Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں تو سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا اور یہ طے تھا کہ تیل کی قیمتیں 30 روپے تک بڑھائی جائیں گی ،آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف کے معاہدے کی کاپی باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، معاہدہ فروری 2022 میں کیا گیا تھا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابھی تک جمع نہیں ہوئی تھی،تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا

    تحریک انصاف کی حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے 4 فرروی 2022 کو چند دستاویزات جاری کی گئیں تھیں اس وقت جاری کی گئی پریس ریلیز میں میں ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین کا بیان اور ایگزیکٹو بورڈ کے خیالات کا خلاصہ شامل کیا گیا رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 4 سے متعلق مشاورت اور آئی ایم ایف انتظامات سے متعلق امور پر عملے کی رپورٹ پر غور کیا گیا،

    18 نومبر 2021 کو پاکستان کے حکام کے ساتھ اقتصادی پیشرفت اور پالیسیوں پر ختم ہونے والی بات چیت کے بعد آئی ایم ایف کے عملے کے ذریعہ تیار کردہ معلوماتی ضمیمہ اس وقت کی پیشرفتوں کے بارے میں معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے والی ایک اضافی معلومات اسٹاف رپورٹ اور ایگزیکٹو بورڈ کی بحث کے جواب میں پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا بیان شامل تھا-

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آمدنی. پائیدار مالیاتی اصلاحات اور ٹیکس انتظامیہ کی کوششوں کی وجہ سے وفاقی ٹیکس ریونیو میں 25 فیصد سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔ اسے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو نئے ریونیو ہدف سے ہم آہنگ کرنے کو یقینی بنا کر ماحولیاتی ٹیکس کے اعلیٰ عمل سے بھی مدد ملے گی۔ اس طرح ہم پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں 8 روہے فی لیٹر اضافہ کریں گے اور ہم مالی سال 2022 کے لیے ہر ماہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو فی لیٹر بڑھانے کا عہد کرتے ہیں جب تک کہ زیادہ سے زیادہ قیمت 30 روپے فی لیٹرنہ بڑھا دی جائے۔ اور نئے ترجیحی ٹیکس یا چھوٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے گریز کریں۔

    آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دسمبر میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی فی لیٹر 4 رپوے فی مہینہ اضافہ جاری رکھے گا جب تک کہ زیادہ سے زیادہ 30 روپے لیٹر حاصل نہ ہو جائے جو ماضی میں موجود تھا۔ آئی ایم ایف نے مارہ فروری میں مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور قیمتوں پر ٹیکس نہیں لگایا جس کی وجہ سے آنے والی نئی حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا، معاہدے کے تحت پاکستان کوگزشتہ سال 5 نومبر یکم دسمبر اور رواں سال یکم جنوری کو پیٹرول و ڈیزل پر4، 4 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانا تھی پی ٹی آئی حکومت نے معاہدے کے برعکس جنوری کے بعد پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا اور سیلزٹیکس بھی صفرکردیا

    عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو انہوں نے پٹرول کی قیمتیں مستحکم کر دیں اور کہا کہ پانچ ماہ تک یہی قیمتیں رہیں گی، عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو آنے والی اتحادی حکومت ایک ماہ تک سوچ بچار کرتی رہی کہ قیمتیں بڑھائیں یا نہیں، لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف حکومت کے کئے گئے معاہدے کے تحت موجودہ حکومت کو پٹرول کی قیمتیں 30 روپے بڑھانا پڑیں جس کے بعد تحریک انصاف نے ہی احتجاج کا اعلان کیا، اور معاہدہ کرنے والی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے بیان دیئے کہ یہ سب موجودہ حکومت کر رہی

    تحریک انصاف کے رہنما، وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاہدے کے اعتراف کر چکے ہیں پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے قبول کرلیا کہ موجودہ مہنگائی، ڈالر، پٹرول اور بجلی کی قیمیتیں آئی ایم ایف سے ہمارے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے بڑھیں ہیں.

    پروگرام کے دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ معاشی مسائل تو پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی تھے اور ان کی حکومت میں ہی آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے گئے اور مانا گیا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی اور آپ ہی کے دور میں بیرونی قرض بھی بڑھا مگر اس وقت تو آپ نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی .189 تک تو ڈالر کی قیمت پی ٹی آئی کی حکومت چڑھا کر گئی ہے مگر اس وقت بھی ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت آپ حکومت میں تھے.پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ڈیل تھی آئی ایم ایف کے ساتھ ،اب آپ کہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے تو دو ماہ پہلے آپ کی حکومت تھی تو تب ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تھا ؟

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ آپ بالکل درست کہ رہے ہیں (یعنی شاہ محمود قریشی نے تسلیم کر لیا کہ ان کی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے تھے جس کے مطابق پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھانا تھیں ) انہوں نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاشی مشکلات چند ہفتوں کی پیدا کردہ نہیں ہیں،عمران خان بھی یہی کہ رہے ہیں کہ معاشی چیلینجز راتوں رات پیدا نہیں ہوئے، کزشتہ 30 سال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارتی برسراقتدار رہے ہیں.

