Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سارہ قتل کیس:  صحافی ایاز امیر ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    سارہ قتل کیس: صحافی ایاز امیر ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ قتل کیس میں مرکزی ملزم کے والد صحافی ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صحافی ایاز امیر کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سول جج زاہد ترمذی کی عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے ملزم کے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے ایک روز کا ریمانڈ منظور کیا۔

    ملزم شاہنواز اور مقتولہ کے درمیان لڑائی کی وجوہات سامنے آ گئیں

    ایاز امیر کے وکیل نے عدالت میں موقف دیا کہ میرا موکل مقدمے میں نامزد نہیں، ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں-

    دوسری جانب پولیس نے صحافی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ کیس ہائی پروفائل ہے اس لیے ملزم کے والد سے تفتیش ضروری ہے۔

    بیوی کو قتل کرنے والے ایاز امیر کے بیٹے کا میڈیکل کروانے کا حکم

    واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد کے فام ہاؤس میں ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کر دیا تھا۔کالم نگار ایازامیر کو بہو سارہ کے قتل کیس میں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا-

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد نے بیوی کے قتل کے ملزم شاہنواز امیر کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا جبکہ ان کے والد ایاز امیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے پولیس نے مرکزی ملزم کے والدین ایاز امیر، ان کی اہلیہ ، ملزم کے چچا اور چچی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا بھی کر رکھی ہے۔

    ایاز امیر کے بیٹے کی سفاکیت،جسٹس فار سارہ،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکینڈل،وزیراعظم آفس کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو ڈارک ویب پر برائے فروخت،ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ ذمہ دار کون؟

    پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک اور تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اسکئینڈل سامنے آیا ہے وزیر اعظم ہاؤس کی 8 جی بی ڈیٹا کی آدیو ریکارڈنگ ڈارک ویب پر فروخت ہو رہی ہے ،100 فائلز ڈارک ویب پر ہے 100 گھنٹے کی ریکارڈنگ اور وہ بھی عالمی مارکیٹ بولی لگ رہی ہے-

    شہباز شریف کی مبینہ طور پر مریم کے داماد کے لیے سرکاری افسروں پر دباو کی مبینہ…

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر شیئر کیے گئے دو منٹ سے زیادہ طویل آڈیو کلپ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور پی ایم ایل این کی نائب صدر مریم نواز شریف کے درمیان پی ایم ایل این کے نائب صدر کو مبینہ طور پر احسان کرنے پر گفتگو سنی جا سکتی ہے-

    جس میں مریم نوز کا داماد بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری درآمد کرے گا پی ٹی آئی نے آئی بی پر تنقید کی۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی 100 گھنٹے سے زائد گفتگو اگست سے ستمبر تک ویب سائٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے۔


    انہوں نے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ایجنسیز کو سیاسی ٹاسک سےفرصت ملتی تو وہ حساس معاملات پر نظر ڈالتے، سوال یہ ہے اتنے بڑے واقعہ پر حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ فون ہر گیمز کھیلنے سے فرصت مل جائے تو مؤقف بھی دے دیں-

    عالمی بینک کا پاکستان کو 2 ارب ڈالرز فنڈز فراہم کرنے پر غور


    مبصرین کی جانب سے سوال اٹھائےجا رہے ہیں کہ اصل سوال تو یہ ہے کہ 100 گھنٹوں سے اوپر کی ریکارڈنگ ہوئی کیسے؟ کیا وزیراعظم ہاؤس کو Bug کیا گیا ہوا ہے؟ وزیراعظم ہاؤس میں خارجہ پالیسی سمیت تمام تر حساس موضوعات پر بھی بات چیت ہوتی تو کیا یہ سب ڈیٹا اب ہیکرز کے ہاتھ ہے؟ یہ سیاسی ایشو نہیں، پاکستان پر سائیبر حملہ ہے-

    تبصرہ نگاروں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ابھی تک کوئی پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ ترین آئی ایم ایف آڈیو لیک پر ن لیگ نے کافی کام کیا تھا جس میں شوکت ترین کو اب ایف بی آئی انکوائری کا سامنا ہے۔


    مبشر زیدی نے کہا کہ وزیر اعظم اور مریم نواز کو ان آڈیو لیکس پر اپنا رد عمل دینا چاہئے۔ کسی دوسرے ملک میں ایسی لیکس آتیں تو ابھی تک انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان مستعفی ہو چکے ہوتے-

    لاہور قلندرز نے فلڈ ریلیف فنڈ جمع کرنے کیلئے پی ایس ایل 7 کی ٹرافی پبلک کردی


    پولیٹیکل اینالسٹ راحیق عباسی نے کہا کہ آڈیو لیک کاافسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ فائلزویب پر اگست سے فار سیل ہیں اور 3 ستمبر کو منتخب آڈیوز کو ٹویٹر پر پبلکی شیئر کر دیا گیا۔ لیکن کیا ہماری سیکورٹی ایجنسیز کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی ؟؟ کیا ایجنسیوں کی ساری توجہ عمران خان، ان کی حامی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکتوست پر ہی ہے؟؟-


    پولیٹیکل اینالسٹ نے کہا کہ وزیر اعظم ہاوس کی 8GB آڈیو ریکارڈنگ 100 فائلز ۔ ہر فائل تقریبا ایک گھنٹے کی یعنی کم و بیش 100 گھنٹے کی ریکارڈنگ کی عالمی مارکیٹ میں بولی لگ رہی ہے۔اتنی بڑی security breach پر کس کس کو مستعفی ہو جانا چاھئیے ؟؟؟-


    لیک آدیوز پر ردعمل دیتے ہوئے PITB کے سابق چیئرمین عمر سیف نے کہا کہ پاکستان کی سائبر اسپیس محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس جگہ کی ترقی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ ایک اہم قومی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو سیاسی سنسنی خیزی سے بالاتر ہو کر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا خطرہ ہے-

    عالمی رہنماؤں نے یقین دلایا کہ پورے اخلاص کے ساتھ پاکستان کی مدد کی جائے…

    آڈیو لیکس میں کیا ہے؟

    تین ستمبر کو ایک غیر معروف ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ ہونے والی آڈیو آج وائرل ہو گئیں۔ تمام آڈیوز وزیراعظم ہاوس کی ہیں۔ ان آڈیوز میں وزیراعظم شہباز شریف ۔ ن لیگی نائب صدر مریم نواز کی گفتگو شامل ہے تو وہیں ایک آڈیو میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہ گفتگو بھی شامل ہے۔ آڈیو میں ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کال ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ مختلف محفلوں اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو ہے

    ایک آڈیو میں وزیراعظم شہباز شریف کسی شخص سے مریم کے داماد کی ڈیمانڈ کی بات کرتے ہیں جس پر وہ شخص منع کر دیتا ہے کہ نہیں اس سے بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا جس پر شہباز شریف کہتے ہیں کہ میں مریم کو بلا کر سمجھا دوں گا-

    آڈیو کلپ میں وزیر اعظم شہباز کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ مریم نواز نے ان سے اپنے داماد راحیل کو بھارت سے پاور پلانٹ کے لیے مشینری کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کا کہا تھا۔

    ایک آڈیو میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری بارے مشاورت ہو رہی ہے۔ اس آڈیو میں رانا ثناء اللہ ۔ خواجہ آصف کی آواز واضح ہے جبکہ دیگر بھی کچھ شخصیات کی آواز ہے-

    وقت آ گیا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے،عارف علوی

    ایک آڈیو میں مریم نواز غالباً وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بارے میں بات کر رہی ہیں اس میں وزیراعظم شہباز شریف کی بھی آواز ہے مریم نواز کہتی ہیں کہ وہ جس طرح کے کام کر رہا ہے اس سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے بہت لوگ شکایتیں کر رہے۔ کچھ بھی نہیں پتہ اسے کہ اس کام کا ردعمل کیا ہونا اور اثر کیا ہو گا

    وزیراعظم ہاوس کی تین ستمبر کو لیکڈ ہونے والی آڈیو یکدم کیسے وائرل ہو گئیں؟ مبینہ طور پر عمران خان کی آئی ٹی ٹیم نے عمران خان کے وزیراعظم ہاوس سے جانے سے قبل مختلف مقامات پر خفیہ ڈیوائسز لگا دی تھیں اور اب ان ڈیوائسز میں ہونے والی تمام ریکارڈنگ کو پبلک کیا جا رہا ہے-

