راولپنڈی :آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں جرمنی کے سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے آج جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی مجموعی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں معزز مہمان نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر دکھ کا اظہار کیا اور متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔
آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرمنی کے سفیرنے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔
اس موقع پر آرمی چیف نے معزز مہمان کو سفیر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔
لاہور:ہمارے انتہائی شفیق ساتھی ارشد شریف کو کینیا میں شہید کردیا جاتا ہے ، ان کے موبائل فونز اور ان کا لیب ٹاپ غائب کردیا جاتا ہے، یہ اتنا بڑا خطرناک کھیل کوئی عام بندہ نہیں کرسکتا ، وہاں ایم کیوایم الطاف حسین کے کارندے بھی موجود ہیں مگریہ منظم کھیل کوئی عام بندہ نہیں کھیل سکتا
ان سیدھی سادھی باتوں کا اظہارکرتے ہوئے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ وہ بہت دکھی ہیں کہ ایک پاکستان کے ایک بڑے نام کو کینیا میں اس کو مروادیا جاتا ہے ، یہ لوگ کون ہیں ان کو منظرعام پر لانا ہوگا ،
سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس موقع پر مریم نوازکو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کسی کی وفات پر اس طرح طعنے نہیں دیے جاتے اور نہ ہی اس قسم کی گھٹیا سوچ کا کوئی تصور کرسکتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے جو آج صبح ٹویٹ کی ہے ،اس نے بہت دکھی کردیا ہے ، اس کو اس قسم کی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ، مریم کا اپنی والدہ محترم کی وفات کو ارشد شریف کی وفات سے لنک کرکے طعنہ نہیں دینا چاہیے تھا ، سب نے اس جہان فانی سے کوچ کرجانا ہے ، ، اگر کسی سے کوئی زیادتی ہوگئی ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب کو جانے والی کی تمام غلطیاں معاف کردینی چاہیں ، اور اگرہمارے اختیار سے معاملہ باہرہے تو جس ذات کے پاس جانے والا جارہا ہےوہ بہتر جانتا ہے
مریم نواز جو آپ نے حرکت کی اب تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰآپ کو ہمارے اوپرحکمران نہ بنائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جومریم نوازلہجہ اور رویہ اپنا رہی ہیں یہ زیب نہیں دیتی ،عمران خان پر بھی تنقید کرتا رہا ہوں کہ ان کوچھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے لیڈر بنیاد نہیں بناتے لیکن آپ نے توتمام ضابطے ہی توڑ دیے ،
مبشرلقمان نے کہا کہ ارشد شریف سے سیاسی اختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن یاد رکھیں ارشد شریف اس وطن عزیز کا وہ بیٹا ہے کہ جس کی وفات پر پاکستان کے ہرگھر سے رونے اورآہوں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی ہیں، بے نظیربھٹو کے بعد ارشد شریف ہیں کہ جن کی وفات پر ہرپاکستانی دکھی ہے، بلکہ ارشد شریف کی وفات پرجہاں کہں بھی پاکستانی موجود ہیں یا صحافت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں وہ سب غمگین اور دکھی ہیں کہ کس طرح ایک حق کی آواز کوطاقت کے ساتھ دبا دیا گیا
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ میں جہاں بھی جارہا ہوں وہاں مجھے ارشد شریف کی شہادت پرہرکوئی دکھی نظرآرہا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ارشد شریف کی سیاسی سوچ سے تواختلاف کرسکتا ہے لیکن ارشد شریف جیسا ہونہار، تابندہ اور ملک وقوم کا خیرخواہ صحافی بے بسی کی حالت میں ماردیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ایک ہیرا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ہے
مبشرلقمان نے دکھ بھرے لمحات بیان کرتےہوئے کہا ہے کہ کل جب میں نے یہ خبر سنی تو میں کاشف عباسی سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ کاشف کا کہنا تھا کہ میں نے خبردینے والوں سے معذرت کی اور کہا کہ میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ میں ایک دکھی ماں ، بچوں کوان کے پاپا کی وفات کی خبر دوں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بھی ہوتا تو یہ نہ کرسکتا تھا
مبشرلققمان نے کہا کہ کل سے ہرکوئی ارشد شریف کی شہادت والی تصاویر ہر کوئی شیئر کررہا ہے جوکہ نہیں کرنی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح دبئی حکومت نے ارشد شریف کو ملک بدر کیا ایسے تو کوئی بھی نہیں کرسکتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرڈی پورٹ کرنا تھا تو پاکستان کردیتے جیسے کیا جاتا ہے تو پھر کس کے کہنے پران کو کینیا کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس جس طرح جرائم کرتی ہے ان کے مقابلے میں تو پنجاب پولیس والے تو فرشتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اتنا زیادہ تضاد ہے کہ میرےجیسے بندہ 10 منٹ میں انکی اصلیت سامنے لاکردکھا دوں گا
مبشرلقمان کاکہنا تھا کہ وہ دونوجوان کون تھے ،خرم اور وقار بنیادی طور پر الطاف حیسن کے بندے ہیں یہ بوری بند لاشوں کے ڈیلر ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ان دونوجوانوں کے فارم کے نزدیک واردات ہوئی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کو کینیا کس نے بھیجا ، بعض کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ وہ ریل اسٹیٹ کے سلسلے میں آیا تھا لیکن یہ درست نہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں کو پولیس تحفظ دے رہی ہے، انکا کہنا تھا یہ بڑی خطرناک گیم ہے ،
ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ہرکوئی تحقیقات کرنے پر لگا ہوا ہے ، خرم اور وقار کو کون بچا رہا ہے ، ارشد شریف کے موبائلز اور لیب ٹاپس کس کے پاس ہے ، یہ عام بندہ نہیں کرسکتا ہے یہ بڑی قوت ہے جو خرم اور وقار کو بچانے کے لیے کوششیں کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ وہاں ہورہا ہے اور ہم یہاں الجھے ہوئے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ اطہرمن اللہ نے درست فیصلہ کیا کہ انہوں نے جوڈیشیل کمیشن نہیں بنایا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں جوڈیشل کمیشن کیا کرے گا ، جب بڑے اثرانداز ہوں گے ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف جیسا سمجھدار ، زیرک اورملک وقوم کا خیرآدمی جس طرح اس کوراستے سے ہٹایا گیا، اور جس طرح وہ بیچارہ پاکستان سے دبئی ، پھر دبئی سے لندن اور پھرلندن سے دبئی اورپھردبئی سے کینیا اس کے پیچھے کون سی قوتیں تھیں جو اس کا پیچھا کررہی تھیں ، ارشد شریف کن کے راستے میں رکاوٹ تھا جواس کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے ، یہ بہت ہی ایک خطرناک کھیل ہے ،وہ ایک محبت وطن ، سب کی آنکھوں کا تارا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ، وہ تو اگلے سفر پر روانہ ہوچکا جہاں ہرکسی نے جانا ہےمگرافسوس کہ اتنے بڑے سانحے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا ، وہی منفی سوچ ، وہی الزام تراشیاں ، اس موقع پر ابصار عالم کے واقعہ کو بنیاد بنا کرجوزبان درازی کی جارہی ہے ، یہ سب باتیں بے فائدہ اور تکلیف دہ ہیں ، ارشد شریف کوئی اور نہیں تھا وہ بھی ہمارا ہی تھا اس کی شہادت پرہمیں اس قسم کے پراپیگنڈے سے باز رہنا چاہیے اور اس کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کرنی چاہیں
ارشد شریف قتل؛ تحقیقات کیلیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے اینکرپرسن ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ معروف صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کو اتوار کی رات کینیا میں پولیس نے مبینہ طور پر شک کی بنیاد پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ہائی کورٹ کے فاضل جج کریں گے۔ عدالتی کمیشن کے سربراہ تحقیقات کے لئے سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی رکن لے سکیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کل کینیا میں پاکستان کے نامور صحافی ارشد شریف کے قتل کا جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہےوہ قابل مذمت ہے اور پاکستان کے عوام انکی موت پہ انتہائی افسردہ ہیں.میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اعلیٰ عدالتی کمیشن سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کروائیں گے.پوری قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ واقعہ کو ہم سب کیلیے قابل افسوس ہے اس کی بے لاگ اور شفاف تحقیق ہوگی اور حقائق پوری قوم کے سامنے لائے جائیں گے.
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی ارشد شریف کی کینیا میں ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست پر ریمارکس دیئے تھے کہ یہ دو ملکوں کا معاملہ ہے، اس مرحلے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں۔ارشد شریف کا جسد خاکی منگل اور بدھ کی درمیانی رات اسلام آباد پہنچایا جارہا ہے اور ان کی تدفین جمعرات کو ہوگی۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ کوئی حکومت بلدیاتی انتخابات کرانا نہیں چاہتی۔
الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پنجاب میں دو بار حلقہ بندیاں کر چکے ہیں، اب تیسری مرتبہ حلقہ بندی کرنی ہو گی۔رولز کی کاپی درکار ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے سماعت کے دوران بتایا کہ جلد ہم ڈی مارکیشن کر لیں گے۔ 25 ہزار آبادی پر حلقہ بن جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمیں درکار دستاویزات فراہم کرے۔ پنجاب میں تیسری مرتبہ بلدیاتی حلقہ بندی مذاق نہیں ہے۔ اگر الیکشن کمیشن پرانے قانون پر بلدیاتی انتخابات کرا سکتا ہوا تو آج ہی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیں گے ۔ نئے قانون پر بلدیاتی انتخابات کرانے ہیں تو چیف سیکرٹری صاحب ہمیں یقین دہانی کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن آج آپ سپریم کورٹ کو دوبارہ خط لکھیں۔ اب الیکشن کمیشن چیف سیکرٹری کو ہدایت کرے گا اور آرڈر پاس کریں گے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی نے نیا بل منظور کر لیا ہے، وہ 10 دن میں قانون بن جائے گا ۔ نئے قانون کے مطابق چلیں، ہم ٹائم لائن کو فالو کریں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو لگتا ہے کہ الیکشن ای وی ایم پر ہو سکتا ہے۔ آپ جان بوجھ کر ای وی ایم ڈال رہے ہیں کہ مسئلہ بنے۔ یہ جان بوجھ کر سٹنٹ ہے ، آپ کو اپنی سیاسی قیادت کو گائیڈ کرنا چاہیے۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہم آرڈر پاس کریں گے۔
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد شریف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کی، وزارت داخلہ اور خارجہ کی جانب سے ارشد شریف کے قتل سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے پاس جمع کرائی گئی۔
باغی ٹی وی :دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ارشد شریف کی فیملی کے پاس گیا ہے؟ کیا انہیں کوئی معاونت چاہئے؟،جس پربیرسٹر شعیب رزاق نے بتایا کہ ارشد شریف کی ڈیڈ باڈی آج پہنچ جائے گی-
بیرسٹر شعیب رزاق نے عدالت سے استدعا کی کہ قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،ریاستی ادارے اس معاملے کو زیادہ بہتر حل کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وہ آج صرف اسی کیس کی سماعت کے لیے آئے ہیں، اس موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہوا ہے،کینیا کی حکومت کی جانب سے رپورٹ آ جائے، اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض ہوا تو اس کیس کو مزید سن لیا جائے۔
سینئر صحافی ارشد شریف کی میت نیروبی سے دوحہ پہنچا دی گئی ہے، دوحہ سے اسلام آباد کےلیے پرواز رات 9بجکر 35منٹ پر اڑان بھرے گی۔ ارشد شریف کی میت رات ایک بجکر 5 منٹ پر اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچا دی جائے گی۔ مرحوم کی بیوہ کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف کی تدفین جمعرات کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں کی جائے گی۔
کینیا پولیس کے انسپکٹر جنرل کے مطابق مرم روڈ پر پولیس کی فائرنگ سے پاکستانی ارشد شریف کی موت واقع ہوئی، متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ سینیر صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف اے آر وائی نیوز، دنیا نیوز، آج ٹی وی اور ڈان نیوز سے منسلک رہے۔ بیرون ملک جانے سے پہلے ارشد شریف کچھ مہینے پہلے اے آر وائی سے منسلک تھے، ارشد شریف کو حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ مختلف صحافیوں کی طرف سے ارشد شریف کی کینیا میں موت کے واقعے سے متعلق تعزیتی ٹویٹ کیے گئے۔
ارشد شریف کی والدہ نے وزیراعظم سے مرحوم کی میت جلد پاکستان لانے کی درخواست کی جس پر شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ حکومت کینیا کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے، میت وطن لانے کیلئے خارجہ اور داخلہ وزارتوں کوفوری اقدامات کی ہدایت کی ہے وزیراعظم نے مرحوم کی والدہ کویقین دہانی کرائی کہ ضابطےکی کارروائی مکمل ہوتے ہی میت پاکستان لائیں گے۔
ارشد شریف کی والدہ نے وزیراعظم سے گفتگو میں کہا کہ آپ چھوٹے بیٹے کی وفات پربھی تعزیت کیلئے آئے تھے۔
وزیراعظم نے خارجہ اورداخلہ سیکرٹریز کو میت لانے کاعمل تیز بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دونوں وفاقی سیکرٹریز کو کینیا کے حکام سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب کینیا میں قتل ہونے والے پاکستان کے سینیئر صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے تصدیق کی ہےکہ ان کے مقتول شوہر کی میت آج منگل کو پاکستان پہنچےگی اورتدفین ایچ الیون قبرستان اسلام آباد میں جمعرات ہوگی مقتول صحافی کی میت کی پاکستان منتقلی کی تیاریاں شروع کردی ہیں اورمیت جلد سےجلد اسلام آبادپہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی نااہلی کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا 36 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبر پنجاب الیکشن کمیشن بابر حسن بھروانہ سمیت چاروں ممبران کے دستخط موجود ہیں۔
ممبر الیکشن کمیشن پنجاب بابر حسن بھروانہ ڈینگی کا شکار ہونے کے باعث توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر دستخط نہیں کر سکے تھے، بابر حسن بھروانہ نے گزشتہ روز توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر دستخط کیے تھے۔
یاد رہے کہ 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو کرپٹ پریکٹس کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں 5 سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا جس کے خلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع بھی کر رکھا ہے۔
ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوریہ کینیا کے صدر ولیم روٹو کو ٹیلی فون کیا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے کینیا کے صدر سے پاکستانی سینئر صحافی ارشد شریف کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر بات کی وزیراعظم نے واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات پر زور دیا وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی قوم اور میڈیا برادری کی جانب سے واقعے پر شدید تشویش سے کینیا کے صدر کو آگاہ کیا
وزیراعظم شہباز شریف نے مرحوم ارشد شریف کی میت کی جلد وطن واپسی کے لئے ضابطے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی درخواست کی، کینیا کے صدر نے واقعے پر افسوس کا اظہارکیا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کروائی، کینیا کے صدر نے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ جلد دینے کی یقین دہائی کروائی، کینیا کے صدر نے مرحوم ارشد شریف کی میت کی واپسی کے عمل کو تیز بنانے کی یقین دہانی کروائی،
واضح رہے کہ کینیا میں پولیس کی فائرنگ سے ارشد شریف کی موت ہوئی ہے، وزیراعظم، صدر مملکت سمیت سیاسی شخصیات نے ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے ارشد شریف کی موت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے
کانفرنس میں اداروں کے خلاف بلا جواز نعرہ بازی ،وزیراعظم نے کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایک کانفرنس میں اداروں کے خلاف بلا جواز نعرہ بازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی حکومت اور میری جماعت آئین کے مطابق ہر شہری کے آزادی اظہار کے حق کو یقینی بنانے کے پختہ عزم پر کاربند ہے
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کو خود ایسے فورمز مہیا کرتی ہے جہاں وہ عوامی اہمیت کے امور پر اپنے اختلافی نکتہ نظر اور آرا کا پوری آزادی سے اظہار کریں ایسے فورمز کا فروعی سیاسی مفادات کے لئے ریاستی اداروں بالخصوص مسلح افواج کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کرنا افسوسناک ہے مسلح افواج کے افسران اور جوان اندرونی و بیرونی خطرات سے ملک کو بچانے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آزادی اظہار رائے کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے کی قوم کو یقین دہانی کراتے ہوئے اتوار کو ریاستی اداروں کے خلاف بلاجواز نعرہ بازی کی مذمت کی اور کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ چند شرکا کی طرف سے ایسا کیا گیا ہمیں عوامی سطح پر زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے