Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    عمران خان کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    توشہ خانہ کا سرکاری ریکارڈ سامنے آنے پر تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے اور عمران خان کے خلاف نیا پنڈورا باکس کھل گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سنہ 2019 کے بعد عمران خان نے عرب ممالک سے ملنے والا کوئی تحفہ ظاہر نہیں کیا اور انہوں نے عرب ممالک کے 10 دوروں میں ملنے والے قیمتی تحائف چھپائے۔ توشہ خانہ کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے یہ 10 دورے 2019 سے 2021 کے درمیان کیے، جن میں غیرملکی سربراہان کی جانب سے ملنے والے تحائف کی مالیت کروڑوں روپے بتائی گئی ہے۔ 10 میں سے 5 دوروں میں ملنے والے تحائف کو ہی ظاہر کیا گیا اور ملنے والے تحائف کی قیمت اصل سے کم دکھائی گئی یا صرف کم قیمت تحائف کو ہی ظاہر کیا گیا۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق مہنگے اور زیادہ قیمتی تحائف ظاہر نہیں کئے گئے۔ سابق خاتون اوّل بشری بی بی بھی ان 10 دوروں میں عمران خان کے ہمراہ تھیں اُس کے باوجود انہوں نے صرف ایک دورے میں ملنے والے تحائف ظاہر کئے جبکہ ریکارڈ میں بشری بی بی کو دیگر دوروں میں ملنے والے تحائف کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس دورانیے میں فواد چوہدری، حماد اظہر، ملک امین اسلم اور مولانا طاہر اشرفی نے بھی ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کئے جبکہ اسدعمر بھی ان دوروں میں سابق وزیر اعظم کے ساتھ تھے اور انہوں نے بھی بیرونِ ملک سے ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کیے۔

    اسی طرح سابق مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی پانچ دوروں میں عمران خان کے ساتھ تھے، انہوں نے صرف ایک گھڑی اور ہرن کا ماڈل ہی ظاہرکیا جبکہ ذوالفقار (زلفی) بخاری 4 دوروں میں عمران خان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے صرف دو دوروں میں ملنے والے تحائف ظاہر کئے۔ ریکارڈ کے مطابق سابق وزیراعظم کے اسٹاف کو ملنے والے تحائف سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان اور ان کے وفد کے ارکان کو زیادہ قیمتی تحائف ملے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق فروری 2020 میں عمران خان کو 3 لاکھ 25 ہزار مالیت کی میز پر رکھنے والی گھڑی تحفے میں ملی۔

    اس دورے میں عمران خان کے ہمراہ وفد کے ارکان اور سرکاری افسران کو جو تحائف ملے وہ بیش قیمت کے تھے۔ اس دورے میں عمران خان نے جو تحفہ ظاہر کیا وہ دیگر کے مقابلے میں نہایت کم قیمت تھا۔ اسی طرح سابق وزیراعظم کے پی ایس سو کو ملنے والی گھڑی عمران خان کے ظاہرکردہ تحفے سے دو گنا زیادہ قیمت کی نکلی۔ اسی دورے میں شاہ محمودقریشی، زلفی بخاری اور ندیم بابر نے جو گھڑیاں ظاہر کیں، وہ عمران خان سے تین گنا زیادہ قیمت کی نکلیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق عرب ممالک کی شاہی روایت ہے کہ وہ وفد کے دیگر ارکان کے مقابلے میں وزیراعظم کو زیادہ قیمتی تحائف دیے جاتے ہیں، شاہی روایت کے مطابق جواہرات کے درجے میں آنے والے تحائف ہی وزیراعظم کو دئیے جاتے ہیں اس کے برعکس عمران خان نے جو تحائف ظاہر کئے وہ عرب ممالک کی شاہی روایات کے مطابق نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ممکن نہیں تھا کہ وزیراعظم کو کم قیمت جبکہ وزرا اور اسٹاف کو زیادہ مہنگے تحائف ملے ہوں، 44 ماہ کے اقتدار کے دوران عمران خان نے کوئی قیمتی تحفہ ظاہر نہیں کیا اور انہوں نے 110 ملین (11 کروڑ) مالیت کے تحائف ظاہر کیے۔ عمران خان نے یہ تحائف 20 فیصد رقم ادا کرکے حاصل کئے اور تحائف فروخت کرکے حاصل ہونے والی آمدن سے توشہ خانہ میں 20 قیمت جمع کرائی ۔ واضح رہے کہ عمران خان کو 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن توشہ خانہ کیس میں پہلے ہی نااہل قرار دے چکا ہے۔

  • تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی

    تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی

    تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی.