    وزیراعظم ہاوس کی آڈیو لیک ہونے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب حکومتی کیمپ میں اس حوالہ سے مکمل خاموشی ہے کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آڈیو تین ستمبر کو ٹویٹ کی گئی تھیں۔ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان قدرتی آفت سیلاب کا شکار ہو چکا ۔ پاکستانی مشکلات میں ہیں۔ دنیا پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی قوم کے لیے دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان آڈیوز کا لیک ہونا وزیراعظم کے کامیاب دورہ امریکہ کو متاثر کرنے کے لیے ہے

    ہمیں تعمیر نو اور بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے،بلاول بھٹو

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان آڈیوز کا لیک ہونا شریف خاندان کی اندرونی چپقلش ہے۔ مریم نواز کے داماد کا کام نہ ہونے کی وجہ سے آڈیوز لیک کروائی گئیں۔ مفتاح اسماعیل سے مریم خوش نہیں تھیں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مریم نواز ٹویٹر پر اپنے جذبات کا اظہار کر چکی ہیں اب آڈیو میں بھی مریم نواز کی مفتاح اسماعیل بارے گفتگو سے تصدیق ہو چکی ہے-

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے سے متفق نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی حکومت میں تھی یا نہیں، اس طرح کے فیصلے ان کے پاس نہیں۔

  • بہو قتل کیس۔ ایاز امیر گرفتار

    بہو قتل کیس۔ ایاز امیر گرفتار

    اسلام آباد:اسلام آباد پولیس نے بہو کے قتل کیس میں معروف صحافی ایاز امیر کو گرفتار کرلیا۔اس حوالے سے تصدیق کی جاری ہےکہ پولیس نے واقعی ایازامیر کو گرفتار کرلیا ہے اوربہوکےقتل کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی

    اسلام آباد کی عدالت نے سینئر صحافی ایاز امیر اور اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست منظور کی تھی، جب کہ بہو کے قتل کے الزام میں پولیس کو ان کے بیٹے شاہنواز امیر کا 2 روز کا جسمانی ریمانڈ بھی دیا تھا۔

     

     

    شہزاد ٹاون پولیس نے ایاز امیر کو گرفتار کر لیا، ایاز امیر کو سارا قتل کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، آج اسلام آباد پولیس نے ایاز امیر کو مقدمےمیں نامزد کیا تھا۔ مقدمےمیں 302 کےساتھ دفعہ 109 بھی شامل کی گئی ہے، ایاز امیر اور انکی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش کیا جائےگا،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے حکم پر سینئر صحافی ایاز امیر کو وفاقی دارالحکومت سے گرفتار کرلیا۔اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایاز امیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔یاد رہے کہ ایاز امیر کی بہو سارہ انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے گھر میں قتل کردیا تھا۔

    ادھرپوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کينيڈين نژاد مقتولہ سارہ انعام کے ماتھے اور چہرے پر زخم کے نشان پائے گئے جبکہ ان کے ہاتھوں اور بازؤں پر بھی چوٹیں تھیں۔

    اس قتل کے کے سلسلے میں اسلام آباد میں معروف سینیر صحافی ایاز امیر کی بہو کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ شہزادہ ٹاؤن کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر باتھ روم ٹب میں چھپائی گئی لاش اور صوفے کے نیچے چھپائے گئے آلہ قتل ڈمبل کو برآمد کیا۔

    درج کی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو ملزم کی ماں نے قتل سے متعلق آگاہ کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کی والدہ کا کہنا تھا کہ ملزم کا اہلیہ سارہ انعام سے جھگڑا ہوا تھا، جس پر ملزم نے اسے ڈمبل مار کر قتل کردیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے گھر میں پولیس کو دیکھ کر خود کو کمرے میں بند کیا، گرفتاری کے وقت ملزم کی شرٹ اور ہاتھوں پر خون کے نشانات تھے۔ ایف آئی آر میں ملزم کا اعترافِ جرم بھی شامل ہے کہ اس نے جھگڑے کے دوران بیوی کو ڈمبل کے وار کر کے قتل کیا۔

    درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے باتھ ٹب سے مقتولہ کی لاش برآمد کرائی، جس کے سر پر زخم کے نشانات تھے۔ جب کہ آلہ قتل بھی ملزم کے بیڈ روم سے برآمد کرلیا گیا ہے۔ آلہ قتل پر مقتولہ کا خون اور سر کے بال بھی لگے ہوئے تھے۔ 37 سالہ سارہ انعام کی لاش کو ضروری کارروائی کیلئے پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • اسحاق ڈار کا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی:کل حلف اٹھانے کا امکان

    اسحاق ڈار کا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی:کل حلف اٹھانے کا امکان

    لندن، لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی کا امکان ہے۔

    برطانیہ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات میں اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔معیشت کو کیسے سنبھالا جائے، مہنگائی اور ڈالر کو کم کرنے پر بھی مشاورت کی گئی۔ اس دوران سابق وزیر خزانہ نے ملک واپسی کے منصوبے سے متعلق وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار آئندہ ہفتے ملک واپس آکر احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔ اسحاق ڈار کو ملک واپسی پر موجودہ وزارت خزانہ کی ٹیم ملک کی موجودہ معاشی حالات پر بریفنگ دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق سنیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ حلف اٹھائیں گے۔

    یاد رہے کہ جب پانامہ گیٹ سکینڈل میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس کے ساتھ اسحٰق ڈار بھی وزارت خزانہ سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی نواز لیگ کی حکومت میں وزیر خزانہ کا قلمدان ملا ۔

    ستمبر 2017 میں احتساب عدالت نے ان پر کرپشن کیس میں فرد جرم عائد کی جس میں ان پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام تھا۔ اسی دوران ڈار سعودی عرب روانہ ہوئے اور وہاں سے علاج کے لیے برطانیہ روانہ ہو گئے۔

    نومبر 2017 میں احتساب عدالت نے اُن کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور پھر انھیں اسی کورٹ نے ’مفرور‘ قرار دے دیا۔ لندن میں قیام کے دوران ہی انہوں نے وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑ دیا۔ احستاب عدالت نے ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کا بھی حکم دیا تھا۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما کے خلاف مختلف مقدمات ہیں، جن میں خاص طور پر ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثہ جات کی 22 سالہ تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • امریکی سائفر کی تحقیقات کرائی جائیں تو اسمبلی میں واپس آسکتے ہیں:عمران خان

    امریکی سائفر کی تحقیقات کرائی جائیں تو اسمبلی میں واپس آسکتے ہیں:عمران خان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں واپسی کی مشروط آمادگی ظاہر کردی اور کہا ہے کہ امریکی سائفر کی تحقیقات کرائی جائیں تو اسمبلی میں واپس آسکتے ہیں۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے اور پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے پاس تمام اختیارات ہیں،

    عمران خان نے کہاکہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات تھے پتا نہیں کب کیسے خراب ہوگئے، اپوزیشن سے زیادہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے، اب ہم اپوزیشن میں ہیں تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے تعلقات کیسے بہتر ہوسکتے ہیں؟عمران خان نے کہا کہ اب حکومت ملی تو ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے، تحریک انصاف پہلی بار حکومت میں آئی تھی اس لیے غلطیاں ہوئیں۔

    عمران‌ خان نے مزید بولے کہ حکومت کی ترجیحات معیشت نہیں بلکہ اپنے کرپشن کیسز ختم کرانا ہے، موجودہ حکومت نے نیب کے گیارہ سو ارب روپے کے مقدمات ختم کرائے، نیب کا کیس ختم ہوتے ہی اسحاق ڈار وطن واپس آنے کو تیار ہیں، اسحاق ڈار کے بعد نواز شریف بھی وطن واپس آنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    عمران خان یوٹرن نہ لیں تو شاید انہیں کوئی یاد نہ رکھے، ہر بات پر یوٹرن ،یوٹرن یوٹرن
    آج عمران خان نے کہہ دیا کہ اگر سائفر کی تحقیقات کروائی جائیں تو اسمبلی میں واپس آ سکتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ اب حکومت ملی تو ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے، تحریک انصاف پہلی بار حکومت میں آئی تھی اس لیے غلطیاں ہوئیں

    عمران خان تین سال سے زائد عرصہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، ہر وہ دعویٰ جو عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے کر چکے تھے حکومت میں آنے کے بعد اسکے الٹ ہی کام ہوا. بیساکھیوں پر کھڑی حکومت جب گئی تو پھر اداروں کے خلاف محاذ کھول لیا

    عمران خان ہٹائے جانے کے بعد نئے الیکشن کا مسلسل مطالبہ کر رہے تھے آج انکے اعلان سے یہ ثابت ہو گیا کہ موجودہ اتحادی حکومت اپنا وقت پورا کرے گی اور عمران خان پھر پرانی تنخواہ میں اپنے اراکین کو اسمبلیوں میں بھیج دیں گے،

    کسی سے بات نہیں کروں گا، میں نے نمبر بلاک کر دیئے کہنے والا عمران خان اب منتیں کر رہا ہے مگر کوئی اس سے بات کرنے کو تیار نہیں،یہی وجہ ہے کہ اسمبلیوں میں واپسی کا مشروط اشارہ دے دیا لیکن آنیوالے دنوں میں شاید یہ مشروطیت بھی ختم ہو جائے گی

    پاکستان سب سے بڑی مشکل میں ہے، سیلاب سے اموات ہوئیں،لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے،گھر تباہ، بچے یتیم، لوگ ایک ایک کھانے کے لقمے کو ترس گئے، ایسے میں عمران خان کو چاہئے کہ مفاہمت کی راہ اختیار کریں اوراپنے ہم وطنوں کو مزید کسی مصیبت میں نہ دھکیلیں

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

  • دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے 1 ہزار بچیوں کے سکول تباہ کیے ہم ان سے کیا مذاکرات کر رہے ہیں؟ سوات میں بچیوں کے جس اسکول پر حملہ ہوا وہ 5 سال تک بند رہا قرآن میں اللہ نے خواتین کے احترام کا حکم دیا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی،صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ججوں،بیورو کریٹس کو کاریں دینا بند کریں،سرکاری خزانے میں غریب تو اپنا حصہ ڈال رہا ہے لیکن وہ پیدل چلتا ہے، سائیکل پر سفر کرتا ہے، وہ پیسہ سائیکل کے راستوں، پیدل چلنے کے راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے سیلاب کی وجہ سے ملک کا ایک بڑا حصہ زیر آب آیا، عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے نویں انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت معاشی معاملات میں سہولت دے سکتی ہے رکاوٹ نہیں بن سکتی تنازعات کے حل کے متبادل نظام کیلئے قانون سازی ضروری ہے،قانون میں خلا ہو تو عدالتوں کیلئے کام کرنا ممکن نہیں ہوتا، سی پیک اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کار کے مواقع موجود ہیں،تنازعات کے حل کا متبادل نظام سرمایہ کاروں کیلئے سہولت کا باعث ہوگا، متبادل نظام سے کاروباری تنازعات عدالت کی نسبت جلد حل ہوسکتے ہیں،بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں میں ثالثی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے قانون بن چکے ہیں،خیبرپختونخوامیں معمولی نوعیت کے فوجداری مقدمات بھی ثالثی نظام کے ذریعے حل ہو رہے ہیں، عوام کو عدالتوں میں آنے کے بجائے ثالثی کے نظام سے رجوع کرنے کی آگاہی دی جانی چاہیے، وکلا سائلین کو غیر سنجیدہ مقدمات عدالت لانے کے بجائے ثالثی کے متبادل نظام کا مشورہ دیں، عدالتوں میں غیر ضروری مقدمات ہونے کی وجہ سے کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

  • بریکنگ، بہو قتل کیس، ایاز امیر کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری

    بریکنگ، بہو قتل کیس، ایاز امیر کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ایاز امیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں

    ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر کو عدالت پیش کیا گیا تو پولیس نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، عدالت نے استدعا منظور کر لی، پولیس نے ملزم کے والدین اور چچا کے وارنٹ گرفتاری جانے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کس لیے وارنٹ گرفتاری چاہیے،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزم شاہنواز کے والدین سے تفتیش کرنی ہے تفتیش کو آگے بڑھانے کیلئے ملزم کے والدین سے تفتیش ضروری ہے جس کیلئے انہیں گرفتار کرنا ہو گاجس کے بعد عدالت نے ملزم کے والد ایاز امیر اور والدہ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، عدالت نے دو روز بعد ملزم کوعدالت پیش کرنے کی ہدایت کر دی،

    صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے گزشتہ روز اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو گزشتہ روز ہی دبئی سے واپس آئی، شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی ہ مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    ایاز امیر کے بیٹے کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

  • قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا ،وزیراعظم

    قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا ،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام عالمی حدت کی قیمت ادا کر رہے ہیں،قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا ،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے مل کر بیٹھنا ہوگا پاکستان پر 40 دن اور 40 رات تک ایک تباہ کن سیلاب مسلط رہا سیلاب نے پاکستان میں صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ،آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے سیلاب سے متاثرہ خواتین اور بچے صحت کے خطرات سے دوچار ہیں،سیلاب سے متاثرہ خواتین میں ساڑھے 6لاکھ حاملہ ہیں، سیلاب کے باعث 1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے،سیلاب سے 370 پل تباہ، 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے 13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے، اس طرح کی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا گیا، ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے، دنیا میں کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے،پاکستان کاحصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، سیلاب سے متاثرہ ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ناقابل تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں،گرمی کی لہر 53 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گئی جو کرہ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے، ایک بات واضح ہے کہ جو کچھ رونما ہوا وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا،

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،تنازعات کو پرامن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے،ہمیں اپنے وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنا ہوگا بھارت کو سمجھنا ہو گا جنگ آپشن نہیں،پُرامن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے ہمیں ایک اور سول جنگ اور دہشت گری سے بچنا چاہیے، کوئی بھی ہمسایہ ملک مہاجرین کو پناہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سےزائد قربانیاں دے چکے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا ، اسلامو فوبیا ایک عالمی رجحان ہے،نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے بارے میں شک اور امتیازی سلوک وبائی شکل اختیار کر گیا او آئی سی کی جانب سے پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی ایک تاریخی قرارداد کو منظور کیاگیا،15مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا امید ہے اسلامو فوبیا کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے،

  • سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق رکن اسمبلی ایاز امیر کے بیٹے کی جانب سے اہلیہ کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاون کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ موقع پر پہنچا تو خاتون نے بتایا کہ میرے بیٹے نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے، ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے ٹیم اندر گئی تو ملزم نے خود کو کمرہ میں بند کر لیا، کمرہ کھولنے کے بعد ملزم کو قابو کر لیا گیا،ملزم نے بتایا کہ اس نے لڑائی کے دوران اپنی بیوی کے سر پر ڈمبل مارا،قتل کے بعد لاش کو واش روم میں چھپا دیا،ملزم نے صوفہ کے نیچے سے آلہ قتل ڈمبل بھی خود برآمد کرایا،ڈمبل کے اوپر خون اور بال لگے ہوئے تھے،اسلام آباد:ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے قتل کیا،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    واضح رہے کہ ایاز امیر کے بیٹے نے گزشتہ روز اسلام آباد میں اپنی اہلیہ کوسفاکی کے ساتھ قتل کر دیا تھا، پولیس نے ایاز میر کے بیٹے کو گرفتار کرلیا۔ایاز میر کی بہو گزشتہ روز ہی دبئی سے واپس آئی، شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی ہ مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

  • تحریک انصاف کی ’بغاوت کی دفعہ 124 اے‘ کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد

    تحریک انصاف کی ’بغاوت کی دفعہ 124 اے‘ کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد

    ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے تعزیرات پاکستان میں بغاوت کی دفعہ 124 اے کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خارج کردی گئی ہے۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بغاوت کی دفعہ آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے درخواست میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 اے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ بغاوت کی دفعہ 124A اظہار رائےکی آزادی سلب کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔ تنقید اور اظہار رائے کو دبانے کے لیے بغاوت کے مقدمات کا سہارا لیا جاتا ہے۔

    گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران شیریں مزاری کے وکیل ابوذرسلمان خان نیازی نے عدالت میں دفعہ 124 اے کو کالعدم قرار دینے کے لیے دلائل دیے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی حکومت میں بھی بغاوت کے الزامات کے مقدمات درج ہوتے رہے۔ عدالت نے شیریں مزاری کو ہدایت دی کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے، آپ کو پارلیمنٹ جانا چاہیے۔ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرے گی۔
    چیف جسٹس اطہر من اللہ کا گزشتہ روز سماعت میں کہنا تھا کہ سب کو پارلیمان پر اعتماد کرنا چاہیے۔ اسلام آبادہائیکورٹ بغاوت کے مقدمات غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے بغاوت کی دفعہ 124 اے کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج جاری کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے تعزیرات پاکستان میں بغاوت کی دفعہ 124A کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنچ کی تھی جبکہ پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے بیرسٹر ابوذر سلمان خان نیازی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں بغاوت کی دفعہ 124A غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی.