Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا،شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آ سکتا، برآمدات پر مبنی صنعت، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ اور قابل تجدید توانائی کا حصول ہماری ترجیحات ہیں، قومی ایکسپورٹ صنعتی زونز کے قیام کیلئے سرمایہ کاروں کو مفت اراضی فراہم کریں گے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی۔

    پری بجٹ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء کے شکرگزار ہیں، ان کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملکی ترقی کیلئے تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل تحسین ہیں، ان کی طرف سے دی گئی اچھی تجاویز پر حکومت عمل کرے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 90ء کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، دیہات میں شہروں جیسی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے وہاں پر شہر کی طرز پر ترقی کی جا سکتی ہے، دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقلی سے شہروں پر بوجھ میں اضافہ ہو گا، پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد علاقہ دیہی ہے،

    ہم نے یہاں زراعت کو ترقی دینی ہے، دیہات کو ترقی یافتہ پاکستان کا حصہ بنانا ہے، وہاں پر اعلیٰ تعلیم سے یہ ممکن ہے، دانش سکول دیہی علاقوں میں قائم ہوئے جن کا معیار تعلیم ایچی سن کالج کے برابر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو ترقی دے سکتا ہے، ہم ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر ر ہے ہیں ، کیا اس کی پیداوار ہمارے ملک میں نہیں ہو سکتی، ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے، ہم نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنی اجناس بڑھانی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملکی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وسائل کا زیادہ حصہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے جبکہ وفاق کے پاس کم حصہ رہ گیا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، اس کیلئے ہر قدم پر بزنس کمیونٹی کی رہنمائی کی ضرورت ہو گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ زراعت، صنعت اور دیگر شعبہ جات میں ٹاسک فورسز قائم کریں گے تاکہ ایک جامع منصوبہ لے کر آگے بڑھیں، ہم نے ایک سال تین ماہ کی رہ جانے والی حکومتی مدت کیلئے قلیل اور وسط مدتی منصوبے بنانے ہیں، اسی لئے میثاق معیشت کی دعوت دیتے ہیں تاکہ میثاق معیشت کے تحت ایسے اہداف طے کئے جائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جا سکے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کپاس درآمد کرکے ویلیو ایڈیشن سے زرمبادلہ کما رہا ہے، ہمارے ملک میں 2014ء میں کپاس کی 14 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی، بنگلہ دیش کو ہم سے پہلے جی ایس پی پلس کا درجہ ملا، ہمیں اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ دن رات ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، ایسی جامع منصوبہ بندی کی جائے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں اور خسارے پر بات ہوتی رہے گی، ہم یہاں ایسی بات نہیں کریں گے کہ جس سے پوائنٹ سکورنگ کا تاثر ملے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں تمام ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں، شہریوں کوپینے کا صاف پانی نہیں مل رہا، وہاں بجلی نہیں، ایئرپورٹ پانچ سال بعد بھی 36 فیصد مکمل ہوا ہے،

    پانی کی اب نئی سکیم بنائی گئی ہے، اس طرح قومیں نہیں بنتیں، بطور قوم باتوں کی بجائے عملی طور پر کام کرنا ہو گا، ہمارے پڑوسی دوست ملک نے اس کے سامنے بندرگاہ بنا لی لیکن ہماری ڈیپ پورٹ ہونے کے باوجود بڑے جہاز یہاں لنگر انداز نہیں ہو سکتے، ہم نے بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ منصوبے بنا کر ان پر عمل کرنا ہے، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، پاکستان کو اﷲ نے بہت کچھ دیا ہے۔

    انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ اپنے وقت، صلاحیتوں اور تجربہ سے اس منصوبہ بندی میں مدد کریں، ہمارا مقصد برآمدات بڑھانا ہے، رواں سال 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑی، ایک ارب ڈالر اس پر خرچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کیلئے استفادہ نہیں کیا جا سکا، ہمارے پاس زرخیز زمینیں ہیں، باصلاحیت اور ہنرمند محنت کش طبقہ ہے، برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی سے ملکی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں لگنے والے چار پاور پلانٹس میں سے 1250 میگاواٹ کا سستا ترین پاور پلانٹ 2020ء میں فعال ہو جانا چاہئے تھا تاہم یہ منصوبہ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا، اس کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، قوم کو اس کا حساب کون دے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جتنے اچھے منصوبے بنائیں اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو گا تو بے سود ہیں، افسر شاہی کا یہ رونا جائز ہے کہ انہوں نے کام کیا اور انہیں پکڑ کر نیب کے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا، ان بیورو کریٹس نے پاکستان کے اربوں روپے بچائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس میں شرکاء کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو حقیقت کا روپ دیں گے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کی ترجیحات بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی صنعت جس میں ٹیکسٹائل کا اہم کردار ہے وہ اولین ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹنمٹ کی طرف جائیں گے،

    گلف میں ٹیولپ کے بھرے جہاز پڑوسی ملک سے آتے ہیں، ہمارے پاس انڈسٹری اور ٹیکنالوجی ہو تو ہمارے پھل دنیا کی مارکیٹوں میں بہترین جگہ بنا سکتے ہیں، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں،

    اس کیلئے ترکی، چین اور جاپان سے بات کی ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں، اگر نگرانی اور تڑپ ہو تو پاکستان آگے بڑھے گا، آج ترکی، چین اور جاپان ہم سے ناراض ہیں، گذشتہ حکومت نے دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کو ناراض کیا، دوست ممالک سے تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ دے کر برآمدات کو 15 ارب ڈالر زتک لے جانے کا وزارت آئی ٹی کو ہدف دیا ہے اس کیلئے میں بھی وزیر آئی ٹی کے ساتھ بیٹھوں گا، بھارت کی آئی ٹی کی برآمدات 200 ارب ڈالرز ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں ہماری برآمدات 4 ارب ڈالرز سے بھی کم ہیں، بھارت میں بھی بیورو کریسی کیلئے ہم سے زیادہ سرخ فیتہ ہے تاہم اتنی زیادہ برآمدات کیسے ممکن ہوئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خصوصی صنعتی زونز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،

    ہمیں اس طرف جانا ہو گا، اس کیلئے ہر چیز مکمل میرٹ پر ہو گی، کوئی سٹہ بازی نہیں ہو گی ۔ ماضی میں بنائے گئے صنعتی زونز میں لینڈ مافیا آ گیا، وہاں کوئی انڈسٹری نہیں لگی، جس طرح ہم نے بہاولپور میں سولر انرجی کیلئے اراضی فراہم کی اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز کیلئے سرمایہ کاروں کو زمین ڈویلپ کرکے دیں گے اس حوالہ سے مفتاح اسماعیل کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، یہ کاروباری طبقہ پر احسان نہیں بلکہ سرمایہ کاری کیلئے مراعات ہیں، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے انہیں مراعات دینا ہوں گی، اہداف متعین کرتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا،

    اگر ہم ایٹمی قوت بن سکتے ہیں تو زرعی اور صنعتی قوت کیوں نہیں بن سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ داسو اور بھاشا ڈیم اگر حکومتی وسائل سے بن جائیں تو یہ بڑی بات ہے، ہمیں قومی مفاد کے منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنانا ہو گا، ہمیں قابل تجدید توانائی کے حصول پر توجہ دینا ہو گی، تھر اور بلوچستان میں کوئلہ سے فائدہ اٹھانا ہو گا، اس کیلئے سرمایہ کار تجاویز دیں، شیل اور ٹائٹ گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں، تیل و گیس کی درآمد کیلئے سالانہ 20 ارب ڈالر پاکستان صرف کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگا کر سالانہ اڑھائی ارب روپے بچت کی، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے نجکاری کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد میں کئے جانے والے مشکل فیصلوں کی حمایت کی، انشاء اﷲ یہ دوڑ جیتیں گے، سخت اور مشکل وقت ضرور ہے،

    اس ملک میں ہمیشہ غریب طبقہ نے سختی برداشت کی، عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے غریب آدمی کی قسمت بدل دیں گے، ہم 7 کروڑ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جذبہ ایثار کے تحت ہمیں غریب آدمی کا احساس کرنا ہو گا، رئیل اسٹیٹ کے پاس جو نان پروڈکٹیو اثاثے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اراضی محدود ہے اس کو ہم بڑھا نہیں سکتے، بدقسمتی سے ہمارے شہر پھیلتے جا رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں یورپ، چین، ترکی سمیت دیگر ممالک کثیر المنزلہ عمارات کی طرف جا رہے ہیں، ہم نے اس طرف جانا ہے، ہمیں زرعی مقاصد کیلئے اراضی چاہئے،

    سیاسی مفادات اور مقاصد کیلئے انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مؤقف دیں گے، ہم نے ہمیشہ ایک دائرہ میں رہ کر سیاست کی ہے، دوست ممالک کی ناراضگی اور داغ مٹانے ہیں، انہیں اعتماد میں لینے کیلئے کوشش کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ جلد پاکستان امریکن بزنس کونسل سے ملیں گے، پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے بڑے مواقع موجود ہیں، وزیرستان سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اس کو جنگی بنیادوں پر پائپ لائن کے ذریعے قومی گرڈ میں لانے کی ہدایت کر دی ہے اس سے 26 لاکھ ڈالر ماہانہ بچت ہو گی۔

  • حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی   :شریف خاندان مودی کیخلاف سخت ایکشن لے:عمران خان

    حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی :شریف خاندان مودی کیخلاف سخت ایکشن لے:عمران خان

    اسلام آباد:حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی،شریف خاندان مودی کیخلاف سخت ایکشن لے: اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی، اگر چار عرب ممالک سخت ایکشن لے سکتے ہیں تو پاکستان بھی لے، شریف خاندان مودی سے اپنے تعلقات توڑ کر سخت ایکشن لے۔انہوں نے کہا کہ ہم نبی رحمت ﷺ کی حرمت پرقربان ہونے کے لیے تیار ہیں لیکن کسی کوگُستاخی اوربیحرمتی کی اجازت نہیں دے سکتے

    بنی گالہ میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے تو سنا تھا تھوڑے سے لوگ آئیں گے، آپ لوگوں نے تو جلسہ کر دیا ہے، مجھے حکومت مخالف تحریک میں وکلا کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جمہوریت میں احتجاج ہر شہری کا حق ہے، سازش کے تحت چوروں، ڈاکوؤں کی حکومت مسلط کی گئی۔پاکستان کے وکلا کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، دھمکی آمیز مراسلے کو نیشنل سیکیورٹی کے سامنے رکھا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کو بھی مراسلہ بھیجا، سپریم کورٹ کے پاس مراسلہ انویسٹی گیشن کے لیے پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے ڈاکوؤں کو سزا ہونا تھی، چیری بلاسم جوتے پالش کر کے اوپر پہنچ گیا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے دنیا میں ملزم قاضی بن جائے؟ چھوٹی موٹی چوری نہیں شہبازشریف نے 16 ارب کی چوری کی، کرائم منسٹرکے کرپٹ بیٹے کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ قانون کی حکمرانی وکلا،عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ رول آف لا پرعدالتوں نے عملدرآمد کرانا ہے، وزیراعظم، چیف منسٹر 60 فیصد کابینہ پر مقدمات ہم سب کی توہین ہے۔

  • دنیا کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

    دنیا کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا واقعات پر تشویش ہے،گستاخانہ بیان سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، ہماری ترجیح دنیا کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ جرمنی کی وزیر خارجہ کو دورۂ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہیں، جرمنی پاکستان کا یورپی یونین میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور خود میں دہشت گردی کا شکار ہوا ہوں، امید ہے افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی، ہمیں افغانستان سے مزید مہاجرین کی آمد کا خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 97 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے جا رہے ہیں، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا، افغانستان سے انہیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ترجیح پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا فروغ ہے، ہماری توجہ ٹریڈ، ناٹ ایڈ پر مرکوز ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ یوکرین پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم یوکرین میں جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، تمام تنازعات کو بالآخر بات چیت سے ہی حل ہونا ہوتا ہے، ہم روس یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل پر زور دیتے رہیں گے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے چین اور دنیا کے درمیان سفارتی تعلقات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے باعث دو طرفہ بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے، بھارت اب ایک ہندوتوا انڈیا ہے، بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات بات چیت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

    نیوز بریفنگ میں جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ افغان صورت حال سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، خواتین کی حقوق معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں، افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔

    جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے باہمی تجارت کے فروغ پر بات چیت کی ہے، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک پاکستان آئی ہیں، انہیں وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ساتھ جرمن وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا عربی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال

    وزیراعظم شہباز شریف کا عربی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال

    وزیراعظم شہباز شریف کا عربی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ابو بکر عمرنے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کا عربی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال کرنے کا مقصد عرب عوام اور ممالک کے ساتھ تعلقات اور روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

    وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال


    وزیراعظم کے نامی سے بنائے گئے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی عربی زبان میں ٹوئٹ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا عربی میں آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ برادر عرب عوام اور ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے-

    خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی آفیشل اکاؤنٹ سے عربی زبان میں ٹوئٹ کرتے رہے ہیں۔

    پی آئی اے نے اپنا حج آپریشن کا آج سے باضابطہ آغاز کردیا

    قبل ازیں رواں سال ارپریل میں رمضان المبار ک میں وزیر اعظم واضح رہے کہ شہباز شریف نے سفیروں کے افطار ڈنر سے خطاب میں عربی میں بھی تقریر کی تھی اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان برادر مسلم ملکوں سے مل کر کام کرنے کو تیار ہے ترقی اور عالمی امن کیلئے یورپی یونین کی طرز پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

  • ‏عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان پر قرارداد پیش

    ‏عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان پر قرارداد پیش

    ‏عمران خان کے ایٹمی پروگرام اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیان پر قرارداد پیش،ایاز صادق نے عمران خان کے بیان کےخلاف قرارداد پیش کی-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت شروع ہوا،ا، جس میں سردار ایاز صادق سابق وزیر اعظم عمران خان کا انٹرویو ایوان میں لے آئے اور کہا کہ عمران خان کا انٹرویو پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔

    وفاقی وزیر سردار ایاز صادق نےسابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایوان عمران خان کے بیانات کی شدید مذمت کرتا ہےعمران خان نے کہا اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو ملک کے 3ٹکڑے ہوجائیں گے پاک فوج تباہ ہوجائیگی پاک فوج کی دفاع کے لئے ناقابل تسخیر خدمات ہیں، پاک فوج نے دہشتگردی کے خلاف عظیم قربانیاں دیں جسے ایوان خراج تحسین پیش کرتا ہے-

    ایاز صادق نےکہا کہ عمران خان کو اقتدارکی ہوس اتنی زیادہ ہے کہ اتنی بڑی باتیں کرگئے کہ نقصان پاکستان کوپہنچے گاریاست سابق وزیراعظم کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرےمعلوم نہیں سابق وزیراعظم عمران نیازی نے دنیا میں کس کس سیکریٹس دے دیئے ہوں گے، جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو اور تکمیل تک نواز شریف نے پہنچایا، لگتا ہے جو پاکستان کے خلاف نقشے بنائے گئے اس میں بھی یہ شامل تھے، عمران خان نے پاکستان تین ٹکڑوں کی بات کرکے اس کی تائید کی ہے اور ان کا اقتدار کیا گیا ہر روز نئی نئی بات کرتے ہیں۔

    وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی سیاسی وابستگی اور جماعتیں عزیز مگر مذہب اسلام اور پاکستان سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں، جس اقتدار کی خاطر یہ اندھے ہوگئے ہیں ایک قرارداد لائی جانی چاہییے اور ایوان میں بیٹھے ہر شخص کو اس پر دستخط کرنا چاہیے میں کسی کو غیر محب وطن نہیں کہتا مگر جو دستخط نہیں کرے گا وہ عمران خان کے بیان کی تائید کرے گا۔

    خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے پی ٹی آئی دور میں مسلسل جیل میں ڈالا گیا مگر میں نے عمران خان کے حوالے سے کبھی بات نہیں کی یہ شخص اب سیاسی مارچ کو ختم کرکے نام صلح حدیبیہ کا دیتا ہے، کہاں راجا بھوج کہاں گنگو تیلی، یہ کیسے صلح حدیبیہ کا موازنہ کرسکتا ہے جب اس طرح کے لوگ ایسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرینگے تو پھر توہین جیسے واقعات ہوتے ہیں، عمران کے خلاف صلح حدیبیہ کا نام استعمال کرنے کے خلاف بھی قرارداد آنی چاہیے۔

    غوث بخش نے کا کہا کہ اگر ایسی قرارداد لانی ہے تو پھر پرانے بھی سارے بیانات نکال لیں اور جس جس نے فوج اور عدلیہ کے خلاف جو جو بات کہی، سب کے خلاف قرارداد لائیں۔

    حکومت نے لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرلی

    سائرہ بانو رکن قومی اسمبلی جی ڈی اے نے کہا کہ ایک شخص کی مذمت کرنے سے پہلے ان سب کی مذمت کریں جو فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں، اگر اجازت دیں تو ان کی جانب سے فوج کے خلاف کی گئی باتوں کو کل مائیک پر سنادوں گی یہاں سب کو عمرانوفوبیا ہوگیا ہے-

    رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر آرٹیکل 6 نہیں لگائیں گے تو فیڈریشن آف پاکستان کے خلاف آواز اٹھتی رہے گی آئین کو جو پامال کرے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اگر کسی نے کوئی ایسی حرکت کی ہے تو اس پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھاکہ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے ان لوگوں کو اقتدار سے نہ نکالا تو ملک کے نیوکلئیر اثاثے چھن جائیں گے اوردرست فیصلے نہ کیے گئے تو پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔

    عمران خان کے بیان کی وزیراعظم شہباز شریف سمیت تمام سیاسی قیادت نے شدید مذمت کی تھی۔

    بنی گالہ کرپشن کا ہیڈ کوارٹر بنا ہوا ہے،مریم نواز

  • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    اپنے دفتر میں سالگرہ کی بے تکلفانہ تقریب کرکے اپنی ہی عائد کی گئی کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملے کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ ہاؤس آف کامنز میں ہوئی اور ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے شروع ہوا جو 12 بجے تک جاری رہا عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجے سامنے آیا جس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

    برطانوی میڈیا کے مطابق 211 ارکان بورس جانسن کے حق میں جبکہ 148 نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکارتھے عدم اعتماد میں 59 فیصد کنزرویٹو ایم پیز نے جانسن کے حق میں جبکہ 41 فیصد نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔

    اس سے قبل برطانوی ‘ 1922کمیٹی’ کے سربراہ سر گراہم بریڈی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے انہیں بورس جانسن کیخلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے لکھے خطوں کی حد درکار 15 فیصد تک پہنچ گئی دوسری جانب لیڈر آف اسکاٹش کنزرویٹیو ڈگلس روز نے بورس جانسن کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کردیا تھا۔

    امریکا میں فائرنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ،مزید دو واقعات میں 6 افراد ہلاک متعدد زخمی

    قبل ازیں کنزرویٹو قانون سازوں کی ایک کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی کے ذریعہ اعلان کردہ اس اقدام کا اعلان کئی مہینوں کے بحران کے بعد کیا گیا اور ان دعوؤں کے درمیان سامنے آیا کہ مسٹر جانسن نےکورونا وائرس کی وبا کے عروج پرڈاؤننگ سٹریٹ میں منعقدہ لاک ڈاؤن توڑنے والی جماعتوں کے بارے میں پارلیمنٹ کو گمراہ کیا۔

    مسٹر جانسن اس سال پہلے حاضر سروس وزیراعظم بنے جنہیں اپنی سالگرہ منانے کے لیے ایک اجتماع میں شرکت کرکے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے جرمانہ کی اور پچھلے مہینے ایک سینئر سرکاری ملازم، سیو گرے کی ایک رپورٹ نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں قانون شکنی کرنے والی پارٹیوں کی ایک دلفریب تصویر پینٹ کی تھی جہاں عملے کے ارکان نے بہت زیادہ شراب نوشی کی، املاک کو نقصان پہنچایا اور ایک موقع پر آپس میں لڑ پڑے۔

    بڑھتی ہوئی مہنگائی سمیت شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، مسٹر جانسن کی ذاتی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور جب وہ گزشتہ جمعہ کو ملکہ الزبتھ کی پلاٹینم جوبلی کے لیے تشکر کی خدمت میں پہنچے تو اس میں کچھ اضافہ ہوا۔

    مسٹر بریڈی نے ایک بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کے 15 فیصد سے زیادہ کنزرویٹو ممبران نے اعتماد کا ووٹ طلب کیا تھا، جس نے ووٹ ڈالنے کے لیے ضروری حد کو عبور کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ووٹنگ پیر کی شام 6 سے 8 بجے کے درمیان ہوگی۔

    وزیرِ اعظم نے جاپانی کمپنیوں کےمسائل حل کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی

    مسٹر جانسن کو اب اپنا قائد رہنے کے لیے اپنی کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کے ووٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ اس کا اب بھی مطلب ہے کہ اس کے پاس جیتنے کا اچھا موقع ہے کیونکہ اس کے مخالفین کو اسے گرانے کے لیے تقریباً 180 ووٹ اکٹھے کرنے ہوں گے، اور اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔

    ووٹ خفیہ ہو گا، یہاں تک کہ وہ لوگ جو عوامی طور پر وفاداری کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر وہ چاہیں تو خاموشی سے اپنی حمایت واپس لے سکتے ہیں۔ اگر وہ ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کی جگہ پارٹی سربراہ اور وزیر اعظم کے لیے مقابلہ ہو گا۔

    اپنے استعفیٰ کے مطالبات اور رائے شماری کی درجہ بندی میں کمی کے باوجود، مسٹر جانسن نے اپنے رویے پر اندرونی تنقید کو روکنے اور اعتماد کا ووٹ لینے سے روکنے کے لیے سخت جدوجہد کی تھی۔

    عدم اعتماد سے پہلے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اراکین پارلیمنٹ کے سامنے اپنا کیس پیش کرنے کے موقع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ عدم اعتماد کی ووٹنگ سے وزیراعظم کی قیادت سے متعلق قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔

    اچانک امریکی صدر بائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل ملتوی

    برطانوی وزیر خارجہ اور وزیر صحت سمیت کئی ارکان نے پہلے ہی اپنے وزیر اعظم کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ کورونا کے بعد بحالی اور روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت پر کئی ارکان بورس جانسن کے حق میں ہیں۔

    تاہم اپوزیشن سمیت حکمراں جماعت کےکچھ ارکان بورس جانسن کے رویے سےکچھ زیادہ خوش نہیں بالخصوص کورونا پابندیوں کےدوران ملکہ برطانیہ کے شوہر کے انتقال کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے اپنے دفتر میں بے تکلفانہ تقریب پر سب ناراض ہیں۔

    اس معاملے کو اس لیے بھی ہوا ملی کہ وزیر اعظم بورس جانسن اپنی غلطی منانے میں تاخیر سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ انھیں اپوزیشن کی جانب سے مواخذے کی دھمکی بھی ملی تب کہیں جاکر بورس جانسن نے معافی مانگی۔

    برطانیہ میں تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اراکین اس بات پر ووٹ دیتے ہیں کہ آیا وہ موجودہ لیڈر کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    بنگلہ دیش: کمپنی میں آتشزدگی اور دھماکا،5 افراد ہلاک 100 سے زائد زخمی

    کنزرویٹو پارٹی کے قوانین کے تحت، اگر اراکین پارلیمنٹ اپنے لیڈر سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو 1922 کی کمیٹی کے سربراہ کو عدم اعتماد کا ایک خفیہ خط جمع کراتے ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے والوں کا نام صیغہ راز میں رہتا ہے۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف تحریک اعتماد ان کی پارٹی کے 15 فیصد ارکان کی حمایت سے پیش ہوئی ہے۔ جس کے لیے 54 عدم اعتماد کے خطوط حاصل 1922 کی کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی کو پیش کیے گئے تھے۔

    بورس جانسن نے 2019 میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا اور انھیں عہدے سے ہٹانے کے لیے 180 کنزرویٹو اراکان کے ووٹ درکار ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بورس جانسن اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب بھی ہوگئے تو وہ کمزور وزیراعظم ثابت ہوں گے-

    یوکرین پر حملہ:پوتن نے تاریخی غلطی کی: فرانسیسی صدرمیکروں

  • قومی اسٹریٹجک پروگرام پر بے بنیاد اورغیرضروری تبصرے سے گریز کیا جائے،جنرل ندیم رضا

    قومی اسٹریٹجک پروگرام پر بے بنیاد اورغیرضروری تبصرے سے گریز کیا جائے،جنرل ندیم رضا

    قومی اسٹریٹجک پروگرام پر بے بنیاد اورغیرضروری تبصرے سے گریز کیا جائے،جنرل ندیم رضا

    چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے نسٹ میں سیمینار سے خطاب کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پالیسی کے تحت علاقائی عوامل اورسیکیورٹی پر سیمینارمنعقد کیا گیا،

    چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت مادر وطن کے دفاع کے خلاف سالمیت کی ضامن ہے،نیوکلیئر پروگرام کو عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے،سول اور ملٹری قیادت اسٹریٹجک پروگرام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے،قومی سیکیورٹی ناقابل تقسیم ہے ،پاکستان اپنے نیوکلیئر پروگرام پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان ذمہ داراور پراعتماد نیوکلیئر ملک ہے،پاکستان کی پالیسی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس ہے جو کہ قابل اعتماد ایٹمی توازن کے دائرہ کار میں ہے، قومی سیکیورٹی اور سیفٹی میکنزم ہر قسم کے خطرے کے خلاف بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق ہے،قومی اسٹریٹجک پروگرام پر بے بنیاد اورغیر ضروری تبصرے سے ہر صورت گریز کیا جائے، صرف نیشنل کمانڈ اتھارٹی ہی اسٹریٹجک پروگرام پر ریسپانس اور تبصرہ دینے کی مجاز ہے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بی جے پی رہنما گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

  • بھارتی حکام کی جانب سے توہین آمیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں، ترجمان پاک فوج

    بھارتی حکام کی جانب سے توہین آمیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں، ترجمان پاک فوج

    بھارتی حکام کی جانب سے توہین آمیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں، ترجمان پاک فوج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے بی جے پی رہنمائوں کی جانب سے گستاخانہ بیانات کی شدید مذمت کی ہے، ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بھارتی حکام کے توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتی ہیں، بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے گستاخانہ کلمات پر پاک فوج کا ردعمل بھی آیا ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں اشتعال انگیز بیانات بھارتی مسلمانوں اور دیگر مذاہب کےخلاف نفرت کی نشاند ہی ہے

    واضح رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپورشرما نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلام اور نبی کریمﷺ کے حوالے سے متنازع گفتگو کی تھی اس بیان پرمسلمانوں کی جانب سے شدیدغم وغصے کا اظہارکیا جارہا ہے

    پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے اور حکومت پاکستان کی طرف سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہندوستان کی حکمران جماعت بی جے پی کے دو سینئر عہدیداروں کی طرف سے کئے گئے انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی شدید مذمت کی

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز کلمات پر بھارتی سفارت کار کو طلب کرلیا،بھارتی سفارت کار کو طلب کرکے توہین آمیز کلمات پر سخت پیغام دے دیا گیا،بی جے پی قیادت اور حکومت توہین آمیز کلمات کی مذمت کرے،بی جے پی قیادت ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچائے،

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بی جے پی رہنما گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

  • تحریک انصاف کے رکن اسمبلی  کی خود کش حملے کرنے کی دھمکی

    تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کی خود کش حملے کرنے کی دھمکی

    تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کی خود کش حملے کرنے کی دھمکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ خان نے اتحادی حکومت کے خلاف خود کش حملوں کی دھمکی دی ہے

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی حلقہ این اے 250 عطاء اللہ خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اگر عمران خان پر کچھ ہوا تو میں خودکش حملہ کروں گا اور اس طرح اور بھی ہزاروں خودکش تیار ہیں،عمران خان کا بال بیکا بھی ہوا تو نہ آپ رہیں گے نہ آپ کے بچے رہیں گے، رکن قومی اسمبلی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے میں خود کش حملہ کروں گا ،میں آپکو چھوڑوں گا نہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب سے اقتدار سے گئے ہیں وہ کبھی کہتے ہیں کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ ہو گا، جان خطرے میں ہے لیکن جب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں ثبوت دیں ہم سیکورٹی مہیا کریں گے، اسکے جواب میں تحریک انصاف نے حکومت کو کچھ بھی مہیا نہیں کیا، عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ چھوڑ کر پشاور چلے گئے تھے،دو روز قبل بنی گالہ واپس آئے ہیں اور انکی آمد سے قبل ایک بار پھر تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت عمران خان کو گرفتار کر سکتی ہے، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے رد عمل دیا اور کہا کہ ہم نے بنی گالہ کی سیکورٹی سخت کی ہے، عمران خان ضمانت پر ہیں ،

    تحریک انصاف کے رہنماؤں اور اراکین اسمبلی میں شدت پسندی پائی جاتی ہے، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایک رکن اسمبلی نے خود کش حملہ کرنے کی دھمکی دی ہو، اس سے قبل بھی تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر رہنے والی شخصیات غلام سرور خان، شہر یار آفریدی بھی خود کش حملے کی بات کر چکے ہیں،

    رواں برس ماہ مارچ میں جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا سلسلہ چل رہا تھا اسوقت شہر یار آفریدی جو کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں نے کوہاٹ میں کہا تھا کہ اگر اسلام میں خود کشی حرام نہ ہوتی تو اپنے جسم پر دھماکہ خیز مواد باندھ کر پارلیمنٹ پر حملہ کر دیتا تا کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام منافق ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں

    پاکستان نے خطے میں امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ایسے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے خود کش بننے کے بیان کیا ظاہر کرتے ہیں؟ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن خودکش حملوں کے سبب پاکستان پر شدت پسند ہونے کا مخصوص لیبل لگایا جاتا ہے، ایسے میں سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں کے ایسے بیانات پاکستان مخالف قوتوں کو سند فراہم کر رہے ہیں، پاکستان میں خود کش حملے ہو چکے ہیں اور دہشت گردوں نے نہ صرف پاکستان کے امن کو تباہ کیا بلکہ خود کش حملوں سے جانی و مالی بھی نقصان ہوا، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف عظیم قربانیاں دی ہیں لیکن لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما ان قربانیوں کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین کا کہنا ہے کہ خود کش حملے کرنے کی دھمکی دینے والوں کے خلاف فوری کاروائی ہونی چاہئے

    قتل کو خود کشی کا رنگ دینے کی تمام سازشیں دم توڑ گئیں،تحقیقات کا حکم

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

  • کیا یہ کورٹ پارلیمنٹ سے اختیارات واپس لے لے؟ عدالت کے ریمارکس

    کیا یہ کورٹ پارلیمنٹ سے اختیارات واپس لے لے؟ عدالت کے ریمارکس

    کیا یہ کورٹ پارلیمنٹ سے اختیارات واپس لے لے؟ عدالت کے ریمارکس

    اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ طریقہ کار میں تبدیلی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    درخواست گزار نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست واپس لے لی ،عدالت نے کہا کہ جب ترمیم ہو جائے تو درخواست گزار درخواست دائر کر سکتا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو پٹیشن قبل از وقت ہے،صدر نے معاملہ واپس بھیج دیا ،جب ترمیم ہی نہیں ہوئی تو عدالت کیسے فرض کر سکتی ہے ؟ عین ممکن ہے جو آپ کہہ رہے ہیں پارلیمنٹ اس پر نظر ثانی کر لے،ابھی تو آپ نے بل کو چیلنج کیا ہے ترمیم تو ہوئی ہی نہیں ، وکیل نے کہا کہ 2018 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حکومت نے قانون سازی کرنی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کورٹ پارلیمنٹ سے اختیارات واپس لے لے؟ وکیل نے کہا کہ عدالت اس درخواست کو زیر التوا رکھ لے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے الیکشن میں کیا اوورسیز پاکستانیز نے پوسٹل بیلٹ کا حق استعمال نہیں کیا ؟امریکہ میں 13 ریاستیں ہیں جو  اوورسیز امریکیوں کو ووٹ کا حق نہیں دیتیں،

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