Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ

    کوئٹہ :آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق کوئٹہ پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے کیا۔ اس موقع پر آرمی چنرل قمر جاوید باجوہ نے فیکلٹی سے ملاقات کی اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے طلباء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر فیکلٹی ممبران کو سراہا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کورس کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے میدان جنگ کے چیلنجوں، جدید ترین تکنیکی ترقیوں اور پیشہ ورانہ حصول پر توجہ مرکوز رکھیں۔

    بعد ازاں آرمی چیف نے کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے شفاف انعقاد سمیت سماجی و اقتصادی سرگرمیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے صوبے بھر میں تعینات فارمیشنز کی قابل تحسین کوششوں کو سراہا۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا

    باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا

    باادب، باملاحظہ،ہوشیار،عدالت نے بڑا کھڑاک کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں دو اچھی خبریں ہیں لیکن اس سے پہلے سیاسی معاملات پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی بڑی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا مستقبل کیا ہے، عمران خان نے اس حوالے سے بڑا اعلان کر دیا ہے، جبکہ سابقہ لانگ مارچ میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے چودہ صفحوں کا فیصلہ سنا دیا ہے اور حساس اداروں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جبکہ لاہور کی عدالت نے رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتے۔ جبکہ حکومت اشارے دے رہی ہے کہ عمران خان، اسد عمر، شیریں مزاری سمیت تیرہ لوگوں کے استعفوں کی تصدیق ہو چکی ہے وہ کیسے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان پوری قوم کو بتا رہے ہیں کہ کون میر جعفر اور کون میر صادق ہے۔ لیکن خدا کی قدرت دیکھیں کہ خود ان کی جماعت میں میر صادق اور میر جعفروں کی لائنیں لگ گئی ہیں، وہ لوگ جو عمران خان کی ہر غلط اور صحیح بات پر عش عش کر اٹھتے ہین عمران خان کو کنواں میں دھکا دے چکے ہیں، سوشل میڈیا اور جلسوں میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والے عمران خان پر اس وقت پہاڑ گر گیا جب انہیں اٹک پل پہنچنے سے پہلے ہی لانگ مارچ کے ناکام ہونے کی خبر ملی، حکومتی اقدامات کو بہانہ بنا کر واپسی کی پلاننگ ہو رہی تھی کہ سپریم کورٹ کا حکم اور تمام رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات نے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ چاہے جنوبی پنجاب ہو یا سینٹرل پنجاب، پوٹو ہار ریجن ہو یا لاہور۔ آدھی درجن سے کم لیڈروں کے علاوہ کوئی نظر نہ آیا۔ لاہور کے عہدے دار شہر میں ہی پولیس سے چھپن چھپائی کھیلتے رہے، اوپر سے ظلم دیکھیں کہ جس کو بھی گرفتار کیا جاتا اسے فورا چھوڑ دیا جاتا اور ان کے لیے حیلے بہانوں کا جواز ہی ختم کر دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنی آدھی کابینہ سے ا سوقت ملنے کے لیے بھی تیارنہیں ہیں۔ عمران خان پر ساری صورتحال عیاں ہو چکی ہے لیکن اب وہ اتنا آگے جا چکے ہیں کہ ان کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔اب دھمکیوں سے کام لیا جا رہا ہے اور امید لگائی جا رہی ہے کہ کہیں سے غیبی مدد یا کندھا فراہم ہو جائے ۔ لیکن خفیہ مدد کا دور اب گزر چکا ، جو بھی کر نا ہے اپنے ہی بل بوتے پر کرنا پڑے گا۔لیکن اس سارے کھیل کے بیچ میں سیاست گندی گالی بن چکی ہے، سیاست کے اجزائے ترکیبی میں جھوٹ اہم حثیت حاصل کر چکا ہے۔ اختلاف رائے دشمنی میں بدل چکا ہے اور اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آنکھوں میں خون اور دل میں نفرت بسیرا کر چکی ہے جبکہ نئی نسل کو تباہ کرنے کا بیڑا پار لگایا جا رہا ہے۔
    آپ عمران خان کی اپوزیشن کے کمالات دیکھ رہے ہیں
    جہاں لاقانونیت، گھیراو جلاو، توڑ پھوڑ اور دھرنے ۔۔
    سیاست کا حسن بن چکے ہیں
    جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو
    نہ صرف معشت برباد ہوئی، بلکہ
    خارجہ پالیسی برباد،احتساب برباد، معاشرہ برباد
    ملک میں قرضے ڈبل
    کرپشن انڈکس میں آضافہ، آئین سے پنگا، اداروں سے پنگا،نیوٹرل سے پنگا، الیکشن کمیشن سے پنگا۔قصہ مختصر تباہی ان کا انتخابی نشان بن چکی ہے۔ اوپر سے شہباز گل جیسے لوگ قومیتوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ محمود خان جیسے لوگ صوبوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ ہر طرف انتشار کا دور دورہ ہے جسے جہاد کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میں التجا کی گئی ہے کہ پر امن دھرنے اور مارچ کی اجازت دی جائے۔ تحریک انصاف کے اس مطالبے پر میرا پہلے دن سے موقف ہے کہ اگر انہیں سپریم کورٹ اجازت دے کر حکومت کے ہاتھ پاوں باندھ دے گی تو کل کو اور حکومتیں بھی آنی ہیں، پھر مذہبی، سیاسی اور سماجی گروپوں کو وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی سے روکنے کے لیے کیا اخلاقی جواز پیش کیا جائے گا۔عمران خان کا چھ دن کا الٹی میٹم ختم ہو چکا ہے جبکہ نئی لانگ مارچ کے لیے عمران خان نے فیصلہ عدالت کے فیصلہ سے منسوب کر دیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلے ہم چاہتے ہیں کہ عدالت کا دھرنے اور مارچ کرنے پر فیصلہ آ جائے اس کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ دی جائے گی۔ اس حوالے سے میں کئی دن سے دعوی کر رہا ہوں کہ لانگ مارچ کا اعلان ابھی نہیں ہوگا۔جبکہ عدالت نے سابقہ لانگ مارچ پر اسلام آباد بار کی درخواست کو نمٹا دیا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی کوشش کا احترام نہیں کیا گیا، عدالت کی کارروائی کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، عدالتی حکم نامہ موجود فریقوں کی موجودگی میں جاری کیا گیا، اس کیس میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعلیٰ اخلاقی اقدار میں کمی واقع ہوئی، سیاسی جماعتوں کےاقدام سے عوامی حقوق اور املاک کو نقصان پہنچا۔
    اکثریتی فیصلہ میں متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد سے جواب طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے سوالات میں پوچھا کہ عمران خان نے کتنے بجے پارٹی ورکرز کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا؟ کب،کہاں اورکس طرح مظاہرین نے ممنوعہ جگہ پر داخلے کیلئے بیرئیرپارکیا؟ ریڈ زون میں گھسنے والامجمع منظم تھا؟ کسی کی نگرانی میں تھا یا اچانک داخل ہوا؟عدالت نے پوچھا کہ کیا کوئی اشتعال انگیزی ہوئی یا حکومت کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی؟ کیا پولیس نے مظاہرین کے خلاف غیرمتوازن کارروائی کی ؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ اگر ریڈزون کی سکیورٹی کے انتظامات تھے تو کیا حکام نے نرمی کی ؟ کیا مظاہرین نے سکیورٹی بیریئر کو توڑا یا خلاف ورزی کی؟عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مظاہرین میں سے کوئی یا پارٹی ورکر جی نائن یا ایچ نائن گراؤنڈ پہنچا؟ کتنے سویلین زخمی یا ہلاک ہوئے، اسپتال پہنچے یا گرفتار کیے گئے؟عدالت نے حکم دیا کہ سوالات کے جوابات پر مبنی رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرائی جائے اور ان تمام ثبوتوں کا جائزہ لےکر فیصلہ کیا جائےگا عدالتی حکم کی تعمیل ہوئی یا نہیں؟عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حقائق کی بنیادپر تصدیق کی ضرورت ہےکہ عدالت کی دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی گئی، عدالت کو دیکھناہوگا کہ خلاف ورزیوں پرکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو، پی ٹی آئی قیادت اوردیگرسیاسی جماعتیں پرامن سیاسی سرگرمیوں کاضابطہ اخلاق بنائیں گی۔اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے مگر یہ ریاست کی اجازت کے ساتھ ہوسکتا ہے، ایسے احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے جب تک آرٹیکل 15 اور16 کے تحت پابندیاں لگانا ناگزیر ہوجائے، احتجاج کا حق قانونی، معقول بنیادوں کے بغیر نہیں روکا جاسکتا۔عدالت کی طرف سے نیک نیتی سے کی گئی کوششوں کی توہین کی گئی اور عدالت کو 25 مئی کے حکم کی خلاف ورزی پر رنج ہے جبکہوزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہےکہ عمران خان سمیت13پی ٹی آئی ارکان کےاستعفوں کی تصدیق ہوچکی،کچھ لوگوں نےایک بار نہیں دس بارمختلف فورمزپرآن ریکارڈ استعفے دینے کی بات کی ہےجن کی ویڈیوزبھی موجودہیں اور ان کےاستعفوں کی تصدیق کی ضرورت نہیں، ان میں عمران خان،فوادچوہدری،شاہ محمود قریشی، اسدعمر،شیریں مزاری سمیت تیرہ کےقریب ارکان شامل ہیں،باقی لوگ گم صم اورخاموش ہیں سپیکرقومی اسمبلی سےرابطہ بھی کررہےہیں کہ ہم آئیں گےنہیں لیکن مارےاستعفےقبول نہ کی جائیں،کچھ ارکان اس لیےنہیں آئیں گےکہ نہ آنےسےانکےاستعفےمنظورنہیں ہوں گے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہاراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا کیس سابق ڈپٹی سپیکر نے الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا۔چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر کہا ہےکہ ایسا تاثر جارہا ہے کہ دانستہ معاملہ لٹکایا جارہا ہے، معاملے کو مزید التواء کا شکار نہیں بننے دینگے۔ جبکہایڈیشنل سیشن جج لاہورنے آزادی مارچ میں پولیس کی جانب سے وکلا پر تشدد اور لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

    سیشن عدالت میں آزادی مارچ میں پولیس کی جانب سے وکلا پر تشدد اور لاٹھی چارج کے معاملے پر سماعت ہوئی ، 100سے زائد وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔دوسری طرف آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ دوہزار انیس کے قرض پروگرام کی بحالی کا عندیہ دے دیا ہے۔ جس سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر کمی ہو رہی ہے اور ڈالر دو سو دو روپے سے 197تک پہنچ گیا ہے۔ امید ہے آئی ایم ایف کی قسط اور دوسط ممالک کی امداد کے بعد یہ مزید نیچے جائے گا۔جبکہ ایک اوراچھی خبر ہے کہماڑی پیٹرولیم نے شمالی وزیرستان کے بنوں ویسٹ بلاک میں تیل و گیس کےذخائر دریافت کرلیے ہیں۔شمالی وزیرستان میں یہ تیل و گیس کی پہلی دریافت ہے جس میں 25 MMCFD گیس اور 300 بیرل یومیہ تیل کی بڑی دریافت کی گئی ہے۔آپ کو بتا دوں کہ پاکستان دنیا میں تیل کے ذخائر کے حوالے سے 52جبکہ تیل استعمال کرنے کے حوالے سے32ویں نمبر پر آتا ہے، پاکستان روزانہ83ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا وسیع زرمبادلہ انرجی کی امپورٹ میں خرچ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے معیشت پر بہت بوجھ پڑھتا ہے۔

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • جعلی ڈگری کے حامل 457 پی آئی اے ملازمین کیخلاف کاروائی کا آغاز

    جعلی ڈگری کے حامل 457 پی آئی اے ملازمین کیخلاف کاروائی کا آغاز

    جعلی ڈگری کے حامل 457 پی آئی اے ملازمین کیخلاف کاروائی کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے میں جعلی ڈگری کے حامل 457 ملازمین کے خلاف ایف آئی اے نے انکوائری شروع کر دی ہے

    پی آئی کے ملازمین جن کی ڈگری جعلی ہے اور وہ پی آئی اے میں ملازمت کرتے رہے، باغی ٹی وی نے ان جعلی ڈگری کے حامل افراد کی لسٹ حاصل کر لی ہے، ڈگری جعلی ثابت ہونے پرپی آئی ا ے کے ان ملازمین کے خلاف ایف آئی اے نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، ایف آئی اے ان محکموں کی بھی تحقیقات کرے گی جنہوں نے ان جعلی ڈگری کے حامل افراد کو بھرتی کیا اور ملازمتوں پر رکھا، باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے بعد ایف آئی اے کارپوریٹ سرکل کراچی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”501224″ /]

    تحقیقات کے مطابق جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کی تعداد 457 ہے،اور ان ملازمین کو 2008 سے 2017 کے مابین بھرتی کیا گیا تھا، ایف آئی اے کی جانب سے ان جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے گی، ایف آئی اے نے جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف کاروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد کر رہی ہے، سپریم کورٹ نے پی آئی اے سے جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا

    ایف آئی اے ان ملازمین کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے جن ملازمین نے ان جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کو بھرتی کیا تھا یا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے بھرتی کروانے میں کسی بھی طرح کی مدد کی تھی

    جعلی ڈگری کیس: ایف آئی اے نے حتمی انکوائری کے بعد 25 پائلٹوں کے خلاف مقدمات درج

    واضح رہے کہ جعلی ڈگری کی وجہ سے پی آئی اے کے کئی ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے، پی آئی اے ملازمین نے عدالت سے رجوع بھی کیا تاہم عدالت نے انہیں کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا، عدالت نے جعلی ڈگری کیسز میں پی آئی اے ملازمین کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں،

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں،نیب پراسیکیوٹر

    آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں،نیب پراسیکیوٹر

    آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں،نیب پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ن لیگی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں ،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ نئی حکومت نے آنے کے بعد نیب قانون تبدیل کردیا،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب بتائے آپ کو کیا ہدایات ہیں آج دلائل دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کو کام سے روکا ؟کیا آپ کا کہنا ہے کہ رجیم میں تبدیلی سے نیب کا موقف بھی تبدیلی ہوا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چار سال سے اپیلیں زیرالتوا ہیں، آج 27 ویں سماعت ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چیئرمین نیب نے چلے جانا ہے تو پھر بھی ڈپٹی چیئرمین چارج سنبھالیں گے،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ تو کیا نیب آج سے ختم ہے؟ نیب چیئرمین نہیں ہیں تو کیا نیب ختم ہوگیا ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ امجد پرویز کو سن لیتے ہیں اگلے ہفتے تک نیب کے معاملات واضح ہوجائیں گے ،نیب آج نوٹس لے،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جی آئی ٹی تشکیل دی تھی دس جولائی 2017 کو جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہوئی،28جولائی 2017کو سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا،ڈی جی نیب نے تین اگست 2017کو تفتیش کی منظوری دی، مریم نواز اور صفدر نے وکیل کے ذریعے 22 اگست 2017 کو نوٹس کا جواب دیا،تفتیشی افسر نے عبوری تفتیشی رپورٹ تیار کرتے ہوئے ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    پشاور ہائیکورٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی راہداری ضمانت 25 جون تک منظور کرلی

    عمران خان کی راہداری ضمانت کیلئے درخواست پرسماعت ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پشاورہائیکورٹ میں پیش ہوئے عمران خان کی ضمانت 50 ہزار روپے اور دو شخصی ضمانتوں پر منظور کی گئی

    قبل ازیں ‏چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے راہداری ضمانت کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی،

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کئے گئے تھے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی تھیں ، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئیتھی ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں-

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس کا کہنا تھا کہ مقدمات تحریک انصاف کے ڈی چوک پر لانگ مارچ پر تھانہ کوہسار میں درج ہوئے ہیں دونوں مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، گرفتار افراد نے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان و دیگر رہنماؤ ں کی ایما پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجناح ایونیو پر میٹرو اسٹیشن کو آگ لگائی گئی، ایکسپریس چوک پر سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا-

    درج مقدموں میں لکھا گیا تھا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے،درختوں کو آگ لگائی، ڈنڈے اٹھا کر آنے والے مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا، دو مقدموں میں کئی نامزد ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا –

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

  • عمران خان کے بیان پر وزیراعظم شہباز شریف کا رد عمل

    عمران خان کے بیان پر وزیراعظم شہباز شریف کا رد عمل

    وزیراعظم شہباز شریف نے عمران‌خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران نیازی ملک کے خلاف کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹرپربیان میں کہا کہ عمران نیازی ملک کے خلاف کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگرکسی کو ثبوت کی ضرورت تھی کہ نیازی حکومتی عہدے کے لئے نااہل ہیں تو ان کا تازہ انٹرویو کافی ہے۔

    سیاسی رہنما عمران خان پر برس پڑے،ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کی ہدایت


    شہباز شریف نے مزید کہا کہ سیاست کریں لیکن اس میں حد پارکرتے ہوئے پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات کرنے کی جرات نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں ترکی میں ہوں اورپاکستان اورترکی کے درمیان مختلف معاہدوں پردستخط کررہا ہوں۔

    قبل ازیں سابق صدر آصف علی زرداری نے عمران خان کے بیان کی سخت الفاظ میں مزمت کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکرے کرنے کی بات نہیں کرسکتا یہ زبان ایک پاکستانی کی بلکہ مودی کی ہے ،عمران خان دنیا میں اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا ، بہادر بنو اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر سیاست کرنا اب سیکھ لو.

    آصف زرداری نے کہا تھا کہ اس ملک کے تین ٹکرے کرنے کی خواہش ہمارے اور ہماری نسلوں کے جیتے جی نہیں ہوسکتی اور إِنْ شَاءَ ٱللَّٰهُ پاکستان تا قیامت آباد رہے گا،سابق صدر نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی ہدایت دی کہ عمران خان کے اس ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کریں.

    اقتدار کیا گیا عمران خان پاکستان توڑنے کی باتیں کرنے لگے

    واضح رہے کہ عمران خان نے نجی ٹی وی دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اس وقت صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو لکھ کر دیتا ہوں کہ فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی، فوج ہٹ ہوئی تو یوکرین کی طرح پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی ختم کردیا جائے گا۔

    عمران خان نےکہا تھا کہ اگر ایٹمی پروگرام ختم ہوا تو ملک کے تین ٹکڑے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان لوگوں کو اقتدار سے نہیں نکلا گیا تو ملک کے جوہری اثاثے چھن جائیں گے۔

    عمران خان نے حقیقی آزادی لانگ مارچ منسوخ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں یہ فیصلہ نہیں کرتا تو خانہ جنگی کا خدشہ تھا کیونکہ عوام بہت زیادہ مشتعل تھے۔

    عمران کی زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے:آصف زرداری

  • ترک صدر رجب طیب اردوان اورشہبازشریف کی ملاقات:مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی

    ترک صدر رجب طیب اردوان اورشہبازشریف کی ملاقات:مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی

    زیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دونوں برادر ممالک کے درمیان بہترین دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کے لیے اقتصادی تعاون ترجیح ہے، پاکستان اور ترکی دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، میاں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔ مختلف فورمز پر پاکستان اور ترکی یکساں مؤقف رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ملک دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں۔

    رجب طیب اردوان نے کہا کہ بحری جہازوں کی تیاری میں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں، مواصلات، تعلیم، ماحولیات اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں دو طرفہ قریبی تعاون ہے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت کے شکرگزار ہیںِ، ایک پرامن اور خوشحال افغانستان خطے کے مفاد میں ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کو بھرپور امداد فراہم کی گئی۔

     

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کیلئے کام کرتا رہے گا۔ شاندار استقبال پر ترک صدر کے مشکور ہیں، پاکستان ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ترک صدر سے مذاکرات اور ملاقات انتہائی مثبت رہی، پاکستان اور ترکی کے درمیان ثقافتی،مذہبی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ دفاعی شعبوں میں دونوں ملکوں کا تعاون قابل ستائش ہے، دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان آئندہ ملاقات ستمبر میں اسلام آباد میں ہوگی۔

    شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، ای کامرس، تعلیم، انفراسٹرکچر کے شعبے میں ترکی کے تجربات سےاستفادہ کریں گے۔ پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ ستمبر میں ترک صدر کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں، پاکستان اور ترکی کی قیادت، عوام اور افواج گہری قربت کے رشتے میں بندھے ہیںِ۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رواں سال دونوں برادر ملک سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بلندیوں پر لے جائیں گے۔ افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے کیلئے پاکستان نے متعدد اقدامات کیے، پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • کانجو کنٹونمنٹ سوات میں پر وقار تقریب کا انعقاد ،آئی ایس پی آر

    کانجو کنٹونمنٹ سوات میں پر وقار تقریب کا انعقاد ،آئی ایس پی آر

    سوات:سوات میں ڈویژن ہیڈ کوارٹرز کی 15سالہ خدمات مکمل ہونے پر ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سوات میں پاک فوج کی 15 سالہ کوششوں سے قیام امن کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورت حال کےامور فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (شمالی) کے حوالے سے ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے پی کو انتظامی اور امن وامان کے امور حوالے کردیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں وزیراعلیٰ کے پی محمود خان اور کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سینئر سول و فوجی حکام اور عمائدین نے بھی شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے اور ریاست کی رٹ کی بحالی کے بعد سول انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی کا عمل پاک فوج نے 2018ء میں مکمل کر لیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانجو چھاؤنی سوات میں ایک تقریب کے دوران فوج نے اپنے ڈویژن ہیڈ کوارٹرز کو سوات سے الگ کر دیا جس نے 15 سال تک علاقے کے لیے اپنی خدمات سر انجام دیں، مستقبل میں امن و امان کی صورتحال کے امور فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (شمالی) کے حوالے کر دیئے گئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کانجو چھاؤنی سوات کے قیام پر فوج کا شکریہ ادا کیا اور اعتراف کیا کہ نو قائم شدہ کینٹ علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے فوج کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاک فوج نے پہلے ہی 2018ء میں صوبائی حکومت کو اقتدار کی منتقلی مکمل کر لی تھی اور اس کے بعد سے آرمی ڈویژن ملاکنڈ کی توجہ سماجی و ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں سیکیورٹی اور تعاون کی فراہمی پر مرکوز تھی۔

    سوات میں یہ منتقلی علاقے میں معمولات زندگی کی بحالی اور امن کی واپسی کا حقیقی مظہر ہے، جو کہ مقامی لوگوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عظیم قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • ارشدشریف،چودھری غلام حسین، صابر شاکر کو مبشر لقمان کا خصوصی پیغام

    ارشدشریف،چودھری غلام حسین، صابر شاکر کو مبشر لقمان کا خصوصی پیغام

    ارشدشریف،چودھری غلام حسین، صابر شاکر کو مبشر لقمان کا خصوصی پیغام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے چودھری غلام حسین کو کھری کھری سنا دیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی ایک ویڈیو کلپ میرے سامنے آیا ہے، چودھری غلام حسین پروگرام کرتے ہیں، اے آر وائی پر، وہ دیکھا ،میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا، اے آر وائی پر کام کیا ہوا میرا ان سے تعلق ہے،ہر لیول پر میرے پرسنل تعلقات ہیں اے آر وائی پر،لیکن جب میں نے چوھدری غلام حسین جن کی میں بڑی عزت کرتا ہوں انکا پروگرام سنا تو پریشان ہو گیا،وہ کہتے ہیں کہ 19 بلین ڈالر آئے تھے سی پیک کے لئے اور 10 بلین کھائے گئے ،مجھے خود جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا، اور اب وہ واپس آ گئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ دشمنوں کو بہت فائدہ ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اعدادو شمار کہاں سے آئے، جنرل باجوہ کا ایک ہی قصور ہے اور بڑا قصور یہ ہے کہ وہ آپ جیسوں کی بات سن لیتے ہیں، میرے خیال سے نہیں سننی چاہئے اور آپ جیسوں کے لئے ایک صوبیدار ہونا چاہئے ، پتہ نہیں آپ کیا سمجھتے ہیں اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے رہتے ہیں،آج میری اے آر وائی کی انتظامیہ کے سینئر لوگوں سے بات ہوئی، سارے قابل احترام ہیں، اینکر چینل سے بڑا نہیں ہو سکتا ،کالم نگار اخبار سے بڑا نہیں ہو سکتا، تجزیہ کار تھنک ٹینک سے بڑا نہیں ہو سکتا، کبھی چودھری صاحب تو کبھی ارشد شریف ٹویٹ کر دیتے ہیں ایمان مزاری پر ، صابر شاکر کو بھی بتا دوں کہ آپ لوگ غلط ہیں، فوج آئیڈیالوجیکل تھیوری کا بھی دفاع کررہی ہے، فوج آپ کی آئیڈیالوجی کو بھی ڈیفنڈ کر رہی ہے، فوج ہی ہے جس کی وجہ سے آپ پر قبضہ نہیں ہوا کسی کا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپکی حیثیت کیا ہے کہ اس طرح کی باتیں کرتے ہو، فوج ہو، عدلیہ ہو یا الیکشن کمیشن آف پاکستان ہو ایسے آڑے ہاتھوں لے رہے ،کیا ہو گیا ہے؟ کبھی دنیا کی صحافت میں ایسا دیکھا کہ امریکہ میں امریکین آرمی پر بات چیت ہو رہی ہو یا پولیس پر بھی ہو رہی ہو،فورسز کو لوگوں کے ہاتھوں کھلونا نہیں بنایا جاتا، گلوان ویلی میں بھارتی فوج کو کتنی مار پڑی لیکن عوام نے کچھ کہا؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری اخلاقی روایات اجازت نہیں دیتی کہ میں مشرف کو غلط کہوں، میں نے انکو قبول کر لیا، میں سولہ سال کا تھا تو نہیں جب وزارت ملی تھی، سب کو سوچنا چاہئے کہ ہم پاکستان کے دشمنوں کی مدد نہ کریں اس طرح کی باتیں کر کے، دشمنوں کی نیو کلیئر پر نظر ہے، بری، بحری، فضائی فوج ہمارے لئے قابل فخر ہے، حساس ادارے بھی اسی طرح ہیں، ہم ان اداروں پر تنقید کر کے اپنے ملک کا نقصان کر رہے ہیں، شیریں مزاری کی بیٹی چوچی نہیں اسوقت اسے ہوش کیوں نہیں آیا جب وہ بول رہی تھی، جب قانونی طریقہ اپنایا جاتا ہے اسکو فالو کیا جاتا ہے تو اسکو ماننا جانا چاہئے ویگو ڈالے بہت ہیں، آپ لوگوں کے لئے کافی ہیں، اگر ویگو نہیں آ رہے اور قانونی راستہ اپنایا جا رہا ہے تو کم از کم تحسین کریں

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے کافی مواد موجود ہے میری رائے میں عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی، عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے بیان کی ویڈیو سپریم کورٹ میں چلائی گئی

    14 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا 26 مئی کو عدالت نے گائیڈ لائن بعد میں جاری کرنے کے حکم کیساتھ کیس نمٹا دیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست دائر کی تھی

    عمران خان لانگ مارچ کیس میں سپریم کورٹ نے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری وزارت داخلہ سے بھی ایک ہفتے میں سات نکات پر جواب طلب کر لیا ،عدالت نے سوال کیا کہ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ ریڈ زون کی سکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سیکورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران ڈی چوک جانے کا اعلان کیا ،عمران خان اسلام آباد آ رہے تھے تو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ پر امن ہو گا اور سرینگر ہائی وے تک آئے گا، تا ہم عمران خان ڈی چوک پہنچے اور وہاں کارکنان سے خطاب کر کے واپس روانہ ہو گئے، گزشتہ سماعت پر عمران خان کی ویڈیوز بھی عدالت میں چلائی گئی تھیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