Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • لگژری گاڑیاں، ہیلی کاپٹر خریدے لیکن شہید کے ورثا کو ادائیگی نہیں کی،عدالت برہم

    لگژری گاڑیاں، ہیلی کاپٹر خریدے لیکن شہید کے ورثا کو ادائیگی نہیں کی،عدالت برہم

    پشاور کے شہید کانسٹیبل کے لواحقین کو تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک شہید قوم کیلئے قربانی دیتا ہے شہید کے ورثا کو انکا حق دینے میں خیبرپختونخوا حکومت نے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا ہے، جن پولیس اہلکاروں نے قربانیاں دی ہیں انکے ورثا کو مقدمات کرنے پڑ رہے ہیں ،صوبائی حکومت لگژری گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر تو خرید رہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت کے پاس شہدا کے ورثا کو ادائیگی کیلئے رقم کیوں نہیں ہے؟حکومت معاوضہ ادا کرے تا کہ ورثا کو عدالتوں میں دھکے نہ کھانے پڑیں،شہدا پیکج 2003 تک لاگو ہوتا ہے ،اہلکار 2001 میں شہید ہوا، 2001 کی گرانٹ میں پوری تنخواہ اور الاونسز شامل نہیں تھے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہید کے بھائی کو اے ایس آئی کی نوکری دی گئی جو ترقی پا کر اب ایس ایچ او بن گیا،شہید کے وارث کو نوکری دے دی گئی ہے ، یہ درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ فیصلہ خلاف ہونے کی صورت میں عدالت آجائیں،ثبوت کے ساتھ امتیازی سلوک کی درخواست اپنے محکمے کو دیں،

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • عدلیہ اورایگزیکٹیو کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،سپریم کورٹ

    عدلیہ اورایگزیکٹیو کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے سائفر کی تحقیقات کیلئے چیمبر اپیل پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی،آرٹیکل 175/3 عدلیہ کو ایگزیکٹیو سے الگ کرتا ہے عدلیہ اور ایگزیکٹیو کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے پاس سائفر کی تحقیقات کرانے کا اختیار تھا سائفر خارجہ امور میں آتا ہے جو وفاقی حکومت کا معاملہ ہے،درخواست گزار سائفر سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو ثابت نہیں کر سکے،رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے تینوں چیمبر اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں،

    اس سے قبل جسٹس سردار طارق مسعود نے سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر اپیلیں سننے سے معذرت کی تھی جس پر سائفر تحقیقات کے لیے دائر اپیلیں واپس چیف جسٹس کو بھجوائی گئی تھیں۔ خیال رہے پچھلے سال مارچ میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں جلسے کے دوران دعوٰی کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ایک ملک کی جانب سے دھمکی آمیز سائفر موصول ہوا ہے۔بعدازاں انہوں نے ایک خطاب کے دوران امریکہ کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت کو سازش کے تحت ختم کرایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    سائفر کا معاملہ عدالت تک بھی پہنچا تھا اور اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور 21 جنوری کو سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔

  • اب تک 81 پی ٹی آئی کارکنان گرفتارجبکہ  کچھ قیدی وین میں بیٹھ کر واپس اتر گئے. وزیر اطلاعات  پنجاب حکومت

    اب تک 81 پی ٹی آئی کارکنان گرفتارجبکہ کچھ قیدی وین میں بیٹھ کر واپس اتر گئے. وزیر اطلاعات پنجاب حکومت

    اب تک 81 پی ٹی آئی کارکنان گرفتارجبکہ کچھ قیدی وین میں بیٹھ کر واپس اتر گئے. وزیر اطلاعات پنجاب حکومت