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک بھی قوم کو بتا چکے ہیں کہ عمران خان ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے گئے تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں گے،مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    تحریک انصاف کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے قوم کو سچ بتانا چاہئے اور عمران خان میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ وہ قوم کو سچ بتائیں کہ یہ معاہدہ ہم کر کے گئے تھے، پاکستانی قوم کو مہنگائی میں جکڑنے کے ذمہ دار عمران خان اور انکی کابینہ ہے جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرول کی قیمت بڑھانے کا معاہدہ کیا، اب سب سامنے آ چکا،عمران خان جو یوٹرن خان کے نام سے مشہور ہیں قوم کو جھوٹ بتانے کی بتائیں سچ بتائیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک انصاف کے احتجاج میں بھی اس بات کو بتایا جائے کہ یہ گڑھا تحریک انصاف نے ہی عوام کے لئے کھودا تھا، اب صرف سیاست کی جا رہی ہے

    اینکر غریدہ فاروقی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پٹرول قیمت میں اضافہ عوام پر بہت سنگین بوجھ تو ہے ہی لیکن یہ اُسیIMFمعاہدے کی شرائط ہیں جو عمران خان حکومت میں کیا گیا۔عمران خان حکومت ہوتی تو بھی پٹرول بجلی کی یہی قیمت ہوتی۔قیمتیں منجمد سیاسی فائدے،عدم اعتماد کوآتے دیکھکر کی گئیں تھیں۔ حقائق یہی ہیں؛کسی کو برالگےتو کیا کیاجائے۔

    فواد چودھری کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اس طوفان کی ذمہ دارنون لیگ تو ہے ہی لیکن پیپلز پارٹی، MQM، BAP, فضل الرحمنٰ اور لوٹوں کو مت بھولیں جو اس جرم میں نون لیگ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں موجودہ تباھی کی ذمہ داری اس پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے یہ سب نون پر ڈال کر خود میسنے بنے ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، موجودہ مہنگائی کی ذمہ دار عمران خان ہیں، سابق حکومت نے ایسے معاہدے کئے جس سے ملک میں اب مہنگائی میں اضافہ ہوا، اگر عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تیل کی قیمتیں 30 روپے بڑھانے کا معاہدہ نہ کرتی تو تیل کی قیمتوں میں اب اتنا اضافہ نہ ہوتا، بلکہ کم ہوتا، عمران خان کی جانب سے ایسے غلط فیصلے کئے گئے جس کا خمیازہ قوم آج بھگت رہی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت ہوتی تو کیا وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق تیل کی قیمت نہ بڑھاتی؟

    علاوہ ازیں سابق گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر بھی انکشاف کر چکے تھے کہ آئی ایم ایف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے،آئی ایم ایف بجلی کے ریٹ بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے،

  • شمالی وزیرستان:پاک فوج کی چوکی پردہشت گردوں کا حملہ:عمران خان وطن پرقربان ہوگئے

    شمالی وزیرستان:پاک فوج کی چوکی پردہشت گردوں کا حملہ:عمران خان وطن پرقربان ہوگئے

    راولپنڈی :شمالی وزیرستان:پاک فوج کی چوکی پردہشت گردوں کا حملہ:عمران خان وطن پرقربان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے منگروٹائی میں دہشت گردوں نے فوجی چوکی پر فائرنگ کی۔ دہشت گردوں کی طرف سے شدید فائرنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے پاک فوج کے دستوں نے جوابی کارروائی کی

    اس حوالے سے پاک فوج کےترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اور دہشت گردوں کا پیچھا کیا ،پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کی تلاش بھی جاری رکھی اور اس دوران دہشت گردوں اور پاک فوج کے جوانوں کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی عمران خان عمر 30 سال ساکن جعفرآباد نے بہادری سے لڑتے ہوئے وطن پر قربان ہوگئے اورجام شہادت نوش کیا۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی کلیئرنس کی جا رہی ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    لاہور (انویسٹیگیشن سیل) سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا،سرکاری مشینری سے پہاڑی زمین کو ہموار کیا گیا،سابقہ حکومت کی منظور کردہ واٹر سپلائی سکیم اپنے باغ میں لگوا لی،

    بستی محمد بخش روح والا کی منظورکردہ کارپٹ سڑک بستی کی بجائے اپنے زرعی فارم کی طرف موڑ دی، ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹرجنرل نے 14 ایکڑ رقبے پر باغ لگانے کیلئے سرکاری خرچ پر قیمتی پودے اپنی نگرانی میں لگوائے جس کی مانیٹرنگ ونگرانی سیکرٹری زراعت پنجاب خود کرتے تھے، اس باغ کوسیراب کرنے کیلئے سرکاری خرچ پرجدید ترین ڈرپ اری گیشن سسٹم واٹرمنیجمنٹ ڈیرہ غازیخان سے نصب کرایا گیا۔باغ لگانے کیلئے محکمہ زراعت ڈیرہ غازیخان کے بیلداروں سے بغیرمزدوری دئے لیبر کا کام لیا گیا،اس زرعی فارم کیلئے خصوصی طورپربجلی کی نئی ٹرانسمیشن لائن نصب کرائی گئی،بجلی کی اس لائن سے کسی ایک گھرکوبجلی نہیں جارہی کیونکہ اس علاقہ میں کوئی رہائشی آبادی ہے ہی نہیں،باغ اورزمین کی مستقل رکھوالی کیلئے خصوصی طورپربلوچ لیوی فورس کی ایک چوکی قائم کرائی گئی ،جہاں پر بلوچ لیوی کے دوملازم لیاقت اورعرفان مستقل طورتعینات ہیں ،ان میں سے ایک دن کے وقت جبکہ دوسرا رات کی ڈیوٹی کرتاہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس کے چھپے ہوئے کارنامے منظرعام پر آناشروع ہوگئے ہیں کہ انہوں نے کس طرح بے دردی سے سرکاری وسائل اپنے ذاتی فوائد کیلئے استعمال کئے،سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنے آبائی علاقے بارتھی کے قریب سالاری بستی محمد بخش روح والاموضع چٹ پانی میں پہاڑی اورناہموارزمین کوہموارکرنے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے 14ایکڑ رقبے پر زیتون، کھجور ،انجیر ،بیری اوردوسرے کئی قسم کے قیمتی پودوں کا باغ لگوایا،اس باغ کے لئے ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹرجنرل نے سرکاری خرچ پر قیمتی پودے خریدکر اپنی نگرانی میں لگوائے جسکی مانیٹرنگ ونگرانی سیکرٹری زراعت پنجاب خود کرتے تھے اورڈائریکٹرزراعت ڈیرہ غازیخان اور دوسرے تمام متعلقہ آفیسران ان کی معاونت کرتے ،باغ لگانے کیلئے محکمہ زراعت ڈیرہ غازیخان کے بیلداروں سے بغیرمزدوری دئے لیبرکا کام لیاگیا۔

    فرح خان جہاں بھی ہوگی رانا ثنااللہ اسے واپس لائیں گے:مریم نواز 

    فرح خان کو دبئی سے پاکستان واپس لا نے کا فیصلہ

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    اس سے قبل بزدارحکومت نے زیتون کے باغات لگانے کیلئے ایک سکیم شروع کی تھی جس میں حکومت پنجاب نے80 فیصد سبسڈی پرپودے زمینداروں اورکاشت کاروں کومہیا کرنے تھے اور20 فیصد خرچ زمینداروں اور کاشت کاروں نے خود برداشت کرناتھا لیکن اس کے برعکس ڈیرہ غازیخان میں کسی زمینداریا کاشتکارکوزیتون کا ایک بھی پودا نہیں دیا گیا،سبسڈی کے نام پر تمام پودے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے زرعی میں لگائے گئے ،سبسڈی والے پودے غیرممالک سے امپورٹ شدہ تھے۔ اس تمام تر سبسڈی کا فائدہ بھی ناجائز طور پر عثمان بزدار نے خود اٹھایا سلاری زرعی فارم کے روڈ کے کناروں اور باغ کے اندربنائے گئے ڈیرہ پرکمروں کے ارد گرد لگائے گئے فاریسٹ پلانٹ محکمہ جنگلات ڈیرہ غازیخان نے اپنی سپر وژن میں سیکٹری جنگلات کے حکم پر لگوائے۔پہاڑی اورناہموارزمین کوہموارکرنے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کی گئی،جب اس سلسلے میں محکمہ زراعت انجینئرنگ کے سربراہ چوہدری ندیم سے معلومات اوران کا موقف جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی سرکاری بلڈورنہیں بھیجے لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ بلڈورکہاں سے آئے تھے لیکن آپ کون ہیں بتائوں گا البتہ وزیراعلیٰ کے زرعی فارم پر اپنے صوبائی سیکرٹری زراعت کیساتھ معائنہ کیلئے وہاں جاتا تھا۔

    اس زرعی فارم کیلئے خصوصی طورپربجلی کی نئی ٹرانسمیشن لائن لگوائی گئی،بجلی کی اس لائن سے کسی ایک گھر کو بجلی نہیں جارہی کیونکہ اس علاقہ میں کوئی رہائشی آبادی ہے ہی نہیں۔اس زرعی فارم کوبارتھی روڈ سے ملانے کیلئے 5کروڑ روپے کی لاگت سے کارپٹ روڈ بستی محمد بخش روح والاکے نام سے منظورکرائی گئی لیکن اس روڈ کو بستی محمد بخش روح والاسے 3-4کلومیٹرسے پہلے سردار عثمان خان بزدار کے زرعی فارم کی طرف موڑدیاگیا،اس سڑک کے بننے سے بستی محمد بخش کے رہائشوں کوکوئی فائدہ نہیں پہنچا،شارع عام ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے روڈ پرجنگلے لگا کرپابندی لگا دی گئی۔اس سڑک کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بڑی گاڑی بستی محمد بخش روح والا نہیں جا سکتی۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح بھاگ گئی،کچھ کیا نہیں تو ڈر کیسا؟ سعد رفیق

    فرح خان کیخلاف ریکارڈ کے حصول کیلئے نیب متحرک

    وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اس پر بس نہ کی مسلم لیگ ن کی سابقہ دورحکومت میں بستی سلاری کیلئے ایک واٹرسپلائی سکیم منظورکی گئی تھی،عام انتخابات قریب ہونے پر الیکشن کمیشن نے ترقیاتی کاموں پابندی لگا دی تھی تویہ سکیم بھی اس وقت پایہ تکمیل کونہ پہنچ سکی ،جب پی ٹی آئی کی حکومت میں سردار عثمان احمدخان بزداروزیراعلیٰ بنے توانہوں وہ سکیم بستی سلاری میں بنوانے کی بجائے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے آفیسران کوحکم دیکر اپنے زرعی فارم پربنوالی اورانسانی آبادی کوپینے کے پانی سے محروم رکھا گیا،اس واٹرسپلائی سے کسی ایک گھرکوپانی کی سہولت میسر نہیں ہے جہاں یہ واٹر سپلائی بنائی گئی وہاں پرکوئی انسانی آبادی نہیں ہے،اس واٹرسپلائی سکیم سے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے 14 ایکڑ زرعی فارم جس میں زیتون،کھجور،انجیراوربیری ودیگرپھلوں کے پودے لگے ہوئے ہیں سیراب ہوتے ہیں،اس کے علاوہ انہوں نے مزید چالاکی کرتے ہوئے 3عدد چھوٹے 2″انچ سائزکے پانی کے بورکرائے ہوئے ہیں اگرکوئی اس واٹرسپلائی سکیم پرسوال کرے تو اسے بتایا جاسکے کہ ہم سرکاری واٹرسپلائی کے پانی سے باغ کوسیراب نہیں کرتے بلکہ ہم نے پانی کیلئے اپنے بورکرائے ہیں۔

    اُدھرذرائع کا کہنا ہے واٹرمنیجمنٹ ڈیرہ غازیخان سے سرکاری خرچ پرجدید ترین ڈرپ اری گیشن سسٹم نصب کرایا گیا۔محکمہ زراعت کے ایک آفیسرنے نام شائع نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اس وقت کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر،بی ایم پی کمانڈنٹ حمزہ سالک اورکیپٹن سمیع فاروق نے ہم پردبائوڈالااورکہا کہ تم اپنے ذرائع سے ڈرپ اری گیشن لگواکردوجس پر متعلقہ آفیسر نے جواب دیاکہ ڈرپ اری گیشن ہمارا شعبہ نہیں ہے یہ واٹرمنیجمنٹ کا کام ہے توپھرڈرپ اری گیشن سسٹم انہوں لگایا نہیں معلوم کہ اس کے اخراجات متعلقہ آفیسروں یاان کے فرنٹ مین ٹھیکداروں نے برداشت کئے ہیں ۔

    اس باغ اورزمین کی مستقل رکھوالی کیلئے خصوصی طورپربلوچ لیوی فورس کی ایک چوکی قائم کرائی گئی ،جہاں پر بلوچ لیوی کے دوملازم لیاقت اورعرفان مستقل طورتعینات ہیں ،ان میں سے ایک دن کے وقت جبکہ دوسرا رات کی ڈیوٹی کرتاہے۔جب اس سلسلے میں بلوچ فورس کے صوبیدارمیجرغلام رسول خان بزدار سے زرعی فارم پربنائی گئی بلوچ لیوی کی چوکی سے متعلق سوال کیاتوانہوںبتایاکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکے حکم پرڈپٹی کمشنرجوکہ ہمارے سینئرکمانڈنٹ ہیں کے حکم پر ہمارے کمانڈنٹ نے وہاں مستقل چوکی قائم ہے جہاں ہمارے دوملازم ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں،جب ان سے پوچھا گیا کہ اب توعثمان خان وزیراعلیٰ نہیں ہیں اب تووہاں پرچوکی ختم ہونے چاہئے تواس پرصوبیدارمیجرنے جواب دیا ہمارے تمام آفیسران بشمول ڈپٹی کمشنرکے علم میں ہے اورہرماہ تمام ملازمین کی ڈیوٹی کی رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے ۔اب دیکھنایہ کہ وسیم اکرم پلس جسے عمران خان نے یہ کہہ کروزیراعلیٰ پنجاب مسلط کردیا تھا کہ اس کے گھرمیں بجلی نہیں ہے،اس کی ہوشرباء کارناموں پرکون اور کب نوٹس لیتاہے ۔۔؟

  • وزیر اعظم کا آرمی چیف،وزیر دفاع کے ہمراہ کمانڈ اینڈ  اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ

    وزیر اعظم کا آرمی چیف،وزیر دفاع کے ہمراہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گوادر میں جاری منصوبوں کافضائی معائنہ کیا،گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا،چین کے تعاون سے گوادر میں ہسپتال بنایا گیا ہے ،گوادر سے کراچی تک ٹرانسپورٹ کی سہولت بہترہوگی،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے،ابھی تک گوادرایئرپورٹ مکمل نہیں ہو سکا،گوادر ایئرپورٹ کوابھی تک مکمل ہوجانا چاہیے تھا،گوادرکے لوگوں کوپینے کا صاف پانی بھی مہیا نہیں کیا جا سکا،چین نے 3200 گھرانوں کیلئے سولر پینل بھی فراہم کیے،گوادر کے عوام کیلئے پینے کے پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا،ایسٹ بے کی تعمیر سے گوادر نیشنل ہائی وےکے ذریعے کراچی سے منسلک ہوگا،گوادر میں بجلی کی قلت کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،گوادر پورٹ کی کئی سالوں سے ڈریجنگ نہیں ہو سکی،گوادر کی تعمیر وترقی کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا،

    دل پر پتھر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا، تیل اور پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں،عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی دیکھ کر تیل کی قیمتیں کم کر کے ہمیں مشکلات پیدا کی گئیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سےاضافہ ہورہاہے،ماضی کی حکومت نےغریبوں کااحساس نہیں کیا،جاتےجاتےپیٹرول کی قیمت کم کردی،عالمی منڈی میں اضافےکےباوجودپاکستان میں قیمتیں کم کی گئیں،کیسے ممکن ہے کہ باہرسے مہنگا تیل لیکریہاں سستا بیچیں،ماضی کی حکومت نے ساڑھے تین سال غریبوں کااحساس نہیں کیا،جاتےجاتےپیٹرول کی قیمت کم کردی،

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر دفاع بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ،اسٹاف کالج کوئٹہ میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب بھی کیا،

    قبل ازیں وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے کوئٹہ میں یادگارِ شہدا پر حاضری دی،وزیراعظم کی جانب سے فاتحہ خوانی کی گئی اور یاد گار پہ پھول چڑھائے گئے

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایئرپورٹ وزیراعظم کا استقبال کیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف آج ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچیں گے۔اس موقع پر وزیر اعظم چینی کمپنیوں کے وفد سے ملاقات کریں گے اور میڈیاسے گفتگو کریں گے۔

  • مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے کون کہتا ہے، کبھی کسی سے پوچھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ خط آتا ہے کہ متعلقہ شخص سے تفتیش جاری ہے نام ای سی میں ڈال دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش ہورہی ہے تو نیب یا اداروں سے پوچھنا چاہیے ، نام نکال رہے ہیں اعتراض تو نہیں نام نکال رہے ہیں اس بارےمیں ہم نہیں پوچھ رہے ہیں، کیا پی پی سی اور نیب کے قانون میں کوئی فرق ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی پی سی اور نیب کے قانون میں فرق ہے، نیب کے پاس اختیار ہے کہ ای سی ایل میں نام رکھنے کے لیے توسیع کا خط لکھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام ای سی ایل سے نکال رہے ہیں تو کسی کو نوٹس تو دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا جلدی تھی کہ ای سی ایل سے 400 سے زائد نام نکالے گئے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جب ذاتی مفاد ہو تو اس کو سامنے رکھنا چاہیے ایک شخص جس کا نام ای سی ایل میں ہے اور وزیر بن جاتا ہے کیا تو کیا ہوگا؟آپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ معاملہ آزادانہ نقل و حرکت کا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ 22اپریل کو سب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں رولز میں ترمیم کی گئی، جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کے بعد کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایگزیکٹو کے فنکشنز میں مداخلت نہیں کررہے،ایک وزیر فنانشل معاملات پر کام کررہا ہے، ہم آپ کو 2ہفتے کا وقت دیتے ہیں ، قانون کے مطابق عمل کریں، ہم چاہتے ہیں قانون پر عملدرآمد کر کے سب سے یکساں انصاف ہو،ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیوں کیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی سے ترمیم کے اطلاق کا مقصد مخصوص افراد کیلئے نہیں تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ترمیم کرنے والوں کےرشتہ دار یا دوستوں کو فائدہ ہورہا تو کیا ایسی ترمیم ہونی چاہیے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ملک سے باہر جانا ایک بنیادی حق ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ آزادانہ نقل و حرکت ایک شہری کا بنیادی حق ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ مطابق تبدیلیاں کی گئی ہیں،ایف آئی اے ہائی کلاسیفائیڈ کیسز کیسے کرتے ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہائی کلاسیفائیڈ کیسز مقرر کرنے کا ایک ایس او پی ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی کیا جلدی تھی؟ ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق گزشتہ تاریخوں سے ہونے کا ذکر نہیں، ای سی ایل میں شامل وزرا نام نکالنے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا نام عدالت نے شامل کرایا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سعد رفیق کابینہ اجلاس میں موجود نہیں تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق سعد رفیق نے ای سی ایل رولز کی منظوری دی ہے،کیا وزرا کو خود معاملے سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ ذاتی مفاد کیلئے کوئی کیسے سرکاری فیصلے کر سکتا ہے؟ کیا وزرا کیلئے ذاتی کیس سے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق ہے ؟ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کا نام ای سی ایل میں ہو تو کیا کابینہ فیصلہ ہی نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو، کسی کو سزا دینے کیلئے کارروائی نہیں کر رہے،عدالت صرف چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرآمد کیا جائے،

    سپریم کورٹ نے حکومت کو ای سی ایل ترمیم کو قانونی دائرہ میں لانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ورنہ حکم جاری کریں گے ممکن ہے عدالتی حکم مشکلات پیدا کرے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں مناسب اقدامات کرلیں،ایگزیکٹو اختیارات میں فی الحال مداخلت نہیں کرنا چاہتے،نام نہیں لیتے ایک وزیر کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا وہ اہم معاشی امور سرانجام دے رہا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیرون ملک جانا بنیادی حق ہے تو پھر ای سی ایل کا کیا جواز رہ گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری رائے میں تو ای سی ایل ہونی ہی نہیں چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں ذاتی رائے پر نہیں جائیں گے، اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمانداری،انصاف اور شفافیت کو مد نظر رکھا جائے،عدالت نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے انکو دور کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی زبردستی کیس بنوانے کی بات کرے تو عدالت کو آگاہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ آپ سول سرونٹ ہیں کسی کی مداخلت تسلیم نہ کریں،کوئی دباو ڈالتا ہے تو عدالت کو بتائیں تحفظ فراہم کیا جائے گا،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے اور نیب کے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا اور کہا کہ تمام شواہد اور ریکارڈ کی سافٹ کاپی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے،اگر ریکارڈ گم ہوا تو سپریم کورٹ سے آپکو مل جائے گا، ایف آئی اے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے علاوہ دیگر کو تبدیل کر سکتا ہے، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب کو مقدمات کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے بعد ہی احکامات پر عمل ممکن ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب پر اگر کوئی دباو ڈالے تو عدالت کو آگاہ کریں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین نیب کا چارج کسی افسر کو دیا گیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے حکومت سوچ سمجھ کر چیئرمین نیب کی تعیناتی کرے گی،معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں حکومت سے اچھی توقع ہے،توقع ہے صاف، ایماندار، قابل اور نیک نام شخص کو چیئرمین نیب لگایا جائے گا سسٹم کے باہر سے کوئی دباو قبول کیا جائے نہ ہی تعیناتی کی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے جو کہنا چاہ رہا ہوں آپ سمجھ گئے ہونگے، نیب بھی یقینی بنائے کہ اس کا ادارہ کسی کیخلاف انتقام کیلئے استعمال نہ ہو،

    دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کر دی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ معاملے کو نمٹا چکی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے کہاں لکھا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی؟ کیسے متاثرہ فریق ہیں کیا آپ کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپا مارا گیا؟ درخواست گزار کلثوم خالق نے کہا کہ میری جماعت کے لوگوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست خارج کردی

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی، آج عدالت نے سماعت کے بعد درخواست خارج کر دی

    قبل ازیں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے،لانگ مارچ کے حوالہ سے کیس کے تحریری فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے کافی مواد موجود ہے میری رائے میں عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی، عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے بیان کی ویڈیو سپریم کورٹ میں چلائی گئی

    14 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا 26 مئی کو عدالت نے گائیڈ لائن بعد میں جاری کرنے کے حکم کیساتھ کیس نمٹا دیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست دائر کی تھی

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

  • حنیف عباسی کا بطور معاون خصوصی استعفیٰ منظور،عدالت نے درخواست نمٹا دی

    حنیف عباسی کا بطور معاون خصوصی استعفیٰ منظور،عدالت نے درخواست نمٹا دی

    حنیف عباسی کا بطور معاون خصوصی استعفیٰ منظور،عدالت نے درخواست نمٹا دی
    حنیف عباسی کو معاون خصوصی کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے حنیف عباسی سے متعلق درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی حنیف عباسی کا استعفیٰ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دیا گیا ،

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے معاون خصوصی حنیف عباسی کا معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی منظور کر لیا ، اس ضمن میں نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے محمد حنیف عباسی کے بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی پیش کیا گیا استعفی منظور کر لیا ہے

    واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے حنیف عباسی کے خلاف درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی کے خلاف 2012 میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے مقدمہ درج کیا، حنیف عباسی ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سزا یافتہ ہیں، حنیف عباسی کےخلاف ٹرائل کورٹ نے 21 جولائی 2018 کو سزا سنائی،لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کر رکھی ہے،مجرم ہونے کا فیصلہ ختم نہیں ہوا، سیکرٹری کابینہ بتائیں کس قانون کے تحت حنیف عباسی کواس عہدے پر تعینات کیا گیا، حنیف عباسی کو 27 اپریل 2022 کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری کابینہ اور حنیف عباسی کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں، شہباز شریف نے اپنی کابینہ تشکیل دی ہے جس میں پیپلز پارٹی سمیت اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، شہباز شریف نے حنیف عباسی کو معاون خصوصی مقرر کیا تھا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • پٹرولیم مصنوعات مہنگی،سابق وزیراعظم عمران خان کی عوام سے پر امن احتجاج کی اپیل

    پٹرولیم مصنوعات مہنگی،سابق وزیراعظم عمران خان کی عوام سے پر امن احتجاج کی اپیل

    لاہور:پٹرولیم مصنوعات مہنگی ،ادھرسابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئر مین عمران خان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد موجودہ وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام پر امن احتجاج کے لیے باہر نکلیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق وزیراعظم نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے (40 فیصد) فی لٹر اضافہ کر دیا، اس سے عوام پر 900 ارب روپے کا بوجھ اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید لکھا کہ بجلی کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ پورے ملک کو جھٹکا دے گا اور افراط زر کی شرح 75 سالوں میں سب سے زیادہ 30 فیصد پہنچ سکتی ہے۔

     

     

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے کورونا وائرس کی وباء کے دوران مسلسل دباؤ برداشت کیا اور عوام کو 1200 ارب روپے کا معاشی ریلیف پیکیج دیا، رواں سال سال ہم نے سیلز ٹیکس کو صفر فیصد تک کم کیا اور اس کے علاوہ اپنے عوام کے تحفظ کے لیے 466 ارب روپے کی توانائی کی سبسڈی فراہم کی۔ ہمارے لیے ہماری ترجیح ہمیشہ ہمارے لوگ رہے ہیں۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں 3 جون کو نماز جمعہ کے بعد سب باہر نکلیں اور عوام کو کچلنے اور ملک میں معاشی تباہی پھیلانے کے لیے امپورٹڈ حکومت کی جانب سے بے تحاشا قیمتوں میں اضافے کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کریں، اس ملک میں ان کے کوئی مفاد نہیں کیونکہ حکمرانوں کے تمام اثاثے بیرون ملک ہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں، سوویت یونین کی جب معیشت نیچے گئی تو ملک ٹوٹ گیا تھا، اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں لیکن لوگ جانتے ہیں کہ پاور آپ کے پاس ہے، لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور تاریخ اس کردار کو کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ملک نیچے چلا جائے اور آپ کہیں ہم نیوٹرل ہیں، قوم تیاری کرے، لانگ مارچ کے حوالے سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہفتے کو دیر جلسے میں کروں گا۔

     

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین نے شانگلہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہا کہ بشام کےنوجوانوں آج آپ کےپاس حقیقی آزادی کیلئےآیاہوں، پاکستان میں پٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھ گئی ہے، پٹرول اورفضل الرحمان کی 30 روپے فی لٹرقیمت بڑھ گئی، بھارت نے چند روز قبل 25 روپے فی لٹرقیمت کم کی، بھارت نے روس سے 30 فیصدکم قیمت تیل خریدا، ہماری حکومت بھی روس سے 30 فیصدکم قیمت تیل خریدنا چاہتی تھی، سازش سے ہماری حکومت ختم کردی گئی، آج امریکی غلام حکومت امریکی ڈر سے روس سے کم قیمت تیل نہیں خرید رہی، بھارت کے لوگ روس سے تیل خرید سکتے ہیں کیونکہ انکی آزادخارجہ پالیسی ہے، پاکستان امریکی اجازت کے بغیرروس سے تیل نہیں خریدسکتا۔ آج ملک میں امریکی غلام حکومت ہے جوان کی اجازت کے بغیر روس سے تیل نہیں خرید سکتی۔

    عمران خان نے کہا کہ کورونا کے باوجود ہماری معیشت ترقی کررہی تھی، کورونا کے دوران برصغیرمیں سب سے زیادہ روزگار پاکستانیوں کو ملا، جو لوگ اوپر آ گئے، اگر اس وقت میں یہ ملک نہ سنبھالا گیا اور اس کا دیوالیہ نکل گیا تو میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ سوویت یونین اور امریکا دنیا کی دو بڑی طاقتیں تھیں لیکن جب ان کی معیشت زوال پذیر ہوئی تو سوویت یونین ٹوٹ گئی اور ان کی تگڑی فوج بھی انہیں اکٹھا نہ رکھ سکی۔ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں، تو بسم اللہ آپ نیوٹرل ہوں لیکن لوگ جانتے ہیں کہ پاور آپ کے پاس ہے اور یہ چوروں کا ٹولہ جس طرح قوم کو نیچے لے کر جا رہا ہے تو لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور تاریخ اس کردار کو کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ملک نیچے چلا جائے اور آپ کہیں ہم نیوٹرل ہیں۔

    سابق وزیراعظم نےکہا کہ پاکستانی وفداسرائیل گیاجس میں پاکستان کا سرکاری ملازم بھی شامل تھا، اسرائیل جانیوالےاس وفد میں شامل سرکاری ملازم پاکستانی ادارے میں نوکری کرتا ہے، امریکاکی غلام حکومت بھارتی ایجنڈا لاگو کر رہی ہے، چیری بلاسم کبھی کشمیر پر بات نہیں کرےگا، شہبازشریف نے کہا ہے میں کپڑےبیچ دوں گا، انہیں کپڑےبیچ دینے چاہئیں کیونکہ جب سے یہ آئے، آٹا، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، آج میں آپ سے وعدہ لینے آیا ہوں کہ آپ نے حقیقی آزادی کی تحریک میں میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اللہ کے سامنے سجدہ کرنے والا آزاد ہوجاتا ہے، آج قوم علامہ اقبالؒ کے خواب کی طرح کھڑی ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میری عمرتقریبا پاکستان جتنی ہے، اسلام آباد میں خواتین، بچوں کے خلاف بدترین شیلنگ کی گئی، اس طرح توغلاموں پر بھی بربریت نہیں کر سکتا، شہبازشریف، قاتل رانا ثنا اللہ بزدل نے عورتوں پر شیلنگ کرائی، اسلام آباد میں بدترین شیلنگ کے باوجود خواتین، بچوں کے مقابلہ کرنے پر خوشی ہوئی، یہ قوم کبھی بھی امپورٹڈ حکومت کوتسلیم نہیں کرے گی، شوکت یوسفزئی سمیت پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کیا آپ لوگوں نے خوف کا بت توڑدیا ہے، مسلمان اللہ کے سوا کبھی کسی کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ امریکا کی غلامی،اداروں کی تباہی کی جارہی ہے، بڑے چوروں کی چوریوں کو معاف کیا جارہا ہے، قوم تیاری کرے، پرسوں دیر جلسے میں اگلا لائحہ عمل دوں گا، سپریم کورٹ فیصلے کی سٹڈی کروں گا، اگلے لائحہ عمل دوں گا آپ نے تیاررہنا ہے۔ پرامن احتجاج جمہوریت میں ہم سب کا حق ہے، یہ عوام میں جاتے ہیں توعوام انہیں چور، غدار کہتے ہیں، یہ الیکشن نہیں جیت سکتے یہ ابھی سے الیکشن کمیشن سے مل کر دھاندلی کی پوری تیاریاں کر رہے ہیں۔

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    حکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے فی لٹر کردی جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا کر 181 روپے 94 پیسے کردی گئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں مہنگائی ہوگی لیکن یہ ناگزیر تھا۔انہوں نے بتایا کہ چین نیا قرضہ جاری کرے گا بلکہ شرح سود بھی کم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کو چین نے 2.3 ارب ڈالر کا قرض واپس لے لیا تھا، چین نے کافی شرائط عائد کر دی تھی اور شرح سود بڑھا دی تھی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے چین جانے پر معاملات طے ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر معاملات فائنل ہوئے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چین کے صدر نے وزیرِاعظم کے ساتھ معاملات فائنل کیے، قرض 1.5 فیصد کی شرح سود پر حاصل کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر 10فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب کی بچت ہوگی۔ یہاں صرف ایک دن میں چار ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آٹے اور چینی پر سبسڈی دی جائے گی، چاول، دالوں اور گھی پر سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم کو ملک کے ٹوٹ جانے کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

  • پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرتیزی سے کم ہونےلگے،حالات بہت نازک ہیں:بلومبرگ

    پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرتیزی سے کم ہونےلگے،حالات بہت نازک ہیں:بلومبرگ

    واشنگٹن :پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرتیزی سے کم ہونے لگے،حالات نازک ہیں:بلومبرگ کی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق عالمی معاشی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے عالمی ادارے بلومبرگ نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 بلین ڈالر سے نیچے آگئے، جس سے خطرہ ہے کہ اگر پالیسی ساز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض حاصل نہیں کرتے توپاکستان معاشی بحران میں پھنس جائے گا۔

    مرکزی بینک نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر27 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 366 ملین ڈالر کم ہو کر 9.72 بلین ڈالر رہ گئےہیں ۔ یہ اگست سے تقریباً 50 فیصد کمی ہے اور دو ماہ سے کم درآمدات کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔

    بلومبرگ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں ڈالر کی کمی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ یہ حکومت کی طرف سے پیش گوئی کی ہے کہ اس کا تجارتی خسارہ جون میں ختم ہونے والے سال میں ریکارڈ 45 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ حکام نے ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو کہ کثیر الجہتی قرض دہندہ کے موجودہ قرض کے بقیہ $3 بلین کو حاصل کرنے کی ایک اہم شرط ہے۔

     

    بلومبرگ نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب پاکستان کے قرض کی بیمہ کی لاگت گزشتہ ہفتے ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ ہونے کے بعد بلند ہے۔ بلومبرگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی کرنسی نے گزشتہ ہفتے ریکارڈ کم 202 فی ڈالر تک پہنچنے کے بعد کچھ کچھ پیسے واپسی کی ہے لیکن یہ ناکافی ہے،بلومبرگ کا کہنا ہےکہ اس سال اس میں تقریباً 10 فیصد کمی ہے۔

    عالمی معاشی معاملات کو مانیٹر کرنے والے ادارے بلومبرگ کا کہنا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بدھ کو پاکستان میں افراط زر کی شرح دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس سال اسٹاک میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ قبل ازیں جمعرات کو، Moody’s Investors Service نے IMF امداد کی بحالی میں تاخیر سمیت مالی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو سابقہ حکومت میں معیشت کو مستحکم کرچکے تھے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک