Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،وزیراعظم

    ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

    بین الاپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،پاکستان نے بھی کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا، ہم نے ہمیشہ استحکام اور دفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے، اس سال مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی جبکہ گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے جن کا پاکستان نے ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا، دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، افغانستان کو سمجھنا ہو گا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوگا، افغان حکومت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاپارلیمانی کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے وفود کانفرنس میں شریک ہیں، کانفرنس کا مقصد عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ کو مضبوط بنانا ہے۔

  • دہلی کار دھماکہ، عینی شاہدین اور سرکاری بیانیہ میں تضاد

    دہلی کار دھماکہ، عینی شاہدین اور سرکاری بیانیہ میں تضاد

    10 نومبر کی شام تقریباً سات بجے دہلی کے تاریخی لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک کار میں ہونے والے زوردار دھماکے نے دارالحکومت کو لرزا دیا۔ اس واقعے میں آٹھ افراد جاں بحق اور چوبیس سے زائد زخمی ہوئے۔

    دھماکے کے بعد فائر بریگیڈ، پولیس اور این ایس جی کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ علاقے کو فوراً سیل کر کے دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکہ ایک Hyundai i20 کار میں ہوا جس کی نمبر پلیٹ ہریانہ کی تھی۔ وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے واقعے کو "سنگین واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں دہشت گردی، حادثہ یا تکنیکی خرابی پر تحقیقات جاری ہیں۔تاہم، عینی شاہدین کے بیانات میں قابلِ ذکر تضاد سامنے آیا ہے۔ ایک مقامی شہری، جو جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچا، نے دعویٰ کیا کہ دھماکہ جس گاڑی میں ہوا وہ Maruti Suzuki تھی، نہ کہ i20۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ گاڑی کے چھوٹے سائز اور ماڈل کی وضاحت کرتا ہے۔

    گاڑی کی ملکیت پر بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا کہ کار نڈیم نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھی جو فرید آباد (ہریانہ) کا رہائشی ہے۔ بعد ازاں بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ گاڑی سلمان نامی شخص کی تھی، جس نے حال ہی میں اسے فروخت کیا تھا لیکن رجسٹریشن اب تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔دوسری جانب، سرکاری بیانیہ میں اچانک ایک نیا نام سامنے آیا – طارق (پلوامہ، جمّوں و کشمیر) جس سے واقعے کو دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی کوئی حتمی تصدیق اب تک نہیں کی گئی۔

    ابتدائی طور پر کئی عینی شاہدین نے شبہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے یہ دھماکہ CNG سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہو، کیونکہ جائے وقوعہ سے کسی واضح دھماکہ خیز مواد یا "آئی ای ڈی” کے آثار نہیں ملے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ دہشت گرد حملہ ہوتا تو عام طور پر حملہ آور موقع سے فرار ہوتے، مگر اس واقعے میں گاڑی میں سوار تمام افراد موقع پر ہلاک ہو گئے۔

    سوالات جو ابھی تک جواب طلب ہیں،گاڑی کا درست ماڈل اور مالک کون ہے؟دھماکہ بم سے ہوا یا سلنڈر پھٹا؟اگر دہشت گردی تھی تو حملہ آوروں کی شناخت کیا ہے؟جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب تک کیوں جاری نہیں کی گئی؟

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش میں تضادات اور جلدبازی نے عوامی شکوک کو بڑھا دیا ہے۔ بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انتخابات سے قبل خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے واقعے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔

  • دہلی دھماکہ،بھارتیوں نے بھی انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا

    دہلی دھماکہ،بھارتیوں نے بھی انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا

    بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے نئی دہلی دھماکے کو انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا، بی جے پی حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیں

    بھارتی صحافی شالنی شکلہ نے کہا: "ہر بار جب بی جے پی بحران میں آتی ہے، دہشتگردی یا بلاسٹ کا نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے”،کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی کا انکشاف: "یہ سب بہار انتخابات سے پہلے کا ایک متوقع سیاسی اقدام تھا”،صحافی روی نیر نے لکھا: "بہار الیکشن کے دوران بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے، مزید ایسے دھماکوں کی توقع ہے”بھارتی شہری سوال اٹھانے لگے: "ہر انتخاب سے پہلے بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ آخر فائدہ کس کو ہوتا ہے؟”

    سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات لگا دیے،بھارتی صحافی رویندر کپور اور سربھی ایم نے تمام بڑے دہشت گرد حملوں کو ’’بی جے پی حکومت‘‘ سے جوڑا، پٹھان کوٹ، پلوامہ، پہلگام اور اب لال قلعہ دھماکہ،سابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیرِ بحث "سنگھ پریوار نے انتخابی فائدے کے لیے بم دھماکے کروائے”بھارتی اخبار Coastal Digest نے بھی تصدیق کی تھی کہ "سنگھ پریوار ملک بھر میں دھماکے کروا کر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے”بھارتی صحافی کلکی نے کہا: "بی جے پی حکومت نے دہلی میں اپنے ہی شہریوں پر بم گرائے تاکہ احتجاج روکے جائیں۔ یہ دہشتگردی ہے”

    عوامی ردِعمل میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امت شاہ کے وزیرِ داخلہ بننے کے بعد ہر بڑا حملہ بی جے پی حکومت کے دور میں ہی کیوں ہوتا ہے؟تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لال قلعہ دھماکے کے فوراً بعد پاکستان کو ملوث ٹھہرانا بی جے پی کا پرانا حربہ ہے۔ مقصد صرف انتخابی ہمدردی حاصل کرنا ہے،بھارتی عوام کا نیا بیانیہ اب سامنے آ گیا: ’’یہ دھماکے پاکستان نہیں، سیاست کی فیکٹریاں کروا رہی ہیں‘‘

  • افغان طالبان اور  خوارج کی نئی دہلی دھماکے کو پاکستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش

    افغان طالبان اور خوارج کی نئی دہلی دھماکے کو پاکستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش

    بھارتی دارالحکومت کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ میں گیس سلنڈر دھماکا ہونے کی تصدیق کے باوجود، بھارتی میڈیا اور بعض گروہ اسے پاکستان سے منسلک کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جعلی "لشکر طیبہ” کے دعوے پھیلائے جا رہے ہیں، جن میں پاکستان کو دہلی دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔جعلی لیٹر میں ناقص ٹائپنگ، فرضی دستخط اور جعلی لیٹر پیڈ کا استعمال کیا گیا، جسے تجزیہ کاروں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا سی این جی سلنڈر کے پھٹنے سے ہوا، تاہم بھارتی پولیس اب مودی حکومت کے سیاسی دباؤ میں کچھ بھی واضح کہنے سے گریز کر رہی ہے۔

    پاکستان مخالف فالس فلیگ بےنقاب ،نئی دہلی دھماکے کا عینی شاہد سامنے آگیا

    دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ واقعے کے بعد نئی دہلی اور گردونواح میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں۔اس سے قبل پہلگام واقعے کے بعد بھی بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا، جس کے جواب میں پاک فوج نے دشمن کو دفاعی محاذ پر ناکامی سے دوچار کیا۔ماہرین کے مطابق، بھارت اب افغان طالبان کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم دنیا اس پراپیگنڈے کو سمجھ چکی ہے اور بھارت کے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی

    بھارتی میڈیا کا نیا فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب، جھوٹے الزامات اور پراپیگنڈا مہم تیز

    پاکستان مخالف فالس فلیگ بےنقاب ،نئی دہلی دھماکے کا عینی شاہد سامنے آگیا

    لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

  • پاکستان مخالف فالس فلیگ بےنقاب ،نئی دہلی دھماکے کا عینی شاہد سامنے آگیا

    پاکستان مخالف فالس فلیگ بےنقاب ،نئی دہلی دھماکے کا عینی شاہد سامنے آگیا

    نئی دہلی دھماکے کے عینی شاہد دھرمندر کا اہم بیان سامنے آیا ہے، جس نے بھارتی میڈیا اور حکومتی بیانات میں واضح تضادات کو بے نقاب کر دیا۔

    عینی شاہد کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب وہ مخالف سمت سے گزر رہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ گاڑی کے اندر چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں، جبکہ باہر دو افراد ہلاک اور ایک زخمی دیکھا گیا۔گواہ نے بتایا کہ گاڑی سفید رنگ کی سوزوکی ماروتی تھی، جس کی نمبر پلیٹ محمد ندیم (ہریانہ) کے نام پر تھی۔ تاہم بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور سرکاری میڈیا اسے Hyundai قرار دے رہے ہیں۔دھرمندر کے مطابق گاڑی کے مالک کا نام ندیم تھا، لیکن RAW سے منسلک ٹرولز سوشل میڈیا پر اسے سلمان اور بھارتی میڈیا طارق ظاہر کر رہا ہے۔

    عینی شاہد نے کہا کہ گاڑی میں ہی 4 سے 5 افراد ہلاک ہوئے، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ’’دہشتگرد حملہ‘‘ تھا تو آدھی ہلاکتیں خود حملہ آوروں کی کیسے ہوئیں؟مبصرین کے مطابق واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے حقائق کی بجائے پراپیگنڈا مہم شروع کر دی، جبکہ مودی سرکار ایک بار پھر حقیقت کے بجائے اپنی گھڑی ہوئی کہانی پر یقین کرتی نظر آ رہی ہے

    بھارتی میڈیا کا نیا فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب، جھوٹے الزامات اور پراپیگنڈا مہم تیز

    27ویں آئینی ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ،ایجنڈا جاری

    مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی چل بسے

  • بھارتی میڈیا کا نیا فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب، جھوٹے الزامات اور پراپیگنڈا مہم تیز

    بھارتی میڈیا کا نیا فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب، جھوٹے الزامات اور پراپیگنڈا مہم تیز

    بھارتی میڈیا نے ایک بار پھر پاکستان مخالف فالس فلیگ آپریشن کا پرانا طریقہ دہرا دیا ہے۔

    گزشتہ رات بھارتی میڈیا نے پہلگام جیسے جعلی واقعات کی طرز پر ایک نیا ڈرامہ رچایا، جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ذرائع کے مطابق رات 10 بجے این ڈی ٹی وی نے ایک جعلی کہانی کو “ایکسکلیوسو” قرار دے کر نشر کیا، جس کے بعد مختلف بھارتی چینلز نے منظم انداز میں پاکستان مخالف مہم شروع کر دی۔صبح 11 بجے جموں میں "2900 کلوگرام بارود برآمد” ہونے کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی، جبکہ دوپہر ڈھائی بجے واقعے کو داعش خیبر پختونخواہ سے جوڑنے کا نیا بیانیہ گھڑا گیا۔

    https://x.com/ahmadhassanarbi/status/1987958656454062440?s=48&t=G-cOBg7EkX_kBYa6eWDKdw

    اسی دوران شام 4 بجے بھارتی میڈیا نے معاملے کو مزید سنسنی خیز بنانے کے لیے ’’پاکستانی کیمیکل اٹیک‘‘ کا الزام عائد کیا، مگر شام 6 بج کر 45 منٹ پر پولیس ذرائع نے خود تصدیق کی کہ دہلی کا واقعہ دراصل سلنڈر دھماکہ تھا۔پولیس نے ابتدائی طور پر صاف مؤقف دیا کہ دھماکہ سلنڈر سے ہوا، تاہم وزیر داخلہ امت شاہ کے موقع پر پہنچنے کے بعد حکام کو خاموش کرا دیا گیا۔بھارتی میڈیا کے تضادات، جھوٹے دعوے اور سوشل میڈیا پر منظم پراپیگنڈے سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ پورا واقعہ فالس فلیگ آپریشن کا حصہ تھا۔

    https://x.com/thevenomclub/status/1987953321295179798

    https://x.com/zardsi/status/1987932770757472774?s=48&t=G-cOBg7EkX_kBYa6eWDKdw

    https://www.facebook.com/reel/1134722245309488/

    متعدد بھارتی چینلز، خصوصاً ریپبلک ٹی وی، نے غیر مصدقہ معلومات کو حقیقت بنا کر پیش کیا جبکہ بھارت کے مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی واقعے سے پہلے ہی پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے میں سرگرم تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائی بھارت کے اندرونی سیاسی دباؤ اور عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی میڈیا کے جھوٹے بیانیے اور فالس فلیگ آپریشنز کا نوٹس لے

    27ویں آئینی ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ،ایجنڈا جاری

    محمد آصف عالمی اسنوکر چیمپئن شپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئے

    محمد آصف عالمی اسنوکر چیمپئن شپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئے

    میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

  • دہلی سلنڈر دھماکہ،مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن

    دہلی سلنڈر دھماکہ،مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکہ ہوا ہے

    سوشل میڈیا اور بعض سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ واقعہ کسی بیرونی حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک "فالس فلیگ آپریشن” ہو سکتا ہے، جسے مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے ترتیب دیا۔ذرائع کے مطابق، دھماکہ سفارتخانے کے قریب ایک مصروف سڑک پر ہوا، جس کی آواز دور تک سنی گئی۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بھارتی حکومت نے انتخابی ادوار میں ایسے مشتبہ واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق، حالیہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بہار کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی کو غیر متوقع نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس واقعے کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

    یاد رہے کہ بھارت میں 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بی جے پی نے قومی سلامتی کے بیانیے کو بھرپور طریقے سے انتخابی مہم میں شامل کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اب ایک بار پھر انتخابی ماحول میں اسی نوعیت کا واقعہ سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ سلنڈر دھماکہ تھا تاہم اسکے بعد بھارتی میڈیا پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا،واقعہ کے بعداسرائیلی سفارتخانے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام

    کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام

    جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں فتنۂ خوارج کی جانب سے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دی۔

    جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا اور 2 خوارج ہلاک کر دیے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارتی سرپرستی یافتہ گروپ فتنہ الخوارج نے جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا،حملہ آوروں نے پریمیئر سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے حملہ آور کے منصوبوں کو تیزی سے ناکام بنایا،مایوسی میں حملہ آوروں نے مین گیٹ پر ایک بارودی گاڑی ٹکرادی، دھماکے سے مرکزی گیٹ اور ملحقہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، بھارتی سرپرستی یافتہ 2 خوارج ہلاک کردیے گئے، 3 خوارج کالج کے احاطے میں داخل ہوئے ، تینوں خوارج اب کالج کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں محصور ہیں، خوارج اے پی ایس میں وحشیانہ اقدام کی طرز پر دہشت گردی دہرانے کی کوشش کررہے تھے۔

    خوارج نے اے پی ایس میں وحشیانہ اقدام کی طرز پر دہشت گردی دہرانے کی کوشش کی،ترجمان پاک فوج
    آئی ایس پی آر کے مطابق کالج کے اندر چھپے خوارج افغانستان میں اپنے آقاؤں اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں ہیں، خوارج افغانستان اپنے ہینڈلرز سے ہدایات وصول کر رہے ہیں، پاکستان دہشت گردوں اور افغانستان میں موجود ان کی قیادت کے خلاف جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔خوارج کا ہدف قبائلی علاقوں کی نوجوان نسل میں خوف پھیلانا ہے، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس ہے،بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت بلا روک ٹوک انسدادِ دہشت گردی اقدامات جاری رکھیں گے، ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ کیڈٹ کالج وانا مقامی قبائل کی درخواست پر قائم کیا گیا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جہاں محسود اور وزیر قبائل کے بچے بڑی تعداد میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارہ نوجوانوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہا ہے اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ ملک کے مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،20 خارجی ہلاک

    خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،20 خارجی ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 20 خوارجی ہلاک کردیے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں 8 اور 9 نومبر کو کی گئیں، شمالی وزیرستان کے ضلع شوال میں آپریشن کے دوران بھارتی سپانسرڈ 8 خارجی مارے گئے،ترجمان پاک فوج کاکہنا ہے کہ درہ آدم خیل میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 12 خوارج ہلاک کر دیے گئے، مزید بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے باعث کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • ہنگور آبدوزپر چینی ہائپر سونک میزائل نصب کرنے کی تیاری،بھارت کیلئے نیا چیلنج

    ہنگور آبدوزپر چینی ہائپر سونک میزائل نصب کرنے کی تیاری،بھارت کیلئے نیا چیلنج

    پاکستان نیوی نے اپنے دفاعی منصوبوں میں ایک بڑی اور انقلابی پیش رفت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ہینگور کلاس آبدوزوں کو چین کے جدید ترین YJ-17 ہائپر سونک میزائل سے لیس کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بحری طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً بھارت کی کیرئیر اسٹرائیک گروپس کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کرے گا۔

    یہ پیشرفت اسلام آباد اور بیجنگ کے بڑھتے ہوئے تزویراتی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ہینگور کلاس آبدوزوں پر YJ-17 میزائل کی تنصیب سے پاکستان کی بحریہ کو ہائپر سونک وارفیئر میں داخل ہونے کا موقع ملے گا، جو دنیا کی چند ہی طاقتیں حاصل کر سکی ہیں۔یہ آبدوزیں جب مکمل طور پر فعال ہوں گی تو پاکستان بحر ہند میں ایک نئی قسم کی زیرِ آب صلاحیت حاصل کر لے گا، جس سے دشمن کے بحری بیڑے، طیارہ بردار جہاز اور ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنانا ممکن ہو جائے گا۔

    چین کا تیار کردہ YJ-17 ہائپر سونک میزائل چین کے "ایگل اسٹرائیک” میزائل پروگرام کا حصہ ہے۔ یہ میزائل Mach 5 سے Mach 8 یعنی 6,000 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر پرواز کر سکتا ہے۔یہ میزائل بوُسٹ گلائیڈ وہیکل (HGV) ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جو پہلے فضا میں بلند ہوتا ہے اور پھر ہدف کی جانب انتہائی تیز رفتاری سے نیچے آتا ہے۔اس کی رینج 400 سے 746 کلومیٹر تک ہے، جبکہ یہ اپنے ہدف پر انتہائی تباہ کن ہائی ایکسپلوسو یا آرمَر پینیٹریٹنگ وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔یہ خصوصیات اسے "کیرئیر کلر” یعنی طیارہ بردار جہاز تباہ کرنے والا میزائل بناتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق YJ-17 اپنی غیر متوقع پرواز، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت اور انتہائی تیز رفتاری کے باعث کسی بھی موجودہ دفاعی نظام، بشمول بھارتی باراک-8 یا امریکی SM-6 میزائلوں، کے لیے تقریباً ناقابلِ گرفت ہتھیار ہے۔

    ہینگور کلاس آبدوز پروگرام پاکستان کی بحری تاریخ کا سب سے بڑا جدیدیت کا منصوبہ ہے۔یہ معاہدہ 2015 میں چین کے ساتھ 4 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت چین نے 8 آبدوزیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ان میں سے چار چین میں Wuchang Shipyard پر تیار ہو رہی ہیں، جبکہ باقی چار کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KSEW) میں مقامی طور پر بنائی جا رہی ہیں۔پہلی چار آبدوزیں 2026 سے ڈیلیور ہونا شروع ہوں گی، جبکہ مقامی آبدوزوں کی تکمیل 2028 تک متوقع ہے۔پہلی تین آبدوزوں — PNS Hangor (2024)، PNS Shushuk (2025) اور PNS Mangro (2025) — کے لانچ کے بعد، PNS Tasnim کی تعمیر جاری ہے۔یہ آبدوزیں چین کی Yuan-Class Type 039A/B ڈیزائن پر مبنی ہیں، جو اپنی خاموش کارکردگی (Silent Operation) اور محدود پانیوں میں بہترین کارکردگی کے لیے مشہور ہیں۔

    ہینگور کلاس آبدوزوں میں Stirling Engine Air Independent Propulsion (AIP) سسٹم نصب ہے، جو انہیں بغیر سطح پر آئے 20 دن تک پانی کے اندر رہنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ان کی رفتار زیرِ آب 17 ناٹ اور سطح پر 20 ناٹ تک پہنچتی ہے۔یہ آبدوزیں 38 افراد کے عملے اور 8 اسپیشل فورسز آپریٹرز پر مشتمل مشن کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جس سے یہ کمانڈو آپریشنز میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ان کے 6 ٹارپیڈو ٹیوبز مختلف قسم کے ہتھیار، جیسے بھاری ٹارپیڈوز، اینٹی شپ میزائلز، اور لینڈ اٹیک کروز میزائل (LACMs) فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پاکستان پہلے ہی YJ-82 اور بابر سیریز کے کروز میزائلز سے لیس ہے۔اطلاعات کے مطابق مستقبل میں پاکستان بابر-III نیوکلیئر کیپیبل میزائل کو بھی ہینگور کلاس آبدوزوں میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے پاکستان کو سی بیسڈ سیکنڈ اسٹرائیک کیپبیلٹی حاصل ہو گی۔یہ اقدام بھارت کے نیوکلیئر آبدوز پروگرام کے مقابل توازن قائم کرنے میں مدد دے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ YJ-17 میزائلوں سے لیس ہینگور آبدوزیں بھارت کو اپنی بحری حکمتِ عملی ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیں گی۔اب بھارتی نیوی کو اپنے P-8I پیٹرول طیارے، MH-60R ہیلی کاپٹرز اور ASW جہاز زیادہ تعداد میں تعینات کرنا پڑیں گے تاکہ ان آبدوزوں کا سراغ لگایا جا سکے۔یہ میزائل بھارت کے اہم بحری اڈوں ، ممبئی، اوکھا، اور کوچین، تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ پیش رفت پاکستان کی بحری موجودگی کو عرب سمندر، خلیجِ عمان، اور بحرِ ہند میں مضبوط کرے گی۔یہی علاقے دنیا کے سب سے اہم سمندری تجارتی راستے ہیں جہاں سے 60 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائپر سونک میزائلوں سے لیس آبدوزیں پاکستان کو نہ صرف ان راستوں کی حفاظت بلکہ ضرورت پڑنے پر ان میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی طاقت دیں گی۔