    پنجاب حکومت کے مطابق پی ٹی آئی کے 81 افراد نے گرفتاری دی جنہیں کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے، گرفتار افراد کی گنتی کرکے رپورٹ حکومت کو بجھوادی ہے۔ ایک بیان میں وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کا کہنا ہے کہ انتظامات کے برعکس پی ٹی آئی کے بہت کم افراد نے گرفتاری دی، 3 ایم پی او کے تحت گرفتار افراد کو 3 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے گرفتاری پیش کرنے والے لیڈران و کارکنان کے نام سامنے آگئے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی، مراد راس، احسان ڈوگر، صدیق خان، اعظم سواتی، اعظم نیازی، عبدالوکیل شادی خان گرفتار ہوچکے جبکہ گلفام ورک، محمد ریحان، حمید اللہ خان، میاں شہزاد، نوران سہیل، رانا منان، چوہدری زاہد، ملک ساجد پرنس بھی گرفتار ہوگئے ہیں۔

    عامر میر نے کہا کہ پی ایس ایل کی وجہ سے دفعہ 144نافذ کی گئی، کچھ لوگ قیدی وین میں بیٹھنے کے بعد اتر گئے، آج پولیس کی کافی گاڑیاں خالی واپس گئی ہیں، اگر مزید لوگ گرفتاریاں دیں گے تو گرفتار کرلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس لاہورکی جیلوں میں جگہ نہیں، جہاں جگہ ملے گی قیدیوں کو پہنچا دیں گے۔

    اس کے علاوہ محمد احمد بھٹی، شہزاد کھوکھر، آزر بھٹی، ولید اقبال، فواد بھولر، واجد شاہ، فیاض مسیح، محمدولفقار، جہانگیر چودھری، افضل خان، لیاقت میر سمیت ظفر اسلم، ثاقب سلیم بٹ، ظہیر اللہ، ملک شکیل، اقبال خان، عبدلرزاق، ناصر محمود، زبیر خان، فاروق نشاط عزیز، محمّد دانش، ملک احمد، محمّد شہباز گرفتار کرلیئے گئے ہیں۔

    جب ان کے ساتھ حاجی اللّه رکھا، ۔عیم خان، رانا عرفان، طاہر محمود ،اعجاز کنیت، میر خالد، امین بٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جبکہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو لیکر پریزن وین کوٹ لکپت جیل کے باہر پہنچ گئی جبکہ پریزن وین پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو لیکر کوٹ لکھپت کے باہر پہنچی تو نعرے بازی شروع کردی گئی۔ تاہم پولیس کی بھاری نفری جیل کوٹ لکھپت جیل کی حدود کے باہر موجود ہے جبکہ انٹی رائٹ فورس کے دستے تعینات ہیں۔

    جب جیل بھرو تحریک کیلئے قیدیوں والی وین کوٹ لکھپت جیل پہنچی تو شاہ محمود قریشی ،اسد عمر،اعظم سواتی،عمر سرفراز چیمہ بھی قیدیوں والی وین میں موجود تھے جبکہ انکے ساتھ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد بھی رضاکارانہ گرفتاری پیش کرنے کے لیے ساتھ شریک ہیں اور پی ٹی آئی کارکنان قیدیوں والی وین کی چھت پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

    حماد اظہر اور دیگر پی ٹی آئی رہنما اپنی اپنی گاڑیوں میں قیدیوں والی وین کے ساتھ کوٹ لکھپت پہنچے ہیں اور کوٹ لکھپت جیل جیل کے مرکزی دروازے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور اینٹی رائٹ فورس کے اہلکاروں نے پوزیشنز سنبھال لی ہے۔ خیال رہے کہ پولیس وین میں موجود لوگوں کے لیے کھانا اور پانی لے جانے کی اجازت دی جانے کا کہا گیا تو پولیس نے پانی اور کھانا ویں میں موجود لوگوں تک پہنچانے سے روک دیا جبکہ پولیس حکام نے کہا کہ اندر سے ہدایات ملیں گی تو اجازت ملے گی۔ اور پھر پولیس حکام نے مذکرات کے بعد قیدی وین کو اندر لے گئے۔ واضح رہے کہ پولیس وین میں رہنما اور درجنوں کارکنان سوار تھے

  • سیاسی انتقام لینا ہوتا تو عمران خان کیخلاف آرٹیکل 6 پر لگنا بنتا ہے. اعظمیٰ بخاری

    سیاسی انتقام لینا ہوتا تو عمران خان کیخلاف آرٹیکل 6 پر لگنا بنتا ہے. اعظمیٰ بخاری

    سیاسی انتقام لینا ہوتا تو عمران خان کیخلاف آرٹیکل 6 پر لگنا بنتا ہے. اعظمیٰ بخاری
    رہنما مسلم لیگ (نواز) اعظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں سیاسی انتقام لینا ہوتا تو صدر مملکت اور اس وقت کے وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 6 پر کیس بنتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ الیکشن کسی کے فرمائشی پروگرام پر نہیں ہوں گے، ایک کارکن نے پولیس کی گاڑی توڑی جس پر اسے گرفتار کیا گیا، لاہور پولیس نے پی ٹی آئی ورکرز کے ساتھ لاڈلوں والا سلوک کیا ہے، البتہ حکومت پاکستان کو ایسے سیاسی اسٹنٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


    لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی، اگر ہم کو سیاسی انتقام لینا ہوتا تو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور اس وقت کے وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 6 پر کیس بنتا، سپریم کورٹ نے بھی کہ دیا ہےکہ عمران خان اور صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خواجہ آصف کی افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی
    ملتان سلطانز کاکراچی کنگزکوجیت کےلیے197رنزکاہدفمحمد رضوان کی ناقابل شکست سنچری
    میری حکومت ضرور آئے گی پھر میں ان کو نہیں چھوڑوں گا:عمران خان
    نائن الیون کےمتاثرین افغان بینک کےفنڈزضبط نہیں کرسکتے:امریکی عدالت کافیصلہ
    آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مزید مشکلات آئیں گی: وزیر اعظم شہباز شریف
    اس موقع پر رہنما تحریک انصاف صداقت عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے گرفتاری کے لیے پیش کیا، عمران خان نے نئی تحریک کا آغاز کردیا، ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ صداقت علی عباسی نے کہا کہ لاہور میں 200 بندوں نے گرفتاری دینی تھی اس لیے زیادہ لوگ نہیں نکلے، کل پشاور میں اور پرسوں پنڈی میں بھی 200 لوگ گرفتاری پیش کریں گے۔

    انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 90 دن میں الیکشن لینا ہمارا حق ہے، الیکشن کمیشن، حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کرائیں۔

  • پنجاب، کے پی انتخابات معاملہ؛ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطابندیال نے ازخود نوٹس لے لیا

    پنجاب، کے پی انتخابات معاملہ؛ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطابندیال نے ازخود نوٹس لے لیا

    پنجاب، کے پی انتخابات معاملہ؛ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطابندیال نے ازخود نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس دو رکنی بینچ کے نوٹ پر لیا۔

    سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس کی سماعت کیلئے9رکنی بینچ تشکیل دیدیا۔ ازخود نوٹس پرسماعت کل دن 2بجے ہوگی۔

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس مظاہرعلی نقوی بینچ میں شامل ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمدعلی مظہر اور جسٹس اطہرمن اللہ بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    سپریم کورٹ ازخود نوٹس پر سماعت میں 3 سوالات کا جائزہ لے گی۔ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار کب اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ وفاق اور صوبوں کی عام انتخابات کے حوالے سے ذمہ داری کیا ہے؟

    یاد رہے کہ 16 فروری کو سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سابق سی سی پی اولاہور غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس کے تحریری فیصلے میں پنجاب میں عام انتخابات کا معاملہ ازخود نوٹس کیلئے چیف جسٹس کو بھجوادیا تھا۔ لکھا کہ انتخابات کا معاملہ براہ راست بینچ کے سامنے نہیں، چیف جسٹس مناسب سمجھیں تو نوٹس لے کر سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیں۔

    تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کا معاملہ سنجیدہ نوعیت اور بنیادی حقوق کے نفاذ کا ہے۔ آئین کا دفاع کرنا عدالت کا قانونی آئینی اور اخلاقی فرض ہے، پنجاب میں عام انتخابات کا معاملہ ازخود نوٹس کیلئے بہترین کیس ہے۔

  • آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مزید مشکلات آئیں گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مزید مشکلات آئیں گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردیں، جلد ہی معاہدہ ہوجائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جلد ہی معاہدہ ہوجائے گا، عالمی مالیاتی ادارے نے غریبوں کیلئے سبسڈی کا کہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدے کے نتیجے میں مزید مہنگائی ہوگی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزراء کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی مالیاتی بجٹ پاس ہوچکا ہے، جس میں تمباکو، لگژری آئٹمز پر ٹیکس لگائے ہیں، زیادہ تر ٹیکس پُرتعیش اشیاء پر لگائے گئے، منی بجٹ میں کوشش کی گئی کہ غریب پر اثر نہ پڑے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات آخری مراحل میں ہیں، امید ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے سے معاملات اگلے چند روز میں طے ہوجائیں گے، اس معاہدے کے نتیجے میں مزید مہنگائی ہوگی، آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ گردشی قرضہ کم کریں، عالمی ادارے نے ہماری بعض سبسڈیز کو کم کروایا ہے، آئی ایم ایف نے غریبوں کیلئے سبسڈی کا کہا ہے۔

    وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کچھ مشکلات آئیں گی، مخلوط حکومت عوام کے تعاون سے ملک کو مشکلات سے نکالے گی، ملک کو آگے بڑھنا ہے ہے تو اجتماعی کاوشیں کرنا ہوں گی۔

    تمام وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیران نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تمام وزراء گیس، بجلی اور ٹیلی فون کے بل اپنی جیب سے ادا کریں گے کابینہ ارکان کے زیر استعمال تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جارہی ہیں، جنہیں نیلام کیا جائے گا۔وزراء کو ضرورت کے تحت سیکیورٹی کی صرف ایک گاڑی دی جائے گی، وزراء اندرون و بیرون ملک اکنامی کلاس میں سفر کریں گے، معاون عملے کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    بیرون ملک دوروں کے دوران کابینہ کے ارکان 5 اسٹار ہوٹلز میں قیام نہیں کریں گے۔تمام وزارتوں، ڈویژن، متعلقہ محکموں اور ذیلی ماتحت دفاتر اور خود مختار اداروں کے جاری اخراجات میں 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی، پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (سیکریٹریز) اپنے بجٹ میں ضروری رد و بدل کریں گے۔

    جون 2024ء تک تمام پرتعیش اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ہر طرح کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔سرکاری افسران کو صرف ناگزیر نوعیت کے بیرون ملک دوروں کی اجازت ہوگی، اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، معاون عملہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    وفاقی حکومت کی وزارتوں اور ڈویژن میں تعینات سینئر افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں گی جو پہلے ہی کار مانیٹائزیشن کی سہولت حاصل کررہے ہیں۔سرکاری افسران کے پاس موجود سیکیورٹی گاڑیاں بھی واپس لی جائیں گی۔وزیر داخلہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کیس کی بنیاد پر سیکیورٹی گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی۔

    کابینہ کا کوئی رکن، عوامی نمائندہ یا سرکاری افسر لگژری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔سفر اور قیام و طعام کے اخراجات میں کمی کیلئے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی حکومت کے اندر کوئی نیا شعبہ نہیں بنایا جائے گا، آئندہ 2 سال تک کوئی نیا یونٹ (ڈویژن، سب ڈویژن ضلع یا تحصیل کی صورت میں) نہیں بنایا جائے گا۔

    سنگل ٹریژری اکاؤنٹ قائم کیا جائے گا، جس پر وفاقی وزارت خزانہ نے کام شروع کردیا، اس پر فوری طور پر عملدرآمد ہوگا۔بجلی اور گیس کی بچت کیلئے گرمیوں میں دفاتر کھولنے کا وقت صبح ساڑھے 7 بجے رکھنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کم توانائی سے چلنے والے برقی آلات کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سرکاری ملازمین اور حکومتی اہلکاروں کو ایک سے زائد پلاٹ الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ ماضی قریب میں دو دو، چار چار پلاٹ دیئے جاتے تھے، اب ایسا نہیں ہوگا۔وفاق اور صوبوں میں انگریز دور کے سرکاری گھروں میں پولیس اور سرکاری افسران، وزراء شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہیں، ایسے گھر کئی ایکڑوں پر مشتمل ہیں، جنہیں بیچ کر قوم کیلئے اربوں کھربوں روپے حاصل کئے جائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہیں کوئی گھر میسر نہیں، دوسری طرف اشرافیہ کئی کئی ایکڑ پر محیط گھروں میں رہتے ہیں۔ایسے گھروں میں رہنے والے سرکاری افسران و اہلکاروں کیلئے بہترین سہولیات سے آراستہ ٹاؤن ہال بنائیں جائیں گے، جس کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی پلان تیار کرے گی۔

    تمام وزارتوں میں حکومتی تقاریب میں آئندہ سنگل ڈش کی پابندی ہوگی، وفاقی کابینہ سمیت دیگر میٹنگز میں صرف چائے اور بسکٹ سے تواضع کی جائے گی، تاہم غیر ملکی مہمانوں کیلئے یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی، وہاں بھی سادگی کو اپنایا جائے گا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس اور تمام ججز، چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور دیگر عدالتوں کے ججز، تمام وزرائے اعلیٰ سے درخواست ہے کہ اپنے اداروں اور حکومت میں اسی نوعیت کے فیصلے بروئے کار لائیں، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اس سے ہونیوالی بچت پاکستان کے غریب عوام کا حق ہے، اس میں جتنی کاوش کی جائے کم ہوگی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے طول و عرض میں اخوت، بھائی چارے اور ایثار کا پیغام جائے گا، اس پر من و عن عمل پیرا ہوگئے تو اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگوں سے بھی کہیں گے کہ اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی بچت کے پروگرام پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوا، وفاق اور صوبوں میں پیغام دیں گے کہ اس پر عملدرآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو رات ساڑھے 8 بجے کے بعد مارکیٹس، شاپنگ مالز کی بجلی کاٹنے کا اقدام کریں گے۔

  • جیل بھرو تحریک، قریشی، اسد عمر و دیگر گرفتار

    جیل بھرو تحریک، قریشی، اسد عمر و دیگر گرفتار

    تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک کا آغاز لاہور سے کر دیاہے

    پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمیہ،زبیر نیازی اور سینیٹر ولید اقبال نے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کر دیا ہے ،پولیس نے شاہ محمود قریشی کو قیدیوں کی وین میں بٹھا لیا ہے، اعظم سواتی اور اسد عمر بھی پولیس وین میں سوار ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک کا آغاز لاہور سے کر دیا ہے ، رہنماﺅں کی قیادت میں لاہور بھر میں ریلیاں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ جیل روڈ سمیت لاہور کی اہم شاہراہیں رش کے باعث بلاک ہو چکی ہیں ۔

    دوسری جانب پولیس کا موقف ہے کہ ہم نے کسی کو گرفتار نہیں کیا رہنما خود گاڑی میں آ کر بیٹھے ہین اور تصویر وائرل کر دی ہمیں کسی کی گرفتاری کے ابھی تک احکامات نہیں ملے

  • سائفرتحقیقات کامطالبہ مسترد:ایگزیکٹوکے          معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سائفرتحقیقات کامطالبہ مسترد:ایگزیکٹوکے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سائفر معاملے کی تحقیقات کے لئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کردیں۔سائفر تحقیقات کے لئے اپیلیں ایڈووکیٹ ذوالفقاربھٹہ، سید طارق بدر اور نعیم الحسن نے دائر کی تھی، رجسٹرار سپریم کورٹ نے اپیلیں اعتراض عائد کرتے ہوئے واپس کر دی تھیں، درخواست گزاروں نے رجسٹرار آفس کے اعترضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواستوں پر عائد اعتراضات کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فارن افیئرز ڈیل کرنا عدالت کا کام ہے ؟ جس وقت ساٸفر سامنے آیا وزیراعظم کون تھا؟ جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، عمران خان نے بطور وزیر اعظم سائفر جلسے میں لہرایا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ بطوروزیراعظم عمران خان کےپاس تحقیقات کروانے کے تمام اختیارات تھے، کیا بطور وزیراعظم عمران خان نے معاملے پر تحقیقات کا کوئی فیصلہ کیا؟ وزیراعظم کے ماتحت تمام اتھارٹیز ہوتی ہیں، اس سائفر کے معاملے میں عدالت کیا کرے؟۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سائفر کی تحقیقات بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سائفر سے آپ کی اور میری زندگیوں پر کیا اثر پڑا ؟ اس کیس میں بنیادی حقوق کا کوئی معاملہ نہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ حکومت اگر چاہے تو دنیا بھر کے ساٸفر پبلک کر سکتی ہے، کوٸی دوسرا ایسا کرے گا تو سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔فاضل جج صاحب نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ایگزیکٹو کے معاملات میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی، جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے۔وکلا کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سائفر معاملے کی تحقیقات کیلئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کردیں۔

  • وزیردفاع خواجہ آصف اورڈی جی آئی ایس آئی اہم دورے پرکابل پہنچ گئے

    وزیردفاع خواجہ آصف اورڈی جی آئی ایس آئی اہم دورے پرکابل پہنچ گئے

    کابل:وزیردفاع خواجہ آصف اورڈی جی آئی ایس آئی اہم دورے پرکابل پہنچ گئے، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس اہم دورے پرڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم بھی ان کے ہمراہ ہیں ، اس کے علاوہ وزارت خارجہ کے کچھ افسران بھی اس دورے پرکابل میں انکے ساتھ ہیں‌

     

    asif nadeem

    کابل پہنچنے پران کا افغان حکومت کے اعلیٰ حکام نے استقبال کیا ہے

    پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس وقت وزیر دفاع خواجہ آصف افغانستان کے سرکاری دورے پر ہیں، وزیر دفاع کی کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتیں ہوئی جس میں دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بھی ہمراہ ان کے ہمراہ ہیں

    ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کی اینٹی پاکستان سرگرمیوں پر بھی بات چیت ہوگی ، اطلاعات کے مطابق افغانستان کی سرحد کی طرف سے پاکستان کے سکیورٹی دستوں ، چیک پوسٹوں اوردیگراہم تنصیبات پردہشت گردوں کے حملوں پرپاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا

    کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ وفد اس وقت افغان طالبان سے باہمی معاملات کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کو بھی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا

  • عمران خان کی گرفتاری ہوئی تو سندھ کی جیل میں رکھا جائے گا،قادر پٹیل

    عمران خان کی گرفتاری ہوئی تو سندھ کی جیل میں رکھا جائے گا،قادر پٹیل

    عمران خان نے گرفتاری دی تو سندھ کی جیل میں رکھا جائے گا: قادر پٹیل

    اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت اور پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے کہا ہے کہ عمران خان خود تو ضمانتیں لیتا پھرتا ہے اور جیل بھرو تحریک کا اعلان بھی کرتا ہے۔اپنے بیان میں قادر پٹیل نے کہا کہ پی ٹی آئی والے بھی سیانے ہو چکے ہیں، شیخ رشید کرائے کے سیاستدان ہیں، عمران خان سے پیشگی معاوضہ لیکر گرفتاری دیں گے، پی ٹی آئی کے کچھ لیڈر ہسپتال میں داخل کرانے کی درخواست کر رہے ہیں،

    قادر پٹیل کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے گرفتاری دینے کے خوف سے ہسپتال آئے تو ضرور داخل ہوں گے، جو پہلے دو دنوں کیلئے جیل گئے تھے ابھی تک رو رہے ہیں۔وفاقی وزیر قادر پٹیل نے مزید کہا کہ میڈیا پر شکلیں دکھانے والوں نے ابھی گرفتاری دینے کا اعلان نہیں کیا، عمران خان نے گرفتاری دی تو سندھ کے جیل میں بھرپور خیال رکھا جائے گا، عمران خان گرفتاری دیں اور وعدہ کریں کہ ایک سال ضمانت کی درخواست نہیں دیں گے، بہترین سرکاری ڈاکٹر عمران خان کی ٹانگ کا بہترین علاج کریں گے۔