Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اتحادی جماعتوں کاعمران خان کی جانب سےفوری الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ مسترد

    اتحادی جماعتوں کاعمران خان کی جانب سےفوری الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ مسترد

    وزیراعظم کی زیرصدارت اتحادی جماعتوں کےرہنماؤں وزیراعظم ہاؤس میں منعقد کئےگئےاجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اجلاس میں سابق صدر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر اتحادیوں نے شرکت کی۔ شرکائے اجلاس میں وفاقی کابینہ کے سینئر اراکین بھی شامل تھے۔

    ملک میں عدل و انصاف ہونا چاہیے،ہمیں نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں، عمران خان

    وزیرا عظم ہاؤس میں منعقدہ اہم اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ شرکا نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا جائزہ لیا اور طے کیا کہ فیصلے پر باقاعدہ ردعمل سے قبل قانونی ماہرین اور اٹارنی جنرل سے رائے لی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق اتحادیوں نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت کےساتھ ہیں، ہر فیصلے میں ساتھ ہوں گے اتحادیوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ معیشت کےاستحکام کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    ذرائع کےمطابق اجلاس میں اتحادیوں نےملکی معیشت کےاستحکام کی خاطرفوری اقدامات اٹھانےکا مطالبہ کیا اورالیکشن سے قبل اصلاحات کا عمل بھی جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔

    ذرائع کے مطابق اتحادیوں نے مشورہ دیا کہ روپے کی قدر میں استحکام کیلئے معاشی ٹیم فوری اقدامات کرے، معیشت کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کو فوری حتمی شکل دی جائے

    ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کے بعد پنجاب کی صورتحال پر بھی غور و خوص کیا گیا یہ فیصلہ ہوا کہ اس حوالے سے ن لیگ علیحدہ سےبھی مشاورت کرے گی جبکہ اتحادیوں نے سیاسی بحران اور معاشی استحکام کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

    عمران خان کو بین الاقوامی سازش کے تحت تخت اسلام آباد پر بٹھایا گیا تھا ،مولانا فضل…

    اجلاس کے بعد آصف علی زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر شرکا وزیراعظم ہاؤس سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا تھا اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مشاورت کی-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی وزیراعظم میاں شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سے بھی صلاح و مشورہ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ منحرف اراکین پارلیمنٹ سے متعلق آرٹیکل 63 اےکی تشریح کے صدارتی ریفرنس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنادیا ہے۔

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس نمٹایا جاتا ہے، سوال تھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار ہو یا نہیں، آرٹیکل 63 اے اکیلا پڑھا نہیں جاسکتا، آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کےحقوق کے تحفظ کے لیے ہے، سیاسی جماعتوں میں استحکام لازم ہے، انحراف کینسر ہے، انحراف سیاسی جماعتوں کو غیرمستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کرسکتا ہے، منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوسکتا۔

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کا سوال واپس بھیج دیا چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، انحراف پر نااہلی کےلیے قانون سازی کا درست وقت یہی ہے، ریفرنس میں پوچھا گیا چوتھا سوال واپس بھیجا جاتا ہے۔

    عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواستیں خارج کردیں اور منحرف ارکا ن تاحیات نا اہلی سے بچ گئے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل

  • آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنا دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہوسکتا ،فیصلہ 2-3 کی نسبت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منخرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے،ریفرنس کا چوتھا سوال بغیر جواب کے واپس کرتے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں

    عدالت میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ پڑھا گیا اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ 3ججز کی رائے سے ہم متفق نہیں ہیں،آرٹیکل 63 ایک مکمل شق ہے،آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی کے بعد اپیل کا حق ہوتا ہے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات پر رائے نہیں دے سکتے،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی تھئ 21 مارچ 2022 کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا اب تک ریفرنس پر لارجر بینچ نے 20 سماعتیں کیں وکلاء اور دیگر افراد کمرہ عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، عدالت کے کمرہ نمبر ایک کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی سپریم کورٹ پارکنگ کو جانیوالے ایک راستے کو سیل کردیا گیا اعلی پولیس افسران سمیت پولیس کی بھاری نقری تعینات کردی گئی ، 5رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خیل شامل تھے بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو ڈسٹرب نہ کریں ،اگر آپ دو منٹ بات کرنا چاہے ہیں، توہم یہاں بیٹھے ہیں،بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے 10منٹ چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ،صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے،

    قبل ازیں ن لیگی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کرادیں مخدوم علی خان نے تحریری دلائل میں عدالت سے مہلت مانگ لی، ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ حالات تبدیل ہو گئے حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اےایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ا عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے،صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا،صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں،کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی ہے،اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا جو پہلے تھامیں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا ہے،بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی ہدایت پر فائل ہوا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا یہ حکومت کاموقف ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے،سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلا موجود ہیں صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے،مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ آگے نکل چکا ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • وفاقی کابینہ کی اصلاحات کے بغیرالیکشن کی مخالفت

    وفاقی کابینہ کی اصلاحات کے بغیرالیکشن کی مخالفت

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .وفاقی کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری طور پر الیکشن میں جانے کی مخالفت کر دی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ریٹائرمنٹ ڈائریکٹری رپورٹ کابینہ نے مسترد کر دی جبکہ کابینہ نے کراچی میں دہشتگردی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو سندھ حکومت سے مل کر امن و امان کے لیے تمام اقدامات اٹھانےکی ہدایت کی۔

    کابینہ اجلاس کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کی برآمدات دو سال میں بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔ برآمدات بڑھانے سے متعلق وزارت آئی ٹی کی سفارشات کو منظور کر لیاگیا.

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری نوٹ چھاپنے کی سٹیٹ بنک کی سمری مسترد کر دی گئی، ان یادگاری نوٹوں کے چھاپنے پر 6.64 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ یادگاری کرنسی نوٹ غیر ملکی کمپنی نے پرنٹ کرنے ہیں۔

    اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے ایسے میں اتنے بھاری اخراجات نہیں کیے جاسکتے، بدترین معاشی بحران میں ملک فضول خرچ کا متحمل نہیں ہو سکتا، ۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ 75 ویں سالگرہ پر موجودہ کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن تبدیل کر کے کام چلایا جائے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری طور پرالیکشن میں جانے کی مخالفت کر دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں زور دیا گیا کہ ملک کی بہتری کےلیے سخت فیصلے ناگزیر ہوچکے ہیں۔ غریب عوام کو ریلیف دیا جائے، امیر طبقہ پسے ہوئے طبقے کی مدد کے لیے آگے آئے۔ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے سخت فیصلے کیے جائیں۔ ہمیں وقت ضائع کیے بغیر غریب آدمی کا سوچنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے جس کیلئے خصوصی ٹاسک فورس وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے زیر انتظام تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ ٹاسک فورس ماحولیاتی تبدیلیوں کے تدارک کیلئے اقدامات لے گی تاکہ پاکستان کو درپیش خطرات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

    ٭کابینہ اجلاس میں نیب ترامیم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ نیب کا کالا قانون صرف سیاسی انتقام ، سرکاری اہل کاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا۔انہی قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی فیصلے لینے سے ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اہم ترین امور میں ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔

    کابینہ نے نیب ترامیم کیلئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ اس کمیٹی میں وکالت ، بنکاری ، بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے منسلک نامور شخصیات بھی شامل کئے جائیں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کابینہ کو CIVIL SERVANTS (Directory Retirement from Service) Rules 2020 پر نظر ثانی کے حوالے سے قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان رولز میں وہ تمام قوائد موجود ہیں جو Government Servants (Efficiency & Discipline) Rules, 2020 میں پہلے سے شامل ہیں۔ کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ ان رولز کو سرکاری افسران پر دبائو ڈالنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا ۔پہلے سے موجود قوانین کے اوپر دوبارہ رولز نہیں بنائے جا سکتے۔احتساب کا عمل شفاف اور بلا تفریق ہونا چاہئے۔

    کابینہ نے کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے CIVIL SERVANTS (Directory Retirement from Service) Rules 2020 کو منسوخ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ان رولز کے تحت سرکاری افسران کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں کو ختم کرنے کی بھی منظوری دی۔

