Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 5منزلہ عمارت کے 3فلور دہشت گردوں سے کلیئر کرالئے،وزیراعلیٰ

    5منزلہ عمارت کے 3فلور دہشت گردوں سے کلیئر کرالئے،وزیراعلیٰ

    کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں پولیس چیف آفس میں دہشت گردوں کے حملے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ پولیس چیف آفس کی 5منزلہ عمارت کے 3فلورز کو پولیس اوررینجرز نےکلیئر کرالیا ہے
    نجی ٹی وی سے گفتگو میں وزیراعلیٰ نےکہا کہ دہشت گردوں نے 7 بج کر 10 منٹ پر حملہ کیا عمارت کی چھت پر بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔انہوں نےکہا کہ وہ اس وقت سینٹرل پولیس آفس میں ہیں اور صورت حال کو خود مانیٹر کررہے ہیں، کوشش ہے کم سے کم نقصان ہو
    شارع فیصل پر کراچی پولیس کے ہیڈ آفس پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے مطابق جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد مارے گئے۔
    حملے میں پولیس اہلکار سمیت 2افراد جاں بحق اور چار زخمی بھی ہوئے ،جاں بحق ہونے والوں میں 50 سالہ پولیس کانسٹیبل غلام عباس اور 35 سالہ اجمل مسیح شامل ہیں ۔ جبکہ زخمیوں کی میں 50 سالہ پولیس کانسٹیبل عبداللطیف ،35 سالہ رینجرز انسپکٹر عبدالرحیم،35 سالہ رینجرز اہلکار عمران اور 22 سالہ ایدھی رضاکار ساجد شامل ہیں
    شام 7 بج کر 10 منٹ پر دہشت گردوں نے پولیس چیف آفس پر اچانک حملہ کردیا جس پر پولیس کمانڈوز، رینجز اور پاک فوج کے دستے بھی کلیئرنس آپریشن کیلیے پہنچے۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور پولیس وردی میں ملبوس 8 دہشت گرد کے پی آفس میں داخل ہوئے، جن میں سے کچھ عقبی دروازے جبکہ کچھ مرکزی دروازے سے داخل ہوئے۔ مرکزی دروازے پر دہشت گردوں نے تعینات اہلکاروں پر شدید فائرنگ بھی کی۔
    پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکےبھی سنےگئے ہیں ۔ہیڈکوارٹرز کی لائٹس بندکردی گئی ہیں۔
    رینجرز اور پولیس نے پولیس آفس کو چاروں طرف سےگھیرے میں لے لیا ہے۔
    5 منزلہ عمارت کے 4 فلور دہشت گردوں سے خالی کرالئے گئے، دہش گرد چھت پر ہیں ،ایس ایس یو کے اسنائپرز اطراف میں تعینات کردیئے گئے ہیں، زخمیوں کو عمارت سے نکالا جارہا ہے
    ڈی آئی جی نے بتایا کہ دہشت گرد عمارت کی پہلی اور دوسری منزل پر موجود ہیں، پولیس کی مزید نفری کو طلب کیا گیا ہے، کے پی او میں اعلی افسران بھی موجود ہیں۔
    ترجمان رینجرزکے مطابق کراچی پولیس چیف آفس پر حملے کی اطلاع پر رینجرز کیو آر ایف نے جائے وقوعہ پہ پہنچ کر ایریا کا گھیراؤ کرلیا۔رینجرز نے پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔ابتدائی طور پر 8 سے 10 مسلح دہشت گردوں کی جانب سے کارروائی اور موجود گی کی اطلاع پر کاروائی عمل میں لائی گئی
    کے پی او میں پولیس اہلکار آفس کی چھت پرموجود ہیں اوردہشت گردوں کا مقابلہ کررہےہیں

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی میں شارع فیصل پر واقع پر کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس میں 8 سے 10 حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکے بھی سنے گئے ہیں اور ہیڈکوارٹرز کی لائٹس بندکردی گئیں ہیں۔ جبکہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس کے باعث شیشے ٹوٹ گئے. جبکہ اس تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جسکی نسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    کراچی پولیس آفس کے باہر فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور پولیس لائنز سے داخل ہوئے اور دہشت گرد کے پی او کے پارکنگ ایریا میں بھی موجود ہیں۔حکام نے بتایا کہ رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور پولیس نفری نے پولیس آفس کو چاروں طرف سےگھیرے میں لے لیا ہے اور شارع فیصل ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔
    https://twitter.com/YA_963/status/1626628831334305793
    کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی تصدیق کردی ہے اور کہا کہ میرے آفس پر حملہ ہوا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور پاک فوج کے کمانڈوز کراچی پولیس آفس میں داخل ہوگئے ہیں اور دفتر کے اندر موجود ہر طرح کے پولیس اہلکار اسلحہ لے کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    اُدھر آئی جی سندھ نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور مزید دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق پولیس آفس حملے کے مقام سے 3 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں ایک رینجرز، ایک پولیس اور ایک ریسکیو اہلکار شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ریسکیو اہلکار کو 2 گولیاں لگی ہیں، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ زخمیوں کی تعداد چار ہو گئی اور زخمیوں میں دو رینجرز ایک ایدھی رضاکار ایک پولیس اہلکار شامل ہیں.

    وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں پولیس آفس حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے۔ ان واقعات میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کی تعداد6 سے 7 ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس چیف وہاں موجود نہیں ہیں۔

    راناثناء اللہ نے کہا کہ عمارت میں پولیس ملازمین بھی مسلح ہیں،مزاحمت ہورہی ہے، ہوسکتا ہے دہشت گردوں میں سے کسی نے جیکٹ بھی پہنی ہو۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ میں خود صورتحال کو مانیٹر کررہا ہوں ، حملے کے ملزمان کو فوری گرفتارکیا جائے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے دفتر پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں، مجھے تھوڑی دیر کے بعد متعلقہ افسر سے واقعے کی رپورٹ چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف ڈی آئی جیز کو پولیس فورس کراچی پولیس آفس بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی کے دفتر پر حملے کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، میں خود صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہوں۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی کراچی پولیس چیف کے دفترپر دہشت گرد حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم عمارت پر حملہ باعث تشویش ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    گورنر سندھ نے آئی جی پولیس سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن لینےکی ہدایت کہ اور کہا کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ یاد رہے کہ کراچی میں شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس کے دفتر پر 10 کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کا حملہ بارے آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری کردئیے۔ اور تمام افسران کو خود اپنے علاقے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ترجمان کے مطابق داخلی و خارجی راستوں اور اندرون شہر چیکنگ کو بڑھا دیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ تمام اہم پولیس و دیگر عمارات اور ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی اور ڈیوٹی پر تعینات تمام اہلکار مکمل حفاظتی یونیفارم کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود ہوں۔ جبکہ تمام ایمبولینسز، پولیس و دیگر وردی میں ملبوس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں کو بھی چیک کیا جائے۔ جبکہ شہری دوران سفر اپنے ضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور شہری دوران چیکنگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

    جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس میں دہشتگردی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس میں دہشتگردی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ اور وزیراعلی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور وزیراعظم نے سیکورٹی اداروں کو دہشتگردوں کے خلاف منظم آپریشن کی ہدایت کردی ہے تاکہ اس کا خاتمہ کیا جاسکے.

  • عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا

    عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا

    عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا

    سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے بدھ سے جیل بھرو تحریک کے آغاز کا اعلان کردیا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں الیکشن ہونے چاہئیں لیکن انتخابات کے انعقاد کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا، دو صوبوں کے گورنر اور الیکشن کمیشن آئین پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم الیکشن سے نہیں، آکشن سے حکومت میں آئے ہیں، 90 روز میں الیکشن نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے، 91ویں دن گورنرز کے اوپر آئین کی خلاف ورزی کی سزائیں لاگو ہوجاتی ہیں۔ مہنگائی پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں تاریخ کے زیادہ ڈالرز لے آئے، اس حکومت نے لوگوں کی کمر توڑ دی، ٹیکس کلیکشن کم ہو رہی ہے، حل قرضے نہیں بلکہ ملکی دولت میں اضافہ کرنا ہے، آئی ایم ایف نے ہمیں بھی مہنگائی کرنے کا کہا لیکن ہم نے پاکستان کی دولت بڑھائی۔

    پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کار اپنے پیسےکو محفوظ نہیں سمجھتے، لوگ پاکستان میں پیسا رکھنے کو تیار نہیں، کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا نہیں چاہتا۔ انتخابات کے معاملے پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ انتخابات نہ ہوں یا پھر تاخیر سے ہوں، اتنی تاخیرکی جائے گی کہ کوئی انتخابی مہم نہ چلا سکے۔

    عمران خان نے کہا کہ 10 ماہ میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں، شہباز گل کو برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، اعظم سواتی کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا اور پاکستان کے بہترین تحقیقاتی صحافی ارشد شریف کو قتل کیا گیا، میں نے جنرل مشرف کے مارشل لاء میں بھی ایسے مظالم نہیں دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ مظالم کر کے لوگوں کو کنٹرول کرلیں گے، 13 فروری کو ملتان میں جھگڑا ہوا، ن لیگ کے کارکنوں کو کچھ نہیں کہا گیا لیکن پی ٹی آئی کارکنان کے گھر پر رات گئے چھاپے مارے گئے اور ان پر تشدد کیا گیا، ایسا ہونے کی صورت میں لوگ اپنی پولیس سے نفرت کریں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ نگراں حکومت ہمیشہ نیوٹرل ہوتی ہے تاہم آصف زرداری کے بغل بچےکو نگراں وزیر اعلیٰ بنایا گیا، جس نے ہمارے مخالف افسران کو تعینات کیا۔ پارٹی رہنماؤں پر تشدد سے متعلق سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علی سائیں کو گرفتار کرکے تشدد کیا گیا، جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، ہمارےکارکنوں کو گرفتار کرکے اعظم سواتی پر تشدد کی ویڈیو دکھائی گئی، ان سے کہا گیا کہ عمران خان کے ساتھ بھی ایساہی کریں گے، شہباز گل کو میرے خلاف گواہ بنانا چاہ رہے تھے، یہ کام وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں اپنا پیٹ کاٹ کر پالتے ہیں۔

    خود پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف، رانا ثناء اور ڈرٹی ہیری نے مجھ پر حملہ کرایا، انہوں نے ظاہر کیا کہ حملہ آور ایک اور دینی انتہا پسند تھا، جےآئی ٹی نے ثابت کردیا کہ حملہ آور تین تھے، بعد ازاں نگراں حکومت نےجے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک کر ریکارڈ سیز کردیا، اگر یہ تینوں لوگ طاقت میں ہوں گے تو میری جان کو ابھی بھی خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کا افسر جےآئی ٹی کو رپورٹ نہیں دے رہا، جےآئی ٹی کے 11 صفحات کے علاوہ تمام ریکارڈ غائب ہوگیا، جےآئی ٹی کو صرف 3 افراد سبوتاژ کر سکتے ہیں، لہٰذا اب ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ آڈیو لیک ہونے کے معاملے پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رانا ثناء نے اعتراف کیا کہ یہ فون ٹیپ کرتے ہیں، مافیاز فون ٹیپ کرکے بلیک میل کرتے ہیں، میری سکیور لائن اور پرنسپل سیکرٹری سے ذاتی گفتگو کو بھی ریکارڈ کیا گیا، اگر ایسے بلیک میل کیا جائے گا تو ملک میں قانون تو ختم ہوگیا۔

    اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ جہاں عدالتی احکامات پر عمل نہ ہو وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا، ملک میں قانون و انصاف کا نہ ہونا سب سے بڑا کینسر ہے، 26 سال پہلے انصاف کی تحریک کا آغاز کیا تھا، لہٰذا ہم سب کو انصاف کی حکمرانی کے لئے کھڑا ہونا ہوگا۔ جیل بھرو تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بدھ سے جیل بھرو تحریک شروع کر رہا ہوں، تحریک آغاز لاہور سے کریں گے، بڑے شہروں سے ہر گزرتے دن گرفتاریاں دیں گے، یہ ہمیں جیل سےڈرارہے ہیں،ہم جیلیں بھردیں گے۔

  • پاکستانی جنگی طیارے جے ایف 17 اور ایف 16 سعودی عرب پہنچ گئے

    پاکستانی جنگی طیارے جے ایف 17 اور ایف 16 سعودی عرب پہنچ گئے

    ریاض:دشمن کی صلاحیتوں کو سیمولیٹ کرنے والے جارحانہ لڑاکا طیاروں کو بھی شامل کیا گیا،اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ ( PAF ) کی مختلف ممالک کے ہمراہ سعودی عرب میں ہونے والی فضائی مشق اختتام پذیر ہوگئیں۔ مشق میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں ایف 16 ( F16 ) اور جے ایف 17 ( JF 17 ) نے دیکھنے والوں کو دنگ کردیا۔

    اسپیئرز آف وکٹری، 2023 کے نام سے ہونے والی فضائی مشق ائیر وار سینٹر دھران (شاہ عبدالعزیز ایئر بیس) ایئر بیس پر جاری رہیں۔ مشق میں شامل ہونے والا پاک فضائیہ کا دستہ فخر جے ایف 17 تھنڈر اور ایف-16 طیاروں پر مشتمل تھا۔ مشق میں پاک فضائیہ اور دوست ممالک کے جدید لڑاکا طیاروں اور معاون عملے نے شرکت کی۔

    ائیر مارشل عبدالمعید خان، ڈپٹی چیف آف دی ائیر اسٹاف، (ایئر ڈیفنس) نے مشق کی اختتامی تقریب کا معائنہ کیا۔ ایئر مارشل عبدالمعید خان نے مشق کو کامیاب بنانے پر پاک فضائیہ کے دستے کی کاوشوں کو سراہا۔ ایئر اور گراؤنڈ عملے سے گفتگو میں ایئر مارشل عبدالمعید خان کا کہنا تھا کہ “موجودہ عالمی سلامتی کی صورت حال اور فضائی جنگ کے نئے ابھرتے ہوئے تصورات پاکستان اور دوست ممالک کے درمیان بہتر شراکت داری کے متقاضی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی سلامتی کے اس ماحول میں بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے ساتھ بین الاقوامی اور علاقائی تزویراتی صورت حال گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ اس طرح کی مشقیں مشترکا چیلنجز کے مقابلہ میں باہمی تعاون کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہیں“۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق اس مشق کا یہ تیسرا ورژن تھا، جو فروری کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں شروع ہوا۔ مشق میں میزبان ملک سعودی عرب سمیت بحرین، یونان، اردن، پاکستان، قطر، برطانیہ اور امریکا کی فضائی افواج نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد حصہ لینے والے ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

    مشق نے عصر حاضر کے خطرات کے خلاف حکمت عملیوں کی تشکیل و توثیق اور کمبیٹ اینڈ کمبیٹ سپورٹ اثاثہ جات کے مربوط استعمال کے لیئے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس مشق میں بڑی تعداد میں جارحانہ اور دفاعی پیچیدگیوں کی حامل تربیتی پروازیں شامل تھیں۔ ان پروازوں میں الیکٹرانک وارفیئر، فضائی دفاعی سسٹمز اور دشمن کی صلاحیتوں کو سیمولیٹ کرنے والے جارحانہ لڑاکا طیاروں کو بھی شامل کیا گیا۔

    مشق نے آپریشنل صلاحیتوں، جہازوں کی فضائی مینوورنگ، مشترکہ کاروائی، دوست ممالک کے درمیان اتحاد سازی اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے ائیر اینڈ گراؤنڈ عملے کی جنگی تیاریوں کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

  • سی سی پی او لاہورغلام محمد ڈوگرعہدے پر بحال ہوگئے

    سی سی پی او لاہورغلام محمد ڈوگرعہدے پر بحال ہوگئے

    لاہور:سپریم کورٹ آف پاکستان نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو عہدے پر بحال کردیا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج بروز جمعہ 17فروری کو سابق کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ( سی سی پی او) لاہور غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ نے نگراں پنجاب حکومت کا حکم معطل کردیا۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا جس میں لاہور پولیس کے سابق چیف غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کا آرڈر معطل کیا گیا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ پنجاب میں تقرر و تبادلے کا معاملہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے سامنے زیر التوا ہے، نگران حکومت پنجاب کی جانب سے تقرر و تبادلے کا معاملہ 5 رکنی لارجر بینچ کو بھیج رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 5 نومبر کو وفاقی حکومت نے گورنر ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے دھاوا بولنے کے بعد اُس وقت کے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو معطل کردیا تھا اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    وفاق کی جانب سے معطلی کے باوجود غلام محمود ڈوگر نے عہدے کا چارج نہیں چھوڑا تھا جب کہ انہوں نے اپنی معطل لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کی تھی۔

    اس وقت کی پنجاب حکومت نے بھی غلام محمود کی خدمات وفاق کو دینے سے انکار کیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے سی سی پی او کو ایک وارننگ لیٹر بھی جاری کیا تھا۔ تاہم بعد میں یہ معاملہ سپریم کورٹ جا پہنچا تھا۔

    اس کے بعد پنجاب کی نگراں حکومت بنتے ہی 23 جنوری کو ایک بار پھر کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او ) لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔ اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلال صدیق کمیانہ کو نیا سی سی پی او لاہور تعینات کیا گیا تھا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق غلام محمود ڈوگر کو ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ معطلی کے حکم کے بعد سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے وفاق کی جانب سے اپنی معطلی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

  • پی ٹی آئی ارکان کی جانب سےسپیکرکا نوٹیفکیشن”فوری”معطل کرنےکی استدعا مسترد

    پی ٹی آئی ارکان کی جانب سےسپیکرکا نوٹیفکیشن”فوری”معطل کرنےکی استدعا مسترد

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے 43 ارکان اسمبلی نے استعفوں کی منظوری سے متعلق درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے سپیکر سمیت دیگر سے 7 مارچ تک جواب طلب کر لیا۔

    پنجاب اسمبلی تحلیل کامعاملہ،پی ڈی ایم کی بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے مستقبل کا لائحہ…

    لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد کریم ریاض فتیانہ سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت ہوئی ، درخواست میں سپیکر کی جانب سے استعفی منظور کرنے کا اقدام چیلنج کیا گیا ہے۔

    عمران خان کے انتخابات نہ لڑنےوالے یوٹرن پر پی ڈی ایم نے بھی یوٹرن لے لیا

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ممبران کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا اقدام معطل کر رکھا ہے، عدالت نے نوٹیفکیشن نہ لگانے پر سپیکر کی جانب سے استعفی منظور کرنے کا اقدام معطل نہیں کیا، درخواست کے ساتھ سپیکر کی جانب سے استعفی منظور کرنے کا نوٹیفکیشن لف کر دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی35خالی نشستوں پرضمنی الیکشن میں پی ڈی ایم حصہ نہیں لےگی:فضل الرحمان

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سپیکر کی جانب سے 42 ممبران کے استعفے منظور کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے۔عدالت نے سپیکر کے نوٹیفکیشن کو فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سپیکر سمیت دیگر سے 7 مارچ تک جواب طلب کرلیا۔

  • کالاباغ؛ سی ٹی ڈی پر حملہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    کالاباغ؛ سی ٹی ڈی پر حملہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    کالاباغ؛ سی ٹی ڈی پر حملہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    کالا باغ کے علاقے میں دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی میانوالی کی ٹیم پر حملہ کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ 2 فرار ہوگئے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کالا باغ میں مسلح دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کی ٹیم پر حملہ کیا، 20 منٹ تک دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا اور اس کے دو ساتھی فرار ہوگئے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگرد کی شناخت کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر حبیب الرحمان کے نام سے ہوئی ہے، دہشتگرد کے قبضے سے کلاشنکوف، خودکش جیکٹ اور ٹی ٹی پی کے اسٹیکرز برآمد ہوئے ہیں جبکہ مزید تفتیش کی جاری ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    سی ٹی ڈی کے مطابق فرار ہونیوالے دونوں دہشتگردوں کی تلاش میں گرینڈ سرچ آپریشن جاری ہے، دہشتگردی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ٹی سرگودھا میں درج کرلیا گیا ہے۔

  • ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات

    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات

    انقرہ میں صدارتی محل میں وزیراعظم کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے صدر اردوان سے تباہ کن زلزلے سے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔ وزیراعظم ترک عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے دو روزہ دورے پر ہیں، صدارتی محل پہنچنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا استقبال کیا۔


    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ اس سے قتل ترکیہ روانگی سے قبل ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترک بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے ترکیہ کا دورہ کر رہا ہوں۔ترکیہ اور پاکستان ایک قوم ہیں جو دو ملکوں میں بستے ہیں۔


    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی

    وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں، ترکیہ اورشام میں زلزلے کے نقصانات سے نمٹنا کسی ایک حکومت کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی وسائل سے مالا مال ہواس پیمانے کی تباہی سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مشکل کا شکار انسانیت کی مدد کیلئے آگے آئے۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم جو ترک عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے دو روزہ دورے پر ترکیہ میں ہیں، صدارتی محل پہنچنے پر صدر رجب طیب اردوان نے ان کا خیرمقدم کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

    ترکیہ روانگی سے قبل شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے لئے غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا پیغام لے کر ترکیہ روانہ ہو رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہاکہ دو الگ ریاستوں میں رہنے والی ایک قوم کے جذبے کے تحت ہم ان کے نقصان کو اپنا سمجھتے ہیں۔ صدر اردوان سے ملاقات کے علاوہ وزیراعظم جنوبی ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کریں گے اور وہاں تعینات پاکستانی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ زلزلہ متاثرین سے بھی بات چیت کریں گے۔

    وہ مشکل وقت میں ترک عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور جاری امدادی کوششوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے لئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کریں گے۔ وزیر اعظم نے 6 فروری کو صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر بات کی اور انہیں جنوبی ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں میں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ ترک عوام کی مدد کے لئے تمام دستیاب وسائل کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم ذاتی طور پر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک ہر آزمائش اور مصیبت میں ایک

  • پاکستان بار کونسل نے آڈیو لیک پر چیف جسٹس  سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا

    پاکستان بار کونسل نے آڈیو لیک پر چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا

    پاکستان بار کونسل نے آڈیو لیک پر چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا.

    پاکستان بار کونسل نے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہی کی آڈیو لیک پر چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے . پاکستان بار کونسل کے جاری اعلامیہ کے مطابق ‏آڈیو اصلی ہونے کی صورت میں جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی جائے جبکہ ‏آڈیو جعلی ہونے کی صورت میں زمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے.


    جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور صدر سپریم کورٹ بار کی جانب مبینہ آڈیو لیک پر مؤقف سامنے آگیا ہے جس میں چوہدری پرویز الہیٰ نے اسے ’ حکومت کی انتقامی کارروائی‘ قرار دیا ہے جبکہ عابد زبیری نے کہا ہے کہ میری ساکھ خراب کرنے کے لیے ڈاکٹرڈ آڈیو پھیلائی جارہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    PBC
    علاوہ ازیں چوہدری پرویز الہیٰ نے مزید کہا کہ آڈیو میں کوئی غلط بات نہیں کی گئی، محمد خان بھٹی کے کیس کیلئے ایک وکیل کے ساتھ گفتگو کو ٹیپ کرکے غلط رنگ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمد خان بھٹی 10 دن سے لاپتا ہے، ان کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے آخر وہ کیس بھی سامنے آنا ہے، اگر کوئی فلاں بندہ انصاف کیلئے اپنے وکلا کے ذریعے عدالتوں کو رجوع کرتا ہے تو اس میں یہ گناہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پرویز الہی کی آڈیو لیک ہوئی تھی آڈیو میں مبینہ طور پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی اپنے وکیل کو ایک کیس مرضی کے جج کے پاس لگوانے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

    آڈیو کا متن :
    پرویز الہی: جوچا صاحب

    جوچا: جی جی

    پرویز الہی: مظاہر علی نقوی کے پاس لگوانا ہے محمد خاں کا کیس
    جوچا: اچھا۔۔چلو ۔۔ آج وہ اسلام آباد چلا جائے گا۔۔ ہم اسلام آباد بھیج دیں گے۔ پھر جو طریقہ کار ہوگا اس کے پیچھے کوشش کرلیں گے۔

    پرویز الہی: کراﺅ ناں جی
    جوچا: بالکل کوشش کرلیں گے جی

    جوچا: مظاہر علی اکبر نقوی ۔۔۔
    پرویز الہی : ہاں
    پرویز الہی: بس ٹھیک اے جی

    پرویز الہی: بڑا دبنگ ہے
    جوچا: جی۔۔ہاں ۔۔۔ ہے۔۔ جانتا ہوں میں

  • پاکستان کیلیے موجود خطرات ہمارے لیئے بھی خطرہ ہیں. امريکی محکمہ خارجہ

    پاکستان کیلیے موجود خطرات ہمارے لیئے بھی خطرہ ہیں. امريکی محکمہ خارجہ

    جو پاکستان کےلیے موجود خطرات ہیں وہ ہمارے ليے بھی خطرہ ہیں. امريکی محکمہ خارجہ

    ترجمان امريکی محکمہ خارجہ نيڈپرائس کا کہنا ہے کہ پاکستان امريکا کا قابل قدرشراکت دار ہے۔ جمہوری اور خوشحال پاکستان ہمارے مفادات کیلئے اہم ہے۔ نیوزبریفنگ کے دوران ترجمان امريکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ پاکستان کےلیے موجود خطرات ہمارے ليے بھی خطرہ ہیں۔

    نیڈ پرائس نے عمران خان کے الزامات سے متعلق تبصرے سے گریز کیا کہا الزامات ميں کوئی حقيقت نہيں تھی۔ پروپيگنڈا اورغلط معلومات کو دوطرفہ تعلقات ميں حائل نہيں ہونےديں گے۔ پاکستان ميں کسی سياسی رہنما يا سياسی جماعت کو کسی پرفوقيت نہيں ديتے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل امریکا نے سابق وزیراعظم عمران خان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے بھی کہہ چکے کہ ان کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    یاد رہے کہ امريکی محکمہ خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ پاکستان امريکا کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے پاکستان اور چين کے قريبی تعلقات سے امريکا کو کوئی پريشانی نہيں۔ترجمان اسٹيٹ ڈپارٹمنٹ نيڈ پرائس کا کہنا ہے کہ پاکستان امريکا کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے دوطرفہ تعلقات بہت اہم ہيں اور واشنگٹن انتظاميہ پاک امريکا تعلقات کو اہميت ديتی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ کسی ملک کيلئے يہ ضروری نہيں کہ وہ امريکا يا چين ميں سے کسی ايک کا انتخاب کرے۔اسٹيٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے يہ وضاحت اُس وقت سامنے آئی جب پريس بريفنگ کے دوران ترجمان نيڈ پرائس سے سوال ہوا کہ کيا پاکستان کی جانب سے چين کيساتھ ملکر کام کرنے کی وجہ يہ ہے کہ اسلام آباد سمجھتا ہے امريکا نے اُسے تنہا چھوڑ ديا ہے۔