    تحریک انصاف آج لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کرے گی۔ سابق وزیراعظم عمران خان رات گئے لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لینے لبرٹی پہنچے تھے، جہاں وہ کنٹینر پر آئے اور کارکنوں سے مختصر خطاب کیا۔ اس سے پہلے اپنے ویڈیو پیغام میں عمران خان نے عوام سے لانگ مارچ میں شرکت کی اپیل بھی کی۔ عمران نے کہا کہ صبح گیارہ بجے لبرٹی چوک لاہور سے تحریک کا آغاز کر رہا ہوں، یہ تحریک حکومت گرانے یا لانے کے لئے نہیں ہے بلکہ حقیقی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ چاہتے ہیں ملک کے فیصلے ملک میں ہوں، کون حکومت کرے گا اس کا فیصلہ عوام کریں، بند کمروں میں فیصلے نہ ہوں۔

    دو روز قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے پہلے روز کا شیڈول جاری کر دیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی لاہور کے صدر امتیاز شیخ نے لانگ مارچ کے پہلے روز کا شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کا آغاز 28 اکتوبر بروز جمعہ کو لبرٹی چوک سے ہو گا اور مارچ کے پہلے روز ہم شاہدرہ تک ہی جائیں گے۔ لانگ مارچ کلمہ چوک سے براستہ فیروز پور روڈ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان لانگ مارچ کے پہلے روز شرکا سے آزادی چوک پر خطاب کریں گے۔

    لانگ مارچ کے دوسرے روز کا آغاز شاہدرہ چوک سے ہو گا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنے علاقوں میں اشتہاری مہم اور کیمپس لگانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ تین روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتخابات نہیں کرائیں گے اس لیے لانگ مارچ کا اعلان کر رہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی آزادی مارچ ہے اور اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے، جی ٹی روڈ سے براستہ اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسلام آباد لڑائی کرنے نہیں جا رہے اور نہ ہم نے ریڈ زون میں جانا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے
    دوسری جانب وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کیا ہے، وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو خط لکھا ہے۔ وزارت داخلہ کے خط میں کہا گیا ہے کہ کسی کو زبردستی طاقت کے ذریعے وفاق پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو آئین کے تحت اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے، آئین کے تحت ہر صوبہ وفاقی قوانین پر عملدرآمد کا پابند ہے، وفاق صوبوں کو ہدایات دے سکتا ہے، تمام سرکاری ملازمین ریاستی قوانین کے تابع ہیں۔ کسی حکومتی ملازم کو لانگ مارچ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • پنجاب حکومت  وکلاء پروٹیکشن بل منظور کرے. عمران خان

    پنجاب حکومت وکلاء پروٹیکشن بل منظور کرے. عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میں اس قوم کے لیے یہ جنگ لڑ رہا ہوں، یہ اب حتمی اور فیصلہ جنگ ہے جس کا آغاز کل ہوگا لاہور بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ اب حتمی اور فیصلہ کن جنگ ہے، کل میں حقیقی آزادی مارچ کا آغاز کرنے جا رہا ہوں اور لاہور سے میرے مارچ کا آغاز ہوگا، میں اس قوم کے لیے یہ جنگ لڑ رہا ہوں، لاہور بار بھی اس مارچ میں بھرپور شرکت کرے۔

    عمران خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کو کہوں گا کہ وکلاء پروٹیکشن بل منظور کرے، وکلاء کے ہسپتال کے لیے رقم جاری کی جائے۔ دریں اثنا عمران خان کی 90 شاہراہ قائد اعظم میں پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، عمر ایوب، میاں اسلم اقبال، عمر سرفراز چیمہ بھی شریک تھے۔ ملاقات میں لانگ مارچ اور دیگر امور پر پارٹی لیڈر شپ کی مشاورت ہوئی جس میں آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

    دوسری جانب دعوی کیا جارہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لاہور سے راولپنڈی تک مارچ آٹھ روز پر پھیلا دیا۔ تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان لانگ مارچ کے حوالے سے اپنی جماعت کو واضح پلان نہیں دے سکے۔

    نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق عمران خان نے لاہور سے راولپنڈی تک مارچ آٹھ روز پر پھیلا دیا اور پارٹی اجلاس میں ہر سوال پر مارچ کی نئی شکل سامنے آتی رہی، اور عمران خان نے مارچ کااصل پلان ابھی تک خفیہ رکھا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا پلان ہے کہ لانگ مارچ جمعہ 28 مارچ کو شروع ہو کر آئندہ جمعہ 4 نومبر تک راولپنڈی پہنچے گا۔

    اس جملے پر جب ارکان اسمبلی نے سوال کیا کہ کیا مارچ راولپنڈی میں ختم ہوگا۔ تو چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہم پنڈی سے اگلے روز اسلام آباد جائیں گے۔ عمران خان نے ارکان اسمبلی کو یہ بھی عندیہ دیا کہ مارچ کو گوجرانوالہ سے سیالکوٹ کی طرف بھی موڑ سکتے ہیں، کیوں کہ سیالکوٹ میں عوام بہت پرجوش ہیں، انہیں ساتھ لے کر جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ عمران خان نے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے گلے شکوے کئے، اور مشیر داخلہ عمرچیمہ کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    ذرائع کے مطابق عمران خان نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ مجھ پر روز نئے مقدمے ہورہے ہیں، اور آپ رانا ثنااللہ کو نہیں پکڑ سکے۔ عمران نے پنجاب حکومت سے اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کے ذمہ دار ابھی تک آزاد پھر رہے ہیں، اور آپ لوگ بہت دفاعی انداز سے پنجاب حکومت چلا رہے ہیں۔ عمران خان نے ارکان کو ہدایت کی کہ ارکان اسمبلی لانگ مارچ کو اپنی انتخابی مہم کے طور سنجیدہ لیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کے سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ لب و لہجے پر شرکااجلاس پریشان رہے۔

  • سینئر صحافی ارشد شریف کو سپرد خاک کردیا گیا

    سینئر صحافی ارشد شریف کو سپرد خاک کردیا گیا

    مقتول صحافی ارشد شریف کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی، جب کہ تدفین ایچ الیون قبرستان میں ہوئی۔

    معروف اینکر اور سینئر صحافی ارشد شریف کی نمازجنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد ارشد شریف کی میت تدفین کے لیے ایچ الیون قبرستان پہنچائی گئی جہاں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ اس سے قبل ورثاء کی درخواست پر پمز اسپتال میں ڈاکٹرز کے 8 رکنی بورڈ نے مقتول کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور نمونے ٹیسٹ کیلئے مختلف لیبارٹریز بھجوادیے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ارشد شریف کی میت دوبارہ قائداعظم اسپتال منتقل کی گئی، جس کے بعد ارشد شریف کی میت کو اُن کے گھر جی الیون تھری میں پہنچایا گیا جہاں تابوت پر پھولوں کی پتیاں برسائی گئیں۔ پھولوں کی برسات میں ارشد شریف کا جسد خاکی فیصل مسجد اسلام آباد پہنچایا گیا، جہاں مرحوم کی نماز جنازہ ادا کی گئی، ارشد شریف کی تدفین ایچ الیون قبرستان میں ہوئی۔

    دوسری جانب وزارت داخلہ نے کینیا میں ارشد شریف کے قتل کیلئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد پر مشتمل کمیٹی کینیا روانہ ہوگئی جہاں قتل کے شواہد حاصل کرنے اور ارشد شریف کے پاکستان سے دوبئی اور پھر کینيا جانے کی وجوہات اور محرکات کا کھوج لگائے گی۔ ممتاز صحافی اور اینکرارشد شریف کچھ عرصہ پہلے کینیا کے شہر نیروبی پہنچے تھے، انہیں اتوار اور پیر کی درمیانی شب کینیا میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا، اور ان کی اہلیہ جویرہ صدیق نے اپنی ٹویٹ میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج میں نے اپنا دوست، شوہر اور پسندیدہ صحافی کھو دیا ہے۔ جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ آج صبح پولیس نے آکر بتایا کہ ارشد شریف کو کینیا میں مار دیا گیا ہے، میری درخواست ہے کہ ارشد شریف کی کینیا کے مقامی ہسپتال میں لی جانے والی آخری تصویر کو شیئر نہ کیا جائے۔

    سینئر صحافی ارشد شریف طویل عرصے سے نجی چینل سے وابستہ تھے، تاہم کچھ عرصہ قبل وہ خود ساختہ جلا وطنی کے دوران دبئی اور لندن میں مقیم رہے، اور ان کی غیر موجودگی میں چینل نے اعلان کیا تھا کہ ارشد شریف اب ہماری ٹیم کا حصہ نہیں رہے۔ پیر کو صحافی ارشد شریف کے قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، اور پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل پر کینا پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف شناخت میں غلطی کی وجہ سے پولیس فائرنگ کانشانہ بنے۔

    کینیا کے اخبار میں بتایا گیا کہ نیروبی مگاڈی ہائے وے پر گاڑی چھیننے اور بچے کو یرغمال بنانے کی واردات ہوئی تھی، اور واقعے کے بعد گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے روڈ بلاک کیا گیا تھا، جب کہ ارشد شریف اور ان کے ساتھی نے مبینہ طور پر روڈ بلاک کی خلاف ورزی کی۔ کینیا میڈیا نے بتایا کہ پولیس نے صحافی ارشد شریف کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن صحافی نے رکنے کے بجائے آگے جانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے فائرنگ کردی، اور ارشد شریف سر میں گولی لگنے سے موقع پر جاں بحق ہوگئے، جب کہ ان کے ڈرائیور کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
    میڈیا کے مطابق ارشد شریف کو اتوار کی رات نیروبی میگا دے ہائی وے میں پولیس نے سر پر گولی مارکر قتل کیا، اور کینیا کے سینئر پولیس افسر نے صحافی پر فائرنگ کی تصدیق بھی کردی ہے۔

  • عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ راناثناءاللہ کا کہنا تھا کہ آج جو چیزیں سامنے آئی ہیں وہ موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے اہم ہیں، آڈیو لیک سے عمران خان کا سفاک چہرہ سامنے آیا تھا، آج اس کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران نیازی ایک ناسور کی صورت اختیار کرچکا ہے، اس نے کس طرح عدم اعتماد کو ناکام کرنے کیلئے سائفر کا ڈرامہ رچایا اور ملک کو نقصان پہنچایا، اس نے ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی، اس ناسور کا علاج ملک اور قوم کیلئے ضروری ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ جو کوئی عمران خان کے مفاد کے لئے کام کرے تو وہ محب وطن ہے، اگر اس کے مفاد کا تحفظ نہ کرے تو وہ میرجعفر،میرصادق، چور اور ڈاکو ہے، آرمی چیف اگرغیرمعینہ مدت کی توسیع لینے پر راضی ہو جاتے تو عمران نیازی ان کی پہلے جیسی تعریفیں کرتا، لیکن آرمی چیف نے ذاتی مفاد پر ملکی اور ادارے کے مفاد کو ترجیح دی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ عمران خان کیلئے چیئرمین سینیٹ کا الیکشن مینج کرے تو وہ ٹھیک ہے، جو اس کیلئے اجلاس مینج کرے لوگوں کو پکڑ کر لائے تو سب ٹھیک ہے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ 25 مئی کے مارچ سے پہلے عمران خان اور اس کے حواری کہتے تھے کہ یہ خونی مارچ ہوگا، اور انہوں نے ڈیڑھ ماہ کی تیاری کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ مارچ میں 20 لاکھ لوگ آئیں گے، اب یہ دوبارہ مارچ کیلئے تقریریں کر رہے ہیں اور منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ کہہ رہا ہے کہ پنجاب حکومت ناکام ہے کیونکہ انھوں نے جھوٹے مقدمات درج نہیں کیے، اور پنجاب حکومت گڈی گڈی کھیل رہی ہے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی المناک موت پرافسوس ہے، عمران خان نے پروپیگنڈا شروع کیا کہ ارشد شریف کو زبردستی باہر بھیجا گیا، اور پھر اس نے خود ہی پلاننگ کی کہ ہم نے اس پرکھیلنا ہے، اس نے بیانیہ بنایا کہ ارشد شریف کو ڈرایا، دھمکایا گیا اور باہر جانے پرمجبور کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    وفاقی وزیر نے کہا کہ ارشد شریف کو ڈرانے کیلئے کے پی حکومت نے تھریٹ الرٹ جاری کیا، یہ فرمائشی تھریٹ الرٹ جاری ہونے کے بعد ارشد شریف دبئی چلے گئے، دبئی میں ویزا ختم ہونے پر جیل میں نہیں ڈالا جاتا، لوگ ڈیڑھ مہینے تک بغیر ویزے کے رہتے ہیں، لیکن ارشد شریف دبئی سے کینیا چلے گئے۔ رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ ارشد شریف کے قتل کے حقائق سامنے آ چکے ہیں، اور تحقیقات جاری ہیں، وقارنامی شخص کے بارے میں بھی جلد پتا چل جائے گا، ارشد شریف کا مبینہ ڈرائیور خرم اے آر وائی کا ملازم ہے، کینیا میں فارم ہاؤس کس کا ہے اس کی تفصیل ایک دو دن میں مل جائے گی۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جب بھی لانگ مارچ شروع کرنا ہوتا ہے تو انھیں لاش چاہیے ہوتی ہے، یہ ارشد شریف کی میت پر اپنے فسادی مارچ کی بنیاد رکھ رہے ہیں، اس نے نیوٹرل لفظ کو گالی کے طور پر استعمال کیا، عمران خان سب سے بڑا چور اور ڈاکو خود ہے۔

  • سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات مانگ لیئے

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات مانگ لیئے

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصل واوڈا تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کی، فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے دلائل دیے۔ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی 62 ون ایف کے تحت ڈکلیئریشن کو سپریم کورٹ برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں، کیوں نا سپریم کورٹ حقائق کی روشنی میں مکمل انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آرٹیکل 187 کا اختیار استعمال کرے۔

    وکیل وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ پچھلی سماعت پر نشاندہی ہوئی کہ ریٹرننگ افسر کو زائد المیعاد پاسپورٹ جمع کروایا گیا، زائد المیعاد پاسپورٹ ریٹرن افسر کو جمع نہیں کروایا بلکہ سپریم کورٹ میں غلطی سے غلط کاپی جمع کروا دی تھی۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ریٹرننگ افسر کو بھی زائد المیعاد پاسپورٹ ہی جمع کروایا تھا، ریٹرننگ افسر نے ریکارڈ دیکھ کر دستاویزات واپس کر دی تھیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ عجیب بات ہے کہ ریٹرننگ افسر نے ریکارڈ لیا بھی اور بس دیکھ کر واپس کر دیا، آپ اس کیس کے حقائق ثابت کرتے کرتے پھنستے نہیں جا رہے؟ وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بددیانتی مشکل سے مشکل تر ہو رہی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نادرا نے فیصل واوڈا کے شناختی کارڈ اور دستاویزات پر دستخط کیے لیکن تاریخ نہیں ڈالی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت انتخابات لڑنے کے لیے دوہری شہریت چھوڑنا شرط ہے نا کہ پاسپورٹ کینسل کروانا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے حقائق کی روشنی میں نااہلی لکھ کر دی جس کو ہائیکورٹ نے برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے حقائق نہیں ہائیکورٹ کا فیصلہ درست ہے یا غلط یہ دیکھنا ہے۔ جبکہ کیس کی سماعت 9 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

  • اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی

    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی

    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی

    ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو تاحیات توسیع کی پیش کش کی گئی۔ آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں؟۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ آپ کسی کو میر جعفر میر صادق کہیں جب کہ کوئی شواہد نہ ہوں۔ بالکل 100 فی صد جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنایا گیا۔ میر جعفر، میر صادق، غدار، نیوٹرل، جانور کہا گیا۔ یہ سب الزامات اس لیے ہیں کہ آرمی چیف اور ادارے نے غیر آئینی کام کرنے سے انکار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ اتنی روانی سے جھوٹ بولاجائے کہ فتنہ فساد کا خطرہ ہو تو چپ رہنا ٹھیک نہیں۔ میرے سینے میں بہت سی امانتیں ہیں جو سینے میں رکھ کر قبر میں چلا جاؤں۔ میرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے بتایا کہ مارچ میں آرمی چیف کو غیر معینہ مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی گئی، جسے جنرل باجوہ نے ٹھکرا دیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے مزید کہا کہ فیصلہ کیا تھا کہ ادارے کو متنازع رول سے ہٹا کر آئینی راستے پر لانا ہے۔ گزشتہ سال اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ہم نے خود کو آئینی حدود میں رکھنا ہے۔ گزشتہ سال اور اس سال مارچ میں ہم پر بہت پریشر آیا۔ اس نتیجے پر پہنچے کہ ادارے کا مفاد اسی میں ہے کہ سیاست سے نکل جائیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے مزید کہا کہ آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو ماضی قریب میں تعریفوں کے پل کیوں باندھے تھے؟۔ آپ اپنے سپہ سالار کو آفر کررہے ہیں کہ آپ ساری زندگی اپنے عہدے پر فائز رہیں۔ آرمی چیف کو پیشکش اس وقت کی گئی جب تحریک عدم اعتماد عروج پر تھی۔ رات کی خاموشی میں ہمیں بند کمروں میں ملیں، غیر آئینی خواہشات کا اظہار کریں۔ رات کے اندھیرے میں ملیں، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ دن کی روشنی میں غدار کہیں۔ آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو آج بھی چھپ کر اس سے کیوں ملتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ارشد شریف کا اسٹیبلشمنٹ اور مجھ سے بھی رابطہ تھا۔ ارشد شریف کے خاندان میں غازی اور شہید بھی ہیں۔ کینیا میں انکوائری ہورہی ہے، میں کینیا میں ہم منصب سے رابطے میں ہوں۔ جو تحقیقات ہورہی ہیں اس میں حکومت اور ہم مطمئن نہیں ہیں، اسی لیے حکومت نے تحقیقاتی ٹیم کینیا بھیجی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ہر شہری کا آئینی حق ہے کہ آزادی اظہار رائے کرے۔ ہمارا محاسبہ کریں کہ مگر پیمانہ یہ رکھیں کہ میں نے ملک و قوم کے لیے کیا کیا۔ یہ پیمانہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے آپ اور آپ کی ذات کے لیے کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی خطرات اور عدم تحفظ سے خطرہ نہیں ہے، پاکستان کو اگر کوئی خطرہ ہے تو عدم استحکام سے ہے۔ پاکستان کا دفاع اس لیے مضبوط ہے کہ اس کی ذمہ داری 22 کروڑ عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو کسی لانگ مارچ، دھرنے اور احتجاج سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن ملک کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دیں گے اور اس حوالے سے آرمی چیف کی بات ٹھیک ہے۔ ایک صحافی کی جانب سے عمران خان کو لانے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس آئی نے جواب دیا کہ اس پر سیر حاصل گفتگو پھر کبھی ہوسکتی ہے۔

    جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے بیانیے سے لوگوں کو گمراہ کیا گیا، سائفر اور ارشد شریف کی وفات کے حوالے سے حقائق پر پہنچنا بہت ضرری ہے۔ پاکستان کے اداروں، بالخصوص فوج کو سازش کا حصہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ سیاست مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔ پروپیگنڈے کے باوجود آرمی چیف نے نہایت تحمل سے کا مظاہرہ کیا۔ 27 مارچ کو جلسے میں کاغذ کا ٹکڑا لہرانا حیران کن تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوج کے پولیٹیکل اسٹاف کا متنازعہ نہ بنایا جائے۔ ارشد شریف کو کینیا جانے کا کیوں کہا گیا اور ارشد شریف کو دبئی سے جانے پر کس نے مجبور کیا ؟ اور بھی تو 34 ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کے لیے ویزا فری انٹری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق ارشد شریف کو سرکاری سطح پر دبئی جانے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ عرب امارات میں ارشد شریف کے قیام و تعام کا کون بندوبست کر رہا تھا۔ تحقیقات کے لیے نمائندوں اور ماہرین کو بھی شامل کرنا چاہیے اور اگر ارشد شریف کیس منطقی انجام تک نہ پہنچا تو اس کا بہت نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم غدار، سازشی یا قاتل نہیں ہو سکتے۔ پاکستانی سفیر کی رائے کو اپنی سازش کے لیے استعمال کیا گیا۔ ملک اور ادارے کا مفاد ہے کہ ہم خود کو آئینی کردار تک محدود رکھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ معاملات میں سی ای او سلمان اقبال کا نام بار بار آتا ہے انہیں پاکستان لایا جائے اور متنازعہ پروگرام کے حوالے سے اے آر وائے کے عماد یوسف سے پوچھا گیا تو عماد یوسف نے بتایا کہ سی ای او سلمان اقبال نے ہدایات دیں کہ انہیں فوری ملک سے باہر بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریول پلین کے مطابق 9 ستمبر 2022 کو ارشد شریف کو واپس آنا تھا۔ ارشد شریف نے اداروں پر بہت تنقید کی لیکن اس کے باوجود ان سے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور سائفر معاملے کے بعد بھی ارشد شریف پاکستان میں ہی رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ صدر پاکستان کی جن ملاقاتوں کا کہا جا رہا ہے وہ ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ملاقاتیں منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔ بلا ضرورت سچ بھی شر ہے۔ پاکستان جمہوری ملک ہے، دوستوں اور دشمنوں کا فیصلہ کرنا منتخب حکومت کا کام ہے جبکہ فوج یا ادارے کا کام خفیہ معلومات اور رائے دینا ہے۔ پاکستان کو بیرونی خطرات یا عدم تحفظ سے خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف قتل کی کینیا میں بھی انکوائری ہو رہی ہے اور میں کینیا کے اپنے ہم منصب سے رابطے میں ہوں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شناخت کی غلطی کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا تاہم شناخت کی غلطی پر قتل کے معاملے پر ہم اور حکومت پاکستان مطمئن نہیں ہیں۔

  • الیکشن کمیشن کو 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں. سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں. سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں. سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کو 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں، جب غلط ہوتا نظر آرہا ہو تو سپریم کورٹ آرٹیکل 187 استعمال کیوں نہ کرے۔ سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا تاحیات نااہلی کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کے وکیل سے 2 سوالوں کے جواب مانگ لئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ کی 62 ون ایف کے تحت ڈکلئیریشن سپریم کورٹ برقرار رکھ سکتی ہے، کیوں نہ سپریم کورٹ مکمل انصاف کے لیے آرٹیکل 187 کا اختیار استعمال کرے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ذاتی خیال ہے الیکشن کمیشن کو 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں۔ جسٹس منصور نے ریمارکس دیئے کہ جب غلط ہوتا نظر آرہا ہو تو سپریم کورٹ آرٹیکل 187 استعمال کیوں نہ کرے۔ فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے مؤقف پیش کیا کہ اختیارات تو سپریم کورٹ کے بہت ہیں، کسی کو بھی پھانسی لگا سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    ارشد شریف کا نماز جنازہ دو بجے فیصل مسجد میں ادا کیا جائے گا، انتظامات مکمل
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کے نکات پر سوچ لیجئے، سماعت ملتوی کردیتے ہیں، اس کیس میں نا صرف سینئیر بلکہ دو سابق چیئرمین سینیٹ وکلاء ہیں۔ وکیل وسیم سجاد نے استدعا کی کہ سماعت آئندہ ہفتے نہ رکھیں گڑ بڑ لگ رہی ہے۔ چیف جسٹس نے وسیم سجاد سے استفسار کیا کہ کیا آپ اگلے ہفتے گڑبڑ کی توقع کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی۔

  • ارشد شریف قتل؛ کسی بھی فورم کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہو. عمران خان

    ارشد شریف قتل؛ کسی بھی فورم کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہو. عمران خان

    ارشد شریف قتل؛ کسی بھی فورم پر پیش ہونے کو تیار ہو. عمران خان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہےکہ ارشد شریف کو انہوں نے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا اور اس معاملے پر کسی بھی فورم پر بلا لیا جائے تو تمام تفصیلات سامنے لے آؤں گا۔ ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ پرُامن ہوگا اور مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر تعداد ظاہر کردے گی کہ پاکستانی قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں، کیونکہ دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان بنانا ری پبلک نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ارشد شریف کو میں نے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا، لہذا میں ہر قسم کے فورم میں پیش ہونے کو تیار ہوں، سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ایسا چاہتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کی اہمیت ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کینسر کا پتہ لگانے کیلئے تشخیصی پراجیکٹ پاکستانی آبادی سے نمونے اکٹھے کرے گا. ڈاکٹر عاصمہ
    ٹی 20 ورلڈ کپ: آج پاکستان اپنا دوسرا میچ زمبابوے کے ساتھ کھیلے گا
    ایران میں شاہ چراغ کےمزار پردہشتگردوں کا حملہ،15 زائرین جاں بحق
    علاوہ ازیں فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر رد عمل میں عمران خان نے کہا کہ غیر معمولی لڑائیوں میں پیادےاپنی اوقات سے بڑھ کرکام کرجاتے ہیں۔ لہذا ان چیزوں کا ہمیں پتہ ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے باقی ہر جماعت اندر چھوٹے موٹے اختلافات ہوتے ہیں اور انہیں مل بیٹھ کر حل کیا جاتا ہے.

  • سینئر صحافی ارشد شریف کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی

    سینئر صحافی ارشد شریف کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی

    اسلام آباد:مقتول صحافی ارشد شریف کی میت پوسٹمارٹم کے بعد لواحقین کے سپرد کردی گئی۔اطلاعات کے مطابق ورثاء کی درخواست پر پمز اسپتال میں ڈاکٹرز کے 8 رکنی بورڈ نے مقتول کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا اور نمونے ٹیسٹ کیلئے مختلف لیبارٹریز بھجوادیے گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ارشد شریف کی میت دوبارہ قائداعظم اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔

    ورثاء کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ جمعرات کو دن 2 بجے فیصل مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین ایچ الیون قبرستان میں ہوگی۔

    دوسری جانب وزارت داخلہ نے کینیا میں ارشد شریف کے قتل کیلئے کیلئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔

    ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد پر مشتمل کمیٹی کینیا روانہ ہوگئی جہاں قتل کے شواہد حاصل کرنے اور ارشد شریف کے پاکستان سے دوبئی اور پھر کینيا جانے کی وجوہات اور محرکات کا کھوج لگائے گی۔

    یاد رہے کہ سینئر اینکر پرسن ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم تین سے زائد گھنٹے جاری رہا، مختلف شعبوں کے سنیئر ڈاکٹرز نے تفصیلی معائنہ کیا اور ارشد شریف کے جسم کا سی ٹی اسکین اور ایکسرے کئے گئے۔

    اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ایکسرے، سی ٹی اسکین میں پورے جسم کی ہڈیوں کی جانچ کی گئی، ارشد شریف کے کندھے، سر کی ہڈی ٹوٹی پائی گئی ہے، ارشد شریف کے سر، کندھے کے علاوہ تمام ہڈیاں اصل حالت میں ہیں۔

    رپورٹ میں بتائے گئے زخموں کی نوعیت کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف کو گولی دور سے لگی ہے، ایک گولی سر اور دوسری گولی سینے وکندھے کے بیچ میں لگی ہے، کندھے پر لگنے والی گولی سے ہڈی ٹوٹی، اندرونی اعضاء شدید متاثر ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے کندھے پر لگنے والی گولی کے ٹکڑے جسم میں تاحال موجود ہیں اور ارشد شریف کے سر میں لگنے والی گولی آر پار ہو گئی تھی۔

    اس سے قبل سینئر صحافی ارشد شریف کا جسد خاکی پاکستان پہنچنے پر گزشتہ شب ان کے اہل خانہ کے سپرد کردیا گیا تھا، جس کے بعد اہل خانہ کی جانب سے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور میڈیکل ڈائریکٹر پمز نے پوسٹ مارٹم کے لیے 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

    میڈیکل بورڈ کے ارکان میں کلینیشین، سرجنز اور سینئر ترین میڈیکولیگل افسران سمیت 6 سینئر ترین ڈاکٹر شامل تھے جب کہ متوفی کے اہل خانہ کی خصوصی درخواست پر مزید 2 افراد کا اضافہ کیا گیا، جن میں ای این ٹی سرجن اور او ایم ایف ایس سرجن شامل تھے۔