    کابینہ کے اجلاس کے دوران دوسرے ایجنڈے میں کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر75 ویں یوم آزادی اور اسٹیٹ بنک کے قیام کی مناسبت سے یادگاری بنک نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری دی۔وزارت خزانہ نے سفارش کی تھی کہ یہ بنک نوٹ بین الاقوامی پرنٹنگ کمپنیوں کے ذریعے چھاپے جائیں، جس پر 6.64 ملین ڈالر خرچہ آئے گا۔تاہم کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بنک نوٹ پاکستان کے اندر ہی چھاپے جائیں گے تاکہ قوم کا قیمتی پیسہ بچایا جا سکے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے تیسرے ایجنڈے میں وزارت کامرس نے کابینہ کو برآمدات ، درآمدات اور تجارت کے توازن کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ پیش کیا ۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2021-22 ء کے پہلے دس ماہ میں برآمدات کا حجم 31.2 ارب ڈالررہا جبکہ درآمدات کا حجم 76.7 ارب ڈالر رہا۔اسی دورانئے میں برآمدات میں 4.95 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور درآمدات میں 11.16 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2020-21 ء کے جولائی تا اپریل اور مالی سال 2021-22 ء کے اسی دورانئے میں برآمدات کے حجم میں 25.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جبکہ درآمدات میں 46.5 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔اسی دورانئے میں ٹریڈ بیلنس میں 64.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے خطے میں دیگر ممالک سے مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کرونا وباء سے متاثر کاروبار ی سرگرمیوں کو جلد بحال کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ سرمایہ کاروں اور کاروبار شروع کرنے کے لئے مراعات دینے کی ضرورت ہے جس سے برآمدات کا حجم بڑھایا جا سکتا ہے۔

    درآمدات میں اضافہ کی وجوہات بتاتے ہوئے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی قیمتیںبڑھنے سے امپورٹ اخراجات میں اضافہ ہوا۔کرونا ویکسین کی درآمد ، گندم ، چینی ،کاٹن ،اسٹیل اور کھاد کی اضافی درآمد سے بھی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ڈالر کی قدر میں اضافہ بھی اخراجات بڑھنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔

    کابینہ نے وزارت کامرس کو ہدایت کی کہ درآمدات کم کرنے ، برآمدات بڑھانے اور Import Substitutionکے حوالے سے مفصل لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ Agro-based صنعت کے فروغ ، فصلوں سے پیداوار بڑھانے اور ان کو برآمد کرنے کیلئے کابینہ نے خصوصی پالیسی ساز کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ کمیٹی میںوزیر تجارت ، وزیر صنعت و پیداوار، وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اور انہی ڈویژنز کے سیکرٹریز شامل ہوں گے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس کمیٹی کا اجلاس آج ہی بلایا جائے۔

    اجلاس کے چوتھےایجنڈے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام نے کابینہ کو سافٹ ویئر برآمدات بڑھانے کے حوالے سے سفارشات پیش کیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ یہ سفارشات اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے لائی جائیں اور اگلے کابینہ اجلاس میں دوبارہ پیش کی جائیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے آئی ٹی شعبہ میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے وسیع مواقعےموجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 15 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔

    ایجنڈا نمبر5 پرکابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ16مئی 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ16مئی 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

    ای سی سی کے فیصلے کے مطابق 52 ارب روپے پٹرولیم ڈویژن کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کی جانب سے قیمتوں میں فرق کے کلیمز کی ادائیگیوں کے لئے ہوں گے اور یہ 16 مئی 2022ء سے پندرہ روز کے لئے موثر ہوگا۔

    خریف سیزن کے لئے جی ٹو جی بنیادوں پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی درآمد

  • آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات:شیخ خلیفہ کےانتقال پر تعزیت

    آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات:شیخ خلیفہ کےانتقال پر تعزیت

    ابو ظہبی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زايد النہيان سے ملاقات میں شیخ خلیفہ کے ا نتقال پر تعزیت کی۔

    تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ متحدہ عرب ا مارات کے حوالے سے بتایا کہ صدر یواےای محمد بن زايد النہيان نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    آرمی چیف کی یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات ہوئی ، جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے شیخ خلیفہ کےا نتقال پر تعزیت کیا۔

    یاد رہے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی متحدہ عرب امارات پہنچے تھے ، جہاں انہوں نے شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے انتقال پر نئے امارتی صدر اور مرحوم کے خاندان سے اظہار تعزیت کیا تھا۔

    شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کا جمعہ ، 13 مئی 2022 کو انتقال ہوگیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ انہیں ابدی سکون عطا فرمائے اور متحدہ عرب امارات کے لوگوں کو صبر اور سکون عطا کرے۔

    وزارت نے اعلان کیا کہ متحدہ عرب امارات آج سے چالیس روزہ قومی سوگ منائے گا جس میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزارت نے مزید کہا کہ تمام وزارتوں، محکموں اور وفاقی، مقامی اور نجی اداروں میں ہفتہ 14 مئی سے تین دن کے لیے کام معطل رہے گا۔ جومنگل17 مئی سے بحال ہوجائے گا۔

  • فوری انتخابات یا سخت فیصلے:وزیراعظم شہباز شریف کے کل قوم سے پہلے خطاب کا امکان

    فوری انتخابات یا سخت فیصلے:وزیراعظم شہباز شریف کے کل قوم سے پہلے خطاب کا امکان

    وزیراعظم شہبازشریف کے کل قوم سے پہلے خطاب کا امکان ہے،اپنے خطاب میں وزیراعظم قوم کو ملک کی معاشی صورتحال سمیت اہم معاملات پراعتماد میں لیں گے.وزیراعظم کی جانب سے کل اہم اعلان بھی متوقع ہے

    زرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کی جانب سے کل سے اپنے پہلے خطاب کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کے دوران ملک کی معاشی صورتحال سمیت اہم معاملات پر قوم کو اعتماد میں لیں گے،شہباز شریف اپنے خطاب میں سابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی تفسیل سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے.ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے قوم سے خطاب کے دوران اہم اعلان بھی متوقع پے.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اتحادی جماعتوں کا اجلاس آج طلب کر رکھا ہے جس میں وزیراعظم تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کو دورہ لندن کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے شہباز شریف نے موجودہ ملکی صورتحال میں تمام اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سخت فیصلے لینے کا عندیا دیا ہے.ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں دو آپشنز رکھے جائیں گے،جس میں ایک فوری انتخابات کروانے اور دوسرا سخت فیصلوں کا ہے۔
    تاہم پیپلزپارٹی فوری انتضابات کے حوالے سے پہلے ہی اپنا موقف واضع کر چکی ہے اور پیپزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کہ چکے ہیں کہ پہلے ملک میں اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے جس کی بعد ملک میں انتجابات کرائے جائیں.

    اس ستےقبل وزیراعظم شہبازشریف کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں. وزیراعظم شہبازشریف نے سابق صدر آصف زرداری سے ون آن ون ملاقات کی اور لندن میں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کے متعلق اعتماد میں لیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے مولانافضل الرحمان سے بھی آئندہ کی حکمت عملی پر گفتگوکی اور یقین دلایا تمام فیصلے مشاورت کے ساتھ ہوں گے۔شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی تھی ، جس میں ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کو فوری انتخابات کی تجویز دی تھی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے وزیراعظم شہبازشریف کو اتحادیوں کو انتخابات پرآمادہ کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔

  • ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اینکر عمران ریاض خان کو ایف بی آر کی جانب سے اثاثوں کی تحقیقات کے لئے دیا گیا وقت ختم ہو گیا عمران ریاض خان ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے’

    ایف بی آر کی جانب سے اینکر عمران ریاض خان کو دو نوٹس بھجوائے گئے تھے جس میں ایک پر ایف بی آر کی پیشی کی آخری تاریخ 15 مئی تھی اور دوسرے پر 20 مئی، ایک کی تاریخ گزر چکی ہے تا ہم ایف بی آر میں عمران ریاض خان پیش نہیں ہوئے، ایف بی آر نے عمران ریاض خان سے آمدن اور اثاثہ جات کا حساب مانگا تھا، عمران ریاض خان نے باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد ایک ٹویٹ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے ابھی تک ایف بی آر کا نوٹس نہیں ملا حالانکہ ایف بی آر کی جانب سے بھجوایا گیا نوٹس باغی ٹی وی نے اپنی خبر میں شائع کیا تھا.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارف مظہر چودھری کا کہنا ہے کہ ایف بی آر مہلت ختم، لیکن عمران ریاض نے اپنے اربوں پہ محیط اثاثوں بارے جواب جمع نہیں کروایا اور یہی عمران ریاض روزانہ کی بنیاد پر لوگوں سے انکے اثاثوں کے متعلق سوال کرتا ہے گوگی زدہ حکمران اور صحافی قانونی شکنجہ سے بالاتر ہیں

    واضح رہے کہ ایڈیشنل کمشنر کی جانب سے عمران ریاض خان کو بھجوائے گئے نوٹس میں انکی پراپرٹی زرعی زمین سمیت دیگر ریکارڈ طلب کیا گیا ہے نوٹس میں ماڈل ٹاون لاہور کے پتے پر بھجوایا گیا ہے۔ نوٹس انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت بھجوایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو انکم ٹیکس جمع کروایا گیا ہے وہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا انکم ٹیکس کم جمع کروایا گیا ہے۔ سال 2020 میں ایک کروڑ 55 لاکھ 45 ہزار 858 روپے آمدن ظاہر کی گئی ۔ اثاثوں میں پلاٹ نمبر 76 ملت ٹریکٹر امپلاییز سوسائٹی ظاہر کیا گیا جس کی قیمت تین کروڑ 65 لاکھ اور تین کنال کا بتایا گیا تاہم 2021 میں ظاہر کیا کہ پلاٹ نمبر 65 اور 66 یعنی ایک سال بعد کے اثاثہ جات میں دو پلاٹ ظاہر کیے اور دونوں کی قیمت تین کروڑ 25 لاکھ ظاہر کی گئی سال 2020 اور 2021 کے اثاثہ جات میں ان پلاٹ کی قیمتوں کا فرق ہے ایک پلاٹ 2020 میں تین کروڑ کا اور 2021 میں دو پلاٹ اور ان دونوں کی قیمت ایک پلاٹ سے بھی کم ظاہر کی گئی حالانکہ پراپرٹی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • شمالی وزیرستان:کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان:کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دہشتگرد ہلاک

    راولپنڈی: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔یہ دہشت گرد انتہائی مطلوب تھے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میں 16 سے 17 مئی کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران فورسز کی جوابی کارروائی میں 2 شدت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گرد انتہائی مطلوب تھے، دہشت گردوں کی شناخت کمانڈرز راشد عرف جابر اور عبدالسلام عرف چھوٹو سے ہوئی، دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ اس کے قبضے سے بھی برآمد کر لیا گیا۔

  • انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالرکی  اونچی اڑان،195 روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔

    انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالرکی اونچی اڑان،195 روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔

    ڈالر کی مسلسل اونچی اڑان سےعوام پریشان ہوگئے ہیں . انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر مزید مہنگا ہوکر 195 روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔

    منگل کے روز کاروبار کے دوران پہلے ہاف میں ڈالر مزید ایک روپیہ 82 پیسے مہنگا ہوا اور انٹر بینک مارکیٹ میں پہلی بار ڈالر 196 روپے 80 پیسے پر جا پہنچا ہے۔ اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے مہنگا ہوگیا۔ جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر 198 روپے ہو گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے روز ڈالر کی قیمت میں مزید ایک روپیہ 32 پیسے کا اضافہ ہو گیا اور انٹر بینک میں پہلی بار ڈالر 196پیسے پر جاپہنچا۔

    گزشتہ روز انٹر مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتار چڑھاؤ کے بعد 1.66 روپے کے اضافے سے 194.18 روپے کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر2 روپے کے اضافے لے ساتھ 196 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 22 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے کمی درآمدی بل میں ریکارڈ اضافے جیسے عوامل کے باعث ڈالر کے طلب اور رسد کا توازن بگڑا۔ جو ڈالر کی قدر میں اضافے کا باعث بنا۔
    منگل کے روز کاروبار کے دوران پہلے ہاف میں ڈالر مزید ایک روپے 32 پیسے مہنگا ہوا اور انٹربینک میں پہلی بار ڈالر 195 روپے 50 پیسے پر جا پہنچا ہے۔

    کاروبار کے دوران ڈالر کی قدر مزید بڑھی اور اس کی قیمت میں ایک روپے 82 پیسے اضافہ ہوا جس سے ڈالر 196 روپے پر پہنچ گیا۔تاہم کاروبار کے اختتام تک ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر ایک روپے 56 پیسے اضافہ ہوا اور ڈالر 195 روپے 74 پیسے پر بند ہوا۔

