Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • گزشتہ حکومت میں آئین و قانون کی خلاف ورزیاں عروج پر پہنچیں. وزیرِ اعظم

    گزشتہ حکومت میں آئین و قانون کی خلاف ورزیاں عروج پر پہنچیں. وزیرِ اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وکلاء نے ملک میں قانون کی بالادستی کیلئے طویل جدوجہد کی. آئین و قانون کی بالادستی کیلئے وکلاء برادری کی بے شمار قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. حکومت بار کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے. گزشتہ حکومت نے ملک کے ہر شعبے کو اپنی نا اہلی سے نقصان پہنچایا. گزشتہ حکومت میں آئین و قانون کی خلاف ورزیاں عروج پر پہنچیں.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ملک بھر کی بار کونسلز کے نومنتخب اعلی عہدیداران کے وفد کی ملاقات آج وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوئی. اجلاس میں وزیرِ اعظم نے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی. وزیرِ اعظم نے وکلاء برادری کی جدوجہد کو ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے کلیدی قرار دیتے ہوئے انکی قربانیوں کی تعریف کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ وکلاء برادری نے ملک میں آئین کے تحفظ اور قانون کی بالا دستی کیلئے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے. وزیرِ اعظم نے کہا کہ وکلاء نے گزشتہ حکومت کے ہر غیر آئینی اقدام کے خلاف مؤثر طریقے سے آواز بلند کی جس پر وہ داد کے مستحق ہیں.

    وفد نے وزیرِ اعظم کو پاکستان بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کونسل اور صوبوں کے بار کونسلز کے مسائل سے آگاہ کیا. وزیرِ اعظم نے وفد کو ان کے تمام جائز مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی. اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر حسین اور معاونینِ خصوصی ملک احمد خان اور عطااللہ تارڑ بھی شریک ہوئے.

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان کو نیب نے طلب کر لیا

    توشہ خانہ کیس، عمران خان کو نیب نے طلب کر لیا

    توشہ خانہ کیس، سابق وزیر اعظم عمران خان کو نیب نے طلب کر لیا

    راولپنڈی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نیب نے طلب کر لیا۔نیب راولپنڈی نے سابق وزیراعظم عمران خان کو 9 مارچ کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا، قومی احتساب بیورو نے 8 نومبر 2022 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں جس کے بعد کابینہ ڈویژن اور سرکاری توشہ خان سے عمران خان کے تحائف کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن، سرکاری توشہ خانہ کے افسران کا ابتدائی بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، ڈی جی نیب راولپنڈی توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان پر توشہ خانہ کے تحائف لیتے ہوئے اشیاء کے کم ریٹ لگانے کا الزام ہے۔

  • پرویز الہیٰ کا ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان:پارٹی کا صدربنانےکااعلان

    پرویز الہیٰ کا ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان:پارٹی کا صدربنانےکااعلان

    لاہور: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے اپنے ساتھیوں اور اراکین اسمبلی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے، عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں موقع بھی فراہم کیا۔

    پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمارا اور ساتھیوں کا عمران خان کے ساتھ ہمیشہ رہے گا، ہم ہر وہ کام کریں گے جس سے ملک اور پنجاب کا فائدہ ہوگا، کبھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ہماری پارٹی پی ٹی آئی کو نقصان پہنچے۔

    اس سے پہلےسابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ق لیگ سے نکال دیا گیا۔مسلم لیگ ق نے چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برخاست کردیا۔ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے 16 جنوری کو چوہدری پرویز الٰہی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جبکہ انہیں 26 جنوری کو لاہور میں غیرآئینی اجلاس بلانے پر بھی نوٹس دیا گیا تھا۔

    چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے نوٹسز کا جواب نہ دینے پر ان کی پارٹی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں تمام عہدوں سے برخاست کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے مقرر کردہ تمام پارٹی عہدے بھی واپس لے گئے ہیں۔

    چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی آئندہ مسلم لیگ ق کا نام استعمال نہیں کرسکیں گے۔پارٹی ترجمان مصطفیٰ ملک نے چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کی تصدیق کردی۔

  • شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کو آج طلب کیا تھا لیکن ان کی جانب سے ان کے وکیل بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے احتساب عدالت کے جج نے ناصر جاوید نے کیس میں عدم حاضری اور استثنیٰ کی درخواست دائر نہ کرنے پر وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    عدالت نے شریک ملزمہ عظمیٰ عادل کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

  • چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے استعفیٰ دے دیا

    چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے استعفیٰ دے دیا

    چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے استعفی دے دیا

    چیئرمین نیب نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور اپنا استعفی پیش کیا ۔وزیراعظم نے چیئرمین نیب کا استعفی منظور کر لیا

    اتحادی حکومت بننے کے بعد سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد آفتاب سلطان کو چییرمین نیب لگایا گیا تھا

    آفتاب سلطان کے استعفے کی افواہین گزستہ دو روز سے گردش کر رہی تھی۔ دو روز قبل نیب ترجمان نے افواہوں کی تردید کی تھی تا ہم آج چیئرمین نیب کے استعفی کی تصدیق ہو گئی ہے

  • امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائراپیلیں سماعت کیلئے مقررکر دیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ22فروری کو اپیل پر ان چیمبر سماعت کریں گے۔ سائفرکی تحقیقات کیلئے اپیلز ایڈووکیٹ ذوالفقاربھٹہ، طارق بدر اور نعیم الحسن نے دائر کی تھی۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواستیں اعتراض عائد کرتے ہوئے واپس کردی تھیں تاہم درخواست گزاروں نے رجسٹرار آفس کے اعترضات کیخلاف چیمبر اپیلز دائر کر رکھی ہیں۔

    اس سے قبل جسٹس سردار طارق مسعود نے سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر اپیلیں سننے سے معذرت کی تھی جس پر سائفر تحقیقات کے لیے دائر اپیلیں واپس چیف جسٹس کو بھجوائی گئی تھیں۔ خیال رہے پچھلے سال مارچ میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں جلسے کے دوران دعوٰی کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ایک ملک کی جانب سے دھمکی آمیز سائفر موصول ہوا ہے۔بعدازاں انہوں نے ایک خطاب کے دوران امریکہ کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت کو سازش کے تحت ختم کرایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    سائفر کا معاملہ عدالت تک بھی پہنچا تھا اور اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور 21 جنوری کو سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔

  • عدالت نے عمران خان کی دوسری درخواست نمٹا دی

    عدالت نے عمران خان کی دوسری درخواست نمٹا دی

    عمران خان کی لاہور ہائیکورٹ میں تھانہ سنگجانی کیس میں ان کی 3 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی گئی ہے جبکہ عمران خان نے دوسری درخواست ضمانت پر عدالت سے معذرت کرلی جسکے بعد لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ نمٹادیا۔
    لاہور ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت پر دستخط کی تصدیق کے متعلق معاملے میں تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان کو 5 بجے تک پیش ہونے کا آخری موقع دیا تھا دیا۔ جبکہ عدالت عالیہ کے حکم پر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قافلے کی صورت میں لاہور ہائیکورٹ پہنچے، ان کے ہمراہ کارکنوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

    جب عدالت میں عمران خان کی ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے پوچھا کہ عمران خان اس وقت کہا ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار احاطہ عدالت میں موجود ہے جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ انہیں عدالت کے اندر پیش ہونا ہوگا۔
    وکلاء نے دلائل دینا شروع کردیئے اور عدالت نے پوچھا کہ عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے سے کس نے روکا؟ جس پر ان کے وکیل نے کہا کسی نے نہیں روکا تاہم سیکیورٹی اہلکار تعاون نہیں کررہے تاہم لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایس پی سیکیورٹی کو فوری طور پر عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
    جس کے بعد جسٹس علی باقر نجفی نے پوچھا کہ آپ نے پرسوں درخواست گزار کو پیش کیوں نہیں کیا جبکہ مسٹر اظہر آپ خود بھی عدالت نہیں آئے۔ جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ افسوس سے کہتا ہوں آپ کے حکم پر عمل نہیں ہوا۔
    عدالتی حکم پر عمران خان اپنی گاڑی سے اتر کر لنگڑاتے ہوئے کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے جبکہ عدالت نے انہیں روسٹرم پر بلایا جہاں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ابھی مجھے چلنے کی اجازت نہیں دے رہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر جھٹکا لگا تو پاؤں کو نقصان ہوسکتا ہے۔ اس پر جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ عام طور پر 10 دن کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم عمران خان نے مزید کہا کہ میری پارٹی کا نام ہی انصاف ہے اور مجھے عدالت سے یہی امید ہے جبکہ میں عدالتوں کا احترام کرتا ہوں۔
    لاہور ہائیکورٹ نے تھانہ سنگجانی کیس میں عمران خان کے عدالت میں پیش ہونے پر ان کی 3 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔
    علاوہ ازیں اس ایک کیس میں ضمانت ملنے پر عدالت کے باہر جمع پی ٹی آئی کارکنوں نے جشن منانا شروع کردیا۔

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت عدالت نے منظور کر لی

    عمران خان عدالت مین پیش ہوئے۔ روسٹرم پر آ کر عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا عدالتون پر اعتماد ہے۔ عدالت تین مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کرے۔ ڈاکٹرز نے مجھے چلنے کی اجازت نہین دی

    عمران خان دس منٹ عدالت میں رہے جبکہ پانچ منٹ کی سماعت ہوئی۔ پیشی سے قبل دو گھنٹے عمران خان گاڑی میں بیٹھے رہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عام طور پر دس روز کی اجازت دیتے ہین ۔ عدالت نے عمران خان کی 3 مارچ تک ضمانت منظور کر لی

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے جبکہ ان کے ہمراہ کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی اور کچھ کارکنوں نے عدالت عالیہ کے گیٹ پر چڑھنے کی بھی کوشش کی. خیال رہےلاہور ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت پر دستخط کی تصدیق کے متعلق معاملے میں تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان کو 5 بجے تک پیش ہونے کا آخری موقع دیا تھا دیا۔

    عدالت عالیہ کے حکم پر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قافلے کی صورت میں لاہور ہائیکورٹ پہنچے، ان کے ہمراہ کارکنوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

    پی ٹی آئی کارکنوں نے عدالت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ ایک کارکن نے دروازے پر ڈنڈے بھی برسادیئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گاڑی لاہور ہائیکورٹ کے گیٹ کے اندر چلی گئی، جس کے بعد کارکنان پیچھے رہ گئے، اس موقع پر انتظامیہ اور کارکنان میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے حفاظتی ضمانت کی درخواست اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کی وضاحت کیلئے عمران خان کی پیشی کیلئے سماعت ہوئی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ عمران خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ہائی کورٹ سب کے لیے معزز اور قابل عزت ہے، عدالت ہمیں موقع فراہم کرے ہم عمران خان کو پیش کردیں گے۔

    خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ عدالت نے درخواست اوربیان حلف پردستخط کےفرق کی نشاندہی کی،عمران خان نے یہ حفاظتی ضمانت دائر نہیں کی۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ پھر یہ درخواست کس نے فائل کی۔ جواب میں خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ یہ بات تو اظہرصدیق آکر بہتر بتائیں گے۔

    جسٹس طارق شیخ ںے ریمارکس دیئے کہ ہم عمران خان کوشوکازنوٹس جاری کرتے ہیں، آپ شوکاز کا جواب دیں اگرعدالت مطمئن ہوئی تو پھر ہم نمٹادیں گے۔ جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عدالت ایسا نہ کرے ہم عمران خان کو پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عدالت ہمیں مہلت فراہم کرے، ہم 5 بجے تک عمران خان کوپیش کردیتے ہیں، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کیلئے عمران خان ایلیٹ فورس کی جیمر کی گاڑی میں پہنچیں گے۔ پیر کی صبح تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے سلسلے میں عمران خان کے وکلاء نے گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانے کے لیے انتظامی سطح پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔جبکہ جسٹس عابد عزیز شیخ نے بطور انتظامی جج عمران خان کی گاڑی کوہائیکورٹ کےاحاطےمیں داخلے کی اجازت مسترد کر دی۔ اور ہائی کورٹ میں پیشی کے حوالے سے عمران خان سے ان کی قانونی ٹیم دوبارہ مشاورت کرے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    یاد رہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرنے اور رکن قومی اسمبلی پر حملےکےکیس عمران خان کی درخواست مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد عمران خان نے حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کے مختلف دستخط کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں آج (پیر20 فروری ) طلب کیا تھا۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بتایا تھا کہ عمران خان آج عدالت ضرور پیش ہوں گے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرنے اور رکن قومی اسمبلی پر حملے کے کیس میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • عمران خان پانچ بجے پیش ہوں، عدالت نے دیا آخری موقع

    عمران خان پانچ بجے پیش ہوں، عدالت نے دیا آخری موقع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے وکیل استفسارکیا کہ عمران خان کہاں ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کچھ دیر تک لاہور ہائیکورٹ میں پہنچ جائینگے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ہم نے 2 بجے طلب کیا تھا،عمران خان اب تک پیش کیوں نہیں ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ سیکیورٹی اور ٹریفک مشکلات کے باعث عمران خان پیش نہیں ہوسکے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کے انتظامات میں نے تو نہیں کرنے، عمران خان کتنی دیر تک پیش ہوجائینگے؟ عمران خان کی حفاظتی ضمانت کیس کی سماعت 15منٹ تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ جتنی نشستیں ہیں اتنی ہی وکلاء کمرا عدالت میں بیٹھیں،وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مال روڈ پر ٹریفک بہت زیادہ جام ہے،آئی جی پنجاب ایک گھنٹہ دے دیں ہم مال روڈ کلیئر کر دیں گے، عمران خان اپنی حفاظتی ضمانت کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی درخواست کس نے کس کے کہنے ہر فائل کی؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کے دستخطوں سے یہ درخواست فائل نہیں ہوئی،ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے کہاکہ میں نے کوئی درخواست فائل نہیں کی، وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ میں عدالت سے حفاظتی ضمانت مانگ ہی نہیں رہا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو چاہیے تھا معافی مانگتے، اب میں شوکاز نوٹس جاری کروں گا، آپ تسلی سے جواب تیار کیجیے گا،

    لاہور ہائیکورٹ نے وکلاء کو سیکشن 476 پڑھنے کی ہدایت کی،وکیل نے کہا کہ عدالت اگر کل تک کا وقت دے تو عمران خان پیش ہوجائیں گے، رجسٹرار نے گاڑی مسجد گیٹ سے داخل ہونے کی درخواست بھی مسترد کی، ہمیں کہا گیا تھا کہ مال روڈ ٹریفک کے لیے فری ہوگا ہم نے سیکیورٹی کے معاملے پر پولیس حکام سے ملاقاتیں بھی کیں، عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کی پیشی پر سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں شوکاز نوٹس اور توہین عدالت کا نوٹس دیتا ہوں،آپ تین ہفتے لے لیں، سکون سے جواب تیار کرلیجیے گا، وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ میں عمران خان کو کل ہی پیش کر دوں گا،عدالت نے کہا کہ عمران خان لیڈر اور رول ماڈل ہیں ، وکیل نے کہا کہ ہم آنا چاہتے ہیں لیکن آنے نہیں دیا جا رہا،آپ کسی کو بھی ساتھ بھیج دیں بیشک چیک کرلیں،آپ 4یا5 بجے کےلیے رکھ دیں ہم ابھی پیش کر دیتے ہیں،جسٹس طارق سلیم شیخ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپکو بار بار موقع دیا، جس طرح آپکو سہولت دی ایسی کسی نے نہیں دی ہوگی،

    لاہو رہائیکورٹ نے عمران خان کو 5بجے تک پیش کرنے کا حکم دے دیا وکیل نے عدالت کو عمران خان کو 5 بجے تک پیش کرنے کی یقین دہانی کروا دی،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو پیش کرنے کا آخری موقع دے دیا

    عدالت کے باہر پی ٹی آئی کارکنان نعرے بازی کر رہے ہیں تو وہیں زمان پارک میں بھی پی ٹی آئی کارکنان موجود ہیں، عمران خان کی پیشی کے لئے سیکورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے ہیں،عمران خان کو ہائیکورٹ کے گیٹ سے جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت تک جانا پڑے گا،ہائیکورٹ کے گیٹ سے کمرہ عدالت تک کا فاصلہ 300 میٹر سے 400 میٹر تک کا ہے

  • اس سے بڑا ڈیزاسٹر کیا ہو گا کہ انتخابات نہیں ہو رہے، عدالت

    اس سے بڑا ڈیزاسٹر کیا ہو گا کہ انتخابات نہیں ہو رہے، عدالت

    اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنگل بنچ فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلو ں پر سماعت ہوئی،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اورکہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے یوسیز میں اضافے کا بل منظور کیا جا چکا ہے صدراب دستخط نہ بھی کریں تو 25 فروری تک بل قانون بن جائے گا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئی ترمیم کے مطابق بھی یونین کونسلز میں اضافے کا اختیار وفاق کا ہے ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے وفاقی حکومت پھر یوسیز کی تعداد نہیں بڑھائے گی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو کمٹمنٹ اس لئے نہیں دے رہے کہ خدانخواستہ کوئی ڈیزاسٹر آجاتا ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑا ڈیزاسٹر کیا ہو گا کہ انتخابات نہیں ہو رہے اب آپ 125 یونین کونسلز پر الیکشن کرا دیں، کیا مسئلہ ہے؟عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا اب آپ اپنی اپیل واپس لے رہے ہیں؟ اب پرانا شیڈول تو رہا نہیں ، ہمیں کہیں تولکیر کھینچنا ہو گی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس یونین کونسلز میں اضافے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کرانے ہیں، نئی حلقہ بندیاں بھی ہونی ہیں ،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 60 دن میں ہم نے حلقہ بندیاں کرنی ہوتی ہیں،اگلی تاریخ پر عدالت کو آگاہ کردیں گے کہ کب تک انتخابات ہو سکتے ہیں ،عدالت نے کہاکہ وزارت داخلہ کی طرف سے ذمہ دار افسر آئندہ سماعت پر جواب جمع کرائے کیس کی سماعت2 مارچ تک ملتوی کردی گئی