Baaghi TV

بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ سب سے پہلے آپ کا شکریہ جو آپ یہاں تشریف لائے، پریس کانفرنس کا مقصد صرف 2025 میں دہشتگردی کےخلاف آپریشنز ہے،

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیوز کا نفرنس کا مقصد دہشت گردی کیخلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے ،خوارج کا اسلام سے ،پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، 2025 میں پاکستان کی فوج اور عوام دہشتگردی کیخلاف متحد رہیں،دہشتگری کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، 2025 میں ریاست اورعوام کودہشتگردی پرمکمل وضاحت حاصل ہوئی،فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان ،بلوچستان سےکوئی تعلق نہیں، گزشتہ سال کاونٹر ٹیرارزم کے لیے لینڈ مارک سال رہا،سال 2025میں دہشتگردوں کے خلاف 75ہزار 175آپریشن کئے گئے،1235پاکستانی شہید ہوئے،سال 2025 میں پاکستان نے 2597 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا،دہشتگردوں کیخلاف 14 ہزار 658 آپریشنز خیبر پختونخواہ میں کئے گئے۔ ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز کئے گئے، گزشتہ سال 27 خودکش بم دھماکے ہوئے، اور 75 ہزار 175 آپریشنز کئے گئے،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے 3811 واقعات ہوئے، اس سال 2597 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔2021 میں 193دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 592 شہادتیں ہوئیں یعنی ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے پیچھے 3 شہادتیں ہوئیں۔ دوسری جانب 2025 میں 2597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اور شہادتیں 1235 ہوئیں۔ یعنی 2025 میں 1 شہادت کے پیچھے 2 دہشت گرد مارے جارہے ہیں،پچھلے سال 27 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 2 دھماکوں میں خواتین کا استعمال کیا گیا۔

افغانستان دنیا بھر کے اسمگلرز اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے،ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ایک سوال ہے خیبرپختونخوا میں 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات کیوں؟، ہمارے بہت سے دوست صحافی یہاں خیبرپختونخوا سے بیٹھے ہیں، یہ سوال آپ کے ذہن میں تو چیخ چیخ کر آتا ہو گا کہ کیوں، اِس کی بنیادی وجہ ہے Political criminal terror nexuses جو وہاں پر Flourish کر رہا ہے،خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے پیچھے دہشتگردوں کا سیاسی گٹھ جوڑ ہے۔ خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لئے سیاسی طور پر ساز گار ماحول ہے۔پاکستان نے 2025 کے آپریشنز کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں کو مکمل طور پر شکست دینا ہے،افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے، اور تمام دہشتگرد پراکسیز زیادہ تر افغانستان سے چل رہی ہیں اور بھارتی اس میں مکمل طور پر شامل ہے. افغانستان میں دہشتگردی کے مرکز بننے کے باوجود، پاکستان کی موقف کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔افغانستان دنیا بھر کے اسمگلرز اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے.علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے پڑوسی ممالک میں انتشار اور دہشت گردی کا باعث بن رہی ہیں،نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے ،دہشت گردی کرنے والے یہ خوارج ہیں، اِن کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اِن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے یہ جہاں ملیں اِنہیں مار دو، اِن کے ہاتھ پائوں مختلف سمتوں سے کاٹ دو،ہمیں یقین ہے کہ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہم نے جیتنی ہے

خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لئے سیاسی طور پر ساز گار ماحول ہے۔ڈی جی آئی ایس پی ار
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ معرکہ حق میں جب ہندوستان کا منہ کالا کیا جاتا ہے ساری دنیا نے دیکھا کہ کیاہوا،معرکہ حق میں دنیا نے دیکھا کہ کیسے پوری قوم بنیان المرصوص بن گئی ، ہندوستان کو وہ سبق سیکھایا گیا جو سیکھایا جانا ضروری تھا ،بھارت کے منہ سے ابھی تک سندور کی کالک نہیں جا رہی ، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ریاست کی اولین ترجیح رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے،سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بھارتی پراکسی بی ایل اے کی دہشت گردانہ سازش کا خاتمہ کرکے بڑے پیمانے پر دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنایا، جو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف ناقابل تسخیر عزم اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کا ثبوت ہے۔افغان طالبان ہمیشہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو شکست دی جبکہ حقائق کچھ اور ہے، انہیں امریکہ نے ہی بنایا۔ یہ گمراہ کن پروپیگنڈا سے نوجوانوں اور مذہبی طبقے کو گمراہ کرتے ہیں،افغان گروپ نے وعدہ کیا تھا کہ شدت پسندی کا خاتمہ کریں گے اور یہ کہا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا.

دہشتگرد ہماری یکجہتی اور امن کے دشمن ،پاکستان کی حفاظت، قوم کی حفاظت ہے،ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حفاظت، قوم کی حفاظت ہے۔ دہشتگرد ہماری یکجہتی اور امن کے دشمن ہیں۔ اس سال کے اقدامات نے ثابت کر دیا کہ پاکستان ہر قسم کے دہشتگردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یاد رکھیں، یہ دہشتگرد اسلام کے دشمن نہیں، بلکہ فتنہ الہندوستان کے پٹھو ہیں،ہمارا نشانہ ٹی ٹی پی ہے، افغان طالبان نہیں،2021 میں افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی طرز کی تنظیم بنایا اور نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے اپنی تعداد بڑھائی جارہی ہے، اکتوبر 2025 میں دہشتگردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کےکسی شہری یا انفرا اسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کےشرکاء کے ہمراہ گزشتہ سال پاک فوج کے شہداء کو سیلیوٹ پیش کیا۔

جس نے جو کہنا ہے وہ کہے کیونکہ پاک فوج اور ہمارے عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے،ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں، دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔کورکمانڈر پشاور درجنوں بار کے پی میں عوامی مقامات پر جا چکے ہیں، دیگر افسران جاتے ہیں لوگوں سے بات کرتے ہیں، جس نے جو کہنا ہے وہ کہے کیونکہ پاک فوج اور ہمارے عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے،یہ بات ذہن میں ڈالی جاتی ہے کہ ‘یہ تو فوج کی جنگ ہے’ نہیں ، یہ پاکستان کے عوام کی جنگ ہے اگر ہم اس کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے آپ کے اسکولوں اور دفتروں میں بم پھٹیں گے، بھارت پراکسیز کو مالی امداد دیتا ہے اور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ وار اکانومی چلانے کے لیے دہشتگردی کرتے ہیں اور ان کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔

ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں،ترجمان پاک فوج
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستانیوں کے ذہنوں سے کبھی نہیں جائے گا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں حملہ کیا جاتا ہے، اس میں تمام افغانی تھے، جس میں 8 سویلینز شہید ہوئے، نومبر میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا گیا، یہ قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے۔ افغان رابطہ کے تناظر میں بہت سارے دہشت گردوں کے کاغذات بھی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا ہے،جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جو باڑ لگی ہے وہاں دہشت گرد کیوں نہیں مارے جاتے، بالکل مارے جاتے ہیں، اپریل میں 71 دہشت گرد مارے گئے، چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں، حسن خیل میں 12 دہشت گرد مارے گئے، خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا، دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں، ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، خارجیوں نے آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشت گردی کرتے ہیں، فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے، سمبازہ میں کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا گیا کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی، ہم ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال نگرانی کے لیے کرتے ہیں،فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی، کور کمانڈر پشاور درجنوں جگہوں پر جا چکے ہیں اور روز جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے، فلڈ ریلیف کی سرگرمیاں اور سڑکیں کلیئر کی جا رہی ہیں، جو کلیئرٹی اس سال پاکستانی قوم کو ملی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی،فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان پر قیادت اور عوام کلیئر ہیں، یہ وضاحت ہمارے پاس 2023 میں بھی تھی اور آج بھی ہے، ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ سویلین اور فوجی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک پیچ پر ہے، صوبائی سیاسی قیادت کو مکمل کلیئرٹی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے لڑنا ہے، یہ کلیئرٹی پاکستان کے طول و عرض میں عوام کو بھی ہے۔یہ حق صرف ریاستِ پاکستان کا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سزا دے یا جزا دے، بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،

سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دودھ کا دودھ، پانی کا پانی قوم کے سامنے کر دیں،ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہناتھا کہ کیا فوج بیلچے لے کر معدنیات نکالنے گئی ہے، 5 ہزار کے قریب معدنیات کے لائسنس کس نے جاری کئے؟، کیا جی ایچ کیو نے جاری کئے، کیا وفاقی حکومت نے کئے، مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے جاری کئے، ایک یا دو لائسنس ہوں گے جو فوج کے ماتحت ادارے کے پاس ہوں گے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دودھ کا دودھ، پانی کا پانی قوم کے سامنے کر دیں، دہشتگردی کا بیانیہ 2023 سے چلا تھا، کلیئرٹی کا سورس آپ کے فیلڈ مارشل ہیں، جو کہتے ہیں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں کرنی، اِدھر تو یہ کلیئرٹی تھی کہ بات کر لو، ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل آفریدی اور اقبال آفریدی کے بیان چلا دیے۔ ایران، چین اور دیگر ممالک کہہ رہے ہیں کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے جھوٹا بیانہ بنا رہی ہے ‘دہشتگردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے’،اے این پی نے سینوں پر گولیاں کھائیں،دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوئے یہ (پی ٹی آئی) کہہ رہے کہ ہم نہیں کھڑے ہوں گے،ہم ان کیساتھ شامل ہوں گے،سوال یہ ہے کہ کبھی دہشتگردوں نے اِن (پی ٹی آئی) پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ ہم نے جنازے اُٹھائے ہیں، مزید جنازے اُٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں، ہم نے جانیں لی ہیں، ہم مزید جانیں لیں گے، دہشتگردوں کو جہنم واصل کرینگے،بھارت پراکسیز کو پیسہ دیتا ہے اور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی کرتے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔27 خودکش حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن نے پوری قوت لگائی، مگر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سمیت پوری قوم اور سیکیورٹی اداروں نے یکجہتی سے دہشتگردی کو شکست دی۔ہم حق پر ہیں اور حق نے انشااللہ غالب آنا ہے،

وہ اِتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اُس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس اِتنا اختیار نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کر دے، ترجمان پاک فوج
وہ ڈی جی آئی ایس آئی آج کہاں ہے جسے وزیراعظم (عمران خان) نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر
یہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں کہ ہم تو بےاختیار تھے، حکومت بےاختیار ہوتی ہے، یہ حکومت بھی ہے، پچھلی بھی تھی اس سے پچھلی بھی تھی،ترجمان پاک فوج
آپ وہاں دوبارہ دہشتگردوں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے،تاکہ سیاست اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہر جگہ پھیل جائے؟ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ کہتے ہیں کہ فوج کے پی سے نکل جائے،غور سے سن لیں کہ فوج ایک وفاقی فورس ہے،یہ وہاں وفاقی ہدایات پر موجود ہے،ہمیں آئینی اور قانونی حکم ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی یقینی بنائیں،یہ آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے،سہولتکاری کے لیے،اپنے صوبے اور علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کردیں،ماضی میں جائیں،جب اسی طرح کے سیاسی بیانات پر فوج سوات سے گئی تھی تو کیا ہوا تھا؟ہزاروں سواتیوں،ان علاقے کے بچوں نے،فوجیوں نے،کے پی کے لوگوں نے قربانی دی،آپ وہاں دوبارہ دہشتگردوں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے،تاکہ سیاست اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہر جگہ پھیل جائے؟دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری سالمیت اور پاکستان کی جنگ ہے، ہمارے لئے تمام قومیں،سیاسی جماعتیں، مذاہب، فرقے سب برابر ہیں،یہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں کہ ہم تو بےاختیار تھے، حکومت بےاختیار ہوتی ہے، یہ حکومت بھی ہے، پچھلی بھی تھی اس سے پچھلی بھی تھی،یہ کہتے ہیں کہ فوج واپس چلی جائے، تو میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں۔ فوج وفاق کے احکامات پر کام کرتی ہے، اور پاکستان کی سیکیورٹی ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ ہم کسی کے سیاسی مقاصد کے لیے یا کسی کی سہولت کاری کے تحت اس صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے،ایک شخص(عمران خان) پارٹی ڈکٹیٹر کی طرح چلاتا تھاوہ کہتا تھا میں بے اختیار تھا وہ بااختیار وزیر اعظم تھا،اس وقت ڈ ی جی آئی تھے وہ کہاں ہیں ، انہیں اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا گیا، وہ بااختیار وزیراعظم تھا جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس اختیار ہی نہیں تھا، وہ آرمی چیف کو باپ کہتا تھا، ہمارے لئے ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح ،۔آئین کی کتاب میں لکھا ہے کوئی قانون، سیاسی جماعت اور آزادی اظہار رائے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے منافی نہیں ہو سکتا، آئین یہ کہتا ہے یا نہیں، ہم نے اِس ملک کی خودمختاری اورسالمیت کا حلف لیا ہے یا نہیں لیا،وزیراعلی خیبر پختونخوا کہہ رہے ہیں کہ میرا لیڈر کہتا ہے کہ آپریشن نہیں ہونے دینگے،خیبرپختونخوا میں آپریشن آج بھی ہورہے ہیں، کچھ چیزیں بنیادی ہیں ان پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری آئین پاکستان دیتا ہے،دہشت گرد داعش کا ہو، القاعدہ کا یا ٹی ٹی پی کا۔ سب دہشت گرد ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، ہماری کسی کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کی صرف ایک قسم اچھی ہے اور وہ ہے مردہ دہشت گردی،آئین کہتا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے،وہ(عمران خان) بااختیار وزیراعظم تھا، بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو اختیار نہیں تھا، وہ اِتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اُس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس اِتنا اختیار نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کر دے،آپ کے صوبے میں 3800 دہشتگردی کے واقعات ہو چکے ہیں۔ اور یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجگ اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے، کیا نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے؟کیا اُس کی بیعت کر نی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کا بیانیہ کھل کر سامنے آیا، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں واضح اور غیر مبہم رہنمائی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملتی ہے، جن کا مؤقف دوٹوک ہے کہ ان دہشت گردوں سے نہ کوئی بات کرنی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی جگہ دینی ہے

ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں، تمام صوبے اور تمام فرقے برابر ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں شام سے 2500 کے قریب غیر ملکی دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے ہیں اور وہ صرف افغانی نہیں اور قومیت کے دہشتگرد ہیں۔ ریاست ہوگی تو سیکیورٹی ہوگی اور سیکیورٹی ہوگی تو کاروبار اور ترقی ممکن ہوگی،دنیا نے معرکۂ حق میں دیکھا کہ پاکستانی عوام جب بنیانُ المرصوص بنتے ہیں تو دشمن بے نقاب ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بعد میں پیش آنے والے 540 دہشت گردی کے واقعات نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی کا گڑھ افغانستان ہے،سیاسی بات چیت حکومت نے کرنی ہے، ہم سیاسی جماعتوں سے بات چیت نہیں کرتے نہ ہم نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے بات چیت کرنی ہے،یہ ہندوستانی میڈیا پر آ کر کہہ رہے ہیں کہ 2026 میں بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان پر حملہ کرینگے آ جائو تم دونوں کا شوق پورا کرینگے ٹی وی پر نہ بیٹھو، تم بھی ساتھ آؤ ویڈیو چلا کر بتائیں گے کہ تم دونوں کا کیا حشر کیا ،خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں، ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا کرنا ہے؟ کیا نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے، کیا اُس کی بیعت کر لینی ہے؟افغانستان میں حکومت بدلنے کا حق افغان عوام کے پاس ہے،

More posts