  • سی پیک کو کسی طرح بھی نقصان پہنچانے کی کوشش قابل قبول نہیں،وزیراعظم

    سی پیک کو کسی طرح بھی نقصان پہنچانے کی کوشش قابل قبول نہیں،وزیراعظم

    سی پیک کو کسی طرح بھی نقصان پہنچانے کی کوشش قابل قبول نہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی سے متعلق اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ،وزیر توانائی و منصوبہ بندی احسن اقبال و دیگر نے شرکت کی اجلاس میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی سیکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی باشندوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنائیں چینی شہریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امن کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کئے جائیں سی پیک کو کسی طرح بھی نقصان پہنچانے کی کوشش قابل قبول نہیں

    وزیر اعظم شہباز شریف سے سائنوویک کمپنی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے سائنوویک کمپنی کے وفد میں جنرل مینجر ،ڈائریکٹر شامل تھے وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے بھی شرکت کی ،اس دوران بریفنگ دی گئی کہ کورونا کےدوران سائنوویک کمپنی کی جانب سے پاکستان کوویکسین فراہم کی گئی سائنوویک کمپنی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور جوائنٹ وینچر بنانے میں دلچسپی کا اظہارکیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت چینی کمپنی کی طرف سے سرمایہ کاری کی پیشکش کا خیر مقدم کرتی ہے چین اور پاکستان مثالی دوست ہیں ،ہر قسم کا تعاون فراہم کریں گے

    وزیر اعظم شہبازشریف نے وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل کو ٹاسک فورس بنانے کی ہدایات کی اور کہا کہ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے پاکستان کورونا کے دوران چینی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے

    قبل ازیں گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی ہم منصب لی کی چیانگ نے ٹیلیفونک رابطہ کیا چینی وزارت خارجہ سےجاری بیان کے مطابق چین کے وزیراعظم کاکہنا تھا کہ ان کا ملک ہمیشہ کی طرح قومی خود مختاری اورسلامتی کےدفاع میں پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کرےگا، چین پاکستان کی معاشی ترقی اور مالی استحکام کو برقراررکھنےمیں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • حنیف عباسی کو بطور معاون خصوصی عدالت نے کام سے روک دیا

    حنیف عباسی کو بطور معاون خصوصی عدالت نے کام سے روک دیا

    حنیف عباسی کو بطور معاون خصوصی عدالت نے کام سے روک دیا
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی حنیف عباسی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے حنیف عباسی آئندہ سماعت تک عوامی عہدہ استعمال نہیں کریں گے ،حنیف عباسی کو عوامی عہدہ رکھنے سے روک رہے ہیں جس پر حنیف عباسی کے وکیل احسن بھون کا کہنا تھا کہ معاون خصوصی بپلک آفس نہیں ہے کام سے نہ روکیں اگر ایسا حکم جاری کر دیا گیا تو یہ حتمی فیصلے جیسا ہی ہوگا

    جس پراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزایافتہ شخص پبلک آفس ہولڈ نہیں کر سکتا اگر بطور معاون حنیف عباسی نے وزیر اعظم کو کوئی مشورہ دینا ہے تو اس کیلئے انہیں کوئی نوٹیفکیشن کے ذریعے عہدہ لینے کی ضرورت نہیں وہ بغیر کسی نوٹیفکیشن یاعہدے کے بھی وزیر اعظم کو مشورہ دے سکتے ہیں عدالت نے 27مئی تک سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے حنیف عباسی کے خلاف درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی کے خلاف 2012 میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے مقدمہ درج کیا، حنیف عباسی ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سزا یافتہ ہیں، حنیف عباسی کےخلاف ٹرائل کورٹ نے 21 جولائی 2018 کو سزا سنائی،لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کر رکھی ہے،مجرم ہونے کا فیصلہ ختم نہیں ہوا، سیکرٹری کابینہ بتائیں کس قانون کے تحت حنیف عباسی کواس عہدے پر تعینات کیا گیا، حنیف عباسی کو 27 اپریل 2022 کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری کابینہ اور حنیف عباسی کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں، شہباز شریف نے اپنی کابینہ تشکیل دی ہے جس میں پیپلز پارٹی سمیت اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، شہباز شریف نے حنیف عباسی کو معاون خصوصی مقرر کیا تھا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر