت، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز کو گرفتار کیا گیا جبکہ فیصل آباد سے دہشتگرد دانش اور بہاولپور سے گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں میں رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف شامل ہیں،عادل نام کی بھارت سے آپریٹ فیس بک آئی ڈی کی مدد سے دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا، دہشتگرد سکھ دیپ سنگھ پیدائشی کرسچن تھا جس نے کچھ عرصہ قبل اپنا مذہب تبدیل کیا تھا، دہشتگردوں کو بھارتی ایجنسی را سے بھاری فنڈنگ بھی کی جاتی تھی، دہشتگردوں کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • پاک افغان سرحد ،دراندازی ناکام،خیبر پختونخوا،بلوچستان میں کاروائیوں میں متعدد دہشتگردہلاک

    پاک افغان سرحد ،دراندازی ناکام،خیبر پختونخوا،بلوچستان میں کاروائیوں میں متعدد دہشتگردہلاک

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں،دوسری جانب پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے دراندازی کی کوشش ناکام دی گئی.

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں کئی گھنٹے تک جھڑپیں جاری رہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا اور سرچ آپریشن شروع کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مزید نفری کو علاقے میں تعینات کردیا گیا ہے

    پاکستان۔افغانستان سرحد کے قریب چمن میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بھاری سرحدی جھڑپ ہوئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے افغان طالبان کی تین چوکیاں تباہ کر دیں اور کم از کم 23 اہلکار مارے گئے، جسے حکام نے سیزفائر کی بڑی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستانی حکام نے بتایا کہ افغان طالبان اہلکاروں نے رات گئے بغیر اشتعال فائرنگ کی، جس پر پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 45 منٹ جاری رہا، جس کے بعد پاکستان نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق، درست نشانے پر کیے گئے حملوں میں تین پوسٹیں تباہ ہوئیں اور بھاری جانی نقصان ہوا۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں افغان جنگجو شہری آبادی کی طرف منتقل ہوئے اور مبینہ طور پر دوبارہ فائرنگ کی، جس پر پاکستان نے دوبارہ بھاری ہتھیاروں سے جواب دیا، جس میں مسلح ڈرون کے استعمال کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں افغان طالبان اہلکاروں نے سفید جھنڈے بلند کیے اور زیر نگرانی زخمیوں و لاشوں کو منتقل کیا۔

    افغان مہاجرین کی بلوچستان سے واپسی کا سلسلہ جاری ہے، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم ستمبر 2025 سے اب تک 2,61,725 افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں۔کوئٹہ نے سب سے زیادہ واپسی کی رپورٹس دی ہیں، جہاں 99,958 افراد واپس گئے، اس کے بعد چاغی سے 42,577، پشین سے 33,225 اور چمن سے 19,712 افراد نے واپسی کی۔دیگر اضلاع میں بھی نمایاں تعداد رپورٹ ہوئی، جیسے قلعہ سیف اللہ سے 26,528، لورالائی سے 15,714، قلعہ عبداللہ سے 22,955 اور مستونگ سے 1,026 افراد۔حکام کے مطابق، واپس جانے والوں میں سے 199,053 افراد غیر قانونی طور پر مقیم تھے جبکہ 60,094 ایسے افراد تھے جن کے پاس پی او آر کارڈ تھے مگر انہیں منظم واپسی کے عمل میں شامل کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں پہلے تقریباً 9 لاکھ افغان شہری مقیم تھے، جن میں 3.13 لاکھ رجسٹرڈ اور 5 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ تھے۔ واپسی کا عمل حکومتی پالیسی کے مطابق منظم، مانیٹرڈ اور بارڈر کنٹرول کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

    6 دسمبر 2025 کو قلات میں ایک انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس کا ہدف دہشتگرد تھے، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 12 دہشتگرد مارے گئے۔ موقع سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، اور حکام کے مطابق یہ کارروائی انسداد دہشتگردی مہم “عزمِ استحکام” کا حصہ ہے۔ فوج نے کہا کہ عوام کے تحفظ اور بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔

    خاران کے علاقے دشت میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔حکام کے مطابق، کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی تھی جس میں کنو ویلی اور عمر دھور کے درمیان دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کی گئی تھی۔فورسز نے مربوط کمین گاہ قائم کی اور فائرنگ کے تبادلے میں تمام پانچ دہشتگرد مارے گئے۔ ان کی شناخت کی تصدیق جاری ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ متعدد پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔موقع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی بنیاد پر مزید آپریشنز بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔

    خیبر میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب گھسنے کی کوشش کرنے والے دو دہشتگردوں کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔حکام کے مطابق، دہشتگرد باڑ کاٹ کر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ روکنے پر انہوں نے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو مار دیا گیا۔علاقہ کلیئر کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

    خیبر پختونخوا کی صورتحال،اس سال کے دوران پولیس پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق 2025 میں 510 حملے رپورٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 327 تھی۔تاہم انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا، 2,703 کے مقابلے میں 2,791 آپریشنز کیے گئے، جن میں 1,244 گرفتاریاں ہوئیں، جن میں 25 ہائی ویلیو ٹارگٹ شامل ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں میں مجموعی انسدادِ دہشتگردی سرگرمیوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
    دہشتگردی کے مجموعی حملے 147 سے کم ہو کر 137 رہے، بم دھماکے 277 سے کم ہو کر 108 ہوئے، جبکہ بارودی سرنگوں کی برآمدگی 420 سے کم ہو کر 43 رہی۔اس سال دہشتگردی کے مقدمات میں بھی 50 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 1,588 تک پہنچ گئی۔پولیس نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر 158 حملوں کے جواب میں 320 ردعمل آپریشن کیے۔حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں اور عوامی تعاون امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

    بنوں میں احمدزئی پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او کو اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق، دہشتگردوں نے اسنائپر رائفل سے فائرنگ کی جس سے ایڈیشنل ایس ایچ او حسن‌الماّب شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ چند روز قبل اسی پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں دو دہشتگرد مارے گئے اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    شیخ بابا کے علاقے سوران ڈھیرہ میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، چھ دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔اس دوران پاک فوج کا ایک جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن تیز کردیا ہے۔ مزید معلومات صورتحال واضح ہونے پر جاری کی جائیں گی۔

    لکی مروت کے گاؤں علاؤل خیل، شاہباز خیل میں دو معصوم بچے اس وقت زخمی ہوگئے جب دہشتگردوں کی جانب سے نصب کیا گیا پرانا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔دھماکہ پہاڑی علاقے میں اس وقت ہوا جب بچے کھیل رہے تھے۔ زخمی بچوں کو فوری طور پر سٹی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں ایمرجنسی طبی امداد فراہم کی گئی۔پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا دورہ کر کے شواہد جمع کیے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے علاقے میں نگرانی مزید سخت کردی ہے۔

  • واضح ہوتا ہےبھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔پاکستان

    واضح ہوتا ہےبھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔پاکستان

    پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ امور کے اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں، پاکستان کے ادارے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں، مئی 2025 میں پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، جسے کوئی بھی پروپیگنڈا جھٹلا نہیں سکتا،بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ریاستی اداروں اور قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں ایک منظم اور مذموم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں بھارت کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات سے توجہ ہٹانا ہے،بھارت پاکستان میں اپنی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی سے بھی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے اشتعال انگیز بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستان کی مسلح افواج پر بے بنیاد تبصرے کے بجائے فاشسٹ اور انتہاپسندانہ ہندوتوا نظریے کی تحقیقات کرنی چاہئیں، ہندوتوا نظریہ نے بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں قتل، ماورائے عدالت کارروائیوں، عبادت گاہوں واور املاک کی مسماری کو جنم دیا، بھارت اور اس کی قیادت مذہب کے نام پر پروان چڑھنے والی دہشت سے یرغمال بن چکے ہیں، پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، پاکستان قومی مفادات اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے متحد، مضبوط اور پُرعزم ہے۔

  • الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

    ای سی پی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے،بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھا تھا جس پر ای سی پی نے جوابی خط لکھ دیا۔الیکشن کمیشن نے جوابی خط میں بیرسٹر گوہر پر قانونی پوزیشن واضح کردی، کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے، آپ کو اس وقت چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔الیکشن کمیشن نے خط میں مزید کہا کہ آپ کو آزاد سینیٹرز کو پارٹی میں شامل کرانے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

  • پارلیمنٹ اجلاس میں عمران خان کی تصویر لہرانے والے رکن کی رکنیت معطلی کا فیصلہ

    پارلیمنٹ اجلاس میں عمران خان کی تصویر لہرانے والے رکن کی رکنیت معطلی کا فیصلہ

    پارلیمانی محاذ پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مبینہ ’’غیر سیاسی اور جارحانہ‘‘ حکمتِ عملی کا راستہ روکنے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایسے ارکان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کارروائی میں خلل ڈالنے یا ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے مرتکب ہوں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق پارلیمانی قیادت نے طے کیا ہے کہ اگر کوئی رکن ایوان میں ریاستی اداروں کیخلاف تقریر کرے، ڈائس کا گھیراؤ کرے یا بانی پی ٹی آئی کی تصاویر لہرائے تو اس کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد ایوانوں کے تقدس اور پارلیمانی ضابطہ کار کو برقرار رکھنا قرار دیا جا رہا ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے مکمل مربوط حکمتِ عملی پر متفق ہو چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت قائم مقام چیئرمین سینیٹ پیر یا منگل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو باضابطہ خط لکھیں گے۔خط میں سیدال خان کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اپنی جماعت کے ارکان کو رولنگ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا پابند بنائیں، تاکہ ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا ہے کہ یہ رولنگ ’’سیاسی‘‘ نہیں بلکہ آئین اور قانون کا واضح تقاضہ ہے، اور ایوان کی کارروائی کو کسی بھی صورت انتشار یا بے نظمی کا شکار ہونے نہیں دیا جائے گا۔

  • شمالی وزیرستان،دہشتگردوں کا جنازے کے قافلے پر بزدلانہ حملہ، 4 سالہ بچہ شہید

    شمالی وزیرستان،دہشتگردوں کا جنازے کے قافلے پر بزدلانہ حملہ، 4 سالہ بچہ شہید

    شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں نے جنازے کے قافلے کو بھی نہ بخشا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے معصوم انسانی جانوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں ایک 4 سالہ بچہ شہید جبکہ 4 خواتین زخمی ہو گئیں۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب خدی سے تعلق رکھنے والے گورنمنٹ کنٹریکٹر بادشاہ میر خان کا جسدِ خاکی اسلام آباد سے آبائی علاقے منتقل کیا جا رہا تھا۔ مرحوم اسلام آباد میں انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد رشتہ داروں اور مقامی افراد پر مشتمل قافلہ میت لے کر اپنے علاقے کی طرف روانہ ہوا۔قافلہ جب بنوں کے علاقے بکا خیل پہنچا تو گھات لگائے دہشتگردوں نے اچانک ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ قافلے میں شامل کسی شخص کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔

    فائرنگ کے نتیجے میں 4 سالہ بچہ موقع پر شہید،4 خواتین شدید زخمی ہو گئیں،زخمی خواتین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دہشتگردوں نے سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے ایمبولینس کو آگ بھی لگا دی، جس کے باعث گاڑی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی۔

    واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے جنازے کے قافلے پر حملے کو انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم بچے کی شہادت اور خواتین کے زخمی ہونے سے پورا علاقہ غم و غصے میں ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ دہشتگردوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے سخت ترین سزا دی جائے۔

  • خیبر پختونخوا ،سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردجہنم واصل

    خیبر پختونخوا ،سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردجہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں 2 کارروائیاں کرتے ہوئے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع ٹانک میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا اور فتنۃ الخوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، ٹانک میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں7 خوارج مارے گئے، کیورٹی فورسز نے لکی مروت میں بھی خوارج کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا، لکی مروت میں فائرنگ کے تبادلے میں 2خوارج ہلاک ہوئے، مارے گئے بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، مارے گئے خوارج دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، یہ آپریشن ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے تک جاری رہیں گے۔

  • چمن بارڈر  ،افغان طا لبان کی  بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    چمن بارڈر ،افغان طا لبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    افغان طالبان کی جانب سے چمن سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے، جو ایک لاپرواہ اقدام ہے اور سرحدی استحکام اور علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    افغان جانب سے خفیہ سرنگ کھود کر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹنل کا سراغ لگا کر اسے قبضے میں لے لیا، سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کیا گیا، پاکستانی فوج نے افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا ذمہ داری کے ساتھ جواب دیا، اس بات کو تقویت دیتے ہوئے کہ ہماری علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ چمن سیکٹر میں ہونے والا یہ تبادلہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ کابل غیر نظم و ضبط کے شکار سرحدی عناصر کو قابو میں رکھے، جن کے اقدامات خود افغانستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ردِعمل متناسب، سوچا سمجھا اور امن کی بحالی کے لیے تھا جو جارحیت کے باوجود پیشہ ورانہ طرزِعمل کا مظاہرہ ہے۔ سرحدی انتظام کے طریقہ کار موجود ہیں؛ افغان طالبان فورسز کی یکطرفہ خلاف ورزیاں اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور سرحد کے دونوں جانب بسنے والی عام کمیونٹی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    پاکستان پُرامن بقائے باہمی کے لیے پُرعزم ہے، لیکن امن یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کے استعمال کی کوششیں بارہا ناکام ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گی، چمن میں دیا گیا جواب اس پیغام کی واضح توثیق کرتا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس ہیں۔ کسی بھی مزید جارحیت کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ اشتعال انگیزی کی ذمہ داری صرف اُن پر عائد ہوتی ہے جو بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کرتے ہیں۔

  • فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج بڑی دھواں دھار پریس کانفرنس کی ہے،لگتا ہے بڑے غصے میں کی ہے، انکے جذبات امڈ کر آ رہے تھے ،ہونا بھی ایسا ہی چاہئے،کافی لوگ اس پر سوال کر رہے تھے، فوج کا کام امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے اس پریس کانفرنس کو اسی تناظر میں لیا جائے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام رولز،ریگولیشن کو امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے، فوج سیاسی جملے نہیں بول سکتی انکو دوٹوک بات کرنی ہوتی ہے جو بھی انکا مؤقف ہوتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو تین باتیں بڑی واضح بتا دیں، لاقانونیت بالکل نہیں چلے گی، جس نے اس ملک کو مذاق سمجھا ہوا جمہوریت یا صحافت کے نام پر،اسکی وہ کاروائی نہیں چلے گی، تیسرا دہشتگردوں کے لئے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردی صرف بندوق اٹھانا نہیں بلکہ زبان ،قلم،مائیک سے بھی پاکستان، ریاست کو کمزور کرنا یہ بھی دہشتگردی ہے،

    مبشر لقمان کا مزیدکہنا تھا کہ بہت سارے ادارے حکومت کے ماتحت ہیں ان میں سے فوج ایک ہے، فوج سب سے اہم ادارہ ہے اور بھی ادارے ہیں،ایف آئی اے، آئی بی بھی اسٹیبلشمنٹ ہے،کچھ چیزیں جو نظر آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی قلابازیاں چلیں گی،انڈیا کو انٹرویو دینے والے یہ کون لوگ ہیں،ڈکلیئرڈ دشمنوں کا جب بیانیہ مضبوط کرتے ہیں تو آپ ریاست پاکستان کے خلاف جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں،اس پر کوئی معافی نہیں ہوتی، بلکہ معافی کو ریاست کی کمزوری سمجھوں گا، ایسے لوگ جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئے،ہو سکتا ہے کسی نے فارن پاسپورٹ لیا ہو لیکن کافیوں کے پاس نہیں انکا صرف شناختی کارڈ منسوخ کرنا ہے،پھر جو دوسرے ہیں انکے ریڈ وارنٹ نکال سکتے ہیں، جو جرائم کرتے ہیں لوگ انکے لئے وہاں بھی جگہ تنگ ہونا شروع ہوجاتی ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک پاگل شخص جس کو پہلے نیم پاگل کہتے تھے آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے پاگل کہہ دیا میں اتفاق کرتا ہوں،پاگل تو ہے وہ، پاگل اسلئے نہیں کہ ذہنی توازن اسکا خراب ہے،پاگل اسلئے کہ وہ پاکستانی ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایجنڈا چلا رہا ہے، میں آج اپنی ٹیم کو بتا رہا تھا سیاسی جماعت بناتے ہں اور اسرائیل و انڈیا سے فنڈز آنا شروع ہو جائیں تو اس کا کیا مطلب ہے، فنڈ ملے گا تو کچھ واپسی بھی ہو گی، انڈیا و اسرائیل فنڈ دیں گے تو توڑ پھوڑ، ملک کی جڑیں کمزور کرنا ہی انکا ہدف ہونا ہے کیونکہ وہ ڈکلیئرڈ دشمن ہے، اسکو یہ احساس نہیں کہ یہ دشمن ہے،اور یہ خود آج میر جعفر،میر صادق بنا ہوا ہے.اسکی کرپشن کی داستانیں بھی سب کو پتہ ہیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے آج اگر فرض کریں اس آدمی کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ میں نے سمت کو درست کرنا ہے، اپنے سپورٹر،فالورز کے لیے کچھ اچھا کرنا ہے تو اسکے لئے کیا آپشن ہیں، آج بھی اسکے پاس راستے ہیں، وہ تمام جدوجہد کو ملی ٹینسی سے نکال کر سیاسی جدوجہد میں لائے، قومی اسمبلی میں اکثریت تھی، حکومت اڑا دی، اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا پھر کشمیر میں، آپ پھر حکومت میں آتے آئے کیوں ہیں، الیکشن کیوں لڑتے ہیں، اسکا مطلب ہے کہ آپ ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں،آپکا مقصد کچھ اور ہے وہی ڈونر اور فنڈنگ دینے والے جو ..وہی کریں گے،پی ٹی آئی کے پاس دو تین راستے ہیں مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ ملا لیں یا بلاول سے ،اچکزئی وغیرہ پی ٹی آئی کو کچھ نہیں دے سکتے،انکی کوئی ویلیو نہیں،لیکن جے یو آئی، پیپلز پارٹی یہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال سکتے ہیں.

  • خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین  کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا (کے پی) میں غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں غیر دستاویزی افغان باشندوں کی موجودگی اب محض دہشت گردی ہی نہیں بلکہ سنگین معاشی و سماجی چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔

    غیر قانونی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے صوبے کے وسائل پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ان کی مسلسل موجودگی کے پی کے وسائل، سیکیورٹی نظام، معاشرتی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے انفراسٹرکچر کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔بین الاقوامی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 لاکھ غیر دستاویزی اور 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہائش، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی تحقیق کے مطابق افغان مہاجرین کی آمد کے بعد کے پی کی 30 فیصد آبادی نے تعلیمی سہولیات تک رسائی میں کمی کی شکایت کی، جبکہ 58 فیصد نے صحت کی خدمات میں کمی کو نمایاں مسئلہ قرار دیا۔

    ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق اضافی مہاجر بوجھ نے خیبر پختونخوا میں بے روزگاری بڑھا کر صوبائی معیشت کو دباؤ میں دے دیا ہے۔کے پی میں متعدد افغان تاجروں نے ٹیکس ادا کیے بغیر خطیر دولت جمع کی، جس سے پاکستان کو بھاری ریونیو نقصان ہوا۔مجموعی طور پر افغان مہاجرین کی آمد نے پاکستان کی قلیل مدتی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو متاثر کیا۔صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال نے ماحولیات پر سنگین اثرات چھوڑے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے مرحلہ وار منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تحت ملک بھر میں 54 افغان مہاجر کیمپ ختم کر دیے ہیں۔ان میں سے 43 کیمپ خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع تھا۔تاہم، دیگر صوبوں کی نسبت کے پی کی صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔وفاقی حکومت کے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے احکامات کے باوجود کے پی کی صوبائی حکومت اُن پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔کے پی میں ختم کیے گئے 43 افغان کیمپوں میں سے صرف دو کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا ہے۔نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے کیمپ اب بھی بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔اس کے برعکس پنجاب نے میانوالی میں اپنا واحد افغان کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا۔بلوچستان نے اپنے 10 میں سے تمام کیمپوں میں واضح پیش رفت دکھائی اور 88 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کے حوالے سے مؤثر کارروائی کی۔